31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 31:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی ہدایت ہے

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

اور مہربانی نیکی کرنے والوں کے لئے1

1 یہ کتاب خاص نیکی اختیار کرنے والوں کے لئے سرمایہ رحمت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ہی لوگ اس سے منتفع ہوتے ہیں۔ ورنہ نفس نصیحت و فہمائش کے لحاظ سے تو تمام جن وانس کے حق میں ہدایت و رحمت بن کر آئی ہے۔
Ayahs 31:4–5

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ ہیں جو آخرت پر ان کو یقین ہے

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

انہوں نے پائی ہے راہ اپنے رب کی طرف سے اور وہی مراد کو پہنچے2

2 " سورة بقرہ " کے شروع میں اسی طرح کی آیات گزر چکی ہیں وہاں کے فوائد دیکھ لئے جائیں۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور ایک وہ لوگ ہیں کہ خریدار ہیں کھیل کی باتوں کے تاکہ بچلائیں اللہ کی راہ سے بن سمجھے اور ٹھہرائیں اسی کو ہنسی وہ جو ہیں ان کو ذلت کا عذاب ہے3

3 سعدائے مفلحین کے مقابلہ میں یہ ان اشقیاء کا ذکر ہے جو اپنی جہالت اور ناعاقبت اندیشی سے قرآن کریم کو چھوڑ کر ناچ رنگ کھیل تماشے، یا دوسری واہیات و خرافات میں مستغرق ہیں چاہتے ہیں، کہ دوسروں کو بھی ان ہی مشاغل و تفریحات میں لگا کر اللہ کے دین اور اس کی یاد سے برگشتہ کردیں اور دین کی باتوں پر خوب ہنسی مذاق اڑائیں۔ حضرت حسن " لھو الحدیث " کے متعلق فرماتے ہیں۔ کل ماشغلک عن عبادۃ اللہ و ذکرہ من السمر و الا ضاحیک والخرافات والغناء و نحوھا (روح المعانی) (یعنی " لہو الحدیث " ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں واہیات مشغلے اور گانا بجانا وغیرہ) روایات میں ہے کہ نضر بن حارث جو رؤسائے کفار میں تھا بغرض تجارت فارس جاتا تو وہاں سے شاہان عجم کے قصص و تواریخ خرید کرلاتا اور قریش سے کہتا کہ محمد ﷺ تم کو عاد وثمود کے قصے سناتے ہیں آؤ میں تم کو رستم و اسفند یار اور شاہان ایران کے قصے سناؤں۔ بعض لوگ ان کو دلچسپ سمجھ کر ادھر متوجہ ہوجاتے۔ نیز اس نے ایک گانے والی لونڈی خرید کی تھی، جس کو دیکھتا کہ دل نرم ہوا اور اسلام کی طرف جھکا، اس کے پاس لے جاتا اور کہہ دیتا کہ اسے کھلا پلا اور گانا سنا، پھر اس شخص کو کہتا کہ دیکھ یہ اس سے بہتر ہے جدھر محمد ﷺ بلاتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، اور جان مارو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تنبیہ) شان نزول گو خاص ہو مگر عموم الفاظ کی وجہ سے حکم عام رہے گا۔ جو لھو (شغل) دین اسلام سے پھرجانے یا پھیر دینے کا موجب ہو حرام بلکہ کفر ہے۔ اور جو احکام شرعیہ ضروریہ سے باز رکھے یا سبب معصیت بنے وہ معصیت ہے۔ ہاں جو لہو کسی امر واجب کا مفوت (فوت کرنے والا) نہ ہو اور کوئی شرعی غرض و مصلحت بھی اس میں نہ ہو وہ مباح، لیکن لایعنی ہونے کی وجہ سے خلاف اولے ٰ ہے۔ گھڑ دوڑ، یا تیر اندازی اور نشانہ بازی یا زوجین کی ملاعبت (جو حد شریعت میں ہو) چونکہ معتدبہ اغراض و مصالح شرعیہ پر مشتمل ہیں اس لئے لھو باطل سے مستشنٰی قرار دی گئی ہیں۔ رہا غنا و سماع کا مسئلہ اس کی تفصیل کتب فقہ وغیرہ میں دیکھنی چاہئے۔ مزامیر و ملاہی کی حرمت پر تو صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے۔ البتہ نفس غنا کو ایک درجہ تک مباح لکھتے ہیں اس کی قیود شروط بھی کتابوں میں دیکھ لی جائیں۔ صاحب روح المعانی نے آیت ہذا کے تحت میں مسئلہ غنا و سماع کی تحقیق نہایت شرح و بسط سے کی ہے۔ فلیراجع۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب سنائے اس کو ہماری آیتیں پیٹھ دے جائے غرور سے گویا انکو سنا ہی نہیں گویا اس کے دونوں کان بہرے ہیں سو خوشخبری دے اس کو دردناک عذاب کی4

4 یعنی غرور تکبر سے ہماری آیتیں سننا نہیں چاہتا بالکل بہرا بن جاتا ہے۔
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کے واسطے ہیں نعمت کے باغ

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ رہا کریں ان میں وعدہ ہوچکا اللہ کا سچا اور زبردست ہے حکمتوں والاف 5

5 یعنی کوئی قوت اس کو ایفائے وعدہ سے روک نہیں سکتی نہ کسی سے بےموقع وعدہ کرتا ہے۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

بنائے آسمان بغیر ستونوں کے تم اس کو دیکھتے ہو1 اور رکھ دئیے زمین پر پہاڑ کہ تم کو لیکر جھک نہ پڑے2 اور بکھیر دئیے اس میں سب طرح کے جانور اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر اگائے زمین میں ہر قسم کے جوڑے خاصے3

1 اس لفظ کی تفسیر سورة " رعد " کے شروع میں گزر چکی۔ 2 یعنی سمندر کی موجوں اور سخت ہوا کے جھٹکوں سے یا دوسرے اسباب طبیعہ سے مرتعش ہو کر جھک نہ پڑے۔ اس کا انتظام بڑے بڑے پہاڑ قائم کر کے کردیا گیا۔ سورة " نحل " کے اوائل میں یہ مضمون گزر چکا ہے، باقی پہاڑوں کے پیدا کرنے کی حکمت کچھ اسی میں منحصر نہیں۔ دوسرے فوائد اور حکمتیں ہوں گی جو اللہ کو معلوم ہیں۔ 3 یعنی ہر قسم کے پر رونق، خوش منظر اور نفیس و کار آمد درخت زمین سے اگائے۔ سورة شعراء کے شروع میں اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ سب کچھ بنایا ہوا ہے اللہ کا اب دکھلاؤ مجھ کو کیا بنایا ہے اوروں نے جو اس کے سوا ہیں4 کچھ نہیں پر بےانصاف صریح بھٹک رہے ہیں5

4 جب نہیں دکھلا سکتے تو کس منہ سے ان کو خدائی کا شریک اور معبودیت کا مستحق ٹھہراتے ہو۔ معبود تو وہ ہی ہوسکتا ہے جس کے ہاتھ میں پیدا کرنا اور رزق پہنچانا سب کچھ ہو۔ یہاں ایک ذرہ کے پیدا کرنے کا اختیار نہیں۔ 5 یعنی ان ظالموں کو سوچنے سمجھنے سے کچھ سروکار نہیں۔ اندھیرے میں پڑے بھٹک رہے ہیں۔ آگے شرک و عصیان کی تقبیح کے لئے حضرت لقمان کی نصیحتیں نقل فرماتے ہیں۔ جو انہوں نے اللہ سے دانائی پا کر اپنے بیٹے کو کی تھیں۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے دی لقمان کو عقلمندی6 کہ حق مان اللہ کا اور جو کوئی حق مانے اللہ کا تو مانے گا اپنے بھلے کو اور جو کوئی منکر ہوگا تو اللہ بےپروا ہے سب تعریفوں والاف 7

6 اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ حضرت لقمان پیغمبر نہیں تھے۔ ہاں ایک پاکباز متقی انسان تھے جن کو حق تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی عقل و فہم اور متانت و دانائی عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں، جو پیغمبروں کے احکام و ہدایات کے موافق تھیں۔ ان کی عاقلانہ نصیحتیں اور حکمت کی باتیں لوگوں میں مشہور چلی آتی ہیں۔ رب العزت نے ایک حصہ قرآن میں نقل فرما کر ان کا مرتبہ اور زیادہ بڑھا دیا، شاید مقصود یہ جتلانا ہو کہ شرک وغیرہ کا قبیح ہونا جس طرح فطرت انسانی کی شہادت اور انبیاء کی وحی سے ثابت ہے، دنیا کے منتخب عقلمند بھی اپنی عقل سے اسکی تائید و تصدیق کرتے رہے ہیں۔ پس توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرنا ضلال مبین نہیں تو اور کیا ہے ؟ (تنبیہ) حضرت لقمان کہاں کے رہنے والے تھے ؟ اور کس زمانہ میں پیدا ہوئے ؟ اس کی پوری تعین نہیں ہوسکتی، اکثر کا قول ہے کہ حبشی تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عہد میں ہوئے۔ ان کے بہت سے قصے اوراقوال تفاسیر میں نقل کئے ہیں۔ فاللہ اعلم بصحتہا۔ 7 یعنی اس احسان عظیم اور دوسرے احسانات پر منعم حقیقی کا شکر ادا کرنا اور حق ماننا ضروری ہے، لیکن واضح رہے کہ اس حق شناسی اور شکر گزاری سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا جو کچھ فائدہ ہے خود شاکر کا ہے کہ دنیا میں مزید انعام اور آخرت میں اجرو ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اگر ناشکری کی تو اپنا نقصان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے شکریہ کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔ اس کی حمد وثناء تو ساری مخلوق زبان حال سے کر رہی ہے اور بفرض محال کوئی تعریف کرنے والا نہ ہو تب بھی جامع الصفات اور منبع الکمالات ہونے کی بنا پر وہ بذات خود محمود ہے کسی کے حمدو شکر کرنے یا نہ کرنے سے اس کے کمالات میں ذرہ بھر کمی بیشی نہیں ہوتی۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب اس کو سمجھانے لگا اے بیٹے شریک نہ ٹھہرائیو اللہ کا8 بیشک شریک بنانا بھاری بےانصافی ہے9

8 معلوم نہیں بیٹا مشرک تھا ؟ سمجھا کر راہ راست پر لانا چاہتے تھے یا موحد تھا ؟ اسے توحید پر خوب مضبوط کرنے اور جمائے رکھنے کی غرض سے یہ وصیت فرمائی ؟ 9 اس سے بڑھ کر بےانصافی کیا ہوگی کہ عاجز مخلوق کو خالق مختار کا درجہ دے دیا جائے اور اس سے زیادہ حماقت اور ظلم اپنی جان پر کیا ہوگا، کہ اشرف المخلوقات ہو کر خسیس ترین اشیاء کے آگے سر عبودیت خم کردے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید کردی انسان کو اس کے ماں باپ کے واسطے پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تھک تھک کر اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو برس میں کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے10

10 یعنی ماں کا حق باپ سے بھی زیادہ ہے۔ وہ مہینوں تک اس کا بوجھ پیٹ میں اٹھائے پھری، پھر وضع حمل کے بعد دو برس تک دودھ پلایا۔ اس دوران میں نہ معلوم کیسی کیسی تکلیفیں اور سختیاں جھیل کر بچہ کی تربیت کی۔ اپنے آرام کو اس کے آرام پر قربان کیا۔ لہذا ضروری ہے کہ آدمی اولاً خدا تعالیٰ کا اور ثانیاً اپنے ماں باپ کا، خصوصاً ماں کا حق پہچانے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور ماں باپ کی خدمت و اطاعت میں بقدر استطاعت مشغول رہے جہاں تک اللہ کی نافرمانی نہ ہو کیونکہ اس کا حق سب سے مقدم ہے اور اسی کے سامنے سب کو حاضر ہونا ہے۔ انسان دل میں سوچ لے کہ کیا منہ لے کر وہاں جائے گا۔ (تنبیہ) دودھ چھڑانے کی مدت جو یہاں دو سال بیان ہوئی با اعتبار غالب اور اکثر عادت کے ہے۔ امام ابوحنیفہ جو اکثر مدت ڈھائی سال بتاتے ہیں ان کے پاس کوئی اور دلیل ہوگی۔ جمہور کے نزدیک دو ہی سال ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھ سے اڑیں اس بات پر کہ شریک مان میرا اس چیز کو جو تجھ کو معلوم نہیں تو ان کا کہنا مت مان11 اور ساتھ دے ان کا دنیا میں دستور کے موافق12 اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف13 پھر میری طرف ہے تم کو پھر آنا میں جتلادوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے1

11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیوں مانے۔ " 12 یعنی دین کے خلاف ماں باپ کا کہنا نہ مان۔ ہاں دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ نیکی اور سلوک کرتا رہ اسی مضمون کی آیت سورة عنکبوت میں گزر چکی وہاں کا فائدہ دیکھ لیا جائے۔ 13 یعنی پیغمبروں اور مخلص بندوں کی راہ پر چل ! دین کے خلاف ماں باپ کی تقلید یا اطاعت مت کر۔ 1 یعنی خدا کے ہاں پہنچ کر اولاد اور والدین سب کو پتہ لگ جائے گا کہ کس کی زیادتی یا تقصیر تھی۔ (تنبیہ) ووصینا الانسان سے یہاں تک حق تعالیٰ کا کلام ہے۔ پہلے لقمان کی وصیت بیٹے کو تھی۔ اور آگے بھی " یا بنی انھا ان تک۔ " الخ سے اسی وصیت کا سلسلہ ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک ضروری تنبیہ فرما دی۔ یعنی شرک اتنی سخت قییح چیز ہے کہ ماں باپ کے مجبور کرنے پر بھی اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " لقمان نے بیٹے کو باپ کا حق نہ بتلایا تھا کہ اپنی غرض معلوم ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کی نصیحت سے پیچھے اور دوسری نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق فرما دیا کہ بعد اللہ کے حق کے ماں باپ کا۔ باقی پیغمبر یا مرشد و ہادی کا حق بھی حق اللہ کے ذیل میں سمجھو کہ وہ اسی کے نائب ہوتے ہیں۔ " (موضح بتغیر یسیر)
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے بیٹے اگر کوئی چیز ہو برابر رائی کے دانہ کی پھر وہ ہو کسی پتھر میں یا آسمانوں میں یا زمین میں لا حاضر کرے اس کو اللہ بیشک اللہ جانتا ہے چھپی ہوئی چیزوں کو خبردار ہے2

2 یعنی کوئی چیز یا کوئی خصلت اچھی یا بری اگر رائی کے دانہ کے برابر چھوٹی ہو اور فرض کرو پتھر کی کسی سخت چٹان کے اندر یا آسمانوں کی بلندی پر یا زمین کی تاریک گہرائیوں میں رکھی ہو، وہ بھی اللہ سے مخفی نہیں ہوسکتی۔ جب وقت آئے گا وہیں سے لا حاضر کرے گا۔ اس لئے آدمی کو چاہیے کہ عمل کرتے وقت یہ بات پیش نظر رکھے کہ ہزار پردوں میں بھی جو کام کیا جائے اس کا اثر ضرور ظاہر ہو کر رہتا ہے جسے اہل نظر بےتکلف محسوس کرلیتے ہیں۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے بیٹے قائم رکھ نماز اور سکھلا بھلی بات اور منع کر برائی سے3 اور تحمل کر جو تجھ پر پڑے بیشک یہ ہیں ہمت کے کام4

3 یعنی خود اللہ کی توحید اور بندگی پر قائم ہو کر دوسروں کو بھی نصیحت کر کہ بھلی بات سیکھیں اور برائی سے رکیں۔ 4 یعنی دنیا میں جو سختیاں پیش آئیں جن کا پیش آنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں اغلب ہے ان کو تحمل اور اولوالعزمی سے برداشت کر۔ شدائد سے گھبرا کر ہمت ہار دینا حوصلہ مند بہادروں کا کام نہیں۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور اپنے گال مت پھلا لوگوں کی طرف5 مت چل زمین پر اتراتا بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اتراتا بڑائیاں کرنے والاف 6

5 یعنی غرور سے مت دیکھ اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر متکبروں کی طرح بات نہ کر بلکہ خندہ پیشانی سے مل۔ 6 یعنی اترانے اور شیخیاں مارنے سے آدمی کی عزت نہیں بڑھتی بلکہ ذلیل و حقیر ہوتا ہے۔ سامنے نہیں تو پیچھے لوگ برا کہتے ہیں۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور چل بیچ کی چال اور نیچی کر آواز اپنی بیشک بری سے بری آواز گدھے کی آواز ہے7

7 یعنی تواضع، متانت اور میانہ روی کی چال اختیار کر، بےضرورت مت بول، کلام کرتے وقت حد سے زیادہ نہ چلا، اگر اونچی آواز سے بولنا ہی کوئی کمال ہوتا تو گدھے کی آواز پر خیال کرو، وہ بہت زور سے آواز نکالتا ہے مگر کس قدر کریہہ و کرخت ہوتی ہے۔ بہت زور سے بولنے میں بسا اوقات آدمی کی آواز بھی ایسی ہی بےڈھنگی اور بےسری ہوجاتی ہے۔ (ربط) لقمان کا کلام یہاں تک تمام ہوا۔ آگے پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے یعنی حق تعالیٰ کی عظمت و جلال اور احسان و انعام یاد دلا کر توحید وغیرہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کام میں لگائے تمہارے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں8 اور پوری کردیں تم پر اپنی نعمتیں کھلی اور چھپی9 اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں نہ سمجھ رکھیں نہ سوجھ اور نہ روشن کتاب10

8 یعنی آسمان و زمین کی کل مخلوق تمہارے کام میں لگا دی ہے، پھر تم اس کے کام میں کیوں نہیں لگتے۔ 9 کھلی نعمتیں وہ جو حواس سے مدرک ہوں یا بےتکلف سمجھ میں آجائیں چھپی وہ عقلی غور فکر سے دریافت کی جائیں۔ یا ظاہری مادی و معاشی اور باطنی سے روحانی و معادی نعمتیں مراد ہوں۔ گویا پیغمبر بھیجنا کتاب اتارنا، نیکی کی تو فیق دینا، سب باطنی نعمتیں ہوں گی۔ واللہ اعلم۔ 10 یعنی ایسے کھلے ہوئے انعام و احسان کے باوجود بعض لوگ آنکھیں بند کر کے اللہ کی وحدانیت میں یا اس کی شؤون وصفات میں یا اس کے احکام و شرائع میں جھگڑتے ہیں اور محض بےسند جھگڑتے ہیں۔ نہ کوئی علمی اور عقلی اصول ان کے پاس ہے نہ کسی ہادی برحق کی ہدایت، نہ کسی مستند اور روشن کتاب کا حوالہ محض باپ دادوں کی اندھی تقلید ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں آتا ہے۔ (تنبیہ) ترجمہ سے یوں مترشح ہوتا ہے کہ غالباً مترجم محقق قدس اللہ روحہ، نے " علم " سے عقلی طور پر سمجھنا مراد لیا ہے۔ اور " ہدیٰ " سے ایک طرف بصیرت مراد لی ہے جو سلامتی ذوق و وجدان اور ممارست عقل و فکر سے ناشی ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کو نہ معمولی سمجھ ہے نہ وجدانی بصیرت حاصل ہے نہ روشن کتاب یعنی نقلی دلیل رکھتے ہیں۔ یہ معنی بہت لطیف ہیں۔ ہم نے آیت کی جو تقریر اختیار کی محض تسہیل کی غرض سے کی ہے۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان کو کہیے چلو اس حکم پر جو اتارا اللہ نے کہیں نہیں ہم تو چلیں گے اس پر جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اور جو شیطان بلاتا ہو ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف تو بھی1

1 یعنی اگر شیطان تمہارے باپ دادوں کو دوزخ کی طرف لئے جا رہا ہو، تب بھی تم ان کے پیچھے چلو گے ؟ اور جہاں وہ گریں گے وہیں گرو گے ؟
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو کوئی تابع کرے اپنا منہ اللہ کی طرف اور وہ ہو نیکی پر سو اس نے پکڑ لیا مضبوط کڑا2 اور اللہ کی طرف ہے آخر ہر کام کا3

2 یعنی جس نے اخلاص کے ساتھ نیکی کا راستہ اختیار کیا اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا، سمجھ لو کہ اس نے بڑا مضبوط حلقہ ہاتھ میں تھام لیا ہے جب تک یہ کڑا پکڑے رہے گا، گرنے یا چوٹ کھانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ 3 یعنی جس نے یہ کڑا مضبوط تھامے رکھا وہ آخر اس کے سہارے سے اللہ تک پہنچ جائے گا اور خدا اس کا انجام درست کر دے گا
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کوئی منکر ہوا تو تو غم نہ کھا اس کے انکار سے ہماری طرف پھر آنا ہے ان کو پھر ہم جتلادیں گے ان کو جو انہوں نے کیا ہے البتہ اللہ جانتا ہے جو بات ہے دلوں میں4

4 یعنی تم اپنا علاقہ خدا تعالیٰ سے جوڑے رکھو، کسی کے انکار و تکذیب کی پروا نہ کرو۔ منکرین کو بھی بالآخر ہمارے ہاں آنا ہے۔ اس وقت سب کیا دھرا سامنے آجائے گا۔ کسی جرم کو اللہ سے چھپا نہ سکیں گے وہ تو دلوں تک کے راز جانتا ہے۔ سب کھول کر رکھ دے گا۔
Ayah 31:24

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

کام چلادیں گے ہم ان کا تھوڑے دنوں پھر پکڑ بلائیں گے ان کو گاڑھے عذاب میں5

5 یعنی تھوڑے دن کا عیش اور بےفکری ہے۔ مہلت ختم ہونے پر سخت سزا کے نیچے کھنچے چلے آئیں گے۔ مجال ہے کہ چھوڑ کر بھاگ جائیں ؟
Ayah 31:25

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تو پوچھے ان سے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں اللہ نے تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے پر وہ بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے6

6 یعنی الحمد للہ اتنا تو زبان سے اعتراف کرتے ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا بجز اللہ کے کسی کا کام نہیں، پھر اب کونسی خوبی رہ گئی جو اس کی ذات میں نہ ہو۔ کیا ان چیزوں کا پیدا کرنا اور ایک خاص محکم نظام پر چلانا بدون اعلیٰ درجہ کے علم و حکمت اور زور قدرت کے ممکن ہے ؟ لا محالہ " خالق السموات والارض " میں تمام کمالات تسلیم کرنے پڑیں گے۔ اور یہ بھی اسی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے کہ تم جیسے منکرین سے اپنی عظمت کا اقرار کرا دیتا ہے۔ جس کے بعد تم ملزم ٹھہرتے ہو کہ جب تمہارے نزدیک خالق تنہا وہ ہے تو معبود دوسرے کیونکر بن گئے۔ بات تو صاف ہے پر بہت لوگ نہیں سمجھتے اور یہاں پہنچ کر اٹک جاتے ہیں۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں بیشک اللہ وہی ہے بےپروا سب خوبیوں والاف 7

7 یعنی جس طرح آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ایسے ہی آسمان و زمین میں جو چیزیں موجود ہیں سب بلا شرکت غیرے اسی کی مخلوق و مملوک اور اسی کی طرف محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ وجود اور توابع وجود یعنی جملہ صفات کمالیہ کا مخزن و منبع اسی کی ذات ہے۔ اس کا کوئی کمال دوسرے سے مستفاد نہیں۔ وہ بالذات سب عزتوں اور خوبیوں کا مالک ہے۔ پھر اسے کسی کی کیا پروا ہوتی ؟
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر جتنے درخت ہیں زمین میں قلم ہوں اور سمندر ہو اس کی سیاہی اس کے پیچھے ہوں سات سمندر نہ تمام ہوں باتیں اللہ کی بیشک اللہ زبردست ہے حکمتوں والاف 8

8 یعنی اگر تمام دنیا کے درختوں کو تراش کر قلم بنالیں اور موجودہ سمندر کی سیاہی تیار کی جائے، پھر پیچھے سے سات سمندر اور اس کی کمک پر آجائیں اور فرض کرو تمام مخلوق اپنی اپنی بساط کے موافق لکھنا شروع کرے، تب بھی ان باتوں کو لکھ کر تمام نہ کرسکیں گے جو حق تعالیٰ کے کمالات اور عظمت و جلال کو ظاہر کرنیوالی ہیں، لکھنے والوں کی عمریں تمام ہوجائیں گی۔ قلم گھس گھس کر ٹوٹ جائیں گے، سیاہی ختم ہوجائے گی پر اللہ کی تعریفیں اور اس کی خوبیاں ختم نہ ہوں گی، بھلا محدود و متناہی قوتوں سے لا محدود اور غیر متناہی کام سرانجام کیونکر ہو۔ " اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ "
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کا بنانا اور مرے پیچھے جلانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جی کا9 بیشک اللہ سب کچھ سنتا دیکھتا ہے10

9 یعنی سارے جہاں کا پیدا کرنا اور ایک آدمی کا پیدا کرنا خدا تعالیٰ کے لئے دونوں برابر ہیں۔ نہ اس میں کچھ دقت نہ اس میں کچھ تعب۔ ایک " کن " سے جو چاہے کرڈالے اور لفظ " کن " کہنے پر بھی موقوف نہیں۔ یہ ہم کو سمجھانے کا ایک عنوان ہے بس ادھر ارادہ ہوا ادھر وہ چیز موجود۔ 10 یعنی جس طرح ایک آواز کا سننا اور بیک وقت تمام جہان کی آوازوں کو سننا، یا ایک چیز کا دیکھنا اور بیک وقت تمام جہان کی چیزوں کو دیکھنا، اس کے لئے برابر ہیں۔ ایسے ہی ایک آدمی کا مارنا، جلانا، اور سارے جہان کا مارنا اور جلانا اس کی قدرت کے سامنے یکساں ہے پھر دوبارہ جلانے کے بعد بیک وقت تمام اولین و آخرین کے اگلے پچھلے اعمال کا رتی رتی حساب چکا دینے میں بھی اسے کوئی دقت نہیں ہوسکتی کیونکہ ہمارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو دیکھتا ہے۔ کوئی چھپی کھلی بات وہاں پوشیدہ نہیں۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وقت تک1 اور یہ کہ اللہ خبر رکھتا ہے اس کی جو تم کرتے ہو2

1 " مقرر وقت " سے قیامت مراد ہے یا چاند سورج میں سے ہر ایک کا دورہ کیونکہ ایک دورہ پورا ہونے کے بعد گویا از سر نو چلنا شروع کرتے ہیں۔ 2 یعنی جو قوت رات کو دن اور دن کو رات کرتی اور چاند سورج جیسے کرّات عظیمہ کو ادنیٰ مزدور کی طرح کام میں لگائے رکھتی ہے۔ اسے تمہارا مرے پیچھے زندہ کردینا کیا مشکل ہوگا۔ اور جب ہر ایک چھوٹے بڑے عمل سے پوری طرح باخبر ہے تو حساب کتاب میں کیا دشواری ہوگی۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لیے کہا کہ اللہ وہی ہے ٹھیک اور جس کسی کو پکارتے ہیں اس کے سوا سو وہی جھوٹ ہے3 اور اللہ وہی ہے سب سے اوپر بڑا4

3 یعنی حق تعالیٰ کی یہ شؤون عظیمہ اور صفات قاہرہ اس لئے ذکر کی گئیں کہ سننے والے سمجھ لیں کہ ایک خدا کو ماننا اور صرف اس کی عبادت کرنا ہی ٹھیک راستہ ہے۔ اس کے خلاف جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے باطل اور جھوٹ ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ کا موجود بالذات اور واجب الوجود ہونا جو " بان اللہ ھو الحق " سے سمجھ میں آتا ہے اور دوسروں کا باطل وہالک الذات ہونا اس کو مستلزم ہے کہ اکیلے اسی خدا کے واسطے یہ شؤون وصفات ثابت ہوں پھر جس کے لئے یہ شؤن وصفات ثابت ہوں گی وہ ہی معبود بننے کا مستحق ہوگا۔ 4 لہذا بندہ کی انتہائی پستی اور تذلل (جس کا نام عبادت ہے) اسی کے لئے ہونا چاہئے۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کہ جہاز چلتے ہیں سمندر میں اللہ کی نعمت لے کر تاکہ دکھلائے تم کو کچھ اپنی قدرتیں5 البتہ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک تحمل کرنے والے احسان ماننے والے کے واسطے6

5 یعنی جہاز بھاری بھاری سامان اٹھا کر خدا کی قدرت اور فضل و رحمت سے کس طرح سمندر کی موجوں کو چیرتا پھاڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔ 6 یعنی اس بحری سفر کے احوال و حوادث میں غور کرنا انسان کے لئے صبر و شکر کے مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ جب طوفان اٹھ رہے ہوں اور جہاز پانی کے تھپیڑوں میں گھرا ہو، اس وقت بڑے صبرو تحمل کا کام ہے اور جب اللہ نے اس کشمکش موت وحیات سے صحیح وسالم نکال دیا تو ضروری ہے کہ اس کا احسان مانے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب سر پر آئے ان کے موج جیسے بادل پکارنے لگیں اللہ کو خالص کر کے اسی کے لیے بندگی7 پھر جب بچا دیا ان کو جنگل کی طرف تو کوئی ہوتا ہے ان میں بیچ کی چال پر8 اور منکر وہی ہوتے ہیں ہماری قدرتوں سے جو قول کے جھوٹے ہیں حق نہ ماننے والے9

7 اوپر دلائل و شواہد سے سمجھایا تھا کہ ایک اللہ ہی کا ماننا ٹھیک ہے، اس کے خلاف سب باتیں جھوٹی ہیں۔ یہاں بتلایا کہ طوفانی موجوں میں گھر کر کٹر سے کٹر مشرک بھی بڑی عقیدت مندی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانی ضمیر و فطرت کی اصلی آواز یہ ہی ہے۔ باقی سب بناوٹ اور جھوٹے ڈھکوسلے ہیں۔ 8 یعنی جب خدا تعالیٰ طوفان سے نکال کر خشکی پر لے آیا تو تھوڑے نفوس ہیں جو اعتدال و توسط کی راہ پر قائم رہیں ورنہ اکثر تو دریا سے نکلتے ہی شرارتیں شروع کردیتے ہیں۔ مترجم (رح) نے " فمنھم مقتصد " کا ترجمہ کیا " تو کوئی ہوتا ہے ان میں بیچ کی چال پر۔ " حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ یعنی جو حال خوف کے وقت تھا وہ تو کسی کا نہیں، مگر بالکل بھول بھی نہ جائے۔ ایسے بھی کم ہیں، نہیں تو اکثر قدرت سے منکر ہوتے ہیں۔ اپنے بچ نکلنے کو تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح وغیرہ کی مدد پر۔ 9 یعنی ابھی تھوڑی دیر پہلے طوفان میں گھر کر جو قول وقرار اللہ سے کر رہے تھے۔ سب جھوٹے نکلے۔ چند روز بھی اس کے انعام واحسان کا حق نہ مانا اس قدر جلد قدرت کی نشانیوں سے منکر ہوگئے۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگوں بچتے رہو اپنے رب سے اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی باپ اپنے بیٹے کے بدلے اور نہ کوئی بیٹا ہو جو کام آئے اپنے باپ کی جگہ کچھ بھی10 بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے سو تم کو نہ بہکائے دنیا کی زندگانی اور نہ دھوکا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغا باز11

10 طوفان کے وقت جہاز کے مسافروں میں سخت افراتفری ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔ تاہم ماں باپ اولاد سے اور اولاد ماں باپ سے بالکل غافل نہیں ہوجاتی۔ ایک دوسرے کے بچانے کی تدبیر کرتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات والدین کی شفقت چاہتی ہے کہ ہو سکے تو بچہ کی مصیبت اپنے سر لے کر اس کو بچا لیں لیکن ایک ہولناک اور ہوش ربا دن آنے والا ہے جب ہر طرف نفسی نفسی ہوگی۔ اولاد اور والدین میں سے کوئی ایثار کر کے دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کو تیار نہ ہوگا۔ اور تیار بھی ہو تو یہ تجویز چل نہ سکے گی۔ چاہیے کہ آدمی اس دن سے ڈر کر غضب الہٰی سے بچنے کا سامان کرے۔ آج اگر سمندر کے طوفان سے بچ گئے تو کل اس سے کیونکر بچو گے۔ 11 یعنی وہ دن یقینا آکر رہے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ لہذا دنیا کی چند روزہ بہار اور چہل پہل سے دھوکا نہ کھاؤ کہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی۔ اور یہاں آرام سے ہو تو وہاں بھی آرام کرو گے ؟ نیز اس دغا باز شیطان کے اغواء سے ہوشیار رہو جو اللہ کا نام لے کر دھوکا دیتا ہے۔ کہتا ہے میاں اللہ غفور رحیم ہے خوب گناہ سمیٹو، مزے اڑاؤ، بوڑھے ہو کر اکٹھی توبہ کرلینا۔ اللہ سب بخش دے گا۔ تقدیر میں اگر اس نے جنت لکھ دی ہے تو گناہ کتنے ہی ہوں ضرور پہنچ کر رہو گے اور دوزخ لکھی ہے تو کسی طرح بچ نہیں سکتے پھر کا ہے کے لئے دنیا کا مزہ چھوڑیں
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کی خبر اور اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ہے ماں کے پیٹ میں اور کسی جی کو معلوم نہیں کہ کل کو کیا کرے گا اور کسی جی کو خبر نہیں کہ کس زمین میں مرے گا تحقیق اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے1

1 یعنی قیامت آکر رہے گی، کب آئے گی ؟ اس کا علم خدا کے پاس ہے۔ نہ معلوم کب یہ کارخانہ توڑ پھوڑ کر برابر کردیا جائے آدمی دنیا کے باغ و بہار اور وقتی تروتازگی پر ریجھتا ہے، کیا نہیں جانتا کہ علاوہ فانی ہونے کے فی الحال بھی یہ چیز اور اس کے اسباب سب خدا کے قبضہ میں ہیں۔ زمین کی ساری رونق اور مادی برکت (جس پر تمہاری خوشحالی کا مدار ہے) آسمانی بارش پر موقوف ہے۔ سال دو سال مینہ نہ برسے تو ہر طرف خاک اڑنے لگے۔ نہ سامان معیشت رہیں نہ اسباب راحت، پھر تعجب ہے کہ انسان دنیا کی زینت اور تروتازگی پر فریفتہ ہو کر اس ہستی کو بھول جائے جس نے اپنی باران رحمت سے اس کو تروتازہ اور پررونق بنا رکھا ہے۔ علاوہ بریں کسی شخص کو کیا معلوم ہے کہ دنیا کے عیش وآرام میں اس کا کتنا حصہ ہے۔ بہت سے لوگ کوشش کر کے اور ایڑیاں رگڑ کر مرجاتے ہیں۔ لیکن زندگی بھر چین نصیب نہیں ہوتا۔ بہت ہیں جنہیں بےمحنت دولت مل جاتی ہے۔ یہ دیکھ کر بھی کوئی آدمی جو دین کے معاملہ میں تقدیر الٰہی پر بھروسہ کیے بیٹھا ہو، دنیاوی جدوجہد میں تقدیر پر قانع ہو کر ذرہ برابر کمی نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ تدبیر کرنی چاہئے۔ کیونکہ اچھی تقدیر عموماً کامیاب تدبیر ہی کے ضمن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ علم خدا کو ہے کہ فی الواقع ہماری تقدیر کیسی ہوگی اور صحیح تدبیر بن پڑے گی یا نہیں۔ یہ ہی بات اگر ہم دین کے معاملہ میں سمجھ لیں تو شیطان کے دھوکہ میں ہرگز نہ آئیں۔ بیشک جنت دوزخ جو کچھ ملے گی تقدیر سے ملے گی جس کا علم خدا کو ہے مگر عموماً اچھی یا بری تقدیر کا حوالہ دے کر ہم تدبیر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ یہ پتہ کسی کو نہیں کہ اللہ کے علم میں وہ سعید ہے یا شقی۔ جنتی ہے یا دوزخی، مفلس ہے یا غنی، لہذا ظاہری عمل اور تدبیر ہی وہ چیز ہوئی جس سے عادۃً ہم کو نوعیت تقدیر کا قدرے پتہ چل جاتا ہے۔ ورنہ یہ علم تو حق تعالیٰ ہی کو ہے کہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اور پیدا ہونے کے بعد اس کی عمر کیا ہو۔ روزی کتنی ملے، سعید ہو یا شقی، اسی کی طرف " وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ " میں اشارہ کیا ہے۔ رہا شیطان کا یہ دھوکا کہ فی الحال تو دنیا کے مزے اڑالو، پھر توبہ کر کے نیک بن جانا، اس کا جواب (وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا) 31 ۔ لقمان :34) میں دیا ہے۔ یعنی کسی کو خبر نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا ؟ اور کچھ کرنے کے لئے زندہ بھی رہے گا ؟ کب موت آجائے گی اور کہاں آئے گی ؟ پھر یہ وثوق کیسے ہو کہ آج کی بدی کا تدارک کل نیکی سے ضرور کرلے گا اور توبہ کی توفیق ضرور پائے گا ؟ ان چیزوں کی خبر تو اسی علیم وخبیر کو ہے۔ (تنبیہ) یاد رکھنا چاہیے کہ مغیبات جنس احکام سے ہونگی یا جنس اکوان سے، پھر کو ان غیبیہ زمانی ہیں یا مکانی، اور زمانی کی باعتبار ماضی، مستقبل حال کے تین قسمیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے احکام غیبیہ کا کلی علم پیغمبر (علیہ السلام) کو عطا فرمایا گیا (فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا 26؀ۙ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا 27؀ۙ لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا 28؀ ) 72 ۔ الجن :26) جس کی جزئیات کی تفصیل و تبویب اذکیائے امت نے کی۔ اور اکوان غیبیہ کی کلیات و اصول کا علم حق تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص رکھا ہاں جزئیات منتشرہ پر بہت سے لوگوں کو حسب استعداد اطلاع دی۔ اور نبی کریم ﷺ کو اس سے بھی اتنا وافر اور عظیم الشان حصہ ملا جس کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکتا۔ تاہم اکوان غیبیہ کا علم کلی رب العزت ہی کے ساتھ مختص رہا۔ آیت ہذا میں جو پانچ چیزیں مذکور ہیں احادیث میں ان کو مفاتیح الغیب فرمایا ہے جن کا علم (یعنی علم کلی) بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں۔ فی الحقیقت ان پانچ چیزوں میں کل اکوان غیبیہ کی انواع کی طرف اشارہ ہوگیا۔ " بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ میں غیوب مکانیہ ماذا تکسب غدا " میں زمانیہ مستقبلہ " مَا فِي الْاَرْحَامِ " میں زمانیہ حالیہ اور " يُنَزِّلُ الْغَيْثَ " میں غالباً زمانیہ ماضیہ پر تنبیہ ہے۔ یعنی بارش آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں کہ پہلے سے کیا ایسے اسباب فراہم ہو رہے تھے کہ ٹھیک اسی وقت اسی جگہ اسی مقدار میں بارش ہوئی، ماں بچہ کو پیٹ میں لئے پھرتی ہے پر اسے پتہ نہیں کہ پیٹ میں کیا ہے۔ لڑکا یا لڑکی ؟ انسان واقعات آئندہ پر حاوی ہونا چاہتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ کل میں خود کیا کام کروں گا ؟ میری موت کہاں واقعہ ہوگی ؟ اس جہل و بیچارگی کے باوجود تعجب ہے کہ دنیاوی زندگی پر مفتون ہو کر خالق حقیقی کو اور اس دن کو بھول جائے جب پروردگار کی عدالت میں کشاں کشاں حاضر ہونا پڑے گا۔ بہرحال ان پانچ چیزوں کے ذکر سے تمام اکوان غیبیہ کے علم کلی کی طرف اشارہ کرنا ہے حصر مقصود نہیں اور غالباً ذکر میں ان پانچ کی تخصیص اس لئے ہوئی کہ ایک سائل نے سوال انہی پانچ باتوں کی نسبت کیا تھا جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ کمافی الحدیث۔ پہلے سورة انعام اور سورة نمل میں بھی ہم علم غیب کے متعلق کچھ لکھ چکے ہیں۔ ایک نظر ڈال لی جائے، تم سورة لقمان بمنہ وکرمہ،