Luqman 31:17

Luqman · from ayah 17

31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَاۤ اَصَابَكَ ؕ— اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۟ۚيٰبُنَىَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ‌ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ‌ۚ

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

O my son, establish prayer, enjoin what is right, forbid what is wrong, and be patient over what befalls you. Indeed, [all] that is of the matters [requiring] determination.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:17

بیٹا، نماز قائم کرنے کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیٹا ! نماز قائم کرو، اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو، اور برائی سے روکو، اور تمہیں جو تکلیف پیش آئے، اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے چھوٹے بیٹے ! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور اس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پیارے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم کرو اور برے کام سے منع کرو اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو۔ بلاشبہ یہ سب باتیں بڑی ہمت کے کام ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے بیٹے ! نماز کا اہتمام رکھو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچئے۔ اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیٹے نماز کی پابندی کرنا نیکی کی تلقین کرنا برائی سے روکتے رہنا اور جو کوئی مصیبت بھی تم پر کبھی آجائے اس پر تم صبر (و برداشت) ہی سے کام لینا بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے بیٹے نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کام سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر بیشک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے میرے بچے ! نماز قائم کرو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو بھی تکلیف تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو یقیناً یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا، لوگوں کو اچھے کام کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصبیت تم پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Son, establish Prayer, enjoin all that is good and forbid all that is evil, and endure with patience whatever affliction befalls you. Surely these have been emphatically enjoined.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My dear son, establish Salah , and bid the Fair and forbid the Unfair, and observe patience on what befalls you. Surely, this is among the matters of determination;

— Muhammad Taqi Usmani

My dear son, establish Salah , and bid the Fair and forbid the Unfair, and observe patience on what befalls you. Surely, this is among the matters of determination;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my son! Perform the Salah, enjoin the good, and forbid the evil, and bear with patience whatever befalls you. Verily, these are some of the important commandments."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my dear son! Establish worship and enjoin kindness and forbid iniquity, and persevere whatever may befall thee. Lo! that is of the steadfast heart of things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O my son, establish prayer, enjoin what is right, forbid what is wrong, and be patient over what befalls you. Indeed, [all] that is of the matters [requiring] determination.

— Saheeh International

My son, be steadfast in prayer. Make others do good. Prevent them from doing evil. Be patient in hardship. Patience comes from faith and determination.

— Muhammad Sarwar

O my son! keep up prayer and enjoin the good and forbid the evil, and bear patiently that which befalls you; surely these acts require courage;

— Muhammad Habib Shakir

O My son! establish prayer and command that which is reputable and forbid iniquity, and bear patiently whatsoever may befall thee; verily that is of the firmness of affairs.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my son! establish regular prayer, enjoin what is just, and forbid what is wrong: and bear with patient constancy whatever betide thee; for this is firmness (of purpose) in (the conduct of) affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–20

انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 29 اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کا کام کرے گا اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے۔ دنیا لازماً ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے۔ سورة لُقْمٰن 30 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ اصلاح خلق کے لیے اٹھنا اور اس کی مشکلات کو انگیز کرنا کم ہمت لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری وصیت لقمانی متعلقہ اصلاح عمل اعمال واجبہ تو بہت ہیں مگر ان سب میں سب سے بڑا اور اہم عمل نماز ہے، اور خود اہم ہونے کے ساتھ وہ دوسرے اعمال کی درستی کا ذریعہ بھی ہے۔ جیسا کہ نماز کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔ (آیت) ان الصلوٰة تنھی عن الفحشاء والمنکر، اس لئے اعمال صالحہ واجبہ میں سے نماز کے ذکر پر اکتفا فرمایا یبنی اقیم الصلوٰة، یعنی اے میرے بیٹے نماز کو قائم کرو۔ اور جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اقامت صلوٰة کا مفہوم صرف نماز پڑھ لینا نہیں بلکہ اس کے تمام ارکان و آداب کو پوری طرح بجا لانا، اس کے اوقات کی پابندی کرنا اور اس پر مداومت کرنا سب اقامت صلوٰة کے مفہوم میں داخل ہیں۔ چوتھی وصیت لقمانی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یبنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور (17) اللہ تعالیٰ کے شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس شکر کا زندگی میں جو اثر نمایاں ہونا چاہیے اس کی ہدایت فرمائی۔ اس سلسلہ میں سب سے اول، نماز کو لیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا سب سے اول اور سب سے بڑا مظہر نماز ہی ہے۔ یہی تمام انبیاء اور تمام مذاہب کی متفق علیہ تعلیم ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو۔ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ’ نماز قائم کرو، کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کا اہتمام کرو۔ یعنی خود بھی نماز کی پابندی کرو اور دوسروں کے لئے بھی اس کا انتظام کرو اور ان کو اس کے لئے ابھارو۔ ’ وامر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1اقامۃ صلوۃ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور مصائب پر صبر کا اس لئے ذکر کیا کہ یہ تینوں اہم ترین عبادات اور امور خیر کی بنیاد ہیں۔ 17-2یعنی مذکورہ باتیں ان کاموں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اور بندوں پر انھیں فرض قرار دیا ہے۔ یا یہ ترغیب ہے عزم و ہمت پیدا کرنے کی کیونکہ عزم و ہمت کے بغیر اطاعت مذکورہ عمل ممکن نہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک ذالِکَ کا مرجع صبر ہے۔ اس سے پہلے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وصیت ہے اور اس راہ میں شدائد و مصائب اور طعن و ملامت ناگزیر ہے، اس لئے اس کے فوراً بعد صبر کی تلقین کرکے واضح کردیا کہ صبر کا دامن تھامے رکھنا کہ یہ عزم و ہمت کے کاموں میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

10: یہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا بیان ہے جو لوگ آخرت کا انکار کرتے تھے، وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب انسان کے مرنے کے بعد اس کے سارے اجزاء منتشر ہوجائیں گے تو انہیں کیسے جمع کیا جاسکے گا ؟ حضرت لقمان نے بیٹے کو بتایا کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی زمین و آسمان کی کسی بھی پوشیدہ جگہ چلا جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اور وہ اسے نکال لانے پر پوری طرح قادر ہے۔ یاد رہے کہ جب جس کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوجائے تو اسے تلاش کرنے کے لئے بعض بزرگوں نے بتایا ہے کہ گیارہ مرتبہ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھ کر سورة لقمان کی یہ آیت تلاوت کی جاتی رہے تو عموماً وہ گمشدہ چیز مل جاتی ہے۔ بندہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یبنی اقم الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔ من عزم الامور (17) یہ اسلامی نظریہ حیات کا راستہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھنا ، یہ شعور پیدا کرنا کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اس بات کا متمنی ہونا کہ اصل اجز اس کے پاس ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا کہ وہ عدل کرے گا اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرنا اور اس کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ، ان کی اصلاح کرنا اور ان کو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا اور ان تمام امور سے قبل اپنے آپ کو کفر کے ساتھ معرکہ آرائی کے لیے تیار کرنا اور اس راہ میں مادی تیاری سے زیادہ اہم تیاری اخلاقی تیاری ہے۔ اور وہ اقامت صلوٰۃ اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر صبر ، کیونکہ لوگ دعوت کے مقابلے میں کج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی خود اللہ کی توحید اور بندگی پر قائم ہو کر دوسروں کو بھی نصیحت کر کہ بھلی بات سیکھیں اور برائی سے رکیں۔ 4 یعنی دنیا میں جو سختیاں پیش آئیں جن کا پیش آنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں اغلب ہے ان کو تحمل اور اولوالعزمی سے برداشت کر۔ شدائد سے گھبرا کر ہمت ہار دینا حوصلہ مند بہادروں کا کام نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ” نماز اللہ کے ذکر کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نماز کی اقامت یا پابندی سے مقصود بنیادی طور پر یہی ہے کہ اللہ پر ایمان کی کیفیت کو ہر وقت مستحضر رکھا جائے ‘ ورنہ انسان کا نفس اسے غلط راستے پر ڈال دے گا اور شیطان اسے ورغلانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ سورة العنکبوت کی آیت 45 میں نماز کا مقصد یہی بتایا گیا ہے کہ یہ غلط کاموں سے روکتی ہے : اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ ط ”تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے اور نماز قائم کریں ‘ یقیناً نماز روکتی ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 یعنی نماز کی ہمیشگی کے ساتھ باجماعت ادا کرتے رہنا یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ یہ کام باہمت لوگوں کا کام ہے۔ اسی طرح اچھے کاموں کا حکم دینا اور لوگوں کو برے کاموں سے روکتے رہنا بھی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی صاحب عزم لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی از خود معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے رکنے کا فریضہ سرانجام دیں انھیں لامحالہ لوگوں کی طرف سے ایذائیں پہنچیں گی۔ کیونکہ یہ پیغمبروں کا اسوہ ہے اور اسی لئے پیغمبروں کو لوگ ستاتے اور دکھ پہنچاتے تھے۔ اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس راہ میں اگر مجھے دکھ اور ایذا پہنچے تو اسے خندہ پیشانی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (ہمیشہ مقبولین کی ایک خصوصیت۔ بلکہ بعض موقعوں پر واجب بھی) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی صبر۔ یا وہ تمام امور جو مذکور ہوچکے۔ اشارۃ الی الصبر او الی کل ما امر بہ (بیضاوی) (آیت) ” اقم الصلوۃ “۔ نماز کی پابندی کا حکم التزام شرائط کے ساتھ (آیت) ” وامر بالعروف “۔ نیکی ونیک کرداری کا حکم۔ (آیت) ” وانہ عن المنکر “۔ بدی وبدر کرداری سے بچنے بچانے کا حکم (آیت) ” واصبر علی ما اصابک “۔ تکوینی طور پر جو بھی ناموافق حالات پیش آئیں۔ دنیا میں جو جو رنج اور مصیبتیں پڑیں، یا مسلمان بننے اور بنے رہنے میں (اقامت صلوۃ میں۔ امر بالمعروف میں نہی عن المنکر میں) جو جو بھی دقتیں اٹھانی پڑیں۔ ان سب کو صبر کی سپر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یبنی اقم الصلٰوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر . اے میرے پیارے بیٹے ! (اپنے نفس کی تکمیل کے لئے) نماز قائم کر اور دوسروں کی درستی کے لئے نیک باتوں کا حکم دے اور بری باتوں کی ممانعت کر۔ واصبر علی ما اصابک . اور (امر و نہی کے راستہ میں) تجھ کو جو دکھ پہنچے (اور تکلیف اٹھانی پڑے) اس پر صبر رکھ۔ ان ذلک من عزم الامور . بلاشبہ یہ (ثبات و صبر) فرائض میں سے ہے۔ یعنی ان امور میں سے ہے جو اللہ نے فرض کر دئیے ہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : خَیْرُ الْاَمُوْرِ عَوازِمُھَا یعنی بہترین امور وہ ہیں جن کا کرنا اللہ نے فرض کردیا ہے۔ لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کا اٹل ارادہ۔ اس تشریح پر آیت میں عزم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے بیٹا نماز پڑھا کرو اور توحید اور نیکی کا حکم دیا کرو اور شرک اور بری باتوں اور برے کاموں سے روکا کرو اور جو کچھ مصیبت آئے اس پر صبر کیا کرو کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور صبر یہ بلند ہمتی کے کاموں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بالْمَعْرُوْفِ۔۔ : لقمان ؑ نے بنیادی عقائد کی وصیت کے بعد بیٹے کو بنیادی احکام کی وصیت فرمائی۔ جن میں سب سے اول اور سب سے اہم نماز کی اقامت ہے، جس میں اس کو وقت پر صحیح طریقے اور خشوع و اطمینان کے ساتھ باجماعت ادا کرنا سب کچھ شامل ہے۔ دوسری چیز لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور تیسری چیز برائی سے منع کرنا ہے، کیونکہ سب لوگ دنیا میں آخرت کے سفر پر ہیں۔ اگر کوئی شخص ساتھیوں کا خیال نہیں رکھے گا اور انھیں ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ اسے بھی لے بیٹھیں گے اور وہ منزل پر پہنچنے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح اس سفر میں سب لوگ ایک جہاز پر سوار ہیں، اگر اس میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ یابنی اقم الصلوۃ اپنے بیٹے کو طاعات میں سے عظیم طاعت کی وصیت کی وہ نماز، معروف کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اس سے یہ ارادہ کرتا ہے کہ پہلے خود اس کو بجا لائے اور منکر سے رکے یہاں یہ لفظ تمام طاعات اور فضائل کو جامع ہے۔ جس نے بھی کہا، بہترین کہا : وابدربنفسکفانھاعن غیھافاذا انتھتعنہ فانت حکیم اپنی ذات سے شروع کرو اور اسے سر کشی سے روکو جب نفس اس سے رک گیا تو تو حکیم ہے۔ ان اشعار کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ واصبر علی ما اصابک یہ ارشاد تقاضا کرتا ہے کہ تجھے منکر کو ختم کرنے پر برانگیختہ ہونا چاہیے اگرچہ تجھے ضرر پہنچے۔ یہ اس امر کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–19

کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں 1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اَقِمِ [تو قائم رکھ ] الصَّلٰوةَ [نماز کو ] وَاْمُرْ [اور توکید کر ] بِالْمَعْرُوْفِ [بھلائی کی ] وَانْهَ [اور تو منع کر ] عَنِ الْمُنْكَرِ [برائی سے ] وَاصْبِرْ [اور تو صبر کر ] عَلٰي مَآ [اس پر جو ] اَصَابَكَ ۭ [آلگے تجھ کو ] اِنَّ ذٰلِكَ [بیشک یہ ] مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ [معاملات کی ثابت قدمی میں سے ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–17

نماز قائم کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم فرمانے کے بعد پھر حضرت لقمان کی وصیتوں کا بیان شروع ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا علم بہت وسیع ہے وہ اپنی مخلوق کو اور مخلوق کے ہر عمل کو خوب اچھی طرح جانتا ہے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو وہ چھوٹے بڑے عمل کی جزا دے گا، اگر کسی شخص نے بہت ہی چھپا کر کوئی عمل کیا ہو تو چھوٹا ہونے میں رائی کے دانہ برابر ہو اور اس کے پوشیدہ ہونے کی یہ صورت ہو کہ وہ کسی پتھر کے اندر چھپا ہوا ہو یا آسمانوں کے اندر موجود ہو یا زمین میں ہو تو اللہ شانہ کو اس کا بھی علم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ یبنی اقم الخ، بیان توحید کے بعد بیٹے کو امر مصلح یعنی نماز قائم کرنے کا حکم دیا جو توحید پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ بجا لانے میں ممد و معاون ہے۔ وامر بالمعروف الخ اپنی تکمیل کے بعد دوسروں کی تکمیل کی طرف قدم اٹھاؤ توحید اور حسنات کی طرف دوسروں کو دعوت دو اور شرک اور دیگر منکرات سے دوسروں کو منع کرو۔ عن ابی جبیر انہ قال وامر بالمعروف یعنی التوحید وانہ عن المنکر یعنی الشرک (روح ج 21 ص 89) ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں تمہیں جس قدر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ان کو صبر وہمت سے برداشت کرنا۔ راہ حق میں اور تبلیغ و ارشاد پر، مصائب و آلام پر صبر کرنا نہایت اہم امور اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں ، ان میں سب سے پہلے آپ نے شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع فرمایا ، پھر اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا تاہم اگر والدین کفر ، شرک یا کسی دیگر خلاف شرع کا م کا حکم دیں تو ان کی حکم عدولی کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں ابن کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک کرتے رہو ۔ اللہ نے ان لوگوں کی پیروی کا حکم دیا جو اس کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور واضح کردیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ اور وہ تمہارے سارے اعمال تمہارے سارمنے رکھ دے گا ۔ اعمال کی پیشی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰبُنَيَّ اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ۝ 0 ۭ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۝ 17ۚ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْعَلٰی مَآ اَصَابَکَ ط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ (لقمان : 17) (اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو، یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں۔ ) تین نصیحتیں توحید اور آخرت کے بارے میں تاکید کرنے کے بعد حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اقامتِ صلوٰۃ کی نصیحت فرمائی۔ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ اس کے لیے ہر طرح کا اہتمام بروئے کار لانا ہے اور ان تمام تعلیمات کو پیش نظر رکھنا ہے جو آنحضرت ﷺ سے نماز کے بارے میں منقول ہیں۔ اور ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی وصیّت۔ عظیم باپ اپنے لخت جگر کو نصیحت پر نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے اے بیٹا آخرت کی فکر کرو، فکر آخرت کا تقاضا ہے کہ انسان نیک بن جائے۔ عقیدہ توحید پر کار بند ہونے کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حضور نماز پڑھے۔ نماز نہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبوب عبادت ہے بلکہ یہ عظیم ترین نیکی ہونے کے ساتھ نمازی کو برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے۔ بشرطیکہ اس کو اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نمازی بننے کے ساتھ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو اور برائی سے منع کرتے رہو اسی بات کو ” قرآن مجید “ نے امر بالعمروف اور نہی عن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ (بیٹا ! نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں) بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہٗ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی (کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر) جو مَآ اَصَابَکَ (مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر) ۔ ما اصابکؔ سے مراد جو اللہ تعالیٰ کی طرف معروف کی دعوت دیتے ہوئے اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے تکلیف آئے۔ نمبر 2۔ یا جو مشقتیں تجھے پہنچیں کیونکہ وہ بندے کو عطیے کا حقدار بنا دیتی ہیں۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ) جو نصائح میں نے تمہیں کی ہیں۔ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (ہمت کے کاموں میں سے ہے) یعنی ان کاموں میں سے ہیں جن کو اللہ نے قطعی طور پر واجب و لازم کردیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17، یابنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف انہ عن المنکر واصبر علی مااصابک ، اذیت اور تکلیف سے۔ ، ان ذلک من عزم الامور، اس سے مراد امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور ان اوامرکو بجالا نے میں جو مشقت اور تکلیف پہنچے اس پر صبر کریاوہ امور جن کا تم نے کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ہو ان کو بجالا نے میں کوئی مشقت آئے تو اس پر صبر کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16 تا 19۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان (علیہ السلام) کے باقی کے اس کلام کو جو انہوں نے بیٹے سے بطور نصیحت کے کہا تھا پورا کیا لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ اے میرے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو اور ہو وہ پتھر میں آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا و سزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد میں ابوسعید خدری ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو یہ حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر : 12 ۔ 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–17

امر بالمعروف نہی عن المنکر ، عزیمت کا کام ہے قول باری ہے : (یا بنی اقم الصلوٰۃ وامر بالمعروف واتہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک) اے میرے بیٹے ! نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر۔ یعنی…واللہ اعلم…امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کے سلسلے میں لوگوں کے ہاتھوں جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں ان پر صبر کر۔ ظاہر آیت صبر کے وجوب کا مقتضی ہے خواہ جان کا خطرہ کیوں نہ ہو، تاہم اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں جن کا ہم نے ذکر کردیا ہے جان کے خطرے کی حالت میں تقیہ کرلینے کی رخصت عطا کردی ہے۔ درج بالا آیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

32 موعظت لقمانی میں نماز کی تلقین و ہدایت : سو حضرت لقمان نے اپنی نصیحت میں اپنے بیٹے سے مزید کہا کہ " پیارے بیٹے نماز قائم رکھنا اور نیکی کی تعلیم دینا اور برائی سے روکنا "۔ سو نماز اولین فریضہ ہے جو انسان پر اس کے خالق ومالک کے حق واجب کے طور پر عائد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان دوسروں کو بھی نیکی کی تعلیم دے اور برائی سے روکے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں کہ انسان خود اچھا مسلمان بن جائے اور بس۔ نہیں بلکہ وہ دوسروں کو بھی اچھا بنانے کی فکر و کوشش کرے اور اس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔ سو اس ارشاد ربانی میں شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس کے نتیجہ و اثر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–19

والدین کی عظمت تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

آیات 12 تا 19 اسرارومعارف اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔ حضرت لقمان اور حکمت : جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں تجھے جو مصیبتیں پیش آئیں انہیں صبر و ہمت سے برداشت کر اس لئے کہ یہ فریضہ جس نے جب بھی انجام دیا اس پر لازماً مصیبتوں کی پہاڑ ٹوٹے اور دنیا والے اس کے دشمن ہوگئے۔13 یعنی نماز قائم کرنا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی تاکید فرمائی ہے اور انہیں اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔ عزم الامور کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سیر وکنے کا یہ کام بڑے عزم و ہمت کا کام ہے۔ کم ہمت لوگوں کے بس میں نہیں ہے کہ اس کی سختیاں جھیل سکیں، اس لئے اپنے عزم و ہمت پیدا کر اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:17) اقم۔ فعل امر۔ صیغہ واحد مذکر۔ اقامۃ (افعال) مصدر تو قائم رکھ۔ تو سیدھا کر۔ اقیم الصلوۃ تو نماز پڑھ۔ تو نماز قائم رکھ۔ وامر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ امر مصدر (باب نصر) تو حکم دے۔ یعنی اپنی ذات کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ نماز پڑھا کر اور دوسروں کی تربیت اور تکمیل ذات کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرارہ۔ وامر بالمعروف تو نیکی کا حکم دیا کر۔ انہ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر نہی مصدر سے (باب فتح) تو منع کر۔ تو منع کرتا رہ۔ المنکر۔ اسم مفعول واحد مذکر انکار مصدر۔ وہ قول یا فعل جس کو شرع نے ممنوع قرار دیا ہو۔ وانہ عن المنکر اور برائی سے روکتے رہو۔ ما اصابک۔ ما موصولہ ہے اصاب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19۔ مثقال (وزن) ۔ حبتہ (دانہ) ۔ صخرۃ (سخت پتھر۔ چٹان) ۔ یات بھا (وہ اس کو لے آئے گا) ۔ اصاب (پہنچا) ۔ عزم الامور (ہمت کے کام) ۔ لا تصعر (تصعیر) (ٹیڑھانہ کر ۔ چہرہ نہ پھلا) ۔ خد (گال۔ رخسار) ۔ لا تمش (تو نہ چل) ۔ مرح (اکڑنا۔ تکبر کرنا) ۔ مختال (اترانے والا) ۔ فخور (بڑائیاں کرنے والا) ۔ اقصد (اعتدال۔ میانہ روی اختیار کر) ۔ مشی (چلنا) ۔ اغضض (پست کر۔ دھیما کر) ۔ صوت (آواز) ۔ انکر (بد ترین۔ ناگوار) ۔ الحمیر (گدھا) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (16 تا 19) ۔ حجرت لقمان جو اللہ کے نیک اور برگذیدہ بندے تھے عرب کے رہنے والے ان کی عقل و فہم اور دانش پر بہت اعتماد کرتے تھے انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–20

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج ، چاند، مینہ، زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، اس پر بھی بعض ناشکر لوگ ایسے ہیں کہ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت اور بغیرروشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[9] یعنی جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام کرے گا، اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے، دنیا ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے اس کے لئے بہترین نسخہ صبر اور نماز ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 38 صفحہ 97۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: حضرت لقمان کی چوتھی نصیحت یہ ہے کہ بیٹا دل کو ذکر اور صلوٰۃ کی برکات سے معمور رکھو ۔ اور دنیا میں برائیوں کے خلاف جہاد کرو ۔ اور خود تقویٰ وصلاح کا نمونہ بنو ۔ اور اس سلسلہ تبلیغ و اشاعت میں جس قدر بھی مصیبتیں پیش آئیں ، برداشت کرو ۔ کیونکہ یہ عزیمت و استقامت کی باتیں ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ ساری کائنات انسانی کو اللہ کی چوکھٹ پر جھکا دے ۔ سب کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کردے ۔ اور سب کو نماز کا پابند بنادے مسلمان کی زندگی کا نصب العین یہ ہے ۔ کہ وہ ہر نیکی اور تقویٰ کی بات کو پھیلائے ۔ اور ہر برائی کو روکے ۔ وہ دنیا میں خدا کی حقانیت کا سب سے بڑا داعی اور رساعی ہے اس کے ایمان کا تقاضا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17۔ اے میرے بیٹے نماز پڑھاکر اور نماز کی پابندی کیا کر اور اچھی باتوں کی نصیحت کیا کر اور بری باتوں سے اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو مصیبت تجھ پر پڑے اس کو سہار اور برداشت کر ، بلا شبہ یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں ۔ یعنی بیٹا نماز کی پابندی کر اور بھلے کاموں کی نصیحت کیا کر برے کاموں سے لوگوں کو منع کیا کر اور روکا کر اور اس تبلیغ کے سلسلہ میں عام طور سے نصیحت کیا کر برے کاموں سے لوگوں کو منع کیا کر اور روکا کر اور اس تبلیغ کے سلسلہ میں یا عام طور سے جو مصیبت تجھ پر پڑے اور جو مصائب پڑیں ان کو خندہ پیشانی سے برداشت کر اور جھیل اور سہار یہ نیک کام کرنا اور نیک کاموں کی راہ میں جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 3۔ نہ بہت دوڑ کر چل کر وقار کے خلاف ہے، اور نہ بہت گن گن کر قدم رکھ، بلکہ بےتکلف اور متوسط رفتار تواضع و سادگی کے ساتھ اختیار کر جس کو دوسری آیت میں اس عنوان سے ذکر کیا ہے۔ یمشون علی الارض ھونا۔ 4۔ یعنی بہت غل مت مچا۔ یہ مطلب نہیں کہ اتنی پست کر کہ دوسرا سنے بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے بیٹے نماز قائم کرو ‘ نیکی کا حکم دو ‘ برائی سے روکو جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرو : 17۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ خود برائی سے بچے اور دوسروں کو برائی سے بچانے کی حتی المقدور کوشش کرے اور انسان کو برائی سے بچانے کے لئے قرآن کریم بار بار صلوۃ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہی نصیحت لقمان (علیہ السلام) نے بھی بیٹے کو کی ہے کہ بیٹا ! نماز قائم کرو یقینا تم برائی سے بچ جاؤ گے اور لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دو اور برے کاموں سے لوگوں کو منع کرو ‘ اس طرح تمہاری اخلاقی حالت یقینا ترقی کرے گی اور تم اعلی اخلاق کے مالک بن جاؤ گے پھر جب تم یہ کام سرانجام دو گے تو ضروری ہے کہ لوگ تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Third Bequest of Luqman (علیہ السلام) about the Correction of Deed There are many obligatory deeds, but the greatest and the most important of these is Salah - and not simply that it is important by itself, it also happens to be the master deed that becomes the catalyst changing other deeds towards the better as was pointed out in the Holy Qur'an about it: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ (Surely Salah restrains from shamelessness and evil A1-` Ankabut, 29:45). Therefore, out of the obligatory good deeds, the mention of Salah was considered sufficient when it was.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

29 In this there is a subtle allusion to this that whoever will enjoin good and forbid evil, will inevitably have to face and undergo afflictions and hardships in the world. 30 Another meaning can be: "These are things which require courage and resolution. To rise for the reformation of the people and to brave the hardships of the way cannot 1>e the job of a mean-spirited and cowardly person."

Read the full tafseer →