Luqman 31:19

Luqman · from ayah 19

31:19

وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ؕ— اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ ۟۠وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And be moderate in your pace and lower your voice; indeed, the most disagreeable of sounds is the voice of donkeys."

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:19

اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز آہستہ رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کر، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بیشک سب آوازوں سے بری یقینا گدھوں کی آواز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست کرو۔ بلاشبہ سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ۔ بیشک سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میانہ روی ہی کو اپنائے رکھنا اپنائے رکھنا اپنی چال (ڈھال) میں اور کسی قدر پست رکھنا اپنی آواز کو کہ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اورا پنی آواز کو پست رکھ بیشک سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو یقیناً سب سے ناپسندیدہ آواز گدھے کی آواز ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنی چال میں اعتدال کیے رہنا اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا کیونکہ اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے بری آواز گدھوں کی ہے“

— محترمہ رفعت اعجاز

Be moderate in your stride and lower your voice. Verily the most disgusting of all voices is the braying of the donkey.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and be moderate in your walk, and lower your voice. Surely, the ugliest of voices is the voice of the donkeys.

— Muhammad Taqi Usmani

and be moderate in your walk, and lower your voice. Surely, the ugliest of voices is the voice of the donkeys.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And be moderate in your walking, and lower your voice. Verily, the harshest of all voices is the braying of the asses."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Be modest in thy bearing and subdue thy voice. Lo! the harshest of all voices is the voice of the ass.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And be moderate in your pace and lower your voice; indeed, the most disagreeable of sounds is the voice of donkeys."

— Saheeh International

Be moderate in your walking and your talking. The most unpleasant sound is the braying of donkeys."

— Muhammad Sarwar

And pursue the right course in your going about and lower your voice; surely the most hateful of voices is braying of the asses.

— Muhammad Habib Shakir

And be modest in thy gait and lower thy voice; verily the most abominable of voices is the voice of the ass.

— Abdul Majid Daryabadi

"And be moderate in thy pace, and lower thy voice; for the harshest of sounds without doubt is the braying of the ass."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–20

انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 33 بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ " تیز بھی نہ چل اور آہستہ بھی نہ چل، بلکہ میانہ روی اختیار کر " لیکن سیاق کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رفتار کی تیزی و سستی زیر بحث نہیں ہے۔ آہستہ چلنا یا تیز چلنا اپنے اندر کوئی اخلاقی حسن و قبح نہیں رکھتا اور نہ اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کو جلدی کا کوئی کام ہو تو تیز کیوں نہ چلے۔ اور اگر وہ محض تفریحاً چل رہا ہو تو آخر آہستہ چلنے میں کیا قباحت ہے میانہ روی کا اگر کوئی معیار ہو بھی تو ہر حالت میں ہر شخص کے لیے اسے ایک قاعدۂ کلیہ کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ دراصل جو چیز یہاں مقصود ہے وہ تو نفس کی اس کیفیت کی اصلاح ہے جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) واقصد فی مشیک، یعنی اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو، نہ بہت دوڑ بھاگ کر چلو کہ وہ وقار کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ چلنے میں بہت جلدی کرنا مومن کی رونق ضائع کردیتا ہے۔ (جامع صغیر عن ابی ہریرہ) اور اس طرح چلنے میں خود اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو تکلیف بھی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے، اور نہ بہت آہستہ چلو، جو یا تو ان تکبر اور تصنع کرنے والوں کی عادت ہے جو لوگوں پر اپنا امتیاز جتانا چاہتے ہیں، یا عورتوں کی عادت ہے جو شرم وحیا کی وجہ سے تیز نہیں چلتیں، یا پھر بیماروں کی عادت ہے جو اس پر مجبور ہیں۔ پہلی صورت حرام اور دوسری بھی اگر عورتوں کی مشابہت پیدا کرنے کے قصد سے ہو تو ناجائز ہے اور یہ قصد نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ط ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (19) اوپر کی باتیں نہی کے اسلوب میں ہیں۔ اب یہ اسی تواضع و فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی ہے کہ اپنی چال پر اکڑ کے بجائے فروتنی و تواضع اور اپنی آواز میں کرختگی اور خشونت کی جگہ نرمی اور لینت پیدا کرو۔ ’ من ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جب خالق نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر نہیں پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس کو وہ پست بھی کرسکتا ہے اور بلند بھی تو موقع و محل کے مطابق وہ اس صلاحیت کو استعمال کرے، گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے ہی کی کوشش نہ کرو، ’ ان انکرالا صوات لصوت الحمیر ‘ کا ٹکڑا یہاں کرخت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19-1یعنی چال اتنی سست نہ ہو جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف و وقار کے خلاف ہو۔ اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا (يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا) 25۔ الفرقان :63) اللہ کے بندے زمین پر وقار اور سکونت کے ساتھ چلتے ہیں۔ 19-2یعنی چیخ یا چلا کر بات نہ کر، اس لئے کہ زیادہ اونچی آواز سے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی لیکن ایسا نہیں، بلکہ گدھے کی آواز سب سے بدتر اور بری ہے۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ ' گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو (بخاری، کتاب بدء الخلق اور مسلم وغیرہ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: یعنی انسان کو درمیانی رفتار سے چلنا چاہیے، رفتار نہ اتنی تیز ہو کہ بھاگنے کے قریب پہنچ جائے اور نہ اتنی آہستہ کہ سستی میں داخل ہوجائے، یہاں تک کہ جب کوئی شخص جماعت سے نماز پڑھنے جارہا ہو تو اس کو بھی آنحضرت ﷺ نے بھاگنے سے منع فرما کر وقار اور سکون کے ساتھ چلنے کی تاکید فرمائی ہے۔ 12: آواز آہستہ رکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان اتنا آہستہ بولے کہ سننے والے کو دقت پیش آئے، بلکہ مراد یہ ہے کہ جن کو سنانا مقصود ہے ان تک تو آواز وضاحت کے ساتھ پہنچ جائے، لیکن اس سے زیادہ چیخ چیخ کر بولنا اسلامی آداب کے خلاف ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص درس دے رہا ہو، یا وعظ کررہا ہو تو اس کی آواز اتنی ہی بلند ہونی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–19

ولا تصعر خدک ۔۔۔۔۔ لصوت الحمیر (18 – 19) صعر ایک بیماری ہے جب اونٹ کو لگ جاتی ہے تو وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرلیتا ہے۔ قرآن کریم مغرور شخص کے فعل کو صعر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس سے لوگوں کو متنفر کرنا چاہتا ہے۔ کبر اور سرتابی کے عمل کو صعر کہا گیا یعنی اپنے رخساروں کو لوگوں سے کبر و غرور کی وجہ سے پھیر دینا۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کے معنی ہیں غرور اور استکبار کے ساتھ چلنا۔ بھولا ہوا اور لوگوں کو کچھ نہ سمجھنے والا ، یہ ایسی حرکت ہے جسے اللہ بھی مکروہ سمجھتا ہے اور لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے بارے میں اونچا خیال رکھتا ہے اور اپنی رفتار میں اس کا اظہار کرتا ہے۔ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تواضع، متانت اور میانہ روی کی چال اختیار کر، بےضرورت مت بول، کلام کرتے وقت حد سے زیادہ نہ چلا، اگر اونچی آواز سے بولنا ہی کوئی کمال ہوتا تو گدھے کی آواز پر خیال کرو، وہ بہت زور سے آواز نکالتا ہے مگر کس قدر کریہہ و کرخت ہوتی ہے۔ بہت زور سے بولنے میں بسا اوقات آدمی کی آواز بھی ایسی ہی بےڈھنگی اور بےسری ہوجاتی ہے۔ (ربط) لقمان کا کلام یہاں تک تمام ہوا۔ آگے پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے یعنی حق تعالیٰ کی عظمت و جلال اور احسان و انعام یاد دلا کر توحید وغیرہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ ” یہ میانہ روی اقتصاد صرف ظاہری چال ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی مجموعی ”چال“ میں بھی مطلوب ہے۔ خصوصی طور پر قرآن میں معیشت کی میانہ روی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ مثلاً سورة الفرقان میں بندۂ مومن کی پختہ mature اور متوازن شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے : وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ ”اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کا معاملہ اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے۔“ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ ط ” خصوصی طور پر کسی بحث و تمحیص کے دوران…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 بعض دفعہ ضرورت کی وجہ سے انسان کو بلند آواز سے پکارنا پڑتا ہے۔ مثلاً دو چار آدمی آس پاس بیٹھے ہوں تو پست آواز سے کام چل جاتا ہے۔ مگر زیادہ آدمیوں کو بات سنانا مقصود ہو یا کوئی شخص خطاب کر رہا ہو اذان دیتے وقت انسان کو بلند آواز نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پست آواز سے کام ہی نہیں چلتا۔ ایسے مواقع پر بلند آواز سے بات کرنا یا خطاب کرنا ہرگز مذموم نہیں ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ استاد کو اپنے شاگرد کو سرزنش کرنے یا ڈانٹنے کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بھی اگر وہ آواز پست اور نرم لہجہ رکھے گا تو شاگرد پر خاک بھی اثر نہ ہوگا۔ مذموم چیز یہ ہے کہ کوئی شخص از راہ تکبر دوسروں پر دھونس جمانے اور انھیں ذلیل یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (سوانسان کو چاہیے کہ گدھوں کی طرح چیخنے چلانے نہ لگ جائے) سارے پندو موعظت کا خلاصہ یہ نکلا کہ چلا ڈھال، بول چال، رفتا وآواز، غرض ہر چیز میں انسان کو متکبرین کی روش سے بچنا چاہیے۔ اخلاق وآداب کے جزئیات تک کی تعلیم ہماری شریعت دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واقصد فی مشیک . اور اپنی چال درمیانی رکھو۔ یعنی نہ رینگتے چلو کہ یہ غرور کی علامت ہے اور اہل غرور کی چال ہے ‘ نہ بہت لپک کر چلو کہ یہ چھچھو وں کی چال ہے ‘ وقار کو زائل کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرعت رفتار مؤمن کے وقار کو زائل کردیتی ہے۔ اخرجہ ابن عدی و ابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ہریرہ (واخرجہ ابن عدی من حدیث ابی سعید وابن عمر) ۔ جس تیز رفتاری کی ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد وہ سرعت رفتار ہے جو طبعی چال سے بڑھ کر کوشش کر کے اختیار کی جائے۔ معمولی تیز رفتار جس کی عادت ہو وہ تو مستحب ہے۔ ابن سعد نے حضرت یزید بن مرچد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ جب چلتے تھے تو اتنی تیزی سے چلتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اپنی رفتار میں میانہ روی اور تواضع اختیار کرو اور اپنی آواز کو نیچا کرو۔ کیونکہ آوازوں میں سب سے بری اور بدترین آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ : اکڑ کر چلنے سے منع کیا تو ممکن تھا کہ اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی انتہائی کمزور اور مریل چال اختیار کرتا، اس لیے چال میں میانہ روی کا حکم دیا، جس سے نہ تکبر کا اظہار ہوتا ہو نہ کمزوری کا۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (63)۔ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت اونچی آواز سے نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ یہ وقار کے خلاف ہے اور چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔ بولتے وقت اپنی آواز کسی قدر پست رکھنی چاہیے، نہ اتنی کہ سننے والے سن یا سمجھ ہی نہ سکیں۔ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ واقصد فی مشیک جب مذموم اخلاق سے منع کیا تو اخلاق کریمہ کو آپ کے لیے بیان کیا جن اخلاق کریمہ کو اپنانا چاہیے۔ فرمایا : واقصد فی مشیک اس میں میانہ روی اپنائو۔ قصد سے مراد تیزی اور سستی کی درمیانی حالت ہے بعض مرنے کا بہانہ کرنے والوں کے چلنے کی طرح رینگ رینگ کر نہ چلو اور چالاکوں کی طرح اچھل اچھل کر نہ چلو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تیز رفتاری مومن کے رعب کو ختم کردیتی ہے “ (2) ۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے کہ حضور ﷺ جب چلا کرتے تو تیز چلا کرتے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا حضرت عمر ؓ کے بارے میں قول : جب حضرت عمر ؓ چلتے تو تیز چلتے تو اس سے مراد وہ تیزی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–19

کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں 1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاقْصِدْ [اور تو میانہ روی اختیار کر ] فِيْ مَشْيِكَ [اپنی چال میں ] وَاغْضُضْ [اور تو پست رکھ ] مِنْ صَوْتِكَ ۭ [اپنی آواز میں سے ] اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ [بیشک آوازوں کی بدترین ] لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ [یقینا گدھوں کی آواز ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 19 ۔ میں ہے کہ چال میں میانہ روی اختیار کرو۔ سباق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چلنے کی تیز یا سست رفتار پر بحث نہیں ہے۔ آدمی کو جلدی کا کوئی کام ہو تو تیز کیوں نہ چلے۔ اور اگر وہ محض تفریحاً چل رہا ہے تو آہستہ چلنے میں کیا قباحت ہے۔ دراصل جو چیز یہاں مقصود ہے وہ نفس کی اس کیفیت کی اصلاح ہے جس کے اثر سے چال میں اکڑ یا مسکینی کا ظہور ہوتا ہے دولت،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آواز کو پست کرنے کا حکم حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اپنی آواز کو پست کرو یعنی شور نہ کرو اور ضرورت سے زیادہ بلند آواز نہ نکالو، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ آوازوں میں سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھوں کی آواز ہے جس طرح گدھوں کی آواز سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کے چیخنے اور چلانے سے بھی وحشت اور اذیت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ واقصد الخ، چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز بھی قدرے پست رکھ کیونکہ سب سے قبیح اور کریہہ آواز گدھوں کی آواز ہے۔ گویا بلند اور کریہہ آواز سے گفتگو کرنا آداب کلام اور حسن معاشرت کے خلاف ہے۔ ان ان کر الاصوات الخ، جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو افعال و اقوال میں میانہ روی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔ واقصد فی مشیک اشارۃ الی الافعال واغضض من صوتک اشارۃ الی الاقوال فنبیہ علی التوسط فی الافعال وعلی الاقلال من فضول الکلام (بحر ج 7 ص 189) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں ، ان میں سب سے پہلے آپ نے شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع فرمایا ، پھر اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا تاہم اگر والدین کفر ، شرک یا کسی دیگر خلاف شرع کا م کا حکم دیں تو ان کی حکم عدولی کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں ابن کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک کرتے رہو ۔ اللہ نے ان لوگوں کی پیروی کا حکم دیا جو اس کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور واضح کردیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ اور وہ تمہارے سارے اعمال تمہارے سارمنے رکھ دے گا ۔ اعمال کی پیشی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۝ 0 ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۝ 19ۧ قصد القَصْدُ : استقامة الطریق، يقال : قَصَدْتُ قَصْدَهُ ، أي : نحوت نحوه، ومنه : الِاقْتِصَادُ ، والِاقْتِصَادُ علی ضربین : أحدهما محمود علی الإطلاق، وذلک فيما له طرفان : إفراط وتفریط کالجود، فإنه بين الإسراف والبخل، وکالشّجاعة فإنّها بين التّهوّر والجبن، ونحو ذلك، وعلی هذا قوله : وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ [ لقمان/ 19] وإلى هذا النحو من الاقتصاد أشار بقوله : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا «2» [ الفرقان/ 67] . والثاني يكنّى به عمّا يتردّد بين المحمود والمذموم، وهو فيما يقع بين محمود و مذموم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ ط اِنَّ اَنْـکَرَالْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ ۔ (لقمان : 19) (اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز کو ذرا پست رکھ، بیشک سب آوازوں سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ ) چال میں میانہ روی اور آواز میں فروتنی اور احساسِ ذمہ داری اوپر کی آیت میں دو نصیحتیں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیں۔ ایک یہ کہ لوگوں سے بےرخی سے پیش نہ آنا۔ اور دوسری یہ کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ ان دونوں نصیحتوں کو نہی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے یعنی یہ بری عادتیں ہیں ان سے بچ کے رہنا۔ اب انہی دونوں باتوں کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اکڑ کر نہ چلنے کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–19

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مزید چار وصیتیں۔ ایک اچھے مسلمان اور بہترین مبلّغ کے لیے لازم ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال کرے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو ارشاد فرمائی ہیں۔ عظیم دانشور اپنے بیٹے کو اخلاق اور کردار کے حوالے سے سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں سے تکبر اور لاپرواہی سے اپنے چہرہ کو نہ پھیرنا۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ یقیناً یہ فخرو غرور کا انداز ہے یاد رکھ کہ رب ذوالجلال کو فخروغرور کرنے والے لوگ پسند نہیں۔ جو شخص ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا بیشک وہ علمی، مالی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے کتنا بڑا کیوں نہ ہو بالآخر لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں بسا اوقات متکبر شخص کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

چال میں میانہ روی : 19: وَاقْصِدْ (اعتدال اختیار کر) القصدؔ بلندی و پستی کے درمیان میانہ روی۔ فِیْ مَشْیِکَ ( اپنی رفتار میں) اعتدال اختیار کرو تاکہ وہ رفتار دونوں کے درمیان ہو۔ نہ تو رینگ کر چلو جیسے بےجان چلتے ہیں اور نہ لپک کرچلو جیسے چھچھورے کرتے ہیں۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا رفتار کی تیزی مومن کے وقار کو زائل کردیتی ہے۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ 10/290) قولِ عائشہ ؓ کی تاویل : حضرت عائشہ ؓ نے عمر فاروق ؓ کے بارے میں جو فرمایا کان اذا مشی اسرع۔ اس کا مطلب ! یہ وہ تیزی ہے جو رینگنے والے کی چال سے بڑھ کر ہو۔ قول ابن مسعود ؓ : صحابہ ؓ کو یہود کے لپک کر چلنے اور عیسائیوں کی طرح رینگنے سے منع کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 19۔ ، واقصد فی مشیک ، چاہیے کہ تو اپنی چال درمیانی رکھے نہ تو تکبر ہو اور نہ ہی تیزبھاگنا۔ عطاء کا قول کہ وقار اور سکینہ کے ساتھ چل۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، یمشون علی الارض ھونا،۔۔۔۔۔۔۔۔ واغضض من تک، مقاتل نے ، واغضض، کا ترجمہ کیا ہے پست رکھ۔ ، ان انکر الا صوات ، بری آوازوں میں ایک آواز۔ ، لصوت الحمیر، گدھے کی آواز ہے۔ اس کی ابتداء آواز زفیر اور اختتامی آواز شھیق ہوتی ہے اور یہ دونوں طرح کی آوازیں دوزخیوں کی ہوں گی ۔ موسیٰ بن اعین فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری سے سنا وہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں ، ان انکرالا صواب لصوت الحمیر، ہرچیز کی چیخ میں اللہ کی تسبیح ہے مگر گدھے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16 تا 19۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان (علیہ السلام) کے باقی کے اس کلام کو جو انہوں نے بیٹے سے بطور نصیحت کے کہا تھا پورا کیا لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ اے میرے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو اور ہو وہ پتھر میں آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا و سزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد میں ابوسعید خدری ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو یہ حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر : 12 ۔ 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (واقصدفی مشیک ۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو) یزید بن ابی حبیب نے کہا ہے کہ اس سے تیز رفتاری مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یزید نے اس سے یہی مراد لی ہے کیونکہ تکبر کرنے والا شخص اپنی رفتار تیز نہیں رکھتا ہے۔ اس طرح چال میں سرعت تکبر اور غرور کے منافی ہوتی ہے ۔ چیخ چیخ کر بات کرنا بہت معیوب ہے قول باری ہے (واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوت الحمیر۔ اور اپنی آواز پست رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے) آیت میں آواز پست رکھنے کا حکم ہے اس لئے کہ یہ بات تواضع اور انکساری سے زیادہ قریب ہے جیسا کہ قول باری ہے (ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ۔ وہ لوگ جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

37 میانہ روی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور میانہ روی کو اپنائے رکھنا اپنی چال ڈھال میں "۔ یعنی نہ تو متکبروں کی طرح اکڑ کر اور ایڑیاں مارمار کر چلنا اور نہ مریضوں اور بیماروں کی طرح قدم گن گن کر ڈالنا کہ یہ چال بھی تکبر کی ہی ایک دوسری قسم ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور میانہ روی کی روش کو اپنانا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کے قول و فعل اور طرز عمل سے ثابت ہے کہ وہی اصل سچا اور کامل نمونہ ہے۔ سو اوپر جن باتوں کی نہی کے اسلوب میں تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی اب اسی تواضع اور فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی جارہی ہے کہ تم اپنی چال ڈھال میں اکڑنے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–19

والدین کی عظمت تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

آیات 12 تا 19 اسرارومعارف اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔ حضرت لقمان اور حکمت : جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی شریف لوگوں کی طرح وقار اور سکون سے چلا کر جیسا کہ دوسری آیت میں اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے۔ کہ یمشون علی الارض ہونا کہ وہ زمین پر وقار و سکون سے چلتے ہیں۔ (فرقان 63) تیز چلنا جبکہ اس کی ضرورت ہو اور اس میں اعتدال پایا جائے۔ ” وقار “ کے خلاف نہیں ہے۔ آنحضرت جب چلتے تو تیز چلتے اور آگے کو زور دیتے ہوئے چلتے گویا آپ ڈھلان سے اتر رہے ہیں۔ (شوکانی)3 یعنی شریف لوگوں کی طرح پرسکون اور دھیمے لہجہ میں بات کر، نہ کہ گدھے کی طرح چلا کر، اس لئے کہ چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔ (شوکانی)4 کیونکہ وہ چلا کر ہوتی ہے۔ یہاں پر حضرت لقمان کے نصائح ختم ہوئے آگے پھر توحید کے دلائل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:19) اقصد : قصد یقصد (ضرب) قصد مصدر سے فعل امر واحد مذکر حاضر تو میانہ روی اختیار کر۔ تو اعتدال اختیار کر۔ مشیک مضاف مضاف الیہ۔ تیری چال۔ اغضض۔ فعل امر واحد مذکر حاضر غض یغض غض (نصر) مصدر سے۔ الغض کے معنی کمی کرنے کے ہیں خواہ نظر اور صورت میں ہو یا کسی برتن میں سے کچھ کم کرنے کی صورت میں ہو۔ واغضض من صوتک اور (برائے وقت) آواز نیچی رکھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم (24:30) مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔ انکر۔ بہت زیادہ برا۔ بہت زیادہ قبیح۔ بہت زیادہ وحشیانہ۔ وحشت ناک۔ نکر۔ سے اسم تفضیل۔ لصوت الحمیر۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ حمیر حمار کی جمع ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19۔ مثقال (وزن) ۔ حبتہ (دانہ) ۔ صخرۃ (سخت پتھر۔ چٹان) ۔ یات بھا (وہ اس کو لے آئے گا) ۔ اصاب (پہنچا) ۔ عزم الامور (ہمت کے کام) ۔ لا تصعر (تصعیر) (ٹیڑھانہ کر ۔ چہرہ نہ پھلا) ۔ خد (گال۔ رخسار) ۔ لا تمش (تو نہ چل) ۔ مرح (اکڑنا۔ تکبر کرنا) ۔ مختال (اترانے والا) ۔ فخور (بڑائیاں کرنے والا) ۔ اقصد (اعتدال۔ میانہ روی اختیار کر) ۔ مشی (چلنا) ۔ اغضض (پست کر۔ دھیما کر) ۔ صوت (آواز) ۔ انکر (بد ترین۔ ناگوار) ۔ الحمیر (گدھا) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (16 تا 19) ۔ حجرت لقمان جو اللہ کے نیک اور برگذیدہ بندے تھے عرب کے رہنے والے ان کی عقل و فہم اور دانش پر بہت اعتماد کرتے تھے انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–20

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج ، چاند، مینہ، زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، اس پر بھی بعض ناشکر لوگ ایسے ہیں کہ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت اور بغیرروشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–21

پھر جب تمہیں نیکی اور وحدانیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ تو تم نہایت ہی نکمے پن سے بحث کرنے لگتے ہو جس میں نہ علم کی کوئی بات ہوتی ہے نہ عقل کی ۔ اور نہ تائید میں تم کسی الہام کو پیش کرسکتے ہو ۔ نہ روشن کتاب کو ۔ اور اس پر بھی تمہیں خیال ہے کہ تم صداقت پر ہو تم سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو صرف اللہ کے حکموں کو مانو ۔ اور سواما انزل اللہ کے اور کسی بات پر کان نہ دھرو ۔ مگر تم بدستور تقلید وجہالت کی الجھنوں میں پھنسے رہو اور یہی کہتے چلے جاتے ہو ۔ کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے مسلک کہ نہ چھوڑیں گے ۔ تو کیا تم نے طے کرلیا ہے کہ ہم بہرحال آباؤ اجداد کے مذہب ہی کی پیروی کریں گے ۔ چاہے وہ گمراہ ہوں اور ہم کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

19۔ اور اپنی رفتار اور چال میں میانہ روی اور اعتدال اختیارکر اور اپنی آواز کو نیچا اور ست رکھ بلا شبہ آوازوں میں بد ترین اور بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔ یعنی رفتار متوسط اختیار کر اور آواز میں نرمی اور پستی پیدا کر۔ حدیث میں آتا ہے جب تم گدھے کی آواز سنو تو اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہا کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 3۔ نہ بہت دوڑ کر چل کر وقار کے خلاف ہے، اور نہ بہت گن گن کر قدم رکھ، بلکہ بےتکلف اور متوسط رفتار تواضع و سادگی کے ساتھ اختیار کر جس کو دوسری آیت میں اس عنوان سے ذکر کیا ہے۔ یمشون علی الارض ھونا۔ 4۔ یعنی بہت غل مت مچا۔ یہ مطلب نہیں کہ اتنی پست کر کہ دوسرا سنے بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بیٹا ! میانہ روی اختیار کرنا ‘ اپنی آواز کو نیچی رکھ کر گدھے کی آواز بری آواز ہے : 19۔ (اقصد) تو اعتدال اختیار کر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر رفتار کا ادب یہی ہے کہ آدمی ہلکا پاؤں رکھ کر زمین پر چلے نہ تو پاؤں زور سے مارے اور نہ پوچھ پوچھ کر قدم رکھے سبک رفتاری سے چلے اور نظریں نیچی رکھے ‘ منہ نہ تو اوپر کو اٹھائے اور نہ ہی دائیں بائیں جھانکے خصوصا جب کسی کے دروازے کے سامنے سے گزرے تو دروازہ کھلا ہونے کی صورت میں اندر کی طرف مت دیکھے بلکہ نظر بچا کر گزرے ‘ کسی سے گفتگو کرے تو چلتے چلتے نہ کرے اور راستے میں کھڑا ہو کر باتیں نہ کرے بلکہ ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے ، بات کرے تو نہ اتنی اونچی آواز ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 19 begins with the statement: وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ (And be moderate in your walk). When done otherwise, in haste or helter-skelter, it goes against decorum and dignity. Says the Hadith: "Making too much haste in walking ruins the radiance of the believer (al-Jami' as-Saghir from Sayyidna Abu Hurairah ؓ . Then, in a manner of walking such as this, there remains the likelihood of hurting one's own self or someone else as well. And being moderate in walking also tells us that one should not walk very slowly either. This is the habit of the arrogant and the ostentatious who like to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 This does not mean that one should always speak in a low voice and should never raise one's voice. By citing the braying of the asses, it has been clearly indicated what son of the tone and voice in speech is meant to be discouraged. One kind of lowness and loudness„roughness and softness, of the rove and voice is that which is needed under natural and genuine requirements. For example, when speaking to a man close at hand, or to a small group of the people, one would speak in a low voice, and when speaking to a man at a distance or to a large number of the people, one would inevitably…

Read the full tafseer →