هُدًی وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ۟ۙهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّلۡمُحۡسِنِيۡنَۙ
نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
As guidance and mercy for the doers of good
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
هُدًی وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ۟ۙهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّلۡمُحۡسِنِيۡنَۙ
نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
As guidance and mercy for the doers of good
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Luqman
ہدایت اور رحمت نیکو کار لوگوں کے لیے
نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
جو نیکو کاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے
جو نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بن کر آئی ہے۔
ہدایت اور رحمت ہیں نیکوں کے لیے،
جو نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے،
نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔
جو نیکو کار لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہیں
ہدایت و رحمت بن کر نازل ہوئی ہیں خوب کاروں کے لئے۔
جسے سراسر ہدایت اور عین رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ان نیکوکاروں کے لئے
جو ہدایت و رحمت ہے نیک کاروں کے حق میں۔
ہدایت اور رحمت محسنین کے حق میں
نیکو کاروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
a guidance and mercy for the doers of good,
a guidance and mercy for those who are good in their deeds
a guidance and mercy for those who are good in their deeds
A guide and a mercy for the Muhsinin.
A guidance and a mercy for the good,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
As guidance and mercy for the doers of good
A guidance and mercy for the righteous
A guidance and a mercy for the doers of goodness,
A guidance and a mercy for the well-doers:
A Guide and a Mercy to the Doers of Good,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 3–6
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 2 یعنی یہ آیات راہ راست کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں اور خدا کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہیں، مگر اس رحمت اور ہدایت سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہی لوگ ہیں جو حسن عمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، جو نیک بننا چاہتے ہیں، جنہیں بھلائی کی جستجو ہے، جن کی صفت یہ ہے کہ برائیوں پر جب انہیں متنبہ کردیا جائے تو ان سے رک جاتے ہیں اور خیر کی راہیں جب ان کے سامنے کھول کر رکھ دی جائیں تو ان پر چلنے لگتے ہیں۔ رہے بدکار اور شرپسند لوگ تو وہ نہ اس رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں گے نہ اس رحمت میں سے حصہ پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر الم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو اس سورة یا قرآن میں مذکور ہیں) آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب (یعنی قرآن) کی جو کہ ہدایت اور رحمت (کا سبب) ہے، نیک کاروں کے لئے جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں (سو) یہ لوگ (اس قرآن کے اعتقاد اور عمل کی بدولت) اپنے رب کے سیدھے راستہ پر ہیں اور یہی لوگ (اس ہدایت کی بدولت) فلاح پانے والے ہیں (پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت اور رحمت کا جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا، پس بعضے آدمی تو ایسے ہیں جیسا بیان کیا گیا) اور (برخلاف ان کے) بعض آدمی ایسا (بھی) ہے جو (قرآن سے اعراض کر کے) ان باتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تلک آیت الکتب الحکیم۔ ھدی ورحمتہ للمحسنین (2۔ 3) تلک کا اشارہ الم کی طرف ہے۔ اس سورة کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورة ایک پُر حکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’ محسن ‘ ہوں گے۔ ’ محسن ‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لئے یہ باعث فضل و رحمت ہوں…
Read the full tafseer →3-1محسنین محسن کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو یہ ہیں احسان کرنے والا والدین کے ساتھ رشتے داروں کے ساتھ، مستحقین اور ضرورت مندوں کے ساتھ، دوسرے معنی ہیں، نیکیاں کرنے والا، یعنی برائیوں سے مجتنب اور نیکوکار، تیسرے معنی ہیں اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ کرنے والا۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ۔ قرآن ویسے تو سارے جہان کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ صرف محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں، اس لئے یہاں اسطرح فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 یہ کتاب خاص نیکی اختیار کرنے والوں کے لئے سرمایہ رحمت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ہی لوگ اس سے منتفع ہوتے ہیں۔ ورنہ نفس نصیحت و فہمائش کے لحاظ سے تو تمام جن وانس کے حق میں ہدایت و رحمت بن کر آئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3 ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ” یعنی قرآن محسنین کے لیے سراسر ہدایت اور سراپا رحمت ہے۔ یاد رہے سورة البقرۃ کی آیت 2 میں اس کے مقابل ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کے الفاظ ہیں کہ یہ ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے۔ یہاں پر ایک تو ہدایت کے ساتھ لفظ ”رَحْمَۃ“ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کتاب سے استفادہ کے حوالے سے ”متقین“ کے بجائے ”محسنین“ کا ذکر ہے۔ محسنین دراصل متقین سے بلند تر درجے پر فائزوہ لوگ ہیں جن کا ایمان ترقی پاتے پاتے ”احسان“ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔۔ ”احسان“ قرآن کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں کی جا چکی ہے : اِذَا مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 قرآن کی اور اس کی آیات کی بعض مقامات پر یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ سب لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے اور اس مقام پر فرمایا کہ یہ محسنین کے لئے ہدایت ہے۔ تو ان آیات میں کچھ تضاد نہیں۔ اور ان کی تطبیق کی سورت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایسے لوگوں کے لئے یعنی تمام بنی نوع انسان اور جن کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، مگر اس کی ہدایت سے مستفید وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو خود بھی ہدایت کے طالب ہوں اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس کتاب کے منکر اور بدکار لوگ اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ ہاں اگر وہ اپنی ضد سے باز آجائیں تو وہ بھی ہدایت پاسکتے ہیں۔ 2 اور قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ آیت میں قرآن مجید کی اہمیت و عظمت کا بیان ایک عجیب لطیف انداز سے ہے محسن ہونے کا اطلاق تو خود انہیں لوگوں پر ہوگا، جو قرآن پر عمل کرکے مرتبہ اخلاق میں بڑھے ہیں اور اب انہیں کے حق میں اشارہ ہورہا ہے کہ قرآن ان کے لیے موجب ہدایت ہے۔ (آیت) ” الحکیم “۔ سے مراد پر حکمت بھی ہوسکتی ہے۔ اور بےعیب بھی اور حاکم بھی۔ الحکیم المحکم۔ اے لاخلل فیہ ولا تناقض وقیل ذوالحکمۃ وقیل الحاکم (قرطبی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مراتب ہدایت کی حد و انتہاء نہیں، محسنین تو خود ہی ہدایت کے مرتبہ اعلی پر ہوتے ہیں، قرآن انہیں اور بڑھا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →ھدی ورحمۃ للمحسنین۔ جو کہ ہدایت و رحمت ہے نیکوکاروں کے لئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 تا 4) الم اس کے معنی سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ہی جاننے والا ہے یا یہ کہ تاکیدا یہ ایک قسم کھائی گئی ہے۔ یہ سورت اس قرآن حکیم کی آیات ہیں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والی اور گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت کا سبب ہے ان با اخلاص موحدین کے لیے جو پانچوں نمازوں کے وضو رکوع و سجود اور تمام واجبات کی رعایت رکھتے ہوئے پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیات (2 تا 5) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →ھدی ورحمۃ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اس کی مثل ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ (اعراف : 73) یہ دونوں مدنیوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی کی قراءت ہے۔ حمزہ نے ھدی ورحمۃ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیـ: (1) مبتدا مضمر ہے کیونکہ یہ پہلی آیت ہے (2) یہ تلک کی خبر ہے۔ محسن وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہو، اگر بندہ اسے نہ دیکھ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ـ: وہ دین میں محسن ہیں۔ دین سے مراد اسلام ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ (النسائ : 125) الذین یقیمون الصلوۃ یہ صفت ہے موصوف سے الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں ہو الحدیث میں مراد ہے جھوٹی بات اور وہ نصر بن حارث بن علقمہ تھا اس نے عجمی لوگوں کے قصے اور ان کے زمانے کے کارناموں والی کتابیں خریدیں وہ حیرہ اور شام کی کتابیں لکھا کرتا تھا اور قرآن کو جھٹلاتا تھا اس نے قرآن سے اعراض کیا اور اس پر ایمان نہ لایا۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس کے شراء سے مراد اس کا پسند کرنا ہے قتادہ نے کہا کسی آدمی کی گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جھوٹی بات کو سچی بات پر اختیار کرے آیت ویتخذہا ہزوا کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →هُدًى وَّرَحْمَةً [ہدایت اور رحمت ہوتے ہوئے ] لِّلْمُحْسِنِيْنَ [بلا کم وکاست نیکی کرنے والوں کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن مجید محسنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ سورة لقمان مکہ معظمہ میں نازل ہوئی، اور ان کا ایک قول یہ ہے کہ پوری سورت میں سے تین آیات (وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ) سے لے کر (اِنَّ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) تک مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ ( الم ) یہ حرف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ (تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ) یہ کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کی آیات ہیں پر حکمت ہیں۔ (ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ) یہ قرآن اچھے کام کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ ہدایت اور رحمت تو سارے انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4:۔ اولئک علی ھدی الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی مذکورہ بالا اوصاف والے لوگ واقعی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں نجات و فلاح کے مستحق بھی یہی لوگ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة لقمان ہے ۔ یہ نام اس سورة کے دوسرے رکوع میں آمد ہ لفظ لقمان سے اخذ کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان (رح) ایک نیک ، صالح اور داناانسان تھے ، پرانی قوموں کے حال میں ان کے احل اور ان کی نصیحت آموز تقریر کا ذکر ملتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ، اور وہ نصیحت اس سورة مبارکہ میں بھی مذکورہ ہے۔ یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسطی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ جب کہ حضور ﷺ کی نبوت کے چھ یا سات سال گزر چکے تھے ۔ بعض مقررین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ سورة الصفت کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی چونتیس 4 3 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ 847 الفاظ اور 0112 حروف پر مشتمل ہے ۔ مضامین…
Read the full tafseer →ہُدًى وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِيْنَ 3 ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : ھدی و رحمۃ حالان عن الآیات والعامل فیھما معنی الاشارۃ و تکریر ضمیر ھم للتوکیدو لما فصل بنیہ خبرہ۔ الذین مبتداء اولئک الخ الجملۃ خبرہ ویتخذھا بالنصب عطفا علی لیضل والرفع عطف علی یشتری والضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الایات کان لم یسمعہا موضوعہ حال والعامل ولی کان بدل منھا۔ تفسیر : چونکہ اخیر سورة روم میں ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل فرمایا تھا، جس میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ تھا اور اس کے بعد قوم کی سرکشی بیان ہوئی تھی۔ ان دونوں باتوں کی تاکید اس سورة کے اوائل میں فرماتا ہے اور سورة کو انہیں مفردات الم کے ساتھ شروع کیا۔ اس رمز کے لیے…
Read the full tafseer →ھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ۔ (لقمان : 3) (سراپا ہدایت اور رحمت ہے محسنین کے لیے۔ ) اس آیت میں قرآن کریم کی دو بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں، ہدایت اور رحمت۔ سب سے پہلی ہدایت کی وضاحت پیش خدمت ہے۔ ھدًی کی وضاحت اور تسہیل قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اپنے ظاہری حسن اور معنوی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے اپنے اندر ایک اعجازی شان رکھتا ہے۔ بظاہر سیدھے سادے الفاظ کھائی دیتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے اندر مفہوم ومعنی کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔ اسی لفظ ہدایت کو دیکھئے لفظ نہایت سادہ اور سہل ہے۔ لیکن معنوی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے ایک سے زیادہ معنی ہیں اور معنی اور مفہوم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول ﷺ ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورة لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی…
Read the full tafseer →3: ھُدًی وَّرَحْمَۃً (جو کہ ہدایت و رحمت ہے ) نحو : یہ دونوں حال ہیں اور ان میں تلک اسم اشارہ کا معنی عامل ہے۔ قراءت : حمزہ نے ان کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کی تقریر یہ ہے کہ تلک مبتدأ اور آیات الکتاب اس کی خبر ہے اور ھدی دوسری خبر ہے۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھو۔ نمبر 3۔ ھی ھدی ورحمۃ لِّلْمُحْسِنِیْنَ جو اگلے ارشاد میں مذکورہ نیکیوں کے حامل ہیں۔ الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکٰوۃ وھم بالآخرہ ھم یوقنون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر۔ (1۔ 2۔ 3) ۔۔۔۔۔ ، الم تلک آیات الکتاب الحکیم ھدی ورحمۃ، حمزہ نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ عبارت یوں ہوگی ، ھو ھدی ورحمۃ، دوسرے قراء نے اس کو منصوب پڑھا ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، للمحسنین، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 تا 5۔ حروف مقطعات کا بیان اور اس سورة کی شروع کی آیتوں کی یہ تفسیر سورة بقرہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہو کر اچھے عمل کرتے ہیں مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہوں یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی زکوٰۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریا کاری نہیں کرتے نہ بدعت کے طور پر اپنی طرف سے شریعت میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة لقمان آیت نمبر : 1 ۔ 5 اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات “ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف ‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں : (1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ (2) یہ آیات تغیر و تبدل ‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔ (3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →2 سراسر ہدایت اور عظیم الشان رحمت : یعنی یہاں پر " ھادی " نہیں " ھدًی " اور " رحمۃً " فرمایا گیا ہے جو کہ مشتق نہیں مصدر ہیں۔ جو تاکید و مبالغہ کے مفہوم پر دلالت کرتے ہیں۔ سو یہ کتاب سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایسے محسن لوگوں کو اپنی ہدایت اور راہنمائی سے نوازتی ہے جس سے ان کو صحیح راہ نصیب ہوتی ہے اور وہ زندگی میں حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر گامزن ہوتے ہیں جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و مشرف کرنے والی عظیم الشان شاہراہ ہے۔ نیز یہ کتاب حکیم ایسے لوگوں کو اس عظیم الشان رحمت سے نوازتی ہے جو ایک طرف تو ان کو اس دنیا میں حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی دولت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن اور اس میں دی گئی ہدایات تشریح : قرآن مجید کو حکمت و ہدایت کی کتاب کہا گیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا شوق رکھتا ہو جو شوق اور توجہ سے پڑھے گا اسکے لیے قرآن مجید میں بیشمار حکمتیں، ہدایات اور بہترین نکات موجود ہیں۔ کوئی بھی کتاب چاہے وہ کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو اگر بےدھیانی سے پڑھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن پڑھنے کے لیے پوری توجہ، ذوق اور شوق بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں وہ اس کی آیات میں تدبر کرتے ہیں ان پر سرور طاری ہوجاتا ہے وہ اس کی بہترین آیات میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور بےاختیار رونے لگتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 13 یعنی یہ کتاب اگرچہ فی نفسہ ہایت و رحمت ہے لیکن اس سے فائدہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں جو نیک ہیں ” نیکوں “ کے لئے اصل میں لفظ ” محسنین “ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ” احسان کرنے والے “ اور نہایت خلوص اور حضور قلب سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو احسان کہا جاتا ہے۔ روایات آثار میں ” احسان “ کی ترغیب آئی ہے۔
Read the full tafseer →(31:3) ھدی۔ (اسم ومصدر بمعنی ہدایت کرنا یا ہدایت) ورحمۃ (اسم ومصدر بمعنی بخشش، مہربانی ، احسان۔ فضل، انعام، رحم کرنا) دونوں منصوب بوجہ حال ہونے کے ایت سے۔ یعنی یہ سراسر ہدایت و رحمت ہے (محسنین کے لئے) محسنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ احسان کرنے والے۔ نیکو کار مرد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ المحسنین (نیکیاں کرنے والے) ۔ یقیمون (وہ قائم کرتے ہیں) ۔ یوتون (وہ دیتے ہیں۔ ادا کرتے ہیں) ۔ یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) ۔ المفلحون (فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 5) ” اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری چند سورتوں کی ابتداء میں جہاں یہ حروف آئے ہیں وہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ یہ اسی کا کلام ہے۔ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی بتا دیئے ہوں لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو نہیں بتائے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(ف 1) شان نزول : یہ آیت نظر بن حارث بن کلاہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں میں سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں، جس میں قصے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا تھا اور کہتا کہ سید کائنات محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کی کہانیاں سناتا ہوں کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآن کی نصیحت کی باتیں سننے سے رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ وہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ دکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
[1] یعنی قرآن کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
لھوالحدیث قرآن حکیم وہ کتاب ہے جس پر انسانیت کی فلاح و بہبود موقوف ہے جو رشدوہدایت ہے جو اللہ کی رحمتوں کی کفیل ہے ۔ تمام مشکلات میں تنہاراہنما ہے ۔ سراپا خیر و برکت ہے ۔ لوگوں کے لئے قیامت تک آخری دستورالعمل ہے ۔ حضور ﷺ جب اس مجموعہ پاک کو سناتے اور چاہتے کہ مکہ کے مشرک اس کی روشنی سے اپنے تاریک سینوں کو منور کریں ۔ اور اپنے اعمال کو سنواریں ۔ تو کچھ بدبخت لوگ ایسی گمراہ کن باتوں میں عوام الناس کو الجھا دیتے کہ وہ ان لغویات کو سن کر قرآن کو نہ سنتے ۔ چناچہ نصرین حارث ان کو عجم کو جھوٹے اور غلط افسانے سناتا ۔ رستم واسفند یار کے قصے تو ان مسیع لگا کر بیان کرتا اور وہ مزے سے ان خرافات کو سنتے ۔…
Read the full tafseer →3۔ یہ آیتیں یا یہ قرآن کریم نیک لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہیں ۔ یعنی مؤمنین و محسنین کیلئے ہدایت اور رحمت کا سبب ہے یعنی اس کتاب سے وہ لوگ صحیح رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوتے ہیں اگرچہ قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کے لئے موجب ہدایت و رحمت ہے لیکن چونکہ اس سے صحیح فائدہ مؤمنین اور محسنین ہی اٹھاتے ہیں اس لئے محسنین کا ذکر فرمایا آگے محسنین کی صفات بیان فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 11۔ پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت و رحمت جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ یہ کتاب نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے خواہ وہ کسی دور میں ہوں : 3۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ فرمایا سراسر ہدایت اور رحمت ہے لیکن اس ہدایت اور رحمت سے جو لوگ استفادہ کرتے ہیں وہی نیکو کار ہوتے ہیں وہی اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ طوطے کی طرح کسی چیز کو رٹ دینا استفادہ نہیں کہلاتا اور یہ بھی کہ نیکوکار اس کو نہیں کہتے ہیں جس میں کوئی ایک بات نیکی کی بھی پائی جاتی ہو بلکہ نیکوکار وہی ہیں جو برائیوں کے قریب بھی نہیں بھٹکتے اور اگر کوئی بھول سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اس کو تسلیم کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے اور نہ ہی اس کی کوئی تاویل تلاش کرتے ہیں بلکہ بالکل سیدھے انداز سے اس کو تسلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
Commentary The words: يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ (pay Zakah) in Verse 4 carry the injunction of Zakah, although the verse is Makki. This tells us that the original injunction of Zakah had already been revealed before Hijrah, right there in Makkah al-Mu` azzamah. As for the popular assumption that the injunction of Zakah was enforced in the second year of Hijrah, it refers to the arrangement of fixing its nisab (threshold), providing details of obligatory amount to be paid, collecting and disbursing it on authorized heads by the Islamic government. This was done in the second year of Hijrah. Ibn…
Read the full tafseer →2 That is, "These verses give guidance to the Right Way and have been sent down as a mercy from God. But the people who can profit by this mercy and guidance are only those who adopt a righteous attitude, who wish to become good, who crave for their own well-being, whose quality is that they avoid the evil when they are warned of it, and follow the good when they are shown the ways to it. As for the wicked and mischievous people, they will neither profit by this guidance nor receive any share from this mercy. "
Read the full tafseer →