Explained with ayahs 17–20
انعام و اکرام کی بارش
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 35
کسی چیز کو کسی کے لیے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز اس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے اور جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ دوسری یہ کہ اس چیز کو ایسے ضابطہ کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت اس شخص کے لیے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک ہی معنی میں مسخ نہیں کردیا ہے، بلکہ بعض چیزیں پہلے معنی میں مسخر کی ہیں اور بعض دوسرے معنی میں۔ مثلاً ہوا، پانی، مٹی، آگ، نباتات، معدنیات، مویشی وغیرہ بیشمار چیزیں پہلے معنی میں ہمارے لیے مسخر ہیں، اور چاند،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 20۔ 34
لقمان کی نصیحت میں سرفہرست اللہ واحد کی شکر گزاری کی تلقین ہے۔ اب آگے یہ بتایا جا رہا ہے کہ کیوں اللہ ہی شکر کا سزاوار ہے۔ آفاق وانفس میں اس کے دلائل کیا ہیں ؟ ساتھ ہی نبی ﷺ کو صبرو استقامات کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ اپنے مخالفین کے معاملے کو اب ہمارے اوپر چھوڑ دو ، ہم ہی انکا فیصلہ کریں گے۔ یہ لوگ نشانیوں کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کی پروانہ کرو۔ اللہ کی اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ اگر زمین کے سارے درخت قلم اور سمندر، مزید سات سمندروں کے اضافہ کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی اس کی نشانیوں کو قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ یہ عہد شکن اور غدار لوگ ہیں۔ جب یہ کسی پکڑ میں…
Read the full tafseer →20-1تسخیر کا مطلب ہے انتفاع (فائدہ اٹھانا) جس کو ' یہاں کام سے لگا دیا ' سے تعبیر کیا گیا ہے جیسے آسمانی مخلوقْ ، چاند، سورج، ستارے وغیرہ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ضابطوں کا پابند بنادیا ہے کہ یہ انسانوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور انسان ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ دوسرا مطلب تسخیر کا تابع بنادینا ہے۔ چناچہ بہت سی زمینی مخلوق کو انسان کے تابع بنادیا گیا ہے جنہیں انسان اپنی حسب منشا استعمال کرتا ہے جیسے زمین اور حیوانات وغیرہ ہیں، گویا تسخیر کا مفہوم یہ ہوا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں، چاہے وہ انسان کے تابع اور اس کے زیر اثر تصرف ہوں یا اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
13: حضرت لقمان کی بنیادی نصیحت میں توحید پر جو زور دیا گیا تھا، اب اس کے وہ دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، اور انسان ذرا غور کرے تو ان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے سوا کوئی اور نتیجہ معقولیت کے ساتھ نہیں نکالا جاسکتا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 186 تشریح آیات
20 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 34
یہ اس سورة کا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اس کا آغاز تکوینی دلیل کے بیان سے ہوتا ہے جس کا تعلق لوگوں سے اور ان کی زندگی کی سہولیات و مفادات سے ہے کہ اللہ نے ان پر کیا کیا انعامات کیے ، جو ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی ہیں ، جن سے وہ رات اور دن فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے باوجود انہیں شرم نہیں آتی کہ وہ ایسے منعم ، فضل و کرم کرنے والے ، داتا کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس کے بعد وہی مسئلہ توحید بیان ہوتا ہے جو اس سے قبل دونوں اسفار میں بیان ہوا۔
الم تروا ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ الی عذاب السعیر (20 – 21)
” ۔
یہ وہ نظارہ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں۔ جسے قرآن کریم بار بار نقل کرتا…
Read the full tafseer →8 یعنی آسمان و زمین کی کل مخلوق تمہارے کام میں لگا دی ہے، پھر تم اس کے کام میں کیوں نہیں لگتے۔
9 کھلی نعمتیں وہ جو حواس سے مدرک ہوں یا بےتکلف سمجھ میں آجائیں چھپی وہ عقلی غور فکر سے دریافت کی جائیں۔ یا ظاہری مادی و معاشی اور باطنی سے روحانی و معادی نعمتیں مراد ہوں۔ گویا پیغمبر بھیجنا کتاب اتارنا، نیکی کی تو فیق دینا، سب باطنی نعمتیں ہوں گی۔ واللہ اعلم۔
10 یعنی ایسے کھلے ہوئے انعام و احسان کے باوجود بعض لوگ آنکھیں بند کر کے اللہ کی وحدانیت میں یا اس کی شؤون وصفات میں یا اس کے احکام و شرائع میں جھگڑتے ہیں اور محض بےسند جھگڑتے ہیں۔ نہ کوئی علمی اور عقلی اصول ان کے پاس ہے نہ کسی ہادی برحق کی…
Read the full tafseer →آیت 20 اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ”
تم لوگ غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی ساری مخلوق کو تمہاری خدمت کرنے اور تمہیں سہولیات بہم پہنچانے پر مامور کردیا ہے۔ مثلاً سورج کو دیکھو جو تمہارے لیے تمازت اور روشنی مہیا کرتا ہے۔ اسی سے ہواؤں اور بارشوں کا نظام ترتیب پاتا ہے اور زمین پر فصلوں اور پھلوں کی پرورش ممکن ہوتی ہے۔ زمین کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے ایک بچھونے کی طرح بچھا کر تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور یوں تمہاری تمام ضرورتیں پوری کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً…
Read the full tafseer →26 تسخیر کائنات کے دو مطلب ہیں ایک کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے۔ زمین، سمندر، پانی، ہوائیں، پہاڑ، چاند، سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیائے کائنات گنی جاتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر انسان کے بغیر ان چیزوں میں سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ اور اس کا دورا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہو یا نباتات ہو یا حیوانات ہوں اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرما دی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے اپنے قابو میں لاسکتا ہے اور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہیں وہ…
Read the full tafseer →20۔ (اور وہ تکوینی نعمتیں، ہوا، آگ روشنی، پانی، صحت غذا، مکان، لباس وغیرہا، مومن و کافر ساری مخلوق بشری کے لیے عام ہیں) (آیت) ” ظاھرۃ “۔ وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک حواس سے ہوسکے ؛۔ (آیت) ” باطنۃ “۔ وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک عقل سے ہوسکے۔ (آیت) ” سخر ...... الارض “۔ اس میں تعریض ہے مشرک اور جاہلی قوموں پر، کہ اللہ کی ساری مخلوق تو خود تمہاری خدمت کے لیے، یہ آسمان اور یہ زمین، یہ چاند، یہ سورج، سب ہی، پھر یہ تم پر کیا شامت سوار ہے کہ تم الٹے انہیں کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہو۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
21۔ یعنی اس جدال بےجا کی بنیاد نہ کسی علم صحیح پر ہے نہ کسی استدلال عقلی پر نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →الم تروا ان اللہ سخر لکم ما فی السموت وما فی الارض . کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو کچھ
آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے کام پر لگا رکھا ہے۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِیعنی اللہ نے تمہارے کام پر چاند ‘ سورج اور ستاروں اور پہاڑوں کو لگا دیا ہے۔ وَمَا فِی الْاَرْضِاور زمین میں جو کچھ ہے اس کو بھی تمہارے کام پر لگا دیا ہے۔ موجودات ارضی سے مراد ہیں کانیں ‘ نباتات اور حیوانات ان سب کو اللہ نے براہ راست یا بالواسطہ انسانوں کے کام پر لگا دیا ہے یعنی انسانوں کو یہ قدرت عطا فرما دی ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان سے فائدہ اندوز ہوں۔
واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ . اور اس نے اپنی…
Read the full tafseer →کیا تم لوگوں کو قرآن کریم کے ذریعے یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، ستارے، بادل و بارش درخت اور جانور تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں یعنی توحید و معرفت عطا کر رکھی ہے اور کہا گیا کہ ظاہری نعمتیں تمہاری وہ نیکیاں ہیں جن کا دوسروں کو علم ہو اور باطنی تمہاری وہ برائیاں ہیں جو لوگوں کے علم میں نہ آسکیں یا یہ کہ ظاہری تو کھانے پینے کی چیزیں اور مال و دولت ہے اور باطنی نعمتیں پھل اور نباتات، بارش، پانی وغیرہ ہے یا یہ کہ ظاہری سے مراد وہ نعمتیں کہ جس سے تمہیں عزت حاصل ہو اور باطنی سے مراد وہ جس کے ذریعے تمہاری…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : ”اَلَمْ تَرَوْا“ کا معنی ”اَلَمْ تَعْلَمُوْا“ (کیا تم نے جانا) ہے، کیونکہ انسان نے آسمان و زمین کی ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے اپنی خاطر مسخر شدہ نہیں دیکھا، مگر اس کے لیے دیکھنے کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ یہ بات اتنی واضح ہے جیسے آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے۔ (بقاعی) ”سخر لکم“ میں لام انتفاع کا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمہاری خاطر مسخر کردیا“ کیونکہ چند چیزیں اگر انسان کے کسی حد تک تابع فرمان ہیں، جیسے چوپائے وغیرہ کہ انسان ان سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن پر…
Read the full tafseer →آیت : الم ترو ان اللہ الخ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسانوں پر کی ہیں اور یہ کہ اس ذات پاک نے انسانوں کے لیے ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جیسے سورج، چاند، ستارے اور فرشتے جو ان کی نگہداشت کرتے ہیں اور ان کے منافع ان کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں۔
وما فی الارض یہ پہاڑوں، درختوں، پھلوں اور جن چیزوں کو شمار نہیں کیا جاسکتا ان سب کو شامل ہے۔ واسبغ علیکم نعمہ اس نے تم پر اپنی نعمتوں کو مکمل کیا۔ حضرت ابن عباس اور یحییٰ بن عمارہ نے سین کے بجائے صاد سے پڑھا ہے، کیونکہ حروف مستعلیہ سین کو اس کی پستی سے اس کی بلندی کی طرف کھینچتے ہیں اور اسے صاد کی طرف لو ٹا دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ظاہری اور باطنی نعمتیں
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَوْا [کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ نے ] سَخَّرَ لَكُمْ [مسخر کیا تمہارے لئے ] مَّا فِي السَّمٰوٰتِ [اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [اور اس کو جو زمین میں ہے ] وَاَسْبَغَ [اور اس نے تمام کیں ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] نِعَمَهٗ [اپنی نعمتیں ] ظَاهِرَةً [ظاہری ہوتے ہوئے ] وَّبَاطِنَةً ۭ [اور باطنی ہوتے ہوئے ] وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو ] يُّجَادِلُ [مناظرہ کرتے ہیں ] فِي اللّٰهِ [اللہ (کے بارے) میں ] بِغَيْرِ عِلْمٍ [کی علم کے بغیر ] وَّلَا هُدًى [اور نہ کسی ہدایت سے ] وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ [اور نہ کسی روشن کتاب سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھرپور ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، منکرین آباء و اجداد کی تقلید میں گمراہ ہوئے، اہل ایمان نے مضبوط کڑے کو پکڑ رکھا ہے
حضرت لقمان کی نصائح کا تذکرہ ختم کرنے کے بعد پھر توحید کا مضمون شروع فرمایا۔ ارشاد فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر فرما دیا جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں آسمانوں و زمین میں پیدا فرمائی ہیں انہیں تمہارے کام میں لگا دیا ہے، ان میں بعض چیزیں تو وہ ہیں جو انسان کے حکم کے تابع ہیں اور جو تابع نہیں ہیں وہ بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں، ان کا وجود کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →19:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے کاموں میں لگا دیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں بتمام و کمال تمہیں عطاء فرمائی ہیں ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور وہی عبادت اور پکار کے لائق ہے اور کوئی نہیں۔
20:۔ ومن الناس الخ، یہ معاندین پر زجر ہے یعنی ہم تو مسئلہ توحید کو عقل و نقل کے دلائل واضحہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن لوگ ماننے کے بجائے الٹا توحید میں مجادلہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ عقل و نقل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ربط آیات :
گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 12
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً 0 ۭ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ 20
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَلَـکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً ط وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ (لقمان : 20)
(کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اس نے تمام کردی ہیں تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں، پھر بھی لوگوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم، ہدایت اور کتاب منیر کے جھگڑا کرتے ہیں۔ )
توحید اور شکر پر دلائلِ آفاق سے استدلال
گزشتہ آیات میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی وصیتوں میں سر فہرست وصیت ” اللہ “ کی توحید ہے۔ توحید سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غوکرے۔
کیا انسان اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو ان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں کہ ان کا شکر ادا کرنا تو درکنار انہیں شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ انسان اپنے رب کی شکر گزاری اور تابعداری کرنے کی بجائے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ کافر اپنے رب کی ذات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بناکر جھگڑا کرتا ہے۔ اگر ان کو سمجھایا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →دلائل قدرت :
20: اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ (کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام آسمان کی چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے) یعنی سورج، چاند، ستارے ‘ بادل وغیرہ مراد ہیں۔ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور جو کچھ زمین میں ہے) وہ بھی یعنی سمندر، دریا، کانیں، چوپائے وغیرہ۔ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ (اور اس نے پوری کر رکھی ہیں تم پر) نِعَمَہُ (اپنی نعمتیں)
قراءت : نِعَمَہٗ ، مدنی، ابوعمرو، سہل، حفص نے عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ نِعْمَہٗ دیگر قراء نے سکون عین سے پڑھا ہے۔
تعریف ِنعمت :
ہر وہ فائدہ جس سے احسان کا ارادہ کیا جائے۔
ظَاھِرَۃً (ظاہر ی) جو…
Read the full tafseer →20، الم تروا ان اللہ سخرلکم مافی السموات ومافی الارض واسبغ علیکم ، اس نے اپنی نعمتیں تمہیں پوری دے رکھی ہیں ۔ ، نعمہ، قراء اہل مدینہ ابوعمرو حفص نے ، نعمہ، عین کے فتحہ اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ جمع پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے اس کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورتحال میں یہ واحد ہوگا لیکن معنی جمع والاہوگا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ ، وان تعدوانعمت اللہ لاتحصوھا،
نعمت ظاہرہ اور باطنہ کی تفسیر
، ظاھرۃ وباطنۃ، عکرمہ نے ابن عباس ؓ کا قول کیا ہے کہ نعمت ظاہرہ سے مراد اسلام قرآن اور باطنۃ سے مراد جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے عیوب پر پر دہ ڈالا ہے اور اس پر جلدی پکڑ نہیں کرتا۔ ضحاک کا قول ہے کہ ظاہرہ سے مراد حسن…
Read the full tafseer →20۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہر اور باطن نعمتوں کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بہت سے قول لکھے ہیں اور اس مقام پر جس قدر کثرت سے قول علماء مفسرین نے لکھے ہیں وہ بجا بھی ہیں کیونکہ انسان پر اللہ کی جو نعمتیں ہیں انکا کچھ حد و حساب ہی نہیں پھر جس طرح بےحدو حساب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اسی طرح بےحد و حساب ان نعمتوں کی تفسیر بھی ہے اسی واسطے جو اللہ تعالیٰ نے سورة ابراہیم ( علیہ السلام) میں اپنی نعمتوں کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا جس کے حاصل معنے یہ ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار انسان اگر اللہ کی نعمتوں کی فقط گنتی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر : 21 ۔ 20
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انہیں ان نعمتوں پر شکر کرنے ‘ ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (الم تروا) کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا ؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی ؟ (ان اللہ سخر لکم ما فی السموٰت) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج ‘ چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے اسے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ “ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔ (وما فی الارض) ” اور جو کچھ زمین میں ہے۔ “ یعنی تمام حیوانات ‘ درخت ‘ کھیتیاں ‘ دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے جیسا کہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →39 شکر خداوندی کے آفاقی دلائل میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے کام میں لگا دیا آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو "۔ اس تسخیر ۔ کام میں لگانے ۔ کی آگے پھر دو صورتیں ہیں۔ کیونکہ کائنات کی یہ تمام چیزیں دو قسم پر ہیں۔ ایک قسم کی چیزیں تو وہ ہیں جو انسان کے ارادے اور اس کی مرضی کے تابع کردی گئیں۔ جیسے اس کی ملکیت کی جملہ اشیاء کہ وہ ان میں جس طرح چاہے تصرف کرتا ہے۔ اور دوسری قسم کی اشیاء وہ ہیں جو انسان کے ارادہ ومرضی کے تابع تو نہیں مگر وہ کام اسی کے نفع اور فائدے کے لئے کر رہی ہیں۔ جیسے سورج، چاند اور زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 5 بعض چہروں کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا کہ وہ خود ہی تمہارے مفاد اور خدمت کے کام کر رہی ہیں، جیسے سورج، چاند، ساترے بلکہ فرشتے بھی جو تمہارے حفاظت کرتے ہیں اور بعض کو تمہارے اختیار میں دے دیا کہ ان میں سے جس سے چاہو اور جیسے چاہو فائدہ اٹھائو جیسے جانور زمین اور اس کی تمام چیزیں بہرحال تسخیر کے معنی یہ ہیں کہ تم ان سے مستفید و متمتع ہو رہے ہو۔ ان چیزوں کا انسان کے زیر تصرف ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ تسخیر کے مفہوم سے خارج ہے۔ (شوکانی)6 کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جنہیں آدمی اپنی عقل یا جو اس سے جانتا اور محسوس کرتا ہے اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے علم و احساس سے…
Read the full tafseer →(31:20) الم تروا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ لم تروا مضارع نفی جحد بلم۔ کیا تم نے نہیں دیکھا۔
سخر۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے تابع کردیا۔ اس نے کام میں لگا دیا۔ کسی چیز کو جبرا وقہرا کسی خاص مقصد کے لئے مصروف کردینے کو تسخیر کہتے ہیں ۔ جیسے کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون (22:36) ہم نے یوں ان (جانوروں) کو تمہارے بس میں کردیا ہے۔ سخر تسخیر (تفعیل) مصدر۔ مسخر وہ ہے جسے کسی کام پر مجبور کرکے لگایا جائے۔ سخر مادہ۔ لیکن اسی مادہ سے باب سمع (سحر یسخر) سے ٹھٹھا کرنا کے معنی میں آتا ہے جیسے ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون (11:38) اگر (آج) تم ہم پر ہنستے ہو تو جس طرح تم (ہم پر) ہنستے ہو (اسی طرح) ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24)
اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔
استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج ، چاند، مینہ، زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، اس پر بھی بعض ناشکر لوگ ایسے ہیں کہ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت اور بغیرروشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔
Read the full tafseer →[11] یعنی انسان کا مطیع و فرماں بردار کر رکھا ہے۔ یہ اطاعت و فرماں برداری دو معنوں میں ہے، بلاواسطہ اور بالواسطہ۔ بعض چیزیں براہ راست انسان کے اختیار میں دے دی گئی ہیں کہ جس طرح چاہے ان سے کام لے مثلاً آگ، پانی، ہوا، مٹی، معدنیات، مویشی وغیرہ۔ یہ اطاعت پہلے معنی میں ہے۔ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ضوابط کا پابند کردیا ہے جس کی بدولت وہ انسان کے لئے نافع ہیں اگرچہ وہ انسان کے بس میں نہیں ہیں۔ مثلاً چاند، سورج، ستارے وغیرہ۔ ان چیزوں کی اطاعت دوسرے معنی میں ہے۔
[21] یعنی اللہ کی ذات وصفات اور اس کے مخلوق سے تعلقات کے بارے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
پھر جب تمہیں نیکی اور وحدانیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ تو تم نہایت ہی نکمے پن سے بحث کرنے لگتے ہو جس میں نہ علم کی کوئی بات ہوتی ہے نہ عقل کی ۔ اور نہ تائید میں تم کسی الہام کو پیش کرسکتے ہو ۔ نہ روشن کتاب کو ۔ اور اس پر بھی تمہیں خیال ہے کہ تم صداقت پر ہو تم سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو صرف اللہ کے حکموں کو مانو ۔ اور سواما انزل اللہ کے اور کسی بات پر کان نہ دھرو ۔ مگر تم بدستور تقلید وجہالت کی الجھنوں میں پھنسے رہو اور یہی کہتے چلے جاتے ہو ۔ کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے مسلک کہ نہ چھوڑیں گے ۔ تو کیا تم نے طے کرلیا ہے کہ ہم بہرحال آباؤ اجداد کے مذہب ہی کی پیروی کریں گے ۔ چاہے وہ گمراہ ہوں اور ہم کو…
Read the full tafseer →20۔ کیا تم لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی اور تم نے یہ بات نہیں دیکھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہارے لئے ان سب چیزوں کو مسخر کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنی تمام ظاہری و باطنی نعمتیں پوری کر رکھی ہیں اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدوں کسی واقفیت اور بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔ یعنی آسمان میں سورج اور چاند اور سیارے یعنی پورا نظام شمسی جس کی تسخیر پر مخلوق کی زندگی کا دارومدار ہے اور زمین کی چیزیں مویشی اور زمین کی کھیتی باڑی ، دریا ، پہاڑ ، غرض…
Read the full tafseer →ف 5۔ ظاہری وہ کہ حواس سے مدرک ہوں اور باطنی وہ جو عقل سے مدرک ہوں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات وارض پر مرتب ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →وہ کون ہے جس نے انسان کے لئے اس کائنات کی ہر ایک چیز مسخر کردی ہے ؟ ۔
20۔ منکرین کے لئے اب تکوینی دلائل پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ توحید الہی پر غور کریں اور اس کے لئے انداز ایسا دل نشین اختیار کیا گیا ہے جس سے انسان کی تفہیم ہو سکے اس کائنات کی ایک ایک چیز کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جس کام پر لگا دیا ہے وہ اسی پر لگی ہوئی ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہ نہیں رکتی مسلسل اپنا کام کیے چلی جا رہی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے کسی چیز کو ارادہ اور اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے رک جائے ارادہ اور اختیار صرف اور صرف انسان کو دیا گیا اور یہی وہ شاہکار خداوندی ہے جو اپنی مرضی کرجاتا…
Read the full tafseer →Commentary
At the beginning of the Surah, the Kafirs and the Mushriks were admonished for still persisting with their Kufr and Shirk despite that they had seen the manifestations of the all-encompassing knowledge and the most perfect power of Allah Ta’ ala. And in contrast to their condition, obedient believers were praised and mention was made of their good end. In between, the description of the bequests (wasaya of Luqman, peace on him, was in a way a complement of the same subject. In the verses cited above, the text reverts to the subjects of Allah Ta’ ala's all-encompassing knowledge and…
Read the full tafseer →35 A thing can be subjected to somebody in two ways: (11 The thing may be made subordinate to him and he may be authorised to use and exploit it as he likes, and 12) the thing may be subjected to a law and system so that it becomes useful for him and serves his interests accordingly. AIIah has not subjected everything in the earth and heavens to man in one and the same sense, but has subjected certain things in the first sense and certain others in the second sense. For example, He has subjected the air, water, earth, fire, vegetation, minerals, cattle and many other things in the first…
Read the full tafseer →