31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 31:1–3

الٓمّٓۚ Open ayah 31:1 in the Quran reader

الف، لام، میم ،

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب کی

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو ہدایت و رحمت ہے نیک کاروں کے حق میں،1۔

1۔ آیت میں قرآن مجید کی اہمیت و عظمت کا بیان ایک عجیب لطیف انداز سے ہے محسن ہونے کا اطلاق تو خود انہیں لوگوں پر ہوگا، جو قرآن پر عمل کرکے مرتبہ اخلاق میں بڑھے ہیں اور اب انہیں کے حق میں اشارہ ہورہا ہے کہ قرآن ان کے لیے موجب ہدایت ہے۔ (آیت) ” الحکیم “۔ سے مراد پر حکمت بھی ہوسکتی ہے۔ اور بےعیب بھی اور حاکم بھی۔ الحکیم المحکم۔ اے لاخلل فیہ ولا تناقض وقیل ذوالحکمۃ وقیل الحاکم (قرطبی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مراتب ہدایت کی حد و انتہاء نہیں، محسنین تو خود ہی ہدایت کے مرتبہ اعلی پر ہوتے ہیں، قرآن انہیں اور بڑھا رہا ہے۔
Ayahs 31:4–5

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے راہ ہدایت پر اور یہی لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں،2۔

2۔ (دنیا وآخرت میں ہر طرح پر) (آیت) ” علی ھدی ...... المفلحون “۔ ھدی۔ ہدایت ثمرہ ہے قرآن پر اعتقاد وعمل کا۔ اور فلاح ثمرہ ہے راہ ہدایت کا۔ پارۂ اول کے رکوع اول میں انہیں سے ملتی ہوئی دو آیتیں آچکی ہیں، وہاں کے حاشیے بھی ملاحظہ کرلیے جائیں۔ (آیت) ’ ’ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون “۔ ھم “۔ کی تکرار تاکید اور زور کلام کے لئے ہے۔ اعید الضمیر للتاکید (روح)
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور کوئی انسان ایسا بھی ہے جو اللہ سے غافل کرنے والی باتیں خرید کرتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بےسمجھے بوجھے (دوسروں کو) گمراہ کرے اور اس راہ کی ہنسی اڑائے،3۔ ایسے ہی لوگوں کیلئے ذلت کا عذاب ہے،4۔

3۔ (آیت) ” لھو الحدیث “۔ مراد اس سے عموما غناء (موسیقی) سمجھی گئی ہے۔ وفی الایۃ عند الاکثرین ذم للغناء باعلی صوت (روح) الغناء فی قول ابن عباس ؓ وابن مسعود ؓ وغیرھما وھو ممنوع بالکتاب والسنۃ (قرطبی) لیکن محققین کا فیصلہ ہے کہ اس میں گانے کا حصروتعین نہیں حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ لھو الحدیث ھو الغناء واشباھہ۔ یعنی اس سے مراد ہے گانا اور اس کے مشابہ چیزیں۔ گویا ہر بیکار، غیر مفید مشغلہ اس کے تحت میں داخل ہے جو حق کی طرف سے غفلت، بےرغبتی پیدا کرنے والا ہو، اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ مایلھی عما یعنی کالاحادیث التی لا اصل لھا والا ساطیر التی لا اعتبار بھا والمضاحک و فضول الکلام (بیضاوی) (آیت) ’ لھو الحدیث “۔ غناء کے باب میں محدثین وفقہاء کے اقوال مختلف ہیں، جو گانا محض دل بہلانے یا باصطلاح فقہاء دفع وحشت نفس کے لیے ہو، اس میں مضائقہ فقہاء حنیفہ کے نزدیک بھی نہیں۔ درمختار میں اسے سرخسی، عینی وعنایہ کے حوالہ سے جائز رکھا ہے۔ وفی الدرالمختار التغنی لنفسہ لدفع الوحشۃ لاباس بہ عندالعامۃ علی مافی العنایۃ وصححہ العینی والیہ ذھب شمس الائمۃ السرخسی (روح) اور اگر اس میں کلام حکیمانہ اور مضامین اخلاق ومعرفت کے ہوں جب تو بالکل ہی جائز ہے۔ قال ولو فیہ وعظ و حکمۃ فجائز اتفاقا (روح) لیکن جو گانا لوگوں کے سنانے کے لیے چشن عقد اور عید وغیرہ کے علاوہ ہو، خصوصا جو ” قوالی “ کی محفلیں مسجدوں اور خانقاہوں میں مجمع فساق کے ساتھ ہوا کرتی ہیں اور جنہیں عبادت سمجھا جاتا ہے وہ تو اور زیادہ قابل ملامت ہیں۔ وصاحب الھدایۃ والذخیرۃ سمیاہ کبیرۃ ھذا فی التغنی للناس فی غیرالاعیاد والاعراس ویدخل فیہ تغنی صوفیۃ زماننافی المساجد والدعوات بالاشعار والاذکار مع اختلاط اھل الاھواء والمرد بل ھذا اشدمن کل تغن لانہ مع مع اعتقاد العبادۃ (روح) فاما ماابتدعتہ الصوفیۃ الیوم من الادمان علی سماع المغانی بالالات المطربۃ من الشبابات والطار والمعازف والاوتار فحرام (قرطبی) بلکہ اس تواجد وتراقص کا شمار تو علامات زندقہ میں سے کیا گیا ہے اور اس کا جائز سمجھنا حدود کفر میں داخل ہوجانا ہے۔ واما ما ابتدعتہ الصوفیۃ فی ذلک فمن قبیل مالا یختلف فی تحریمہ لکن النفوس الشھوانیۃ غلبت علی کثیر ممن ینسب الی الخیر حتی لقد ظھرت فی کثیر منھم فعلات المجانیین والصبیان حتی رقصوا بحرکات متتابعۃ وتقطیعات متلاحقۃ وانتھی التواقع بقوم منھم الی ان جعلوھا من باب القرب و صالح الاعمال وان ذلک یثمر سنی الاحوال وھذا علی التحقیق من اثار الزندقۃ (روح) واماما رسمہ اھل زماننا من انھم یھیؤن المجالس ویرتکبون فیھا بالشرب والفواحش ویجمعون الفساق والاماء یطلبون المغنین الطوائف ویسمعون منھم الغناء ویتلذذون بھا کثیرا من الھواء النفسانیۃ الخرافات الشیطانیۃ ویحمدون علی المغنین باعطاء النعم العظیم ویشکرون علیھم بالاحسان العمیم فلاشک ان ذلک ذنب کبیر واستحلالہ کفر قطعا ویقیناً لانہ عین لھو الحدیث فی شانھم (احمدی) (آیت) ” یشتری “۔ کے لفظی معنی خرید کرنے کے ہیں۔ مراد ہے اختیار کرنا، خریدار ہونا، خواستگار ہونا، راغب ہونا، سب اس میں داخل ہے۔ (آیت) ” بغیر علم “۔ یعنی نفس پرستی اور عرف فاسد پر مبنی، اور ہر علمی سند سے خالی۔ (آیت) ” لیضل “۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ واللام للتعلیل (روح) (آیت) ’ ’ سبیل اللہ “۔ سے مراد اللہ کا دین ہے۔ یا کتاب اللہ کی تلاوت۔ اے دینہ او قرأۃ کتابہ (بیضاوی) آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہاں ذکر ایسے لہو ولعب کا ہے جو دین حق سے روکنے والے ہوں اور ان کا اثر دوسروں تک متعدی ہو رہا ہے، بلکہ دین حق کی تحقیر دلوں میں پیدا کرانے والے ہوں، ظاہر ہے کہ ایسا مشغلہ صریح کفر کے درجہ میں آجائے گا۔ اور اس کی تائید شان نزول کی روایتوں سے بھی ہوتی ہے۔ جاہلیت میں کوئی ” قابل وفاضل “۔ شخص نضربن الحارث نامی تھا، آس پاس کے ملکوں کا سیاح، وہاں سے جاہلی ” لٹریچر “ کی اعلی درجہ کی کتابیں لاتا۔ انہیں لاکر اہل عرب کوسناتا۔ ایران کے بہادروں کے افسانے۔ حیرہ کے بادشاہوں کے قصے پڑھ کر سناتا اور کہتا جی ان میں لگاؤ، قرآن کے وعظ میں کیا رکھا ہے۔ ہمراہ کوئی حسین چھوکری بھی رکھتا۔ عملی دل بہلاوے کے لیے شراب وکباب کے ساتھ اس کی پیشکش بھی کرتا رہتا۔ اس سے بھی بڑھ کر ممنوع وناجائز وہ سارے کھیل تماشے ہوں گے جو تہذیب و تمدن نے خدا اور آخرت کی طرف سے غافل کرنے کے لیے گڑھ لیے ہیں۔ سینما تھیڑ، پیکچر، گیلری وغیرہا۔ نیز ” ادبیات “ ، افسانہ وشعر کا وہ بہت بڑا ذخیرہ، جو آج ” آرٹ “ کے بڑے پر فخر کارنامہ کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ہر اس گانے کی حرمت آگئی جو عملا دین سے غفلت کی طرف لے جانے والا ہو۔ یا اعتقادا موجب ضلال ہو۔ اور قول فیصل یہ ہے کہ جو ان دونوں باتو سے مبرا ہو، اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ 4۔ (آخرت میں) آخرت کا ہر عذاب شدید والیم تو ہے ہی، یہ عذاب اس کے ساتھ ذلت آفرین بھی ہوگا۔ جس نے زندگی بھردین حق کی تحقیر اور بےوقعتی کی، وہ نالائق ہے ہی اسی قابل کہ کل اس کی بھی ہر طرح ذلت ورسوائی ہولے۔ اس عذاب کا اصل ظہور تو آخرت ہی میں ہوگا۔ لیکن دنیا میں بھی ایک طرح اس کا ظہور مشاہد ہے، بھانڈ، نقال، گوئیے، مراسی، کسبیاں، نچنئے، غرض تمام طبقہ (آیت) ” لھو الحدیث “۔ سے تعلق رکھنے والے دنیا میں بھی کیسے حقیر ورسوار رہتے ہیں، تاآنکہ کوئی معاشرہ مسخ ہو کر خود ہی ان کی رنگ میں رنگ جائے، اور خود ہی فسق پیشہ بن جائے۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے سو آپ اسے خبر سنا دیجیے عذاب درد ناک کی،5۔

5۔ آیت ماقبل سے بھی ظاہر ہوگیا تھا، اور اس آیت نے اور زیادہ صاف کردیا کہ یہاں مراد اس لہو ولعب اور اس اشغال تفریحی سے ہے جو دین اسلام سے ہٹنے اور ہٹانے، ضلال واضلال کا باعث ہوں، ایسے مشاغل یقیناً حرام بلکہ ان میں سے بعض تو کفر کے درجہ میں داخل ہیں۔ باقی ” جو لھو “۔ اعمال فرعیہ شرعیہ سے باز رکھے یا کسی معصیت کا سبب ہوجائے وہ صرف معصیت ہے۔ اور جو لہو کسی امر واجب کا مفوت نہ ہو اور اس میں کوئی شرعی غرض ومصلحت بھی نہ ہو وہ مباح ہے۔ لیکن لا یعنی ہونے کی وجہ سے خلاف اولی ہے۔ اور مسابقت فرس اور مسابقت سہم وملاعبت ابل میں چونکہ متعدبہ غرض تھی، اس لیے حدیث میں اس کو لہو باطل سے مستثنی فرمایا، اور مسئلہ غنا اور سماع کا اس آیت کا مدلول ہونا ضروری نہیں۔ اس کا حکم مفصل مستقلا مثل دیگر اقسام لہو کے دوسرے دلائل حدیثیہ وفقہیہ سے اپنے محل پر ثابت ہے۔ اور اس تفصیل سے تمام مشاغل اور تفریحات کا حکم بھی جس میں اخبار اور ناول وغیرہ بھی آگئے معلوم ہوگیا “۔ (تھانوی (رح)
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کبھی کئے ان کے لئے راحت کی جنتیں ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ (ہمیشہ) رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے،6۔

6۔ اپنے کمال قدرت سے۔ ہر وعدہ کے واقع کرنے پر قادر ہے۔ اور اپنے کمال حکمت سے واقع اسی وقت کرتا ہے جب عین مصلحت ہوتی ہے۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

(اسی نے) آسمانوں کو بلاستون بنایا ہے تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین پر بھاری پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ کہیں تم کو لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس (زمین) میں ہر طرح کے عمدہ اقسام اگائے،7۔

7۔ (ہر طرح کے شجر ونباتات کے) (آیت) ” خلق ........ ترونھا “۔ آسمان جیسی عظیم الشان موجودات کو بغیر کسی ظاہری ومرئی سہارے کے قائم رکھنا کمال قدرت پر ایک دلیل قاطع ہے .... ملاحظہ ہوں (پ 13) سورة الرعد کے حاشیے۔ فقرہ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔” بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھ سکو بنایا “۔ اس صورت میں (آیت) ” ترونھا “۔ کا تعلق۔ (آیت) ’ ’ السموت “۔ سے نہیں۔ بلہ (آیت) ” عمد “۔ سے ہوگا۔ مفسرین نے یہ ترکیب بھی جائز رکھی ہے تکون ترونھا فی موضع خفض علی النعت لعمد فیمکن ان یکون ثم عمد ولکن لاتری (قرطبی) بلکہ بعض صحابہ وتابعین سے بھی منقول یہی ہے۔ قال ابن عباس ؓ وعکرمہ و مجاھد لھا عمد لاترونھا (ابن کثیر) (آیت) ” القی ..... بکم “۔ ہلکی پھلکی سطح زمین پر اس مصلحت سے ایک خاص ترتیب ومناسبت مقام کے ساتھ بھاری بھاری پہاڑ نصب کردینے کہ زمین کہیں اپنی اتنی تیز گردش سے پتا نے نہ لگے۔ کمال صنعت گری کی دلیل ہے ملاحظہ ہوں سورة النحل (پ 14) کے حاشیے۔ (آیت) ’ ’ من السمآء “ سے جیسا کہ پہلے کئی بار گزر چکا ہے مراد سمت آسمان سے یا بلندی سے ہوتی ہے۔ ابر وغیرہ سب اسی میں شامل ہیں۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو اللہ کی مخلوق ہوئی اب مجھے دکھاؤ کہ اس (اللہ) کے علاوہ جو ہیں انہوں نے کیا چیزیں پید ا کی ہیں اصل یہ ہے کہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں،8۔

8۔ (اور وہ گمراہی ان کی صریح ضد کی ہے۔ تو یہ لوگ بھلا دلیل وغیرہ کیا پیش کرسکیں گے) اہل شرک کو چیلنج کر کے پکارا ہے کہ اللہ کی صنعت وقدرت و حکمت پر تو آسمان و زمین میں ایسے ایسے روشن دلائل موجود ہیں۔ اب تو ذرا بتاؤ کہ تمہارے دیویوں دیوتاؤں کے مخلوقات ومصنوعات کون سے ہیں ؟ (آیت) ” الظلمون “۔ ظالمون سے مراد مشرکین ہیں۔ یعنی المشرکین باللہ العابدین معہ غیرہ (ابن کثیر)
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی،9۔ (اور یہ حکم) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی ( نفع کے) لئے شکر کرتا ہے،10۔ اور جو کوئی ناشکری کرے سو اللہ بےنیاز ہے، ستودہ صفات ہے،11۔

9۔ یہ لقمان کون تھے ؟ اتنا تو بہرحال ظاہر ہے کہ کوئی مقبول، برگزیدہ بندہ تھے۔ اور ایسے کہ اہل عرب (قرآن کے مخاطبین اول) ان کے نام سے مانوس تھے۔ اس کے آگے ان کی شخصیت کے بارے میں اختلاف ہے۔ کلام جاہلیت میں ایک نہیں، اس نام کے تین تین شخصوں کا ذکر ملتا ہے، ان میں سے لقمان ثانی کا لقب لقمان حکیم مشہور ہے۔ عجب نہیں کہ قرآن مجید کا اشارہ انہیں کی جانب ہو، ان سے متعلق روایات تاریخی میں آتا ہے کہ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہم عصر تھے۔ ملک حبشہ کے رہنے والے تھے۔ اور ایک آزاد شدہ غلام تھے۔ (ارض القرآن جلد اول صفحہ 80 الخ) بعض اکابر ان کی نبوت کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ لیکن مسلک جمہوریہ ہے کہ نبی نہ تھے صرف حکیم تھے۔ یہ اختلاف سلف سے چلا آرہا ہے کہ آیا آپ نبی تھے، یا محض ایک بندۂ صالح۔ دونوں قول منقول ہیں۔ لیکن اکثریت نے قول ثانی ہی اختیار کیا ہے۔ اختلف السلف فی لقمان ھل کان نبیا او عبدا صالحا من غیرنبوۃ ؟ علی قولین الاکثرون علی الثانی (ابن کثیر) والمجھور علی انہ کان حکیما ولم یکن نبیا (مدارک) جمہور کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ نبی نہ تھے۔ صرف حکیم تھے۔ البتہ عکرمہ ؓ اس کے قائل تھے کہ آپ نبی تھے۔ لیکن عکرمہ ؓ اپنی اس رائے میں متفرد ہیں۔ واتفق العلماء علی انہ کان حکیما ولم یکن نبیا الاعکرمۃ فانہ قال کان لقمان نبیا وتفرد بھذا القول (معالم) تاریخ یونان میں ذکر ایک حکیم السیپ نامی کا آتا ہے۔ (619 تا ؁ 564 ؁ ق، م) ان کے بعض حالات میں بھی حضرت لقمان کے ساتھ مشابہت ہے ہمارے ہاں کی روایتوں میں آتا ہے کہ آپ ملک نوبیا (افریقہ) یا سوڈان (افریقہ) کے ایک سیاہ فام غلام تھے۔ کان لقمان من سودان مصر ذا مشافر (ابن کثیر۔ عن سعید بن المسیب) ولقمان الحکیم کان اسود نوبیاذا مشافر (ابن کثیر۔ عن سعید بن المسیب) (آیت) ” الحکمۃ “۔ حکمت سے مراد علم صحیح مع عمل صحیح ہے۔ اے الاصابۃ فی القول والعمل (مدارک) عبارۃ عن توفیق العمل بالعلم (کبیر) 10۔ ” کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے۔ دنیوی نعمت میں تو باعتبار نفس نعمت کے کبھی اور باعتبار ثواب کے ہمیشہ اور دینی نعمت میں مثل علم وغیرہ کے دونوں طرح پر یعنی علم بھی بڑھتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے “۔ (تھانوی (رح ) 11۔ وہ کامل الصفات اپنی ذات سے ہے۔ اسے اپنی تکمیل کے لئے کسی کے شکر و حمد وغیرہ کی حاجت نہیں۔ اس میں رد آگیا بہت سی مشرک قوموں کا، جو اپنے دیویوں دیوتاؤں کو اپنی ہی طرح محدود القویٰ ناقص الصفات سمجھتے ہیں۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور اس وقت کا ذکر کیجیے جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے بیٹا اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا، بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے،12۔

12۔ (کہ اس کے سامنے اور سارے ظلم ہیچ ہیں) ظلم کی حقیقت ہے وضع الشیء فی غیر محلہ یعنی کسی شے کو اس کے خلاف محل رکھنا اور شرک میں اس کا ظہور کامل ترین صورت میں ہوتا ہے۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکید کی اس کے ماں باپ سے متعلق اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹنا ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر، میری ہی طرف واپسی ہے،13۔

13۔ (اور اس وقت ادائے حقوق سے متعلق باز پرس ہوگی) (آیت) ” لی ولوالدیک “۔ معطوف ومعطوف علیہ کا خیال رہے۔ والدین کے حق کی یہ عظمت اس درجہ کی ہے کہ اس کا عطف خود حق تعالیٰ کے حق کی ادائی پر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” الی المصیر “۔ یہ یاد دلا کر گویا یہ بھی بتا دیا کہ حکم کو معمولی نہ سمجھنا۔ سوال اس کی بابت رکھا ہوا ہے۔ (آیت) ” حملتہ ....... عامین “۔ پورابطور جملہ معترضۃ کے ہے۔ والدہ کے حق کے بیان و توضیح میں ..... وھنا علی وھن “۔ ایک مختصر سے دو لفظی فقرہ میں حاملہ کی ساری معزوریوں اور ناتوانیوں کی جانب اشارہ آگیا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” فصلہ فی عامین “۔ یہ کوئی فقہی حکم نہیں۔ کہ مدت رضاعت پورے دو سال ہی رہنا چاہیے۔ محض عادت غالب اور عرف عمومی کا بیان ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صراحت ہے کہ شکر منعم کی طرح، جو واسطہ نعمت ہو، اس کا شکر یہ بھی مطلوب ہے۔ اور اس واسطہ کے عموم میں والدین اور استاد اور مرشد سب آگئے۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، تو تو ان کا کہا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کئے جانا،14۔ اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع کئے ہو،15۔ پھر تم (سب) کو میرے پاس آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہتے تھے میں تمہیں سب جتلا دوں گا

14۔ اطاعت والدین اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری شئے شہی۔ بلکہ اسلام کی مجلسی ومعاشری زندگی کی تو بنیاد ہی اتحاد زوجین کی طرح اطاعت والدین پر ہے۔ لیکن جب توحید پر زد پڑ رہی ہو تو وہاں یہ فریضہ بھی ساقط ہوجائے گا۔ اور اطاعت عین معصیت بن جائے گی ..... وصاحبھما فی الدنیا معروفا “۔ یہ حکم اس حال میں بھی قائم ہے کہ دنیوی حاجات ومعاملات یعنی خوردو نوش وغیرہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک برابر جاری رہے والدین کی شکر گزاری بہرصورت واجب ہے، بجز اس کے کہ وہ شکر گزاری اللہ کی ناشکری کے مستلزم ہوجائے۔ 15۔ (دینی معاملات میں) یعنی جو دین حق کا تابع اور اسی پر عامل ہو۔ معاملات دین میں مرافقت اسی کی کیا کرو۔ فقہاء نے کتاب وسنت و قیاس کے علاوہ جو چوتھا ماخذاحکام شریعت کا اجماع امت کو قرار دیا ہے، خود اس کی بنیاد علاوہ دوسرے نصوص کے یہ آیت بھی ہے۔ ید ل علی صحۃ اجماع المسلمین لامر اللہ تعالیٰ ایانا باتباعھم (جصاص)
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کی برابر ہو پھر کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لے ہی آئے گا بیشک اللہ بڑا باریک بین ہے بڑا باخبر ہے،16۔

16۔ (چنانچہ کوئی عمل کیسا ہی دقیق ہو، اور کیسے ہی اسباب خفاء اس کے لیے جمع ہوجائیں، اس عالم الغیب والشہادۃ کے احاطہ علم وخبر سے بہرحال وہ باہر نہیں رہ سکتا) (آیت) ” مثقال حبۃ من خردل “۔ یعنی (آیت) ” حبۃ “۔ میں بہ غایت صغیر ہو۔ (آیت) ” فتکن فی صخرۃ “۔ یعنی حجاب شدید کے اندر ہو۔ (آیت) ” او فی السموت “۔ یعنی غایت بعد میں ہو (آیت) ” ...... اوفی الارض “۔ یعنی ظلمات در ظلمات میں ہو۔ انسان کی نظر سے خفاء شئے کے اسباب عموما یہی ہوتے ہیں۔ اور مشرک قوموں نے اپنے پر قیاس کرکے اپنی دیوی دیوتاؤں کو انہیں حالات میں معذور اور ان کے علم کو ناقص سمجھا ہے۔ قرآن مجید نے ان میں سے ہر ممکن سبب کی تردید کرکے بتادیا کہ حق تعالیٰ کے علم وکامل و محیط کو کسی معنی میں اور کسی پہلو سے بھی ناقص، ناتمام، داغدار سمجھنا انتہائی جہل ہے۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کام سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر بیشک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے،17۔

17۔ (ہمیشہ مقبولین کی ایک خصوصیت۔ بلکہ بعض موقعوں پر واجب بھی) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی صبر۔ یا وہ تمام امور جو مذکور ہوچکے۔ اشارۃ الی الصبر او الی کل ما امر بہ (بیضاوی) (آیت) ” اقم الصلوۃ “۔ نماز کی پابندی کا حکم التزام شرائط کے ساتھ (آیت) ” وامر بالعروف “۔ نیکی ونیک کرداری کا حکم۔ (آیت) ” وانہ عن المنکر “۔ بدی وبدر کرداری سے بچنے بچانے کا حکم (آیت) ” واصبر علی ما اصابک “۔ تکوینی طور پر جو بھی ناموافق حالات پیش آئیں۔ دنیا میں جو جو رنج اور مصیبتیں پڑیں، یا مسلمان بننے اور بنے رہنے میں (اقامت صلوۃ میں۔ امر بالمعروف میں نہی عن المنکر میں) جو جو بھی دقتیں اٹھانی پڑیں۔ ان سب کو صبر کی سپر پر روکنے کا حکم۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اکڑ کر مت چک بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا،18۔

18۔ (یہاں تک کہ چال ڈھال میں متکبرین کا تشبہ بھی مبغوض ہے)
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اورا پنی آواز کو پست رکھ بیشک سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے۔ ،19۔

19۔ (سوانسان کو چاہیے کہ گدھوں کی طرح چیخنے چلانے نہ لگ جائے) سارے پندو موعظت کا خلاصہ یہ نکلا کہ چلا ڈھال، بول چال، رفتا وآواز، غرض ہر چیز میں انسان کو متکبرین کی روش سے بچنا چاہیے۔ اخلاق وآداب کے جزئیات تک کی تعلیم ہماری شریعت دیتی ہے۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو اس نظر نہیں کہ اللہ نے تمہارے ہی کام میں لگا رکھا ہے اس (سب) کو جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس نے تم پر اپنی حسی اور معنوی نعمتیں پوری کر رکھی ہیں،20۔ اور انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر واقفیت بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے بحث کیا کرتے ہیں،21۔

20۔ (اور وہ تکوینی نعمتیں، ہوا، آگ روشنی، پانی، صحت غذا، مکان، لباس وغیرہا، مومن و کافر ساری مخلوق بشری کے لیے عام ہیں) (آیت) ” ظاھرۃ “۔ وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک حواس سے ہوسکے ؛۔ (آیت) ” باطنۃ “۔ وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک عقل سے ہوسکے۔ (آیت) ” سخر ...... الارض “۔ اس میں تعریض ہے مشرک اور جاہلی قوموں پر، کہ اللہ کی ساری مخلوق تو خود تمہاری خدمت کے لیے، یہ آسمان اور یہ زمین، یہ چاند، یہ سورج، سب ہی، پھر یہ تم پر کیا شامت سوار ہے کہ تم الٹے انہیں کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہو۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 21۔ یعنی اس جدال بےجا کی بنیاد نہ کسی علم صحیح پر ہے نہ کسی استدلال عقلی پر نہ کسی کتاب آسمانی پر، بلکہ محض اپنی کج فہمی پر۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کا پایا ہے کیا یہ جب بھی، جب شیطان ان (بڑوں) کو عذاب دوزخ کی طرف بلارہاہو ؟ ،22۔

22۔ یعنی اس قدر ان کی طبیعت میں ضدوفساد ہے کہ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل بھی محض اپنے گمراہ باپ دادوں کی روش پر چلے جارہے ہیں۔ اور وہ بھی جبکہ اس روش کے ناصواب ہونے پر انہیں صاف دلیل وبصیرت مل بھی چکی ہے۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے درآنحالیکہ وہ مخلص ہو تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا اور سب کاموں کا اخیر اللہ ہی تک پہنچے گا،23۔

23۔ اکبر الہ آبادی نے بھی معرفت کے رنگ میں خوب کہا ہے : ع : اخیر کیوں کا جواب تو ہے ! (آیت) ” وھو محسن “۔ یعنی وہ مومن خالص بھی ہو۔ (آیت) ” فقد ...... الوثقی “۔ یعنی جس نے توحید کی مضبوط رسی تھام لی۔ وہ اب ہر طرح محفوظ ہوگیا۔ اسے اب صدمہ ہلاکت کا ڈر نہ رہا۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کوئی کفر کرے سو آپ کو اس کا کفر غمگین نہ کرے ان (سب) کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے سو ہم انہیں جتلادیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے، بیشک اللہ کو دلوں کے اندر کی باتیں خوب معلوم ہیں،24۔

24۔ (اس لیے آپ اتنا زیادہ فکروتردد اپنے سر کیوں لیں) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصلاح وہدایت خلق کے باب میں بہت زیادہ اہتمام و مبالغہ نہ کیا جائے۔
Ayahs 31:24–25

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم انہیں چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو سخت عذاب کی طرف کشاں کشاں پہنچا دیں گے،

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے، آپ کہیے کہ الحمد للہ،25۔ لیکن ان میں سے اکثر تو (اتنی بات بھی) نہیں جانتے،26۔

25۔ (کہ دلیل کا ایک اہم مقدمہ تو تمہیں بھی تسلیم ہے) (آیت) ” السموت والارض “۔ سے مراد ساری کائنات اور اس کے اعظم ترین قوی ہیں۔ استدلال کی منطقی شکل حسب ذیل ہوگی : یہ عالم ومافی العالم کی کوئی بھی چیز رب و معبود بننے کے قابل نہیں۔ 26۔ (کہ جب سب کو مخلوق ومصنوع تسلیم کرلیا۔ تو پھر ان کی الوہیت یا شرک الوہیت کی معنی) ہندوستان کے مشرکین میں بھی بکثرت ایسے ہیں جو ایک طرف ایک خالق اکبر، ایک رب اعظم کے قائل ہیں۔ لیکن ساتھ ہی بہتوں کو ارباب اصغر کی طرف اس کا شریک بھی مانتے جاتے ہیں۔ اور توحید کے مضمرات پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے،27۔

27۔ (آیت) ” الغنی “۔ بےنیاز ہے اپنی ذات کے لحاظ سے اور (آیت) ” الحمید “۔ جامع تمام خوبیوں کا اپنی صفات کے لحاظ سے۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور جتنے زمین بھر میں ہیں اگر یہ سب قلم بن جائیں،28۔ اور اس سمندر کے علاوہ سات سمندر اور ہوجائیں تو بھی اللہ کے کلمات (کی حکایت) ختم نہ ہو بیشک اللہ بڑا زبردست ہے، حکمت والا ہے،29۔

28۔ (چنانچہ ایک ایک درخت سے ہزار ہا ہزار قلم تیار ہونے لگیں) 29۔ وہ قدرت میں بھی کامل ہے اور علم و حکمت میں بھی، اس کی قدرت اور حکمت کی شانیں لاانتہاء ہیں۔ انسان اپنی سمجھ کے لائق بس یہ فرض کرلے، کہ روئے زمین کے جنگلوں میں، باغوں میں، کھیتوں میں، مکانوں میں، راہوں اور سڑکوں پر جو بیشمار درخت ہیں، یہ سب بھی اگر بےگشتی قلموں میں تبدیل ہوجائیں، اور دنیا کے سمندری پانی کا موجودہ ذخیرہ کئی گنا بڑھ کر روشنائی کے سمندر مل کر بھی اللہ کی قدرت و حکمت کو احاطہ میں لانے میں کافی نہیں ہوسکتے۔ (آیت) ” عزیز حکیم “۔ قدرت اور علم یہ وہ دو صفتیں ہیں جو تمام صفات وافعال سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے عموم کے بعد انہیں خصوصا بھی بیان فرما دیا گیا۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” البحر “۔ بحر سے مراد جنس بحر ہے۔ کوئی متعین سمندر مراد نہیں۔ (آیت) ” سبعۃ ابحر “۔ سبعۃ سے بھی مراد سات کا مخصوص و متعین وعدد نہیں۔ بلکہ محاورۂ عربی کے مطابق محض کثرت۔ لیس لانحصارھا فی سبعۃ وانما الالا شارۃ الی المدد والکثرۃ ولو بالف بحر (کبیر) المراد بالسبعۃ الکثرۃ (روح)
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم (سب) کا پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا،30۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے

30۔ اس کے نزدیک جیسے ایک کا جلانا ایسے سب کا جلااٹھانا۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تو نے اس نظر نہیں کی کہ اللہ رات کو داخل کرتا رہتا ہے دن میں اور دن کو داخل کرتا رہتا ہے رات میں اور سورج اور چاند کو کام میں لگارکھا ہے، ہر ایک، ایک میعاد مقررتک چلتا رہے گا اور کیا اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے،31۔

31۔ یعنی تصرفات تکوینی تمامتر اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور علم بھی اس کا کامل، محیط وہمہ گیر ہے۔ (آیت) ” الی اجل مسمی “۔ یعنی یوم قیامت تک۔ یہاں گویا ضمنا بھی بتلادیا کہ دنیا کے موجودہ نظام تکوینی کی مدت عمر قیامت تک ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے ہی نظام کا دور شروع ہوگا (آیت) ” یولج ..... القمر “۔ سیاہ رات اور روشن دن اور سورج اور چاند سب اسی قادر مطلق کی مخلوق ومصنوع ہیں اور ان سب کے تصرفات اسی کے حکم ومشیت کے محکوم ہیں، پھر یہ کیسی حماقت وسفاہت ہے کہ انہیں کو دیوی، دیوتا قرار دے کر معبود فرض کرلیا جائے۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

اس سبب سے کہ اللہ ہی (کی ہستی) حقیقی ہے اور اس لئے کہ اس کے سوا جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں سب ہیچ ہیں، اور اس لئے کہ اللہ ہی بلند شان والا ہے بڑی شان والا ہے،32۔

32۔ (اور وہی اکیلا معبودیت کا مستحق) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مذکورہ بالادلائل وواقعات۔ اشارۃ الی الذی ذکر من سعۃ العلم وشمول القدرۃ و عجائب الصنع واختصاص الباری بھا (بیضاوی) واجب الوجود صرف اسی کی ذات، وجود حقیقی صرف اسی کا، صفات علو وکبریائی سے صرف وہی متصف، معبودیت والوہیت کا صرف وہی مستحق۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی سمندر میں چلتی ہے تاکہ تم کو (اللہ) اپنی نشانیاں دکھلائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے،33۔

33۔ اتھاہ اور بےپناہ جوش مارتے ہوئے سمندر پر انسان جیسے مشت خاک کو قدرت دینا اسے اتنی عقل وفہم سے بہرہ ور کرنا کہ وہ لکڑی کے تختوں کو جوڑ جاڑ، اور ان میں کیلیں ٹھونک ٹھانک اور ہوا اور بھاپ اور بجلی کی قوتوں سے کام لے کر چھوٹی بڑی کشتیاں اور آبدوزیں اور اسٹیمر اور لائنیر اور ڈریڈ ناٹ وغیرہ تیار کرسکے۔ اور ان کے ذریعہ سے سینکڑوں نہیں، ہزاروں میل کے فاصلے شدید خطرات وموانع کے باوجود طے کرتا رہے، اور بحری تجارت و سیاحت سے عظیم الشان نفع حاصل کرتا رہے، یہ سب فضل الہی (نعمۃ اللہ) ہی کے حکم میں داخل اور اس کی قدرت، رحمت، حکمت کی نشانیوں کے مشاہدہ ہی کیلئے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی اس فضل خداوندی اور مشاہدہ آیات الہی میں (آیت) ” صبارشکور “۔ مراد مومن ہی ہے کہ وہی صفات صبر وشکر میں کامل ہوتا ہے۔ کنایۃ عن ال مومن (روح) ان دو صفات کی تخصیص اس موقع پر اس لیے کہ بحری سفر و سیاحت میں خوب موقع ان دونوں صفات کے ظہور کا رہتا ہے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب انہیں موجیں سائبانوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو وہ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے خشکی پر لے آتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں۔34۔ اور ہماری آیتوں کے منکرتوبس وہی ہوتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہیں،35۔

34۔ (اور باقی پھر حق سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ ) (آیت) ” مقتصد “۔ راہ اقتصاد و اعتدال، توحید کی راہ ہے۔ شرک کی راہ سرتاسر کجی وکجروی ہے۔ (آیت) ” کا لظلل “۔ سمندر میں طوفان و طغیانی کے وقت پانی کی موجیں سطح آب سے گزوں اونچی ہوہوکر جب کشتیوں اور جہازوں پر تھپیڑے مارتی ہیں تو یہی معلوم ہونے لگتا ہے جیسے بدلیاں چھاگئی ہیں۔ قرآن مجید اپنی تشبہات کے ذریعہ سے گویا اصل منظر کو سامنے لا دکھاتا ہے۔ 35۔ (اور وہی کافر کہلاتے ہیں) (آیت) ” ختار “۔ بدعہدی کا ظہور یوں کہ توحید کا جو عہد و پیمان مضطر ومضطرب ہو کر کشتی میں میں تھا، اس کو اب توڑ ردیا (آیت) ” کفور “۔ ناشکری کا صدور یوں کہ خشکی پر صحیح و سلامت آجانے کا جو مقتضاء تھا، یعنی شکر، اسی کو چھوڑ دیا۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اور اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھوجب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ بن سکے گا،36۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے سودنیوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے اور نہ کہیں وہ بڑا فریبیا تمہیں اللہ کے باب میں دھوکہ میں رکھے،37۔

36۔ باطل مذہبوں میں جو اہمیت کفارہ اور معاوضہ کے عقیدوں کو حاصل ہے۔ آیت ان سب کی تردید کیے دے رہی ہے۔ (آیت) ” والد “۔ اور مولود “۔ کی تخصیص اس لئے کہ اول تو کوئی رشتہ اس سے قریب تر اور کیا ہوگا، دوسرے یہ کہ بعض مذہبوں میں اولاد ہی کو ” پانی دے کر “ اپنے والد کا نجات دہندہ بتایا گیا ہے۔ 37۔ (کہ تم اسی دنیا کی چمک دمک پر فریفتہ ہو کر یاد آخرت سے غافل ہوجاؤ) (آیت) ” الغرور “۔ غرور ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غفلت اور دھوکہ میں ڈال دے، مال ہو، جاہ ہو، خواہش شہوانی ہو، یا خود شیطان ہو۔ الغرور کل مایغر الانسان من مال وجاہ وشھوۃ و شیطان (راغب) یہاں مراد شیطان ہے، جیسا کہ صحابہ وتابعین سے مروی ہے۔ قد فسر باالشیطان اذھو اخبث الغاوین (راغب) اے الشیطان کما روی عن ابن عباس وعکرمۃ وقتادۃ و مجاھد والضحاک (روح) اس بڑے فریبییے کا دھوکہ حق تعالیٰ کے باب میں یہی ہے کہ عذاب و عقاب کی خبریں سب غلط ہیں، نہ کوئی عالم آخرت ہے اور نہ وہاں حساب کتاب اور پکڑ دھکڑ۔ (آیت) ” ان وعداللہ حق “۔ اللہ وعدہ یہی کہ حساب کتاب برحق ہے اور ہر ایک کو اپنے اعمال وافعال کی جواب دہی کرنا ہے۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے،38۔ اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کریگا،39۔ اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا،40۔ بیشک اللہ ہی علم والا ہے خبر رکھنے والا ہے،41۔

38۔ مثلا یہی کہ جنین مردہ ہے یا زندہ، حمل، خصوصا اپنے ابتدائی زما نہ میں لڑکی کا ہے یا لڑکے کا، بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا یا مریض وناقص۔ ولادت طبعی طور پر پورے دنوں پر ہوگی، یا غیرطبعی طور پر اس کے قبل یا بعد، اور ہوگی تو ٹھیک کس دن، کس وقت ہوگی، قس علی ھذا۔ رحمیات سے متعلق ان تفصیلات کا پورا اور تحقیقی علم صرف ذات باری کو رہتا ہے۔ (آیت) ” وینزل الغیث “۔ یعنی اس کا پورا اور یقینی علم کہ بارش کب ہوگی، کہاں ہوگی، کس مقدار میں ہوگی، کتنی مدت تک رہے گی، قس علی ہذا۔ فضائیات کے بارے میں انسانی علوم کے ماہرین قرائن اور ظن وتخمین سے کام لے کر جس حد تک اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نہ اس کا شمار علم غیب میں ہے، اور نہ اس کی نفی یہاں مقصود ہے۔ (آیت) ” ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔ آگے کے دو جملہ فعلیہ ہیں، اور یہ جملہ اسمیہ ہے۔ یہ فرق غالبا اس لیے کہ (آیت) ” علم الساعۃ ایک امر متعین ہے۔ بخلاف اس کے وہ دونوں امور، دنیا میں برابر واقع ہوتے ہی رہتے ہیں۔ 39۔ یہاں بھی وہی کل کے علم قطعی وتفصیلی کی نفی مراد ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی پروگرام اجمالی صورت میں تو دوسرے دن کے لیے ہر انسان رکھتا ہی ہے۔ اور جب انسان کو اپنے ہی کل سے متعلق تفصیلی اور تحقیقی خبر نہیں ہوسکتی، تو ظاہر ہے کہ دوسروں کے مستقبل سے متعلق تو اتنی بھی نہیں ہوسکتی۔ 40۔ (اور جب ” کہاں “ کے متعلق کوئی تحقیقی خبر نہیں ہوسکتی تو ” کب “ کے متعلق تو اور بھی محال ہے) مکان موت تو بہرحال اس وقت بھی موجود ہے۔ اور عجب نہیں جو مرنے والے کے مشاہدہ میں بھی کبھی آچکا ہو تو زمان موت جو حواس ظاہری سے تمامتر مستورومخفی ہے، اس کی بابت نفی علم تو اور زیادہ ہوگی۔ 41۔ آیت کا حاصل یہ ہوا کہ علم غیب، یعنی ہر شے کا علم بلاواسطہ، اور جملہ اشیاء کا علم محیط، صرف حق تعالیٰ کو حاصل ہے کوئی بھی اس وصف میں اس کا شریک نہیں، یہ پانچ مسئلے صرف بطور مثال اور نمونے کے بیان ہوئے ہیں، اور ان کی تخصیص کی کھلی ہوئی وجہ یہ ہے، جیسا کہ شان نزول کی روایتوں میں متعدد طریقوں سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سوال انہیں پانچ مسئلوں کی بابت پیش کیا گیا تھا۔