Luqman 31:9

Luqman · from ayah 9

31:9

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ— وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ؕ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ‌ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Wherein they abide eternally; [it is] the promise of Allah [which is] truth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:9

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہمیشہ ان میں رہیں گے، اللہ کا وعدہ ہے سچا، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے، اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمیشہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ اور وہ غالب و حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہی ہے (سب پر) غالب بڑا ہی حکمت والا

— مولانا اسحاق مدنی

جن میں وہ (ہمیشہ) رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا ہے۔ اور وہ زبردست ہے حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے“۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall abide in them forever. This is Allah's promise that shall come true. He is the Most Powerful, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

in which they will live forever - an absolute promise of Allah. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

in which they will live forever - an absolute promise of Allah. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To abide therein. It is a promise of Allah in truth. And He is the All-Mighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wherein they will abide. It is a promise of Allah in truth. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Wherein they abide eternally; [it is] the promise of Allah [which is] truth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

wherein they will live forever. It is the true promise of God. He is Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Abiding in them; the promise of Allah; (a) true (promise), and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Therein they will be abiders: a true promise of Allah. And He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

To dwell therein. The promise of Allah is true: and He is Exalted in Power, Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

پہاڑوں کی میخیں اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بےستوں اونچا رکھا ہے۔ واقع ہی میں کوئی ستوں نہیں۔ گو مجاہد کا یہ قول بھی ہے کہ ستوں ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورة رعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لئے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لئے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کرسکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 11 یعنی کوئی چیز اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی، اور وہ جو کچھ کرتا ہے ٹھیک ٹھیک حکمت اور عدل کے تقاضوں کے مطابق کرتا ہے " یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے " کہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بیان کرنے کا مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو بالارادہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نہ اس کائنات میں کوئی طاقت ایسی ہے جو اس کا وعدہ پورا ہونے میں مانع ہو سکتی ہو، اس لئے اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا کہ ایمان و عمل صالح کے انعام میں جو کچھ اللہ نے دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ کسی کو نہ ملے۔ نیز یہ کہ اللہ کی طرف سے اس انعام کا اعلان سراسر اس کی حکمت اور اس کے عدل پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–9

(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔ اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

ان الذین امنوا وعملو الصلحت لھم جنت النعیم۔ خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم (8۔ 9) یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لئے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ ’ وعد اللہ حقا ‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت 6 میں ذکر ہوچکا ہے کہ متکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9-1یعنی یہ یقینا پورا ہوگا، اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاللّٰہُ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

1: جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول بھی کرلیتے تھے، کافروں کے سردار اس صورت حال کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی ایسی دلچسپ صورت پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں، اسی کوشش میں مکہ مکرمہ کا ایک تاجر نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے لئے غیر ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا، ایران سے وہاں کے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید لایا، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانے والی کنیز بھی خرید…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل ایمان کی جزاء کا ذکر ہے وہاں ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ضرور کیا گیا ہے اس لیے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ایمان محض منجمد ، پوشیدہ ، معطل اور مجرد تصور ہی ہو بلکہ ایمان کو ایک زندہ ، فعال اور متحرک حقیقت ہونا چاہئے۔ جب وہ دل میں پیدا ہو ، قرار پکڑے پورا ہو ، تو متحرک ہو کر عملی شکل اختیار کرے۔ وہ حرکت اور طرز عمل کی شکل اختیار کرے اور عالم واقعہ میں اس کے آثار اپنی ترجمانی کریں۔ اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مومن کے دل میں کیا ہے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو عملی شکل دی۔ لھم جنت النعیم (31: 8) ” ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

5 یعنی کوئی قوت اس کو ایفائے وعدہ سے روک نہیں سکتی نہ کسی سے بےموقع وعدہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج ” گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔ فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ” تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

9 یعنی اللہ نے مومنوں سے جن جن نعمتوں اور باغات دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ انھیں دینے پر قادر بھی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ نعمتیں مومنوں کو مل نہ سکیں۔ اور وہ حکیم بھی ہے نہ تو وہ کسی مستحق کو محروم رکھے گا اور نہ ہی غلط بخشیوں کا ہی وہاں کچھ امکان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

6۔ اپنے کمال قدرت سے۔ ہر وعدہ کے واقع کرنے پر قادر ہے۔ اور اپنے کمال حکمت سے واقع اسی وقت کرتا ہے جب عین مصلحت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم . اللہ نے یہ پکا وعدہ کرلیا ہے اور وہی غالب ‘ حکمت والا ہے۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ یعنی وہ ہی سب پر غالب ہے وعدہ ثواب اور وعید عذاب پورا کرنے سے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ الْحَکِیْمُ حکمت والا ہے ‘ یعنی جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ویسا ہی کرتا ہے ‘ خلاف حکمت کچھ نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ وہ اپنی سلطنت اور بادشاہت میں زبردست اور حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جنت کا سچا وعدہ فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف (107، 108)۔ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا : جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی ایرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ”حَقًّا“ کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بےموقع نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

خلق السموت بغیر عمد ترونھا، ترونھا یہ محل جر میں ہے جو عمد کی صفت ہے ممکن ہے وہاں ستون تو ہوں لیکن دکھائی نہ دیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ السموت سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہو اور وہاں کوئی ستون نہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو کہتے سنا، بہتر یہ ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو اور وہاں کوئی ستون نہ ہو ؛ یہ مکی کا قول ہے اور بغیر عمد تتمہ کے طور پر کلام ہو۔ اس بارے میں گفتگو سورة الرعد میں گزرچکی ہے۔ والقی فی الارض رواسی سے مراد مضبوط پہاڑ ہیں۔ ان تمید یہ محل نصب میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی کراھیۃ ان تمید کو فیہ یہ کلام مقدر کرتے ہیں معنی ہے لئلا تمید۔ آیت وبث فیھا من کل دابۃ وانزلنا من السماء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

1۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے آیت جنت النعیم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جنین جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں اور اس میں ایسی لڑکیاں ہیں جو جنت کے گلاب کے پھول سے پیدا کی گئیں کہا گیا اس میں کون رہے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے گناہوں کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے میری عظمت کو یاد کیا تو وہ مجھ سے ڈرنے لگے اور وہ لوگ کہ جن کی پشتیں میرے ڈر کی وجہ سے دہری ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ [ہمیشہ رہنے والے اس میں ] وَعْدَ اللّٰهِ [(یقینا ) اللہ کا وعدہ ] حَقًّا ۭ [(ہوچکا) برحق ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–10

آسمان و زمین اور پہاڑ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا یہ دو آیتیں ہیں، پہلی آیت میں آسمان کی تخلیق اور زمین کے بعض احوال بیان فرمائے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا فرمایا ہے تم آسمان کو دیکھ رہے ہو کہیں بھی کوئی ستون نہیں ہے اتنے بڑے اور بھاری ساتوں آسمان محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم ہیں انہیں قائم رکھنے کے لیے اسے ستون بنانے اور ان پر قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کریں اگر یہ پہاڑ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

8:۔ خلق السموت الخ تمہید کے بعد توٰد پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور ستونوں کے بغیر ان کو تھام رکھا ہے، زمین پر پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ ڈانواں ڈول نہ ہو اور اس پر ہر قسم کی مخلوق پیدا کی اور آسمان سے بارش برسا کر زمین سے انواع و اقسام کی عمدہ اور نفع بخش نباتات پیدا کی۔ بغیر عمد ترونہا۔ یعنی وہاں سرے سے ستون ہیں ہی نہیں اس لیے نظر کیا آئیں۔ ان تمید بکم بمعنی لئلا تمید بکم (قرطبی ج 14 ص 58) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآا پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کی اور پھر محسنین کے اوصاف بیان کر کے ان کی فلاح کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد اشقیا کی کارگزاری اور ان کے انجام کو بیان کیا۔ کہ وہ دنیا میں کھیل تماشے کو رائج کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اب آج کی پہلی دوآیات میں اہل ایمان کا ذکر کر کے انہیں جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ پھر اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اور انہیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی تردید بھی ہوگئی ہے ۔ اجزائے ایمان : ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنو بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفر ، شرک ، نفاق ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۭ وَعْدَ اللہِ حَقًّا۝ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 9 خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–12

ترکیب : ان اشکر للہ تفسیر للحکمۃ لان ابتاء الحکمۃ فی معنی القول یا بنی بیاء التصغیر و یاء ہی لام الکلمۃ والیاء الثالثہ یاء التکلم ولکنھا حذفت لد لالۃ الکسرۃ علیھا فرار امن توالی الیایات و یقرء بالفتح و فیہ و جہان احدھما انہ ابدال الکسرۃ فحتہ فانقلبت باء الاضافۃ الاثم حذفت الالف کما حذفت الیاء مع الکسرۃ لانھا اصلھا بالثانی ان الا لف حذفت من اللفظ لا لتقاء الساکنین۔ وھنا المصدر حال من الام بتقدیر مضاف ای ذات و ھن اوھو مفعول مطلق لفعل محذف ای تھن وہنًا معروفاً صفۃ لمصدر محذوف ای صحابا معروفا وقیل التقدیر بمعروف۔ انھا الضمیر للقصۃ۔ تفسیر : شروع میں فرمایا تھا کہ یہ آیات پر حکمت کتاب کی ہیں، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (لقمان : 8، 9) (البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ غالب و حکیم ہے۔ ) ایمان و عمل کا صلہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب وہ جرائم پیشہ لوگوں متکبرین اور کافروں کی سزائوں کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ اہل جنت پر اپنے انعامات کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ یعنی ترغیب اور ترہیب پہلو بہ پہلو چلتی ہیں۔ اچھائی اور برائی اور ہر ایک کا انجام ساتھ ساتھ دکھائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : ” عَذَابٌ مُّھِیْنٌ“ پانے والوں کے بعد ” جَنّٰتُ النَّعِیْمِ “ کا انعام پانے والوں کا ذکر خیر۔ فہم القرآن میں کئی مقامات پر یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ اکثر مقام پر جنّت اور جہنم کا بیک مقام ذکر کرتا ہے تاکہ قارئ قرآن کے سامنے بیک وقت دونوں قسم کے انجام آجائیں اور وہ غور کرے کہ مجھے کس قسم کے اعمال اختیار کرنے چاہئیں تاکہ میں دنیا وآخرت کی ذلّت سے بچ جاؤں اور اپنے رب کے انعامات کا حقدار ہوجاؤں ایسے لوگوں کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے جو اپنے رب پر بلا شرکت غیرے ایمان لائے اور اس کے بتلائے ہوئے نیک اعمال کرتے رہے۔ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل ہوں گے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلائل قدرت : 9: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں) وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا (اللہ تعالیٰ نے یہ سچا وعدہ کرلیا) نحو : یہ دونوں مصدر مؤکد ہیں اول تو اپنے فعل کی تاکید کیلئے ہے اور دوسرا اپنے علاوہ دوسرے کی تاکیدکیلئے۔ اس لئے کہ لھم جنات النعیم، وعدھم اللّٰہ جنات النعیم کے معنی میں ہے۔ پس وعدؔ کے معنی کی تاکید وعدؔ سے کردی اور حقاؔ ثبات کے معنی پر دلالت کرتا ہے پس اس کے ذریعہ وعدؔ کے معنی کی تاکید کی گئی ہے اور ان دونوں کا مؤکدلَہُمْ جنات النعیم ہے۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) ایسا زبردست کہ اس پر کوئی شی غالب نہیں آسکتی۔ وہ اپنے دشمنوں کو دردناک عذاب سے ذلیل کرے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 6–9

لھو الحدیث کا مصداق 6، ومن الناس یشتری لھوا لحدیث مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول نضربن حارث کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم سے عادوثمود کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں رستم اور اسفند یار کے قصے اور شاہان ایران کے قصے بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑدیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجاہد کا قول ہے کہ ، لھوا لحدیث، سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرداس صورت میں لھو سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ۔ یعنی کچھ لوگ لھو والیاں اور لھو والے خرید تے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–10

7 تا 10۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روبر وجب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ایسے ہر شخص کو کچھ دینے والے اس عذاب کی خبر سنا دو جو قیامت کے دن اس پر کیا جاوے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کی آیتوں سے گستاخی کر کے اللہ کے رسول کو ایذا دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز دکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان کیا جو قرآن شریف کی آیتوں کے سننے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور ان کو ہنسی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–9

آیت نمبر : 6 ۔ 9 (ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو “ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے “ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں “ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام ‘ ہر قسم کی لغویات ‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ‘ غیبت ‘ چغلی ‘ جھوٹ ‘ سب و شتم ‘ شیطانی گانا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–14

طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

13 اللہ کی صفت عزت وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا۔ پس نہ تو اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے کہ وہ بڑا زبردست اور غالب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوسکتا ہے کہ وہ حکیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا ہر وعدہ پکا، پختہ اور بہرحال سچا اور پورا ہو کر رہنے والا ہے اور اس کی صفات عدل و حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ منکرین و معاندین کو سزا دے اور مومنین مخلصین کو ان کی جزا دے۔ نیز جو اس خدائے عزیز وحکیم کے کلام عزت و حکمت کو اپنائے گا اور اس کو گلے لگائے گا وہ عزت و حکمت کی دولت سے بہرہ مند و مالامال ہوگا۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–9

نیک بندے اور ان کا انعام تشریح : پچھلی آیات میں گمراہ لوگوں کے لیے دو طرح کے عذاب۔ درد ناک اور ذلیل کرنے والا عذاب سنایا گیا ہے جب کہ یہاں نیک اور اچھے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے والے بہترین باغات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اس خوشخبری میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ یہ وعدہ اس عظیم و حکیم قدرت والے الہ العٰلمین کا ہے جو ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے کیونکہ وہی تو قادر مطلق ہے۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–10

ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ترونھا من ” ھا “ کی ضمیر آسمانوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ستونوں کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔” اور اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو۔ “ گویا آسمانوں کے ستون ہیں مگر وہ تمہیں نظر نہیں آتے واللہ اعلم (نیز دیکھیے سورة رعد آیت 2)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:9) وعد اللہ : وعدا مصدر مؤکد لنفسہ ۔ لہم جنت النعیم کے معنی ہیں کہ :۔ وعدہم اللہ جنت النعیم۔ اس وعدہ کی تاکید میں مصدر مؤکدہ لایا گیا ہے چونکہ یہ وعدہ لفظا موجود نہیں صرف معنی ہے اس تاکید کو تاکید معنوی کہتے ہیں اور مصدر مؤکدہ لنفسہ کہلائے گا۔ اس کی مثال 30:6 میں ملاحظہ ہو۔ حقا بھی مصدر مؤکدہ ہے وعدہ کی تاکید کے لئے آیا ہے لہٰذا ہر دو عد اور حقا وعدہ لہم جنت النعیم کی تاکید کے لئے ہیں۔ دونوں مصدر مؤکدہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ۔ العزیز۔ غالب ۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمنعی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الحکیم۔ ذوالحکمۃ۔ حکمت والا۔ جس کا ہر کام حکمت اور مصلحت پر مبنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–11

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔ یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔ تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–11

(ف 1) اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہیے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو، اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تو تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں کیا چیز پیدا کیا ہے اور جب تما پنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز ایسی نہیں بتلاسکتے جس سے تم کو آخرت یا دنیا میں کسی طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔ [3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

ف 2: ان تمیدبکم سے ایک ایسے نظریہ کی طرف اشارہ ہے جس آج ہم نے معلوم کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ زمین جو برابر آفات کے گرد گھوم رہی ہے ! اور کسی وقت بھی اپنے خطوط ادوار سے نہیں ہٹتی تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں آفتاب کی کشش اس کو اپنی طرف نہیں کھینچ لیتی ؟ اور کیوں یہ کرہ ارض ایک متناسب فاصلہ پر سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی وج سے ایسا ثقل پیدا کردیا ہے ۔ کہ اب اس میں غیر طبعی حرکت نہیں پیدا ہوسکتی ۔ پہاڑ کشش اور جذب میں توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ کرہ ارض گھومتا ہے ۔ اور ہمارے لئے دن رات اور موسموں کے اختلاف کا باعث ہوتا ہے ۔ حل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9۔ وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ سچا اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی اہل ایمان جو نیک اعمال کیا کرتے ہیں ان کے لئے گونا گوں نعمتوں کے باغ ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ان کو وہاں سے نکالا نہ جائے گا یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے کیونکہ وہ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 3۔ پس کمال قدرت سے وعدہ اور وعید کو واقع کرسکتا ہے اور حکمت سے اس کو حسب وعدہ واقع کرے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا : 9۔ ایسا نہیں ہے کہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کے بعد پھر کبھی وہاں سے رخصت بھی کردیا جائے یا وہ وہاں سے کبھی نکلنا پسند ہی کریں ان کا آخرت کے باغات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہے اور طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ خطا ہونے دیتا ہے وہ غالب آنے والا ہے اور بہت ہی دانا وبینا ہے ، جو اس نے وعدہ کیا ہے وہ بلاشبہ پتھر پر لکیر ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدہ کا کوئی سچا ہو ہی نہیں سکتا ۔ ان باغات میں جو انعامات دیئے جائیں گے ان کی تصویر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–10

Commentary Verse 10 opens with the words: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ‌ عَمَدٍ تَرَ‌وْنَهَا (He has created the skies without the pillars that you may see). Another verse on the same subject: الَّذِي رَ‌فَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ‌ عَمَدٍ تَرَ‌وْنَهَا (Allah is the One who raised the heavens without pillars. You see them. 13:2) has appeared earlier in Surah Ar-Ra` d ( with a different translation). Analyzed grammatically, the text admits two alternative meanings. 1. If we were to take تَرَ‌وْنَهَا (tarawnah to be the attribute of عَمَدٍ ( ‘am-ad) and revert its pronoun to 'amad, it would…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 That is, "Nothing can withhold Him from fulfilling His promise, and whatever He does, He does strictly according to the demands of wisdom and justice. The object of mentioning these two attributes of Allaln after saying: This 'is a true promise of AIIah", is to stress that AIIah neither violates His promise wilfully nor is there in this universe any such power as can prevent Him from fulfilling His promise. Therefore, there can be no chance that one may not receive what AIIah has promised to give as a reward for faith and righteous deeds. Moreover, Allah's open promise to bestow this…

Read the full tafseer →