Explained with ayahs 23–25
حاکم اعلی وہ اللہ ہے
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 43
خطاب نبی ﷺ کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی، جو شخص تمہاری بات ماننے سے انکار کرتا ہے وہ اپنے نزدیک تو یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اسلام کو رد کر کے اور کفر پر اصرار کر کے تمہیں زک پہنچائی ہے، لیکن دراصل اس نے اپنے آپ کو پہنچائی ہے۔ اس نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا، اپنا کچھ بگاڑا ہے۔ اگر وہ نہیں مانتا تمہیں پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…
Read the full tafseer →ومن کفر فلا یحزنک کفرہ الینا مرجعھم فننبئھم بما عملوا ط ان اللہ علیم بذات الصدور (23)
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی اوپر والی آیت میں مخالفین کے لئے جو دھمکی ہے وہ مزید موکد کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جو لوت تمہاری دعوت کی مخالف کر رہے ہے ان کی مخالفت تمہارے لئے ذرا بھی باعث ِ غم نہ ہو۔ بالآخر ان سب کی پیشی ہمارے ہی سامنے ہونی ہے۔
اس دن ہم ان کے آگے ان کا سرا کچا چٹھا رکھ دیں گے۔ ان اللہ علیم بذات الصدور یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ساری دنیا کے اعمال و اقوال سے واقف ہونا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم کا حال یہ ہے کہ لوگوں کے سینوں میں جو راز چھپے ہوئے ہیں…
Read the full tafseer →23-1اس لئے کہ ایمان کی سعادت ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ آپ کی کوشش اپنی جگہ بجا اور آپ کی خواہش بھی قابل قدر لیکن اللہ کی تقدیر اور مشیت سب پر غالب ہے۔
23-2یعنی ان کے عملوں کی جزا دے گا۔
23-3پس اس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
13: حضرت لقمان کی بنیادی نصیحت میں توحید پر جو زور دیا گیا تھا، اب اس کے وہ دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، اور انسان ذرا غور کرے تو ان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے سوا کوئی اور نتیجہ معقولیت کے ساتھ نہیں نکالا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔
وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔
ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس…
Read the full tafseer →4 یعنی تم اپنا علاقہ خدا تعالیٰ سے جوڑے رکھو، کسی کے انکار و تکذیب کی پروا نہ کرو۔ منکرین کو بھی بالآخر ہمارے ہاں آنا ہے۔ اس وقت سب کیا دھرا سامنے آجائے گا۔ کسی جرم کو اللہ سے چھپا نہ سکیں گے وہ تو دلوں تک کے راز جانتا ہے۔ سب کھول کر رکھ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط ”
اَلْعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی مضبوط کنڈا یا حلقہ سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق لاَ انْفِصَامَ لَھَا ط ”اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔“
Read the full tafseer →31 یعنی جو شخص آپ کی دعوت کی انکار کرتا ہے وہ سمجھتا کہ اس نے آپ ﷺ کی دعوت کا انکار کرکے تمہیں اور اسلام زک پہنچائی ہے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ دراصل اپنا ہی نقصان کر رہا ہے۔ اور آپ ﷺ کو اس معاملہ میں افسردہ خاطر نہ ہونا چاہئے۔ آپ ﷺ اللہ پر توکل کرکے اپنا دعوت کا کام کرتے جائیں۔ ان منکروں سے ہم نبٹ لیں گے۔ چند دن یہ اپنی سرکشی دکھا لیں اور مزے اڑا لیں۔ آخر انھیں ہمارے ہاں ہی آنا ہے۔ یہ ہماری گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →24۔ (اس لیے آپ اتنا زیادہ فکروتردد اپنے سر کیوں لیں) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصلاح وہدایت خلق کے باب میں بہت زیادہ اہتمام و مبالغہ نہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ومن کفر فلا یحزنک کفرہ الینا مرجعھم فننبءھم بما عملوا ان اللہ علیم بذات الصدور
اور جو شخص (ا اللہ کی طرف اپنا رخ نہ کرے اور) انکار کر دے تو اس کے انکار سے آپ کو رنجیدہ نہ ہونا چاہئے۔ ان سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ہم ان کو ان کے کئے ہوئے اعمال بتائیں گے (یعنی عذاب دیں گے) بیشک اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہے۔
فَلَا یَحْزُنْکَ کُفْرہٌ پورا کلام اس طرح تھا جو شخص کفر کرے گا وہ اپنا نقصان خود کرے گا۔ آپ کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکے گا ‘ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ عدم ضرر ‘ عدم حزن کا موجب ہے اس لئے بجائے عدم ضرر کے عدم حزن کا ذکر کیا۔
عَلِیْمٌ مبِذَات الصَّدُوْرِ یعنی دلوں کے اندر کے چھپے ہوئے…
Read the full tafseer →اور جو شخص قریش یا غیر قریش میں سے کفر کرے تو اے نبی کریم آپ کے لیے اس کا کفر باعث غم نہیں ہونا چاہیے اس کی ہلاکت اسی کے کفر میں ہے مرنے کے بعد ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔
سو ہم ان کو وہ سب جتائیں گے جو وہ دنیا میں کفر کی حالت میں کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ تو دلوں کی نیکی و برائی کا ذرہ تک جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ۔۔ : اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد اسلام کے ہر داعی کو تسلی دی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت اور پیغام پہنچنے کے باوجود کفر پر اصرار کرتا ہے، آپ اس کے کفر کی وجہ سے غم زدہ نہ ہوں، آپ کا کام پیغام پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب انھوں نے ہمارے پاس واپس آنا ہے تو ہم انھیں وہ سب کچھ بتائیں گے جو انھوں نے کیا۔ اس میں کفار کے لیے زبردست وعید ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ : کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار…
Read the full tafseer →فننبئہم بما عملوا کا مطلب ہے کہ ہم انہیں بدلہ دیں گے۔ نمتعہم قلیلا ہم دنیا میں انہیں تھوڑے عرصے کے لیے باقی رکھیں گے جس سے وہ لطف اندوز ہوں گے۔ ثم نضطرھم پھر ہم انہیں پناہ دیں گے اوہ ہم انہیں ہانک کرلے جائیں گے۔ الی عذاب غلیظ اس سے مراد عذاب جہنم ہے۔ من کا لفظ واحد اوہ جمع سب کے لیے موزوں ہے اسی وجہ سے فرمایا : کفرہ پھر فرمایا مرجعھم اور ما بعد معنی کے اعتبار سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ظاہری اور باطنی نعمتیں
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…
Read the full tafseer →وَمَنْ كَفَرَ [اور جس نے انکار کیا ] فَلَا يَحْزُنْكَ [تو غمگین مت کرے آپ ﷺ کو ] كُفْرُهٗ ۭ [اس کا انکار کرنا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُهُمْ ان سب کا لوٹنا ہے ] فَنُنَبِّئُهُمْ [تو ہم جتا دیں گے ان کو ] بِمَا عَمِلُوْا ۭ [وہ جو انہوں نے عمل کئے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَلِيْمٌۢ [جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [سینوں والی (باتوں) کو ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ (وَ مَنْ کَفَرَ فَلَا یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ ) (جو شخص کفر کرے اس کا کفر آپ کو رنجیدہ نہ کرے) آپ اپنا کام کرتے رہیں اور واضح طور پر حق کو واضح فرماتے رہیں آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے پھر آپ کسی کے کفر سے رنجیدہ کیوں ہوں ؟ جو شخص کفر پر رہے گا اپنا ہی برا کرے گا۔ (اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّءُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا) (ہماری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے سو وہ جو اعمال کرتے تھے ہم ان کو بتادیں گے) ہر ایک کا عمل سامنے آجائے گا پھر اس کے مطابق جزا سزا پائے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) (بلاشبہ اللہ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →23:۔ ومن کفر الخ، یہ معاندین کے لیے تخویف اخروی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی اگر مشرکین ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں قیام تکے دن یہ سب میرے سامنے حاضر ہوں گے تو میں ان کے تمام اعمال ان کے سامنے رکھوں گا میں تو ان کے دلوں کی باتیں بھی جانتا ہوں۔ تمتعہم قلیلا الخ۔ دنیا میں ان کو جو میں نے زندگی دے رکھی ہے یہ تو صرف چند روزہ ہے اس کے بعد انہیں چار و ناچار شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونا ہے وہاں اپنے تمام کرتوتوں کی پوری پوری سزا پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ربط آیات :
گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے…
Read the full tafseer →وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُہٗ 0 ۭ اِلَيْنَا مَرْجِعُہُمْ فَنُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 23
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ترکیب : اقلام جمع قلم خبر ان ‘ ما موصولہ فی الارض صل تھا والجملۃ اسم ان من شجرۃ بیان ماو البحر رفعہ للعطف علی محل ان و معمولھا ویمدہ سبعۃ ابحر الجملۃ مع الفعل یمدو فاعلہ سبعۃ ابحرحال اویقال والبحر المبتداء یمدہ الجملۃ خبرہ۔
تفسیر : ولئن سالتہم الخ یعنی گو وہ دلائل پر غور و فکر نہیں کرتے، محض تقلیدِ آبائی میں گرفتار ہیں، لیکن باایں ہمہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور خالق ہونے کا اور نیز قادر ومالک آسمان و زمین ہونے کا فطری طور پر ایسا علم ہے کہ اگر تو ان سے دریافت کرے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے اس میں کسی کی بھی شرکت نہ بتلائیں گے۔ قل الحمد للہ تو کہہ الحمدللہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ کَفَرَفَلاَ یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ ط اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (لقمان : 23)
(اور جو شخص کفر کرتا ہے اس کا کفر آپ کو غم میں مبتلا نہ کرے، انھیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انھیں بتادیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں، یقینا اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کافر جو کچھ کررہے ہیں اور جس طرح اپنے کفر میں دلیر ہوتے جارہے ہیں اور جس طرح اسلامی دعوت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن تدبیر عمل میں لا رہے ہیں۔ یقینا ان میں سے ہر بات آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : جس نے کتاب اللہ کے ساتھ تمسّک کرنے سے انکار کردیا اس کا انجام بدترین ہوگا۔
سروردوعالم ﷺ صبح و شام اس فکر اور کوشش میں رہتے تھے کہ لوگ ہدایت پر گامزن ہو کر جہنم کی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچالیں۔ لیکن لوگ ہدایت کی طرف آنے کی بجائے گمراہی کی طرف سرپٹ دوڑے جاتے تھے۔ جس پر آپ دل گرفتہ ہوجاتے آپ ﷺ کو تسلی اور ڈھارس دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ ان کے کفرو شرک پر جمے رہنے سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں۔ آپ کا کام حق بات پہنچانا ہے جس کا آپ حق ادا کر رہے ہیں منوانا آپ کا کام نہیں۔
جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں بالآخر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے دنیا میں ہم ان کو قلیل فائدہ دیں گے اور پھر انہیں…
Read the full tafseer →23: وَمَنْ کَفَرَ (اور جس نے کفر کیا) اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپر دنہ کیا۔ فَلاَ یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ (اس کا کفر آپ کو غم میں مبتلا نہ کرے) ۔
قراءت : نافع نے یُحْزِنک پڑھا ہے۔ حزن واحزن جو کفر اختیار کرتا ہے اس کا کفر آپ کو غمزدہ نہ کرے۔
اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا (ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے پس ہم ان کو بتلا دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے) پس ہم ان کو ان کے اعمال پر سزا دیں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں کو جاننے والے ہیں) بلاشبہ اللہ کو اپنے بندوں کے سینوں کی باتوں کا علم ہے پس اس کے مطابق ان سے سلوک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22، ومن یسلم وجھہ الی اللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے دین کو خالص کرے اور اپنے تمام امور کو اسی کے سپرد کردے۔ ، وھو محسن ، اور وہ اپنے عمل میں محسن رہے ۔ محسن احسان کی خوبی یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو یعنی کامل حضور قلب کے ساتھ۔ ، فقد استمسک بالعروۃ الوثقی، یعنی اس نے مضبوط ترین قبضہ پکڑلیا اور ایسا محکم ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا جس کے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ ، والی اللہ عاقبۃ الا مور،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت نمبر :22 ۔ 24
(ومن یسلم وجھہ الی اللہ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے (وھو محسن) تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺ کی اتباع کرتا ہے ‘ یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →49 پیغمبر کے لیے تسلی کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کیلئے غم کا باعث نہیں بننا چاہیئے "۔ کہ اس سے وہ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آپ ﷺ کا کام صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کیلئے اور پیغمبر کے واسطے سے آپ کی امت کے ہر داعی کیلئے یہ تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ جو لوگ دعوت حق کا مقابلہ کرنے اور اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی بنا پر آپ غم میں نہ پڑیں۔ انہوں نے بالآخر ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تب ہم ان سے خود نمٹ لیں گے۔ سو پیغمبر کے ذمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 1” کہ میری صداقت اور تمہارا ہونا ثابت ہوگیا اور تم نے خود ہی اعتراف کرلیا۔ “ (ابن کثیر، کبیر) یا مس موقع پر ’ دشکر خدا کا “ کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو دا ہی نے بنایا ہے۔ تو شکر بھی اسی کا بجا لائو، دوسروں کے سامنے ماتھے کیوں رگڑتے پھرتے ہو۔2 یعنی یہ نہیں سمجھتے کہ جب خدا کو زمین و آسمان کا خلاق مان لیا تو ضروری ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کی جائے۔ (شوکانی )
Read the full tafseer →(31:23) لایحزنک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ حزن سے باب نصر۔ وہ تجھے رنج نہ پہنچائے۔ وہ تجھے غمگین نہ کرے۔
مرجعہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا لوٹنا۔ رجوع کرنا۔
فننبئہم۔ فاء ترتیب کا ہے۔ ننبی مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ سو ہم ان کو ضرور بتلادیں گے۔
علیم بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
ذات الصدور۔ ایسی بات۔ امر جس کا تعلق سینوں سے ہو ، بمعنی راز۔ بھید۔ فکر ۔ علیم بذات الصدور۔ سینے کے اندر چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا۔ ذات ، ذو کا مؤنث ہے ہمیشہ بطور مضاف استعمال ہوتا ہے۔
نمتعھم۔ مضارع جمع متکلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24)
اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔
استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[13] یعنی قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
عروۃ الوثقیٰ
2: اس سے قبل کی آیات میں فرمایا تھا ۔ کہ جو شخص فکر خیال سے لے کر حرکت وعمل تک سب چیزوں کو بر بنائے اخلاص وعقیدت اللہ کے تابع کردیتا ہے ۔ وہ عقائد کے مضبوط ترین حلقے کو تھام لیتا ہے ۔ اس مقام بلند پر فائز ہونے کے بعد اس کے لئے رسوائی اور ضلالت کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا ۔ جو شخص یہ سمجھ لے کہ میری سمجھ بوجھ میرے جذبات اور میری خواہشات نفس سب کی سب اللہ کے ارادہ اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں ۔ اس کی رضا میں میری نجات ہے اس کی خوشی میری زندگی کا نصب العین ہے ۔ اور اس کی مرضی پر میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ ایسا شخص فکروعقیدہ کی ایسی مضبوط چٹان پر کھڑا ہے کہ تزلزل…
Read the full tafseer →23۔ اور جو شخص کفر و انکار کرتا ہے تو اس کا کفر اے پیغمبر آپ کو رنجیدہ نہ کرے ان سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے پھر ہم ان کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کردیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی تمام باتوں سے خوب واقف ہے اور جو شخص باوجود ان دلائل واضحہ اور ثابتہ کے پھر بھی کفر پر قائم ہے اور جما ہوا ہے تو آپ ایسے لوگوں پر غمگین نہ ہوں اور آپ کو ان کا کفر رنجیدہ نہ کرے چونکہ ان سب کو ہماری ہی سرکار میں واپس آنا ہے تو ہم ان کو وہ تمام باتیں بتادیں گے اور جتا دیں گے یہ جو دنیا میں کرتے رہے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں تک کی باتوں سے خوب واقف ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔
Read the full tafseer →جس نے کفر کیا اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے ہم اس کو اس کے عمل کی حقیقت بتا دیں گے :
23۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جو شخص بھی کفر وشرک کی روش اختیار کرتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کی تکذیب کرکے گویا آپ ﷺ کو زک پہنچاتا ہے اور کفر پر جم جاتا ہے تو اس کی آپ قطعا کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی غم کریں آخر کار ایک نہ ایک دن پلٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے ہم اس وقت تک نہیں بتائیں گے کہ دنیا میں کیا عمل وکردار اور افعال کرکے آئے ہیں جو کچھ وہ لے کر آئے ہوں گے اس کے مطابق ان کو پوری پوری جزا دی جائے گی بلاشبہ اللہ تعالیٰ سینوں کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپے ہوئے رازوں اور بھیدوں تک کو خوب جانتا ہے اور کوئی بات بھی اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…
Read the full tafseer →43 This means to say, "O Prophet, the one who refuses to listen to you, thinks that by rejecting Islam and insisting on unbelief he has harmed you, but in fact he has not harmed you but harmed only himself. If he does not listen to you, you need not bother yourself about him at all. "
Read the full tafseer →