Explained with ayahs 3–6
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 4
جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت کفّار مکہ یہ سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے بھی تھے کہ محمد ﷺ اور ان کی دعوت کو قبول کرنے والے لوگ اپنی زندگی برباد کر رہے ہیں۔ اس لئے حصر کے ساتھ اور پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا کہ " یہی فلاح پانے والے ہیں " یعنی یہ برباد ہونے والے نہیں ہیں جیسا کہ تم اپنے خیال خام میں سمجھ رہے ہو بلکہ دراصل فلاح یہی لوگ پانے والے ہیں اور اس سے محروم رہنے والے وہ ہیں جنھوں نے اس راہ کو اختیار کرنے سے انکار کیا ہے۔
یہاں قرآن کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے میں وہ شخص سخت غلطی کرے گا جو فلاح کو صرف اس دنیا کی حد تک اور وہ بھی صرف مادی خوشحالی کے معنی میں لے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
معارف و مسائل
یوتون الزکوٰة، اس آیت میں زکوٰۃ کا حکم ہے، حالانکہ آیت مکی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اصل زکوٰۃ کا حکم مکہ معظمہ ہی میں ہجرت سے پہلے آ چکا تھا۔ اور یہ جو مشہور ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت کے دوسرے سال میں نافذ ہوا اس سے مراد نصابوں کا تقرر اور مقدار واجب کی تفصیلات اور حکومت اسلامیہ کی طرف سے اس کی وصول یابی اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام ہے، یہ ہجرت کے دوسرے سال میں ہوا ہے۔
ابن کثیر نے سورة مزمل کی آیت اقیموا الصلوة واتوالزکوٰة کے تحت میں یہی تحقیق فرمائی ہے، کیونکہ سورة مزمل تو مکی سورتوں میں بالکل ابتداء نزول قرآن کے زمانے میں نازل ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون (5)
فرمایا کہ یہی لوگ اس دنیا میں اپنے رب کی صراط مستقیم پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے بنیں گے۔ باقی سارے لوگ گمراہی پر ہیں اور وہ آخرت میں جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →5-1فلاح کے مفہوم کے لئے دیکھئے سورة بقرہ اور مومنون کا آغاز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 185 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19
الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5)
حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔
تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2 " سورة بقرہ " کے شروع میں اسی طرح کی آیات گزر چکی ہیں وہاں کے فوائد دیکھ لئے جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 5 اُولٰٓءِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ”
یہاں اس سورت کی پانچویں آیت بعینہٖ وہی ہے جو سورة البقرۃ کی پانچویں آیت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 اس مقام پر محسنین کی اور سورة بقرہ میں متقین کی ان ہی تین صفات کا ذکر فرمایا جو یہاں مذکور ہیں یعنی اقامت صلوۃ، ایتاء زکوٰ ۃ اور ایمان بالآخرت یعنی جس شخص میں کم از کم یہ تین صفات پائی جائیں۔ نہ ان کے راہ راست پر ہونے میں کوئی شک ہوسکتا ہے اور نہ فلاح پانے میں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2۔ (دنیا وآخرت میں ہر طرح پر) (آیت) ” علی ھدی ...... المفلحون “۔ ھدی۔ ہدایت ثمرہ ہے قرآن پر اعتقاد وعمل کا۔ اور فلاح ثمرہ ہے راہ ہدایت کا۔ پارۂ اول کے رکوع اول میں انہیں سے ملتی ہوئی دو آیتیں آچکی ہیں، وہاں کے حاشیے بھی ملاحظہ کرلیے جائیں۔ (آیت) ’ ’ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون “۔ ھم “۔ کی تکرار تاکید اور زور کلام کے لئے ہے۔ اعید الضمیر للتاکید (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →اولئک علی ھدی من ربم واولئک ھم المفلحون . یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے (نازل
شدہ) ہدایت پر ہیں اور یہ ہی (کامل طور پر ‘ مترجم) کامیاب ہونے والے ہیں کیونکہ ان کے عقائد بھی صحیح ہیں اور اعمال بھی صالح ہیں۔
جویبر نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ نضر بن حارث نے ایک مغنیہ خریدی تھی ‘ جب وہ سنتا کہ کوئی شخص مسلمان ہونے کا خواہشمند ہے تو جا کر اس کو مغنیہ کے پاس لے آتا اور باندی سے کہتا کہ اس کو کھلا پلا اور گانا سنا ‘ پھر اس شخص سے کہتا کہ محمد تو تم کو نماز پڑھنے ‘ روزہ رکھنے اور اپنی ہمراہی میں لڑنے کا حکم دیتے ہیں اور اسی کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیزیں (جن کی دعوت میں تم کو دے رہا ہوں) اس کی…
Read the full tafseer →سو یہ لوگ اپنے رب کے سیدھے اور معزز رستہ پر ہیں اور یہی لوگ عذاب و ناراضگی سے نجات پانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیات (2 تا 5) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث من محل رفع میں مبتدا ہے لھوالحدیث اس سے مراد غنا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس وغیرہما کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کتاب وسنت سے ممنوع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے آیت من یشتری ذالھو او ذات لھو یعنی مضاف محذوف ہے یا تقدیر کلام یہ ہے : آیت لما کان انما اشترا ھا یشتریھا ویبا بدع فی ثمنھا کا نہ اشتراھا للھو۔
میں کہتا ہوں : یہ ان تین آیات میں سے ایک ہے جن سے علماء نے استدلال کیا کہ غنا مکروہ ہے اور اس سے علماء نے منع کیا ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت وانتم سامدون (النجم)
حضرت ابن عباس ؓ عنھما نے کہا : قبیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں ہو الحدیث میں مراد ہے جھوٹی بات اور وہ نصر بن حارث بن علقمہ تھا اس نے عجمی لوگوں کے قصے اور ان کے زمانے کے کارناموں والی کتابیں خریدیں وہ حیرہ اور شام کی کتابیں لکھا کرتا تھا اور قرآن کو جھٹلاتا تھا اس نے قرآن سے اعراض کیا اور اس پر ایمان نہ لایا۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس کے شراء سے مراد اس کا پسند کرنا ہے قتادہ نے کہا کسی آدمی کی گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جھوٹی بات کو سچی بات پر اختیار کرے آیت ویتخذہا ہزوا کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] عَلٰي هُدًى [ہدایت پر ہیں ] مِّنْ رَّبِّهِمْ [اپنے رب (کی طرف) سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ہی مراد پانے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
قرآن کے دشمنوں کی حرکتیں، ان کے لیے عذاب مہین کی وعید
قرآن پر ایمان لانے والوں کے اعمال اور ان کے ہدایت پر کامیاب ہونے کی بشارت دینے کے بعد قرآن کا انکار کرنے والوں اور اس کے مقابلہ میں بعض چیزیں اختیار کرنے والوں کا شغل پھر ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن کے مخالف رویہ رکھتے ہیں اور قرآن سے خود بھی دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہر وہ بات جو اللہ کی یاد سے غافل کرے اور کھیل میں لگائے۔ حضرت حسن بصری ؓ نے (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : (ھو کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ و ذکرہ) یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کی عبادت سے ہٹائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین
قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔
(ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4:۔ اولئک علی ھدی الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی مذکورہ بالا اوصاف والے لوگ واقعی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں نجات و فلاح کے مستحق بھی یہی لوگ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة لقمان ہے ۔ یہ نام اس سورة کے دوسرے رکوع میں آمد ہ لفظ لقمان سے اخذ کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان (رح) ایک نیک ، صالح اور داناانسان تھے ، پرانی قوموں کے حال میں ان کے احل اور ان کی نصیحت آموز تقریر کا ذکر ملتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ، اور وہ نصیحت اس سورة مبارکہ میں بھی مذکورہ ہے۔
یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسطی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ جب کہ حضور ﷺ کی نبوت کے چھ یا سات سال گزر چکے تھے ۔ بعض مقررین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ سورة الصفت کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی چونتیس 4 3 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ 847 الفاظ اور 0112 حروف پر مشتمل ہے ۔
مضامین…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ہُدًى مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 5
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی،
وهو المعنيّ بقوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : ویتخذھا و الضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الآیات (تبیان)
تفسیر : کہ وہ آیات الٰہی کے ساتھ تمسخر کرتا ہے۔ اس کجرو کے دو فعل بیان ہوئے۔ اول یہ کہ وہ لہو الحدیث اللہ کے رستہ سے روکنے کے لیے خریدتا ہے کہ لوگ اس طرف متوجہ ہوں، اس کو چھوڑ دیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کے رستہ یا اس کی آیات سے تمسخر کرتا ہے یا ان لہو الحدیث کو مسخری کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس تمسخر کی سزا بیان فرماتا ہے۔ اولئک لہم عذاب مہین کہ ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ عذاب بمقابلہ لہو الحدیث خرید کر گمراہ کریں گے۔ ذلت تمسخر کے سبب اور تمسخر کا نتیجہ ذلت ہے، ٹھٹھے باز آدمی کا رعب نہیں رہا کرتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (لقمان : 4، 5)
( جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔” یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں۔ )
محسنین کی تین صفات
اس آیت کریمہ میں محسنین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان تین صفات کے ذکر سے محسنین کے بنیادی خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ وہ بس انھیں تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول ﷺ ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورة لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی…
Read the full tafseer →5: اُوْلٰٓپکَ عَلٰی ھُدًی (وہ ہدایت پر ہیں۔ ) اولپک مبتدأ اور علی ھدًی خبر ہے۔ مِّنْ رَّبِِّھِمْ (اپنے رب کی ہدایت پر ہیں) یہ ھدًیکی صفت ہے۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور وہی کامیاب ہیں۔ ) : اس کا بھی ماقبل پر عطف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر۔ (1۔ 2۔ 3) ۔۔۔۔۔ ، الم تلک آیات الکتاب الحکیم ھدی ورحمۃ، حمزہ نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ عبارت یوں ہوگی ، ھو ھدی ورحمۃ، دوسرے قراء نے اس کو منصوب پڑھا ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، للمحسنین، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 تا 5۔ حروف مقطعات کا بیان اور اس سورة کی شروع کی آیتوں کی یہ تفسیر سورة بقرہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہو کر اچھے عمل کرتے ہیں مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہوں یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی زکوٰۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریا کاری نہیں کرتے نہ بدعت کے طور پر اپنی طرف سے شریعت میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة لقمان
آیت نمبر : 1 ۔ 5
اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات “ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف ‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں :
(1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔
(2) یہ آیات تغیر و تبدل ‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔
(3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین
قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔
کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →5 فوز و فلاح کا مدار ایمان وعمل پر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی فوز و فلاح کا مدار اس کے اپنے ایمان وعمل پر ہے نہ کہ کسی نسل ونسب وغیرہ کے انتساب پر۔ جیسا کہ بہت سے گمراہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں جو اس دنیا میں اپنے رب کی طرف سے ملنے والی صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے " ان کے سوا باقی سب گمراہ ہیں۔ اور ان کو آخرت میں جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ سو دنیا داروں اور مادہ پرستوں کے نزدیک تو ایسے لوگ کل بھی معتوب و ناداں تھے اور آج بھی انہیں رجعت پسند اور تاریک خیال سمجھا جاتا ہے۔ مگر اللہ پاک اپنے کلام حکیم میں ارشاد فرما رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن اور اس میں دی گئی ہدایات
تشریح : قرآن مجید کو حکمت و ہدایت کی کتاب کہا گیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا شوق رکھتا ہو جو شوق اور توجہ سے پڑھے گا اسکے لیے قرآن مجید میں بیشمار حکمتیں، ہدایات اور بہترین نکات موجود ہیں۔ کوئی بھی کتاب چاہے وہ کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو اگر بےدھیانی سے پڑھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن پڑھنے کے لیے پوری توجہ، ذوق اور شوق بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں وہ اس کی آیات میں تدبر کرتے ہیں ان پر سرور طاری ہوجاتا ہے وہ اس کی بہترین آیات میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور بےاختیار رونے لگتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 1 حسن بصری فرماتے ہیں لھو الحدیث (واہی باتوں) سے مراد وہ تمام فضول اور بےہودہ باتیں ہیں جو آدمی کو اپنے میں مشغول کر کے نیکی اور بھلائی کے راستہ سے روک دیں جیسے جھوٹے افسانے ناول قصے کہانیاں ہنسی مذاق گانا بجانا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں فالاضافۃ بمعنی من البیانیۃ او التبعیضیۃ بنائو علی مذھب اب کیسان بمعنی الام علی مذھب اکثر الماخرین وھو الاصح (کذافی لووح) اکثر صحابہ وتابعین نے اس کی تفسیر خاص طور پر ” گانا بجانا “ سے کی ہے۔ (قرطبی) حضرت عبداللہ بن معسود سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں ” لہو الحدیث “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا :” الغنآء واللہ الذی لا الہ الا ھو “ اس…
Read the full tafseer →(31:5) اولئک علی ھدی۔ مبتداء خبر۔ من ربھم۔ ھدی کی صفت۔
واولئک ہم المفلحون : جملہ معطوف ۔ جس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ہم کی تکرار کلام کی تاکید اور زور کلام کے لئے ہے۔ اور یہی لوگ فلاح یافتہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5)
تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ المحسنین (نیکیاں کرنے والے) ۔ یقیمون (وہ قائم کرتے ہیں) ۔ یوتون (وہ دیتے ہیں۔ ادا کرتے ہیں) ۔ یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) ۔ المفلحون (فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 5) ” اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری چند سورتوں کی ابتداء میں جہاں یہ حروف آئے ہیں وہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ یہ اسی کا کلام ہے۔ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی بتا دیئے ہوں لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو نہیں بتائے۔
اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(ف 1) شان نزول :
یہ آیت نظر بن حارث بن کلاہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں میں سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں، جس میں قصے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا تھا اور کہتا کہ سید کائنات محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کی کہانیاں سناتا ہوں کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآن کی نصیحت کی باتیں سننے سے رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ وہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ دکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
[1] یعنی قرآن کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
لھوالحدیث
قرآن حکیم وہ کتاب ہے جس پر انسانیت کی فلاح و بہبود موقوف ہے جو رشدوہدایت ہے جو اللہ کی رحمتوں کی کفیل ہے ۔ تمام مشکلات میں تنہاراہنما ہے ۔ سراپا خیر و برکت ہے ۔ لوگوں کے لئے قیامت تک آخری دستورالعمل ہے ۔
حضور ﷺ جب اس مجموعہ پاک کو سناتے اور چاہتے کہ مکہ کے مشرک اس کی روشنی سے اپنے تاریک سینوں کو منور کریں ۔ اور اپنے اعمال کو سنواریں ۔ تو کچھ بدبخت لوگ ایسی گمراہ کن باتوں میں عوام الناس کو الجھا دیتے کہ وہ ان لغویات کو سن کر قرآن کو نہ سنتے ۔ چناچہ نصرین حارث ان کو عجم کو جھوٹے اور غلط افسانے سناتا ۔ رستم واسفند یار کے قصے تو ان مسیع لگا کر بیان کرتا اور وہ مزے سے ان خرافات کو سنتے ۔…
Read the full tafseer →5۔ یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی ہیں فلاح پانے والے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ، یعنی اس قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے اور اعتقاد رکھنے کی برکت سے وہ فلاح پانے والے ہیں ۔ قرآن کریم کی ہدایت اور اس کی رحمت کا یہاثر ہوا کہ پروردگار کی سیدھی راہ پر بھی رہے اور فلاح بھی حاصل ہوئی ۔
اب آگے بعض شرارت پسندوں کا ذکر فرمایا تا کہ نیکوں اور شریروں کا فرق معلوم ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 11۔ پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت و رحمت جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں :
5۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو سورة البقرہ کی آیت 5 کے طور پر قبل ازیں گزر چکی ہے اور اتفاق دیکھئے کہ وہاں بھی اس آیت کا نمبر 5 ہے اور زیر نظر سورة لقمان میں بھی اس کو یہی نمبر ملا ہے ۔ (المفلحون) فلاح پانے والے ۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کی اس صفت کو تیرہ بار ذکر کیا ہے بارہ بار (المفلحون) اور ایک بار (المفلحین) کا لفظ بولا گیا اور یہ تلفظ سورة القصص کی آیت 67 میں ذکر کیا گیا ہے جبکہ پہلا تلفظ سورة البقرہ کی آیت 5 میں آل عمران کی آیت 104 میں ‘ سورة الاعراف 7 کی آیت 8 ‘ 157 میں ‘ سورة التوبہ 9 کی آیت 88 میں ‘ سورة المومنون 23 کی آیت 202…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
The word: اشتراء (ishtira) in: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ (And from among the people who buys the distracting amusement of things - 31:6) literally means 'to buy.' And on occasions, the same word is used in the sense of 'doing an act instead of another' - as in: أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ are the people who have bought error at the rice of guidance - 2:16, 2:175 and in some other verses.
The Cause of Revelation
This verse was revealed because of a particular event relating to Nadr Ibn Harith. He was one of the top businessmen from among…
Read the full tafseer →4 At the time when these verses were sent down, the disbelieves of Makkah thought, and said so openly, that Muhammad (upon whom be Allah's peace) and those who accepted his message were wasting and mining their lives. Therefore, it was rejoined with full force and emphasis: "..these are the ones who will attain true success." That is, 'They will not ruin themselves as you seem to dunk in your ignorance, but they in fact are the ones who alone will attain true success, and the utter failures will be those who have refused to adopt this way."
Here the one who regards 'true success" as confined…
Read the full tafseer →