Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة لُقْمٰن 10
یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں، بلکہ فرمایا یہ ہے کہ ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ اگر پہلی بات فرمائی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ان نعمتوں سے لطف اندوز تو ضرور ہوں گے مگر وہ جنتیں ان کی اپنی نہ ہوں گی۔ اس کے بجائے جب یہ فرمایا گیا کہ " ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں، " تو اس سے خود بہ خود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پوری پوری جنتیں ان کے حوالہ کردی جائیں گی اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح ایک مالک اپنی چیز سے مستفید ہوتا ہے، نہ کہ اس طرح جیسے کسی کو حقوق ملکیت دیے بغیر محض ایک چیز سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔
اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے…
Read the full tafseer →واذا تتلی علیہ ایتنا ولی متکبرا کان تم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا۔ فبشرہ بعذاب الیم (7)
یہ ان لوگوں کے اس اشکبار کی تصویر ہے جس کے سبب سے یہ ذلت کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت غرور کے ساتھ اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں گویا انہوں نے ان کو سرے سے سنا ہی نہیں، گویا ان کے دونوں کان بہرے ہیں۔ یعنی یہ ہماری آیات کو یک قالم ناقابلِ التفات سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری باتیں ان کے لئے لائق توجہ ہی نہیں رہ گئی ہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو ایک درد ناک عذبا کی خوش خبری سنادو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7-1یہ اس شخص کا حال ہے جو مذکورہ لہو و لعب کی چیزوں میں مگن رہتا ہے، وہ آیات قرآنیہ اور اللہ رسول کی باتیں سن کر بہرا بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہرا نہیں ہوتا اور اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں، کیونکہ اس کے سننے سے وہ ایذاء محسوس کرتا ہے۔ اس لیے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وقرا کے معنی ہیں کانوں میں ایسا بوجھ جو اسے سننے سے محروم کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1: جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول بھی کرلیتے تھے، کافروں کے سردار اس صورت حال کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی ایسی دلچسپ صورت پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں، اسی کوشش میں مکہ مکرمہ کا ایک تاجر نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے لئے غیر ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا، ایران سے وہاں کے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید لایا، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانے والی کنیز بھی خرید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7)
لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک…
Read the full tafseer →4 یعنی غرور تکبر سے ہماری آیتیں سننا نہیں چاہتا بالکل بہرا بن جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج ”
گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔
فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ”
تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →8 یہ ہے اللہ کی آیات سے اس کی شان بےنیازی گویا وہ اللہ کی آیات سننے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا اور اگر کانوں میں آواز پڑ بھی جائے تو ایسے سنی ان سنی کردیتا ہے جیسے وہ ثقل سماعت کی وجہ سے بات سن ہی نہ پایا ہو۔ اور یہ سب کچھ وہ ازراہ تکبر نحوت کی بنا پر کرتا ہے لہذا اسے اس تکبر کی سزا دردناک عذاب کی صورت میں ملے گی۔
Read the full tafseer →5۔ آیت ماقبل سے بھی ظاہر ہوگیا تھا، اور اس آیت نے اور زیادہ صاف کردیا کہ یہاں مراد اس لہو ولعب اور اس اشغال تفریحی سے ہے جو دین اسلام سے ہٹنے اور ہٹانے، ضلال واضلال کا باعث ہوں، ایسے مشاغل یقیناً حرام بلکہ ان میں سے بعض تو کفر کے درجہ میں داخل ہیں۔ باقی ” جو لھو “۔ اعمال فرعیہ شرعیہ سے باز رکھے یا کسی معصیت کا سبب ہوجائے وہ صرف معصیت ہے۔ اور جو لہو کسی امر واجب کا مفوت نہ ہو اور اس میں کوئی شرعی غرض ومصلحت بھی نہ ہو وہ مباح ہے۔ لیکن لا یعنی ہونے کی وجہ سے خلاف اولی ہے۔ اور مسابقت فرس اور مسابقت سہم وملاعبت ابل میں چونکہ متعدبہ غرض تھی، اس لیے حدیث میں اس کو لہو باطل سے مستثنی فرمایا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →واذا علیہ ایتنا ولی مستکبرا کان لم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا . اور جب اس کے سامنے
ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو غرور سے پشت پھیر لیتا ہے (ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا) گویا اس نے آیات کو سنا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ ڈاٹ سے مراد ہے ثقل سماعت گراں گوشی جو سننے سے روکتی ہے۔
فبشرہ بعذاب الیم . آپ اس کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔ عَذَابٍ اَلْیمٍ کی اطلاع خوش خبری نہیں ہوتی بطور استہزا اس کو بشارت فرمایا ( مطلب یہ کہ ہر بشارت سے محروم ہے ‘ کسی بشارت کا مستحق نہیں۔ اگر اس کے لئے بشارت ہے تو بس یہی کہ وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوگا ‘ مترجم) ۔
Read the full tafseer →اور جب اس کے سامنے ہماری آیات جن میں اوامرو نواہی کا بیان ہے پڑھی جاتی ہیں تو ایمان سے تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں اور وہ بہرہ ہے۔
آپ اس کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنا دیجیے چناچہ یہ بدر کے دن بری طرح مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ۔۔ : محسنین کے اوصاف اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد ان بدنصیبوں کا ذکر فرمایا جن کے لیے ”عَذَابٌ مُّهِيْنٌ“ یعنی ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ ”لَهْوَ“ کا لفظی معنی ”غافل کردینا“ ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) [ المنافقون : 9 ] ”تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔“ ”لَهْوَ“ ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو انسان کو اس کے مقصد کی چیز سے غافل کر دے۔ شیخ عبدالرحمان السعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ”وَمِنَ النَّاسِ“ لوگوں میں سے کوئی ایسا بدنصیب اور…
Read the full tafseer →ایاتنا سے مراد قرآن ہے۔ ولی کا معنا اس نے اعراض کیا۔ مستکبرا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ وقرا بوجھ اور گرانی ہے۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی الدنیا نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا تتلی علیہ اٰیتنا والی مستکبرا کہ جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لیتا ہے یعنی اس کو جھٹلاتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے۔
2۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقرا سے مراد ہے بوجھ۔
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ [اور جب بھی پڑھی جاتی ہیں اس پر ] اٰيٰتُنَا [ہماری آیتیں ] وَلّٰى [تو وہ مڑ جاتا ہے ] مُسْتَكْبِرًا [بڑا بنتے ہوئے ] كَاَنْ [جیسے کہ ] لَّمْ يَسْمَعْهَا [اس نے سنا ہی نہیں ان کو ] كَاَنَّ [گویا کہ ] فِيْٓ اُذُنَيْهِ [اس کے دونوں کانوں میں ] وَقْرًا ۚ [کوئی بوجھ ہے ] فَبَشِّرْهُ [تو آپ ﷺ خوشخبری دیں اس کو ] بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [ایک دردناک عذاب ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آسمان و زمین اور پہاڑ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا
یہ دو آیتیں ہیں، پہلی آیت میں آسمان کی تخلیق اور زمین کے بعض احوال بیان فرمائے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا فرمایا ہے تم آسمان کو دیکھ رہے ہو کہیں بھی کوئی ستون نہیں ہے اتنے بڑے اور بھاری ساتوں آسمان محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم ہیں انہیں قائم رکھنے کے لیے اسے ستون بنانے اور ان پر قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کریں اگر یہ پہاڑ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین
قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔
(ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →6:۔ واذا تتلی الخ، ان معاندین پر جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کبر و غرور اور کمال بےاعتنائی کے ساتھ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں گویا کہ وہ کانوں سے بہرے ہیں اور انہوں نے ان کو سنا ہی نہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم، معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے یعنی جس طرح دنیا میں اللہ کی آیتیں سننے سے انہیں تکلیف ہوتی تھی اسی طرح وہ آخرت میں عذاب جہنم کی تکلیف میں مبتلا ہوں گے ای یوم القیامۃ یؤلمہ کما تالم بسماع کتاب اللہ وایاتہ (ابن کثیر ج 3 ص 443) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں حکمت والی کتاب قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان فرمایا ، نیز فرمایا کہ قرآن حکیم سراسر ہدایت ہے جس کو اختیار کرنے والے نیکوکاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہر بانی حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نیکی والے لوگوں کے اوصاف بھی بیان کئے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں ، اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ۔ فرمایا ایسے ہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔
للہو الحدیث :
مفلحین کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے ان بد بخت لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر قرآن پاک کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ کھیل…
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْہَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْہِ وَقْرًا 0 ۚ فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 7
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ان الذین آمنوا الخ قرآن کی عادت ہے کہ جب اہل شقاوت کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان ہوتا ہے تو اہل سعادت اور ان کے انعام و اکرام کا بھی ذکر آتا ہے، اس لیے یہاں اہل سعادت کا ذکر کرتا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کے لیے جنات النعیم ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے، مسخرے پڑے تمسخر کیا کریں، لیکن وعداللہ حقا اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ ھو العزیز وہ زبردست ہے اس کو وعدہ پورا کرنے میں کوئی عجز لاحق نہیں ہوتا۔ الحکیم حکمت والا ہے۔ ان کے تمسخر پر جو حلم ہے اور مومنوں کو جلدی بدلہ نہیں ملتا، اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔ خلق السموات بغیر عمد یہاں العزیز الحکیم ہونے پر ایک دلیل لاتا ہے کہ اس نے…
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا وَلّٰی مُسْتَـکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (لقمان : 7)
(اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں، گویا ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے، آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔ )
قریش کا اصل مرض
قریش کے اصل مرض کی نشان دہی فرمائی گئی ہے کہ ان میں نضر بن حارث جیسے لوگ اس لیے پائے جاتے ہیں کہ یہ لوگ حق کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کا اصل مرض استکبار ہے۔ چناچہ جب انھیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے مگر اس کی ہدایت سے وہی شخص مستفید ہوسکتا ہے جو لغویات سے اجتناب کرنے والا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے لیکن لوگوں میں بیشمار ایسے لوگ ہیں۔ جو اچھائی کے مقابلہ میں برائی، نیکی کی بجائے گمراہی کے طلبگار اور پرستار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو برائی کے خریدار ہوتے ہیں۔ اپنی جہالت کی بنا پر ناصرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانے اور گمراہ کرنے میں اپنا مال اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ پھر عملاً یا قولاً اللہ تعالیٰ کی آیات کو…
Read the full tafseer →تدبر سے اعراض :
7: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا (اور جب اس کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ غرور سے پشت پھیر لیتا ہے۔ ) تکبر کرتے ہوئے تدبیر سے اعراض کرتا ہے اور قرآن کی طرف کان لگانے سے اپنے کو بلند قرار دیتا ہے۔ کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا (گویا اس نے سنا ہی نہیں) اس کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جس نے بات نہ سنی ہو۔
: یہ مستکبراؔ سے حال ہے یہ اصل میں کانَّہٗ ہے یہ ضمیر شان ہے اس کو حذف کردیا گیا۔
کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا (گویا اس کے کانوں میں بوجھ ہے) وقرثقل کو کہتے ہیں۔
نحو : یہ لم یسمعھا سے حال ہے۔
قراءت : نافع نے اذنیہٗ ذال کو سکون سے پڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
لھو الحدیث کا مصداق
6، ومن الناس یشتری لھوا لحدیث مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول نضربن حارث کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم سے عادوثمود کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں رستم اور اسفند یار کے قصے اور شاہان ایران کے قصے بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑدیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مجاہد کا قول ہے کہ ، لھوا لحدیث، سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرداس صورت میں لھو سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ۔ یعنی کچھ لوگ لھو والیاں اور لھو والے خرید تے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7 تا 10۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روبر وجب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ایسے ہر شخص کو کچھ دینے والے اس عذاب کی خبر سنا دو جو قیامت کے دن اس پر کیا جاوے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کی آیتوں سے گستاخی کر کے اللہ کے رسول کو ایذا دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز دکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان کیا جو قرآن شریف کی آیتوں کے سننے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور ان کو ہنسی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
آیت نمبر : 6 ۔ 9
(ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو “ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے “ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں “ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام ‘ ہر قسم کی لغویات ‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ‘ غیبت ‘ چغلی ‘ جھوٹ ‘ سب و شتم ‘ شیطانی گانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →10 حق سے منہ موڑنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے شخص کو خوشخبری سنا دو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی "۔ جو اتنا درد ناک اور اس قدر ہولناک ہوگا کہ اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج انسان اس سے غافل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ان منکرین و معاندین کے اس استکبار کی تصویر ہے جس کے باعث یہ لوگ اس رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ سو فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت کبر و غرور کے ساتھ ان سے اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں کہ گویا انہوں نے ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا ان کے کانوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
گانا بجانا اور لہو ولعب
تشریح : آیت نمبر 6 میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو کہ اسلام، مسلمان اور نبی ﷺ کا بڑے مخالفین میں سے ایک تھا۔ اس نے دوسرے مشرکین کی طرح ایک نیا طریقہ نکالا۔ اس کا نام نصر بن حارث تھا یہ بڑا تاجر تھا اس نے ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے کچھ تاریخی قصے خریدے اور ساتھ ہی ایک گانے والی لونڈی بھی خرید لایا اور یوں اہل مکہ کی توجہ قرآن پاک سے ہٹانے لگا۔ اور بہت سے لوگ جو قرآن کو شوق سے سنا کرتے تھے وہ ہٹ کر شیطانی کام میں لگ گئے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا اللہ کی قسم لھوالحدیث سے مراد گانے بجانے کے آلات ہیں۔ لہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ترونھا من ” ھا “ کی ضمیر آسمانوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ستونوں کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔” اور اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو۔ “ گویا آسمانوں کے ستون ہیں مگر وہ تمہیں نظر نہیں آتے واللہ اعلم (نیز دیکھیے سورة رعد آیت 2)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(31:8) جنت النعیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ نعمت و راحت کی جنتیں اصل میں جنتوں کی نعمتیں اور راحتیں تھا۔ کیونکہ جنت جگہ ہی نعمت و راحت کی ہے مبالغہ کے لئے الٹ دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔
یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…
Read the full tafseer →جنتیوں کے انعام کا ذکر۔
(ف 2) اوپر کی آیتوں میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا، کہ ایسے لوگوں کے روبرو جب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں ، اس واسطے فرمایا، اے محبوب تم ایسے ہر شخص کو دکھ دینے والے اس عذاب کی خبرسنادو جو قیامت کے دن اس پر کیا جائے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کے محبوب سے گستاخی کرکے اللہ کے رسول کو رنج دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز رکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ان کو بڑی رغبت و توجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔
[3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 2: ان تمیدبکم سے ایک ایسے نظریہ کی طرف اشارہ ہے جس آج ہم نے معلوم کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ زمین جو برابر آفات کے گرد گھوم رہی ہے ! اور کسی وقت بھی اپنے خطوط ادوار سے نہیں ہٹتی تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں آفتاب کی کشش اس کو اپنی طرف نہیں کھینچ لیتی ؟ اور کیوں یہ کرہ ارض ایک متناسب فاصلہ پر سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی وج سے ایسا ثقل پیدا کردیا ہے ۔ کہ اب اس میں غیر طبعی حرکت نہیں پیدا ہوسکتی ۔ پہاڑ کشش اور جذب میں توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ کرہ ارض گھومتا ہے ۔ اور ہمارے لئے دن رات اور موسموں کے اختلاف کا باعث ہوتا ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →7۔ اور جب اس شخص مذکور پر اور اسکے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے اور متکبرانہ اندازے سے پیٹھ پھر کر چل دیتا ہے کہ گویا اس نے ان آیات کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کانوں میں ثقل ہے ۔ سو اے پیغمبر آپ اس شخص کو ایک درد ناک سزا ور عذاب کی بشارت اور خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی ایک طرف اس کے اضلال کی یہ حالت کہ مغنیہ عورت اور لہو کی باتیں جمع کرتا پھرتا ہے ۔ دوسری طرف جب خود اس کے سامنے آیات الٰہی پڑھی جائیں تو تکبر کے ساتھ ان آیات الٰہی کو ناقابل التفات سمجھ کر پیٹھ پھیر کر چلاجائے اور ایسا بن جائے جیسے اس نے سنا ہی نہیں اور جیسے اس کے دونوں کان بہرے ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جیسے بہرا ہے۔
Read the full tafseer →ہماری آیات کو سن کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں :
7۔ جن لوگوں کی کارستانیوں کے نتیجہ میں قوم کی آنے والی نسل دین و دنیا میں ناکام ہوتی چلی جا رہی ہے جو اس سارے بگاڑ کا اصل باعث ہیں چونکہ وہ قوم کے و ڈیرے ہیں اور قوم کی قسمت کے فیصلے بھی ان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں ان کے سامنے جب یہ قرآن کریم کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور ان کا مفہوم ان کے سامنے رکھا جاتا ہے اور انہیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے کہ اللہ کے لئے اس نوخیز نسل پر رحم کرو ‘ اس پر ترس کھاؤ ‘ معاشرہ کے امن و سکون کو غارت نہ کرو ‘ اپنی فرعونیت کے نشہ میں اس قدر چور نہ ہوجاؤ کہ تم کو اپنے انجام اور اپنی قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
Commentary
Verse 10 opens with the words: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (He has created the skies without the pillars that you may see). Another verse on the same subject: الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (Allah is the One who raised the heavens without pillars. You see them. 13:2) has appeared earlier in Surah Ar-Ra` d ( with a different translation). Analyzed grammatically, the text admits two alternative meanings.
1. If we were to take تَرَوْنَهَا (tarawnah to be the attribute of عَمَدٍ ( ‘am-ad) and revert its pronoun to 'amad, it would…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
10 Instead of saying 'There are blessings of Paradise (Gardens) for them," it has been said, there are blissful Gardens for them." In the first case, it would have meant this: "They will enjoy the blessings but the Gardens will not belong to them." In the second case, it automatically becomes evident that the whole Gardens will be handed over to them, and they will take advantage of their blessings as an owner does of his own possession, and not like the one who is allowed to use something without giving him ownership rights over it."
Read the full tafseer →