Explained with ayahs 14–16
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 24
یعنی جو تیرے علم میں میرا شریک نہیں ہے۔
سورة لُقْمٰن 25
یعنی اولاد اور والدین، سب کو۔
سورة لُقْمٰن 26
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة عنکبوت، حواشی نمبر 11۔ 12۔
Read the full tafseer →(آیت) صاحبھما فی الدنیا معروفاً ، یعنی دین میں تو تم ان کا کہنا نہ مانو مگر دنیا کے کاموں میں مثلاً ان کی جسمانی خدمت یا مالی اخراجات وغیرہ اس میں کمی نہ ہونے دو ، بلکہ دنیوی معاملات میں اس کے عام دستور کے مطابق معاملہ کرو ان کی بےادبی نہ کرو، ان کی بات کا جواب ایسے نہ دو جس سے بلاضرورت دل آزاری ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک و کفر کے معاملہ میں نہ ماننے سے جو ان کی دل آزاری ہوگی وہ تو مجبوری کے لئے برداشت کرو، مگر ضرورت کو ضرورت کی حد میں رکھو، دوسرے معاملات میں ان کی دل آزاری سے پرہیز کرتے رہو۔
فائدہ
اس آیت میں جو بچے کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بتلائی گئی ہے، یہ عام عادت کے مطابق ہے۔ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ووصینا الانسان بوالدیہ ج حملتہ امہ وھنا علی وھن و فضلہ فی عا میر ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیرا وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بااعلم فلا تطعھما وصا حبھما فی الدنیا معروفا فاتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فالبئکم بما کنتم تعملون (14۔ 15)
یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خد کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انہوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظر انداز کرکے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انہوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایانِ شان…
Read the full tafseer →15-1یعنی مومنین کی راہ۔
15-2یعنی میری طرف رجوع کرنے والوں کی پیروی اس لیے کرو کہ بالآخر تم سب کو میری ہی بارگاہ میں آنا ہے، اور میری ہی طرف سے ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کی جزا ملنی ہے۔ اگر تم میرے راستے کی پیروی کرو گے اور مجھے یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارو گے تو امید ہے کہ قیامت والے روز میری عدالت میں سرخرو ہو گے بصورت دیگر میرے عذاب میں گرفتار ہو گے۔ سلسلہ کلام حضرت لقمان کی وصیتوں سے متعلق تھا۔ اب آگے پھر وہی وصیتیں بیان کی جارہی ہیں۔ جو لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ درمیان کی دو آیتوں میں اللہ تبارک وتعالی نے جملہ معترضہ کے طور پر ماں باپ کے ساتھ احسان کی تاکید فرمائی۔ جس کی ایک وجہ…
Read the full tafseer →8: دین کے معاملے میں اگر والدین کوئی غلط بات کہیں تو ان کی بات ماننا تو جائز نہیں ہے ؛ لیکن ان کی بات رد کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو ان کے لئے تکلیف دہ نہ ہو، یا جس سے وہ اپنی توہین محسوس کریں، بلکہ نرم الفاظ میں ان کو بتادینا چاہیے کہ میں آپ کی یہ بات ماننے سے معذور ہوں اور صرف اتنا ہی نہیں اپنے عام برتاؤ میں بھی ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتے رہنا چاہیے، مثلاً ان کی خدمت کرنا، ان کی مالی امداد کرنا، وہ بیمارہوجائیں تو ان کی تیمار داری کرنا وغیرہ۔
9: چونکہ والدین غلط راستے پر ہیں، اس لئے ان کا غلط راستہ اپنانا جائز نہیں ؛ بلکہ راستہ انہی کا اپنانا چاہیے جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15)
قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے…
Read the full tafseer →11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیوں مانے۔ "
12 یعنی دین کے خلاف ماں باپ کا کہنا نہ مان۔ ہاں دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ نیکی اور سلوک کرتا رہ اسی مضمون کی آیت سورة عنکبوت میں گزر چکی وہاں کا فائدہ دیکھ لیا جائے۔
13 یعنی پیغمبروں اور مخلص بندوں کی راہ پر چل ! دین کے خلاف ماں باپ کی تقلید یا اطاعت مت کر۔
1 یعنی خدا کے ہاں پہنچ کر اولاد اور والدین سب کو پتہ لگ جائے گا کہ کس کی زیادتی یا تقصیر تھی۔ (تنبیہ) ووصینا الانسان سے یہاں تک حق تعالیٰ کا کلام ہے۔ پہلے لقمان کی وصیت بیٹے کو تھی۔ اور آگے بھی " یا بنی انھا ان تک۔ "…
Read the full tafseer →آیت 15 وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلَا تُطِعْہُمَا ”
یہاں والدین کے اپنی اولاد کو شرک پر مجبور کرنے کے حوالے سے ”جہاد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی انتہائی کوشش کے ہیں۔ چناچہ اس لفظ میں والدین کی طرف سے اپنا موقف منوانے کے لیے لڑنے جھگڑنے اور ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کا مفہوم موجود ہے۔ البتہ یہاں بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ والدین کے تمام تر تقدس اور احترام کے باوجود انہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ چناچہ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کرنے لگیں تو…
Read the full tafseer →19 السماء کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة عنکبوت کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ نمبر 12
20 یعنی والدین بھی اگر شرک پر یا دین کے خلاف کسی بات کے لئے مجبور کریں تو ان کی بات اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے اچھا سلوک کیا جائے خواہ والدین کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً محتاج ہوں، تو ان کی مالی اعانت کی جائے۔ اور دین کے علاوہ دوسری باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے۔ ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے۔ ان سے محبت اور شفقت سے سلوک کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ اللہ کے مخلص بندوں کی راہ ہے۔ لہذا انہی کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔
21 یعنی والدین کو بھی اور اولاد کو بھی سب کو میرے…
Read the full tafseer →14۔ اطاعت والدین اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری شئے شہی۔ بلکہ اسلام کی مجلسی ومعاشری زندگی کی تو بنیاد ہی اتحاد زوجین کی طرح اطاعت والدین پر ہے۔ لیکن جب توحید پر زد پڑ رہی ہو تو وہاں یہ فریضہ بھی ساقط ہوجائے گا۔ اور اطاعت عین معصیت بن جائے گی ..... وصاحبھما فی الدنیا معروفا “۔ یہ حکم اس حال میں بھی قائم ہے کہ دنیوی حاجات ومعاملات یعنی خوردو نوش وغیرہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک برابر جاری رہے والدین کی شکر گزاری بہرصورت واجب ہے، بجز اس کے کہ وہ شکر گزاری اللہ کی ناشکری کے مستلزم ہوجائے۔
15۔ (دینی معاملات میں) یعنی جو دین حق کا تابع اور اسی پر عامل ہو۔ معاملات دین میں مرافقت اسی کی کیا کرو۔ فقہاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…
Read the full tafseer →وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما . اور اگر وہ دونوں تجھ
پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ (عبادت میں) اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیری پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ مان۔
لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ یعنی جس معبود باطل کے شریک الوہیت ہونے کا تجھے علم بھی نہ ہو ‘ اس کو اللہ کی معبودیت میں شریک بنانے پر اگر ماں باپ حکم دیں تو ان کا کہا نہ مان۔ چہ جائیکہ ادلہ قطعیہ سے شرک ہونا جب تجھے معلوم ہے تو ایسی حالت میں ماں باپ کا حکم نہ ماننا تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے۔ اللہ کا حق ہر مخلوق کے حق پر غالب ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : خالق کی نافرمانی (کی صورت) میں مخلوق کا حکم ناقابل اطاعت ہے۔…
Read the full tafseer →اور اگر وہ دونوں بھی تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے کہ جس کے شریک ہونے کے لیے تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اور تو جانتا ہے کہ وہ میرا شریک نہیں تو پھر اس شریک کے کام میں ان کا کہا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرتے رہنا اور صرف اس ہی شخص کے طریقہ پر چلنا جو میری طرف اور میری اطاعت کی طرف رجوع کرتا ہو۔
یعنی رسول اکرم ﷺ کے نقش قدم پر چلنا اور پھر تم سب کو اور تمہارے والدین کو میرے پاس آنا ہے میں اس وقت تمہیں جتا دوں گا جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ۔۔ : والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کے بعد اس میں سے ایک چیز کا استثنا فرمایا کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور دیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے، تو خواہ جتنا زور لگا لیں ان کی بات مت ماننا۔ سورة عنکبوت کی آٹھویں آیت میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ”وَاِنْ جَاهَدٰكَ لتُشْرِكَ بِيْ“ ہے اور یہاں ”عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ“ ہے۔ ”علی“ کے لفظ میں ”لام“ کی بہ نسبت زیادہ قوت پائی جاتی ہے، اس لیے تفسیر میں اس بات کی طرف ”خواہ جتنا زور لگا لیں“ کے الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ سورة عنکبوت میں فتنے کا ذکر ہے، جو والدین کی طرف سے منت و سماجت اور…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 6۔ آیت وان جاھدک علی الخ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ آیت اور اس سے قبل والی آیت حضرت سعد بن ابی وقاص نے حق میں نازل ہوئیں جب آپ اسلام لائے ان کی والدہ جو حمنہ بنت ابی سفیان بن امیہ تھی اس نے قسم اٹھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی جس طرح ماقبل آیت کی تفسیر میں گزرا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 وصاحبھما فی الدنیا معروفا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے مصاحبا معروفا یہ جملہ بولا جاتا ہے : صاحبتہ مصاحبۃ و مصاحبا، معروفا سے مراد جو اچھا ہو۔
آیت اس امر پر دلیل ہے کہ کافر والدین اگر وہ فقیر ہوں تو مال سے جتنا ممکن ہو ان کی مدد کرنی لازم ہے نرم گفتگو اور نرمی سے اسلام کی طرف دعوت دینا لازم ہے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں
1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ جَاهَدٰكَ [اور اگر وہ دونوں کشمکش کریں تجھ سے ] عَلٰٓي اَنْ [اس (بات) پر کہ ] تُشْرِكَ بِيْ [تو شریک کرے میرے ساتھ ] مَا [اس کو ] لَيْسَ لَكَ [نہیں ہے تیرے لئے ] بِهٖ [جس کے بارے میں ] عِلْمٌ ۙ[کوئی علم ] فَلَا تُطِعْهُمَا [تو تو اطاعت مت کر ان دونوں کی ] وَصَاحِبْهُمَا [اور اس دونوں کے ساتھ رہ ] فِي الدُّنْيَا [دنیا میں ] مَعْرُوْفًا ۡ [بھلے طریقے سے ] وَّاتَّبِعْ [اور تو پیروی کر ] سَبِيْلَ مَنْ [اس کے راستے کی جس نے ] اَنَابَ [رخ کیا ] ۔ اِلَيَّ ۚ [میری طرف ] ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ [پھر میری طرف ہی تم لوگوں کا لوٹنا ہے ] فَاُنَبِّئُكُمْ [تو میں جتلا دوں گا تم لوگوں کو ] بِمَا…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلآی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا) (اور اگر تیرے والدین تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کی فرمانبرداری نہ کرنا) دنیا میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کا سلسلہ چلا ہوا ہے، یہ ایک محض اندھی تقلید کے طور پر ہے، ماں باپ کو مشرک پاتے ہوئے شرک کا رواج دیکھتے ہیں تو خود بھی شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے جب مشرکین کو تنبیہ کی جاتی ہے اور شرک سے روکا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی پر پایا، علمی عقلی دلیل کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →13:۔ وان جاھداک الخ، اگر ماں باپ تجھ پر زور ڈالیں اور تجھے شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے میں ان کی ہرگز اطاعت نہ کر البتہ دنیا میں ان کے دوسرے حقوق ادا کرتا رہ اور اطاعت صرف اسی کی کر جو توحید پر قائم ہو اور شرک سے بیزار ہو۔ ای رجع الی بالتوحید والاخلاص بالطاعۃ (روح ج 21 ص 87) ۔ پھر قیامت کے دن تم سب میرے سامنے حاضر ہوگے تو وہاں ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائیگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت لقمان (رح) کی حکمت کا ذکر ہوا ، اور اس ضمن میں ان کا اجمالی تعارف بھی عرض کہہ دیا تھا ، حضرت لقمان اللہ کے نیک بندے اور دانشور تھے ۔ اللہ نے ان کو حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا آج کی آیات میں لقمان کی وہ حکیمانہ باتیں کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور نصیحت کی تھیں ، ان نصائح میں اولین نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور یہی ان کے حکیم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم سے بیٹے کو منع فرمادیا ۔
شرک کی ممانعت :
ارشاد ہوتا ہے اس بات کو یاد کرو (واذا لقمن لا یتہ جب کہ کہا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے وھو یعظہ اس حال میں…
Read the full tafseer →وَاِنْ جَاہَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ 0 ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا 0 ۡوَّاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ 0 ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 15
جهد
الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع .
وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلاَ تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (لقمان : 14، 15)
(اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا (اسی لیے ہم نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : والدین کی فرمانبرداری کی حدود۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنم اور نسب کے حوالے سے انسان پر اس کے والدین کا بہت زیادہ حق ہے۔ لیکن انسان کا حقیقی خالق اور مالک ” اللہ “ ہے۔ اس نے انسانی افزائش کے لیے والدین کو اپنی تخلیق کا ذریعہ بنایا ہے اس لیے اس نے اپنی بندگی کے بعد ماں باپ کی سمع و اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لیکن والدین کی اطاعت کی بھی ایک حد مقرر فرمائی ہے۔ بیشک والدین یہودی، عیسائی یا کسی بھی دین پر ہوں ان کی سمع و اطاعت کرنے کا حکم ہے۔ اس وقت تک جب تک وہ کفرو شرک کا حکم نہ دیں۔ اگر وہ کفرو شرک، اور بدعات کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفرو شرک…
Read the full tafseer →15: وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ (اور اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک) بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (بنائے جس کی تیرے پاس دلیل نہ ہو) نفی علم سے نفی شریک مراد ہے یعنی تو میرے ساتھ اس چیز کو مت شریک ٹھہرا جس کی کچھ حقیقت نہیں۔ مراد اس سے اصنام ہیں۔ فَلاَ تُطِعْہُمَا (تو تو ان کا کہنا نہ مان) شرک کے سلسلہ میں وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا (اور ان کے ساتھ رہ دنیا میں خوبی کے ساتھ) معروف یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای صاحبھما صحابا معروفًا۔ اس کے معنی میں خوبی اور خوبصورت اخلاق اور حلم و حوصلہ اور بر ّو صلہ رحمی سب کچھ ہی داخل ہے۔ وَّا تَّبِعْ سَبِیْلَ…
Read the full tafseer →15، وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھماوصاحبھما فی الدنیا معروفا، اس سے مراد نیکی ہے صلہ رحمی اچھی معاشرت کا اختیار کرنا ہے۔ ، واتبع سبیل من اناب الی ، ، یعنی ایسادین جو اس کی اطاعت وفرماں برداری میں ہو اور نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اطاعت کرنا ہے۔
عطاء نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں کیو ن کہ جب یہ اسلام لائے تو حضرت عثمان حضرت طلحہ وزبیر سعید بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس آئے۔ جب ان سب نے کہا کہ اس شخص نے سچ کہا اور تم اس پر ایمان لاتے ہو ؟ فرمایا جی ہاں کہ یہ صادق ہیں تم بھی اس…
Read the full tafseer →15۔ اوپر ماں باپ کے حق کے ماننے کا ذکر تھا اور یہ بھی ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ماں باپ کے حق پر مقدم ہے اس لیے فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھ سے شرک کرنے پر جھگڑیں تو ان کا کہا ہرگز نہ مان کیونکہ شرک ایسی بےسند چیز ہے جس کا پتہ دنیا میں کسی کو معلوم نہیں اس لیے اس باب میں ماں باپ کی پیروی مت کر ہاں معاملات دنیا میں تو ان کا ساتھی رہ اور ان کے ساتھ سلوک کرتا رہ دین میں ان لوگوں کی پیروی کر جو شرک سے بیزار اور ایمان والے ولوگ ہیں آخر تم سب اللہ کے پاس جزا و سزا کے لیے آنا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت عبداللہ بن حذافہ کے قصہ کی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر : 12 ۔ 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…
Read the full tafseer →قول باری ہے (واتبع سبیل من اناب الی۔ اور اس شخص کی راہ پر چلو جو میری طرف رجوع کیے ہوئے ہو) یہ قول باری اجماع المسلمین کی صحت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی راہ پر چلنے کا حکم دیا ہے اس کی مثال یہ قول باری ہے (ویتبع غیر سبیل المومنین ) اور وہ اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلتا ہے۔
Read the full tafseer →27 ماں باپ کی اطاعت ضروری مگر محدود و مشروط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہیں مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جسکے لیے تمہارے پاس کوئی سند نہیں تو ان کی بات نہیں مانتا۔ اور ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں کہ اس کی شرکت کے بارے میں کوئی علم و سند ہو سکے کہ اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ لا بُرْہَانَ لَہ بِہٖ } ۔ (المومنون :117) ۔ پس اللہ کا شریک ماننا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ سو شرک کی کوئی اساس و بنیاد نہیں۔ لہذا تم اس بارے ان کی کوئی بات کبھی نہ ماننا کہ شرک سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہے۔ سو ماں باپ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
والدین کی عظمت
تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19
اسرارومعارف
اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔
حضرت لقمان اور حکمت :
جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…
Read the full tafseer →ف 7 اور ظاہر ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کے شریک ہونے کی سند نہیں ہوسکتی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیا مانے۔ “8 کیونکہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ (دیکھیے عنکبوت آیت 8)9 یعنی ان کے مشرک ہونے کے باوجود دنیا کے عام معاملات میں ان سے شفقت، محبت اخلاق اور تواضح کا برتائو کر۔10 یعنی میری توحید کا قائل ہے اور پورے اخلاص سے میری اطاعت و بندگی کر رہا ہے۔ دین کے معاملہ میں ماں باپ کی تقلید جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(31:15) وان جاھدک۔ ان شرطیہ ہے جھدک فعل ماضی تثنیہ مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جاھد یجاھد مجاھدۃ (مفاعلہ) (اگر) وہ دونوں (تم سے) جہاد کریں یعنی جھگڑیں لڑیں ۔ تم پر زور دیں ۔ تم پر کوشش کریں۔
ان تشرک میں ان مصدریہ ہے۔
ما لیس لک بہ علم۔ میں ما بمعنی الذی ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ جس کا تجھے رلم نہیں۔ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔
فلا تطعھما۔ جواب شرط۔ تو ان دونوں کا کہنا نہ مان۔ ان کی اطاعت مت کر۔
صاحبھما۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ۔ مفعول ۔ تو ان کی مصاحبت کر۔ تو ان کے ساتھ رہ۔ تو ان کے ساتھ زندگی گزار۔
معروفا : ای صحابا معروفا۔ اچھی مصاحبت۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔
سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت۔
(ف 1) لقمان اپنے بیٹے سے کہتے ہیں، اے میرے بیٹے ، اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ پتھر میں یا آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا وسزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبررکھنے والا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوص پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو، فرمایا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی نماز کو اس کے ارکان، اوقات کے ساتھ قائم رکھنا، اور لوگوں کو موافق شرع نصیحت کرنا اور خلاف شرع سے منع کرنا اور اس نصیحت کے کرنے میں کچھ تکلیف لوگوں کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[7] یعنی انبیاء و صالحین کی راہ پر چل۔
[8] اس پیراگراف کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس میں لقمان کے قول کیمزید تشریح ہے۔ آگے پھر لقمان کی نصیحت کا سلسلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔
Read the full tafseer →15۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کے شریک الوہیت اور شرک فی العبادت ہونے کی تیرے پاس کوئی سند اور دلیل نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور ان کی اطاعت نہ کر ہاں دنیوی معاملات میں مثلاً خدمت اور انفاق وغیرہ میں بھلی طرح اور دستور کے موافق ان کا رفیق اور ہم صحبت رہ اور پیروی اسی شخص کی کر اور اسی کی راہ چل جو میری طرف رجوع ہوا پھر تم سب کو میری طرف آنا ہے اور تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پس میں تم کو امن تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی باوجود ان حقوق کے جو والدین کے تجھ پر ہیں اگر وہ کبھی تجھ کو میرا شریک ٹھہرانے پر…
Read the full tafseer →ف 9۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کے استحقاق شرکت پر کوئی دلیل قائم ہو بلکہ عدم استحقاق پر دلیلیں قائم ہیں۔
1۔ یعنی میرے احکام کا معتقد و عامل ہو۔
Read the full tafseer →والدین اگر شرک پر مجبور کریں تو یہ بات ان کی مانی نہیں جاسکتی :
15۔ والدین کی اطاعت کا حکم بار بار قرآن کریم میں آیا ہے اور جہاں بھی اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بیان کیا ہے تو اپنی توحید کے بیان کے ساتھ ہی اس کا بیان شروع کردیا ہے گزشتہ آیت 14 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ ہی والدین کے شکریہ کا بھی حکم دیا ہے اس سے ممکن تھا کہ کسی کو غلطی لگ جاتی کہ اگر والدین شرک کی تلقین کریں تو شرک بھی کیا جاسکتا ہے اس لئے غلطی کا ازالہ کردیا اور بتا دیا کہ ایسا ممکن ہے کہ کسی کے والدین مشرک ہوں اور وہ اولاد کو شرک کرنے پر مجبور کریں اگر ایسا ہو تو ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کیونکہ…
Read the full tafseer →صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (And be with them, in this world, with due fairness - 15).
It means: 'In the matter of the contravention of your faith and religion, do not obey parents. But, when it comes to worldly matters, such as serving parents physically or financially or in any other way necessary, do not fall short about it. Instead, deal with them in mundane matters according to recognized custom. Show no disrespect to them. Do not respond to what they say in a manner that hurts them unnecessarily. In other words, the pain you cause them by not accepting their insistence on…
Read the full tafseer →24 That is, "About wham you have no knowledge that he is My associate."
25 "All of you": the children as well as the parents.
26 For explanation, see E. N.'s 11 and 12 of Surah Al-'Ankabut.
Read the full tafseer →