Explained with ayahs 3–6
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 5
یعنی ایک طرف تو خدا کی طرف سے یہ رحمت اور ہدایت آئی ہوئی ہے جس سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف انہی خوش نصیب انسانوں کے پہلو بہ پہلو ایسے بدنصیب لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی آیات کے مقابلہ میں یہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں۔
سورة لُقْمٰن 6
اصل لفظ ہیں " لَھُوَ الْحَدِیث " یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے۔ لغت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بری اور فضول اور بےہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے، مثلاً گپ، خرافات، ہنسی مذاق، داستانیں، افسانے اور ناول، گانا بجانا، اور اسی طرح کی دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔
اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے…
Read the full tafseer →ومن الناس من یشتری لھوا لحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین۔ (6)
’ اشترو ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، ترجیح دینے کے بھی آتے ہیں۔ لھو الحدیث ‘ اسی طرح کی ترکیب ہیجس طرح دوسرے مقام میں ’ زخرف القولہ ‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گمراہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لئے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انہی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے…
Read the full tafseer →6-1اہل سعادت جو کتاب الہی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان کے ذکر کے بعد اہل شقاوت کا بیان ہو رہا ہے۔ جو کلام الہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں۔ البتہ ساز و موسیقی، نغمہ و سرود اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لغوالحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کا سازوسامان اور آلات، ساز و موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے کہانیاں، افسانے ڈرامے، اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بےحیائی کے پرچار اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1: جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول بھی کرلیتے تھے، کافروں کے سردار اس صورت حال کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی ایسی دلچسپ صورت پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں، اسی کوشش میں مکہ مکرمہ کا ایک تاجر نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے لئے غیر ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا، ایران سے وہاں کے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید لایا، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانے والی کنیز بھی خرید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7)
لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک…
Read the full tafseer →3 سعدائے مفلحین کے مقابلہ میں یہ ان اشقیاء کا ذکر ہے جو اپنی جہالت اور ناعاقبت اندیشی سے قرآن کریم کو چھوڑ کر ناچ رنگ کھیل تماشے، یا دوسری واہیات و خرافات میں مستغرق ہیں چاہتے ہیں، کہ دوسروں کو بھی ان ہی مشاغل و تفریحات میں لگا کر اللہ کے دین اور اس کی یاد سے برگشتہ کردیں اور دین کی باتوں پر خوب ہنسی مذاق اڑائیں۔ حضرت حسن " لھو الحدیث " کے متعلق فرماتے ہیں۔ کل ماشغلک عن عبادۃ اللہ و ذکرہ من السمر و الا ضاحیک والخرافات والغناء و نحوھا (روح المعانی) (یعنی " لہو الحدیث " ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں واہیات مشغلے اور گانا بجانا…
Read the full tafseer →آیت 6 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ط ”
یہاں خصوصی طور پر نضر بن حارث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزول قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے ‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا…
Read the full tafseer →4 لھوالحدیث سے مراد ہر وہ بات، شغل یا کھیل یا تفریح ہے۔ جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دے یا غافل رکھے۔ خواہ یہ شغل، گانا بجانا ہو یا دلچسپ ناول اور ڈرامے ہوں یا کلب گھروں کی تفریحات ہوں یا ٹیوی کا شغل ہو یا ڈرامے اور سینما بینی ہو۔ غرض لھوالحدیث کا اطلاق عموماً مذموم اشغال پر ہوتا ہے۔ اب اس لفظ کی تشریح مندرجہ ذیل احادیث و آثار کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے :
(1) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں لھوالحدیث کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے (فتاویٰ ابن باز۔ اردو…
Read the full tafseer →3۔ (آیت) ” لھو الحدیث “۔ مراد اس سے عموما غناء (موسیقی) سمجھی گئی ہے۔ وفی الایۃ عند الاکثرین ذم للغناء باعلی صوت (روح) الغناء فی قول ابن عباس ؓ وابن مسعود ؓ وغیرھما وھو ممنوع بالکتاب والسنۃ (قرطبی) لیکن محققین کا فیصلہ ہے کہ اس میں گانے کا حصروتعین نہیں حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ لھو الحدیث ھو الغناء واشباھہ۔ یعنی اس سے مراد ہے گانا اور اس کے مشابہ چیزیں۔ گویا ہر بیکار، غیر مفید مشغلہ اس کے تحت میں داخل ہے جو حق کی طرف سے غفلت، بےرغبتی پیدا کرنے والا ہو، اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ مایلھی عما یعنی کالاحادیث التی لا اصل لھا والا ساطیر التی لا اعتبار بھا والمضاحک و فضول الکلام (بیضاوی) (آیت) ’ لھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم . اور بعض آدمی ایسا
بھی ہے جو اللہ سے غافل بنا دینے والی باتوں کو خریدتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بےسمجھے بوجھے گمراہ کر دے۔
لَھْوَ الْحَدِیْثِ یعنی بےاصل ‘ غلط سلط قصے ‘ غیر معتبر داستانیں ‘ بےہودہ باتیں اور ہنسانے والا لغو کلام جو مفید باتوں سے باز رکھتا ہے۔ لَھْوَ الْحَدِیْثِ میں اگر حدیث سے مراد ہو بری بات تو اضافت بیانہ ہوگی ‘ اور اگر حدیث سے عام باتیں مراد ہوں ‘ اچھی ہوں یا بری تو اضافت تبعیضیہ ہوگی۔
ابن جریر نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ایک قریشی شخص کے حق میں ہوا جس نے ایک مغنیہ باندی خریدی…
Read the full tafseer →اور بعض آدمی یعنی نضر بن حارث ان باتوں کا خریدار بنتا ہے یعنی جھوٹے قصے کہانیاں چاند و سورج کے واقعات اور انسانوں کی کتابیں اور گانے والی عورت وغیرہ یا یہ کہ شرک کا تاکہ اس کے ذریعے سے دین الہی اور اس کی پیروی سے دوسروں کو بغیر علم اور دلیل کے گمراہ کرے اور اس کا مذاق اڑائے ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
شان نزول : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ (الخ)
ابن جریر نے عوفی کے ذریعے سے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ایک قریشی شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے ایک گانے والی لونڈی خرید رکھی تھی۔
اور جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ۔۔ : محسنین کے اوصاف اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد ان بدنصیبوں کا ذکر فرمایا جن کے لیے ”عَذَابٌ مُّهِيْنٌ“ یعنی ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ ”لَهْوَ“ کا لفظی معنی ”غافل کردینا“ ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) [ المنافقون : 9 ] ”تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔“ ”لَهْوَ“ ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو انسان کو اس کے مقصد کی چیز سے غافل کر دے۔ شیخ عبدالرحمان السعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ”وَمِنَ النَّاسِ“ لوگوں میں سے کوئی ایسا بدنصیب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث من محل رفع میں مبتدا ہے لھوالحدیث اس سے مراد غنا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس وغیرہما کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کتاب وسنت سے ممنوع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے آیت من یشتری ذالھو او ذات لھو یعنی مضاف محذوف ہے یا تقدیر کلام یہ ہے : آیت لما کان انما اشترا ھا یشتریھا ویبا بدع فی ثمنھا کا نہ اشتراھا للھو۔
میں کہتا ہوں : یہ ان تین آیات میں سے ایک ہے جن سے علماء نے استدلال کیا کہ غنا مکروہ ہے اور اس سے علماء نے منع کیا ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت وانتم سامدون (النجم)
حضرت ابن عباس ؓ عنھما نے کہا : قبیلہ…
Read the full tafseer →گانے پر ملنے والی اجرت حرام ہے
31۔ ابن ابی الدنیا نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ سب سے بری کمائی بانسری بجانے والے کی کمائی ہے۔
32۔ ابن ابی الدنیا و البیہقی نے نے نافع (رح) سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک راستہ میں چل رہا تھا انہوں نے ایک گڈریا کی بانسری بجانے کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا پھر وہ راستہ سے ہٹ گئے اور وہ برابر پوچھتے رہے اے نافع کیا تو آواز کو سن رہا ہے ؟ میں نے کہا نہیں تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں سے نکال لیا اور فرمایا کہ میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
33۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو ] يَّشْتَرِيْ [خریدتے ہیں ] لَهْوَ الْحَدِيْثِ [بات کے کھیل (فضولیات) کو ] لِيُضِلَّ [تاکہ وہ گمراہ کریں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [اللہ کی راہ سے ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ڰ [کسی علم کے بغیر ] وَّيَتَّخِذَهَا [اور تاکہ وہ بنائیں اس (راہ) کو ] هُزُوًا ۭ [مذاق کا نشانہ ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [رسوا کرنے والا عذاب ہے ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 6 ۔ میں من یشتری لھوالحدیثآیا ہے۔ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جسیے الذین استروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
قرآن کے دشمنوں کی حرکتیں، ان کے لیے عذاب مہین کی وعید
قرآن پر ایمان لانے والوں کے اعمال اور ان کے ہدایت پر کامیاب ہونے کی بشارت دینے کے بعد قرآن کا انکار کرنے والوں اور اس کے مقابلہ میں بعض چیزیں اختیار کرنے والوں کا شغل پھر ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن کے مخالف رویہ رکھتے ہیں اور قرآن سے خود بھی دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہر وہ بات جو اللہ کی یاد سے غافل کرے اور کھیل میں لگائے۔ حضرت حسن بصری ؓ نے (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : (ھو کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ و ذکرہ) یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کی عبادت سے ہٹائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین
قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔
(ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →5:۔ ومن الناس الخ، یہ محسنین کے مقابلے میں معاندین پر زجر اور ان کے لیے تخویف اخروی ہے محسنین کے مقابلے میں کچھ ایسے بد کردار اور ضدی لوگ بھی موجود ہیں جو ہر باطل اور بیہودہ بات کی پیروی کرتے اور لوگوں کے دلوں میں شبہات شرکیہ ڈال کر ان کو راہ راست سے بہکاتے ہیں۔ لھو الحدیث کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس سے گانا اور آلات لہو مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ھو الغناء واشباھہ، یعنی اس سے گانا بجانا اور اسی طرح کے دیگر باطل اور بیہودہ کام مراد ہیں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں ہر وہ بیہودی اور خرافات جو اللہ کی عبادت سے روک دے۔ کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ وذکرہ من السمر والاضاحیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں حکمت والی کتاب قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان فرمایا ، نیز فرمایا کہ قرآن حکیم سراسر ہدایت ہے جس کو اختیار کرنے والے نیکوکاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہر بانی حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نیکی والے لوگوں کے اوصاف بھی بیان کئے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں ، اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ۔ فرمایا ایسے ہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔
للہو الحدیث :
مفلحین کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے ان بد بخت لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر قرآن پاک کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ کھیل…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَہْوَالْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ 0 ۤۖ وَّيَتَّخِذَہَا ہُزُوًا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ 6
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : ویتخذھا و الضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الآیات (تبیان)
تفسیر : کہ وہ آیات الٰہی کے ساتھ تمسخر کرتا ہے۔ اس کجرو کے دو فعل بیان ہوئے۔ اول یہ کہ وہ لہو الحدیث اللہ کے رستہ سے روکنے کے لیے خریدتا ہے کہ لوگ اس طرف متوجہ ہوں، اس کو چھوڑ دیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کے رستہ یا اس کی آیات سے تمسخر کرتا ہے یا ان لہو الحدیث کو مسخری کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس تمسخر کی سزا بیان فرماتا ہے۔ اولئک لہم عذاب مہین کہ ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ عذاب بمقابلہ لہو الحدیث خرید کر گمراہ کریں گے۔ ذلت تمسخر کے سبب اور تمسخر کا نتیجہ ذلت ہے، ٹھٹھے باز آدمی کا رعب نہیں رہا کرتا۔…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ صلے ق وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (لقمان : 6)
(اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مقصدحیات سے غافل کردینے والی باتوں کو خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بغیر کسی علم کے گمراہ کریں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ )
لَھْوَالْحَدِیْثِ کا مفہوم
علامہ آلوسی نے حضرت حسن بصری ( رح) سے لَھْوَالْحَدِیْثِکی یہ تفسیر نقل کی ہے کل ماشغلک عن عبادۃ اللہ وذکرہ من السمر والاضاحیک والخرافاۃ والغناء ونحوھا (روح المعانی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے مگر اس کی ہدایت سے وہی شخص مستفید ہوسکتا ہے جو لغویات سے اجتناب کرنے والا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے لیکن لوگوں میں بیشمار ایسے لوگ ہیں۔ جو اچھائی کے مقابلہ میں برائی، نیکی کی بجائے گمراہی کے طلبگار اور پرستار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو برائی کے خریدار ہوتے ہیں۔ اپنی جہالت کی بنا پر ناصرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانے اور گمراہ کرنے میں اپنا مال اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ پھر عملاً یا قولاً اللہ تعالیٰ کی آیات کو…
Read the full tafseer →اسلام سے غافل کرنے والی سزا :
6: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ (اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو غافل کرنے والی باتیں خریدتے ہیں) ۔
فائدہ : یہ نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی وہ فارس کے بادشاہوں کے حالات خرید کرلے جاتا اور لوگوں کو کہتا محمد تمہیں عادو ثمود کے بعض واقعات سناتا ہے میں تمہیں فارسی بادشاہوں کے قصے سنائوں گا۔ کئی لوگ اس کی باتوں میں آکر قرآن مجید سننا چھوڑ دیتے۔ لہوؔ ہر وہ باطل جو لا یعنی ہو اور خیر سے غافل کر دے۔ لہوالحدیث جیسے رات کو بیان کی جانے والی حکایات جن کی کوئی اصل و حقیقت نہیں اور گانا بجانا۔
ابن عباس و ابن مسعودؓ قسم اٹھا کر کہتے کہ اس سے گانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
لھو الحدیث کا مصداق
6، ومن الناس یشتری لھوا لحدیث مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول نضربن حارث کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم سے عادوثمود کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں رستم اور اسفند یار کے قصے اور شاہان ایران کے قصے بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑدیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مجاہد کا قول ہے کہ ، لھوا لحدیث، سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرداس صورت میں لھو سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ۔ یعنی کچھ لوگ لھو والیاں اور لھو والے خرید تے…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو قرآن شریف کی نصیحت کی آیتیں سن کر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کے سچے ہونے پر جم گئے اس لیے انہوں نے دنیا میں جو کچھ نیک وبد کیا قیامت کے دن اس کے حساب و کتاب وجزا وسزا کے سچ ہونے کا پورا یقین کیا اور اس یقین کے سبب سے نماز زکوٰۃ اس طرح کے نیک کاموں میں لگے رہے اب اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو خود بھی نصیحت کی بات نہیں سنتے اور لوگوں کو بھی کھیل تماشے کی باتوں میں لگا کہ نیک کام سے اور قرآن شریف روز مرہ کی نصیحت کی باتیں جو نازل ہوتی تھیں ان کے سننے سے روکتے ہیں تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
آیت نمبر : 6 ۔ 9
(ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو “ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے “ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں “ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام ‘ ہر قسم کی لغویات ‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ‘ غیبت ‘ چغلی ‘ جھوٹ ‘ سب و شتم ‘ شیطانی گانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →6 سعداء کے مقابلے میں اشقیاء کا ذکر : سو پہلے کے مقابلے میں یہ ایک دوسرے کردار کا نمونہ پیش فرمایا جا رہا ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو قرآن حکیم کی روحانی، نورانی اور انقلابی تعلیمات سے مشرف ہو کر حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی نعمت کبریٰ اور دولت عظمی سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور دوسری طرف یہ لوگ ہیں جو اس متاع لازوال سے خود بھی محروم ہیں اور وہ دوسروں کی راہیں روکنے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرات مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں آیتیں مشرکین عرب کے ایک سردار نضربن حارث کے بارے میں نازل ہوئیں جو رستم و اسفندیار اور دوسرے شاہان روم وفارس اور روساء و اکابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
گانا بجانا اور لہو ولعب
تشریح : آیت نمبر 6 میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو کہ اسلام، مسلمان اور نبی ﷺ کا بڑے مخالفین میں سے ایک تھا۔ اس نے دوسرے مشرکین کی طرح ایک نیا طریقہ نکالا۔ اس کا نام نصر بن حارث تھا یہ بڑا تاجر تھا اس نے ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے کچھ تاریخی قصے خریدے اور ساتھ ہی ایک گانے والی لونڈی بھی خرید لایا اور یوں اہل مکہ کی توجہ قرآن پاک سے ہٹانے لگا۔ اور بہت سے لوگ جو قرآن کو شوق سے سنا کرتے تھے وہ ہٹ کر شیطانی کام میں لگ گئے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا اللہ کی قسم لھوالحدیث سے مراد گانے بجانے کے آلات ہیں۔ لہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 1 حسن بصری فرماتے ہیں لھو الحدیث (واہی باتوں) سے مراد وہ تمام فضول اور بےہودہ باتیں ہیں جو آدمی کو اپنے میں مشغول کر کے نیکی اور بھلائی کے راستہ سے روک دیں جیسے جھوٹے افسانے ناول قصے کہانیاں ہنسی مذاق گانا بجانا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں فالاضافۃ بمعنی من البیانیۃ او التبعیضیۃ بنائو علی مذھب اب کیسان بمعنی الام علی مذھب اکثر الماخرین وھو الاصح (کذافی لووح) اکثر صحابہ وتابعین نے اس کی تفسیر خاص طور پر ” گانا بجانا “ سے کی ہے۔ (قرطبی) حضرت عبداللہ بن معسود سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں ” لہو الحدیث “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا :” الغنآء واللہ الذی لا الہ الا ھو “ اس…
Read the full tafseer →(31:6) ومن الناس : ای بعض من الناس اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں۔
من یشتری : من موصولہ بمعنی الذی ہے یشتری مضارع واحد مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر۔ جو خریدتے ہیں۔ اختیار کرتے ہیں۔ راغب ہوتے ہیں۔
لہم الحدیث : لھو مضاف الحدیث مضاف الیہ۔ لیکن اجافت بتقدیر من ہے۔ اصل میں لہوا من الحدیث تھا۔ فضول بیہودہ۔ بےسروپا قصوں کا کھیل تماشہ۔
الکشاف میں ہے الاضافۃ بمعنی من (تبعیضیہ) کانہ قیل : ومن الناس من یشتری بعض الحدیث الذی ھواللھو منہ۔ اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں کہ خرید کرتے ہیں بعض ایسی (بےہودہ اور بےسروپا) باتیں جو محض کھیل تماشہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مفسرین اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھتے ہیں :۔
کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔
یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(ف 1) شان نزول :
یہ آیت نظر بن حارث بن کلاہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں میں سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں، جس میں قصے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا تھا اور کہتا کہ سید کائنات محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کی کہانیاں سناتا ہوں کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآن کی نصیحت کی باتیں سننے سے رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ وہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ دکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔
[3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
لھوالحدیث
قرآن حکیم وہ کتاب ہے جس پر انسانیت کی فلاح و بہبود موقوف ہے جو رشدوہدایت ہے جو اللہ کی رحمتوں کی کفیل ہے ۔ تمام مشکلات میں تنہاراہنما ہے ۔ سراپا خیر و برکت ہے ۔ لوگوں کے لئے قیامت تک آخری دستورالعمل ہے ۔
حضور ﷺ جب اس مجموعہ پاک کو سناتے اور چاہتے کہ مکہ کے مشرک اس کی روشنی سے اپنے تاریک سینوں کو منور کریں ۔ اور اپنے اعمال کو سنواریں ۔ تو کچھ بدبخت لوگ ایسی گمراہ کن باتوں میں عوام الناس کو الجھا دیتے کہ وہ ان لغویات کو سن کر قرآن کو نہ سنتے ۔ چناچہ نصرین حارث ان کو عجم کو جھوٹے اور غلط افسانے سناتا ۔ رستم واسفند یار کے قصے تو ان مسیع لگا کر بیان کرتا اور وہ مزے سے ان خرافات کو سنتے ۔…
Read the full tafseer →6۔ اور لوگوں میں سے بعض آدمی وہ بھی ہے جو ان باتوں کو خریدتا پھرتا ہے جو کھیل کی باتیں اور غافل کرنیوالی باتیں ہیں تا کہ بےجانے بوجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کرے اور اس راہ حق کا مذاق اڑائے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلت اور اہانت آمیز عذاب ہے۔
نضر بن حارث کافروں میں سے ایک شخص تھا جو پیغمبر اسلام کا سخت مخالف اور بد ترین دشمن تھا وہ چاہتا تھا کہ قرآن کی طرف لو گ متوجہ نہ ہوں وہ تجارت کی غرض سے فارس جاتا اور وہاں سے رستم اور اسفند یار کے قصے خرید لاتا اور مکہ میں لوگوں کو جمع کر کے سناتا تا کہ قرآن سننے اور اسلام قبول کرنے سے باز رہیں لوگوں سے کہتا کہ یہ پیغمبر تم کو عاد اوثمود کے قصے سناتا ہے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →رسوا ہونے والے عذاب کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ :
6۔ وہ کون ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ؟ بلاشبہ وہ لوگ ہی ہیں یعنی انسان ہی ہیں لیکن انسانوں میں سے بعض انسان ایسے بھی ہیں جو فلاح و کامیابی کے کام کرنے کی بجائے ایسے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں جو ان کو مقصد حیات سے غافل کردیتے ہیں تاکہ خود بھی سیدھی راہ نہ چلیں اور دوسروں کو بھی سیدھی راہ نہ چلنے دیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے ان کو روک دیں ۔ غور کرو کہ انسانی زندگی کیا چیز ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ نہایت ہی قیمتی چیز ہے اور اس کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے اور اس کے قیمتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ صرف اس دنیا میں ایک بار انسان کو عطا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
The word: اشتراء (ishtira) in: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ (And from among the people who buys the distracting amusement of things - 31:6) literally means 'to buy.' And on occasions, the same word is used in the sense of 'doing an act instead of another' - as in: أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ are the people who have bought error at the rice of guidance - 2:16, 2:175 and in some other verses.
The Cause of Revelation
This verse was revealed because of a particular event relating to Nadr Ibn Harith. He was one of the top businessmen from among…
Read the full tafseer →5 That is, "On the one hand, there is this Mercy and Guidance sent down by Allah, of which some people arc taking full advantage, and on the other, there are also some unfortunate people living side by side with the fortunate ones, who are adopting this sort of attitude as against the Revelations of Allah. "
6 The words lahv al-hadith in the Text imply such a thing as may allure and absorb a listener completely and make him heedless of everything else around him. Lexically, there is nothing derogatory in these words, but in custom and usage they apply to evil and useless and vain things, such…
Read the full tafseer →