Explained with ayahs 17–20
انعام و اکرام کی بارش
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 31
اصل الفاظ ہیں لَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ للنَّاسِ۔ صَعَر عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ اپنا منہ ہر وقت ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے محاورہ نکلا فلان صعّر خدّہ، " فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلا پھیرلیا " یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا اور منہ پھیر کر بات کی۔ اسی کے متعلق قبیلۂ تغلب کا ایک شاعر عمرو بن حی کہتا ہے،
وکنّا اذا الجبار صَعَّر خَدَّ ٭ اقمنَا لہ من میْلہ فتقوّ مَا
ہم ایسے تھے کہ جب کبھی کسی جبار نے ہم سے بات کی تو ہم نے اس کی ٹیڑھ ایسی نکالی کہ وہ سیدھا ہوگیا۔ "
سورة لُقْمٰن 32
اصل الفاظ ہیں مختال اور فخور۔ مختال کے…
Read the full tafseer →پانچویں وصیت لقمانی متعلقہ آداب معاشرت
(آیت) ولا تصعر خدک للناس، لاتصعر، صعر سے مشتق ہے جو اونٹ کی ایک بیماری ہے جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے، جیسے انسانوں میں لقوہ معروف بیماری ہے جس سے چہرہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے، مراد اس سے رخ پھیرلینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی ملاقات اور گفتگو میں ان سے منہ پھیر کر گفتگو نہ کرو جو ان سے اعراض کرنے اور تکبر کرنے کی علامت ہے اور اخلاق شریفانہ کے خلاف ہے۔
(آیت) ولا تمش فی الارض مرحاً ، مرح اکڑ کر، اترا کر چلنا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے سارے عناصر سے پست افتادہ بنایا ہے تم اسی سے پیدا ہوئے اسی پر چلتے پھرتے ہو اپنی حقیقت کو پہچانو اترا کر نہ چلو جو…
Read the full tafseer →ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ط ان اللہ لایحب کل مختال فخور (18) ’ تصعیر خد ‘ کے معنی ہیں بربنائے غرور وتکبر لوگوں سے بےرخی و بےپروائی اختیار کرنا۔
’ للناس ‘ ہے مراد عوام الناس خصوصاً غریا وفقراء میں جن کو امراء واغنیا و حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے موجبات بیان ہوئے ہں۔ اب یہ ان باتوں کا ذکر آرہا ہے جو اس شکر گزاری کے منافی ہیں۔ شکر کا مظہر جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، اخبات و تواضع ہے اور اس کا ضد غرور وتکبر ہے۔ جو لوگ سفلہ اور کم ظرف ہوتے ہیں وہ نعمت پاکر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں اور ان لوگوں کو نہایت حقارت کی…
Read the full tafseer →18-1یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو ان سے منہ پھیر لے۔ یا گفتگو کے وقت اپنا منہ پھیرے رکھے؛ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کے سر یا گردن میں ہوتی ہے، جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے، یہاں بطور تکبر منہ پھیر لینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے (ابن کثیر)
18-2یعنی ایسی چال یا رویہ جس سے مال ودولت یا جاہ و منصب یا قوت و طاقت کی وجہ سے فخر و غرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لیے کہ انسان ایک بندہ عاجز وحقیر ہے، اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی وانکساری ہی اختیار کیے رکھے اس سے تجاوز کر کے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
10: یہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا بیان ہے جو لوگ آخرت کا انکار کرتے تھے، وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب انسان کے مرنے کے بعد اس کے سارے اجزاء منتشر ہوجائیں گے تو انہیں کیسے جمع کیا جاسکے گا ؟ حضرت لقمان نے بیٹے کو بتایا کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی زمین و آسمان کی کسی بھی پوشیدہ جگہ چلا جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اور وہ اسے نکال لانے پر پوری طرح قادر ہے۔ یاد رہے کہ جب جس کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوجائے تو اسے تلاش کرنے کے لئے بعض بزرگوں نے بتایا ہے کہ گیارہ مرتبہ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھ کر سورة لقمان کی یہ آیت تلاوت کی جاتی رہے تو عموماً وہ گمشدہ چیز مل جاتی ہے۔ بندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ولا تصعر خدک ۔۔۔۔۔ لصوت الحمیر (18 – 19) صعر ایک بیماری ہے جب اونٹ کو لگ جاتی ہے تو وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرلیتا ہے۔ قرآن کریم مغرور شخص کے فعل کو صعر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس سے لوگوں کو متنفر کرنا چاہتا ہے۔ کبر اور سرتابی کے عمل کو صعر کہا گیا یعنی اپنے رخساروں کو لوگوں سے کبر و غرور کی وجہ سے پھیر دینا۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کے معنی ہیں غرور اور استکبار کے ساتھ چلنا۔ بھولا ہوا اور لوگوں کو کچھ نہ سمجھنے والا ، یہ ایسی حرکت ہے جسے اللہ بھی مکروہ سمجھتا ہے اور لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے بارے میں اونچا خیال رکھتا ہے اور اپنی رفتار میں اس کا اظہار کرتا ہے۔
ان اللہ لا یحب کل مختال فخور…
Read the full tafseer →5 یعنی غرور سے مت دیکھ اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر متکبروں کی طرح بات نہ کر بلکہ خندہ پیشانی سے مل۔
6 یعنی اترانے اور شیخیاں مارنے سے آدمی کی عزت نہیں بڑھتی بلکہ ذلیل و حقیر ہوتا ہے۔ سامنے نہیں تو پیچھے لوگ برا کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 18 وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ للنَّاسِ ”
یعنی لوگوں سے بےرخی اور غرور وتکبر کی روش مت اختیار کرو۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ”
لفظی اعتبار سے مُخْتَال کا تعلق خیل گھوڑے سے ہے۔ گھوڑے کی چال میں ایک خاص تمکنت اور غرور کا انداز پایا جاتا ہے۔ چناچہ جب انسان اپنی چال کے انداز میں گھوڑے کے سے غرور و تمکنت کا مظاہرہ کرتا ہے تو گویا وہ مُخْتَالبن جاتا ہے۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو ‘ تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکو گے…
Read the full tafseer →24 گال پھلا پھلا کر باتیں کرنا اور اکڑ اکڑ چلنا یہ سب خود پسندوں اور متکبروں کی ادائیں ہیں۔ متکبر لوگوں کی گفتگو سے، وضع قطع سے، چال ڈھال سے غرضیکہ ان کی ایک ایک ادا سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں بہت کچھ سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ایک ایک حرکت سخت ناگوار ہے (مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 37 کا حاشیہ نمبر 47 اور سورة الفرقان کی آیت نمبر 63 کا حاشیہ نمبر 80)
Read the full tafseer →18۔ (یہاں تک کہ چال ڈھال میں متکبرین کا تشبہ بھی مبغوض ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…
Read the full tafseer →ولا تصعرخدک للناس . اور اپنے گال لوگوں کے لئے نہ پھلا۔ یعنی ان سے رخ نہ موڑ ‘ لوگوں سے اعراض نہ کر۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی غرور نہ کر ‘ دوسروں کو حقیر نہ سمجھ کہ وہ تجھ سے بات کریں اور تو ان کی طرف سے منہ پھیر لے۔
ولا تمش فی الارض مرحا . اور زمین پر اترا کر نہ چل۔
ان اللہ لا یحب کل مختال فخور . بلاشبہ اللہ کسی اترا کر چلنے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔
مُخْتَالٍ اترا کر چلنے والا۔
فَخُوْرٍ دوسرے لوگوں پر فخر کرنے والا۔
Read the full tafseer →اور تکبر اور بڑائی میں لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر یا یہ کہ غریب مسلمانوں کو کمتر مت سمجھ اور زمین پر بڑائی کے ساتھ مغرور ہو کر مت چل۔
بیشک اللہ تعالیٰ کبھی تکبر کرنے والے اور نعمت خداوندی پر فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ : ”صَعَرٌ“ اونٹ کو لگنے والی ایک بیماری، جس سے وہ اپنی گردن ایک طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے باب ”تفعیل“ تکلف کے لیے ہے۔ یعنی تکلف سے ایک طرف منہ پھیرے رکھنا۔ یہ انداز حقارت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن حُنَیّ تغلبی نے اپنے بعض بادشاہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
وَ کُنَّا إِذَا الْجَبَّارُ صَعَّرَ خَدَّہُ
أَقَمْنَا لَہُ مِنْ مَیْلِہِ فَتَقَوَّمَا
”اور ہم ایسے تھے کہ جب کسی جبار نے اپنا رخسار ٹیڑھا کیا، تو ہم نے اس کی ٹیڑھ سیدھی کردی، سو تو بھی سیدھا ہوجا۔“ [ فَتَقَوَّمَا امر کا صیغہ ہے (ابوعبید) اور آخر میں الف اشباع کے لیے ہے ]
3 احکام کی وصیت کے بعد…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ نافع، ابو عمر و، حمزہ، کسائی اور ابن محیص نے تصاعر صاد کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ باب تفاعل سے ہے ابن کثیر، عاصم، ابن عامر، حضرت حسن بصری اور مجاہد نے تصعر پڑھا ہے جوزی نے تصعر صاد کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ صعر کا معنی باقی ہونا ہے۔ اس معنی میں بدو کا قول ہے : قد اقام الدھر صعری، بعد ان اقمت صعرہ
زمانے نے میرے جھکائو کے سیدھا کردیا بعد اس کے کہ میں نے اس کا جھکائو سیدھا کیا تھا۔ اسی معنی میں عمرو بن حی تغلبی کا قول ہے :
وکنااذا الجبارصعر خدہ اقمنا لہمنمیلہ فتقوم (1)
جب جبار اپنے رخسار کو پھیر لیتا ہے تو ہم اس کے میلان کو سیدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں
1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…
Read the full tafseer →وَلَا تُصَعِّرْ [اور تو مت پھلا ] خَدَّكَ [اپنے گال کو ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] وَلَا تَمْشِ [اور تو مت چل ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مَرَحًا ۭ [اتراتا ہوا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ [کسی بھی اکڑنے والے فخر کرنے والے کو ] ۔
(س) صعرا منہ کا ٹیڑھا ہونا۔
(تفعیل) تصعیرا تکبر سے رخسار ٹیڑھا کرنا۔ پھیلانا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
(خ د د)
(ن) خدا چوٹ کا نشان چھوڑنا۔ زمین میں گڑھا کرنا۔
خد گڑھا۔ رخسار (چہرے کا گڑھا) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔
خدۃ ج اخدود۔ گڑھا۔ کھائی۔ خندق۔ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ (مارے گئے کھائیاں (کھودنے) والے) ۔
Read the full tafseer →تکبر کی مذمت
حضرت لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا یہ زمین پر اتراتے ہوئے اکڑتے مکڑتے ہوئے نہ چلو کیونکہ یہ تکبر کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا، سورة الاسراء رکوع نمبر 3 میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے (اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا) (بلاشبہ تو زمین کو نہیں پھاڑ سکتا اور لمبائی کے اعتبار سے پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتا) یعنی تجھ سے بڑی بڑی مخلوق موجود ہے، تجھے اکڑنا مکڑنا، اترانا اور شیخی بھگارنا کہاں زیب دیتا ہے ؟
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا کہ اپنی رفتار میں میانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →16:۔ ولا تصعر خدک الخ، عبادات کے بعد حضرت لقمان نے اپنے فرزند ارجمند کو مکارم اخلاق اور حسن معاشرت کی نصیحت فرمائی۔ یعنی دوسروں کو حقیر سمجھ کر اور کبر و غرور کی بناء پر ان سے منہ نہ موڑ بلکہ عاجزی، تواضع اور انس و محبت کے ساتھ ان سے برتاؤ کر۔ یقول لا تتکبر فتحتقر عباد اللہ وتعرض عنہم بوجھک اذا کلموک (ابن کثیر ج 3 ص 446) ۔ فالمعنی اقبل علیہم متواضعا مؤنسا مستانسا (قرطبی ج 14 ص 70) ۔
17:۔ ولا تمش الخ، اور زمین میں اکڑ کر اور اترا کر نہ چل کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کی چال چلنے والے اور لاف و گزاف مارنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ ان اللہ لا یحب الخ۔ جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں ، ان میں سب سے پہلے آپ نے شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع فرمایا ، پھر اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا تاہم اگر والدین کفر ، شرک یا کسی دیگر خلاف شرع کا م کا حکم دیں تو ان کی حکم عدولی کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں ابن کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک کرتے رہو ۔ اللہ نے ان لوگوں کی پیروی کا حکم دیا جو اس کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور واضح کردیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ اور وہ تمہارے سارے اعمال تمہارے سارمنے رکھ دے گا ۔
اعمال کی پیشی…
Read the full tafseer →وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18ۚ
صعر
الصَّعَرُ : ميل في العنق، والتَّصْعِيرُ : إمالته عن النّظر کبرا، قال تعالی: وَلا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
[ لقمان/ 18] ، وكلّ صعب يقال له : مُصْعَرٌ ، والظَّليم أَصْعَرُ خلقةً «3» .
( ص ع ر ) الصعر کے اصل معنی گردن میں کجی کے ہیں ۔ اور تصعیر کے معنی ہیں تکبر کی وجہ سے گردن کو ٹیڑھا کرنا اور اعراض پر تنا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ [ لقمان/ 18] اور ( تکبر کی بنا پر ) لوگوں سے روگردانی نہ کرو ۔ اور ہر مشکل امر کو مصعر کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…
Read the full tafseer →وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ۔ (لقمان : 18)
(اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ )
تصعیرخد کا مفہوم اور اس سے ممانعت
” صعر “ عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ دونوں طرف گردن نہیں پھیر سکتا بلکہ ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اسی سے محاورہ پیدا ہوا۔ فُلاَنٌ صَغَّرَخَدَّہٗ ” فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلہ پھیرلیا۔ “ یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مزید چار وصیتیں۔
ایک اچھے مسلمان اور بہترین مبلّغ کے لیے لازم ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال کرے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو ارشاد فرمائی ہیں۔ عظیم دانشور اپنے بیٹے کو اخلاق اور کردار کے حوالے سے سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں سے تکبر اور لاپرواہی سے اپنے چہرہ کو نہ پھیرنا۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ یقیناً یہ فخرو غرور کا انداز ہے یاد رکھ کہ رب ذوالجلال کو فخروغرور کرنے والے لوگ پسند نہیں۔ جو شخص ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا بیشک وہ علمی، مالی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے کتنا بڑا کیوں نہ ہو بالآخر لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں بسا اوقات متکبر شخص کے…
Read the full tafseer →18: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ (اور تو لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر) یعنی تکبر کی وجہ سے ان سے اعراض و بےرخی اختیار نہ کر۔
قراءت : ابو عمرو اور نافع، حمزہ، علی نے تُصَاعر پڑھا ہے اور اس کا معنی تصعر ہی کا ہے۔ الصِعرؔ اس بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کو لگتی ہے تو اس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے حاصل یہ ہوا تواضع کے ساتھ اپنے چہرے سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو ان سے اپنے چہرہ کی جانب اور پیشانی کو مت موڑ جیسا کہ متکبرین کیا کرتے ہیں۔
وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا (اور زمین پر اکڑ کر مت چل) ۔ یعنی نمبر 1۔ مت چل زمین پر کہ تو اترا رہا ہو اترانا۔ نمبر 2۔ مرحاً مصدر ہے جو کہ حال واقع ہے نہ چل اس حال…
Read the full tafseer →18، ولا تصعرخدک للناس ، ابن کثیر، ابن عامر عاصم ابوجعفر اور یعقوب نے عین کی تشدید کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، تصاعر، پڑھا ہے الف کے ساتھ۔ جیسے کہا جاتا ہے ، صعروجھہ وصاعر، جب وہ اپنے چہرے کو دوسری جانب پھیر لے اور تکبر سے اعراض کرے جیسے کہاجاتا ہے ، رجل اصعر، اپنی گردن کو مائل کرنے والا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے غرور نہ کر۔ دوسروں کو حقیرنہ سمجھ کہ وہ تجھ سے بات کریں اور تو ان کی طرف سے منہ پھیرلے۔
مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مرادوہ شخص ہے جس کے درمیان کوئی رنجش ہو جب وہ اس کو ملے تو اپنا چہرہ پھیر لے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو کوئی سلام کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
16 تا 19۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان (علیہ السلام) کے باقی کے اس کلام کو جو انہوں نے بیٹے سے بطور نصیحت کے کہا تھا پورا کیا لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ اے میرے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو اور ہو وہ پتھر میں آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا و سزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد میں ابوسعید خدری ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو یہ حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر : 12 ۔ 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…
Read the full tafseer →مغرورانہ انداز میں گفتگو نہ کی جائے
قول باری ہے : (ولا تصعر خدک للناس) اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ آیت کے معنی ہیں۔” غرور کی بنا پر اپنا رخ لوگوں سے نہ پھیرو۔ “ ابراہیم نخعی کا قول ہے اس سے تشدق مراد ہے یعنی باچھیں کھولنا۔ یہ معنی بھی پہلے معنی کی طرف راجع ہے کیونکہ باچھیں پھیلا کر باتیں کرنے والا متکبر ہوتا ہے۔ ایک کے مطابق صعر دراصل ایک بیماری کا نام ہے جو اونٹوں کے سروں اور گردنوں میں پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے چہروں اور گردتوں کو ٹیڑھا رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ اس شخص کو تشبیہ دی گئی ہے جو لوگوں سے اپنی گردن ٹیڑھی رکھتا ہے یعنی ان سے اپنا رخ پھیرے رکھتا…
Read the full tafseer →35 متکبرانہ روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین : سو متکبرانہ روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین کے طور بر ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کے ساتھ منہ پھیر کر بات نہ کرنا۔ " تصعیرِ خد " کے معنیٰ ہیں تکبر و غرور کی بنا پر لوگوں سے بےرخی اور لاپرواہی برتنا۔ اور یہ لفظ صعر سے ماخوذ ہے جو اونٹ کی ایک ایسی بیماری کو کہتے ہیں جس سے وہ گردن دوسری طرف نہیں موڑ سکتا۔ پس جو شخص تکبر کے طور پر اپنی گردن اکڑا کر، پھلا کر اور منہ ایک طرف پھیر کر بات کرتا ہے وہ درحقیقت ایسے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جو ایسی بیماری کی وجہ سے اپنی گردن دوسری طرف نہیں کرسکتا۔ لہذا تم کبھی ایسے نہیں کرنا بلکہ عجز و نیاز اور شرافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
والدین کی عظمت
تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19
اسرارومعارف
اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔
حضرت لقمان اور حکمت :
جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…
Read the full tafseer →ف 15 یا لوگوں سے اپنا منہ پھیر کر بات نہ کر۔ یعنی غرور نہ کر بلکہ تواضح اور عاجزی کے ساتھ ہر ایک کی بات سن۔
1 بلکہ اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے واضح رہے کہ اکڑنا اور شیخی بگھارنا اور چیز ہے اور شکر کے جذبہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا دوسری چیز، یہ ناصرف جائز بلکہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔” واما بنعمت ربک فحدث (ضحیٰ 11)
Read the full tafseer →(31:18) ولاتصعر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تصعیر (تفعیل) مصدر۔ تو (تکبر و نخوت کی وجہ سے) منہ نہ موڑ۔ الصعر کے اصل معنی گردن میں کجی کے ہیں اور اونٹوں کی ایک بیماری کا نام بھی ہے جب یہ لگتی ہے تو اونٹ کی گردن ٹیڑھی ہوجاتی ہے الصعرداء یاخذ البیعر فیکوی منہ عنقہ ویمیلہ۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کو لگتی ہے تو اس سے اس کی گردن ٹیڑھی ہو کر جھک جاتی ہے۔
اسی بنا پر جب کوئی شخص غرور و نخوت سے اپنا منہ لوگوں کی طرف سے موڑ لیتا ہے تو عرب کہتے ہیں قد صعر خدہ اس مفہوم کی تائید میں عمرو بن جنی التغلبی کا شعر ہے۔
وکنا اذا الجبار صعر خدہ اقمنالہ من میلہ فتقوما
(جب کوئی جابر شخص ازراہ تکبر اپنا رخسار پھیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19۔
مثقال (وزن) ۔ حبتہ (دانہ) ۔ صخرۃ (سخت پتھر۔ چٹان) ۔ یات بھا (وہ اس کو لے آئے گا) ۔ اصاب (پہنچا) ۔ عزم الامور (ہمت کے کام) ۔ لا تصعر (تصعیر) (ٹیڑھانہ کر ۔ چہرہ نہ پھلا) ۔ خد (گال۔ رخسار) ۔ لا تمش (تو نہ چل) ۔ مرح (اکڑنا۔ تکبر کرنا) ۔ مختال (اترانے والا) ۔ فخور (بڑائیاں کرنے والا) ۔ اقصد (اعتدال۔ میانہ روی اختیار کر) ۔ مشی (چلنا) ۔ اغضض (پست کر۔ دھیما کر) ۔ صوت (آواز) ۔ انکر (بد ترین۔ ناگوار) ۔ الحمیر (گدھا) ۔
تشریح ـ آیت نمبر (16 تا 19) ۔ حجرت لقمان جو اللہ کے نیک اور برگذیدہ بندے تھے عرب کے رہنے والے ان کی عقل و فہم اور دانش پر بہت اعتماد کرتے تھے انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج ، چاند، مینہ، زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، اس پر بھی بعض ناشکر لوگ ایسے ہیں کہ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت اور بغیرروشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
[9] یعنی جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام کرے گا، اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے، دنیا ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے اس کے لئے بہترین نسخہ صبر اور نماز ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 38 صفحہ 97۔
Read the full tafseer →ف 1: چونکہ حضرت لقمان کی خواہش یہ ہے کہ ان کا بیٹا ہر طو پر زیور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور صحیح معنوں میں وہ لوگوں میں صداقت کو پھیلا سکے ۔ اس لئے آخری میں اس کو یہ بھی بتایا ہے ۔ کہ عام بول چال میں ایسا نہ ہو ۔ کہ لوگ تم میں کبرونخوت کے خیالات کو محسوس کریں چال ڈھال میں میانہ روی اختیار کرنا ۔ نہ تو اتنا آہستہ آہستہ اور اکڑ کر چلنا ۔ کہ غرور ٹپکے ۔ اور نہ اتنا جلدی جلدی کر متالت و وقار کے منافی ہو ۔ آواز کو بھی پست رکھنا لازم ہے ۔ گدھے کی طرح اونچی آواز برترین آواز اور سراسر انسانی علم وقار کے خلاف بلکہ انسانیت کے منافی ہے ۔
2: مکہ والے بہت زیادہ جاہل اور کج بحث تھے ۔ چناچہ ان آیتوں میں یہی…
Read the full tafseer →18۔ اور لوگوں سے منہ پھلا کر بےرخی کا برتائو نہ کر اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین میں اترا کر اور متکبرانہ چال سے نہ چلا کر بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے شیخی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور اخلاق کے ساتھ ملا کر لوگوں کو حقیر سمجھ کر تکبر کا برتائو نہ کیا کر اور منہ پھلا کر بےرخی کے ساتھ بات نہ کیا کر زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا کیونکہ یہ متکبروں کی چال ہے ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا اور شیخی خور سے متکبرکوپسند نہیں کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گال نہ پھلا یعنی غرور سے نہ دیکھو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 3۔ نہ بہت دوڑ کر چل کر وقار کے خلاف ہے، اور نہ بہت گن گن کر قدم رکھ، بلکہ بےتکلف اور متوسط رفتار تواضع و سادگی کے ساتھ اختیار کر جس کو دوسری آیت میں اس عنوان سے ذکر کیا ہے۔ یمشون علی الارض ھونا۔
4۔ یعنی بہت غل مت مچا۔ یہ مطلب نہیں کہ اتنی پست کر کہ دوسرا سنے بھی نہیں۔
Read the full tafseer →لوگوں سے بےرخی سے مت ملو ‘ زمین پر اکڑ کر مت چلو ‘ تکبر کرنے والے کو پسند نہ کرو :
18۔ انسانی کمزوریوں کی خوب تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے ، خیال رہے کہ تکبر ‘ نخوت ‘ اترانا ‘ منہ موڑنا ‘ منہ چڑھانا ‘ ماتھے پر بل پڑنا سب کی سب چیزیں انسانی کمزوریاں ہیں لیکن ان کو کمزوری نہیں سمجھتے بلکہ زور آوری سمجھتے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں بلاشبہ یہ سب کمزوریاں ہیں لیکن چونکہ ان کا صدور اکثر بڑے لوگوں سے ہوتا ہے وہ بڑے جو بڑے تو نہیں ہوتے لیکن بڑے بنے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوئی ‘ خاندان اور برادری کا تفوق حاصل ہوا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوگئے تو لوگوں نے ان کو بڑا سمجھ لیا وہ…
Read the full tafseer →The Fifth Bequest of Luqman about Social Manners
In verse 18, it was said: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (And do not turn your cheek away from people). The expression: لَا تُصَعِّرْ (la tusa"ir) is a derivation from: صَعَرَ (sa’ ara) which is a disease among camels that causes a tilt in the neck similar to the stroke among human beings that makes the face become crooked. It carries the sense of turning one's face away (in disdain). Thus, the verse means: 'do not turn your face away from people when you meet them and talk to them for it is a sign of avoidance and arrogance and very much…
Read the full tafseer →31 Tusa'ir in the original is from se 'ar. a disease in the camel's neck clue to which it keeps its face turned to one side. The idiom implies the attitude of a person who shows arrogance and vanity, turns his face away and treats others with scant respect.
32 Mukhtal in the original implies a person who has an over-high opinion of himself, and fakhur is the one who boasts of his superiority over others. A man becomes haughty and arrogant and vain in his gait only when he is puffed up with pride, and wants that others should feel his superiority.
33 According to some commentators it means…
Read the full tafseer →