Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة لُقْمٰن 10
یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں، بلکہ فرمایا یہ ہے کہ ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ اگر پہلی بات فرمائی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ان نعمتوں سے لطف اندوز تو ضرور ہوں گے مگر وہ جنتیں ان کی اپنی نہ ہوں گی۔ اس کے بجائے جب یہ فرمایا گیا کہ " ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں، " تو اس سے خود بہ خود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پوری پوری جنتیں ان کے حوالہ کردی جائیں گی اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح ایک مالک اپنی چیز سے مستفید ہوتا ہے، نہ کہ اس طرح جیسے کسی کو حقوق ملکیت دیے بغیر محض ایک چیز سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔
اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ان الذین امنوا وعملو الصلحت لھم جنت النعیم۔ خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم (8۔ 9)
یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لئے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ ’ وعد اللہ حقا ‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت 6 میں ذکر ہوچکا ہے کہ متکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7-1یہ اس شخص کا حال ہے جو مذکورہ لہو و لعب کی چیزوں میں مگن رہتا ہے، وہ آیات قرآنیہ اور اللہ رسول کی باتیں سن کر بہرا بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہرا نہیں ہوتا اور اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں، کیونکہ اس کے سننے سے وہ ایذاء محسوس کرتا ہے۔ اس لیے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وقرا کے معنی ہیں کانوں میں ایسا بوجھ جو اسے سننے سے محروم کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1: جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول بھی کرلیتے تھے، کافروں کے سردار اس صورت حال کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی ایسی دلچسپ صورت پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں، اسی کوشش میں مکہ مکرمہ کا ایک تاجر نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے لئے غیر ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا، ایران سے وہاں کے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید لایا، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانے والی کنیز بھی خرید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل ایمان کی جزاء کا ذکر ہے وہاں ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ضرور کیا گیا ہے اس لیے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ایمان محض منجمد ، پوشیدہ ، معطل اور مجرد تصور ہی ہو بلکہ ایمان کو ایک زندہ ، فعال اور متحرک حقیقت ہونا چاہئے۔ جب وہ دل میں پیدا ہو ، قرار پکڑے پورا ہو ، تو متحرک ہو کر عملی شکل اختیار کرے۔ وہ حرکت اور طرز عمل کی شکل اختیار کرے اور عالم واقعہ میں اس کے آثار اپنی ترجمانی کریں۔ اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مومن کے دل میں کیا ہے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو عملی شکل دی۔
لھم جنت النعیم (31: 8) ” ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5 یعنی کوئی قوت اس کو ایفائے وعدہ سے روک نہیں سکتی نہ کسی سے بےموقع وعدہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج ”
گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔
فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ”
تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9 یعنی اللہ نے مومنوں سے جن جن نعمتوں اور باغات دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ انھیں دینے پر قادر بھی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ نعمتیں مومنوں کو مل نہ سکیں۔ اور وہ حکیم بھی ہے نہ تو وہ کسی مستحق کو محروم رکھے گا اور نہ ہی غلط بخشیوں کا ہی وہاں کچھ امکان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6۔ اپنے کمال قدرت سے۔ ہر وعدہ کے واقع کرنے پر قادر ہے۔ اور اپنے کمال حکمت سے واقع اسی وقت کرتا ہے جب عین مصلحت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →ان الذین امنو وعملوا الصلحت لھم جنت النعیم۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بلاشبہ راحت کے باغ ہوں گے جن کے اندر ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →البتہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے عیش کی جنتیں ہیں جن کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : لہو الحدیث کے خریدار بدنصیبوں اور ان کی جزا کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والے خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں، جن میں نعمت ہی نعمت ہوگی، کسی قسم کی زحمت یا تکلیف یا رنج و غم نہیں ہوگا، جب کہ دنیا کا کوئی باغ یا کوئی نعمت ایسی نہیں جس کے ساتھ کوئی زحمت یا رنج و غم نہ ہو۔
Read the full tafseer →جب کفار کے عذاب کا ذکر کیا تو مومنون کے لیے نعمتوں کا بھی ذکر کیا۔ خلدین کا معنی ہے ہمیشہ ہمیشہ۔ وعداللہ یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ ایسا سچا وعدہ ہے جس میں کوئی خلاف ورزی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
1۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے آیت جنت النعیم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جنین جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں اور اس میں ایسی لڑکیاں ہیں جو جنت کے گلاب کے پھول سے پیدا کی گئیں کہا گیا اس میں کون رہے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے گناہوں کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے میری عظمت کو یاد کیا تو وہ مجھ سے ڈرنے لگے اور وہ لوگ کہ جن کی پشتیں میرے ڈر کی وجہ سے دہری ہوگئیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [بیشک جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] جَنّٰتُ النَّعِيْمِ [دائمی نعمتوں کے باغات ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آسمان و زمین اور پہاڑ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا
یہ دو آیتیں ہیں، پہلی آیت میں آسمان کی تخلیق اور زمین کے بعض احوال بیان فرمائے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا فرمایا ہے تم آسمان کو دیکھ رہے ہو کہیں بھی کوئی ستون نہیں ہے اتنے بڑے اور بھاری ساتوں آسمان محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم ہیں انہیں قائم رکھنے کے لیے اسے ستون بنانے اور ان پر قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کریں اگر یہ پہاڑ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین
قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔
(ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →7:۔ ان الذین الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی جو لوگ اللہ کی خالص توحید پر ایمان لائے اور پورے اخلاص کے ساتھ نیک عمل کیے ان کیلئے بیشمار نعمتوں کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا نہایت ہی پختہ وعدہ ہے جو لامحالہ پورا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآا پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کی اور پھر محسنین کے اوصاف بیان کر کے ان کی فلاح کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد اشقیا کی کارگزاری اور ان کے انجام کو بیان کیا۔ کہ وہ دنیا میں کھیل تماشے کو رائج کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اب آج کی پہلی دوآیات میں اہل ایمان کا ذکر کر کے انہیں جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ پھر اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اور انہیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی تردید بھی ہوگئی ہے ۔
اجزائے ایمان :
ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنو بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفر ، شرک ، نفاق ،…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِيْمِ 8ۙ
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ان الذین آمنوا الخ قرآن کی عادت ہے کہ جب اہل شقاوت کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان ہوتا ہے تو اہل سعادت اور ان کے انعام و اکرام کا بھی ذکر آتا ہے، اس لیے یہاں اہل سعادت کا ذکر کرتا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کے لیے جنات النعیم ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے، مسخرے پڑے تمسخر کیا کریں، لیکن وعداللہ حقا اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ ھو العزیز وہ زبردست ہے اس کو وعدہ پورا کرنے میں کوئی عجز لاحق نہیں ہوتا۔ الحکیم حکمت والا ہے۔ ان کے تمسخر پر جو حلم ہے اور مومنوں کو جلدی بدلہ نہیں ملتا، اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔ خلق السموات بغیر عمد یہاں العزیز الحکیم ہونے پر ایک دلیل لاتا ہے کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (لقمان : 8، 9)
(البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ غالب و حکیم ہے۔ )
ایمان و عمل کا صلہ
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب وہ جرائم پیشہ لوگوں متکبرین اور کافروں کی سزائوں کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ اہل جنت پر اپنے انعامات کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ یعنی ترغیب اور ترہیب پہلو بہ پہلو چلتی ہیں۔ اچھائی اور برائی اور ہر ایک کا انجام ساتھ ساتھ دکھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : ” عَذَابٌ مُّھِیْنٌ“ پانے والوں کے بعد ” جَنّٰتُ النَّعِیْمِ “ کا انعام پانے والوں کا ذکر خیر۔
فہم القرآن میں کئی مقامات پر یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ اکثر مقام پر جنّت اور جہنم کا بیک مقام ذکر کرتا ہے تاکہ قارئ قرآن کے سامنے بیک وقت دونوں قسم کے انجام آجائیں اور وہ غور کرے کہ مجھے کس قسم کے اعمال اختیار کرنے چاہئیں تاکہ میں دنیا وآخرت کی ذلّت سے بچ جاؤں اور اپنے رب کے انعامات کا حقدار ہوجاؤں ایسے لوگوں کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے جو اپنے رب پر بلا شرکت غیرے ایمان لائے اور اس کے بتلائے ہوئے نیک اعمال کرتے رہے۔ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل ہوں گے اور…
Read the full tafseer →8: اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ان کے لئے نعمتوں والے باغات ہیں) ۔
نحو : اس پر وقف نہیں کیونکہ خالدین فیھا یہ لھم کی ضمیر سے حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
لھو الحدیث کا مصداق
6، ومن الناس یشتری لھوا لحدیث مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول نضربن حارث کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم سے عادوثمود کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں رستم اور اسفند یار کے قصے اور شاہان ایران کے قصے بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑدیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مجاہد کا قول ہے کہ ، لھوا لحدیث، سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرداس صورت میں لھو سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ۔ یعنی کچھ لوگ لھو والیاں اور لھو والے خرید تے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7 تا 10۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روبر وجب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ایسے ہر شخص کو کچھ دینے والے اس عذاب کی خبر سنا دو جو قیامت کے دن اس پر کیا جاوے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کی آیتوں سے گستاخی کر کے اللہ کے رسول کو ایذا دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز دکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان کیا جو قرآن شریف کی آیتوں کے سننے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور ان کو ہنسی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
آیت نمبر : 6 ۔ 9
(ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو “ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے “ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں “ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام ‘ ہر قسم کی لغویات ‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ‘ غیبت ‘ چغلی ‘ جھوٹ ‘ سب و شتم ‘ شیطانی گانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
13 اللہ کی صفت عزت وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا۔ پس نہ تو اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے کہ وہ بڑا زبردست اور غالب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوسکتا ہے کہ وہ حکیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا ہر وعدہ پکا، پختہ اور بہرحال سچا اور پورا ہو کر رہنے والا ہے اور اس کی صفات عدل و حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ منکرین و معاندین کو سزا دے اور مومنین مخلصین کو ان کی جزا دے۔ نیز جو اس خدائے عزیز وحکیم کے کلام عزت و حکمت کو اپنائے گا اور اس کو گلے لگائے گا وہ عزت و حکمت کی دولت سے بہرہ مند و مالامال ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
نیک بندے اور ان کا انعام
تشریح : پچھلی آیات میں گمراہ لوگوں کے لیے دو طرح کے عذاب۔ درد ناک اور ذلیل کرنے والا عذاب سنایا گیا ہے جب کہ یہاں نیک اور اچھے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے والے بہترین باغات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اس خوشخبری میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ یہ وعدہ اس عظیم و حکیم قدرت والے الہ العٰلمین کا ہے جو ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے کیونکہ وہی تو قادر مطلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ترونھا من ” ھا “ کی ضمیر آسمانوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ستونوں کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔” اور اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو۔ “ گویا آسمانوں کے ستون ہیں مگر وہ تمہیں نظر نہیں آتے واللہ اعلم (نیز دیکھیے سورة رعد آیت 2)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(31:8) جنت النعیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ نعمت و راحت کی جنتیں اصل میں جنتوں کی نعمتیں اور راحتیں تھا۔ کیونکہ جنت جگہ ہی نعمت و راحت کی ہے مبالغہ کے لئے الٹ دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔
یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ف 1) اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہیے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو، اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تو تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں کیا چیز پیدا کیا ہے اور جب تما پنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز ایسی نہیں بتلاسکتے جس سے تم کو آخرت یا دنیا میں کسی طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔
[3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2: ان تمیدبکم سے ایک ایسے نظریہ کی طرف اشارہ ہے جس آج ہم نے معلوم کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ زمین جو برابر آفات کے گرد گھوم رہی ہے ! اور کسی وقت بھی اپنے خطوط ادوار سے نہیں ہٹتی تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں آفتاب کی کشش اس کو اپنی طرف نہیں کھینچ لیتی ؟ اور کیوں یہ کرہ ارض ایک متناسب فاصلہ پر سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی وج سے ایسا ثقل پیدا کردیا ہے ۔ کہ اب اس میں غیر طبعی حرکت نہیں پیدا ہوسکتی ۔ پہاڑ کشش اور جذب میں توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ کرہ ارض گھومتا ہے ۔ اور ہمارے لئے دن رات اور موسموں کے اختلاف کا باعث ہوتا ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →8۔ بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے نعمت کے باغ اور عیش کی جنتیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 3۔ پس کمال قدرت سے وعدہ اور وعید کو واقع کرسکتا ہے اور حکمت سے اس کو حسب وعدہ واقع کرے گا۔
Read the full tafseer →ہاں ! وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل ہوئے ان کے لئے انعام و باغات ہیں :
8۔ ہاں ! جو لوگ اس زندگی میں ایمان لے آئیں جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی دی گئی ہدایات کے مطابق اپنی عملی زندگی ڈھال لیں تو بلاشبہ آخرت میں نعمت بھری جنتیں ان کے سپرد کردی جائیں گی اور بےدھڑک اور بےکھٹک ان میں جدھر چاہیں گے چلتے رہیں گے اور وہاں ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی کہ اب ان سے اختیار واپس لے لیا جا چکا ہوگا اور وہ قوت جو ان کو آوارہ گردی پر لگا دیتی تھی اب ان کے پاس موجود ہی نہیں ہوگی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
Commentary
Verse 10 opens with the words: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (He has created the skies without the pillars that you may see). Another verse on the same subject: الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (Allah is the One who raised the heavens without pillars. You see them. 13:2) has appeared earlier in Surah Ar-Ra` d ( with a different translation). Analyzed grammatically, the text admits two alternative meanings.
1. If we were to take تَرَوْنَهَا (tarawnah to be the attribute of عَمَدٍ ( ‘am-ad) and revert its pronoun to 'amad, it would…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
10 Instead of saying 'There are blessings of Paradise (Gardens) for them," it has been said, there are blissful Gardens for them." In the first case, it would have meant this: "They will enjoy the blessings but the Gardens will not belong to them." In the second case, it automatically becomes evident that the whole Gardens will be handed over to them, and they will take advantage of their blessings as an owner does of his own possession, and not like the one who is allowed to use something without giving him ownership rights over it."
Read the full tafseer →