Luqman 31:15

Luqman · from ayah 15

31:15

وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤی اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙ— فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ؗ— وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ— ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟وَاِنۡ جَاهَدٰكَ عَلٰٓى اَنۡ تُشۡرِكَ بِىۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا‌ وَصَاحِبۡهُمَا فِى الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا‌ۖ وَّاتَّبِعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَىَّ ‌ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge, do not obey them but accompany them in [this] world with appropriate kindness and follow the way of those who turn back to Me [in repentance]. Then to Me will be your return, and I will inform you about what you used to do.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:15

لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان دُنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اُس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو (خدائی میں) شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو، اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو، اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ اور اس شخص کے راستے پر چل جو میری طرف رجوع کرتا ہے، پھر میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے، تو میں تمہیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر وہ تجھ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے بھلائی کے ساتھ رفاقت کرنا مگر پیروی اس شخص کی راہ کی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہو۔ پھر تمہیں میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا۔ جس کے باب میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، تو ان کی بات نہ مانیو اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک رکھو۔ اور پیروی ان کے طریقہ کی کیجیو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور میں جو کچھ تم کرتے رہے ہو اس سے تم کو آگاہ کروں گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر وہ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے کسی ایسی چیز کو جس کے بارے میں تیرے پاس کوئی علم (اور سند) نہیں تو ان کا کہنا نہ ماننا ہاں دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرتے رہنا مگر (دین کے بارے میں) پیروی اسی شخص کے راستے کی کرنا جو میری طرف رجوع کئے رہے پھر تم سب لوگوں کو بہرحال لوٹنا میری ہی طرف ہے تب میں بتادوں گا تم سب کو وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کئے جانا۔ اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع کئے ہو۔ پھر تم (سب) کو میرے پاس آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہتے تھے میں تمہیں سب جتلا دوں گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر وہ تم پر دباؤڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک کرو اس چیز کو جس کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ رہو بہتر انداز میں اور پیروی کرو اس شخص کی جو میری طرف رخ کرچکا ہے پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر میں تمہیں جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا، ہاں دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو عمل تم کرتے رہے، میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if they press you to associate others with Me in My Divinity, (to associate) those regarding whom you have no knowledge (that they are My associates), do not obey them. And yet treat them well in this world, and follow the way of him who turns to Me in devotion. Eventually it is to Me that all of you shall return, and I shall then tell you all that you did.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

However, if they force you to ascribe partners to Me about whom you (can) have no (source of) knowledge, then do not obey them. Remain with them in this world with due fairness, but follow the way of the one who has turned himself towards Me. Then, towards Me is your return, so I shall tell you what you had been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

However, if they force you to ascribe partners to Me about whom you (can) have no (source of) knowledge, then do not obey them. Remain with them in this world with due fairness, but follow the way of the one who has turned himself towards Me. Then, towards Me is your return, so I shall tell you what you had been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not; but behave with them in the world kindly, and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience. Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if they strive with thee to make thee ascribe unto Me as partner that of which thou hast no knowledge, then obey them not. Consort with them in the world kindly, and follow the path of him who repenteth unto Me. Then unto Me will be your return, and I shall tell you what ye used to do -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge, do not obey them but accompany them in [this] world with appropriate kindness and follow the way of those who turn back to Me [in repentance]. Then to Me will be your return, and I will inform you about what you used to do.

— Saheeh International

If they try to force you to consider things equal to Me, which you cannot justify, equal to Me, do not obey them. Maintain lawful relations with them in this world and follow the path of those who turn in repentance to Me. To Me you will all return and I shall tell you all that you have done.

— Muhammad Sarwar

And if they contend with you that you should associate with Me what you have no knowledge of, do not obey them, and keep company with them in this world kindly, and follow the way of him who turns to Me, then to Me is your return, then will I inform you of what you did--

— Muhammad Habib Shakir

And if the twain strive with thee to make thee associate with Me that for which thou hast no knowledge, then obey them not. And bear them thou company in the world reputably, and follow thou the path of him who turneth penitently unto Me. Then unto Me is your return, and I shall declare unto you that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

"But if they strive to make thee join in worship with Me things of which thou hast no knowledge, obey them not; yet bear them company in this life with justice (and consideration), and follow the way of those who turn to me (in love): in the end the return of you all is to Me, and I will tell you the truth (and meaning) of all that ye did."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–16

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47؀) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 24 یعنی جو تیرے علم میں میرا شریک نہیں ہے۔ سورة لُقْمٰن 25 یعنی اولاد اور والدین، سب کو۔ سورة لُقْمٰن 26 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة عنکبوت، حواشی نمبر 11۔ 12۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) صاحبھما فی الدنیا معروفاً ، یعنی دین میں تو تم ان کا کہنا نہ مانو مگر دنیا کے کاموں میں مثلاً ان کی جسمانی خدمت یا مالی اخراجات وغیرہ اس میں کمی نہ ہونے دو ، بلکہ دنیوی معاملات میں اس کے عام دستور کے مطابق معاملہ کرو ان کی بےادبی نہ کرو، ان کی بات کا جواب ایسے نہ دو جس سے بلاضرورت دل آزاری ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک و کفر کے معاملہ میں نہ ماننے سے جو ان کی دل آزاری ہوگی وہ تو مجبوری کے لئے برداشت کرو، مگر ضرورت کو ضرورت کی حد میں رکھو، دوسرے معاملات میں ان کی دل آزاری سے پرہیز کرتے رہو۔ فائدہ اس آیت میں جو بچے کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بتلائی گئی ہے، یہ عام عادت کے مطابق ہے۔ اس میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–15

ووصینا الانسان بوالدیہ ج حملتہ امہ وھنا علی وھن و فضلہ فی عا میر ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیرا وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بااعلم فلا تطعھما وصا حبھما فی الدنیا معروفا فاتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فالبئکم بما کنتم تعملون (14۔ 15) یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خد کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انہوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظر انداز کرکے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انہوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایانِ شان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15-1یعنی مومنین کی راہ۔ 15-2یعنی میری طرف رجوع کرنے والوں کی پیروی اس لیے کرو کہ بالآخر تم سب کو میری ہی بارگاہ میں آنا ہے، اور میری ہی طرف سے ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کی جزا ملنی ہے۔ اگر تم میرے راستے کی پیروی کرو گے اور مجھے یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارو گے تو امید ہے کہ قیامت والے روز میری عدالت میں سرخرو ہو گے بصورت دیگر میرے عذاب میں گرفتار ہو گے۔ سلسلہ کلام حضرت لقمان کی وصیتوں سے متعلق تھا۔ اب آگے پھر وہی وصیتیں بیان کی جارہی ہیں۔ جو لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ درمیان کی دو آیتوں میں اللہ تبارک وتعالی نے جملہ معترضہ کے طور پر ماں باپ کے ساتھ احسان کی تاکید فرمائی۔ جس کی ایک وجہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: دین کے معاملے میں اگر والدین کوئی غلط بات کہیں تو ان کی بات ماننا تو جائز نہیں ہے ؛ لیکن ان کی بات رد کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو ان کے لئے تکلیف دہ نہ ہو، یا جس سے وہ اپنی توہین محسوس کریں، بلکہ نرم الفاظ میں ان کو بتادینا چاہیے کہ میں آپ کی یہ بات ماننے سے معذور ہوں اور صرف اتنا ہی نہیں اپنے عام برتاؤ میں بھی ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتے رہنا چاہیے، مثلاً ان کی خدمت کرنا، ان کی مالی امداد کرنا، وہ بیمارہوجائیں تو ان کی تیمار داری کرنا وغیرہ۔ 9: چونکہ والدین غلط راستے پر ہیں، اس لئے ان کا غلط راستہ اپنانا جائز نہیں ؛ بلکہ راستہ انہی کا اپنانا چاہیے جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15) قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیوں مانے۔ " 12 یعنی دین کے خلاف ماں باپ کا کہنا نہ مان۔ ہاں دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ نیکی اور سلوک کرتا رہ اسی مضمون کی آیت سورة عنکبوت میں گزر چکی وہاں کا فائدہ دیکھ لیا جائے۔ 13 یعنی پیغمبروں اور مخلص بندوں کی راہ پر چل ! دین کے خلاف ماں باپ کی تقلید یا اطاعت مت کر۔ 1 یعنی خدا کے ہاں پہنچ کر اولاد اور والدین سب کو پتہ لگ جائے گا کہ کس کی زیادتی یا تقصیر تھی۔ (تنبیہ) ووصینا الانسان سے یہاں تک حق تعالیٰ کا کلام ہے۔ پہلے لقمان کی وصیت بیٹے کو تھی۔ اور آگے بھی " یا بنی انھا ان تک۔ "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلَا تُطِعْہُمَا ” یہاں والدین کے اپنی اولاد کو شرک پر مجبور کرنے کے حوالے سے ”جہاد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی انتہائی کوشش کے ہیں۔ چناچہ اس لفظ میں والدین کی طرف سے اپنا موقف منوانے کے لیے لڑنے جھگڑنے اور ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کا مفہوم موجود ہے۔ البتہ یہاں بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ والدین کے تمام تر تقدس اور احترام کے باوجود انہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ چناچہ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کرنے لگیں تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 السماء کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة عنکبوت کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ نمبر 12 20 یعنی والدین بھی اگر شرک پر یا دین کے خلاف کسی بات کے لئے مجبور کریں تو ان کی بات اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے اچھا سلوک کیا جائے خواہ والدین کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً محتاج ہوں، تو ان کی مالی اعانت کی جائے۔ اور دین کے علاوہ دوسری باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے۔ ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے۔ ان سے محبت اور شفقت سے سلوک کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ اللہ کے مخلص بندوں کی راہ ہے۔ لہذا انہی کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ 21 یعنی والدین کو بھی اور اولاد کو بھی سب کو میرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ اطاعت والدین اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری شئے شہی۔ بلکہ اسلام کی مجلسی ومعاشری زندگی کی تو بنیاد ہی اتحاد زوجین کی طرح اطاعت والدین پر ہے۔ لیکن جب توحید پر زد پڑ رہی ہو تو وہاں یہ فریضہ بھی ساقط ہوجائے گا۔ اور اطاعت عین معصیت بن جائے گی ..... وصاحبھما فی الدنیا معروفا “۔ یہ حکم اس حال میں بھی قائم ہے کہ دنیوی حاجات ومعاملات یعنی خوردو نوش وغیرہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک برابر جاری رہے والدین کی شکر گزاری بہرصورت واجب ہے، بجز اس کے کہ وہ شکر گزاری اللہ کی ناشکری کے مستلزم ہوجائے۔ 15۔ (دینی معاملات میں) یعنی جو دین حق کا تابع اور اسی پر عامل ہو۔ معاملات دین میں مرافقت اسی کی کیا کرو۔ فقہاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما . اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ (عبادت میں) اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیری پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ مان۔ لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ یعنی جس معبود باطل کے شریک الوہیت ہونے کا تجھے علم بھی نہ ہو ‘ اس کو اللہ کی معبودیت میں شریک بنانے پر اگر ماں باپ حکم دیں تو ان کا کہا نہ مان۔ چہ جائیکہ ادلہ قطعیہ سے شرک ہونا جب تجھے معلوم ہے تو ایسی حالت میں ماں باپ کا حکم نہ ماننا تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے۔ اللہ کا حق ہر مخلوق کے حق پر غالب ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : خالق کی نافرمانی (کی صورت) میں مخلوق کا حکم ناقابل اطاعت ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر وہ دونوں بھی تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے کہ جس کے شریک ہونے کے لیے تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اور تو جانتا ہے کہ وہ میرا شریک نہیں تو پھر اس شریک کے کام میں ان کا کہا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرتے رہنا اور صرف اس ہی شخص کے طریقہ پر چلنا جو میری طرف اور میری اطاعت کی طرف رجوع کرتا ہو۔ یعنی رسول اکرم ﷺ کے نقش قدم پر چلنا اور پھر تم سب کو اور تمہارے والدین کو میرے پاس آنا ہے میں اس وقت تمہیں جتا دوں گا جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ۔۔ : والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کے بعد اس میں سے ایک چیز کا استثنا فرمایا کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور دیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے، تو خواہ جتنا زور لگا لیں ان کی بات مت ماننا۔ سورة عنکبوت کی آٹھویں آیت میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ”وَاِنْ جَاهَدٰكَ لتُشْرِكَ بِيْ“ ہے اور یہاں ”عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ“ ہے۔ ”علی“ کے لفظ میں ”لام“ کی بہ نسبت زیادہ قوت پائی جاتی ہے، اس لیے تفسیر میں اس بات کی طرف ”خواہ جتنا زور لگا لیں“ کے الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ سورة عنکبوت میں فتنے کا ذکر ہے، جو والدین کی طرف سے منت و سماجت اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 6۔ آیت وان جاھدک علی الخ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ آیت اور اس سے قبل والی آیت حضرت سعد بن ابی وقاص نے حق میں نازل ہوئیں جب آپ اسلام لائے ان کی والدہ جو حمنہ بنت ابی سفیان بن امیہ تھی اس نے قسم اٹھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی جس طرح ماقبل آیت کی تفسیر میں گزرا ہے۔ مسئلہ نمبر 7 وصاحبھما فی الدنیا معروفا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے مصاحبا معروفا یہ جملہ بولا جاتا ہے : صاحبتہ مصاحبۃ و مصاحبا، معروفا سے مراد جو اچھا ہو۔ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ کافر والدین اگر وہ فقیر ہوں تو مال سے جتنا ممکن ہو ان کی مدد کرنی لازم ہے نرم گفتگو اور نرمی سے اسلام کی طرف دعوت دینا لازم ہے حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–19

کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں 1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ جَاهَدٰكَ [اور اگر وہ دونوں کشمکش کریں تجھ سے ] عَلٰٓي اَنْ [اس (بات) پر کہ ] تُشْرِكَ بِيْ [تو شریک کرے میرے ساتھ ] مَا [اس کو ] لَيْسَ لَكَ [نہیں ہے تیرے لئے ] بِهٖ [جس کے بارے میں ] عِلْمٌ ۙ[کوئی علم ] فَلَا تُطِعْهُمَا [تو تو اطاعت مت کر ان دونوں کی ] وَصَاحِبْهُمَا [اور اس دونوں کے ساتھ رہ ] فِي الدُّنْيَا [دنیا میں ] مَعْرُوْفًا ۡ [بھلے طریقے سے ] وَّاتَّبِعْ [اور تو پیروی کر ] سَبِيْلَ مَنْ [اس کے راستے کی جس نے ] اَنَابَ [رخ کیا ] ۔ اِلَيَّ ۚ [میری طرف ] ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ [پھر میری طرف ہی تم لوگوں کا لوٹنا ہے ] فَاُنَبِّئُكُمْ [تو میں جتلا دوں گا تم لوگوں کو ] بِمَا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلآی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا) (اور اگر تیرے والدین تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کی فرمانبرداری نہ کرنا) دنیا میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کا سلسلہ چلا ہوا ہے، یہ ایک محض اندھی تقلید کے طور پر ہے، ماں باپ کو مشرک پاتے ہوئے شرک کا رواج دیکھتے ہیں تو خود بھی شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے جب مشرکین کو تنبیہ کی جاتی ہے اور شرک سے روکا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی پر پایا، علمی عقلی دلیل کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ وان جاھداک الخ، اگر ماں باپ تجھ پر زور ڈالیں اور تجھے شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے میں ان کی ہرگز اطاعت نہ کر البتہ دنیا میں ان کے دوسرے حقوق ادا کرتا رہ اور اطاعت صرف اسی کی کر جو توحید پر قائم ہو اور شرک سے بیزار ہو۔ ای رجع الی بالتوحید والاخلاص بالطاعۃ (روح ج 21 ص 87) ۔ پھر قیامت کے دن تم سب میرے سامنے حاضر ہوگے تو وہاں ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائیگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–15

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت لقمان (رح) کی حکمت کا ذکر ہوا ، اور اس ضمن میں ان کا اجمالی تعارف بھی عرض کہہ دیا تھا ، حضرت لقمان اللہ کے نیک بندے اور دانشور تھے ۔ اللہ نے ان کو حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا آج کی آیات میں لقمان کی وہ حکیمانہ باتیں کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور نصیحت کی تھیں ، ان نصائح میں اولین نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور یہی ان کے حکیم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم سے بیٹے کو منع فرمادیا ۔ شرک کی ممانعت : ارشاد ہوتا ہے اس بات کو یاد کرو (واذا لقمن لا یتہ جب کہ کہا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے وھو یعظہ اس حال میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ جَاہَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝ 0 ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا۝ 0 ۡوَّاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ۝ 0 ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 15 جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلاَ تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (لقمان : 14، 15) (اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا (اسی لیے ہم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : والدین کی فرمانبرداری کی حدود۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنم اور نسب کے حوالے سے انسان پر اس کے والدین کا بہت زیادہ حق ہے۔ لیکن انسان کا حقیقی خالق اور مالک ” اللہ “ ہے۔ اس نے انسانی افزائش کے لیے والدین کو اپنی تخلیق کا ذریعہ بنایا ہے اس لیے اس نے اپنی بندگی کے بعد ماں باپ کی سمع و اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لیکن والدین کی اطاعت کی بھی ایک حد مقرر فرمائی ہے۔ بیشک والدین یہودی، عیسائی یا کسی بھی دین پر ہوں ان کی سمع و اطاعت کرنے کا حکم ہے۔ اس وقت تک جب تک وہ کفرو شرک کا حکم نہ دیں۔ اگر وہ کفرو شرک، اور بدعات کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفرو شرک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ (اور اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک) بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (بنائے جس کی تیرے پاس دلیل نہ ہو) نفی علم سے نفی شریک مراد ہے یعنی تو میرے ساتھ اس چیز کو مت شریک ٹھہرا جس کی کچھ حقیقت نہیں۔ مراد اس سے اصنام ہیں۔ فَلاَ تُطِعْہُمَا (تو تو ان کا کہنا نہ مان) شرک کے سلسلہ میں وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا (اور ان کے ساتھ رہ دنیا میں خوبی کے ساتھ) معروف یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای صاحبھما صحابا معروفًا۔ اس کے معنی میں خوبی اور خوبصورت اخلاق اور حلم و حوصلہ اور بر ّو صلہ رحمی سب کچھ ہی داخل ہے۔ وَّا تَّبِعْ سَبِیْلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15، وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھماوصاحبھما فی الدنیا معروفا، اس سے مراد نیکی ہے صلہ رحمی اچھی معاشرت کا اختیار کرنا ہے۔ ، واتبع سبیل من اناب الی ، ، یعنی ایسادین جو اس کی اطاعت وفرماں برداری میں ہو اور نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اطاعت کرنا ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں کیو ن کہ جب یہ اسلام لائے تو حضرت عثمان حضرت طلحہ وزبیر سعید بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس آئے۔ جب ان سب نے کہا کہ اس شخص نے سچ کہا اور تم اس پر ایمان لاتے ہو ؟ فرمایا جی ہاں کہ یہ صادق ہیں تم بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

15۔ اوپر ماں باپ کے حق کے ماننے کا ذکر تھا اور یہ بھی ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ماں باپ کے حق پر مقدم ہے اس لیے فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھ سے شرک کرنے پر جھگڑیں تو ان کا کہا ہرگز نہ مان کیونکہ شرک ایسی بےسند چیز ہے جس کا پتہ دنیا میں کسی کو معلوم نہیں اس لیے اس باب میں ماں باپ کی پیروی مت کر ہاں معاملات دنیا میں تو ان کا ساتھی رہ اور ان کے ساتھ سلوک کرتا رہ دین میں ان لوگوں کی پیروی کر جو شرک سے بیزار اور ایمان والے ولوگ ہیں آخر تم سب اللہ کے پاس جزا و سزا کے لیے آنا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت عبداللہ بن حذافہ کے قصہ کی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر : 12 ۔ 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (واتبع سبیل من اناب الی۔ اور اس شخص کی راہ پر چلو جو میری طرف رجوع کیے ہوئے ہو) یہ قول باری اجماع المسلمین کی صحت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی راہ پر چلنے کا حکم دیا ہے اس کی مثال یہ قول باری ہے (ویتبع غیر سبیل المومنین ) اور وہ اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 ماں باپ کی اطاعت ضروری مگر محدود و مشروط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہیں مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جسکے لیے تمہارے پاس کوئی سند نہیں تو ان کی بات نہیں مانتا۔ اور ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں کہ اس کی شرکت کے بارے میں کوئی علم و سند ہو سکے کہ اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ لا بُرْہَانَ لَہ بِہٖ } ۔ (المومنون :117) ۔ پس اللہ کا شریک ماننا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ سو شرک کی کوئی اساس و بنیاد نہیں۔ لہذا تم اس بارے ان کی کوئی بات کبھی نہ ماننا کہ شرک سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہے۔ سو ماں باپ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–19

والدین کی عظمت تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

آیات 12 تا 19 اسرارومعارف اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔ حضرت لقمان اور حکمت : جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اور ظاہر ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کے شریک ہونے کی سند نہیں ہوسکتی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیا مانے۔ “8 کیونکہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ (دیکھیے عنکبوت آیت 8)9 یعنی ان کے مشرک ہونے کے باوجود دنیا کے عام معاملات میں ان سے شفقت، محبت اخلاق اور تواضح کا برتائو کر۔10 یعنی میری توحید کا قائل ہے اور پورے اخلاص سے میری اطاعت و بندگی کر رہا ہے۔ دین کے معاملہ میں ماں باپ کی تقلید جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:15) وان جاھدک۔ ان شرطیہ ہے جھدک فعل ماضی تثنیہ مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جاھد یجاھد مجاھدۃ (مفاعلہ) (اگر) وہ دونوں (تم سے) جہاد کریں یعنی جھگڑیں لڑیں ۔ تم پر زور دیں ۔ تم پر کوشش کریں۔ ان تشرک میں ان مصدریہ ہے۔ ما لیس لک بہ علم۔ میں ما بمعنی الذی ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ جس کا تجھے رلم نہیں۔ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ فلا تطعھما۔ جواب شرط۔ تو ان دونوں کا کہنا نہ مان۔ ان کی اطاعت مت کر۔ صاحبھما۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ۔ مفعول ۔ تو ان کی مصاحبت کر۔ تو ان کے ساتھ رہ۔ تو ان کے ساتھ زندگی گزار۔ معروفا : ای صحابا معروفا۔ اچھی مصاحبت۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–15

تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔ سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت۔ (ف 1) لقمان اپنے بیٹے سے کہتے ہیں، اے میرے بیٹے ، اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ پتھر میں یا آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا وسزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبررکھنے والا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوص پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو، فرمایا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی نماز کو اس کے ارکان، اوقات کے ساتھ قائم رکھنا، اور لوگوں کو موافق شرع نصیحت کرنا اور خلاف شرع سے منع کرنا اور اس نصیحت کے کرنے میں کچھ تکلیف لوگوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–16

[7] یعنی انبیاء و صالحین کی راہ پر چل۔ [8] اس پیراگراف کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس میں لقمان کے قول کیمزید تشریح ہے۔ آگے پھر لقمان کی نصیحت کا سلسلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–16

حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کے شریک الوہیت اور شرک فی العبادت ہونے کی تیرے پاس کوئی سند اور دلیل نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور ان کی اطاعت نہ کر ہاں دنیوی معاملات میں مثلاً خدمت اور انفاق وغیرہ میں بھلی طرح اور دستور کے موافق ان کا رفیق اور ہم صحبت رہ اور پیروی اسی شخص کی کر اور اسی کی راہ چل جو میری طرف رجوع ہوا پھر تم سب کو میری طرف آنا ہے اور تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پس میں تم کو امن تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی باوجود ان حقوق کے جو والدین کے تجھ پر ہیں اگر وہ کبھی تجھ کو میرا شریک ٹھہرانے پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 9۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کے استحقاق شرکت پر کوئی دلیل قائم ہو بلکہ عدم استحقاق پر دلیلیں قائم ہیں۔ 1۔ یعنی میرے احکام کا معتقد و عامل ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

والدین اگر شرک پر مجبور کریں تو یہ بات ان کی مانی نہیں جاسکتی : 15۔ والدین کی اطاعت کا حکم بار بار قرآن کریم میں آیا ہے اور جہاں بھی اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بیان کیا ہے تو اپنی توحید کے بیان کے ساتھ ہی اس کا بیان شروع کردیا ہے گزشتہ آیت 14 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ ہی والدین کے شکریہ کا بھی حکم دیا ہے اس سے ممکن تھا کہ کسی کو غلطی لگ جاتی کہ اگر والدین شرک کی تلقین کریں تو شرک بھی کیا جاسکتا ہے اس لئے غلطی کا ازالہ کردیا اور بتا دیا کہ ایسا ممکن ہے کہ کسی کے والدین مشرک ہوں اور وہ اولاد کو شرک کرنے پر مجبور کریں اگر ایسا ہو تو ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کیونکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُ‌وفًا (And be with them, in this world, with due fairness - 15). It means: 'In the matter of the contravention of your faith and religion, do not obey parents. But, when it comes to worldly matters, such as serving parents physically or financially or in any other way necessary, do not fall short about it. Instead, deal with them in mundane matters according to recognized custom. Show no disrespect to them. Do not respond to what they say in a manner that hurts them unnecessarily. In other words, the pain you cause them by not accepting their insistence on…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 That is, "About wham you have no knowledge that he is My associate." 25 "All of you": the children as well as the parents. 26 For explanation, see E. N.'s 11 and 12 of Surah Al-'Ankabut.

Read the full tafseer →