Explained with ayahs 21–22
مضوبوط دستاویز
فرماتا ہے کہ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہوجائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آجائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر ﷺ کافروں کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہوچکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کرلیں پھر تو ان عذابوں کو بےبسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں جیسے اور آیت میں…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 40
یعنی پوری طرح اپنے آپ کو اللہ کی بندگی میں دے دے۔ اپنی کوئی چیز اس کی بندگی سے مستثنیٰ کر کے نہ رکھے۔ اپنے سارے معاملات اس کے سپرد کر دے اور اسی کی دی ہوئی ہدایات کو اپنی پوری زندگی کا قانون بنائے۔
سورة لُقْمٰن 41
یعنی ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو وہ حوالگی و سپردگی کا اعلان کر دے مگر عملاً وہ رویہ اختیار نہ کرے جو خدا کے ایک مطیع فرمان بندے کا ہونا چاہیے۔
سورة لُقْمٰن 42
یعنی نہ اس کو اس بات کا کوئی خطرہ کہ اسے غلط رہنمائی ملے گی، نہ اس بات کا کوئی اندیشہ کہ خدا کی بندگی کر کے اس کا انجام خراب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…
Read the full tafseer →ومن یسلم وجھہ الی اللہ وھو محسن فقد استمسک بالعروۃ الوثقی والی اللہ عاقبۃ الامور (22)
’ اسلم ‘ کا صلہ ’ ل ‘ کے ساتھ بھی قرآن میں آیا ہے اور ’ الی ‘ کے ساتھ بھی۔ دونوں کے مواقع استعمال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں جیسا کہ یہاں ہے یہ نیاز مندانہ متوجہ ہونے کے مفہوم میں آیا ہے۔ یہ متوجہ ہونا حقیقی بھی ہوسکتا ہے اور غیر حقیقی بھی اس وجہ سے اس کے ساتھ محسن کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’ احسان ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے…
Read the full tafseer →22-1یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔
22-2یعنی ما مور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔
22-3یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لے لیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
13: حضرت لقمان کی بنیادی نصیحت میں توحید پر جو زور دیا گیا تھا، اب اس کے وہ دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، اور انسان ذرا غور کرے تو ان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے سوا کوئی اور نتیجہ معقولیت کے ساتھ نہیں نکالا جاسکتا۔
Read the full tafseer →ومن یسلم ۔۔۔۔۔ واقبۃ الامور (22) ” “۔
یعنی پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور اس کے ساتھ حسن عمل اور حسن سلوک کو اپنانا ، یعنی مکمل سپردگی اور اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی ہونا ، اللہ کے احکام ، ہدایات اور فرائض میں رنگ جانا ، اس شعور اور یقین کے ساتھ کہ اللہ کی رحمت ہمارے شامل حال ہے اور اللہ ہر وقت نگہبان ہے ۔ اس کا وجد ان اللہ کی رضا مند کو پاتا ہو اور وہ اس سپر دگی میں اپنے ساتھ پوری کا ئنات کو سربسجود سمجھتا ہو ۔ یہ سب اشارات اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کے لفظ کے اندر موجود ہیں ۔ چہرہ دراصل نہایت ہی مکرم حصہ ہے وجود انسانی کا ۔
ومن یسلم وجھہ ۔۔۔۔۔۔ بالعروۃ الوثقٰی (31:…
Read the full tafseer →2 یعنی جس نے اخلاص کے ساتھ نیکی کا راستہ اختیار کیا اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا، سمجھ لو کہ اس نے بڑا مضبوط حلقہ ہاتھ میں تھام لیا ہے جب تک یہ کڑا پکڑے رہے گا، گرنے یا چوٹ کھانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔
3 یعنی جس نے یہ کڑا مضبوط تھامے رکھا وہ آخر اس کے سہارے سے اللہ تک پہنچ جائے گا اور خدا اس کا انجام درست کر دے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط ”
اَلْعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی مضبوط کنڈا یا حلقہ سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق لاَ انْفِصَامَ لَھَا ط ”اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔“
Read the full tafseer →30 مضبوط حلقہ کی تعریف اللہ تعالیٰ نے خود ہی بیان کردی۔ یعنی جو شخص اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم ختم کر دے اور پھر اس کے احکام کے مطابق نیک اعمال بھی بجا لائے گویا اس میں ساری شریعت آگئی۔ اس شریعت پر عمل پیرا ہونا ہی ایسے مضبوط حلقے یا کڑے کو تھامنا ہے۔ جو اپنی مضبوطی کی وجہ ٹوٹنے والا نہیں۔ لہذا جو شخص اسے مضبوطی سے پکڑے رکھے گا اس کو نہ گر پڑنے کا خطرہ ہے اور نہ کہیں چوٹ لگ جانے کا۔ پھر اسی حلقہ کو تھامے ہوئے وہ بالآخر اللہ تک پہنچ جائے گا۔ جب تے وہ یہ حلقہ کو تھامے رہے گا، شیطان نہ اسے دھوکا دے سکے گا نہ گمراہ کرسکے گا یا دوسری راہ پر ڈال سکے گا۔
Read the full tafseer →23۔ اکبر الہ آبادی نے بھی معرفت کے رنگ میں خوب کہا ہے :
ع : اخیر کیوں کا جواب تو ہے ! (آیت) ” وھو محسن “۔ یعنی وہ مومن خالص بھی ہو۔ (آیت) ” فقد ...... الوثقی “۔ یعنی جس نے توحید کی مضبوط رسی تھام لی۔ وہ اب ہر طرح محفوظ ہوگیا۔ اسے اب صدمہ ہلاکت کا ڈر نہ رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ومن یسلم وجھ الی اللہ وھو محسن فقد استمسک بالعوۃ الوثقی والی اللہ عاقبۃ الامور
اور جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے اور مخلص بھی ہو تو اس نے بڑا مضبوط قبضہ تھام لیا اور اخیر سب کاموں کا اللہ ہی کی طرف پہنچے گا۔
وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗ یعنی جو اپنی توجہ اللہ کی طرف کر دے اور کامل طور پر ہمہ تن اللہ کا ہوجائے ‘ اپنے تمام کام اللہ کے سپرد کر دے ‘ ہر کام کو کرنے یا نہ کرنے میں اللہ کی خوشنودی کا حصول اس کے پیش نظر ہو۔
وَھُوَ مُحْسِنٌ اور اپنے اعمال میں مخلص ہو۔ رسول اللہ نے فرمایا : احسان (اعمال کی خوبی) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا (عبادت کے وقت وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے…
Read the full tafseer →اور جو شخص اپنے دین و عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرے اور وہ موحد و مخلص بھی ہو تو اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ کا بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
اور آخر سب کاموں کا کہ جن پر انسان مرتے ہیں آخرت میں اللہ ہی کی طرف پہنچے گا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗٓ اِلَى اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد اور اس کے حوالے کردیتا ہے۔ اپنا ہر عمل صرف اس کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ نہ اپنی خواہش پر چلتا ہے نہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پیچھے چلتا ہے اور نہ آبا و اجداد میں سے کسی کی راہ و رسم اختیار کرتا ہے۔ اس کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، فرمایا : (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ومن یسلم وجہہ الی اللہ جو اپنی عبادت اور ارادہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ وھو محسن کیونکہ عبادت احسان اور دل کی معرفت کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومن یعمل من الصلحات الخ (طہ : 112) حضرت جبریل امین کی حدیث میں ہے عرض کی : مجھے احسان کے بارے میں بتایئے ؟ فرمایا : ” تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گو یا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسا نہ ہو سکے تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے “ (2) ۔
فقداستمسک باالعروۃ الوثقی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عروہ وثقی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (3) ۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ حضرت علی شیر خدا، سلمی اور عبداللہ بن مسلم بن یسار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ظاہری اور باطنی نعمتیں
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّسْلِمْ [اور جو تابعدار کرتا ہے ] وَجْهَهٗٓ [اپنے چہرے (شخصیت) کو ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] مُحْسِنٌ [حسن دینے والا ہے (نیکی کو)] فَقَدِ اسْتَمْسَكَ [تو وہ چمٹ گیا ہے ] بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۭ [انتہائی مضبوط کنڈے سے ] وَاِلَى اللّٰهِ [اور اللہ ہی کی طرف ] عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ [تمام معاملات کا انجام ہے ] ۔
Read the full tafseer →اہل شرک اور اہل کفر کی حمایت اور ضلالت بتانے کے بعد اہل ایمان کی تعریف فرمائی اور فرمایا (وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی) (اور جو شخص اپنی ذات کو اللہ کا فرمانبردار بنا دے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح سے پکڑ لیا) یعنی جس نے اپنے جسم اور جان کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بنا دیا (عقائد میں بھی اعمال میں بھی) اور اس کی یہ فرمانبرداری اخلاص کے ساتھ ہے، ظاہر اور باطن دونوں یکساں ہیں تو اس نے بڑے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا، یعنی ایسے دین کو اختیار کیا جو ہلاکت و خسران اور تباہی سے پوری طرح محفوظ ہونے کا سبب بن گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →22:۔ ومن یسلم الخ، محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی باپ دادا کی اندھادھند پیروی سے آخرت میں نجات نہیں ہوگی بلکہ فلاح و نجات نیک روسی سے ملے گی۔ جس شخص نے اپنے تمام امور کو اللہ کے سپرد کردیا اور اپنے ارادوں سے دستبردار ہوگیا۔ وھو محسن اور وہ تمام اعمال میں مخلص اور رضا الٰہی کا طالب ہو تو اس نے سب سے مضبوط کڑی کو پکڑ لیا۔ بس فلاح و نجات ایسے محسنین کے لیے ہے۔ والی اللہ عاقبۃ الامور تمام معاملات اللہ کے سپرد ہیں وہی ہر چیز میں متصرف ہے اور ہر چیز کا انجام بھی اسی کے اختیار میں ہے اس لیے اس کے سوا کوئی متصرف و مختار نہیں۔ تقدیم ظرف حصر کیلئے ہے۔ و تقدیم (الی اللہ) للحصر ردا علی الکفرۃ فی زعمھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ربط آیات :
گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْہَہٗٓ اِلَى اللہِ وَہُوَمُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى 0 ۭ وَاِلَى اللہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ 22
وجه
أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6]
( و ج ہ ) الوجہ
کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔
احسان
الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» .
فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل
واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ومن یسلم وجہ الی اللہ یہاں سے سلامت روی کا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے، ان کجرو وں کے مقابلہ میں کہ جو کوئی اللہ کے آگے اپنا منہ جھکاوے یعنی اس کا دل سے فرمانبردار ہوجاوے اور اس کے بعد اس دلی ارادت کے مطابق نیک کام بھی کرے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا، یعنی نجات کا بڑا قوی ذریعہ اس کے ہاتھ آگیا، جس طرح کوئی پستی سے بلندی کی طرف چڑھنے والا مستحکم رسی کو تھام کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ یہی حال اس کا ہے اور اس کا انجام اللہ اچھا کرے گا۔ بیچ میں رسی کو نہ ٹوٹنے دے گا، ہر چیز کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے یا یوں کہو ہر معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہوتا ہے، ومن کفر اور جو اس کے برخلاف ہوگا، کفر اختیار کرے گا۔ اے…
Read the full tafseer →وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِـبَۃُ الْاُمُوْرِ ۔ (لقمان : 22)
(جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے اور وہ خوب کار بھی ہو تو بیشک اس نے مضبوط رسی تھام لی، اور انجام کار تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ )
قیامت میں تفویض و احسان کام آئیں گے
تقلیدِآباء کو اپنے عقیدے کی بنیاد سمجھنے والوں اور دلائل میں اسے سب سے بڑی دلیل قرار دینے والوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن باپ دادا کے طریقہ کی اندھی تقلید کام آنے والی چیز نہیں اور نہ کوئی اور سہارا کام آئے گا۔ وہاں تو صرف دو چیزیں کام آئیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آباؤ اجداد کی تقلید اور ادھر ادھر دینے کی بجائے آدمی کو اپنے رب کا فرمانبردار ہونا چاہیے۔
قرآن وسنت کے دلائل سے بےاعتنائی کرنا اور مذہبی رسومات یا خاندانی روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے آباء و اجداد کی ڈگر پر چلنا حقیقت میں شیطان کی پیروی کرنا ہے۔ شیطان انسان کو جہنم میں لے جانا چاہتا ہے جہنم سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرے اور نیک کام کرتا رہے۔ جس نے اس فکر وعمل کو اپنالیا گویا کہ اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جس کا ٹوٹنا نا ممکنات میں سے ہے۔ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس بات کو یوں بھی…
Read the full tafseer →مضبوط کھونٹے والا :
22: وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗ اِلَی اللّٰہِ (جو شخص اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے) ۔
نحو : یہاں اسلمؔ کو الی کے ذریعے متعدی بنایا گیا ہے جبکہ بل من اسلم وجھہ للہ ] البقرہ : 112[ میں لام سے متعدی بنایا گیا ہے۔ لام کے ساتھ اس کا معنی یہ ہے اس نے اپنی ذات اور نفس اس طرح کردیا کہ وہ سالم یعنی خالص ہے اللہ تعالیٰ کیلئے۔
الی کے ساتھ اس کا معنی یہ ہے اس نے سپرد کردیا اپنے نفس کو اس طرح کہ جیسے سامان کسی شخص کے سپرد کیا جاتا ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی بارگاہ میں سپر دگی ہے۔
وَھُوَ مُحْسِنٌ (اس حال میں کہ مخلص ہو) ان کاموں میں جو کرے فَقَدِ اسْتَمْسَکَ (پس اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22، ومن یسلم وجھہ الی اللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے دین کو خالص کرے اور اپنے تمام امور کو اسی کے سپرد کردے۔ ، وھو محسن ، اور وہ اپنے عمل میں محسن رہے ۔ محسن احسان کی خوبی یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو یعنی کامل حضور قلب کے ساتھ۔ ، فقد استمسک بالعروۃ الوثقی، یعنی اس نے مضبوط ترین قبضہ پکڑلیا اور ایسا محکم ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا جس کے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ ، والی اللہ عاقبۃ الا مور،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت نمبر :22 ۔ 24
(ومن یسلم وجھہ الی اللہ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے (وھو محسن) تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺ کی اتباع کرتا ہے ‘ یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
45 اپنی ذات کو اللہ کی حوالے کردینا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اپنی ذات اللہ کے حوالے کردے اس نے یقینا اپنے رب سے ملانے والی مضبوط رسی کو تھام لیا "۔ یعنی اپنی خواہش ومرضی ترک کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے تابع کر دے جس کی صحیح اور کامل صورت دین اسلام ہے کہ اسلام کے معنیٰ ہی " سپردن " اور " گردن نہادن " کے کئے گئے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا اور اپنی گردن اس کے آگے ڈال دینا۔ اور یہی ذریعہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنی ذات کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی ایمان اور عمل صالح اختیار کرے عمل میں احسان یہ ہے کہ عمل خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو یعنی ریا کاری سے پاک ہو اور پھر شریعت کی ہدایت کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورة بقرہ 112)11 جس کے بعد اسے بھٹکنے اور انجام بد سے دوچار ہونے کا کوء خطرہ نہیں۔12 ووہی ان کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →(31:22) من یسلم : من شرطیہ ہے۔ جو تابع کر دے۔
یسلم مضارع مجزوم بالشرط۔ اسلام مصدر۔ یہاں اسلام بمعنی تفویض ہے یعنی اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردینا۔ یعنی قضا و قدر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دے جیسا کہ اور جگہ ہے اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین۔ (2:121) جب اس سے اس کے پروردگار نے کہا کہ جھک جاؤ تو اس نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
ومن یسلم وجھہ الی اللہ اور جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے۔ یعنی جو اپنے تمام امور اس کو تفویض کردے۔
وھو محسن۔ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ محسن ہو۔ محسن احسان سے اسم فاعل واحد مذکر ہے۔ فریضہ سے زیادہ ادا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24)
اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔
استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری…
Read the full tafseer →اللہ کریم کی صفات۔
(ف 2) ان آیتوں میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم پرچلتے ہیں اور اس کے بعد اس دلی ارادہ کے مطابق نیک کام کریں تو ان لوگوں نے بڑی مضبوط رسی کو پکڑ لیا ہے یعنی نجات کا بڑا قوی ذریعہ ان کے ہاتھ آگیا ہے اللہ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا پھر فرمایا جو شخص اللہ کے حکم پر نہ چلے تو اے محبوب ان کے کفر پرنج نہ کرنا چاہیے کیونکہ ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے اس وقت ہم ان کو ان کے عملوں کو جتلادیں گے اور سزا دیں گے ، بیشک اللہ تعالیٰ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں اس پر کچھ پوشیدہ نہیں ہے پھر فرمایا ہم تھوڑے دنوں دنیا میں ان کو کچھ عیش دے رہے ہیں جب تک وہ زندہ ہیں پھر ہم آخرت میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[13] یعنی قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
عروۃ الوثقیٰ
2: اس سے قبل کی آیات میں فرمایا تھا ۔ کہ جو شخص فکر خیال سے لے کر حرکت وعمل تک سب چیزوں کو بر بنائے اخلاص وعقیدت اللہ کے تابع کردیتا ہے ۔ وہ عقائد کے مضبوط ترین حلقے کو تھام لیتا ہے ۔ اس مقام بلند پر فائز ہونے کے بعد اس کے لئے رسوائی اور ضلالت کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا ۔ جو شخص یہ سمجھ لے کہ میری سمجھ بوجھ میرے جذبات اور میری خواہشات نفس سب کی سب اللہ کے ارادہ اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں ۔ اس کی رضا میں میری نجات ہے اس کی خوشی میری زندگی کا نصب العین ہے ۔ اور اس کی مرضی پر میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ ایسا شخص فکروعقیدہ کی ایسی مضبوط چٹان پر کھڑا ہے کہ تزلزل…
Read the full tafseer →22۔ اور جس شخص نے اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرلیا اور اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور وہ شخص مخلص بھی ہے تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ اور مستحکم کڑا پکڑ لیا اور سب کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فرمانبرداری کی غرض سے اس نے اپنا منہ خدا کے سامنے کھ دیا یعنی اسلام قبول کرلیا اور عمل و اعتقاد کو درست کرلیا اور وہ مخلص بھی ہو، یعنی دل سے مسلمان ہو تو گویا اس نے ایک ایسا مضبوط اور پختہ حلقہ کو پکڑ لیا کہ گرنے کا اندیشہ نہ رہا ہر اعتبار سے محفوظ ہوگیا اور اخیر سب کاموں کا اللہ ہی کی طرف ہے وہاں ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی محض ظاہری اسلام نہ ہو۔
9۔ یعنی وہ اس شخص کے مشابہ ہوگیا جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے مامون رہتا ہے، اسی طرح یہ شخص ہلاکت و خسران سے محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے والے نے مضبوط حلقہ تھام لیا :
22۔ جس شخص نے اپنی پوری زندگی پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین یعنی اس کے بھیجے ہوئے ضابطہ حیات کے تابع کردی اور اپنے جسم اور روح کو ‘ اپنے قالب اور قلب کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سرانگندہ کردیا اور پھر جو کچھ اس نے کیا وہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ حسن عمل سے اپنے اس قوی کی صداقت بھی ثابت کردی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرما نبردار بندہ بن گیا تو بلاشبہ ایسا شخص نیکو کار ہے اور اس نے ایک بڑا ہی مضبوط اور قابل اعتماد سہارا تھام لیا جس سے اب اس کا انجام خراب نہیں ہوگا اور اس طرح اس کے سارے امور اور معاملات کا اخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…
Read the full tafseer →40 "Whoever........Allah": Who submits himself wholly to the service of AIIah, entrusts alI his affairs to Him and makes His Guidance the law of his entire life.
41 That is, practically also he should adopt the attitude of an obedient servant of Allah.
42 That is, 'He will neither have the apprehension that he will be misguided, nor the fear that he will meet an evil end after having served Allah."
Read the full tafseer →