حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا کہ انکوحکمت عنایت فرمائی گئی تھی۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 20
لقمان کی حکیمانہ باتوں میں سے اس خاص نصیحت کو دو مناسبتوں کی بنا پر یہاں نقل کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی اور ظاہر بات ہے کہ آدمی دنیا میں سب سے بڑھ کر اگر کسی کے حق میں مخلص ہوسکتا ہے تو وہ اس کی اپنی اولاد ہی ہے۔ ایک شخص دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، ان سے منافقانہ باتیں کرسکتا ہے، لیکن اپنی اولاد کو تو ایک برے سے برا آدمی بھی فریب دینے کی کوشش کبھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے لقمان کا اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک شرک فی الواقع ایک بد ترین فعل تھا اور اسی بنا پر انہوں نے سب سے پہلی جس چیز کی اپنے لخت جگر کو تلقین کی وہ…
Read the full tafseer →ان کلمات حکمت میں سب سے اول تو عقائد کی درستگی ہے، اور ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو سارے عالم کا خالق ومالک بلاشرکت غیرے یقین کرے، اس کے ساتھ کسی غیر اللہ کو شریک عبادت نہ کرے کہ اس دنیا میں اس سے بڑا بھاری ظلم کوئی نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کسی مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرائے، اس لئے فرمایا یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک الظلم عظیم، آگے حضرت لقمان کی دوسری نصائح اور کلمات حکمت آئے ہیں، جو اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے فرمائے تھے۔ درمیان میں حق تعالیٰ نے شرک کے ظلم عظیم ہونے اور کسی حال میں اس کے پاس نہ جانے کی ہدایات کے لئے ایک اور حکم ارشاد فرمایا
والدین کی شکر گزاری اور اطاعت فرض…
Read the full tafseer →واذقال لقمن لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (13)
جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے اسی طرح شکر کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے۔ بندے کو تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے ملتی ہیں اس وجہ سے جس طرح اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرے۔ دوسروں سے اگر بندے کو کوئی نفع پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے پہنچتا ہے اس وجہ سے شکر کا اصل سزا وار اللہ ہی ہے۔ دوسروں کا حق اللہ تعالیٰ کے حق کے تحت ہے۔ اللہ کا حق سب سے بڑا ہے اگر کوئی شخص خدا کے حق میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو وہ سب سے بڑے حق کو…
Read the full tafseer →13-1اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں۔
13-2یہ بعض کے نزدیک حضرت لقمان ہی کا قول ہے اور بعض نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) 6۔ الانعام :82) کے نزول کے تعلق سے وارد ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہاں ظلم سے مراد ظلم عظیم ہے اور آیت (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) کا حوالہ دیا۔ مگر درحقیقت اس سے اللہ…
Read the full tafseer →6: بعض اوقات اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے علاوہ اپنے خاص بندوں پر بھی الہام فرماتے ہیں جو انبیاء کرام پر نازل ہونے والی وحی کی طرح تو حجت نہیں ہوتا، لیکن اس کے ذریعے عام ہدایات دی جاتی ہیں، جو وحی کے کسی حکم کے خلاف نہ ہوں۔
ظلم کے معنی یہ ہیں کسی کا حق چھین کر دوسرے کو دے دیا جائے، شرک اس لحاظ سے واضح طور پر بہت بڑا ظلم ہے کہ عبادت اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا یہ حق ادا کرنے کے بجائے خود اسی کے بندوں اور اسی کی مخلوقات کو دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →واذ قال لقمن ۔۔۔۔۔ لظلم عظیم (13)
یہ ایک ایسا وعظ ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے کیونکہ کوئی والد اپنے بیٹے کے لیے اچھائی کے سوا اور کوئی ارادہ ہی نہیں کرسکتا۔ ایک والد اپنے بیٹے کے لیے ناصح مشفق ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ہیں لقمان حکیم جو اپنے بیٹے کو شرک سے منع کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ شرک دراصل ایک عظیم ظلم ہے۔ وہ اس بات کو دو بار اپنی تقریر میں دہراتے ہیں ۔ ایک بار تو وہ شرک سے روک کر اس کی علت بتاتے ہیں اور دوسری تاکید لفظ ان اور لام تاکید کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو حضرت محمد ﷺ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ ہیں کہ ناحق مجادلہ کرتے ہیں اور اس عقیدے پر زور دینے…
Read the full tafseer →8 معلوم نہیں بیٹا مشرک تھا ؟ سمجھا کر راہ راست پر لانا چاہتے تھے یا موحد تھا ؟ اسے توحید پر خوب مضبوط کرنے اور جمائے رکھنے کی غرض سے یہ وصیت فرمائی ؟
9 اس سے بڑھ کر بےانصافی کیا ہوگی کہ عاجز مخلوق کو خالق مختار کا درجہ دے دیا جائے اور اس سے زیادہ حماقت اور ظلم اپنی جان پر کیا ہوگا، کہ اشرف المخلوقات ہو کر خسیس ترین اشیاء کے آگے سر عبودیت خم کردے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
Read the full tafseer →آیت 13 وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ ”
یہاں سے ان نصیحتوں کا آغاز ہوتا ہے جن میں حضرت لقمان اپنے بیٹے سے مخاطب ہیں۔ اگرچہ یہاں پر اس کا ذکر نہیں کیا گیا ‘ لیکن انہوں نے یہ نصیحتیں اپنے انتقال کے وقت کی تھیں۔ ہر شخص فطری طور پر چاہتا ہے کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنی اولاد کو اپنے ورثے کے بارے میں ضروری ہدایات دے جائے۔ جیسے عام طور پر بڑے بڑے کارخانہ دار اور دولت مند لوگ اپنے کاروبار ‘ اثاثہ جات اور اور لین دین کے معاملات سے متعلق وصیت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ چناچہ حضرت لقمان جیسے حکیم انسان نے بھی ضروری سمجھا کہ اپنے عمر بھر کے غوروفکر اور دانائی کا نچوڑاورُ لبّ لباب موت سے پہلے…
Read the full tafseer →15 ایک دفعہ حضرت لقمان نے چند نصیحتیں اپنے بیٹے کو فرمائیں کہ وہ اتنی اہم تھیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا۔ دنیا میں اولاد ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے متعلق انسان انتہائی خلوص برتتا ہے اور نفاق نہیں کرسکتا۔ اور اولاد ہی کے متعلق اس کی آرزو ہوسکتی ہے کہ وہ ہر بھلائی کی بات میں اس سے آگے نکل جائے۔ حتیٰ کہ ایسی آرزو انسان اپنے حقیقی بہن بھائیوں اور دوستوں تک سے بھی نہیں کرسکتا۔ چناچہ پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وہ یہ تھی کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ بنانا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی ناانصافی اور اندھیر کی بات یہی شرک ہی ہے۔ شرک مجسم ظلم اور سب سے برا ظلم ہے۔ جیسا…
Read the full tafseer →12۔ (کہ اس کے سامنے اور سارے ظلم ہیچ ہیں) ظلم کی حقیقت ہے وضع الشیء فی غیر محلہ یعنی کسی شے کو اس کے خلاف محل رکھنا اور شرک میں اس کا ظہور کامل ترین صورت میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…
Read the full tafseer →واذ قال لقمن لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشکر لظلم عظیم . اور یاد کرو
جب لقمان نے اپنے بیٹے سے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا : میرے پیارے بیٹے ! اللہ کا کسی کو ساجھی مت قرار دیا ‘ شرک بڑا ظلم ہے۔
لقمان کے بیٹے کا نام انعم یا اشکم یا ماثان تھا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ لقمان کا بیٹا مشرک تھا پھر باپ کی نصیحت کی وجہ سے مؤمن ہوگیا۔ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص (مناسب) مقام کے علاوہ کسی دوسری جگہ رکھ دینا خواہ اس میں کمی کردی جائے یا بیشی یا مکان میں تغیر کردیا جائے یا وقت بدل دیا جائے۔ ظلم کا اطلاق حق سے تجاوز کرنے پر بھی ہوتا ہے۔ تجاوز تھوڑا ہو یا بہت اسی لئے چھوٹے گناہ کو ظلم…
Read the full tafseer →اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سلام کو برائی سے روکتے ہوئے اور نیکی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا کیونکہ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سزا کے اعتبار سے بڑا بھاری ظلم ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ۔۔ : ”وَعَظَ“ کا معنی کسی چیز سے روکنا ہے، جس میں ترغیب کے ساتھ ڈرانا بھی ہو، جیسا کہ اللہ نے نوح ؑ کو بیٹے کے لیے سفارش پر فرمایا : (فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ ھود : 46 ] ”پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بیشک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔“ اور جیسا کہ فرمایا : (فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا) [ النساء : 63 ] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں نصیحت کر اور ان سے ایسی…
Read the full tafseer →آیت واذقال لقمن لابیہ وھو یعظہ سہیلی نے کہا : ان کے بیٹے کا نام ثاران تھا ؛ یہ طبری اور قتبی کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : اس کا نام شکم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام انعم تھا (2) ؛ یہ نقاش نے حکایت بیان کی ہے۔ قشیری نے کہا : ان کا بیٹا اور ان کی بیوی دونوں کافر تھے آپ ان دونون کو لگا تار نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگئے۔
میں کہتا ہوں : اس امر پر اللہ تعالیٰ کا فرمان لاتشرک بااللہ ان الشرک لظلم عظیم بھی دلالت کرتا ہے۔
صحیح مسلم اور دوسری کتب میں حضرت عبداللہ ؓ سے روایت مروی ہے کہا (3): جب یہ آیت الذین آمنوولم یلبسو ایمانھم بظلم (الانعام : 82) نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر…
Read the full tafseer →لقمان (علیہ السلام) کی نصیحتیں
30۔ احمد والبیہقی نے شعب الایمان میں عود بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے امید رکھو اور اس میں بھی اس کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈر کہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو بیٹے نے عرض کیا کہ اے میرے والد میں یہ کرسکتا ہوں جبکہ میرا دل ایک ہے اور کہا مومن ایسے ہی ہوتا ہے کہ اس کے دو دل ہوتے ہیں ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے امید رکھتا ہے اور ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
31۔ البیہقی نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اکثر…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ [اور جب کہا لقمان نے ] لِابْنِهٖ [اپنے بیٹے سے ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] يَعِظُهٗ [نصیحت کر رہا تھا اس کو ] يٰبُنَيَّ [اسے میرے بچے ] لَا تُشْرِكْ [تو شریک مت کرنا ] بِاللّٰهِ ڼ [اللہ کے ساتھ (کسی کو)] اِنَّ الشِّرْكَ [بیشک شرک ] لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ [یقینا ایک عظیم ظلم ہے ] ۔
نوٹ۔ 2: حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان میں یعنی آیت۔ 15 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم بیان فرمایا کہ اگرچہ ہم نے اولاد کو ماں باپ کی اطاعت اور خدمت کی بڑی تاکید کی ہے لیکن شرک ایک ایسا ظلم عظیم ہے کہ وہ ماں باپ کے مجبور کرنے سے بھی جائز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو اس کے والدین اللہ تعالیٰ کے سا تھ کسی…
Read the full tafseer →شرک ظلم عظیم ہے
اس کے بعد حضرت لقمان (علیہ السلام) کی ایک اہم نصیحت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا نہ اعتقادیات میں نہ عبادات میں، (اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) (بلاشبہ شرک ظلم عظیم ہے) جس کسی چیز کو بےمحل استعمال کیا جائے اسے ظلم کہتے ہیں اور اس سے بڑا کیا ظلم ہوگا کہ اپنے خالق اور اپنے مالک کو چھوڑ کر اپنے جیسی مخلوق کی عبادت کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →11:۔ واذ قال لقمان الخ، یہاں سے لے کر رکوع کے آخر تک لقمان کی حکیمانہ پند و نصائح کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت میں حضرت لقمان نے بلاشبہ حکیمانہ انداز اختیار کیا۔ سب سے پہلے خالق حقیقی کا حق بتایا۔ اس کے بعد عوسری باتوں کی وصیت کی۔ لا تشرک باللہ اللہ کے عبادت، دعاء اور پکار میں کسی کو شریک مت بنانا بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ امالاشراک فوضع المعبودیۃ فی غیر اللہ تعالیٰ ولا یجوز ان یکون غیرہ معبودا اصلا (کبیر ج 6 ص 735) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت لقمان (رح) کی حکمت کا ذکر ہوا ، اور اس ضمن میں ان کا اجمالی تعارف بھی عرض کہہ دیا تھا ، حضرت لقمان اللہ کے نیک بندے اور دانشور تھے ۔ اللہ نے ان کو حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا آج کی آیات میں لقمان کی وہ حکیمانہ باتیں کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور نصیحت کی تھیں ، ان نصائح میں اولین نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور یہی ان کے حکیم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم سے بیٹے کو منع فرمادیا ۔
شرک کی ممانعت :
ارشاد ہوتا ہے اس بات کو یاد کرو (واذا لقمن لا یتہ جب کہ کہا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے وھو یعظہ اس حال میں…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَہُوَيَعِظُہٗ يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللہِ 0ۭ ؔ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ 13
( ابْنُ )
أصله : بنو، لقولهم في الجمع :
أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس…
Read the full tafseer →وَاِذْا قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَھُوَیَعِظُہٗ یٰـبُـنَیَّ لاَ تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ (لقمان : 13)
(اور یاد کرو جبکہ لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ )
لقمان کی پہلی نصیحت
اللہ تعالیٰ جس شخص کو حکمت سے بہرہ ور فرماتا ہے اسے یہ بات جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ اصل حکمت اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے۔ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے شکر کے راستے پر چل نکلتا ہے تو اس پر خودبخود یہ بات کھل جاتی ہے کہ جب تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا پروردگار ہے اور ہر نعمت پر اس کا شکر واجب ہے تو یہ کیسے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سب سے بڑی حکمت کی بات یہ ہے کہ انسان اپنے رب پر بلاشرکت غیرے ایمان لائے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔ جس نے نعمتوں کا اعتراف کیا اور اپنے رب کا شکرادا کیا یقیناً وہ شرک سے بچ جائے گا اور یہی سب سے بڑی دانائی ہے۔
حضرت لقمان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ اور مفسرین کی غالب اکثریت کی رائے ہے کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ صرف نیک اور انتہائی دانشور انسان تھے۔ اہل عرب نہ صرف ان کی دانشمندی کے قائل تھے بلکہ بوقت ضرورت ان کے اقوال کا حوالہ بھی دیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس لیے حضرت لقمان کے ارشادات کا ذکر کیا ہے تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہو کہ جس توحید کی وجہ سے ہم نبی ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →13: وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ (اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا ) ۔
نحو : اذیہ اذکر فعل محذوف کے متعلق ہے۔ ابنہؔ بیٹے کا نام انعم یا اشکم تھا۔
وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰـبُنَیَّ (اور وہ اس کو نصیحت فرما رہے تھے اے بیٹے ! )
قراءت : یا بُنَی یہ مکی کی قراءت ہے یَابُنَیَّ یہ حفص کی قراءت ہے۔ تمام قرآن میں یہ لفظ فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے گا۔
شرک سے گریز کرو :
لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرا بیشک شرک کرنا بڑا بھاری گناہ ہے) کیونکہ یہ اس کے درمیان جو ہر نعمت کا حقیقی مالک ہے اور اس کے درمیان جو کسی ایک نعمت کا بھی مالک نہیں برابری کرنا…
Read the full tafseer →تفسیر۔ 13، واذ قال لقمان لابنہ، اس کا نام انعم تھا بعض نے کہا مشکم ہے۔ ، وھو یعظہ یا بنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم، ابن کثیر نے پڑھا، یابنی لاتشرک باللہ ، یاء کے سکون کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ اور یاقیوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ، یابنی انھا، یاء کے فتحہ کے ساتھ حفص نے پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یابنی اقم الصلوۃ ، یاء کے فتحہ کے ساتھ ابن کثیر اور حفص نے یہی پڑھا اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12‘ 13۔ اوپر کی آیتوں میں شرک کی مذمت تھی اور لقمان ؓ کی نصیحت میں بھی شرک کی مذمت ہے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں کے ساتھ لقمان ( علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور لقمان (علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہے سوا عکرمہ کے سلف میں اور کوئی لقمان ( علیہ السلام) کے نبی ہونے کا قائل نہیں ہے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی ایک روایت 1 ؎ بیان کی گئی ہے جس سے لقمان ( علیہ السلام) کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے یہ عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پر ور دہ ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ کے دونوں پاؤں کاٹھ میں ٹھوک دیا کرتے تھے اور عکرمہ کو قرآن شریف کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر : 12 ۔ 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →20 اور ناشکری کا نقصان خود ناشکرے انسان کو ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو کوئی ناشکری کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کہ اس ذات اقدس و اعلیٰ ۔ جل و علا ۔ کو تمہارے یا کسی کے بھی شکر وسپاس اور حمد و ثنا سے کسی فائدے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ تو خود تمہارے اپنے ہی لئے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْہَا } ۔ (حم السجدۃ : 46) وغیرہ۔ اور وہ وحدہ لاشریک ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی اور بےنیاز ہے۔ اور وہ حمید یعنی اپنی ذات میں آپ محمود اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
والدین کی عظمت
تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19
اسرارومعارف
اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔
حضرت لقمان اور حکمت :
جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…
Read the full tafseer →ف 3 ظلم کے اصل معنی بےانصافی یعنی کسی کا حق مارنا ہیں۔ شرک اس لئے ظلم ہے کہ اس میں آدمی اپنے اصل مالک کے حقوق و اختیارات دوسروں کو دیتا اور انہیں اس مقابلے میں لاکھڑا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(31:13) وھو یعظہ میں واؤ حالیہ ہے۔ اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا۔ یا اس نے اسے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ (31:13) یبنی۔ یا حرف نداء ہے۔ بنی مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر منادی۔ بنی ۔ ابن سے اسم تصغیر ہے جو یہاں پیارا اور محبت کے لئے ہے۔ یبنی میرے پیارے بیٹے۔ میرے چھوٹے سے بیٹے۔ بنی کی ی اور یائے متکلم کو اضافت کی وجہ سے مدغم کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔
سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
حقوق والدین۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے باپ کے احسان تو ہوش کے زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں کھلاتا پہناتا ہے ماں کے احسان اس کے عالم بیخبر ی میں اس سے بڑھ کر تھے، اس لیے ان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا، ضعیف پر ضعف اٹھائے کس لیے کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے ضعف زیادہ ہوتا جاتا ہے اور دو برس تک اس کے پاس رہا جدا نہ ہوا، دودھ پلاتی اور ساتھ سلاتی رہی، اللہ نے خاص طور پر ماں کی محنت مشقت کا اس لیے ذکر کیا کہ بچہ ماں کے احسانوں کو نہ بھولے، ماں کو حق جتلانے کے بعد انسان کو فرمایا کہ اللہ کا اور اپنے ماں باپ کا شکر کر، تجھ کو میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[5] لقمان کی اس خاص نصیحت کا ذکر دو مناسبتوں کی بناء پر یہاں کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی اور ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص بھی اپنے بیٹے کو غلط اور جھوٹی بات نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے ان کا اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک شرک واقعی ایک بدترین فعل تھا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بہت سے ماں باپ اس وقت اپنی اولاد کو دین شرک پر قائم رہنے اور نبی ﷺ کی دعوت توحید سے منہ موڑ لینے پر مجبور کر رہے تھے جیسا کہ آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے ان کو بتایا جارہا ہے کہ تمہارے ہاں کے ایک مشہور دانشمند نے تو اپنی اولاد کی خیر خواہی کرتے…
Read the full tafseer →سب سے پہلے جس چیز کو حضرت لقمان نے قابل اعتناء سمجھا ہے ۔ وہ مسئلہ توحید ہے ۔ اس لئے اپنے بیٹے سے یہی کہتے ہیں ۔ کہ دیکھو اس سے بڑھ کر انسانیت کی اور حق تلفی نہیں ہوسکتی کہ انسان اپنی فطری عظمت کھوبیٹھے ۔ اور اپنے ابنائے جنس کے سامنے جھکے ۔ یاس مخلوق کے سامنے سربسجود ہو ۔ جو مرتبہ کے لحاظ سے اس سے کہیں فروتر ہے ۔ یہ شرک ہے ۔ ظلم عظیم ہے ۔ اور بہت بڑا گناہ اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ہے ۔ کیونکہ کنبے بھر میں یہ رشتہ سب سے زیادہ محترم ہے ۔ اور سب سے زیادہ جاذب توجہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ان بزرگ ترین افراد کی عزت و حرمت اس لئے ضروری ہے ۔ تاکہ جذبہ ربوبیت کو ہم چھوٹے پیمانے پر…
Read the full tafseer →13۔ او وہ واقہ قابل ذکر ہے جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا دارانحالی کہ وہ اس کو نصیحت کر رہا تھا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کی جو اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیو بلا شبہ شرک بڑا بھاری ظلم ہے یعنی جس نے شرک کیا اس نے اپنی جان پر بڑا بھاری ظلم کیا ۔
؎ الحمد للہ لا شریک لہ ومن اباھا فنفسہ ظلما
ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کیا ہے
؎ ہر کہ دردریائے وحدت غرقہ باشد جان او جوہر فرد حقیقت یافت از جانان او
اب آگے حق تعالیٰ ماں باپ کے حق کا ذکر فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 6۔ ظلم کی حقیقت ہے وضع الشی اور ظاہر ہے کہ فی غیر محلہ۔ یہ وضع الشی فی غیر المحل شرک میں بدرجہ اشد ہے۔
Read the full tafseer →لقمان نے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا بیٹا ! شرک مت کرو کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے :
13۔ گزشتہ آیت کا بیان اگر لقمان (علیہ السلام) کا ہے تو وہ بلاشبہ تمام انسانوں کے نام ہے اور زیر نظر آیت میں وہ نصیحت کرتے ہیں تو آپ کی نصیحت اپنے فرزند ارجمند کے نام ہے خواہ وہ آپ کا حقیقی بیٹا ہے اور خواہ قوم کے فرزندوں کو مخاطب کرنے کے لئے یہ پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے دونوں صورتیں جائز اور صحیح ہیں ۔ آپ نے جو نصیحت کی وہ وہی ہے جو سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قوموں کو مخاطب کرکے کرتے رہے ہیں آپ نے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے بیٹے شرک مت کر ‘ شرک سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں اس لئے تجھے چاہئے کہ ہر حال…
Read the full tafseer →Out of these wise advices, first comes the soundness of beliefs, the primary article of which is that one believes in Allah Ta’ ala to be the Creator and master of the entire universe without any association or partnership of anyone or anything. In consequence, one should not take anyone other than Allah as an object of worship, for no injustice can be as grave in this world as the act of one who stoops to equate some creation of Allah Ta’ ala with the Creator. Therefore, it was said: يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (My dear son, do not ascribe…
Read the full tafseer →20 This particular admonition from the wisdom of Luqman has been cited here for two reasons: (1) He gave this admonition to his son, and obviously, no one can be insincere to one's own children. A person may deceive others, may behave hypocritically towards them, but no one, not even a most depraved person, will try to deceive and defraud his own children. Therefore, Luqman's admonishing his son thus is a clear proof of the fact that in his sight shirk was indeed the most heinous sin, and for that very reason he first admonished his dear son to refrain from this iniquity. (2) The second…
Read the full tafseer →