Luqman 31:11

Luqman · from ayah 11

31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ؕ— بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۟۠هٰذَا خَلۡقُ اللّٰهِ فَاَرُوۡنِىۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ‌ؕ بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

This is the creation of Allah. So show Me what those other than Him have created. Rather, the wrongdoers are in clear error.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:11

یہ تو ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھاؤ، ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہے اللہ کی تخلیق ! اب ذرا مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا کسی نے کیا پیدا کیا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے مجھے وہ دکھاؤ جو اس کے سوا اوروں نے بنایا بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اﷲ کی مخلوق ہے، پس (اے مشرکو!) مجھے دکھاؤ جو کچھ اﷲ کے سوا دوسروں نے پیدا کیا ہو۔ بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہے اللہ کی مخلوق، تو تم مجھے دکھاؤ کہ ان لوگوں نے جو اس کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے ؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تو ہے اللہ کی مخلوق، اب مجھے دکھلاؤ کہ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے ؟ (کچھ نہیں) بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں پڑے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ساری چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ تو اب مجھے دکھائو کہ انہوں نے نے کیا چیزیں پیدا کی ہیں جو اس کے سوا ہیں ! بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں ! !۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہے اللہ کی تخلیق سو تم لوگ مجھے ذرا دکھا (اور بتا) دو کہ کیا پیدا کیا ان دوسروں نے (جن کو تم لوگوں نے معبودبنا رکھا ہے ؟) اللہ کے سوا (کچھ بھی نہیں) بلکہ ظالم لوگ پڑے ہیں کھلی گمراہی میں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تو اللہ کی مخلوق ہوئی اب مجھے دکھاؤ کہ اس (اللہ) کے علاوہ جو ہیں انہوں نے کیا چیزیں پید ا کی ہیں اصل یہ ہے کہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو ہے اللہ کی تخلیق اب تم مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اس کے سوا (تمہارے معبود) ہیں بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تو اللہ کی پیدائش ہے۔ تو مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں“

— محترمہ رفعت اعجاز

Such is Allah's creation. Show me, then, what any others, apart from Allah, have created. Nay, the fact is that the wrong-doers are in manifest error.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is the creation of Allah. Now, show me what is created by those others, besides Him. Rather, the transgressors are in open error.

— Muhammad Taqi Usmani

This is the creation of Allah. Now, show me what is created by those others, besides Him. Rather, the transgressors are in open error.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is the creation of Allah. So, show Me that which those besides Him have created. Nay, the wrongdoers are in plain error.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is the Creation of Allah. Now show me that which those (ye worship) beside Him have created. Nay, but the wrong-doers are in error manifest!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This is the creation of Allah. So show Me what those other than Him have created. Rather, the wrongdoers are in clear error.

— Saheeh International

This is the creation of God. Show me what those whom you consider equal to God have created. In fact, the unjust ones are in plain error.

— Muhammad Sarwar

This is Allah's creation, but show Me what those besides Him have created. Nay, the unjust are in manifest error

— Muhammad Habib Shakir

This is the creation of Allah; shew that which those beside Him me have created. Aye! the wrong-doers are in error manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Such is the Creation of Allah: now show Me what is there that others besides Him have created: nay, but the Transgressors are in manifest error.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–12

حضرت لقمان نبی تھے یا نہیں ؟ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے ؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔ حضرت جابر سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا حضرت لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے نبی تھے۔ سعد بن مسیب فرماتے ہیں آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی آپ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے تئیں حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ حضرت بلال ؓ جو حضور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 15 یعنی ان ہستیوں نے جن کو تم اپنا معبود بنائے بیٹھے ہو، جنہیں تم اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ رہے ہو، جن کی بندگی بجا لانے پر تمہیں اتنا اصرار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

خلاصہ تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بلا ستون بنایا (چنانچہ) تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین میں (بھاری بھاری) پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ وہ تم کو لے کر ڈانوا ڈول نہ ہونے لگے اور اس (زمین) میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس زمین میں ہر طرح کے عمدہ اقسام (نباتات کے) اگائے (اور ان لوگوں سے جو کہ شرک کرتے ہیں کہئے کہ) یہ تو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں (سو اگر تم دوسروں کو شریک الوہیت قرار دیتے ہو تو) اب تم لوگ مجھ کو دکھاؤ کہ اس کے سوا جو (معبود تم نے بنا رکھے) ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں (تاکہ ان کا استحقاق الوہیت ثابت ہو اور اس دلیل کا مقتضیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھل خلق اللہ فارونی ماذ خلق ؒ اذین من دونہ۔ بل الظلمون فی ضلل مبین (11) مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور تم کو بھی یہ اعتراف ہے کہ یہ اللہ کی بنائی ہوئی ہیں تو اب بتائو کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو پوجتے ہو تو انہوں نے کیا پیدا کیا ہے اور ان کا کیا کارنامہ ہے کہ تم نے خدا کی خدائی اور اس کے حقوق میں ان کو بھی شریک بنا دیا ہے ! ’ بل الظلمون فی ضلل مبین ‘۔ یہ ان سے منہ پھیر کر ان کے حال پر اظہار افسوس فرمایا ہے کہ ان ظالموں کے پاس اس حرکت کے جواز کی کوئی دلیل تو ہے نہیں جسے وہ پیش کرسکیں بلکہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11-1ھٰذَا (یہ) اشارہ ہے اللہ کی ان پیدا کردہ چیزوں کی طرف جن کا گذشتہ آیات میں ذکر ہوا۔ 11-2یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو اور انھیں مدد کے لیے پکارتے ہو، انہوں نے آسمان و زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے ؟ کوئی ایک چیز تو بتلاؤ ؟ مطلب یہ ہے کہ جب ہر چیز کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے، تو عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کائنات میں کوئی ہستی اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسے مدد کے لیے پکارا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

2: آسمانوں کا پورا نظام کسی ایسے ستونوں پر نہیں کھڑا جو انسان کو نظر آسکیں، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کے سہارے قائم فرمایا ہے جو معنوی ستون ہیں، نظر نہیں آتے۔ آیت کی یہ تفسیر حضرت مجاہد سے منقول ہے، جیسا کہ سورة رعد :2 میں بھی گذر چکا ہے 3: یہ مضمون بھی قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے کہ زمین کو پانی پر ڈگمگانے سے بچانے کے لیے پہاڑ پیدا کیے گئے ہیں۔ دیکھئے پیچھے سورة رعد :3 سورة حجر :19 سورة نحل : 15: سورة انبیاء : 31 اور سورة حم السجدہ : 10، سورة ق : 7 اور سورة مرسلات : 27

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

خلق السموت بغیر ۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (10 – 11) یہ آسمان ، بغیر اس کے کہ ان کے بارے میں ہم جدید پیچیدہ سائنسی معلومات پیش کریں ، اپنی ظاہری حالت میں جب ہمارے حواس کے سامنے آتے ہیں تو یہ بہت ہی عظیم لگتے ہیں۔ یہ آسمان ستارے اور سیارے ہوں ، یا کہکشاں اور سدم ہوں۔ جو بلندیوں میں تیر رہے ہیں اور ان کے ھقیقی راز سے صرف اللہ ہی واقف ہے یا آسمان سے مراد یہ قبہ ہو جسے ہم دیکھتے ہیں اور جس کی حقیقت سے اللہ ہی خبردار ہے۔ غرض آسمان سے مراد جو بھی ہو ، بہرحال یہ عظیم کر ات بغیر سہارے اور ستونوں کے کھڑے ہیں۔ انسان رات اور دن ان سماوات کو دیکھتے ہیں اور جس چھوٹے سے ستارے پر انسان سوار ہیں ، اس تک ہم جس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جب نہیں دکھلا سکتے تو کس منہ سے ان کو خدائی کا شریک اور معبودیت کا مستحق ٹھہراتے ہو۔ معبود تو وہ ہی ہوسکتا ہے جس کے ہاتھ میں پیدا کرنا اور رزق پہنچانا سب کچھ ہو۔ یہاں ایک ذرہ کے پیدا کرنے کا اختیار نہیں۔ 5 یعنی ان ظالموں کو سوچنے سمجھنے سے کچھ سروکار نہیں۔ اندھیرے میں پڑے بھٹک رہے ہیں۔ آگے شرک و عصیان کی تقبیح کے لئے حضرت لقمان کی نصیحتیں نقل فرماتے ہیں۔ جو انہوں نے اللہ سے دانائی پا کر اپنے بیٹے کو کی تھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 ہٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط ” قرآن میں مشرکین کے اس عقیدے کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ وہ اللہ کو اس کائنات اور اس میں موجود ہر شے کا خالق مانتے تھے۔ چناچہ یہاں ان سے یہ سوال ان کے اسی عقیدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ” دراصل اس دلیل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ عقیدے کے اعتبار سے اگرچہ وہ لوگ اپنے چھوٹے معبودوں کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے ‘ لیکن وہ گمراہی میں اتنے دور جا چکے تھے کہ ایسی باتوں کی طرف کبھی متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے وہ سب کچھ تو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اب جن چیزوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے۔ بتلاؤ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ پھر ایک غیر خالق کو معبود بنا لینا سراسر گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ (اور وہ گمراہی ان کی صریح ضد کی ہے۔ تو یہ لوگ بھلا دلیل وغیرہ کیا پیش کرسکیں گے) اہل شرک کو چیلنج کر کے پکارا ہے کہ اللہ کی صنعت وقدرت و حکمت پر تو آسمان و زمین میں ایسے ایسے روشن دلائل موجود ہیں۔ اب تو ذرا بتاؤ کہ تمہارے دیویوں دیوتاؤں کے مخلوقات ومصنوعات کون سے ہیں ؟ (آیت) ” الظلمون “۔ ظالمون سے مراد مشرکین ہیں۔ یعنی المشرکین باللہ العابدین معہ غیرہ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا خلق اللہ فارونی ماذا خلق الذین من دونہ . یہ تو اللہ کی بنائی ہوئی چیز ہیں ‘ اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو ہیں انہوں نے کیا چیز پیدا کی۔ یعنی جو کچھ تم کو دکھائی دے رہا ہے وہ تو خدا کا پیدا کردہ ہے ‘ پھر بتاؤ کہ دوسرے معبودوں نے کیا پیدا کیا کہ وہ مستحق عبادت قرار پا گئے۔ بل الظلمون فی ضلل مبین . (اور کوئی وجہ نہیں) بلکہ یہ کافر کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ترونھا ‘ عمد کی صفت ہے۔ ستون دکھائی نہ دینے کی دو صورتیں ہیں (1) آسمانوں کو تھامنے والا۔ کوئی سہارا ہو اور دکھائی نہ دیتا ہو (2) کوئی ستون ہی نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں جملہ صحیح ہے۔ اللہ نے آسمانوں کی بلاستون تخلیق ‘ زمین میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو میری مخلوق ہوئی جس کو میں نے بنایا اور پیدا کیا اب تم لوگ مجھ کو دکھاؤ کہ ان تمہارے بتوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں بلکہ یہ مشرکین کھلی گمراہی میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : یعنی یہ ستونوں کے بغیر بلند آسمان، زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ اور اس میں پھیلے ہوئے جانور، آسمان سے اترنے والا پانی اور اس کے ساتھ زمین سے پیدا ہونے والی ہر عمدہ اور نفیس قسم کی چیز، یہ سب کچھ تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ اب مجھے دکھاؤ کہ وہ کون سی چیز ہے جو اس کے سوا کسی اور نے پیدا فرمائی ہے ؟ ظاہر ہے ایک بھی نہیں۔ تو پھر مشرکین اس کے سوا کسی اور کی عبادت کیوں کرتے ہیں، کیا ان کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ اصل یہ ہے کہ مشرک ظالم ہیں اور ظالم بھی ایسے جو واضح گمراہی میں مبتلا ہیں، شرک کی ظلمت اور اندھیرے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھذا خلق اللہ یہ مبتدا اور خبر ہے اور خلق مخلوق کے معنی میں ہے یہ جس میں نے ذکر کیا ہے تم آنکھوں سے اس کا معائنہ کرتے ہو۔ خلق اللہ یعنی اللہ کی مخلوق، یعنی اللہ تعالیٰ نے شریک کے بغیر اس کو پیدا کیا۔ فارونی اے مشرکوں کو جماعتو ! ماذا خلق الذین من دونہ یعنی بتوں نے کسے پیدا کیا ؟ بل الظالمون فی ضلل مبین بلکہ مشرک واضح خسارے میں ہیں۔ ما استفہامیہ ہے جو محل رفع میں ہے اور اس کی خبرذا ہے جو الذی کے معنی میں ہے اور خلق کا مفعول ضمیر محذوف ہے جو ھاء محذوفہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فارونی ای شیء خلق الذین من دونہ، جملہ ارونی کی وجہ سے محل نصب میں ہے خلق کے ساتھ ھاء ضمیر مضمر کی ہے جو الذین کی طرف لوٹ رہی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہذا خلق اللہ یعنی جو ذکر کیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں سے اور جو کچھ ان دونوں میں جانور پھیلائے گئے اور جو چیز جوڑا جوڑا پیدا کی گئیں سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں آیت فارونی ماذا خلق الذین من دونہ اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو انہوں نے پیدا کیا یعنی ان بتوں نے واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا [یہ ] خَلْقُ اللّٰهِ [اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ] فَاَرُوْنِيْ [تو تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا [کیا ] خَلَقَ [پیدا کیا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جو ] مِنْ دُوْنِهٖ ۭ [اس کے سوا ہیں ] بَلِ الظّٰلِمُوْنَ [بلکہ ظلم کرنے والے ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–12

حضرت حکیم لقمان (علیہ السلام) کے نصائح اس رکوع میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کا اور ان کی نصیحتوں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں، درمیان میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھی طرح پیش آئے۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) کا تعارف۔ لقمان (علیہ السلام) کون تھے اور کس زمانہ میں تھے ؟ اس بارے میں اصحاب سیر اور علمائے تفسیر نے کئی باتیں لکھی ہیں یہ سب باتیں اسرائیلیات میں سے ہیں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بہن کے بیٹے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کے بیٹے تھے، والد کا نام باعوراء اور عنقا لکھا ہے۔ اور ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ھذا خلق اللہ الخ۔ یہ تمام مذکورہ چیزیں تو اللہ کی مخلوق ہیں اے مشرکین ! اللہ کے سوا جن کو تم نے متصرف و کارساز سمجھ رکھا ہے ذرا دکھاؤ تو سہی انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے جب ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیی ہی ہے تو لامحالہ سب کا کارساز بھی وہی ہے اور وہی ہر قسم کی عبات اور پکار کا مستحق ہے اور معبودان باطلہ چونکہ ایک ذرے کے بھی خالق نہیں اس لیے وہ معبود اور کارساز ہونے کے لائق بھی نہیں۔ ماذا خلق الذین من دونہ مما اتخذتموھم شرکاء لہ سبحانہ فی العبادۃ حتی استحقوا بہ المعبودیۃ (روح ج 21 ص 82) ۔ بل الظلمون الخ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی یہ بات نہیں کہ معبودان باطلہ کی کوئی مخلوق دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآا پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کی اور پھر محسنین کے اوصاف بیان کر کے ان کی فلاح کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد اشقیا کی کارگزاری اور ان کے انجام کو بیان کیا۔ کہ وہ دنیا میں کھیل تماشے کو رائج کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اب آج کی پہلی دوآیات میں اہل ایمان کا ذکر کر کے انہیں جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ پھر اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اور انہیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی تردید بھی ہوگئی ہے ۔ اجزائے ایمان : ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنو بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفر ، شرک ، نفاق ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖ۝ 0 ۭ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ 11ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–12

ترکیب : ان اشکر للہ تفسیر للحکمۃ لان ابتاء الحکمۃ فی معنی القول یا بنی بیاء التصغیر و یاء ہی لام الکلمۃ والیاء الثالثہ یاء التکلم ولکنھا حذفت لد لالۃ الکسرۃ علیھا فرار امن توالی الیایات و یقرء بالفتح و فیہ و جہان احدھما انہ ابدال الکسرۃ فحتہ فانقلبت باء الاضافۃ الاثم حذفت الالف کما حذفت الیاء مع الکسرۃ لانھا اصلھا بالثانی ان الا لف حذفت من اللفظ لا لتقاء الساکنین۔ وھنا المصدر حال من الام بتقدیر مضاف ای ذات و ھن اوھو مفعول مطلق لفعل محذف ای تھن وہنًا معروفاً صفۃ لمصدر محذوف ای صحابا معروفا وقیل التقدیر بمعروف۔ انھا الضمیر للقصۃ۔ تفسیر : شروع میں فرمایا تھا کہ یہ آیات پر حکمت کتاب کی ہیں، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (لقمان : 11) (یہ تو ہے اللہ کی تخلیق تو اب مجھے دکھائو ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ) شرک کے ابطال میں نہایت واضح دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں چند تخلیقات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اے اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے لوگو ! یہ ساری چیزیں تو اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، اس کے علاوہ بھی کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ نے پیدا فرمایا ہے اور تمہیں بھی اس بات کا اعتراف ہے، تو اب بتائو کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد مشرکین سے سوال۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان پیدا کیے اور زمین پر پہاڑ گاڑ دئیے۔ وہ آسمان سے بارش نازل کرتا اور اس کے ساتھ بیشمار عمدہ اناج اور نباتات پیدا کرتا ہے تم بتاؤ کہ تمہارے خداؤں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ خالق حقیقی کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے اور مشکل کشا، حاجت روا سمجھنے والے ظالم ہیں۔ اور یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ دوسرے مقام پر ظالموں کو درج ذیل سوالات کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر دور کے مشرکوں کے پاس اس کے سوا نہ کوئی جواب ہے اور نہ ہوگا حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اصنام کی عبادت کی وجہ ؟ 11: ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے) ھذا سے ماقبل مذکورہ مخلوقات کی طرف اشارہ ہے۔ خلق اللہ کا معنی مخلوق ہے۔ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (پس تم مجھے دکھائو جو اس کے سوا ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں) من دونہٖ سے ان کے آلہہ مراد ہیں۔ ان کو لاجواب کیا گیا کہ یہ تمام بڑی بڑی اشیاء تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ پس تم مجھے دکھلائو کہ انہوں نے کیا چیزپیدا کی ہے جس کی وجہ سے تم پر ان کی عبادت لازم ہوگئی۔ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (بلکہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں) اس میں ان کے لاجواب کرنے سے اعراض کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11، ھذا، ، یعنی جو کچھ تم کو دکھائی دے رہا ہے وہ تو خدا کا پیداکردہ ہے۔ ، خلق اللہ فارونی ما ذا خلق الذین من دونہ، پھر بتاؤکہ دوسرے معبودوں نے پیدا کیا کہ وہ مستحق عبادت قرار پائے۔ بل الظالمون فی ضلال مبین، ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

11۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین پہاڑ اور تمام مخلوقات کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس آیت میں مشرکوں کو یوں قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیوں کہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہو اور قرآن کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں سے کیا چیز پیدا کی ہے اور جب تم اپنے جھوٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–11

آیت نمبر : 11 ۔ 10 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار ‘ اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے : (خلق السموٰت) اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت ‘ ان کی وسعت ‘ ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا (بغیر عمد ترونھا) ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ (والقی فی الارض رواسی) ” اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔ “ یعنی بڑے بڑے پہاڑ ‘ جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین (تمیدبکم) ” تمہیں لے کر ڈھلک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–14

طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

16 حضرت لقمٰن کون تھے اور کیا تھے ؟ : جمہور علما و مفسرین کے نزدیک حضرت لقمٰن نبی نہیں تھے بلکہ ایک دانش مند اور صالح انسان تھے۔ کالے رنگ کے حبشی غلام تھے مگر اللہ پاک نے ان کو باطن کی نورانیت اور ایسی حکمت و دانش مندی سے نوازا تھا کہ لقمٰن کی حکمت ضرب المثل بن گئی اور اللہ پاک نے اپنے کلام معجز نظام میں بھی اس کا تذکرہ فرما دیا جس سے حکمت لقمانی ایک زندئہ جاوید حقیقت بن گئی۔ پس معلوم ہوا کہ اصل چیز ظاہر اور صورت نہیں بلکہ باطن اور سیرت ہے۔ (روح، قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ یہاں پر حکمت لقمانی کے ان اقوال کو نقل کر کے مشرکین عرب کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور ان کے قلب و ضمیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–11

اللہ کی قدرتیں تشریح : کائنات میں زندگی کی بقا (قائم) کرکے، انتظامات اس قدر مکمل اور مناسب ہیں کہ اسے اتفاقیہ تخلیق کہنا حماقت ہے۔ کیا زمین کا یہ حجم، یہ جھکاؤ، رفتار، پہاڑ، دن رات کی گردش، موسم، ہوائیں، نباتات، حیوانات، بارش کا حیران کردینے والا نظام اور پھر انسان کی تخلیق۔ کیا یہ سب کچھ بغیر کسی مالک کے ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں یہ صرف خدائے واحد کا کام ہے اور کوئی طاقت یہ سب کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر کسی شخص کے لیے ان تمام کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ممکن ہی نہیں تو پھر کیوں نہ صرف ایک اللہ کے سامنے جھکیں اسی سے مرادیں مانگیں اسی کی عبادت کریں۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی ان لوگوں نے جنہیں تم اپنا معبود بنائے بیٹھے ہو اور انہیں اپنی قسمت کا مالک سمجھتے ہو

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:11) بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی ان کے معبود ان باطل نے کچھ بھی تخلیق نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–11

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔ یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔ تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–11

(ف 1) اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہیے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو، اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تو تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں کیا چیز پیدا کیا ہے اور جب تما پنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز ایسی نہیں بتلاسکتے جس سے تم کو آخرت یا دنیا میں کسی طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔ [3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: مکہ کے مشرکوں اور بت پرستوں سے قرآن پوچھتا ہے کہ اے بتوں اور شخصیتوں کے پوجنے والو ۔ یہ آسمان تو ہم نے پیدا کئے اور پہاڑوں کو بھی ہم نے زمین پر رکھا ۔ تاکہ توازن درست رہے ۔ بارش بھی ہم بھیجتے ہیں بتاؤ اس کائنات میں تمہارے معبودوں نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں ۔ انہوں نے کون سی دنیا بسائی ہے ۔ کس عالم کو ایجاد کیا ہے وہ کس آسمان و زمین کے مالک ہیں ۔ قرآن کا مطالبہ ہے ۔ کہ ان کی مصنوعات کو ہمارے سامنے پیش کرو ۔ ورنہ اس صریح ظلم سے توبہ کرو ۔ اور اس کھلی گمراہی کو چھوڑ دو ۔ اور کہہ دو کہ اللہ کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ۔ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک اور پروردگار ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

11۔ یہ سب چیزیں تو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اب تم لوگ ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو اور بتائو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں نے کیا کیا بنایا اور پیدا کیا ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ مشرک کھلی اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یعنی ان چیزوں کو جب سے یہ موجود ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ نے موجود فرمائی ہیں اور بنائی ہیں اور ان کا موجد ہی مستحق الوہیت ہے جس کے تم قائل نہیں تو اب بتائو کہ اس مستحق الوہیت کے علاوہ اوروں نے کیا بنایا ہے تا کہ شرک فی الالوہیت ثابت ہو۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس دلیل کے بعد شرک سے باز آجائے اور اپنی ہارمان لیتے لیکن اپنی ضد اور اصرار پر قائم ہیں اور یہ ظالم اور ناانصاف لوگ صریح گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 4۔ لقمان (علیہ السلام) نبی نہ تھے، ان کا زمانہ قریب داود (علیہ السلام) کے تھا، پس ان کے نبی نہ ہونے کی بنا پر ان کو یہ حکم ہونا ان اشکر اللہ یا بطور الہام کے ہوگا یا اس زمانے کے کسی نبی کی تعلیم کے ذریعہ سے، اور جس فرزند کو انہوں نے نصیحت کی ہے صحیح اور صریح طور پر کہیں نہیں دیکھا کہ ان کے فرزند کا کیا طریقہ تھا، پہلے سے موحد تھے یا اس نصیحت کے بعد موحد ہوئے یا کیا ہوا۔ 5۔ یعنی خود اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے، دنیوی نعمت میں تو باعتبار نفس نعمت کے کبھی اور باعتبار ثواب کے ہمیشہ اور دینی نعمت میں مثل علم وغیرہ کے دونوں طرح پر یعنی علم بھی بڑہتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ سب تخلیق اللہ تعالیٰ کی ہے کیا تمہارے شریکوں نے جو بنایا ہے وہ بھی کہیں موجود ہے : 11۔ فرمایا غور کرو کہ آسمان کا یہ وسیع گنبد جسے تھامنے کے لئے کوئی ستون اور سہارا تم کو نظر نہیں آرہا یہ کشادہ زمین اور اس میں گاڑے گئے فلک بوس پہار اور زمین کے اندر مختلف طرح کے گوناگوں جانور ‘ موسموں کا تغیر وتبدل ‘ بارش کے آنے کا پورا نظام ان رنگا رنگ فصلوں ‘ سبزیوں ‘ درختوں کا اگنا اور اس کائنات کے اندر جو کچھ تم کو نظر آتا ہے اس میں سے ایک ایک چیز پر غور کرتے جاؤ کیا یہ ساری کی ساری مخلوق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نہیں ؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر غور کرو کہ جن کو تم نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشاء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

Commentary Who was Luqman (علیہ السلام) mentioned in verse 12: وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ (And We gave wisdom to Luqman)? According to a report of Wahb Ibn Munnabih, Luqman, (علیہ السلام) was a nephew of Sayyidna Ayyub (Job) (علیہ السلام) while Muqatil identifies him as his brother from his maternal aunt. It appears in Tafsir ul-Baidawi and elsewhere that he lived long, as long as the time of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . It is proved by other reports too that Luqman (علیہ السلام) appeared during the time of Sayyidna Dawud علیہ السلام . And the report of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 "These others" 'the beings whom you havc set up as your deities, whom you regard as makers and un-makers of your destinies, whom you have been worshipping as such persistently" 16 That is, "When they do not point out in this universe any creation of anyone else than Allah, and obviously they cannot, their setting up the noncreators as associates in Godhead and bowing before them in worship and invoking them for help, is nothing but mere stupidity, because their foolish conduct cannot be explained in any other way. Unless a person has taken leave of his senses he cannot commit the folly…

Read the full tafseer →