Luqman 31:21

Luqman · from ayah 21

31:21

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ؕ— اَوَلَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۟وَ اِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّـبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ

اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Follow what Allah has revealed," they say, "Rather, we will follow that upon which we found our fathers." Even if Satan was inviting them to the punishment of the Blaze?

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:21

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اس چیز کی اتباع کرو جو اللہ نے اتاری ہے۔ تو وہ کہتے ہیں : نہیں، بلکہ ہم تو اس طریقے کے پیچھے چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داداوں کو پایا ہے۔ بھلا اگر شیطان ان (باپ دادوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو، کیا تب بھی (وہ انہی کے پیچھے چلیں گے ؟)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے کیا (یہ انہی کی پیروی کریں گے) خواہ شیطان انھیں دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس چیز کی پیروی کر وجو اللہ نے اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کریں گے، بلکہ اسی طریقہ کی پیروی کرتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے آباد اجداد کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو تم لوگ اس چیز کی جس کو اللہ نے اتارا ہے تو یہ کہتے ہیں ہم تو بس اسی کی پیروی کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا (یہ انہی کی پیروی کریں گے) اگرچہ شیطان ان کو بلا رہا ہو دہکتی (بھڑکتی ہولناک) آگ کے عذاب کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کا پایا ہے کیا یہ جب بھی جب شیطان ان (بڑوں) کو عذاب دوزخ کی طرف بلارہاہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس (ہدایت) کی جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تو اس (طریقے) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا ہے خواہ انہیں شیطان بلا رہا ہو جہنم کے عذاب کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ”ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا“ ، بھلا اگر شیطان ان کو دوزخ کی طرف بلاتا ہو تب بھی ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they are told: “Follow what Allah has revealed,” they say: “We will rather follow that which we have found our forefathers following.” (Will they follow that) even though Satan might invite them to the chastisement of the Blazing Fire?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them, :follow what Allah has sent down, they say, :Instead, we would follow that on which we have found our fathers. Is it so, even though the Satan has been calling them to the punishment of the flaming Fire?

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them, :follow what Allah has sent down, they say, :Instead, we would follow that on which we have found our fathers. Is it so, even though the Satan has been calling them to the punishment of the flaming Fire?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: "Follow that which Allah has sent down," they say: "Nay, we shall follow that which we found our fathers (following)." Even if Shaytan invites them to the torment of the Fire

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if it be said unto them: Follow that which Allah hath revealed, they say: Nay, but we follow that wherein we found our fathers. What! Even though the devil were inviting them unto the doom of flame?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Follow what Allah has revealed," they say, "Rather, we will follow that upon which we found our fathers." Even if Satan was inviting them to the punishment of the Blaze?

— Saheeh International

When they are told to follow what God has revealed to them, they say, "We shall only follow our father's way of life." Will they follow it even if it is Satan who is calling them to the burning torment?

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them: Follow what Allah has revealed, they say: Nay, we follow that on which we found our fathers. What! though the Shaitan calls them to the chastisement of the burning fire!

— Muhammad Habib Shakir

And when it is said unto them: follow that which Allah hath sent down, they say: nay! we shall follow that which we found our fathers upon. What! even though the Satan had been calling on them unto the torment of the Blaze.

— Abdul Majid Daryabadi

When they are told to follow the (Revelation) that Allah has sent down, they say: "Nay, we shall follow the ways that we found our fathers (following). "What! even if it is Satan beckoning them to the Penalty of the (Blazing) Fire?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–22

مضوبوط دستاویز فرماتا ہے کہ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہوجائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آجائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر ﷺ کافروں کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہوچکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کرلیں پھر تو ان عذابوں کو بےبسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں جیسے اور آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 39 یعنی ہر شخص اور ہر خاندان اور ہر قوم کے باپ دادا کا حق پر ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ محض یہ بات کہ یہ طریقہ باپ دادا کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے ہرگز اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ یہ حق بھی ہے۔ کوئی عقلمند آدمی یہ نادانی کی حرکت نہیں کرسکتا کہ اگر اس کے باپ دادا گمراہ رہے ہوں تو وہ بھی آنکھیں بند کر کے انہی کی راہ پر چلے جائے اور کبھی یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہ محسوس کرے کہ یہ راہ جا کدھر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

خلاصہ تفسیر کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نا اولو کا نا الشیطن یدعوھم الی عذاب السعیر (21) یہ ان کے مجادلہ بلا علم کی تفصیل ہے کہ جب ان کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہم نے باپ دادا سے جو طریقہ پایا ہے ہم اسی پر چلتے رہیں گے، اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ اختیار کرنے کے لئے ہم تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اس شکل میں بھی یہ اس روش پر جامد رہیں گے جب کہ شیطان ان کو تقلید آباء کے اس تعصب میں مبتلا کرکے ان کو جہنم کی طرف بلا رہا ہو ! مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کی صحت و صداقت کی مجرد یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21-1یعنی ان کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کسی ہادی کی ہدایت اور نہ کسی کتاب آسمانی سے کوئی ثبوت، گویا کہ لڑتے ہیں ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–24

13: حضرت لقمان کی بنیادی نصیحت میں توحید پر جو زور دیا گیا تھا، اب اس کے وہ دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، اور انسان ذرا غور کرے تو ان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے سوا کوئی اور نتیجہ معقولیت کے ساتھ نہیں نکالا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔۔ علیہ اباءنا (31: 21) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا “۔ یہ ہے ان کی واحد دلیل جو وہ اپنے رویے پر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ بھی عجیب دلیل ہے ۔ پتھر جیسی جامد تقلید ، جو نہ علم پر مبنی ہے ، نہ کسی نظریہ پر مبنی ہے ۔ یہی وہ تقلید ہے جس سے اسلام انسانیت کو چھڑانا چاہتا ہے ۔ ان کی عقل کو آزادی دیتا ہے کہ وہ آزادانہ غور دفکر کریں اور انسان کے اندر بیداری ، حرکت اور روشنی پھیلانا چاہتا ہے لیکن انسان ہیں کہ وہ اپنے ماضی کے آثار سے منحرف ہوگئے ہیں اور مویشیوں کی طرح اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر شیطان تمہارے باپ دادوں کو دوزخ کی طرف لئے جا رہا ہو، تب بھی تم ان کے پیچھے چلو گے ؟ اور جہاں وہ گریں گے وہیں گرو گے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا ط ” یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ہر معاشرے میں کلچر کے احیاء ‘ لوک ورثے کی حفاظت اور قومی روایات کے پروان چڑھانے کے نام پر کروڑوں روپے کے وسائل ضائع کردیے جاتے ہیں۔ اَوَلَوْ کَان الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْہُمْ اِلٰی عَذَاب السَّعِیْرِ ” اپنے آباء و اَجداد کے غلط طریقوں سے چمٹے رہنے کی یہ سوچ دراصل شیطانی گمراہی کے سبب ہے۔ چناچہ ایسی باتیں کر کے گویا وہ لوگ شیطان کی دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں اور شیطان کی دعوت تو گویا جہنم کے عذاب کی دعوت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 تقلید آباء کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بزرگوں میں سے کسی ایک نے کوئی غلطی کی۔ کوئی غلط عقیدہ اپنایا یا کوئی بدعی کام شروع کردیا۔ پھر بعد کی نسلوں نے بزرگوں سے عقیدت کی بنا پر اس غلطی کو درست تسلیم کرتے ہوئے رائج کرلیا۔ اور اس کی تحقیق کی کسی نے ضرورت ہی نہ سمجھی۔ اس آیت میں دو باتوں کی صراحت کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ تقلید آباء بلاتحقیق اور شیطان کی پیروی کی ایک ہی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شیطان کی پیروی کا لازمی نتیجہ جہنم کا عذاب ہے۔ گویا ان سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ اگر شیطان تمہارے آباء اجداد کو جہنم کی طرف لے جارہا ہو تو بھی تم اپنے آباء واجداد کی پیروی کرو گے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ یعنی اس قدر ان کی طبیعت میں ضدوفساد ہے کہ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل بھی محض اپنے گمراہ باپ دادوں کی روش پر چلے جارہے ہیں۔ اور وہ بھی جبکہ اس روش کے ناصواب ہونے پر انہیں صاف دلیل وبصیرت مل بھی چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–30

آیت نمبر 20 تا 30 ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نا اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (چلتے) پایا۔ یعنی ہم اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ جس (دین) پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اسی پر ہم چلیں گے۔ آیت میں اصول دین میں تقلید کی ممانعت ہے ( فروعی اجتہادی مسائل میں تقلید کی ممانعت نہیں ہے) ۔ اولو کان الشیطن یدعدھم الی عذاب السعیر . کیا اگر شیطان ان (کے باپ دادا) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو (تب بھی یہ لوگ باپ دادا کے پیچھے چلے جائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس وقت ان کفار مکہ سے کہا جاتا ہے کہ اس قرآن کریم کی پیروی کرو اور اس کو پڑھو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے کیا اگر شیطان ان کے آباؤ اجداد کو کفر و شرک کی طرف بلاتا رہا ہو جس سے دوزخ کا عذاب واجب ہوتا ہے تب بھی یہ ان ہی کی پیروی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر ﷺ کی ہدایت کے مقابلے میں اپنے جاہل اسلاف کو پیش کرتے ہیں، پھر اس سے بڑھ کر گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ مزید دیکھیے سورة بقرہ (170)۔ اَوَلَوْ كَان الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَاب السَّعِيْرِ : یعنی کیا اگر شیطان انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف دعوت دے رہا ہو تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کو دیں گے اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں گے کہ وہ انھیں کدھرلے جا رہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

ومن یسلم وجہہ الی اللہ جو اپنی عبادت اور ارادہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ وھو محسن کیونکہ عبادت احسان اور دل کی معرفت کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومن یعمل من الصلحات الخ (طہ : 112) حضرت جبریل امین کی حدیث میں ہے عرض کی : مجھے احسان کے بارے میں بتایئے ؟ فرمایا : ” تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گو یا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسا نہ ہو سکے تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے “ (2) ۔ فقداستمسک باالعروۃ الوثقی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عروہ وثقی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (3) ۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ حضرت علی شیر خدا، سلمی اور عبداللہ بن مسلم بن یسار نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–26

ظاہری اور باطنی نعمتیں 1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔ 2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ [اور جب کہا جاتا ہے ان لوگوں سے ] اتَّبِعُوْا [تم لوگ پیروی کرو ] مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ [اس کی جو نازل کیا اللہ نے ] قَالُوْا [تو وہ لوگ کہتے ہیں ] بَلْ نَتَّبِعُ [بلکہ ہم پیروی کرتے ہیں ] مَا [اس کی ] وَجَدْنَا [ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [جس پر ] اٰبَاۗءَنَا ۭ [اپنے باپ دادا کو ] اَوَلَوْ [اور کیا اگر ] كَانَ [ہو ] الشَّيْطٰنُ [شیطان (کہ)] يَدْعُوْهُمْ [وہ بلاتا ہو ان کو ] اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ [شعلوں والی آگ کے عذاب کی طرف ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ جس ذات پاک نے یہ نعمتیں دی ہیں صرف اسی کی عبادت کی جائے لیکن بعض لوگ توحید کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو معبود حقیقی ماننے کو تیار نہیں نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت ہے نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ کتاب ہے جس کی روشنی میں کوئی بات کرتے، محض باپ دادوں کی اندھی تقلید کر رکھی ہے۔ جب انہیں توحید کی دعوت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اس کا اتباع کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے جس دین پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کا اتباع کرتے رہیں گے ان لوگوں کی جہالت اور حماقت پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا (اَوَلَوْ کَان الشَّیْطٰنُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ واذا قیل الخ، یہ شکوہ ہے اور جب ان مشرکین سے کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نور ہدایت نازل فرمایا اس کی پیروی کرو اور اسے مان لو تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے دین پر ہی چلیں گے۔ اولو کان الشیطان الخ۔ اس کا معطوف علیہ مقدر ہے ای ایتبعونہم ولو کان الشیطان یدعوھم فیما ھم علیہ من الشرک الی عذاب السعیر (ابو السعود ج 6 ص 742) ۔ یہ مشرکین پر انکار و تعجب ہے یعنی اگرچہ شیطان ان کے باپ دادا کو شرک میں مبتلا کر کے جہنم کی طرف بلاتا رہا ہو تو کیا پھر بھی وہ انہی کے دین پر چلیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–24

ربط آیات : گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝ 0 ۭ اَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْہُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ۝ 21 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–22

ومن یسلم وجہ الی اللہ یہاں سے سلامت روی کا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے، ان کجرو وں کے مقابلہ میں کہ جو کوئی اللہ کے آگے اپنا منہ جھکاوے یعنی اس کا دل سے فرمانبردار ہوجاوے اور اس کے بعد اس دلی ارادت کے مطابق نیک کام بھی کرے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا، یعنی نجات کا بڑا قوی ذریعہ اس کے ہاتھ آگیا، جس طرح کوئی پستی سے بلندی کی طرف چڑھنے والا مستحکم رسی کو تھام کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ یہی حال اس کا ہے اور اس کا انجام اللہ اچھا کرے گا۔ بیچ میں رسی کو نہ ٹوٹنے دے گا، ہر چیز کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے یا یوں کہو ہر معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہوتا ہے، ومن کفر اور جو اس کے برخلاف ہوگا، کفر اختیار کرے گا۔ اے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاوَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَـآئَ نَا ط اَوَلَوْکَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (لقمان : 21) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا اس صورت میں بھی جبکہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو۔ ) بےدلیل مجادلہ کی مثال گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ لوگوں میں ایسے ہٹ دھرم لوگ بھی ہیں جو دلیل کی بات ماننے کی بجائے ایسی باتوں پر اصرار کرتے ہیں جن کا علم یا دلیل سے کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : انسان کا اپنے رب کے ساتھ جھگڑنے کا ایک انداز۔ انسان کا حقائق ٹھکرانے اور اپنے رب کے ساتھ جھگڑنے کا یہ بھی انداز ہے کہ جب اسے یہ بات کہی جاتی ہے کہ صرف اس کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں ہم تو اسی کی اتّباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے گویا کہ یہ اپنے آباء و اجداد کی رسومات کو دین سمجھتے ہیں۔ جس کے بارے میں سورة البقرہ آیت 171 میں یہ ارشاد ہوا کہ ” کیا ان کے باپ دادا دین کے بارے میں کوئی سمجھ اور رہنمائی نہ رکھتے تھے “ اس کے باوجود یہ ان کی پیروی کریں گے۔ ایسے کفار کی مثال تو اس شخص کی ہے جو شخص چِلّانے کی آواز کے سوا کچھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو) قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآ ئَ نَا (اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے وہ کہتے ہیں بلکہ ہم تو اسی کی اتباع کریں گے) ۔ اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی (جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ کیا اگر شیطان ان کو عذاب) عَذَابِ السَّعِیْرِ (دوزخ کی طرف) بلاتا ہو تب بھی ( یہ ان کی اتباع کریں گے) اگر شیطان ان کو عذاب نار کی طرف دعوت دیتا رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 21۔ ، واذاقیل لھم اتبعو ا ماانزل اللہ قالو ابل نتبع ماوجدنا علیہ آباء نااولوکان الشیطان یدعوھم الی عذاب السعیر، جواب لو مخدوف ہے اس کا معنی یہ ہے کہ تم اس کو پکارو اور اس کی اتباع کرو، یعنی شیطان کی پیروی کرو۔ اگرچہ شیطان تمہیں دعوت دیتا ہے بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–26

21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

آیت نمبر : 21 ۔ 20 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انہیں ان نعمتوں پر شکر کرنے ‘ ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (الم تروا) کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا ؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی ؟ (ان اللہ سخر لکم ما فی السموٰت) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج ‘ چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے اسے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ “ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔ (وما فی الارض) ” اور جو کچھ زمین میں ہے۔ “ یعنی تمام حیوانات ‘ درخت ‘ کھیتیاں ‘ دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–33

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

45 اپنی ذات کو اللہ کی حوالے کردینا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اپنی ذات اللہ کے حوالے کردے اس نے یقینا اپنے رب سے ملانے والی مضبوط رسی کو تھام لیا "۔ یعنی اپنی خواہش ومرضی ترک کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے تابع کر دے جس کی صحیح اور کامل صورت دین اسلام ہے کہ اسلام کے معنیٰ ہی " سپردن " اور " گردن نہادن " کے کئے گئے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا اور اپنی گردن اس کے آگے ڈال دینا۔ اور یہی ذریعہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنی ذات کو اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–30

اللہ کی ربوبیت کے کرشمے تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981؁ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–30

آیات 20 تا 30 کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔ ظاہری و باطنی نعمتیں : پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کو دیں گے ؟” یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر کی ہدایت کے مقابل ہمیں اپنے جاہل اسلاف کے عمل کو پیش کرتے ہیں پھر اس سے بڑھا کر گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ (دیکھیے بقرہ آیت 87 مائدہ آیت 104)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:21) اولو کان الشیطن یدعوہم الی عذاب السعیر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ای ایتبعونہ (کیا وہ پھر بھی پیروی کرتے رہیں گے) واؤ حالیہ ہے اور جملہ لوکان ۔۔ السعیر۔ جملہ حالیہ ہے۔ یعنی کیا وہ پھر بھی اس کی پیروی کرتے رہیں گے درآں حالیکہ وہ شیطان ان کو بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو۔ یدعوھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) اگر اس کا مرجع وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں بل نتبع ما وجدوا علیہ اباء نا تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان ان کو اپنے آباء و اجداد کے مذہب کی طرف مائل کرکے عذاب جہنم کی طرف لے جا رہا ہے۔ (2) اور اگر اس کا مرجع آباء ہے تو مطلب ہوگا کہ کیا اس حال میں بھی کہ شیطان ان کے آباء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–24

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24) اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔ استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کی کتاب پر چلنے کو کہاجاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ یہ ہم نہ کریں گے بلکہ ہم بتوں کی پیروی کریں گے جس کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو، مطلب یہ ہے کہ ان کے باپ دادا شیطان کے پیروکار اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں گے یہ عقل سے بہت بعید ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–21

پھر جب تمہیں نیکی اور وحدانیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ تو تم نہایت ہی نکمے پن سے بحث کرنے لگتے ہو جس میں نہ علم کی کوئی بات ہوتی ہے نہ عقل کی ۔ اور نہ تائید میں تم کسی الہام کو پیش کرسکتے ہو ۔ نہ روشن کتاب کو ۔ اور اس پر بھی تمہیں خیال ہے کہ تم صداقت پر ہو تم سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو صرف اللہ کے حکموں کو مانو ۔ اور سواما انزل اللہ کے اور کسی بات پر کان نہ دھرو ۔ مگر تم بدستور تقلید وجہالت کی الجھنوں میں پھنسے رہو اور یہی کہتے چلے جاتے ہو ۔ کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے مسلک کہ نہ چھوڑیں گے ۔ تو کیا تم نے طے کرلیا ہے کہ ہم بہرحال آباؤ اجداد کے مذہب ہی کی پیروی کریں گے ۔ چاہے وہ گمراہ ہوں اور ہم کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21۔ اور جب اس قسم کے جھگڑا لوافراد سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اس کی پیروی اور اتباع کرو تو یہ کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے۔ اور اس طریقہ کار کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے بھلا کیا اگر شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کیط رف بلاتا رہا ہو تب بھی یہ انہی کی پیروی کریں گے۔ یعنی جب کبھی ان کو ما انزل اللہ کی دعوت دی جاتی ہے تو انکار کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کو کورا نہ تقلید اور ان کے غلط راستوں کی پیروی کرنے پر اصرار کرتے ہیں یعنی دلیل کی طرف نہیں آتے اور بلا دلیل بڑوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ مطلب یہ کہ ایسے معاند ہیں کہ باوجود اس کے کہ ان کو دلیل کی طرف بلایا جاتا ہے، مگر پھر بھی بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل محض آباء ضالین کی راہ پر چلتے ہیں۔ 7۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی، مراد اسلام و توحید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

توحید الہی کی طرف بلایا جائے تو کہتے ہیں ہم وہی کریں گے جس پر ہم نے باپ دادا کو پایا : 21۔ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے اور باقی سب چیزوں کو چھوڑ دو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں انہی قوانین ‘ رسومات ‘ عقائد اور نظریات کی پیروی کریں گے اور اسی ضابطہ اخلاق پر قائم رہیں گے جن پر ہم نے اپنے بڑوں کو کار بند پایا ہے ان سے سرمو انحراف نہیں کریں گے کیا ان کی یہ بہکی بہکی باتیں شیطان کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ نہیں ؟ اس کی تو کوشش ہی یہ ہے کہ ان کو جہنم کا سیدھا راستہ بتا دے اور ان کی آنکھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–27

This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 That is, It is not at aII necessary that the forefathers of every person and every family and nation should have been on the right path. The mere argument that a particular way of life had been bequeathed by the elders cannot be a proof of its being right also. No sane person can commit the folly that he should blindly go on following the way of his forefathers even if they were not rightly guided, and should never bother to find out where the way is leading him."

Read the full tafseer →