Explained with ayahs 14–16
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 22
یہاں سے پیراگراف کے آخر تک کی پوری عبارت ایک جملۂ معترضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے لقمان کے قول کی تشریح مزید کے لیے ارشاد فرمایا ہے۔
سورة لُقْمٰن 23
ان الفاظ سے امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچے کی مدت رضاعت دو سال ہے۔ اس مدت کے اندر اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تب تو حرمت رضاعت ثابت ہوگی، ورنہ بعد کی کسی رضاعت کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے گا۔ امام مالک سے بھی ایک روایت اسی قول کے حق میں ہے لیکن امام ابوحنیفہ نے مزید احتیاط کی خاطر ڈھائی سال کی مدت تجویز کی ہے، اور اس کے ساتھ ہی امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر دو…
Read the full tafseer →(آیت) ووصینا الانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھناً علیٰ وھن وفصلہ فی عامین۔ کا یہی مطلب ہے اور اس کے بعد (آیت) وان جاھداک میں یہ بتلایا ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے معاملہ میں والدین کی اطاعت بھی حرام ہے۔
اسلام کا بےنظیر قانون عدل
اور ایسی صورت میں کہ ماں باپ اس کو شرک و کفر پر مجبور کریں اور اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہو کہ ان کی بات مانو، تو طبعی طور پر انسان حد پر قائم نہیں رہتا۔ اس پر عمل کرنے میں اس کا امکان تھا کہ بیٹا والدین کے ساتھ بدکلامی یا بدخوئی سے پیش آئے ان کی توہین کرے۔ اسلام ایک قانون عدل ہے، ہر چیز کی ایک حد ہے، اس لئے شرک میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کے حکم کے ساتھ ہی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ووصینا الانسان بوالدیہ ج حملتہ امہ وھنا علی وھن و فضلہ فی عا میر ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیرا وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بااعلم فلا تطعھما وصا حبھما فی الدنیا معروفا فاتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فالبئکم بما کنتم تعملون (14۔ 15)
یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خد کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انہوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظر انداز کرکے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انہوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایانِ شان…
Read the full tafseer →14-1توحید و عبادت الٰہی کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید سے اس نصیحت کی اہمیت واضح ہے۔
14-2اس کا مطلب ہے رحم مادر میں بچہ جس حساب سے بڑھتا جاتا ہے، ماں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے جس سے عورت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ماں کی اس مشقت کے ذکر سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرتے وقت ماں کو مقدم رکھا جائے، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے۔
14-3اس سے معلوم ہوا کہ مدت رضاعت دو سال ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
Read the full tafseer →7: یہ حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان ایک جملہ معترضہ ہے جو اس مناسبت سے لایا گیا ہے کہ حضرت لقمان تو اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے اور توحید کا عقیدہ رکھنے کی تاکید کررہے تھے، دوسری طرف مکہ مکرمہ کے بعض مشرکین، جو حضرت لقمان کو ایک دانش مند شخص سمجھتے تھے، جب ان کی اولاد نے توحید کا عقیدہ اختیار کیا تو وہ انہیں دوبارہ شرک اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے، اور اولاد پریشان تھی کہ وہ ان ماں باپ کے ساتھ کیا سلوک کرے، اللہ تعالیٰ نے پہلے تو یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ہی انسان کو یہ تاکید کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر ادا کرے، کیونکہ اگرچہ اسے پیدا تو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ؛ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15)
قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے…
Read the full tafseer →10 یعنی ماں کا حق باپ سے بھی زیادہ ہے۔ وہ مہینوں تک اس کا بوجھ پیٹ میں اٹھائے پھری، پھر وضع حمل کے بعد دو برس تک دودھ پلایا۔ اس دوران میں نہ معلوم کیسی کیسی تکلیفیں اور سختیاں جھیل کر بچہ کی تربیت کی۔ اپنے آرام کو اس کے آرام پر قربان کیا۔ لہذا ضروری ہے کہ آدمی اولاً خدا تعالیٰ کا اور ثانیاً اپنے ماں باپ کا، خصوصاً ماں کا حق پہچانے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور ماں باپ کی خدمت و اطاعت میں بقدر استطاعت مشغول رہے جہاں تک اللہ کی نافرمانی نہ ہو کیونکہ اس کا حق سب سے مقدم ہے اور اسی کے سامنے سب کو حاضر ہونا ہے۔ انسان دل میں سوچ لے کہ کیا منہ لے کر وہاں جائے گا۔ (تنبیہ) دودھ چھڑانے کی مدت جو…
Read the full tafseer →آیت 14 وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج ”
یعنی والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی ہدایت کی۔ پھر والدین میں سے بھی والدہ کے حق کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ‘ کیونکہ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے سلسلے میں زیادہ مشقت اور تکلیف والدہ ہی کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔
وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ”
پہلے نو ماہ تک بچہ ماں کے پیٹ میں رہ کر جونک کی طرح اس کا خون چوستا رہا اور پھر پیدائش کے بعد دو سال تک مسلسل اس کے جسم کی توانائیاں دودھ کی شکل میں نچوڑتا رہا۔
اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ”
اب اللہ تعالیٰ اور والدین کے حقوق میں توازن کے سلسلے میں جو وضاحت اگلی آیت میں آرہی ہے وہ ہم سورة العنکبوت کی آیت 8 میں…
Read the full tafseer →16 آیت نمبر 14 اور 15 لقمان کی نصائح کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد معترضہ کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ کیونکہ ان آیات کا بھی بالواسطہ شرک کی مذمت ہی سے تعلق ہے۔
17 اللہ تعالیٰ کئی مقامات پر اپنے حق کے ساتھ والدین سے بہتر سلوک کا ذکر فرمایا ہے اس کی وجہ اور تشریح کے لئے دیکھئے سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی نیز درج ذیل حدیث بھی والدین کی اطاعت کی اہمیت پر پوری روشنی ڈالتی ہے :
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تین بچوں کے سوا کسی نے مہد میں کلام نہیں کیا۔ عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج۔ جریج ایک عابدی تھا۔ جس نے ایک عبادت خانہ رکھا تھا ایک دن اس کی ماں آئی اور وہ نماز…
Read the full tafseer →13۔ (اور اس وقت ادائے حقوق سے متعلق باز پرس ہوگی) (آیت) ” لی ولوالدیک “۔ معطوف ومعطوف علیہ کا خیال رہے۔ والدین کے حق کی یہ عظمت اس درجہ کی ہے کہ اس کا عطف خود حق تعالیٰ کے حق کی ادائی پر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” الی المصیر “۔ یہ یاد دلا کر گویا یہ بھی بتا دیا کہ حکم کو معمولی نہ سمجھنا۔ سوال اس کی بابت رکھا ہوا ہے۔ (آیت) ” حملتہ ....... عامین “۔ پورابطور جملہ معترضۃ کے ہے۔ والدہ کے حق کے بیان و توضیح میں ..... وھنا علی وھن “۔ ایک مختصر سے دو لفظی فقرہ میں حاملہ کی ساری معزوریوں اور ناتوانیوں کی جانب اشارہ آگیا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” فصلہ فی عامین “۔ یہ کوئی فقہی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…
Read the full tafseer →ووصینا الانسان بوالدیہ . اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا شکر ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ لقمان کے قول کے درمیان (ا اللہ کا قول) بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔
حملتہ امہ وھنا علی وھن . اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا۔ ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اس جملہ میں مؤکد ہدایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : میرے حسن معاشرت (یعنی حسن سلوک) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ فرمایا : تیری ماں ‘ پھر تیری ماں ‘ پھر تیری ماں ‘ پھر تیرا باپ ‘ اس کے بعد اقارب حسب درجہ (متفق علیہ) ۔
حضرت مغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لئے…
Read the full tafseer →اور ہم نے انسان یعنی سعد بن ابی وقاص کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی کیونکہ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری اور سختی پر سختی اور مشقت پر مشقت اٹھا کر اس کو اپنے پیٹ میں رکھا کیونکہ جب بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا جاتا ہے تو ماں کے لیے تکلیف اور کمزوری کا باعث ہوتا جاتا ہے اور پھر دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے۔ لہٰذا تو میری عبادت و فرمانبرداری کے ساتھ میرا اور ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری کے ساتھ ان کا شکر ادا کیا کر۔
میری ہی طرف تجھے اور تیرے والدین کو لوٹ کر آنا ہے۔
Read the full tafseer → وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ : اللہ عزوجل نے لقمان ؑ کی اپنے بیٹے کو وصیت ذکر فرمائی، جس میں انھوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی، تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے انسان کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی وصیت فرما دی، کیونکہ وہ دنیا میں اس کے آنے اور اس کی پرورش کا ذریعہ بنے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (23، 24) ، عنکبوت (8) اور انعام (151) یہاں ”وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ“ کے بعد اس وصیت کی تفسیر ”ان اشکر لی والدیک“ کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی ہم نے انسان کو اس کے…
Read the full tafseer →اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ووصیناالانسان بوالدیہ یہ دونوں آیات حضرت لقمان (علیہ السلام) کی وصیت کے درمیان جملہ معترضہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بھی ان چیزوں میں شامل ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو وصیت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی، یعنی حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو اور شرک کرنے میں اپنے والدین کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طاعت کی وصیت کی ان تمام امور میں جو شرک نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : ہم نے حضرت لقمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں
1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا [اور ہم نے تاکید کی ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ ۚ [اس کے والدین کے بارے میں ] حَمَلَتْهُ [اٹھایا اس کو ] اُمُّهٗ [اس کی ماں نے ] وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ [تکلیف پر تکلیف جھیلتے ہوئے ] وَّفِصٰلُهٗ [اور اس کا دودھ چھڑانا ] فِيْ عَامَيْنِ [دو سالوں میں ] اَنِ اشْكُرْ لِيْ [کہ تو کر شکر میرا ] وَلِوَالِدَيْكَ ۭ [اور اپنے والدین کا ] اِلَيَّ الْمَصِيْرُ [میری طرف ہی لوٹنا ہے ] ۔
Read the full tafseer →والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
(وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ ) (الآیۃ) اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا رہ، ان کی خدمت کر، حسن سلوک کا رویہ اختیار کر، انسان کو سمجھنا چاہیے کہ کبھی وہ حاجت مند تھا اس وقت اس کی ماں نے اس کی خدمت کی، اس کی ضرورتوں کا خیال رکھا اور اس کے لیے تکلیفیں برداشت کیں، ایک والدہ ہی کی مصیبت کو دیکھ لو اس نے زمانہ حمل میں پیٹ میں رکھا، ضعف پر ضعف کو برداشت کیا کیونکہ جیسے جیسے حمل کی مدت بڑھتی چلی جاتی ہے اس کے ساتھ عورت کا ضعف بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں جو دعا تلقین فرمائی ہے اس میں ماں اور باپ دونوں کی محنت اور مشقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →12:۔ ووصینا الخ :۔ یہ ادخال الٰہی ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ کا حق ادا کرنے کی نصیحت کی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق ادا کرنے اور ان سے حسن سلوک کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ والدین کا اگرچہ بہت حق ہے انہوں نے تیری پرورش کی اور تیری خاطر بڑی تکلیفیں اٹھائیں اس لیے ان کی اطاعت اور ان سے نیک سلوک تجھ پر فرض ہے لیکن اگر وہ تجھ کو شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے ہرگز ان کی اطاعت نہ کرنا۔ وھنا علی وھن، کمزوری پر کمزری یعنی جس قدر جنین سے نشو و نما پاتا ہے اسی قدر والدہ کمزوری کا شکار ہوتی جاتی ہے۔ پھر دو سال بچے کو دودھ پلاتی ہے۔ والدہ چونکہ بچے کی خاطر بہت تکلیف اٹھاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت لقمان (رح) کی حکمت کا ذکر ہوا ، اور اس ضمن میں ان کا اجمالی تعارف بھی عرض کہہ دیا تھا ، حضرت لقمان اللہ کے نیک بندے اور دانشور تھے ۔ اللہ نے ان کو حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا آج کی آیات میں لقمان کی وہ حکیمانہ باتیں کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور نصیحت کی تھیں ، ان نصائح میں اولین نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور یہی ان کے حکیم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم سے بیٹے کو منع فرمادیا ۔
شرک کی ممانعت :
ارشاد ہوتا ہے اس بات کو یاد کرو (واذا لقمن لا یتہ جب کہ کہا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے وھو یعظہ اس حال میں…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ 0 ۚ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰي وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ 0 ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14
وصی
الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى الغیر بما يعمل به مقترنا بوعظ من قولهم : أرض وَاصِيَةٌ: متّصلة النّبات، ويقال : أَوْصَاهُ ووَصَّاهُ. قال تعالی: وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] وقرئ :
وأَوْصَى «2» قال اللہ عزّ وجلّ : وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ [ النساء/ 131] ، وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ [ العنکبوت/ 8] ، يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ [ النساء/ 11] ، مِنْ بَعْدِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلاَ تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (لقمان : 14، 15)
(اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا (اسی لیے ہم نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حقوق اللہ کے بعد سب سے پہلے والدین کے حقوق ہیں اس لیے ان کے بارے میں نصیحت کی جا رہی ہے۔
اردوزبان میں وصیّت سے مراد وہ بات لی جاتی ہے جو فوت ہونے والا شخص کسی کے بارے میں اپنے ورثاء کو نصیحت کرتا ہے لیکن عربی زبان میں ہر نصیحت کے لیے وصیّت اور نصیحت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بندگی کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق اس کے والدین کا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر توحید باری تعالیٰ کے ذکر کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ والدین میں جس شخصیت کا حق فائق ہے وہ انسان کی ماں ہے کیونکہ ماں اپنے بچے کے لیے بڑی مشقت برداشت…
Read the full tafseer →ماں ‘ باپ کی خدمت کرو :
14: وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ (اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق تاکید کی ہے) ۔ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ (اس کی ماں نے ضعف پر ضعف برداشت کر کے اس کو اٹھایا) اس کو اٹھایا اس حال میں کہ وہ کمزوری در کمزوری اٹھا رہی تھی یعنی اس کی کمزوری روبترقی تھی اور بڑھ رہی تھی۔ جوں جوں حمل بڑھتا ہے اور بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو بوجھ اور ثقل زیادہ ہوجاتا ہے۔ وَّ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ (اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے) دو سالوں کی تکمیل پر اس کا دودھ چھوڑا دیا جاتا ہے۔ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَا لِدَیْکَ (تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکرگزاری کیا کر) یہ…
Read the full tafseer →14، ووصینا الا انسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن، ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے ایک سختی کے بعد دوسری سختی ۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ ضعف پر ضعف سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ مشقت پر مشقت سے کیا ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس پر ضعف اور مشقت لاحق ہوجاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے حمل ضعف ہے اس کو اٹھانا بھی ضعف ہے اور وضع حمل بھی ضعف ہے۔ ، وفصالہ، اس کا پرورش پانا۔ ، فی عامین ان اشکرلی ولو الدیک الی المصیر، اس کی طرف لوٹنے والی۔ اس کی تفسیر میں سفیان بن عینیہ نے کہا کہ جس نے پانچوں نمازیں پڑھ لیں اس نے اللہ کا شکر ادا کردیا اور جس نے نمازوں کے بعد ماں باپ کے لیے دعائے خیر کی اس نے…
Read the full tafseer →14۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان ( علیہ السلام) کی اس نصیحت کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی انہوں نے اول اس کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا اور کہا کہ شرک بڑا ظلم ہے لقمان (علیہ السلام) کی نصیحت ماں باپ کے حق سے خالی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے لقمان کی نصیحت میں اتنی بات اور بڑھا دی کہ ماں باپ کا حق بھی مانو جس سے معلوم ہوا کہ اول حق اللہ تعالیٰ کا ہے اور بعد اس کے ماں باپ کا حق ہے پھر ماں کا حق جدا جتلانے کے لیے فرمایا کہ ماں نے بچہ کو پیٹ میں رکھ کر بوجھ اٹھایا پھر دو برس تک دودھ پلا کر تکلیف اٹھائی اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ماں کی محنت و مشقت کا اس لیے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر : 12 ۔ 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →24 ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کردی۔ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے " کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے اور دن گزرتے جاتے ہیں اس کی کمزوری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پھر آخر میں وضع حمل کی وہ تکلیف و کمزوری اس پر مستزاد جو کہ بعض اوقات اس کو موت تک بھی پہنچا دیتی ہے۔ یہ دونوں آیتیں حضرت لقمٰن کی موعظمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ذکر فرمائی گئی ہیں۔ لقمٰن نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے وقت اللہ پاک کی شکرگزاری کا حق ادا کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
والدین کی عظمت
تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19
اسرارومعارف
اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔
حضرت لقمان اور حکمت :
جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…
Read the full tafseer →ف 4 اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ والدین کی شکر گزاری کا حکم دینا ان کے حق کے بڑا ہونے کی دلیل ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یہ کلام بیچ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لقمان نے بیٹے کو ماں باپ کا حق نہ کہا تھا کہ اپنی غرض معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک سے پیچھے اور نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق نہ کہا تھا کہ اپنی فرض معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک سے پیچھے اور نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق فرما دیا کہ اللہ کے حق کے بعد ماں باپ کا حق ہے اور رسول اور مشرد کا حق اللہ ہی کی طرف سے ہے کہ اس کے نائب ہیں۔ (نیز دیکھیے سورة اسرائیل آیت 24 ۔ 23 و عنکبوت آیت 8)5 اس لئے معلوم ہوا کہ بچے کی مدت رضاعت دو…
Read the full tafseer →(31:14) وصینا۔ ماضی جمع متکلم توصیۃ (تفعیل) ہم نے حکم دیا۔ جیسا کہ آیت ولقد وصینا الانسان (29:18) میں بدیں معنی آیا ہے۔ یعنی ۔ اور ہم نے انسان کو حکم دیا۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنا۔ اوصاہ (افعال) اور وصاہ (تفعیل) بمعنی وصیت کرنے کے بھی ہیں۔ جیسے من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین (4:10) وصیت کی تعمیل کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے۔ وصی ب کسی کام کا عہد لینا۔ کسی کام کا حکم دینا۔
ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم انسان کو حکم دیا اس کے ماں باپ کے متعلق (ان کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کا)
وھنا۔ اسم مصدر۔ (باب ضرب) کمزوری و کمزور ہونا۔ منصوب بوجہ امہ کے حال ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔
سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
حقوق والدین۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے باپ کے احسان تو ہوش کے زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں کھلاتا پہناتا ہے ماں کے احسان اس کے عالم بیخبر ی میں اس سے بڑھ کر تھے، اس لیے ان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا، ضعیف پر ضعف اٹھائے کس لیے کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے ضعف زیادہ ہوتا جاتا ہے اور دو برس تک اس کے پاس رہا جدا نہ ہوا، دودھ پلاتی اور ساتھ سلاتی رہی، اللہ نے خاص طور پر ماں کی محنت مشقت کا اس لیے ذکر کیا کہ بچہ ماں کے احسانوں کو نہ بھولے، ماں کو حق جتلانے کے بعد انسان کو فرمایا کہ اللہ کا اور اپنے ماں باپ کا شکر کر، تجھ کو میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[5] لقمان کی اس خاص نصیحت کا ذکر دو مناسبتوں کی بناء پر یہاں کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی اور ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص بھی اپنے بیٹے کو غلط اور جھوٹی بات نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے ان کا اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک شرک واقعی ایک بدترین فعل تھا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بہت سے ماں باپ اس وقت اپنی اولاد کو دین شرک پر قائم رہنے اور نبی ﷺ کی دعوت توحید سے منہ موڑ لینے پر مجبور کر رہے تھے جیسا کہ آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے ان کو بتایا جارہا ہے کہ تمہارے ہاں کے ایک مشہور دانشمند نے تو اپنی اولاد کی خیر خواہی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔
Read the full tafseer →14۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید اور تقیید کی ہے اس کی والدہ نے سستی اور ضعف پر ضعف برداشت کرتے ہوئے اس کو حمل میں رکھا اور پھر دو سال میں اس کادودھ چھوٹتا ہے اے انسان تو میرا اور اپنے ماں باپ کا حق مانا کر اور شکر گزار رہا کر کیونکہ آخر میری ہی طرف واپس آنا ہے ۔ جب عورت کو پیٹ رہتا ہے تو اس کو روز بروز تھکن سستی اور ضعف بڑھتا رہتا ہے اسی وجہ سے اس کی شکر گزاری کو اپنے ساتھ جمع فرمایا کہ میرے شکر کے ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کا بھی شکر ادا کرتا رہ پھر پیدا ہونے کے بعد عام طور پر دو سال تک دودھ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اگرچہ گنجائش ڈھائی سال تک ہے۔ کما فی الفقہ۔
شکر کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →ف 7۔ کہ ان کی اطاعت اور خدمت کرے، کیونکہ انہوں نے اس کے لئے بڑی مشقتیں جھیلی ہیں بالخصوص ماں نے۔
8۔ حق تعالیٰ کی شکر گزاری تو عبادت و اطاعت حقیقیہ کے ساتھ، اور ماں باپ کی خدمت دادائے حقوق شرعیہ کے ساتھ۔
Read the full tafseer →لقمان (علیہ السلام) کے وعظ کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد بیان کیا جا رہا ہے :
14۔ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو از راہ شفقت تبلیغ شروع کی تھی کہ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے والدین کی عزت واحترام کرنے کا بیان فرما دیا کہ اولاد کو اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا جو حکم دیا گیا ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے وہ ایسے ہیں نہیں بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ والدین اولاد کے لئے نہایت ہی شفیق اور نہایت ہی پیار کرنے والے ہوتے ہیں ‘ اولاد کی تکلیف ان سے ایک منٹ بھی برداشت نہیں ہوتی اولاد کے ساتھ دنیوی محبت کا یہ حال ہے کہ ماں نے کتنی صعوبت برداشت…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴿14﴾ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿15﴾
And We commanded man (to be good) about his parents. His mother carried him facing weakness after weakness, and his weaning is in two years: "Be grateful to Me and to your parents. To…
Read the full tafseer →22 The whole passage from lure to the end of the paragraph is a parenthesis, which AIIah has inserted as a further explanation of the saying of Luqman.
23 From these words, Imam Shafe'i, Imam Ahmad, Imam Abu Yusuf. and Imam Muhammad have drawn the conclusion that the suckling period of the child is two years. If a child has been suckled by a woman within this period, they will be forbidden for each other, but if outside and beyond this period, they will not be so. A saying of Imam Malik also supports this. But Imam Abu Hanifah has proposed the period of two and a half years as a precaution,…
Read the full tafseer →