Luqman 31:24

Luqman · from ayah 24

31:24

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۟نُمَتّـِعُهُمۡ قَلِيۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ

ہم اُن کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We grant them enjoyment for a little; then We will force them to a massive punishment.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:24

ہم تھوڑی مدت انہیں دُنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ان کو بے بس کر کے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم اُن کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم انہیں کچھ مزے اڑانے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ہم انہیں ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ کرلے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم انہیں کچھ برتنے دیں گے پھر انہیں بے بس کرکے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم انھیں تھوڑا سا سامان دیں گے، پھر انھیں ایک بہت سخت عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم انھیں تھوڑی مدت مزے کرلینے کا موقعہ دے رہے ہیں پھر انھیں بےبس کر کے سخت عذاب کی طرف کھینچ لائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم ان کو کچھ دن برومند کریں گے پھر ان کو ایک سخت عذاب کی طرف دھکیلیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم انھیں تھوڑی سی مدت مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں پھر ان کو بےبس کر کے کھینچ لائیں گے ایک بڑے ہی سخت عذاب کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

ہم انہیں چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو سخت عذاب کی طرف کشاں کشاں پہنچا دیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم انہیں تھوڑی دیر کے لیے مال و متاع دے رہے ہیں پھر ہم انہیں کھینچ کر لائیں گے ایک بہت گاڑھے عذاب کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر شدید عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We allow them to enjoy themselves a while in the world and then We shall drive them in utter helplessness to a harsh chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We let them enjoy a little, then We will drag them to a heavy punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

We let them enjoy a little, then We will drag them to a heavy punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We give them comfort for a little, and then We drive them to a heavy doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We grant them enjoyment for a little; then We will force them to a massive punishment.

— Saheeh International

We shall allow them to enjoy themselves for a short while, then force them into severe torment.

— Muhammad Sarwar

We give them to enjoy a little, then will We drive them to a severe chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

We let them enjoy for a while, and then We shall drive them to a torment rough.

— Abdul Majid Daryabadi

We grant them their pleasure for a little while: in the end shall We drive them to a chastisement unrelenting.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

حاکم اعلی وہ اللہ ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة لقمن حاشیہ 44 یعنی شکر ہے تم اتنی بات تو جانتے ہو اور مانتے ہو۔ لیکن جب حقیقت یہ ہے تو پھر حمد ساری کی ساری صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ دوسری کوئی ہستی حمد کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے جبکہ تخلیق کائنات میں اس کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔ سورة لُقْمٰن 45 یعنی اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو خالق کائنات ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں، اور کونسی باتیں اس کی نقیض پڑتی ہیں۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق صرف اللہ ہے تو لازماً اس کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہے، عبادت اور طاعت و بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے، تسبیح وتحمید بھی اس کے سوا کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

خلاصہ تفسیر کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نمتعھم قلیلا ثم نظرھم الی عذاب غلیظ (24) ’ اضطرار ‘ کے بعد الی کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لفط مجبور کرکے کشاں کشاں لے جانے کے مفہوم پر متضمن ہے۔ اس تضمین کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ آخرت کا معاملہ بہت دور کا معاملہ ہے۔ اس دنیا کی مہلت ایک بالکل محدود مہلت ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو جو مہلت دی ہے یہ چند روزہ ہے۔ یہاں ہم کچھ ان ان کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کریں گے پھر ہم ان کو کشاں کشاں ایک شدید عذاب کی طرف گھسیٹ کرلے جائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان اس دنیا میں قدرت کے ایسے نوامیس و قوانین میں جکڑا ہوا ہے جن سے کسی کے لئے کسی حال میں بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24-1یعنی دنیا میں آخر کب تک رہیں گے اور اس کی لذتوں اور نعمتوں سے کہاں تک شاد کام ہونگے ؟ یہ دنیا اور اسکی لذتیں تو چند روزہ ہیں، اس کے بعد ان کے لئے سخت عذاب ہی عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–24

13: حضرت لقمان کی بنیادی نصیحت میں توحید پر جو زور دیا گیا تھا، اب اس کے وہ دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، اور انسان ذرا غور کرے تو ان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے سوا کوئی اور نتیجہ معقولیت کے ساتھ نہیں نکالا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔ وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔ ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی تھوڑے دن کا عیش اور بےفکری ہے۔ مہلت ختم ہونے پر سخت سزا کے نیچے کھنچے چلے آئیں گے۔ مجال ہے کہ چھوڑ کر بھاگ جائیں ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّہُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ” ہم نے انہیں دنیوی زندگی کی صورت میں تھوڑی سی مہلت دی ہے ‘ جس میں وہ دنیا کے سازوسامان کو کام میں لاتے ہوئے مزے لوٹ لیں۔ پھر ہم انہیں پکڑ کر بہت سخت عذاب کی طرف دھکیل دیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–25

32 یعنی اللہ کی تعریف اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ تو خود ہی تسلیم کرلیا کہ آسمانوں اور زمین یعنی کل کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اب ان کے اس اعتراف کا جو لازمی نتیجہ نکلتا ہے اس سے یہ لوگ بیخبر ہیں یا بیخبر رہنا چاہتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے اس اعتراف کی عین ضد ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب یہ اعتراف کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اسے لازماً یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہوسکتا ہے۔ بندگی اور عبادت کا مستحق بھی وہی ہوسکتا ہے۔ اپنی مخلوق کا حاکم وہی اور شاعر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ دعاء اور فریاد بھی صرف اسی سے کرنا چاہئے۔ عقلی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–25

25۔ (کہ دلیل کا ایک اہم مقدمہ تو تمہیں بھی تسلیم ہے) (آیت) ” السموت والارض “۔ سے مراد ساری کائنات اور اس کے اعظم ترین قوی ہیں۔ استدلال کی منطقی شکل حسب ذیل ہوگی : یہ عالم ومافی العالم کی کوئی بھی چیز رب و معبود بننے کے قابل نہیں۔ 26۔ (کہ جب سب کو مخلوق ومصنوع تسلیم کرلیا۔ تو پھر ان کی الوہیت یا شرک الوہیت کی معنی) ہندوستان کے مشرکین میں بھی بکثرت ایسے ہیں جو ایک طرف ایک خالق اکبر، ایک رب اعظم کے قائل ہیں۔ لیکن ساتھ ہی بہتوں کو ارباب اصغر کی طرف اس کا شریک بھی مانتے جاتے ہیں۔ اور توحید کے مضمرات پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–30

آیت نمبر 20 تا 30 ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نمتعھم قلیلا . ہم ان کو کچھ مدت تک (یعنی اجل مقرر آنے تک یا کسی قدر تھوڑے سے) مزے اڑانے دیں گے۔ یعنی تھوڑی مدت تک ان کو مہلت دیں گے۔ ثم نضطرھم الی عذاب غلیظ . پھر ہم مجبور کر کے ان کو بھاری عذاب کی طرف لے جائیں گے۔ یعنی دوزخ کے عذاب کی طرف۔ عذاب غلیظ ‘ بھاری عذاب ‘ زیادہ بھاری چیزوں کا جس طرح دباؤ پڑتا ہے ‘ سخت عذاب کا بھی ایسا ہی بھاری بار ان پر پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہم ان کو دنیا میں چند روزہ عیش دییے ہوئے ہیں پھر ان کو ایک سخت عذاب کی طرف گھسیٹ لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ : یہ سامعین کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب ہے کہ اس قدر کفر کے باوجود ان پر عذاب جلدی کیوں نہیں آجاتا ؟ فرمایا، ہم انھیں دنیا میں تھوڑا سا برتنے کا سامان دیں گے، پھر انھیں مجبور اور بےبس کر کے ایک بہت سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے، تو وہ کسی طرح ہماری گرفت سے نکل کر بھاگ نہیں سکیں گے۔ ”غَلِيْظٍ“ اصل میں بھاری اور ضخامت والے جسم کو کہتے ہیں، گویا وہ عذاب ان پر ایک ضخیم (لمبے چوڑے اور بھاری) جسم کی طرح آ گرے گا، جس کے بوجھ کے نیچے وہ ایسے دبے ہوں گے کہ کسی طرف نکل نہیں سکیں گے۔ دیکھیے سورة یونس (69، 70)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–25

لیقولن اللہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی اور کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ قل الحمد للہ اس نے ہماری جو اپنے دین کی طرف راہنمائی کی اس پر الحمد للہ اس ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے حمد نہیں۔ بل اکثرھم لا یعلمون وہ نظروفکر نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب ملکیت اور خلق کے اعتبار سے اسی کا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے اور ان کی عبادت سے غنی ہے اور بےنیاز ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تاکہ بندوں کو نفع پہنچائے۔ وہ اپنی صفت پر حمد کے لائق ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–26

ظاہری اور باطنی نعمتیں 1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔ 2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

نُمَـتِّعُهُمْ [ہم برتنے کا سامان دیں گے ] قَلِيْلًا [ان کو تھوڑا سا ] ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ [پھر ہم مجبور کریں گے ان کو ] اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ [ایک گاڑھے عذاب کی طرف ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دنیا میں کافروں کو جو کچھ مال ملا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی دنیاوی زندگی اچھے حال میں گزر رہی ہے ان کے بارے میں فرمایا کہ (نُمَتِّعُھُمْ قَلِیْلًا) (ہم انہیں چند روزہ عیش دیں گے) (ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ) (پھر انہیں سخت عذاب کی طرف مجبور کریں گے) جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو دنیا کا چند روزہ عیش انہیں وہاں ذرا بھی فائدہ نہ دے گا اور انہیں دوزخ کے سخت عذاب میں داخل ہونے پر مجبور کیا جائے گا جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

24:۔ ولئن سالتھم الخ، یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی مشرکین کو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیی ہے جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے تو لا محالہ ہر چیز میں متصرف اور سب کا کارساز بھی وہی ہوگا۔ قل الحمد للہ یہ دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے یعنی دلائل مذکورہ سے ثابت ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی کارساز اور متصرف و مختار نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق ہے لیکن مشرکین کی جہالت و نادانی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس حقیقت سے سراسر جاہل ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–24

ربط آیات : گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نُمَـتِّعُہُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّہُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ۝ 24 متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–25

ترکیب : اقلام جمع قلم خبر ان ‘ ما موصولہ فی الارض صل تھا والجملۃ اسم ان من شجرۃ بیان ماو البحر رفعہ للعطف علی محل ان و معمولھا ویمدہ سبعۃ ابحر الجملۃ مع الفعل یمدو فاعلہ سبعۃ ابحرحال اویقال والبحر المبتداء یمدہ الجملۃ خبرہ۔ تفسیر : ولئن سالتہم الخ یعنی گو وہ دلائل پر غور و فکر نہیں کرتے، محض تقلیدِ آبائی میں گرفتار ہیں، لیکن باایں ہمہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور خالق ہونے کا اور نیز قادر ومالک آسمان و زمین ہونے کا فطری طور پر ایسا علم ہے کہ اگر تو ان سے دریافت کرے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے اس میں کسی کی بھی شرکت نہ بتلائیں گے۔ قل الحمد للہ تو کہہ الحمدللہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلاً ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (لقمان : 24) (ہم تھوڑی مدت انھیں دنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں پھر ان کو ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔ ) ایک تأثر کی اصلاح حق و باطل کی کشمکش میں جبکہ اہل حق دعوت و تبلیغ کے میدان میں سردھڑ کی بازی لگا چکے ہیں اور کشمکش پورے زوروں پر ہے اور اہل باطل تہیہ کرچکے ہوں کہ ہم حق کے قافلے کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے اور اس نئی اٹھنے والی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں گے۔ ایسی صورتحال میں باطل روز بروز اپنے وسائلِ قوت کو بروئے کار لا کر اہل حق کو سراسیمہ کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اہل حق تمام تر اخلاص و عمل کے باوجود…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–24

فہم القرآن ربط کلام : جس نے کتاب اللہ کے ساتھ تمسّک کرنے سے انکار کردیا اس کا انجام بدترین ہوگا۔ سروردوعالم ﷺ صبح و شام اس فکر اور کوشش میں رہتے تھے کہ لوگ ہدایت پر گامزن ہو کر جہنم کی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچالیں۔ لیکن لوگ ہدایت کی طرف آنے کی بجائے گمراہی کی طرف سرپٹ دوڑے جاتے تھے۔ جس پر آپ دل گرفتہ ہوجاتے آپ ﷺ کو تسلی اور ڈھارس دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ ان کے کفرو شرک پر جمے رہنے سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں۔ آپ کا کام حق بات پہنچانا ہے جس کا آپ حق ادا کر رہے ہیں منوانا آپ کا کام نہیں۔ جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں بالآخر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے دنیا میں ہم ان کو قلیل فائدہ دیں گے اور پھر انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: نُمَتِّعُھُمْ (ہم ان کو عیش دیے ہوئے ہیں) ایک مدت تک قَلِیْلًا (تھوڑی) دنیا میں ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ (پھر ہم ان کو مجبور کریں گے) کشاں کشاں لے جائیں گے۔ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ (ایک سخت عذاب کی طرف) عذاب کے لازم اور لاحق ہونے کو مضطر و مجبور کے اضطراء سے تشبیہ دی ہے۔ الغلظؔ کا لفظ جو سخت اجسام کیلئے آتا ہے۔ عذاب کی شدت ظاہر کرنے کے لئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اصل مقصود یہاں عذاب پانے والے پر بوجھ وشدت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–26

24، نمتعھم قلیلا، ہم ان کو مہلت دیں گے تاکہ ان سے دنیا کی زندگی میں نعمت حاصل کریں تھوڑی سی اپنی مدت مقررہ پوری ہونے تک ۔ ، ثم نضطر ھم ، پھر ان سے ملیں گے اور آخرت کی طرف ان کو لوٹا دیں گے۔ ، الی عذاب غلیظ، اس سے مراد آگ کا عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–26

21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–24

آیت نمبر :22 ۔ 24 (ومن یسلم وجھہ الی اللہ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے (وھو محسن) تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺ کی اتباع کرتا ہے ‘ یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–33

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

51 کفار و منکرین کے لیے تھوڑی سے مہلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو تھوڑی سی مدت کیلئے مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں "۔ یعنی دنیا کی اس زندگی اور اس کی اس محدود فرصت تک کیلئے۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا کی یہ زندگی جتنی بھی طویل ہوجائے بہرحال محدود اور چند روزہ ہی ہے۔ اس کو انہوں نے آخرکار اور بہرطور چھوڑنا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ابدی اور دائمی ہے۔ اس کے سامنے اور اس کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے آگاہ فرما دیا گیا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آخرت کا معاملہ یونہی ہے یا وہ بہت دور ہے۔ نہیں بلکہ وہ ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے جسکی طرف ہم ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–30

اللہ کی ربوبیت کے کرشمے تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981؁ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–30

آیات 20 تا 30 کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔ ظاہری و باطنی نعمتیں : پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–25

ف 1” کہ میری صداقت اور تمہارا ہونا ثابت ہوگیا اور تم نے خود ہی اعتراف کرلیا۔ “ (ابن کثیر، کبیر) یا مس موقع پر ’ دشکر خدا کا “ کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو دا ہی نے بنایا ہے۔ تو شکر بھی اسی کا بجا لائو، دوسروں کے سامنے ماتھے کیوں رگڑتے پھرتے ہو۔2 یعنی یہ نہیں سمجھتے کہ جب خدا کو زمین و آسمان کا خلاق مان لیا تو ضروری ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کی جائے۔ (شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 24–26

(31:26) الغنی۔ بےنیاز ۔ غیر محتاج۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔ الحمید۔ حمد سے (فعیل) کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور بمعنی مفعول یعنی محمود ہے۔ ستودہ۔ سراہا ہوا۔ تعریف کیا ہوا۔ سزاوارحمد۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–24

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24) اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔ استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–27

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–25

ف 1: اس حقیقت کی طرف اسارہ ہے کہ توحید فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور ہر شخص جس کو عقیل سلیم سے بہرہ وافر ملا ہے ۔ مجبور ہے اس سوال کا یہی جواب دے ۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ اکثریت ایسے کی ہے جو دل کی اس سچی آواز کو نہیں سنتے ! اور جن کو فطرت کے قانون سے آگاہی نہیں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

24۔ ہم ان لوگوں کو تھوڑے دنوں سو د مند رکھیں گے پھر ہم ان کو نا چار و مجبور کر کے کشاں کشاں سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے ۔ یعنی دنیا کی زندگی میں ان منکروں کو تھوڑا فائدہ پہنچے گا اور یہ دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے پھر ان کو مضبوط و مجبورکر کے سخت عذاب یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے آگے اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا منکروں کی زبان سے اعتراف کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–27

ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم ان کو تھوڑا فائدہ پہنچائیں گے پھر سخت عذاب کی طرف مجبور کردیں گے : 24۔ ہم نے اس پوری کائنات کو بنایا ہے اور اس پوری کائنات سے اشرف المخلوق انسان ہی کو پیدا کات ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کو اس کا فرمانبردار کردیا ہے اور ہرچیز کی فرمانبرداری آخر کب تک ہے ؟ جب تک انسان اس کائنات کے اندر موجود ہے وہ انسان خواہ کوئی ہو یعی عالم ہو یا جاہل ہو ‘ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو ۔ چونکہ وہ مخلوق ہماری ہے اس لئے زندگی میں اس کو فائدہ دینا بھی ہم پر لازم ہے اور یہی تھوڑا فائدہ دینا ہے جیسا کہ پیچھے ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں گزر چکا فرمایا ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ ابراہیم نے اللہ کے حضور دعا مانگی تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–27

This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

44 That is, "Thank God that you at least know this and believe in this. But if this be the reality, all praise should then belong to AIIah alone. How can any other being deserve praise when it has no share whatever in the creation of the universe?" 45 That, is, Most of the people do not know what are the inevitable results and demands of accepting Allah as the Creator of the universe, and what contradicts it. When a person acknowledges Allah as the Creator of the earth and the heavens. He should also acknowledge that Allah alone is the Deity and Lord: that He alone is worthy of worship and…

Read the full tafseer →