Luqman 31:4

Luqman · from ayah 4

31:4

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ۟ؕالَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who establish prayer and give zakah, and they, of the Hereafter, are certain [in faith].

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:4

جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ نیک لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور آخرت پر یقین لائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین بھی وہی رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعنی وہ لوگ جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لئے جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتی ہیں اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو قائم کرتے ہیں نماز کو اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یہی لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نماز کی پابندی کرتے زکوٰۃ دیتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who establish Prayer and pay Zakah, and have firm faith in the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who are steadfast in Salah and who pay Zakah and have faith in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani

who are steadfast in Salah and who pay Zakah and have faith in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who perform the Salah and give Zakah and they have faith in the Hereafter with certainty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who establish worship and pay the poor-due and have sure faith in the Hereafter.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who establish prayer and give zakah, and they, of the Hereafter, are certain [in faith].

— Saheeh International

people who are steadfast in prayer, pay the religious tax, and have firm belief in the life to come.

— Muhammad Sarwar

Those who keep up prayer and pay the poor-rate and they are certain of the hereafter.

— Muhammad Habib Shakir

Those who establish the prayer and give the poor-rate and of the Hereafter are convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who establish regular Prayer, and give regular Charity, and have (in their hearts) the assurance of the Hereafter.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–6

لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 3 یہ مراد نہیں ہے کہ جن لوگوں کو " نیکو کار " کہا گیا ہے وہ بس ان ہی تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ دراصل پہلے " نیکو کار " کا عام لفظ استعمال کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ ان تمام برائیوں سے رکنے والے ہیں جن سے یہ کتاب روکتی ہے، اور ان سارے نیک کاموں پر عمل کرنے والے ہیں جن کا یہ کتاب حکم دیتی ہے۔ پھر ان " نیکو کار " لوگوں کی تین اہم صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باقی ساری نیکیوں کا دارومدار ان ہی تین چیزوں پر ہے۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، جس سے خدا پرستی و خدا ترسی ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں، جس سے ایثار و قربانی کا جذبہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

معارف و مسائل یوتون الزکوٰة، اس آیت میں زکوٰۃ کا حکم ہے، حالانکہ آیت مکی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اصل زکوٰۃ کا حکم مکہ معظمہ ہی میں ہجرت سے پہلے آ چکا تھا۔ اور یہ جو مشہور ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت کے دوسرے سال میں نافذ ہوا اس سے مراد نصابوں کا تقرر اور مقدار واجب کی تفصیلات اور حکومت اسلامیہ کی طرف سے اس کی وصول یابی اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام ہے، یہ ہجرت کے دوسرے سال میں ہوا ہے۔ ابن کثیر نے سورة مزمل کی آیت اقیموا الصلوة واتوالزکوٰة کے تحت میں یہی تحقیق فرمائی ہے، کیونکہ سورة مزمل تو مکی سورتوں میں بالکل ابتداء نزول قرآن کے زمانے میں نازل ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الذکوۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون (4) یہ محسنین کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ان کے پردے ہیں وہ لوگ نگاہوں کے سامنے کردیے گئے ہیں جو اس وقت اس لفظ کے صحیح مصداق تھے۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں۔ ’ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون ‘ میں ان اہل ایمان کی غایت درجہ تحسین ہے۔ یعنی درحقیقت یہی لوگ ہیں جو آخرت پر پکا یقین رکھنے والے ہیں۔ اسی یقین کا یہ ثمرہ ہے کہ ان کو نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ سے غافل ہیں وہ درحقیقت آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اگر وہ اس کے مدعی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4-1نماز زکوٰۃ اور آخرت پر یقین۔ یہ تینوں نہایت اہم ہیں، اس لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا، ورنہ محسنین و متقین تمام فرائض و سنت رسول کے مطابق پابندی سے کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

2 " سورة بقرہ " کے شروع میں اسی طرح کی آیات گزر چکی ہیں وہاں کے فوائد دیکھ لئے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ” اب یہاں محسنین کے اوصاف کا ذکر ہے اور ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ” ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنے تزکیے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سورة البقرۃ کی آیت 3 میں اس حوالے سے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ یہاں باقاعدہ ”زکوٰۃ“ کا لفظ آیا ہے۔ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ” ”ایمان بالآخرۃ“ کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہاں ”یقین“ کا ذکر ہوا ہے۔ دراصل آخرت کا عقیدہ وہ عامل factor ہے جو انسان کے عمل اور کردار پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3 اس مقام پر محسنین کی اور سورة بقرہ میں متقین کی ان ہی تین صفات کا ذکر فرمایا جو یہاں مذکور ہیں یعنی اقامت صلوۃ، ایتاء زکوٰ ۃ اور ایمان بالآخرت یعنی جس شخص میں کم از کم یہ تین صفات پائی جائیں۔ نہ ان کے راہ راست پر ہونے میں کوئی شک ہوسکتا ہے اور نہ فلاح پانے میں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

2۔ (دنیا وآخرت میں ہر طرح پر) (آیت) ” علی ھدی ...... المفلحون “۔ ھدی۔ ہدایت ثمرہ ہے قرآن پر اعتقاد وعمل کا۔ اور فلاح ثمرہ ہے راہ ہدایت کا۔ پارۂ اول کے رکوع اول میں انہیں سے ملتی ہوئی دو آیتیں آچکی ہیں، وہاں کے حاشیے بھی ملاحظہ کرلیے جائیں۔ (آیت) ’ ’ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون “۔ ھم “۔ کی تکرار تاکید اور زور کلام کے لئے ہے۔ اعید الضمیر للتاکید (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین یقیمون الصلٰوۃ ویؤتون الزکوٰۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون . جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘ ایسی حالت میں کہ آخرت پر وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ سے آخر تک احسان کا بیان ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اقامت صلوٰۃ ‘ ادائے زکوٰۃ اور یقین آخرت احسان کی اہم شاخیں ہیں اس لئے صراحت کے ساتھ خاص طور پر ان کا ذکر کردیا۔ ھُمْ ضمیر کی تکرا رمفید تاکید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1 تا 4) الم اس کے معنی سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ہی جاننے والا ہے یا یہ کہ تاکیدا یہ ایک قسم کھائی گئی ہے۔ یہ سورت اس قرآن حکیم کی آیات ہیں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والی اور گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت کا سبب ہے ان با اخلاص موحدین کے لیے جو پانچوں نمازوں کے وضو رکوع و سجود اور تمام واجبات کی رعایت رکھتے ہوئے پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–5

هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیات (2 تا 5) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–6

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث من محل رفع میں مبتدا ہے لھوالحدیث اس سے مراد غنا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس وغیرہما کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کتاب وسنت سے ممنوع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے آیت من یشتری ذالھو او ذات لھو یعنی مضاف محذوف ہے یا تقدیر کلام یہ ہے : آیت لما کان انما اشترا ھا یشتریھا ویبا بدع فی ثمنھا کا نہ اشتراھا للھو۔ میں کہتا ہوں : یہ ان تین آیات میں سے ایک ہے جن سے علماء نے استدلال کیا کہ غنا مکروہ ہے اور اس سے علماء نے منع کیا ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت وانتم سامدون (النجم) حضرت ابن عباس ؓ عنھما نے کہا : قبیلہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں ہو الحدیث میں مراد ہے جھوٹی بات اور وہ نصر بن حارث بن علقمہ تھا اس نے عجمی لوگوں کے قصے اور ان کے زمانے کے کارناموں والی کتابیں خریدیں وہ حیرہ اور شام کی کتابیں لکھا کرتا تھا اور قرآن کو جھٹلاتا تھا اس نے قرآن سے اعراض کیا اور اس پر ایمان نہ لایا۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس کے شراء سے مراد اس کا پسند کرنا ہے قتادہ نے کہا کسی آدمی کی گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جھوٹی بات کو سچی بات پر اختیار کرے آیت ویتخذہا ہزوا کہ وہ اس کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يُقِيْمُوْنَ [قائم رکھتے ہیں ] الصَّلٰوةَ [نماز کو ] وَيُؤْتُوْنَ [اور پہنچاتے ہیں ] الزَّكٰوةَ [زکوۃ کو ] وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ [اور وہ لوگ ہی آخرت پر ] هُمْ يُوْقِنُوْنَ [یقین رکھتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 4 ۔ میں زکوٰۃ کا حکم ہے حالانکہ یہ آیت مکی ہے۔ اس سے اور سورة مزمل سے بھی معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا حکم مکہ میں ہجرت سے پہلے آچکا تھا۔ البتہ ہجرت کے دوسرے سال میں نصابوں کا تقرر اور مقدار واجب کی تفصیلات اور حکومت کی طرف سے اس کی وصولیاں اور خرچ کرنے کا انتظام ہے۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–6

قرآن کے دشمنوں کی حرکتیں، ان کے لیے عذاب مہین کی وعید قرآن پر ایمان لانے والوں کے اعمال اور ان کے ہدایت پر کامیاب ہونے کی بشارت دینے کے بعد قرآن کا انکار کرنے والوں اور اس کے مقابلہ میں بعض چیزیں اختیار کرنے والوں کا شغل پھر ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن کے مخالف رویہ رکھتے ہیں اور قرآن سے خود بھی دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہر وہ بات جو اللہ کی یاد سے غافل کرے اور کھیل میں لگائے۔ حضرت حسن بصری ؓ نے (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : (ھو کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ و ذکرہ) یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کی عبادت سے ہٹائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–5

4:۔ اولئک علی ھدی الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی مذکورہ بالا اوصاف والے لوگ واقعی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں نجات و فلاح کے مستحق بھی یہی لوگ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة لقمان ہے ۔ یہ نام اس سورة کے دوسرے رکوع میں آمد ہ لفظ لقمان سے اخذ کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان (رح) ایک نیک ، صالح اور داناانسان تھے ، پرانی قوموں کے حال میں ان کے احل اور ان کی نصیحت آموز تقریر کا ذکر ملتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ، اور وہ نصیحت اس سورة مبارکہ میں بھی مذکورہ ہے۔ یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسطی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ جب کہ حضور ﷺ کی نبوت کے چھ یا سات سال گزر چکے تھے ۔ بعض مقررین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ سورة الصفت کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی چونتیس 4 3 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ 847 الفاظ اور 0112 حروف پر مشتمل ہے ۔ مضامین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ يُوْقِنُوْنَ۝ 4ۭ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

الذین یقیمون الصلوٰۃ سے محسنین کا بیان ہوتا ہے کہ محسنین یعنی نیک بخت لوگ کون ہیں ؟ وہ ہیں جو نماز ادا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں، اس میں حکمت عملیہ کے دونوں جزو بدنی اور مالی عبادت آگئی۔ وہم بالآخرۃ ہم یوقنون اور آخرت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ یہ حکمت نظریہ کے جمیع اجزاء کو شامل ہے کس لیے کہ جو دار آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ضرور اللہ تعالیٰ پر بجمیع صفاتہ بھی ایمان رکھتا ہے جو دار آخرت میں جزاء و سزا کا دینے والا ہے اور اس طرح ملائکہ اور انبیاء اور کتب منزلہ پر بھی ایمان رکھتا ہے جو دار آخرت کے لیے سعادت کے ہادی اور شقاوت سے مانع ہیں۔ اب ایمان اور عمل صالح دونوں کا ہونا نیک بختی میں ضروری ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (لقمان : 4، 5) ( جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔” یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں۔ ) محسنین کی تین صفات اس آیت کریمہ میں محسنین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان تین صفات کے ذکر سے محسنین کے بنیادی خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ وہ بس انھیں تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ تین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول ﷺ ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورة لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایمان والوں کی صفات : 4: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ( جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر وہی یقین کرنے والے ہیں) اس کی نظیر اوس کا قول ہے۔ الا لمعیُّ الذی یظنَّ بک الظنّ ٭ کان قد رای وقد سمعا اس میں الأ لمعیّ کی صفات بیان کی گئیں ہیں۔ نمبر 2۔ احسان ان لوگوں کیلئے ہے جو ان تمام اعمال کو انجام دینے والے ہیں۔ جو اچھے ہوں پھر ان میں سے خاص طور پر ان تینوں کو بوجہ افضیلت ذکر دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–5

تفسیر۔ (1۔ 2۔ 3) ۔۔۔۔۔ ، الم تلک آیات الکتاب الحکیم ھدی ورحمۃ، حمزہ نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ عبارت یوں ہوگی ، ھو ھدی ورحمۃ، دوسرے قراء نے اس کو منصوب پڑھا ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، للمحسنین، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1 تا 5۔ حروف مقطعات کا بیان اور اس سورة کی شروع کی آیتوں کی یہ تفسیر سورة بقرہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہو کر اچھے عمل کرتے ہیں مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہوں یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی زکوٰۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریا کاری نہیں کرتے نہ بدعت کے طور پر اپنی طرف سے شریعت میں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

سورة لقمان آیت نمبر : 1 ۔ 5 اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات “ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف ‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں : (1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ (2) یہ آیات تغیر و تبدل ‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔ (3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–14

طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 محسنین کی تین اہم صفات کا ذکر وبیان : احسان والوں کی ان تین صفتوں میں سے پہلی کا تعلق عبادات بدنیہ سے ہے۔ دوسری کا عبادات مالیہ سے۔ جبکہ تیسری ان سب کے لئے بمنزلہ شرط اور اساس کے ہے۔ یعنی آخرت پر ایمان و یقین کہ جب آخرت کا یقین ہوگا تو اخلاص بھی ہوگا اور ہر عبادت کی ادائیگی بھی صحیح طریقے سے ہوگی۔ اور بعض علماء کے نزدیک زکوٰۃ سے یہاں اس کے معروف اصطلاحی معنی مراد نہیں۔ کیونکہ ان اصطلاحی معنوں میں زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم تو مدینہ منورہ میں نازل ہوا جبکہ یہ سورة کریمہ مکی ہے۔ اس لئے یہاں زکوٰۃ سے اس کے لغوی معنیٰ یعنی طہارت و پاکیزگی مراد ہیں۔ مگر بہتر یہ ہے کہ لفظ کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

قرآن اور اس میں دی گئی ہدایات تشریح : قرآن مجید کو حکمت و ہدایت کی کتاب کہا گیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا شوق رکھتا ہو جو شوق اور توجہ سے پڑھے گا اسکے لیے قرآن مجید میں بیشمار حکمتیں، ہدایات اور بہترین نکات موجود ہیں۔ کوئی بھی کتاب چاہے وہ کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو اگر بےدھیانی سے پڑھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن پڑھنے کے لیے پوری توجہ، ذوق اور شوق بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں وہ اس کی آیات میں تدبر کرتے ہیں ان پر سرور طاری ہوجاتا ہے وہ اس کی بہترین آیات میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور بےاختیار رونے لگتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–6

ف 1 حسن بصری فرماتے ہیں لھو الحدیث (واہی باتوں) سے مراد وہ تمام فضول اور بےہودہ باتیں ہیں جو آدمی کو اپنے میں مشغول کر کے نیکی اور بھلائی کے راستہ سے روک دیں جیسے جھوٹے افسانے ناول قصے کہانیاں ہنسی مذاق گانا بجانا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں فالاضافۃ بمعنی من البیانیۃ او التبعیضیۃ بنائو علی مذھب اب کیسان بمعنی الام علی مذھب اکثر الماخرین وھو الاصح (کذافی لووح) اکثر صحابہ وتابعین نے اس کی تفسیر خاص طور پر ” گانا بجانا “ سے کی ہے۔ (قرطبی) حضرت عبداللہ بن معسود سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں ” لہو الحدیث “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا :” الغنآء واللہ الذی لا الہ الا ھو “ اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ المحسنین (نیکیاں کرنے والے) ۔ یقیمون (وہ قائم کرتے ہیں) ۔ یوتون (وہ دیتے ہیں۔ ادا کرتے ہیں) ۔ یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) ۔ المفلحون (فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 5) ” اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری چند سورتوں کی ابتداء میں جہاں یہ حروف آئے ہیں وہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ یہ اسی کا کلام ہے۔ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی بتا دیئے ہوں لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو نہیں بتائے۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

(ف 1) شان نزول : یہ آیت نظر بن حارث بن کلاہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں میں سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں، جس میں قصے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا تھا اور کہتا کہ سید کائنات محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کی کہانیاں سناتا ہوں کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآن کی نصیحت کی باتیں سننے سے رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ وہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ دکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–6

لھوالحدیث قرآن حکیم وہ کتاب ہے جس پر انسانیت کی فلاح و بہبود موقوف ہے جو رشدوہدایت ہے جو اللہ کی رحمتوں کی کفیل ہے ۔ تمام مشکلات میں تنہاراہنما ہے ۔ سراپا خیر و برکت ہے ۔ لوگوں کے لئے قیامت تک آخری دستورالعمل ہے ۔ حضور ﷺ جب اس مجموعہ پاک کو سناتے اور چاہتے کہ مکہ کے مشرک اس کی روشنی سے اپنے تاریک سینوں کو منور کریں ۔ اور اپنے اعمال کو سنواریں ۔ تو کچھ بدبخت لوگ ایسی گمراہ کن باتوں میں عوام الناس کو الجھا دیتے کہ وہ ان لغویات کو سن کر قرآن کو نہ سنتے ۔ چناچہ نصرین حارث ان کو عجم کو جھوٹے اور غلط افسانے سناتا ۔ رستم واسفند یار کے قصے تو ان مسیع لگا کر بیان کرتا اور وہ مزے سے ان خرافات کو سنتے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

4۔ محسنین وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ محسنین کے اوصاف میں تین چیزوں کا ذکر فرمایا ۔ نماز ، زکوٰۃ اور آخرت کا کامل یقین ، لفظ محسن کی تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے اور احسان کی بحث بھی ہوئی ہے اور شاید اسی سورت کے تیسرے رکوع میں پھر تذکرہ آجائے اور زکوٰۃ کی فرضیت اگرچہ مدینہ منورہ میں ہوئی ہے لیکن اس کی مشروعیت ہوسکتا ہے کہ مکہ میں بھی ہو۔ یہ حال ! قرآن شریف کا موجب ہدایت اور سبب رحمت ہونا ان مسلمانوں کے لئے نمایاں ہے جو مخلص مسلمان ہیں عمل کے اعتبار سے بھی اور اعتقاد کے اعتبار سے بھی اسی کو آگے بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 11۔ پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت و رحمت جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہی ہیں جو نماز قائم کرتے ‘ زکوۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین لاتے ہیں : 4۔ محسنین کی تین علامتیں اس جگہ مزید بیان کی گئیں ہیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ، نماز کے پڑھنے اور نماز کے قائم کرنے میں کیا فرق ہے ؟ اس کی وضاحت گزشتہ کئی ایک مقامات پر کی جا چکی ہے اور خصوصا سورة المومنون کی شروع کی آیات میں اس کی بہت وضاحت بیان کی گئی ہے وہ زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اگر ان کے پاس اتنا مال جمع ہوجائے ورنہ وہ اتنا مال جمع ہی کب ہونے دیتے ہیں ۔ اصل حقیقت زکوۃ کی یہی ہے کہ مال کی محبت آخرت کے مقابلہ میں کم ہوجائے اور دل یقین پا جائے کہ جو مال رضائے الہی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary The words: يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ (pay Zakah) in Verse 4 carry the injunction of Zakah, although the verse is Makki. This tells us that the original injunction of Zakah had already been revealed before Hijrah, right there in Makkah al-Mu` azzamah. As for the popular assumption that the injunction of Zakah was enforced in the second year of Hijrah, it refers to the arrangement of fixing its nisab (threshold), providing details of obligatory amount to be paid, collecting and disbursing it on authorized heads by the Islamic government. This was done in the second year of Hijrah. Ibn…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 It does not mean that "the righteous people" bear only these three qualities. By using the common epithet of "righteous" for them, it has been pointed out that they refrain from aII those evils which this Book forbids and practise aII those good things which this Book enjoins. Then, the three qualities of the "righteous" have been especially mentioned in order to show that alI other good acts depend on these three things. They establish the Salat which engenders God-worship and piety as a permanent habit with them; they pay the Zakat which strengthens the spirit of sacrifice in them,…

Read the full tafseer →