Luqman 31:16

Luqman · from ayah 16

31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ۟يٰبُنَىَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَكُنۡ فِىۡ صَخۡرَةٍ اَوۡ فِى السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِى الۡاَرۡضِ يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And Luqman said], "O my son, indeed if wrong should be the weight of a mustard seed and should be within a rock or [anywhere] in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Indeed, Allah is Subtle and Acquainted.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:16

(اور لقمان نے کہا تھا کہ) "بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(لقمان نے یہ بھی کہا) بیٹا ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اور وہ کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں یا زمین میں، تب بھی اللہ اسے حاضر کردے گا۔ یقین جانو اللہ بڑا باریک بیں، بہت باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ اسے لے آئے گا بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(لقمان نے کہا:) اے میرے فرزند! اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، پھر خواہ وہ کسی چٹان میں (چھُپی) ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں (تب بھی) اﷲ اسے (روزِ قیامت حساب کے لئے) موجود کر دے گا۔ بیشک اﷲ باریک بین (بھی) ہے آگاہ و خبردار (بھی) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے چھوٹے بیٹے ! بیشک کوئی چیز اگر رائی کے دانے کے وزن کی ہو، پس کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں، یا زمین میں تو اسے اللہ لے آئے گا، بلا شبہ اللہ بڑا باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پیارے بیٹے ! اگر (تیرا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، اللہ اسے نکال لائے گا۔ اللہ یقینا باریک بین اور باخبر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے بیٹے ! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اس کو حاضر کردے گا۔ بیشک اللہ نہایت ہی باریک ہیں اور باخبر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور لقمٰن نے مزید کہا) اے میرے پیارے بیٹے اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ کسی چٹان کے اندر ہو یا کہیں آسمانوں (کی بلندیوں) میں یا زمین (کی تہوں) میں کہیں پوشیدہ ہو پھر بھی اللہ اس کو نکال لائے گا کہ بلاشبہ وہ بڑا باریک بیں انتہائی باخبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کی برابر ہو پھر کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لے ہی آئے گا بیشک اللہ بڑا باریک بین ہے بڑا باخبر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے میرے بچے ! اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر اسے اللہ لے آئے گا یقیناً اللہ بہت باریک بین ہرچیز کی خبر رکھنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) ”بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی چھوٹا ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں چھپا ہوا ہو یا زمین میں، اللہ اس کو قیامت کے دن لا موجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ باریک بین اور خبردار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Luqman said): “Son, Allah will bring forth everything even if it be as small as the grain of a mustard seed even though it be hidden inside a rock or (anywhere) in the heavens or earth. Allah is Most Subtle, All-Aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Luqman went on saying to his son,) :My dear son, in fact, if there be anything to the measure of a grain of rye, and it be (hidden) in a rock or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Surely, Allah is All-Fine, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

(Luqman went on saying to his son,) :My dear son, in fact, if there be anything to the measure of a grain of rye, and it be (hidden) in a rock or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Surely, Allah is All-Fine, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my son! If it be (anything) equal to the weight of a grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or on the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Subtle, Well-Aware."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my dear son! Lo! though it be but the weight of a grain of mustard-seed, and though it be in a rock, or in the heavens, or in the earth, Allah will bring it forth. Lo! Allah is Subtile, Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And Luqman said], "O my son, indeed if wrong should be the weight of a mustard seed and should be within a rock or [anywhere] in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Indeed, Allah is Subtle and Acquainted.

— Saheeh International

"My son, God keeps the records of all the good and evil deeds, even if they are as small as a grain of mustard seed, hidden in a rock or in the heavens or the earth. God is subtle and All-aware.

— Muhammad Sarwar

O my son! surely if it is the very weight of the grain of a mustard-seed, even though it is in (the heart of) rock, or (high above) in the heaven or (deep down) in the earth, Allah will bring it (to light); surely Allah is Knower of subtleties, Aware;

— Muhammad Habib Shakir

O my son! though it be but the weight of a grain of mustard-seed, and though it be in a rock or in the heavens, or in the earth, Allah shall bring it forth. Verily Allah is subtile, Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my son!" (said Luqman), "If there be (but) the weight of a mustard-seed and it were (hidden) in a rock, or (anywhere) in the heavens or on earth, Allah will bring it forth: for Allah understands the finest mysteries, (and) is well-acquainted (with them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–16

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47؀) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 27 لقمان کے دوسرے نصائح کا ذکر یہاں یہ بتانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ عقائد کی طرح اخلاق کے متعلق بھی جو تعلیمات نبی ﷺ پیش کر رہے ہیں وہ بھی عرب میں کوئی انوکھی باتیں نہیں ہیں۔ سورة لُقْمٰن 28 یعنی اللہ کے علم سے اور اس کی گرفت سے کوئی چیز بچ نہیں سکتی۔ چٹان کے اندر ایک دانہ تمہارے لیے مخفی ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے عیاں ہے۔ آسمانوں میں کوئی ذرہ تم سے بعید ترین ہوسکتا ہے، مگر اللہ کے لیے وہ بہت قریب ہے۔ زمین کی تہوں میں پڑی ہوئی کوئی چیز تمہارے لیے سخت تاریکی میں ہے مگر اس کے لیے بالکل روشنی میں ہے۔ لہٰذا تم کہیں کسی حال میں بھی نیکی یا بدی کا کوئی کام ایسا نہیں کرسکتے جو اللہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری وصیت لقمانی متعلقہ عقائد یہ ہے کہ اس کا اعتقاد جازم رکھا جائے کہ آسمان و زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے اس کا ایک ایک ذرہ پر اللہ تعالیٰ کا علم بھی محیط اور وسیع ہے اور سب پر اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ کوئی چیز کتنی ہی چھوٹی سے چھوٹی ہو جو عام نظروں میں نہ آسکتی ہو اس طرح کوئی چیز کتنی ہی دور دراز پر ہو اس طرح کوئی چیز کتنے ہی اندھیروں اور پردوں میں ہو اللہ تعالیٰ کے علم و نظر سے نہیں چھپ سکتی، اور وہ جس کو جب چاہیں جہاں چاہیں حاضر کرسکتے ہیں۔ (آیت) یبنی انہا ان تک مثقال حبة من خردل الایة کا یہی مطلب ہے۔ اور حق تعالیٰ کے علم وقدرت کا ہر چیز پر محیط ہونا خود بھی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یبنی انھا ان تک مثقا حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ اوفی السموات او فی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر (16) تضمین کی آیات کے بعد لقمان کی موعظت پھر شروع ہوگئی۔ اوپر لقمان نے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور توحید کی تعلیم دی ہے اور یہ بات اپنے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ اسی عقیدے پر تمام عقائد کی بنیاد ہے۔ توحید کے بعد دوسرا بنیادی عقیدہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ اس آیت میں آخرت سے متعلق ان کا موعظت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ اے بیٹے ! اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیک یا بدعمل کسی کا ہوگا تو خواہ وہ کسی پہاڑی یا گھاٹی کے اندر ہو یا لا متناہی یا ناپیدا کنار فضائوں اور آسمانوں میں ہو یا زمین کی تہوں کی بتوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16-1ان تک کا مرجع خطیئۃ ہو تو مطلب گناہ اور اللہ کی نافرمانی والا کام ہے۔ اور اگر اس کا مرجع خصلۃ ہو تو مطلب اچھائی یا برائی کی خصلت ہوگا۔ مطلب یہ کہ انسان اچھا یا برا کام کتنا بھی چھپ کر کرے، اللہ سے چھپا نہیں رہ سکتا، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے حاضر کرلے گا، یعنی اس کی جزا دے گا اچھے عمل کی اچھی جزا، برے عمل کی بری جزا، رائی کے دانے کی مثال اس لئے دی کہ وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ جس کا وزن محسوس ہوتا ہے نہ تول میں ترازو کے پلڑے جھکا سکتا ہے۔ اسی طرح چٹان (آبادی سے دور جنگل، پہاڑ میں) مخفی ترین جگہ ہے یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ' اگر تم میں سے کوئی شخص بےسوراخ کے پتھر میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

10: یہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا بیان ہے جو لوگ آخرت کا انکار کرتے تھے، وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب انسان کے مرنے کے بعد اس کے سارے اجزاء منتشر ہوجائیں گے تو انہیں کیسے جمع کیا جاسکے گا ؟ حضرت لقمان نے بیٹے کو بتایا کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی زمین و آسمان کی کسی بھی پوشیدہ جگہ چلا جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اور وہ اسے نکال لانے پر پوری طرح قادر ہے۔ یاد رہے کہ جب جس کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوجائے تو اسے تلاش کرنے کے لئے بعض بزرگوں نے بتایا ہے کہ گیارہ مرتبہ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھ کر سورة لقمان کی یہ آیت تلاوت کی جاتی رہے تو عموماً وہ گمشدہ چیز مل جاتی ہے۔ بندہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یبنی انھا ان ۔۔۔۔۔ ان اللہ لطیف خبیر (16) اگر کوئی اللہ کے علم کی جامعیت اور مانعیت کو محض اصولی الفاظ میں بیان کر دے اور اللہ کو بہت قدرتوں والا کہہ دے اور یہ کہ اسے ذرے ذرے کا حساب لینا والا کہہ دے تو وہ اس قدر موثر نہیں ہوسکتا جس طرح یہ مصور انداز تعبیر موثر اور دلنشین ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیز ہے کہ نہایت معنوی اور ذہنی امور کو مصور کردیا جاتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر النبی) ۔ رائی کا دانہ بہت ہی چھوٹا ، گم گشتہ ، بےحقیقت اور بےوزن ہوتا ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ پھر یہ دانہ کسی چٹان (مخرہ) میں ہو کہ وہاں تک پہنچنے کی کوئی راہ بھی نہ ہو یا وہ سماوات میں ہو ، جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی کوئی چیز یا کوئی خصلت اچھی یا بری اگر رائی کے دانہ کے برابر چھوٹی ہو اور فرض کرو پتھر کی کسی سخت چٹان کے اندر یا آسمانوں کی بلندی پر یا زمین کی تاریک گہرائیوں میں رکھی ہو، وہ بھی اللہ سے مخفی نہیں ہوسکتی۔ جب وقت آئے گا وہیں سے لا حاضر کرے گا۔ اس لئے آدمی کو چاہیے کہ عمل کرتے وقت یہ بات پیش نظر رکھے کہ ہزار پردوں میں بھی جو کام کیا جائے اس کا اثر ضرور ظاہر ہو کر رہتا ہے جسے اہل نظر بےتکلف محسوس کرلیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 یٰبُنَیَّ اِنَّہَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ ” اپنی جسامت کے اعتبار سے رائی کا دانہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ مراد اس سے بہت ہی چھوٹی یا حقیر چیز ہے۔ قرآن مجید میں کسی چھوٹی یا حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ رائی کے دانے کے علاوہ بالعموم فَتِیْلاً یعنی کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگے ہوئے دھاگے النساء : 49 اور نَقِیْرًا یعنی کھجور کی گٹھلی کے گڑھے النساء : 124 جیسے الفاظ بھی آتے ہیں ‘ لیکن رائی کا دانہ اپنی جسامت میں ان سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِہَا اللّٰہُ ط ” انسان اشرف المخلوقات ہے ‘ اس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 اس آیت میں حضرت لقمان نے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کی وسعت بھی بیان فرمائی اور اس کی قدرت بھی۔ علم غیب کی اس طرح کہ تم کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرو۔ علانیہ کرو یا کئی پردوں میں چھپ کر کرو۔ وہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔ تمہارے دلوں کے خیالات تک جانتا ہے۔ اس کے پاس تمہارا پورا پورا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ لہذا جو کام بھی کرو سوچ سمجھ کر اور اللہ سے ڈر کر کرو۔ اور اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ اپنے پاس حاضر کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ وہ تو رائی کے ایک دانہ تک کو جو کسی کھوہ کی تاریکیوں میں پڑا ہو، اپنے پاس لاحاضر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ حضرت لقمان یہ بات اپنے بیٹے کو سمجھا کر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (چنانچہ کوئی عمل کیسا ہی دقیق ہو، اور کیسے ہی اسباب خفاء اس کے لیے جمع ہوجائیں، اس عالم الغیب والشہادۃ کے احاطہ علم وخبر سے بہرحال وہ باہر نہیں رہ سکتا) (آیت) ” مثقال حبۃ من خردل “۔ یعنی (آیت) ” حبۃ “۔ میں بہ غایت صغیر ہو۔ (آیت) ” فتکن فی صخرۃ “۔ یعنی حجاب شدید کے اندر ہو۔ (آیت) ” او فی السموت “۔ یعنی غایت بعد میں ہو (آیت) ” ...... اوفی الارض “۔ یعنی ظلمات در ظلمات میں ہو۔ انسان کی نظر سے خفاء شئے کے اسباب عموما یہی ہوتے ہیں۔ اور مشرک قوموں نے اپنے پر قیاس کرکے اپنی دیوی دیوتاؤں کو انہیں حالات میں معذور اور ان کے علم کو ناقص سمجھا ہے۔ قرآن مجید نے ان میں سے ہر ممکن سبب کی تردید کرکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یبنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السموت او فی الارض یات بھا اللہ . اے میرے پیارے بیٹے ! بلاشبہ اگر رائی کے دانہ کے وزن کے برابر کوئی حرکت ہوگی اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں یہ زمین میں ہوگی تو اللہ اس کو لا حاضر کرے گا۔ اِنَّھَا یعنی کوئی خصلت ‘ کوئی بات اچھی ہو یا بری ‘ بھلائی کی ہو یا برائی کی۔ قتادہ نے کہا : اِنَّھَا کی ضمیر خطا کی طرف راجع ہے کیونکہ حضرت لقمان کے بیٹے نے حضرت لقمان سے کہا تھا : اے میرے باپ ! اگر میں چھپ کر کوئی گناہ کروں کہ کسی کو اطلاع نہ ہو تو اس کو خدا کیسے جان لے گا ؟ اس کے جواب میں اِنَّھَا اِنْ تَکُ حضرت لقمان نے فرمایا : جس کو اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حضرت لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ بیٹا اگر کسی کی کوئی نیکی یا رزق رائی کے دانہ کے برابر ہو اور پھر وہ زمینوں کے نیچے کسی پتھر کے اندر چھپا ہو یا وہ آسمانوں کے اوپر ہو یا زمین کے اندر ہو جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے مالک کے پاس لاکر حاضر کردے گا، اللہ تعالیٰ اس کے نکالنے میں بڑا باریک بین اور اس کی جگہ کے معلوم ہونے میں بڑا باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ۔۔ : لقمان ؑ کی پہلی وصیت کے بعد دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے بارے میں وصیت فرمائی۔ اب دوبارہ لقمان ؑ کی وصیتوں کا بیان شروع ہوتا ہے۔ پہلی وصیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا رد اور اس کی توحید کا بیان تھا، اس وصیت میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے کمال کا بیان ہے۔ 3 اکثر مفسرین کے مطابق ”اِنَّهَآ“ میں ضمیر ”ھَا“ نیکی اور بدی کے اس عمل کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“ میں ہے : ”أَيْ إِنَّ الْفِعْلَۃَ الْحَسَنَۃَ أَوِ السَّیِّءَۃَ إِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ“ یعنی ”اچھا یا برا عمل اگر رائی کے ایک دانے کے برابر ہوگا۔۔“ ابن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹے ! یہ قول حضرت لقمان (علیہ السلام) کا ہے اس قول کے ذریعے حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آگاہ کرنا چاہا (3) ۔ یہ وہ آخری حد تھی جس کو سمجھانا ممکن تھا، کیونکہ خردلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے : حس اس کے وزن کا ادراک نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ ترازو کو نہیں جھکاتا، یعنی اگر ان مواقع پر رائی کے دانہ کے برابررزق ہو اللہ تعالیٰ اسے لے آتا ہے اور وہاں تک پہنچاتا ہے جس کا یہ رزق ہوتا ہے، یعنی رزق کا ایسا اہتمام نہ کر یہاں تک کہ تو اس کے ساتھ فرائض سے غافل ہوجائے اور جس نے میری طرف رجوع کیا ہے اس کے راستہ کی اتباع سے غافل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–19

کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں 1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اِنَّهَآ [حقیقت یہ ہے کہ ] اِنْ تَكُ [اگر وہ (برائی) ہوگی ] مِثْقَالَ حَبَّةٍ [ایک دانے کے ہم وزن ] مِّنْ خَرْدَلٍ [رائی میں سے ] فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ [پھر وہ ہو کسی چٹان میں ] اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ [یا آسمانوں میں ] اَوْ فِي الْاَرْضِ [یا زمین میں ] يَاْتِ بِهَا [لے آئے گا اس کو ] اللّٰهُ ۭ [اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] لَطِيْفٌ [باریک بین ہے ] خَبِيْرٌ [با خبر ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–17

نماز قائم کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم فرمانے کے بعد پھر حضرت لقمان کی وصیتوں کا بیان شروع ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا علم بہت وسیع ہے وہ اپنی مخلوق کو اور مخلوق کے ہر عمل کو خوب اچھی طرح جانتا ہے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو وہ چھوٹے بڑے عمل کی جزا دے گا، اگر کسی شخص نے بہت ہی چھپا کر کوئی عمل کیا ہو تو چھوٹا ہونے میں رائی کے دانہ برابر ہو اور اس کے پوشیدہ ہونے کی یہ صورت ہو کہ وہ کسی پتھر کے اندر چھپا ہوا ہو یا آسمانوں کے اندر موجود ہو یا زمین میں ہو تو اللہ شانہ کو اس کا بھی علم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ یبنی انہا الخ۔ یہ کلام لقمان ہے اس میں ایک طرف تو جزاء وسزا کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیی کے علم غیب کلی اور اس کی قدرت کاملہ کا بیا ہے۔ انہا کی ضمیر سے حسنۃ اور سیئہ مراد ہے یعنی نیکی (توحید وغیرہ) اور گناہ (شرک وغیرہ) اگر رائی کے برابر بھی ہوگا اور زمین و آسمان میں کہیں بھی ہوگا اللہ تعالیٰ اسے حاضر کرلے گا اور اس پر جزا، و سزا دے گا کیونکہ وہ باریک سے باریک چیزوں کو جانتا ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ انہا ای الحسنۃ والسیئۃ ان کانت فی الصغر مثل حبۃ خردل۔ لاتخفی علی اللہ (کبیر ج 6، ص 736) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں ، ان میں سب سے پہلے آپ نے شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع فرمایا ، پھر اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا تاہم اگر والدین کفر ، شرک یا کسی دیگر خلاف شرع کا م کا حکم دیں تو ان کی حکم عدولی کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں ابن کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک کرتے رہو ۔ اللہ نے ان لوگوں کی پیروی کا حکم دیا جو اس کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور واضح کردیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ اور وہ تمہارے سارے اعمال تمہارے سارمنے رکھ دے گا ۔ اعمال کی پیشی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰبُنَيَّ اِنَّہَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَۃٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِہَا اللہُ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ۝ 16 ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰـبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 16) (اے میرے بیٹے ! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، خواہ وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اسے نکال لائے گا، بیشک اللہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔ ) دوسری نصیحت آخرت سے متعلق گزشتہ آیات حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان ایک جملہ معترضہ تھا جسے پروردگار نے حضرت لقمان کی نصیحتوں میں جو خلاء رہ گیا تھا اسے بھرنے کے لیے ارشاد فرمایا تھا۔ اور خلاء کا سبب کوئی سہو نہیں تھا بلکہ حضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو دوسری وصیت۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو آخرت کی جو ابدہی کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا انسان چھپ کر گناہ کرے یا اعلانیہ۔ رات کو کرے یا دن کی روشنی میں۔ گناہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ بیشک وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو وہ زمین کی گہرائیوں میں ہو یا پہاڑ کی چوٹی پر یہاں تک کہ آسمانوں میں چھپا ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں ضرور حاضر کرے گا کیونکہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ جس شخص کا یہ ذہن بن جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ وہ جب چاہے پکڑ سکتا ہے اس نے پکڑ لیا تو اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نصائح لقمان ‘ حقوق اللہ اور حقوق عباد : 16: یٰبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے برابر ہو ) ۔ قراءت : مثقالؔ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور حبہ کی طرف اضافت کی وجہ سے مثقال مؤنث ہے اسلئے فعل مؤنث لا یا گیا ہے انھا کی ضمیر قصہ ہے جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ کما شرقت صدر القناۃ من الدم۔ (جس طرح نیزے کا سینہ خون سے چمکتا ہے ) ۔ اور کانؔ تامہ ہوگا۔ باقی تمام قراء نے نصب سے پڑھا ہے اور ضمیر کا مرجع وہ ہیئت ہے خواہ اچھی ہو یا بری مطلب یہ ہے اگرچہ وہ چیز چھوٹائی میں رائی کے دانے کی طرح ہو۔ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ (پھر کسی پتھر کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 16۔ ، یابنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل، انھا کی ضمیر راجع ہے ، خطیئۃ، کی طرف کیونکہ حضرت لقمان کے بیٹے نے حضرت لقمان سے کہا تھا اے میرے باپ ! اگر میں چھپ کر کوئی گناہ کروں کہ کسی کو اطلاع نہ ہو تو اس کو خدا کیسے جان لے گا ؟ اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا (فتکن فی صخرۃ) قتاد ہ نے اس کا معنی ہے اگر چہ تو پہاڑ میں بھی کیوں نہ ہو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صخرۃ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے جس میں کافروں اور بدکاروں کے اعمال کا اندراج ہوتا ہے اور آسمان کی نیل گوئی اسی کے عکس کی وجہ سے ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ اللہ نے زمین کو مچھلی کے اوپر پیدا کیا۔ مچھلی وہی نون ہے جو آیت ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16 تا 19۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان (علیہ السلام) کے باقی کے اس کلام کو جو انہوں نے بیٹے سے بطور نصیحت کے کہا تھا پورا کیا لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ اے میرے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو اور ہو وہ پتھر میں آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا و سزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد میں ابوسعید خدری ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو یہ حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر : 12 ۔ 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–17

امر بالمعروف نہی عن المنکر ، عزیمت کا کام ہے قول باری ہے : (یا بنی اقم الصلوٰۃ وامر بالمعروف واتہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک) اے میرے بیٹے ! نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر۔ یعنی…واللہ اعلم…امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کے سلسلے میں لوگوں کے ہاتھوں جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں ان پر صبر کر۔ ظاہر آیت صبر کے وجوب کا مقتضی ہے خواہ جان کا خطرہ کیوں نہ ہو، تاہم اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں جن کا ہم نے ذکر کردیا ہے جان کے خطرے کی حالت میں تقیہ کرلینے کی رخصت عطا کردی ہے۔ درج بالا آیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

32 موعظت لقمانی میں نماز کی تلقین و ہدایت : سو حضرت لقمان نے اپنی نصیحت میں اپنے بیٹے سے مزید کہا کہ " پیارے بیٹے نماز قائم رکھنا اور نیکی کی تعلیم دینا اور برائی سے روکنا "۔ سو نماز اولین فریضہ ہے جو انسان پر اس کے خالق ومالک کے حق واجب کے طور پر عائد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان دوسروں کو بھی نیکی کی تعلیم دے اور برائی سے روکے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں کہ انسان خود اچھا مسلمان بن جائے اور بس۔ نہیں بلکہ وہ دوسروں کو بھی اچھا بنانے کی فکر و کوشش کرے اور اس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔ سو اس ارشاد ربانی میں شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس کے نتیجہ و اثر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–19

والدین کی عظمت تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

آیات 12 تا 19 اسرارومعارف اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔ حضرت لقمان اور حکمت : جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:16) انھا ان تک : ھا ضمیر قصہ ہے جو مابعد کے جملہ کی طرف عائد ہے۔ ان تک ان شرطیہ ہے تک کون سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے اصل میں تکون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے واؤ حذف ہوگیا اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف علت کے مشابہ مان کر حذف کردیا گیا۔ ان تک اگر وہ ہو وے۔ مثقال اسم مفرد۔ ہم وزن۔ حبۃ۔ دانہ۔ اناج کے دانہ کو حبۃ یا حب کہتے ہیں ۔ خردل۔ رائی۔ مثقال حبۃ من خردل۔ رائی کے دانہ کے برابر۔ رائی کے دانہ کے ہموزن۔ انھا ان تک ۔۔ خردل قصہ یہ ہے کہ اگر کوئی (شے یا عمل) رائی کے دانہ کے برابر (بھی چھوٹا) ہو۔ فتکن۔ مضارع مجزوم واحد مؤنث غائب کون سے مضارع۔ دراصل تکون تھا حرف جازم (ان) داخل ہونے سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19۔ مثقال (وزن) ۔ حبتہ (دانہ) ۔ صخرۃ (سخت پتھر۔ چٹان) ۔ یات بھا (وہ اس کو لے آئے گا) ۔ اصاب (پہنچا) ۔ عزم الامور (ہمت کے کام) ۔ لا تصعر (تصعیر) (ٹیڑھانہ کر ۔ چہرہ نہ پھلا) ۔ خد (گال۔ رخسار) ۔ لا تمش (تو نہ چل) ۔ مرح (اکڑنا۔ تکبر کرنا) ۔ مختال (اترانے والا) ۔ فخور (بڑائیاں کرنے والا) ۔ اقصد (اعتدال۔ میانہ روی اختیار کر) ۔ مشی (چلنا) ۔ اغضض (پست کر۔ دھیما کر) ۔ صوت (آواز) ۔ انکر (بد ترین۔ ناگوار) ۔ الحمیر (گدھا) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (16 تا 19) ۔ حجرت لقمان جو اللہ کے نیک اور برگذیدہ بندے تھے عرب کے رہنے والے ان کی عقل و فہم اور دانش پر بہت اعتماد کرتے تھے انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت۔ (ف 1) لقمان اپنے بیٹے سے کہتے ہیں، اے میرے بیٹے ، اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ پتھر میں یا آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا وسزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبررکھنے والا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوص پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو، فرمایا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی نماز کو اس کے ارکان، اوقات کے ساتھ قائم رکھنا، اور لوگوں کو موافق شرع نصیحت کرنا اور خلاف شرع سے منع کرنا اور اس نصیحت کے کرنے میں کچھ تکلیف لوگوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–16

[7] یعنی انبیاء و صالحین کی راہ پر چل۔ [8] اس پیراگراف کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس میں لقمان کے قول کیمزید تشریح ہے۔ آگے پھر لقمان کی نصیحت کا سلسلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–16

حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16۔ اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو پھر خواہ وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو بھی لا حاضر کریگا بیشک اللہ تعالیٰ نہایت باریک ہیں بہت با خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کے کمال سے بیٹے کو آگاہ فرمایا کہ اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل چاہے رائی کے دانے ہی کے برابر کیوں نہ ہو اور کہیں پوشیدہ ہو کسی پتھر میں ہو یا زمین کے اور آسمان کے کسی حصے میں مخفی ہو یعنی کتنا ہی پوشیدہ ہو اور خواہ کتنا ہی دورہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب کے وقت اس کو بھی لا حاضر کرے گا اس عمل کا چھوٹا ہونا یا پوشیدہ ہونا یا آسمان جیسی دوری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یہی اسباب ہیں خفاء شی کے علم خلق سے کیونکہ کبھی غایت صغر سے ایک شے مخفی ہوجاتی ہے کبھی حجاب کے شدید ہونے سے کبھی مکان کے بعید ہونے سے کبھی ظلمت سے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے بیٹے اگر رائی کے برابر کوئی چیز ہوئی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ لے آئے گا : 16۔ لقمان (علیہ السلام) کی نصائح بیٹے کے نام جو بیان کی جا رہی تھیں ان کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے ۔ پہلے آپ نے بیٹے کو شرک سے باز رہنے کا حکم دیا تھا اب وہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا وعظ کرتے نظر آتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بیٹا ! غور کرو کہ رائی کا دانہ کیا چیز ہے ؟ بہت ہی حقیر چیز کہ دن کی روشنی میں آنکھ اس کو بعض اوقات نہیں دیکھ سکتی اتنا باریک ہوتا ہے تو یقین جانو ! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ بھی سات زمینوں کے نیچے پتھر کی چٹان میں چھپا ہو یا آسمان میں پوشیدہ ہو یا زمین میں اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Second Bequest of Luqman about Articles of Belief One should irrevocably hold the belief that the knowledge of Allah Ta` a1a surrounds every single particle of whatever there is in and around the expanses of the heavens and the earth with His most perfect power. Nothing can - be it the smallest of the small not commonly visible, or be it the farthest of the far, or be it behind layers upon layers of darkness and curtains - simply nothing can hide from the knowledge and view of Allah Ta’ ala. And He can, when He wills, cause it to be present, where He wills. This is what is meant by verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 The other admonitions of Luqman are being narrated here to imply that like the basic beliefs, the teachings pertaining to morals that the Holy Prophet is presenting, are not anything new in Arabia. 28 That is, "Nothing can escape Allah's knowledge and His grasp. A seed in the rock may be hidden for you, but it is known to AIIah. A particle in the heavens may be very distant for you, but for AIIah it is very near. A thing lying in the layers of the earth may be lying in darkness for you but for him it is in full light. Therefore, you cannot do anything good or bad, anywhere or any time,…

Read the full tafseer →