تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ ۟ۙتِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِۙ
یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
These are verses of the wise Book,
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ ۟ۙتِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِۙ
یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
These are verses of the wise Book,
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Luqman
یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں
یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں
یہ اس حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
یہ کمال حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں
یہ پر حکمت کتاب کی آیات ہیں۔
یہ آیتیں ہیں اس حکمتوں بھری کتاب کی
یہ آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب کی
یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں
یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیات ہیں۔
These are the verses of the Wise Book,
These are verses of the Wise Book,
These are verses of the Wise Book,
These are Ayat of the Wise Book.
These are revelations of the wise Scripture,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
These are verses of the wise Book,
These are the verses of the Book of wisdom.
These are verses of the Book of Wisdom
These are verses of the Wise Book.
These are Verses of the Wise Book,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–2
سورة بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کردی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت شفا اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لئے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ رحمی سلوک واحسان سخاوت اور داددہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لئے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین و دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة لُقْمٰن 1 یعنی ایسی کتاب کی آیات جو حکمت سے لبریز ہے، جس کی ہر بات حکیمانہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر الم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو اس سورة یا قرآن میں مذکور ہیں) آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب (یعنی قرآن) کی جو کہ ہدایت اور رحمت (کا سبب) ہے، نیک کاروں کے لئے جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں (سو) یہ لوگ (اس قرآن کے اعتقاد اور عمل کی بدولت) اپنے رب کے سیدھے راستہ پر ہیں اور یہی لوگ (اس ہدایت کی بدولت) فلاح پانے والے ہیں (پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت اور رحمت کا جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا، پس بعضے آدمی تو ایسے ہیں جیسا بیان کیا گیا) اور (برخلاف ان کے) بعض آدمی ایسا (بھی) ہے جو (قرآن سے اعراض کر کے) ان باتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تلک آیت الکتب الحکیم۔ ھدی ورحمتہ للمحسنین (2۔ 3) تلک کا اشارہ الم کی طرف ہے۔ اس سورة کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورة ایک پُر حکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’ محسن ‘ ہوں گے۔ ’ محسن ‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لئے یہ باعث فضل و رحمت ہوں…
Read the full tafseer →1-1اس کے آغاز میں بھی یہ حروف مقطعات ہیں جن کے معنی و مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے اس کے دو فوائد بڑے اہم بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قرآن اسی قسم کے حروف مقطعات سے ترتیب و تالیف پایا ہے جس کی مثل تالیف پیش کرنے سے عرب عاجز آگئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے اور جس پیغمبر پر نازل ہوا ہے وہ سچا رسول ہے جو شریعت وہ لے کر آیا ہے، انسان اس کا محتاج ہے اور اس کی اصلاح اور سعادت کی تکمیل اسی شریعت سے ممکن ہے۔ دوسرا یہ کہ مشرکین اپنے ساتھیوں کو اس قرآن کے سننے سے روکتے تھے مبادا وہ اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 یہ کتاب خاص نیکی اختیار کرنے والوں کے لئے سرمایہ رحمت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ہی لوگ اس سے منتفع ہوتے ہیں۔ ورنہ نفس نصیحت و فہمائش کے لحاظ سے تو تمام جن وانس کے حق میں ہدایت و رحمت بن کر آئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 2 تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ” سورۃ البقرۃ سے تقابل کریں تو وہاں آیت 2 میں ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ کے الفاظ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 قرآن کی اور اس کی آیات کی بعض مقامات پر یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ سب لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے اور اس مقام پر فرمایا کہ یہ محسنین کے لئے ہدایت ہے۔ تو ان آیات میں کچھ تضاد نہیں۔ اور ان کی تطبیق کی سورت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایسے لوگوں کے لئے یعنی تمام بنی نوع انسان اور جن کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، مگر اس کی ہدایت سے مستفید وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو خود بھی ہدایت کے طالب ہوں اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس کتاب کے منکر اور بدکار لوگ اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ ہاں اگر وہ اپنی ضد سے باز آجائیں تو وہ بھی ہدایت پاسکتے ہیں۔ 2 اور قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ آیت میں قرآن مجید کی اہمیت و عظمت کا بیان ایک عجیب لطیف انداز سے ہے محسن ہونے کا اطلاق تو خود انہیں لوگوں پر ہوگا، جو قرآن پر عمل کرکے مرتبہ اخلاق میں بڑھے ہیں اور اب انہیں کے حق میں اشارہ ہورہا ہے کہ قرآن ان کے لیے موجب ہدایت ہے۔ (آیت) ” الحکیم “۔ سے مراد پر حکمت بھی ہوسکتی ہے۔ اور بےعیب بھی اور حاکم بھی۔ الحکیم المحکم۔ اے لاخلل فیہ ولا تناقض وقیل ذوالحکمۃ وقیل الحاکم (قرطبی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مراتب ہدایت کی حد و انتہاء نہیں، محسنین تو خود ہی ہدایت کے مرتبہ اعلی پر ہوتے ہیں، قرآن انہیں اور بڑھا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر…
Read the full tafseer →تلک ایت الکتب الحکیم . یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ حَکِیْمِ حکمت والی ‘ یا حقیقت میں حکیم اللہ ہے اور کتاب کی طرف اس کی نسبت مجازاً کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 تا 4) الم اس کے معنی سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ہی جاننے والا ہے یا یہ کہ تاکیدا یہ ایک قسم کھائی گئی ہے۔ یہ سورت اس قرآن حکیم کی آیات ہیں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والی اور گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت کا سبب ہے ان با اخلاص موحدین کے لیے جو پانچوں نمازوں کے وضو رکوع و سجود اور تمام واجبات کی رعایت رکھتے ہوئے پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الۗمّۗ ۚتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت الم تلک ایت الکتب الحکیم سورتوں کے آغاز میں کلام گزر چکی ہے۔ تلک یہ محل رفع ہے کیونکہ مبتدا مضر ہے تقدیر کلام یہ ہے ھذہ تلک۔ یہ بھی پڑھا جاتا ہے آیت تلک ایت الکتاب الحکیم یہ تلک کا بدل ہے۔ کتاب سے مراد قران اور حکیم سے مراد محکم ہے، یعنی اس میں کوئی خلل اور کوئی تناقض نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حکمت والا ہے۔ اور ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حاکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں ہو الحدیث میں مراد ہے جھوٹی بات اور وہ نصر بن حارث بن علقمہ تھا اس نے عجمی لوگوں کے قصے اور ان کے زمانے کے کارناموں والی کتابیں خریدیں وہ حیرہ اور شام کی کتابیں لکھا کرتا تھا اور قرآن کو جھٹلاتا تھا اس نے قرآن سے اعراض کیا اور اس پر ایمان نہ لایا۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس کے شراء سے مراد اس کا پسند کرنا ہے قتادہ نے کہا کسی آدمی کی گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جھوٹی بات کو سچی بات پر اختیار کرے آیت ویتخذہا ہزوا کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →تِلْكَ [یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ [حکمت والی کتاب کی آیات ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن مجید محسنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ سورة لقمان مکہ معظمہ میں نازل ہوئی، اور ان کا ایک قول یہ ہے کہ پوری سورت میں سے تین آیات (وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ) سے لے کر (اِنَّ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) تک مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ ( الم ) یہ حرف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ (تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ) یہ کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کی آیات ہیں پر حکمت ہیں۔ (ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ) یہ قرآن اچھے کام کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ ہدایت اور رحمت تو سارے انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ تلک ایت الخ۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب حکیم سے محسنین کیا اثر قبول کرتے ہیں اور ان کی جزاء کیا ہوگی نیز معاندین پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے اور ان کی سزا کیا ہوگی۔ الحکیم ای ذی الحکمۃ (روح ج 21 ص 65) ۔ یعنی یہ قرآن حکمت و دانائی سے لبریز مضامین پر مشتمل ہے۔ الکتاب کی صفت الحکیم سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سورت میں زیادہ تر دلائل عقلیہ مذکور ہوں گے۔ چناچہ اس سورت میں آٹھ دلائل عقلیہ اور صرف ایک دلیل نقلی مذکور ہے۔ 3:۔ ھدی الخ، المحسنین نیک روی اختیار کرنے والے اور اخلاص کے ساتھ اعمال حسنہ بجا لانے والے۔ المحسنین الذین یعملون الحسنات (بحر ج 7 ص 183) یعنی جو بیان آگے آرہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة لقمان ہے ۔ یہ نام اس سورة کے دوسرے رکوع میں آمد ہ لفظ لقمان سے اخذ کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان (رح) ایک نیک ، صالح اور داناانسان تھے ، پرانی قوموں کے حال میں ان کے احل اور ان کی نصیحت آموز تقریر کا ذکر ملتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ، اور وہ نصیحت اس سورة مبارکہ میں بھی مذکورہ ہے۔ یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسطی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ جب کہ حضور ﷺ کی نبوت کے چھ یا سات سال گزر چکے تھے ۔ بعض مقررین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ سورة الصفت کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی چونتیس 4 3 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ 847 الفاظ اور 0112 حروف پر مشتمل ہے ۔ مضامین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رکوع نمبر 10 سورة لقمان بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الۗمّۗ 1ۚتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ 2ۙ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : ھدی و رحمۃ حالان عن الآیات والعامل فیھما معنی الاشارۃ و تکریر ضمیر ھم للتوکیدو لما فصل بنیہ خبرہ۔ الذین مبتداء اولئک الخ الجملۃ خبرہ ویتخذھا بالنصب عطفا علی لیضل والرفع عطف علی یشتری والضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الایات کان لم یسمعہا موضوعہ حال والعامل ولی کان بدل منھا۔ تفسیر : چونکہ اخیر سورة روم میں ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل فرمایا تھا، جس میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ تھا اور اس کے بعد قوم کی سرکشی بیان ہوئی تھی۔ ان دونوں باتوں کی تاکید اس سورة کے اوائل میں فرماتا ہے اور سورة کو انہیں مفردات الم کے ساتھ شروع کیا۔ اس رمز کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الٓـمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۔ (لقمان : 1، 2) (ال م۔ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ) پہلی آیت حروفِ مقطعات پر مشتمل ہے اور حروفِ مقطعات کی تفسیر سورة البقرۃ کے آغاز میں ہوچکی ہے۔ دوسری آیت میں قرآن کریم کو کتاب حکیم کہا گیا ہے اور مزید یہ فرمایا ہے کہ یہ سورة کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ کتاب حکیم میں حکیم کا لفظ کتاب کی صفت واقع ہوا ہے۔ صاحب لسان العرب نے لکھا ہے کہ جب یہ لفظ قرآن کریم کی صفت ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے الحاکم لکم وعلیکم یعنی قرآن کریم ایک ایسی قوت حاکمہ ہے جس کا فیصلہ دوٹوک اور بےلاگ ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ حق کی حمایت میں بولتی اور باطل کا بطلان واضح کرتی ہے۔ اس میں کسی غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول ﷺ ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورة لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1، 2: اَلٓمَّ ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۔ (الم یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں) ۔ الحکیمؔ کا معنی حکمت والی نمبر 2۔ الحکیمؔ صفت باری تعالیٰ ہے اور اس کو یہاں بطور اسناد مجازی کتاب کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر۔ (1۔ 2۔ 3) ۔۔۔۔۔ ، الم تلک آیات الکتاب الحکیم ھدی ورحمۃ، حمزہ نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ عبارت یوں ہوگی ، ھو ھدی ورحمۃ، دوسرے قراء نے اس کو منصوب پڑھا ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، للمحسنین، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 تا 5۔ حروف مقطعات کا بیان اور اس سورة کی شروع کی آیتوں کی یہ تفسیر سورة بقرہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہو کر اچھے عمل کرتے ہیں مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہوں یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی زکوٰۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریا کاری نہیں کرتے نہ بدعت کے طور پر اپنی طرف سے شریعت میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة لقمان آیت نمبر : 1 ۔ 5 اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات “ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف ‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں : (1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ (2) یہ آیات تغیر و تبدل ‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔ (3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن کا تعارف قرآن کی زبان سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں حکمتوں بھری اس کتاب کی "۔ اور ایسی حکمت بھری کتاب کی کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور جس کی مقدس تعلیمات انسان کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کی کفیل وضامن اور راہبر و راہنما ہیں۔ اور جن کو اپنانے سے انسان کے دل و دماغ ایمان و حکمت کے نور سے منور ہوجاتے ہیں۔ اور وہ نور حکمت و معرفت سے سرشار اور مالا مال ہوجاتا ہے۔ لیکن حکمت کے جواہر پاروں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا بلکہ انکے قدردان محسن لوگ ہی ہوتے ہیں جن کی نیتیں بھی درست ہوتی ہیں اور ارادے بھی صحیح اور وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن اور اس میں دی گئی ہدایات تشریح : قرآن مجید کو حکمت و ہدایت کی کتاب کہا گیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا شوق رکھتا ہو جو شوق اور توجہ سے پڑھے گا اسکے لیے قرآن مجید میں بیشمار حکمتیں، ہدایات اور بہترین نکات موجود ہیں۔ کوئی بھی کتاب چاہے وہ کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو اگر بےدھیانی سے پڑھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن پڑھنے کے لیے پوری توجہ، ذوق اور شوق بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں وہ اس کی آیات میں تدبر کرتے ہیں ان پر سرور طاری ہوجاتا ہے وہ اس کی بہترین آیات میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور بےاختیار رونے لگتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 13 یعنی یہ کتاب اگرچہ فی نفسہ ہایت و رحمت ہے لیکن اس سے فائدہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں جو نیک ہیں ” نیکوں “ کے لئے اصل میں لفظ ” محسنین “ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ” احسان کرنے والے “ اور نہایت خلوص اور حضور قلب سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو احسان کہا جاتا ہے۔ روایات آثار میں ” احسان “ کی ترغیب آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(31:2) تلک۔ اسم اشارہ ہے ۔ مفرد ۔ مؤنث کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اصل میں اشارہتی ہے ل اس پر زیادہ کیا گیا ہے ک حرف خطاب ہے جس کء حسب احوال مخاطب تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیہ میں گردان ہوتی رہتی ہے۔ ایت مشار الیہ ہے اور تلک ایت سے مراد وہ آیات :۔ (1) جو اس سورة میں آگے آرہی ہیں۔ (2) جملہ آیات قرآن مجید۔ ایت الکتب الحکم : ایت مضاف۔ الکتب موصوف الحکیم صفت صفت موصوف مل کر مضاف الیہ ۔ پر حکمت کتاب کی آیتیں۔ الحکیم : ای ذی الحکمۃ۔ حکمت و دانش سے پر اس کا ایک معنی محکم بھی ہیں یعنی اس میں کسی قسم کا خلل یا تناقض نہیں ہے۔ ای لاخلل فیہ ولا تناقض۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ المحسنین (نیکیاں کرنے والے) ۔ یقیمون (وہ قائم کرتے ہیں) ۔ یوتون (وہ دیتے ہیں۔ ادا کرتے ہیں) ۔ یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) ۔ المفلحون (فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 5) ” اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری چند سورتوں کی ابتداء میں جہاں یہ حروف آئے ہیں وہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ یہ اسی کا کلام ہے۔ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی بتا دیئے ہوں لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو نہیں بتائے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہوکر اچھے عمل کرتے ہیں ۔ مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہو یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے زکوۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزاوسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریاکاری نہیں کرتے، خالص عقبی کے اجر کی نیت سے جو لوگ کرتے ہیں انہیں کو فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں راہ راست پر ہیں جس کے سبب سے آخرت میں ان ہی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
[1] یعنی قرآن کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة لقمان اس سورة کو قرآن کے تعارف سے شروع کیا ہے کہ یہ آیتیں کتاب حکیم سے تعلق رکھتی ہیں ان میں دانائی اور رشدوہدایت ہے ۔ ان میں دلائل کا استحکام ہے ان میں اللہ کے اوامر ہیں ۔ اور یہ ان لوگوں کو ہدایت کے اعلیٰ ترین مراتب تک پہنچاتی ہے جو مقام احسان پر فائز ہیں ۔ جو نماز کو پوری شرائط اور مضولیت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ! اور دنیائے داروی کی دلچسپیوں پر نہ رکھتے ہیں ۔
Read the full tafseer →2۔ یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو محکم اور حکمت سے لبریز ہے یعنی اپنے احکام میں محکم اور پکی کتاب ہے یا یہ کہ با حکمت اور پر حکمت ہے اور حکمت کی باتوں سے لبریز ہے۔ تیسیر میں دونوں قولوں کو جمع کردیا یہ کہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سورت میں جو مذکور ہے یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 10۔ یعنی قرآن کی۔
Read the full tafseer →یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں جو بیان کی جا رہی ہیں : 2۔ (الحکیم) اس جگہ ال کتاب کی صفت کے طور پر آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا فیصلہ دو ٹوک اور بےلاگ ہوتا ہے اگر تم سچائی پر ہو تو بلاشبہ اس کا فیصلہ تمہارے حق میں ہے خواہ تم کون ہو اور کہاں اور اگر تم راہ حق سے روگرداں ہو تو وہ یقینا تمہاری غلطی سے تم کو آگاہ کرے گا خواہ تم کون ہو اور کہاں ہو کیونکہ وہ ہمیشہ سچائی کا ساتھی ہے اور ہر حال میں اس کی حیثیت یہی ہے ایسا ممکن نہیں کہ ایک آدمی کے پاس دس سچائیاں ہیں لیکن ایک بات ایسی ہے جو سچی نہیں اور دوسرے کے پاس ایک سچائی ہے اور دس باتیں اس کی سچی نہیں ہیں تو قرآن کریم یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
Commentary The words: يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ (pay Zakah) in Verse 4 carry the injunction of Zakah, although the verse is Makki. This tells us that the original injunction of Zakah had already been revealed before Hijrah, right there in Makkah al-Mu` azzamah. As for the popular assumption that the injunction of Zakah was enforced in the second year of Hijrah, it refers to the arrangement of fixing its nisab (threshold), providing details of obligatory amount to be paid, collecting and disbursing it on authorized heads by the Islamic government. This was done in the second year of Hijrah. Ibn…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 That is, "verses of the Book which is full of wisdom and whose every teaching is based on wisdom."
Read the full tafseer →