Explained with ayahs 9–10
پہاڑوں کی میخیں
اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بےستوں اونچا رکھا ہے۔ واقع ہی میں کوئی ستوں نہیں۔ گو مجاہد کا یہ قول بھی ہے کہ ستوں ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورة رعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لئے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لئے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کرسکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 12
اوپر کے تمہیدی فقروں کے بعد اب اصل مدعا، یعنی تردید شرک اور دعوت توحید پر کلام شروع ہوتا ہے۔
سورة لُقْمٰن 13
اصل الفاظ ہیں بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ " تم خود دیکھ رہے ہو کہ وہ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ " دوسرا مطلب یہ کہ " وہ ایسے ستونوں پر قائم ہیں جو تم کو نظر نہیں آتے "۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد نے دوسرا مطلب لیا ہے، اور بہت سے دوسرے مفسرین پہلا مطلب لیتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علوم طبیعی کے لحاظ سے اگر اس کا مفہوم بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام عالم افلاک میں یہ بےحد و حساب عظیم الشان تارے اور سیارے اپنے اپنے مقام و مدار پر غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
خلاصہ تفسیر۔
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بلا ستون بنایا (چنانچہ) تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین میں (بھاری بھاری) پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ وہ تم کو لے کر ڈانوا ڈول نہ ہونے لگے اور اس (زمین) میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس زمین میں ہر طرح کے عمدہ اقسام (نباتات کے) اگائے (اور ان لوگوں سے جو کہ شرک کرتے ہیں کہئے کہ) یہ تو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں (سو اگر تم دوسروں کو شریک الوہیت قرار دیتے ہو تو) اب تم لوگ مجھ کو دکھاؤ کہ اس کے سوا جو (معبود تم نے بنا رکھے) ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں (تاکہ ان کا استحقاق الوہیت ثابت ہو اور اس دلیل کا مقتضیٰ…
Read the full tafseer →خلق السموات بغیر عمد ترونھا والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم وبث فیھا من کلہ دابۃ وانزلنا من السماء ما ئا بانبتتا فیھا من کل زوج کریم (10)
یہ اس کائنات کے ان دلائل و شواہد کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر ایک نظر ڈال کر ایک متوسط درجہ کی عقل کا آدمی بھی، یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ اس کائنات کا خالق عزیز یعنی ہر چیز پر غالب ومقتدر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں اس کی قدرت کے ساتھ اس کی بےپایاں حکمت بھی نمایاں ہے۔ فرمایا کہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس نے آسمانوں کی یہ عظیم چھت ایسے ستونوں کے بغیر ہی کھڑی کردی جو تمہیں نظر آئیں اور ساتھ ہی زمین میں پہاڑ لنگر انداز کردیے کہ یہ کہیں تمہارے ساتھ لڑکھ…
Read the full tafseer →10-1تَرَوْنَھَا، اگر عَمَد کی صفت ہو تو معنی ہونگے ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی آسمان کے ستون ہیں لیکن ایسے کہ تم انھیں دیکھ نہیں سکتے۔
10-2رواسی راسیۃ کی جمع ہے جس کے معنی ثابتۃ کے ہیں یعنی پہاڑوں کو زمین پر اس طرح بھاری بوجھ بنا کر رکھ دیا ہے کہ جن سے زمین ثابت رہے یعنی حرکت نہ کرے۔ اسی لیے آگے فرمایا ان تمید بکم یعنی کراھۃ ان تمید (تمیل) بکم او لئلا تمید یعنی اس بات کی ناپسندیدگی سے کہ زمین تمہارے ساتھ ادھر ادھر ڈولے، یا اس لیے کہ زمین ادھر ادھر نہ ڈولے۔ جس طرح ساحل پر کھڑے بحری جہازوں میں بڑے بڑے لنگر ڈال دیے جاتے ہیں تاکہ جہاز نہ ڈولے زمین کے لیے پہاڑوں کی بھی یہی حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
2: آسمانوں کا پورا نظام کسی ایسے ستونوں پر نہیں کھڑا جو انسان کو نظر آسکیں، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کے سہارے قائم فرمایا ہے جو معنوی ستون ہیں، نظر نہیں آتے۔ آیت کی یہ تفسیر حضرت مجاہد سے منقول ہے، جیسا کہ سورة رعد :2 میں بھی گذر چکا ہے
3: یہ مضمون بھی قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے کہ زمین کو پانی پر ڈگمگانے سے بچانے کے لیے پہاڑ پیدا کیے گئے ہیں۔ دیکھئے پیچھے سورة رعد :3 سورة حجر :19 سورة نحل : 15: سورة انبیاء : 31 اور سورة حم السجدہ : 10، سورة ق : 7 اور سورة مرسلات : 27
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
خلق السموت بغیر ۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (10 – 11)
یہ آسمان ، بغیر اس کے کہ ان کے بارے میں ہم جدید پیچیدہ سائنسی معلومات پیش کریں ، اپنی ظاہری حالت میں جب ہمارے حواس کے سامنے آتے ہیں تو یہ بہت ہی عظیم لگتے ہیں۔ یہ آسمان ستارے اور سیارے ہوں ، یا کہکشاں اور سدم ہوں۔ جو بلندیوں میں تیر رہے ہیں اور ان کے ھقیقی راز سے صرف اللہ ہی واقف ہے یا آسمان سے مراد یہ قبہ ہو جسے ہم دیکھتے ہیں اور جس کی حقیقت سے اللہ ہی خبردار ہے۔ غرض آسمان سے مراد جو بھی ہو ، بہرحال یہ عظیم کر ات بغیر سہارے اور ستونوں کے کھڑے ہیں۔ انسان رات اور دن ان سماوات کو دیکھتے ہیں اور جس چھوٹے سے ستارے پر انسان سوار ہیں ، اس تک ہم جس قدر…
Read the full tafseer →1 اس لفظ کی تفسیر سورة " رعد " کے شروع میں گزر چکی۔
2 یعنی سمندر کی موجوں اور سخت ہوا کے جھٹکوں سے یا دوسرے اسباب طبیعہ سے مرتعش ہو کر جھک نہ پڑے۔ اس کا انتظام بڑے بڑے پہاڑ قائم کر کے کردیا گیا۔ سورة " نحل " کے اوائل میں یہ مضمون گزر چکا ہے، باقی پہاڑوں کے پیدا کرنے کی حکمت کچھ اسی میں منحصر نہیں۔ دوسرے فوائد اور حکمتیں ہوں گی جو اللہ کو معلوم ہیں۔
3 یعنی ہر قسم کے پر رونق، خوش منظر اور نفیس و کار آمد درخت زمین سے اگائے۔ سورة شعراء کے شروع میں اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ ”
یعنی زمین کا توازن isostasy برقرار رکھنے کے لیے اس میں پہاڑ گاڑ دیے۔
م وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ ”
آج کی سائنس ”نباتات کے جوڑوں“ کی بہتر طور پر تشریح کرسکتی ہے۔ بہر حال دوسرے جانداروں کی طرح پودوں اور نباتات میں بھی نر اور مادہ کا نظام کار فرما ہے اور ان کے ہاں باقاعدہ خاندانوں اور قبیلوں کی پہچان اور تقسیم بھی پائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →10 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ستون ہیں تو سہی مگر تمہیں نظر نہیں آتے اور دوسرا یہ کہ تم دیکھ تو رہے ہو کہ ستون وغیرہ کچھ نہیں اور ستونوں کے سہاروں کے بغیر ہی قائم ہیں۔ اس مقام پر دو تین امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ جس جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا اکٹھا ذکر کیا ہے وہ اس سے مراد پوری کائنات اور نظام کائنات لیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ لفظ آسمان کے لئے عربی میں دو لغت ہیں ایک فلک (ج افلاک) دوسرا سماء (ج سماوات) فلک سے مراد سیاروں کے مدارات ہیں جن پر وہ گھوم رہے ہیں۔ اور سماء مراد بلندی بھی ہے اور آسمان کا وجود بھی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک ٹھوس حقیقت اور جسم رکھنے…
Read the full tafseer →7۔ (ہر طرح کے شجر ونباتات کے) (آیت) ” خلق ........ ترونھا “۔ آسمان جیسی عظیم الشان موجودات کو بغیر کسی ظاہری ومرئی سہارے کے قائم رکھنا کمال قدرت پر ایک دلیل قاطع ہے .... ملاحظہ ہوں (پ 13) سورة الرعد کے حاشیے۔ فقرہ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔” بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھ سکو بنایا “۔ اس صورت میں (آیت) ” ترونھا “۔ کا تعلق۔ (آیت) ’ ’ السموت “۔ سے نہیں۔ بلہ (آیت) ” عمد “۔ سے ہوگا۔ مفسرین نے یہ ترکیب بھی جائز رکھی ہے تکون ترونھا فی موضع خفض علی النعت لعمد فیمکن ان یکون ثم عمد ولکن لاتری (قرطبی) بلکہ بعض صحابہ وتابعین سے بھی منقول یہی ہے۔ قال ابن عباس ؓ وعکرمہ و مجاھد لھا عمد لاترونھا (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →خلق السموت بغیر عمد ترونھا والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم . اللہ نے آسمان
بنائے بغیر ستونوں کے جو تم کو دکھائی دیتے ہوں اور زمین میں ڈال دئیے پہاڑ کہ وہ تم کو لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے۔ رواسی زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ۔
وبث فیھا من کل دابۃ وانزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھا من کل زوج کریم . اور اس میں
ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور پھر اس (زمین) میں ہر طرح کے عمدہ اقسام اگائے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا چناچہ تم ان کو دیکھ رہے ہو یا یہ کہ ایسے ستونوں کے ساتھ بنایا جن کو تم نہیں دیکھ رہے اور زمین میں بھاری بھاری پھاڑ بنائے جو زمین کے لیے میخیں ہیں کہ وہ تمہیں لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے اور اس زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں۔
اور ہم نے آسمان سے بارش برسائی پھر اس سے زمین سے ہر طرح کے عمدہ اقسام کی چیزیں اگائیں۔
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا۔۔ : اس میں اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی چند نشانیوں کا ذکر فرما کر اس کی توحید کو اجاگر فرمایا، جو قرآن مجید کا سب سے بڑا اور اصل موضوع ہے۔ ”بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا“ کی تفسیر سورة رعد (2) میں اور ”وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ“ کی تفسیر سورة حجر (19) اور سورة انبیاء (31) میں دیکھیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
خلق السموت بغیر عمد ترونھا، ترونھا یہ محل جر میں ہے جو عمد کی صفت ہے ممکن ہے وہاں ستون تو ہوں لیکن دکھائی نہ دیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ السموت سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہو اور وہاں کوئی ستون نہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو کہتے سنا، بہتر یہ ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو اور وہاں کوئی ستون نہ ہو ؛ یہ مکی کا قول ہے اور بغیر عمد تتمہ کے طور پر کلام ہو۔ اس بارے میں گفتگو سورة الرعد میں گزرچکی ہے۔ والقی فی الارض رواسی سے مراد مضبوط پہاڑ ہیں۔ ان تمید یہ محل نصب میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی کراھیۃ ان تمید کو فیہ یہ کلام مقدر کرتے ہیں معنی ہے لئلا تمید۔
آیت وبث فیھا من کل دابۃ وانزلنا من السماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
1۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے آیت جنت النعیم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جنین جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں اور اس میں ایسی لڑکیاں ہیں جو جنت کے گلاب کے پھول سے پیدا کی گئیں کہا گیا اس میں کون رہے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے گناہوں کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے میری عظمت کو یاد کیا تو وہ مجھ سے ڈرنے لگے اور وہ لوگ کہ جن کی پشتیں میرے ڈر کی وجہ سے دہری ہوگئیں۔
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ [اس نے پیدا کیا آسمانوں کو ] بِغَيْرِ عَمَدٍ [ایسے ستونوں کے بغیر ] تَرَوْنَهَا [تم لوگ دیکھو جن کو ] وَاَلْقٰى [اور اس نے ڈالے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] رَوَاسِيَ [کچھ پہاڑ ] اَنْ [کہ کہیں ] تَمِيْدَ بِكُمْ [وہ لرزے تمہارے ساتھ ] وَبَثَّ [اور اس نے پھیلائے ] فِيْهَا [اس میں ] مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۭ [ہر چلنے والے جاندار میں سے ] وَاَنْزَلْنَا [اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً [آسمان سے کچھ پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا [پھر ہم نے اگایا ] فِيْهَا [اس (زمین) میں ] مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ [ہر ایک نفیس و پاکیزہ جوڑے میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آسمان و زمین اور پہاڑ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا
یہ دو آیتیں ہیں، پہلی آیت میں آسمان کی تخلیق اور زمین کے بعض احوال بیان فرمائے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا فرمایا ہے تم آسمان کو دیکھ رہے ہو کہیں بھی کوئی ستون نہیں ہے اتنے بڑے اور بھاری ساتوں آسمان محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم ہیں انہیں قائم رکھنے کے لیے اسے ستون بنانے اور ان پر قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کریں اگر یہ پہاڑ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین
قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔
(ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8:۔ خلق السموت الخ تمہید کے بعد توٰد پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور ستونوں کے بغیر ان کو تھام رکھا ہے، زمین پر پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ ڈانواں ڈول نہ ہو اور اس پر ہر قسم کی مخلوق پیدا کی اور آسمان سے بارش برسا کر زمین سے انواع و اقسام کی عمدہ اور نفع بخش نباتات پیدا کی۔ بغیر عمد ترونہا۔ یعنی وہاں سرے سے ستون ہیں ہی نہیں اس لیے نظر کیا آئیں۔ ان تمید بکم بمعنی لئلا تمید بکم (قرطبی ج 14 ص 58) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآا پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کی اور پھر محسنین کے اوصاف بیان کر کے ان کی فلاح کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد اشقیا کی کارگزاری اور ان کے انجام کو بیان کیا۔ کہ وہ دنیا میں کھیل تماشے کو رائج کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اب آج کی پہلی دوآیات میں اہل ایمان کا ذکر کر کے انہیں جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ پھر اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اور انہیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی تردید بھی ہوگئی ہے ۔
اجزائے ایمان :
ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنو بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفر ، شرک ، نفاق ،…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّۃٍ 0 ۭ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَنْۢبَتْنَا فِيْہَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ترکیب : ان اشکر للہ تفسیر للحکمۃ لان ابتاء الحکمۃ فی معنی القول یا بنی بیاء التصغیر و یاء ہی لام الکلمۃ والیاء الثالثہ یاء التکلم ولکنھا حذفت لد لالۃ الکسرۃ علیھا فرار امن توالی الیایات و یقرء بالفتح و فیہ و جہان احدھما انہ ابدال الکسرۃ فحتہ فانقلبت باء الاضافۃ الاثم حذفت الالف کما حذفت الیاء مع الکسرۃ لانھا اصلھا بالثانی ان الا لف حذفت من اللفظ لا لتقاء الساکنین۔ وھنا المصدر حال من الام بتقدیر مضاف ای ذات و ھن اوھو مفعول مطلق لفعل محذف ای تھن وہنًا معروفاً صفۃ لمصدر محذوف ای صحابا معروفا وقیل التقدیر بمعروف۔ انھا الضمیر للقصۃ۔
تفسیر : شروع میں فرمایا تھا کہ یہ آیات پر حکمت کتاب کی ہیں، اس…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ نَزَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ط وَاَنْزَلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ ۔ (لقمان : 10)
(اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں، اس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا، اور اس میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں۔ )
عزیزوحکیم کی شواہد سے وضاحت
گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کے عزیزوحکیم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ کفار کو عذاب الیم دے گا اور ایمان داروں کو جنت عطا فرمائے گا اس کی شان یہ ہے کہ اس نے بغیر ستونوں کے آسمان ٹھہرائے اور بلند وبالا پہاڑ بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی دو عظیم قدرتوں اور دو بڑی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے بغیر ستونوں کے ایک دوسرے پر آسمان کھڑے کیے ہیں۔ جن کے بارے میں اب تک سائنسدانوں کا خیال ہے کہ صرف ایک ہی آسمان ہے اور وہ بھی ٹھوس میٹریل سے بنا ہوا نہیں بلکہ اکثر سائنسدان کہتے ہیں کہحدِّ نظر کا نام آسمان ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا نقطہ نظر ہے کہ آسمان موجود ہے۔ لیکن یہ ٹھوس چھت ہونے کی بجائے ایک دھواں ہے جس تک ہماری نظر نہیں پہنچ…
Read the full tafseer →10: خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا (اس نے آسمانوں کو بلاستونوں کے پیدا کیا تم دیکھ رہے ہو) عمدٍ جمع عماد ہے۔ ترونہاؔ کی ضمیر آسمانوں کی طرف لوٹتی ہے یہ ان کے بغیر ستون ہونے پر ان کی رویت سے استشہاد پیش کیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں انابلا سیف ولا رمح ترانی تو دیکھ تو رہا ہے کہ میں بغیر تلوار اور نیزے کے ہوں۔ نمبر 1۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ محل جر میں عمد ٍ کی صفت ہو ای بغیر عمدمرئیۃٍ مطلب یہ ہوا کہ اس کے ستون نظر نہیں آتے اور وہ ان کو اپنی قدرت سے روکنا ہے۔ وَاَلْقٰی فِی الْاَ رْضِ رَوَاسِیَ (اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے) جمے رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →10، خلق السموات بغیر عمد ترونھا القی فی الارض رواسی ان تمید بکم،۔۔۔۔۔ ، وبث فیھا من کل دابۃ انزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھامن کل زوج کریم، اس سے مراد ہر طرح کے عمد ہ اقسام اگائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7 تا 10۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روبر وجب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ایسے ہر شخص کو کچھ دینے والے اس عذاب کی خبر سنا دو جو قیامت کے دن اس پر کیا جاوے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کی آیتوں سے گستاخی کر کے اللہ کے رسول کو ایذا دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز دکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان کیا جو قرآن شریف کی آیتوں کے سننے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور ان کو ہنسی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت نمبر : 11 ۔ 10
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار ‘ اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے : (خلق السموٰت) اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت ‘ ان کی وسعت ‘ ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا (بغیر عمد ترونھا) ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔
(والقی فی الارض رواسی) ” اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔ “ یعنی بڑے بڑے پہاڑ ‘ جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین (تمیدبکم) ” تمہیں لے کر ڈھلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →14 آفاقی دلائل میں غور و فکر کی دعوت : سو اس سے کائنات کے بعض اہم دلائل و شواہد میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ " زوج " کے معنیٰ قسم اور جوڑے کے آتے ہیں۔ سو قرآن حکیم نے چودہ صدیاں قبل جس حقیقت کو بیان فرمایا تھا دنیا اپنی طویل تگ و دو کے بعد اب جا کر اس کا ادراک کرسکی ہے اور آج کا ترقی یافتہ علم نباتات تباتا ہے کہ ہر پودے میں نرو مادہ کا سلسلہ ہے اور اس کی تلقیح کی مختلف شکلیں ہیں۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں کائنات کے ان بعض دلائل و شواہد میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو اس میں ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں اور جن میں غور و فکر سے کام لیکر ایک متوسط درجے کی عقل کا آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اللہ کی قدرتیں
تشریح : کائنات میں زندگی کی بقا (قائم) کرکے، انتظامات اس قدر مکمل اور مناسب ہیں کہ اسے اتفاقیہ تخلیق کہنا حماقت ہے۔ کیا زمین کا یہ حجم، یہ جھکاؤ، رفتار، پہاڑ، دن رات کی گردش، موسم، ہوائیں، نباتات، حیوانات، بارش کا حیران کردینے والا نظام اور پھر انسان کی تخلیق۔ کیا یہ سب کچھ بغیر کسی مالک کے ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں یہ صرف خدائے واحد کا کام ہے اور کوئی طاقت یہ سب کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر کسی شخص کے لیے ان تمام کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ممکن ہی نہیں تو پھر کیوں نہ صرف ایک اللہ کے سامنے جھکیں اسی سے مرادیں مانگیں اسی کی عبادت کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ترونھا من ” ھا “ کی ضمیر آسمانوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ستونوں کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔” اور اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو۔ “ گویا آسمانوں کے ستون ہیں مگر وہ تمہیں نظر نہیں آتے واللہ اعلم (نیز دیکھیے سورة رعد آیت 2)
Read the full tafseer →(31:10) عمد۔ ستون۔ ومعد اور عماد کی جمع۔ ترونھا۔ تردن مضارع جمع مذکر حاضر۔ رؤیۃ مصدر (باب فتح) ہا ضمیر واحد مذکر غائب کے دو مرجع ہوسکتے ہیں :۔
(1) آسمان۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا ۔ اور تم دیکھ رہے یو کہ آسمان ستونوں کے بغیر پیدا کئے ہیں۔
(2) عمد۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا۔ کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا فرمایا۔
جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی اگر ہوں تو ضرور نطر آئیں۔ یا اس نے آسمانوں کو پیدا کیا ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ ستون ہوں لیکن اگر وہ ہوں تو ایسے ہیں کہ تم دیکھ نہیں سکتے ۔
رواسی : راسیۃ کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھہرے ہوئے پہاڑوں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔
یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ف 1) اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہیے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو، اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تو تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں کیا چیز پیدا کیا ہے اور جب تما پنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز ایسی نہیں بتلاسکتے جس سے تم کو آخرت یا دنیا میں کسی طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔
[3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2: ان تمیدبکم سے ایک ایسے نظریہ کی طرف اشارہ ہے جس آج ہم نے معلوم کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ زمین جو برابر آفات کے گرد گھوم رہی ہے ! اور کسی وقت بھی اپنے خطوط ادوار سے نہیں ہٹتی تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں آفتاب کی کشش اس کو اپنی طرف نہیں کھینچ لیتی ؟ اور کیوں یہ کرہ ارض ایک متناسب فاصلہ پر سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی وج سے ایسا ثقل پیدا کردیا ہے ۔ کہ اب اس میں غیر طبعی حرکت نہیں پیدا ہوسکتی ۔ پہاڑ کشش اور جذب میں توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ کرہ ارض گھومتا ہے ۔ اور ہمارے لئے دن رات اور موسموں کے اختلاف کا باعث ہوتا ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →10۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا چناچہ تم ان کو دیکھتے ہو اور اسی نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور رکھ دیئے تا کہ کہیں تم کو زمین لیکر ہلنے نہ لگے اور ڈانو ڈول نہ ہونے لگے اور اسی نے زمین میں ہر قسم کے حیوانات پھیلائے اور ہم نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا ۔ پھر ہم نے زمین میں ہر قسم کی عمدہ اقسام کی نباتات اگائیں ۔ یعنی بلا کسی ٹیک کے آسمان بنائے زمین پر پہاڑ رکھے ہر قسم کے جاندار حیوانات پھیلانے آسمان سے پانی برسا کر بھانت بھانت کی نباتات اگائیں ہر قسم کی اچھی اچھی اور عمدہ عمدہ نباتات پیدا کیں نبابات میں بھی جوڑے ہوتے ہیں یہی نباتات کی قسمیں ہیں ان موالید ثلاثہ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 4۔ لقمان (علیہ السلام) نبی نہ تھے، ان کا زمانہ قریب داود (علیہ السلام) کے تھا، پس ان کے نبی نہ ہونے کی بنا پر ان کو یہ حکم ہونا ان اشکر اللہ یا بطور الہام کے ہوگا یا اس زمانے کے کسی نبی کی تعلیم کے ذریعہ سے، اور جس فرزند کو انہوں نے نصیحت کی ہے صحیح اور صریح طور پر کہیں نہیں دیکھا کہ ان کے فرزند کا کیا طریقہ تھا، پہلے سے موحد تھے یا اس نصیحت کے بعد موحد ہوئے یا کیا ہوا۔
5۔ یعنی خود اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے، دنیوی نعمت میں تو باعتبار نفس نعمت کے کبھی اور باعتبار ثواب کے ہمیشہ اور دینی نعمت میں مثل علم وغیرہ کے دونوں طرح پر یعنی علم بھی بڑہتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں کا پیدا کرنے والا ‘ پہاڑوں کا گاڑنے والا ‘ جانداروں کو پھیلانے والا وہی ہے :
10۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے عزیز و حکیم ہونے کی دلیل بیان کی جا رہی ہے تم اس کو غور سے سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ وہی ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں کو بغیر ستون وسہارا کے بنایا ہے جیسا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو کہ وہ بغیر کسی سہارا کے قائم ہے اور زمین کو مضبوط پہاڑی میخیں گاڑ کر اپنے محور پر قائم رہنے والی بنا دیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے لئے وہ کسی پریشانی اور حیرانی کا باعث ہو اور اپنے محور پر ایک ہی رخ پر قائم رہے تاکہ گردش سے وہ ایک طرف جھک نہ پڑے اور پھر اس زمین پر اس نے ہر قسم کے جانور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
Commentary
Verse 10 opens with the words: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (He has created the skies without the pillars that you may see). Another verse on the same subject: الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (Allah is the One who raised the heavens without pillars. You see them. 13:2) has appeared earlier in Surah Ar-Ra` d ( with a different translation). Analyzed grammatically, the text admits two alternative meanings.
1. If we were to take تَرَوْنَهَا (tarawnah to be the attribute of عَمَدٍ ( ‘am-ad) and revert its pronoun to 'amad, it would…
Read the full tafseer →12 After the above introductory sentence, the discourse now turns to the real theme, i.e.., the refutation of shirk and the invitation to Tauhid.
13 The actual words bi -ghair i amad-in tarauna-ha in the Text may havc two meanings: (1) "You can see for yourself that they stand without pillar"; and (2) 'they stand on the pillars which you cannot see" Ibn 'Abbas and Mujahid havc favoured the second meaning, and many other commentators take the first meaning. If the meaning is expressed in terms of the natural sciences of the present day, it can be said that the countless stars and planets in…
Read the full tafseer →