Explained with ayahs 11–12
حضرت لقمان نبی تھے یا نہیں ؟
اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے ؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔ حضرت جابر سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا حضرت لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے نبی تھے۔ سعد بن مسیب فرماتے ہیں آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی آپ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے تئیں حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ حضرت بلال ؓ جو حضور…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 17
شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معقول بات آج کوئی پہلی مرتبہ تمہارے سامنے پیش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پہلے بھی عاقل و دانا لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں اور تمہارا اپنا مشہور حکیم، لقمان اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔ اس لئے تم محمد ﷺ کی اس دعوت کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر شرک کوئی نامعقول عقیدہ ہے تو پہلے کسی کو یہ بات کیوں نہیں سوجھی۔
لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ شعرائے جاہلیت، مثلاً امراؤ القیس، لَبِید، اَعْشیٰ ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہل عرب…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لقمان کو دانشمندی (جس کی حقیقت علم مع العمل ہے) عطا فرمائی (اور ساتھ ہی یہ حکم دیا) کہ (سب نعمتوں پر عموماً اور اس نعمت حکمت پر کہ افضل النعم ہے خصوصاً) اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے رہو اور جو شخص شکر کرے گا وہ اپنے ذاتی نفع کے لئے شکر کرتا ہے (یعنی اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے کما قال (آیت) لئن شکرتم لازیدنکم) ، دینی نعمت میں تو ترقی دنیا میں بھی ہوتی ہے اور آخرت میں بھی، دنیا میں تو شکر نعمت سے علم بڑھتا ہے اور توفیق عمل میں اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں ثواب عظیم ملتا ہے، اور دنیوی میں آخرت کی ترقی یعنی ثواب میں اضافہ تو یقینی ہے اور کبھی دنیا میں شکر کرنے سے…
Read the full tafseer →2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 12۔ 19
آگے لقمان کی حکمت اور ان کی ان حکیمانہ نصیحتوں کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنے سعادتمند فرزند کو فرمائی ہیں ور ان کے حوالے سے مقصود۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اہل عرب کے سامنے خود ان کے حکماء اور ان کی حکمت کو پیش کرکے یہ دکھانا ہے کہ تمہارے اندر جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت و معرفت میں سے کچھ حصہ ملا انہوں نے بھی اپنے متعلقین کو انہی باتوں کی تعلیم دی جنکی تعلیم تم کو یہ پر حکمت کتاب دے رہی ہے، لیکن یہ تمہاری بدبختی و محرومی یہ کہ تم اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید پر تو بہت نازاں ہو، جنہوں نے بےسوچے سمجھے شیطان کی پیروی کی لیکن اپنے ان اسلاف کی حکمت سے تم…
Read the full tafseer →12-1حضرت لقمان، اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل فہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا تمہیں یہ فہم و شعور کس طرح حاصل ہوا ؟ انہوں نے فرمایا، راست بازی، امانت کے اختیار کرنے اور بےفائدہ باتوں سے اجتناب اور خاموشی کی وجہ سے۔ ان کا حکمت و دانش پر مبنی ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ غلام تھے، ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بہترین دو حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے۔ ایک دوسرے موقع پر آقا نے ان سے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بدترین حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے، پوچھنے پر انہوں نے بتلایا کہ زبان…
Read the full tafseer →4: حضرت لقمان کے بارے میں راجح بات یہی ہے کہ وہ نبی نہیں، بلکہ ایک دانشمند شخص تھے، وہ کس زمانے میں تھے ؟ اور کس علاقے کے باشندے تھے، اس کے بارے میں بھی روایات بہت مختلف ہیں، جن سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنا مشکل ہے، بعض روایات میں ہے کہ وہ یمن کے باشندے تھے اور حضرت ہود ؑ کے جو ساتھی عذاب سے بچ گئے تھے، ان میں یہ بھی شامل تھے، اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ حبشہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن قرآن کریم نے ان کا جس غرض سے تذکرہ فرمایا ہے، وہ ان تفصیلات کے جاننے پر موقوف نہیں ہے، یہ بات واضح ہے کہ عرب کے لوگ ان کو عظیم دانشور سمجھتے تھے، اور ان کی حکمت کی باتیں ان کے درمیان مشہور تھیں، جاہلیت کے زمانے کے…
Read the full tafseer →ولقد اتینا لقمن ۔۔۔۔۔ غنی حمید (12)
حضرت لقمان حکیم کی زبانی یہاں عقیدہ توحید ، عقیدہ آخرت اور دوسری اخلاقی تعلیمات یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نبی تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ نبوت کے منصب کے بغیر ایک عبد صالح تھے زیادہ تر مفسرین اس دوسری رائے کی طرف گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک حبشی غلام تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نوبہ کے رہنے والے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ججوں میں سے ایک جج تھے۔ وہ جو بھی ہوں قرآن نے ہمیں یہ اطلاع دی ہے کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کو اللہ نے حکمت عطا کی تھی اور اس حکمت اور فلسفے کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ…
Read the full tafseer →6 اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ حضرت لقمان پیغمبر نہیں تھے۔ ہاں ایک پاکباز متقی انسان تھے جن کو حق تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی عقل و فہم اور متانت و دانائی عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں، جو پیغمبروں کے احکام و ہدایات کے موافق تھیں۔ ان کی عاقلانہ نصیحتیں اور حکمت کی باتیں لوگوں میں مشہور چلی آتی ہیں۔ رب العزت نے ایک حصہ قرآن میں نقل فرما کر ان کا مرتبہ اور زیادہ بڑھا دیا، شاید مقصود یہ جتلانا ہو کہ شرک وغیرہ کا قبیح ہونا جس طرح فطرت انسانی کی شہادت اور انبیاء کی وحی سے ثابت ہے، دنیا کے منتخب عقلمند بھی اپنی عقل سے اسکی تائید و تصدیق کرتے رہے ہیں۔ پس توحید کو چھوڑ کر شرک…
Read the full tafseer →سورة لقمان کا یہ رکوع اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اسے ہم نے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب میں بھی شامل کیا ہے۔ چناچہ منتخب نصاب کے پہلے حصے جامع اسباق کا تیسرا درس اس رکوع پر مشتمل ہے۔
بنیادی طور پر اس رکوع میں حضرت لقمان کی نصیحتیں نقل ہوئی ہیں۔ ان نصیحتوں میں اس قدر جامعیت ہے کہ انسان کی نجات اخروی کے لوازمات کا ایک مکمل خاکہ ان کے اندر موجود ہے۔ حضرت لقمان نہ تو خود نبی تھے اور نہ ہی کسی نبی کے پیروکار تھے ‘ بلکہ وہ ایک سلیم الفطرت اور سلیم العقل انسان تھے۔ ان کے حوالے سے جو بہت اہم نکتہ یہاں پر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے اس دورۂ ترجمہ قرآن کے دوران قبل ازیں بھی…
Read the full tafseer →14 حضرت لقمان حبشہ یا مصر کے رہنے والے تھے۔ بعد میں شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے اور راجح کی یہی بات ہے کہ آپ نبی نہیں تھے۔ البتہ حکیم اور دانا ضرور تھے۔ عرب بھر میں وہ اپنی حکمت و دانائی کی وجہ سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جو حکمت اور دانائی کی باتیں سکھلائی تھیں ان میں سرفہرست یہ بات تھی کہ اگر اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے تو اس کا فائدہ شکر ادا کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ شکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی کہ وہ مزید توجہ اور مہربانی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اللہ کا اس لئے بھی شکر ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ…
Read the full tafseer →9۔ یہ لقمان کون تھے ؟ اتنا تو بہرحال ظاہر ہے کہ کوئی مقبول، برگزیدہ بندہ تھے۔ اور ایسے کہ اہل عرب (قرآن کے مخاطبین اول) ان کے نام سے مانوس تھے۔ اس کے آگے ان کی شخصیت کے بارے میں اختلاف ہے۔ کلام جاہلیت میں ایک نہیں، اس نام کے تین تین شخصوں کا ذکر ملتا ہے، ان میں سے لقمان ثانی کا لقب لقمان حکیم مشہور ہے۔ عجب نہیں کہ قرآن مجید کا اشارہ انہیں کی جانب ہو، ان سے متعلق روایات تاریخی میں آتا ہے کہ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہم عصر تھے۔ ملک حبشہ کے رہنے والے تھے۔ اور ایک آزاد شدہ غلام تھے۔ (ارض القرآن جلد اول صفحہ 80 الخ) بعض اکابر ان کی نبوت کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ لیکن مسلک جمہوریہ ہے کہ نبی نہ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں…
Read the full tafseer →ولقد اتینا لقمن الحکمۃ . اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔
بغوی نے لکھا ہے : لقمان بن باعور بن ناخور بن تارخ۔ تارخ ہی کو آزر کہا جاتا ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : لقمان حضرت ایوب کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا : خالہ کے بیٹے تھے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لقمان حضرت داؤد کے زمانہ تک زندہ تھے اور فتویٰ دیا کرتے تھے لیکن حضرت داؤد کی بعثت کے بعد فتویٰ دینا چھوڑ دیا اور فرمایا : اب میری ضرورت نہیں پھر کیوں فتویٰ دینے سے باز نہ رہوں۔ واقدی نے کہا : لقمان بنی اسرائیل کے قاضی تھے۔ تفسیر در منثور میں ہے کہ ابن ابی شیبہ کی روایت ہے اور امام احمد نے الزہد میں بھی اس کو بیان کیا ہے اور کتاب المملوکین میں ابن ابی…
Read the full tafseer →اور ہم نے لقمان کو علم و فہم اور قول و فعل کی درستگی عطا فرمائی اور یہ حکم دیا کہ توحید اور اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو کیونکہ جو اس طریقہ پر اس کی نعمتوں کا شکر کرے گا تو وہ اپنے ذاتی ثواب کے لیے کرے گا۔
اور جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے شکر سے بےنیاز ہے اور اپنے تمام کاموں میں قابل تعریف ہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ : تفاسیر میں لقمان کے متعلق جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں، روح المعانی میں ہے : ”وہب نے کہا، وہ ایوب ؑ کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا، ان کے خالہ زاد تھے۔ عبدالرحمن سہیلی نے کہا، وہ عنقا بن سرون کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا، وہ آزر کی اولاد سے تھے، ہزار برس زندہ رہے اور داؤد ؑ کو پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔
ان کے مبعوث ہونے سے پہلے فتویٰ دیتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے، جب مجھ سے کفایت کی گئی تو کیا میں اکتفا نہ کروں۔ بعض نے کہا، وہ بنی اسرائیل کے ایک قاضی تھے۔ یہ بات واقدی سے نقل کی گئی ہے، مگر انھوں نے کہا، ان…
Read the full tafseer →آیت ولقد اتینا لقمان الحکمۃ لقمان اور الحکمۃ دونوں مفعول ہیں۔ لقمان منصرف نہیں کیوں کہ اس کے آخر میں الف، نون زائدتان ہے، تو یہ اس فعلان کے مشابہ ہوگیا جس کی مونث فعلی ہے تو یہ معرفہ میں منصرف نہ ہوگا کیونکہ یہ دوسرا ثقل ہوگا۔ نکرہ کی صورت میں یہ منصرف ہوگا کیونکہ دو ثقلوں میں سے ایک زائل ہوچکا ہے، یہ نحاس کا قول ہے۔ یہ لقمان بن با عوراء بن ناحور بن تارح وہی آذر ہے جو حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کا باپ (1) تھا۔ محمد بن اسحاق نے یہی نسب ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لقمان بن عنقاء بن سرون ہے وہ نوبیا تھا جو اہل ایلہ سے تعلق رکھتا تھا ؛ سہیل نے اسے ذکر کیا ہے۔ وہب نے کہا : وہ حضرت ایوب…
Read the full tafseer →لقمان (علیہ السلام) کا تذکرہ
1۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ لقمان (علیہ السلام) کون تھے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں فرمایا وہ حبشی تھے۔
2۔ ابن ابی شیبہ نے الزہد میں واحمد وابن ابی الدنیا فی کتاب المملوکین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) ایک حبشی غلام تھے اور بڑھئی کام کرتے تھے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا کہ لقمان (علیہ السلام) کے بارے میں تم کو کیا خبر پہنچی ہے تو انہوں نے فرمایا وہ چھوٹے قد اور چپٹی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چلے ] لُقْمٰنَ [لقمان کو ] الْحِكْمَةَ [دانائی ] اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ ۭ [کہ تو کر شکر اللہ کا ] وَمَنْ يَّشْكُرْ [اور جو شکر کرتا ہے ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَشْكُرُ [وہ شکر کرتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۚ [اپنی ہی جان (کے بھلے) کے لئے ] وَمَنْ كَفَرَ [اور جو ناشکری کرتا ہے ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ ] غَنِيٌّ [بے نیاز ہے ] حَمِيْدٌ [حمد کیا ہوا ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: حضرت لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
حضرت حکیم لقمان (علیہ السلام) کے نصائح
اس رکوع میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کا اور ان کی نصیحتوں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں، درمیان میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھی طرح پیش آئے۔
حضرت لقمان (علیہ السلام) کا تعارف۔
لقمان (علیہ السلام) کون تھے اور کس زمانہ میں تھے ؟ اس بارے میں اصحاب سیر اور علمائے تفسیر نے کئی باتیں لکھی ہیں یہ سب باتیں اسرائیلیات میں سے ہیں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بہن کے بیٹے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کے بیٹے تھے، والد کا نام باعوراء اور عنقا لکھا ہے۔ اور ایک قول یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →10:۔ ولقد اتینا الخ، یہ توحید پر نقلی دلیل ہے یعنی جس طرح عقل سے بطلان شرک واضح ہے اسی طرح نقل بھی بطلان شرک پر شاہد ہے۔ چناچہ لقمان جو محسنین میں سے تھا اس کو ہم نے حکمت اور دانائی عطا کی تو اس نے اپنے بیٹے کو حکیمانہ پند و نصائح کرتے وقت سب سے پہلے شرک سے بچنے کی نصیحت کی جمہور مفسرین کا قول ہے کہ لقمان ولی تھا نبی نہیں تھا عکرمہ اور شعبی کا قول ہے کہ وہ نبی تھے وعلی ھذا جمہور اھل التاویل انہ کان ولیا ولم یکن نبیا وقال بنبوتہ۔۔۔ والشعبی (قرطبی ج 14 ص 59) ۔ ان اشکر لی سے پہلے قلنا مقدر ہے۔ ہم نے لقمان کو حکمت دی اور کہا اس نعمت عظمی کا شکر ادا کرو جو شخص اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اس…
Read the full tafseer →ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی صداقت وحقانیت اور توبہ کے عقلی ونقلی دلائل پیش کئے ، اب اس رکوع میں حضرت لقمان کی کچھ نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے اہم ترین نصیحت اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا اور شرک سے نفرت کرنا ہے ، شرک اور کفر کی قباحت اس کے بعد کی آیات میں بھی آرہی ہے توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ی گزشتہ اور آمدہ آیات میں ذریعہ ربط ہے ۔
حضرت لقمان کی شخصیت :
نزول قرآن کے زمانہ میں اگر چہ لقمان (رح) کی حکیمانہ باتیں اسرائیلیوں اور عربوں میں زبان زرد عام تھیں مگر آپکی شخصیت کے بارے میں مفسرین کرام میں بہت سا اختلاف پایا جاتا ہے ، حضرت لقمان کس زمانے میں اور…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 11
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَۃَ اَنِ اشْكُرْ لِلہِ 0 ۭ وَمَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِہٖ 0 ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ 12
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ترکیب : ان اشکر للہ تفسیر للحکمۃ لان ابتاء الحکمۃ فی معنی القول یا بنی بیاء التصغیر و یاء ہی لام الکلمۃ والیاء الثالثہ یاء التکلم ولکنھا حذفت لد لالۃ الکسرۃ علیھا فرار امن توالی الیایات و یقرء بالفتح و فیہ و جہان احدھما انہ ابدال الکسرۃ فحتہ فانقلبت باء الاضافۃ الاثم حذفت الالف کما حذفت الیاء مع الکسرۃ لانھا اصلھا بالثانی ان الا لف حذفت من اللفظ لا لتقاء الساکنین۔ وھنا المصدر حال من الام بتقدیر مضاف ای ذات و ھن اوھو مفعول مطلق لفعل محذف ای تھن وہنًا معروفاً صفۃ لمصدر محذوف ای صحابا معروفا وقیل التقدیر بمعروف۔ انھا الضمیر للقصۃ۔
تفسیر : شروع میں فرمایا تھا کہ یہ آیات پر حکمت کتاب کی ہیں، اس…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَنِ اشْکُرْالِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُلِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (لقمان : 12)
( اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکرگزار ہو، اور جو شکرگزار ہوگا تو اپنے لیے ہی ہوگا، اور جو ناشکری کرے گا تو حقیقت میں اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ )
حکمتِ لقمان سے استدلال
شرک کی تردید میں ایک نہایت موثر اور راست دلیل دینے کے بعد اب ایک اور پہلو سے شرک کی تردید کی جارہی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ اہل عرب کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ جس توحید کو پیش کررہے ہیں اور جس طرح پرزور طریقے سے شرک کی تردید کررہے ہیں، یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ہر قسم کے چوپائے پیدا کیے اور پھر اسی سے انسان کے رزق کا بندوبست فرمایا۔ جس پر ہر انسان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہی عقل مندی ہے۔ اب ایک عقل مند شخص کا عقیدہ اور اس کی دانائی پر مبنی نصیحتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
عرب کی تاریخ میں حضرت لقمان ایک جانی پہچانی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور مؤرّخ لکھتے ہیں کہ یہ نسب کے اعتبار سے خالص عربی تھے۔ بعض مؤرّخین نے انہیں افریقی نسل قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ عربی النسل تھے۔ ان کا قدر چھوٹا، رنگ کالا اور بدن بھاری تھا۔ ظاہری طور پر پرکشش شخصیت نہ ہونے کے باوجود اپنی…
Read the full tafseer →حضرت لقمان (رح) کے نصائح :
12: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ (اور ہم نے لقمان کو دانشمندی عطاء فرمائی) ۔ یہ لقمان (رح) بن باعوراء ہیں۔ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے نمبر 2۔ یا خالہ زاد ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آزر کی اولاد سے تھے انہوں نے ایک ہزار سال عمر پائی حضرت دائود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا۔ اور ان سے علم حاصل کیا یہ بعثت دائود (علیہ السلام) سے قبل فتویٰ دیتے تھے۔ جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ چھوڑ دیا۔ ان سے کہا گیا کہ تم نے فتویٰ کیوں چھوڑا اور انہوں نے جواب دیا۔ میں کیوں اکتفاء نہ کروں (وحی پر) جب میری کفایت کردی گئی ] دائود (علیہ السلام) پر وحی بھیج کر [۔
ایک قول یہ ہے…
Read the full tafseer →حضرت لقمان نبی تھے یا حکیم تھے حکمت سے کیا مرادہے
12، ولقد اتینا لقمان الحکمۃ، حکمت سے مراد عقل علم عمل ہے اور تمام امور میں اصابت رائے ہے ۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ لقمان بن باعوربن ناخوربن تارخ تاریخ ہی کو آزرکہاجاتا ہے ۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ لقمان حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے تھے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ خالہ کے بیٹے تھے ۔ واقدی کا بیان ہے کہ لقمان نبی اسرائیل کے قاضی تھے ۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ حکیم تھے نبی نہیں تھے مگر عکرمہ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان نبی تھے لیکن یہ اس قول میں متفرد ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) کو نبوت اور حکمت کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12‘ 13۔ اوپر کی آیتوں میں شرک کی مذمت تھی اور لقمان ؓ کی نصیحت میں بھی شرک کی مذمت ہے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں کے ساتھ لقمان ( علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور لقمان (علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہے سوا عکرمہ کے سلف میں اور کوئی لقمان ( علیہ السلام) کے نبی ہونے کا قائل نہیں ہے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی ایک روایت 1 ؎ بیان کی گئی ہے جس سے لقمان ( علیہ السلام) کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے یہ عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پر ور دہ ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ کے دونوں پاؤں کاٹھ میں ٹھوک دیا کرتے تھے اور عکرمہ کو قرآن شریف کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر : 12 ۔ 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
16 حضرت لقمٰن کون تھے اور کیا تھے ؟ : جمہور علما و مفسرین کے نزدیک حضرت لقمٰن نبی نہیں تھے بلکہ ایک دانش مند اور صالح انسان تھے۔ کالے رنگ کے حبشی غلام تھے مگر اللہ پاک نے ان کو باطن کی نورانیت اور ایسی حکمت و دانش مندی سے نوازا تھا کہ لقمٰن کی حکمت ضرب المثل بن گئی اور اللہ پاک نے اپنے کلام معجز نظام میں بھی اس کا تذکرہ فرما دیا جس سے حکمت لقمانی ایک زندئہ جاوید حقیقت بن گئی۔ پس معلوم ہوا کہ اصل چیز ظاہر اور صورت نہیں بلکہ باطن اور سیرت ہے۔ (روح، قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ یہاں پر حکمت لقمانی کے ان اقوال کو نقل کر کے مشرکین عرب کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور ان کے قلب و ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
والدین کی عظمت
تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19
اسرارومعارف
اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔
حضرت لقمان اور حکمت :
جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل…
Read the full tafseer →ف 4 حضرت لقمان کے بارے میں کرمہ کے سوا باقی تمام مفسرین کا خیال ہے کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ ایک نیک و دانا شخص تھے جو سوڈانی (حبشی) نسل سے تھے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی ان کے حبشی ہونے کا ذکر ہے مقاتل نے کہا ہے کہ وہ حضرت ایوب کے بھانجے تھے ایک ہزار سال کی عمر پائی حضرت دائود کے زمانہ میں یہ بنی اسرائیل کے قاضی تھے لیکن ان کے بعد عہدہ قضا سے الگ ہوگئے (ابن کثیر) اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ وہ آزاد نہیں بلکہ غلام تھے۔ (روح المعانی) ہی ﷺ کی بعثت سے پیشتر بھی ان کی حکمت اور دانئیا کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعرا کو ادبا اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل…
Read the full tafseer →(31:12) ان اشکر اللہ۔ اس میں ان تفسیریہ ہے ای وقلنا لہ ان اشکر اللہ اور ہم نے اسے کہا کہ شکر ادا کر اللہ کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔
سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی یعنی عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے موافق ہوں، حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے فتوی دیا کرتے تھے جب حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نبوت اتری تو انہوں نے فتوی دینا چھوڑ دیا، اور کہا کہ جب اللہ نے مجھ کو سبکدوش کیا پھر کیوں نہ میں سبکدوش ہوجاؤں، ان سے پوچھا گیا کہ سب میں برا شخص کون ہے جواب دیا گیا کہ لوگ اسے گناہوں میں پھنسا ہوا دیکھیں اور اس کو ذرا بھی پروانہ ہو، ہم نے اس سے کہا کہ خدا نے جو تم کو حکمت عطا کی ہے اس کا شکر ادا کرو، اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے واسطے کرتا ہے کیونکہ اس کا ثواب تو وہی پائے گا اور جو اللہ کی…
Read the full tafseer →[4] جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ لقمان پیغمبر نہیں تھے، ہاں ایک متقی پاکباز انسان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجے کی عقل و فہم اور دانائی عطا فرمائی تھی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ لقمان ایک حبشی غلام تھے۔ انہوں نے اپنی عقل کے ذریعے سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے احکام و ہدایات کے موافق تھیں۔ اہل عرب ان کے نام سے نامانوس نہ تھے۔ یہاں ان کے ذکر سے یہ جتلانا مقصود ہے کہ شرک و معصیت کا قبیح ہونا جس طرح فطرت انسانی کی شہادت اور انبیاء کی وحی سے ثابت ہے دنیا کے منتخب عقل مند بھی اپنی عقل سے اس کی تائید و تصدیق کرتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →حضرت لقمان
2: معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان پیغمبر نہیں تھے مگر ایک ضاع اور دانشمند آدمی تھے ۔ اور جہاں تک اس وقت کے عربوں کا تعلق ہے ۔ ان میں ان کے حکیمانہ اقوال کا کافی چرچا تھا ۔ یہی وجہ ہے ۔ قرآن حکیم نے ان کا تذکرہ اس طرح کیا ہے ۔ کہ گویا پہلے سے مخاطبین انہیں جانتے ہیں ۔
حکمت کے معنے لغت میں کسی چیز کی حقیقت پہچاننے کے ہیں اور اصلاح میں دانائی اور درست کرداری سے تعبیر ہے ۔ اور اس کی اعلیٰ ترین قسم وہ ہے جس میں دنیا کے کے معاشری عقدوں سے بحث کی جائے ۔ اور یہ بتایا جائے ۔ کہ کن اصولوں کے ماتحت ایک انسان انسانی ہیئت اجتماعیہ کا بہترین رکن بن سکتا ہے ! اور کس طرح اس کا وجوہ اپنے ابنائے جنس کے…
Read the full tafseer →12۔ اور بلا شبہ ہم نے لقمان کو حکمت اور دانشمندی عطا کی اور اس کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہ اور جو شکر بجا لاتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کو اور بھلے کو شکر بجا لاتا ہے اور جو شخص نا سپاسی اور کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیاں سراہا ہے۔ حکمت یعنی علم و عمل سے نوازا بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے البتہ ان کو حکمت و دانائی سے نوازا گیا تھا انہوں نے بہت سے انبیاء کی شاگردی کی تھی اور عمر بھی بڑی پائی تھی ۔ وہ سیاہ رنگ تھے ، بعض نے کہا وہ غلام تھے پھر آزاد ہوئے بنی اسرائیل میں مفتی تھے چونکہ ان کے عام نصائح توحید کو مشتمل میں اس لئے ان کا یہاں ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 4۔ لقمان (علیہ السلام) نبی نہ تھے، ان کا زمانہ قریب داود (علیہ السلام) کے تھا، پس ان کے نبی نہ ہونے کی بنا پر ان کو یہ حکم ہونا ان اشکر اللہ یا بطور الہام کے ہوگا یا اس زمانے کے کسی نبی کی تعلیم کے ذریعہ سے، اور جس فرزند کو انہوں نے نصیحت کی ہے صحیح اور صریح طور پر کہیں نہیں دیکھا کہ ان کے فرزند کا کیا طریقہ تھا، پہلے سے موحد تھے یا اس نصیحت کے بعد موحد ہوئے یا کیا ہوا۔
5۔ یعنی خود اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے، دنیوی نعمت میں تو باعتبار نفس نعمت کے کبھی اور باعتبار ثواب کے ہمیشہ اور دینی نعمت میں مثل علم وغیرہ کے دونوں طرح پر یعنی علم بھی بڑہتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔
Read the full tafseer →لقمان کو حکمت کس نے عطا کی ؟ اس کی حکمت کی باتوں میں سے پہلی بات کیا ہوئی ؟
12۔ لقمان کون تھے ؟ قرآن کریم نے ان کے زمانہ اور قوم کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس بحث کی اس وقت کوئی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ وہ اللہ کے ایک نیک بندہ تھے اور اس وقت جب قرآن کریم کا نزول ہوا عربوں میں وہ ایک معروف شخصیت کے طور پر تسلیم کئے جاتے تھے ہاں مفسرین ومؤرخین نے ان کے زمانہ اور قوم کی بحث کو اٹھایا ہے اور مختلف طریقوں سے اس پر بحث کی ہے لیکن اس بحث میں اس قدر اختلاف ہے کہ اس کا ذکر کرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ ذکر نہ کیا جائے کیونکہ اس تاریخی بحث کے لئے تاریخ ہی کا موزوں مقام ہے ہم صرف انتا جانتے ہیں کہ لقمان ایک نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
Commentary
Who was Luqman (علیہ السلام) mentioned in verse 12: وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ (And We gave wisdom to Luqman)? According to a report of Wahb Ibn Munnabih, Luqman, (علیہ السلام) was a nephew of Sayyidna Ayyub (Job) (علیہ السلام) while Muqatil identifies him as his brother from his maternal aunt. It appears in Tafsir ul-Baidawi and elsewhere that he lived long, as long as the time of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . It is proved by other reports too that Luqman (علیہ السلام) appeared during the time of Sayyidna Dawud علیہ السلام .
And the report of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ…
Read the full tafseer →17 After presenting a rational argument to refute shirk the Arabs arc being told that this rational point of view is not being presented before them for the first time, but the wise and learned people before them also have been saying the same thing, including their own famous sage, Luqman. Therefore, they cannot refute the Holy Prophet's message, saying, "If shirk was an irrational creed, why didn't it strike so to somebody else before?"
Luqman was well known as a wise and Iearned man in Arabia. He has been mentioned in the poetry of the pre-Islamic poets like Imra'ul-Qais, Labid, A'asha,…
Read the full tafseer →