31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsاسرار التنزیل

Ayah 31:1
Ayah 31:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیتیں ہیں

Ayah 31:3

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو ہدایت اور رحمت ہیں خلوص سے نیکی کرنے والوں کے لئے

Ayah 31:4

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں

Ayah 31:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا (بھی) ہے جو بیہودہ باتیں خریدتا ہے تاکہ بےجانے بوجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کرے اور اس کا مذاق اڑائے ایسے ہی لوگوں کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتے ہوئے منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں بوجھ ہے سو اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے

Ayah 31:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

Ayah 31:9

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والے ہیں

Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بنایا تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین میں پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ وہ تم کو لے کر ڈولنے نہ لگے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں۔ اور ہم نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیئے

Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں تو اب تم مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا جو (معبود) ہیں انہوں نے کیا کیا پیدا کیا ہے ؟ بلکہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں ہیں

Ayahs 31:12–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمن کو دانشمندی عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اور جو (اللہ کا) شکر ادا کرے تو وہ بیشک اپنے (نفع کے) کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بےنیاز (اور) خوبیوں کے مالک ہیں

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب لقمن نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا کہ بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید فرمائی ہے۔ اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا (احسان بھی مانو اور) میرے ہی پاس پلٹ کر آنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تم سے اس بات کی کوشش کریں کہ میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مانو اور اس کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے بسر کرو اور اس راستے پر چلنا جو میری طرف رجوع (متوجہ) ہو پھر تمہیں میری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے پھر میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبردوں گا

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی چٹان کے اندر ہو یا آسمانوں کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو (تب بھی) اللہ اس کو حاضر کردیں گے بیشک اللہ بڑے باریک بین (اور) باخبر ہیں

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! نماز کی پابندی کرو اور بھلائی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو اور تم پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (غرور کرتے ہوئے) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے ، فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو اور (بات کرتے وقت) اپنی آواز کو پست رکھو بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے

آیات 12 تا 19 اسرارومعارف اور بیشک لقمان کو حکمت عطا فرمائی گئی کہ وہ شکر ادا کرے اور جو بھی شکر ادا کرتا ہے اپنی ذات کا فائدہ کرتا ہے ورنہ اللہ تو سب سے بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے کسی کے شکر کا محتاج نہیں۔ حضرت لقمان اور حکمت : جمہور علماء سلف کے نزدیک حضرت لقمان ولی اللہ تھے حبشی تھے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عہد میں تھے اور اتنی طویل عمر پائی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی تھے۔ حکمت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں مثلا علم ، عقل ، بردباری و دانائی یا نیک عمل کی توفیق اور اسی طرح مگر یہ سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں حکمت عطا ہونے سے مراد مرضات باری کا علم اور اس پر عمل کی توفیق بھی ہے جسے علم لدنی کہا گیا ہے کہ بغیر کسی کے سیکھے یا پڑھے اللہ کریم بعض اولیاء اللہ کو عطا فرما دیتے ہیں کہ وہ ایسے ایسے نکات بیان فرماتے ہیں جو بڑے بڑے علما صرف ان سے حاصل کرسکتے ہیں۔ سید عبد العزیز دباغ ایسی ہی ہستی تھے جن کے فرمودات الابریز نامی کتاب میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ صحت عقیدہ : جب لقمان نے اپنے بیٹے کو حکیمانہ نصیحت کی تو فرمایا کہ اے جان پدر کبھی شرک مت کرنا کہ شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے یعنی صحت عقیدہ سب بھلائیوں کی بنیاد ہے۔ اگر عقیدہ ہی درست نہ ہو تو عمل کی اصلاح کی امید ہی فضول ہے۔ والدین کے ساتھ احسان : ایمان و اخلاق میں سب سے مقدم والدین کے ساتھ لطف و محبت اور اکرام سے پیش آنا ہے کہ ماں نے اسے پیٹ میں رکھ کر بہت دکھ جھیلے پھر دو سال اپنے سینے سے دودھ پلایا اور دونوں کا بوجھ باپ نے برداشت کیا لہذا والدین کا بہت بڑا حق ہے کہ بندہ اللہ کا شکر کرے جس کا طریقہ والدین کی خدمت بھی ہے کہ آخر بندے کو پلٹ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے لیکن والدین بھی اگر اللہ کی نافرمانی کا یا شرک کرنے کا حکم دیں تو ان کا یہ حکم ہرگز نہ مانا جائے ۔ اس کے باوجود اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو دنیا میں ان کی معروف طریقے سے خدمت ضرور کرے مگر اتباع انہی لوگوں کا کے جو اللہ کی راہ پر اور قرب الہی کی طرف گامزن ہوں اس کیے کہ سب نے واپس اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اللہ ہی ان کے اعمال کو ان کے سامنے لاکر ان سے حساب لیں گے۔ والدین اللہ کی اطاعت سے روکنے کا حق نہیں رکھتے : یہ بات واضح ہوگئی کہ والدین اللہ کی اطاعت اللہ کے ذکر اور اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ رہنے سے روکنے کا حق نہیں رکھتے اس کے باوجود والدین کا احترام کیا جائے گا اور یہ نافرمانی شمار نہ ہوگی کہ نیک کام کیوں کرتے ہو یا نیک لوگوں کے ساتھ کیوں رہتے ہو اس لیے کہ انہیں اس کا حق ہی نہیں ہے۔ ایٹم کی بات : اور فرمایا کہ اے بیٹے اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں کہ کوئی نہایت ہی چھوٹا ذرہ جو کسی چٹان میں پوشیدہ ہے یعنی ایٹم جس کو سائنس نے اب دریافت کیا ہے کہ سب سے چھوٹا ذرہ جو چٹانوں کے اندر ہے یا کوئی بھی شے جو آسمانوں میں ہے سب کچھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا کہ اللہ باریک سے باریک تر شے سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ عبادت کی اہمیت : اے جان پدر ! اللہ کی عبادت میں پوری پوری محنت کر اوقات اور ارکان و احکام کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے۔ عام آدمی تو اسے وقت کا زیاں سمجھتا ہے مگر حق یہ ہے کہ مومنانہ حیات اور اسلامی زندگی میں عبادات ہوا کا درجہ رکھتی ہیں جس طرھ کوئی بھی کام کرتے وقت ہم ہوا میں سانس لینے کا عمل نہیں چھوڑ سکتے اسی طرح فرائض اپنے وقت میں اور ذکر الہی ہر لمحہ اسلامی زندگی کی آکسیجن ہے اور دنیا میں نیکی کا حکم کر یعنی نیکی اور بھلائی دین اور اسلام کو رائج کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھ اور کفر و شرک اور برائی کا راستی روکنے میں مصروف رہ کہ مسلمان ہمیشہ اور ہر آن جہاد میں ہے۔ زبانی ، تحریری ، عملی اور قلبی طور پر نیز اس راہ میں مشکلات کا آنا ایک فطری قاعدہ ہے لہذا جو تکلیف بھی آئے اس پر صبر اختیار کر اور ثابت قدم رہ کہ حقیقتا راہ حق میں ثابت قدم رہنا ہی بہت بڑا کام ہے ۔ کفر کے لیے سخت ہو مگر متکبر نہ ہو : اور اللہ اگر دین پر قائم رہنے اور عزم و ہمت سے زندگی گزارنے کی توفیق دیں تو اس پر اکڑ نہ جانا اور لوگوں سے متکبرانہ انداز سے منہ نہ پھیرلیا جائے اور زمین پر اترا اترا کر مت چلنا کہ کفر کے مقابلے میں سختی تکبر میں مبتلا نہ کردے اس لیے کہ اللہ شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا اپنی رفتار میں ایک خوبصورت توازن پیدا کر اور بات کرنے میں متانت اور سنجیدگی کو اپنا کہ محض شور کرنا اور بلند آواز کرے اپنی رائے منوانا درست طریقہ نہیں کہ چلانے کو تو گدھا بھی شور کرسکتا ہے مگر اس کا شور سب سے برا ہے۔
Ayahs 31:20–30

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور اس نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں ، پوری کر رکھے ہیں۔ اور لوگوں میں تو کچھ ایسے (بھی) ہیں جو اللہ کے بارے جھگڑتے ہیں (حالا کہ) نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ روشن کتاب

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا۔ اگرچہ شیطان ان (کے بڑوں) کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ خلوص والا بھی ہو تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا۔ اور سب کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہی پہنچے گا

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو شخص کفر کرے تو اس کا کفر آپ کو دکھی نہ کرے۔ ان سب کو ہمارے پاس ہی لوٹنا ہے۔ پھر جو وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتائیں گے۔ بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو جانتے ہیں

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو مجبور کرکے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ آپ فرمائیے کہ تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز سب خوبیوں کے مالک ہیں

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور زمین بھر میں جتنے درخت ہیں اگر وہ قلم بن جائیں اور یہ جو سمندر ہے اسکے علاوہ اس میں سات سمندر اور شامل ہوجائیں (اور سیاہی بن جائیں) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بیشک اللہ غالب (اور) حکمت والے ہیں

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کا پیدا کرنا اور (دوبارہ) زندہ کردینا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کا۔ بیشک اللہ سب کچھ سنتے سب کچھ دیکھتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرمادیتے ہیں اور سورج اور چاند کو کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا اور یہ کہ اللہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ کی ذات ہی برحق ہے اور یہ کہ جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور یہ کہ اللہ ہی عالی شان ، بڑے ہیں

آیات 20 تا 30 کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔ ظاہری و باطنی نعمتیں : پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری نعمتیں تمام وہ علوم و فنون جو عقل کی رسائی میں ہیں ان کی سب سے اعلی سمجھ انسان کو عطا کی اور باطنی نعمت نبوت و رسالت جو اللہ کی معرفت کا واحد ذریعہ ہے بھی انسانوں کو عطا ہوئی اور ان سب ظاہری و باطنی انعامات سے ہر انسان فائدہ حاصل کرسکتا ہے اتنے انعامات کے باوجود بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ کی ذات کو ماننے میں تامل ہی نہیں جھگڑا کرتے ہیں اور ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں حالانکہ کفر پر جھگڑا بغیر کسی علمی دلیل بغیر کسی حق اور درست بات کے اور بغیر کسی کتاب روشن کے کرتے ہیں کہ حق پر علمی عقلی اور نقلی دلائل موجود جن میں سے ان کے پاس کوئی بھی نہیں بلکہ جب حق کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور کہا جاتا کہ وا کلام جو اللہ نے نازل فرمایا اسے مانو اس کی اطاعت اختیار کرو تو جواب میں کہتے ہیں ہم تو باپ دادا کی رسومات کا اتباع کرتے ہیں خواہ ان رسومات کے پیچھے لگا کر شیطان انہیں دوزخ کے عذاب میں لیے جارہا ہو۔ پھر قبول کر کے انہوں نے کسے پہ احسان تو نہیں کرنا بلکہ جو بھی خالص اللہ ہی کی اطاعت کے لیے سر تسلیم خم کردیتا ہے اور پھر عملا اس پر کاربند رہتا ہے اور خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت اختیار کرتا ہے تو اس نے ایک بہت مضبوط حلقے کو تھام لیا اور نقصان و خسران کے ڈر سے محفوظ ہوگیا کہ تمام انبیاء اور رسل صحابہ و مجاہد اولیاء اور صلحاء کے ہاتھ اس حلقے کو تھامے ہوئے ہیں یعنی وہ بہت ہی مضبوط جماعت میں شامل ہوگیا۔ اب ہر کام کا انجام تو اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے۔ یعنی دنیا کی کوئی طاقت اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اور جو کفر کی راہ اپنائے تو آپ اس کے اس فیصلے پر افسردہ نہ ہوں کہ اسے یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے پھر اس کو پلٹ کر اللہ کی بارگاہ میں ہی حاضر ہونا ہے جہاں اس سے اس کے اس فیصلے پر خوب بات ہوگی اس لیے کہ وہ اللہ سے کچھ بھی تو نہ چھپا سکے گا اللہ تو دلوں کے اندر چھپے بھیدوں سے بھی خوب واقف ہے۔ انہیں چند روزہ فرصت نصیب ہے جس میں اللی کی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں یہ پکڑے جائیں گے اور انہیں نہایت غلیظ عذاب کی طرف کھینچ لے جا یا جائے گا۔ آپ ان پر بھی سوال کیجیے کہ ارض و سماء اور اس نظام عالم کا بنانے والا کون ہے تو انہیں مجبورا ہی کہنا پڑے گا کہ اللہ۔ کہ اور کوئی جواب بن ہی نہیں پڑتا تو کہیے واقعی سب تعریفیں اور ساری خوبیاں اللہ ہی کو سزاوار ہیں اور لوگوں کی اکثریت جو اس حقیقت سے بیخبر ہے وہ جہالت میں مبتلا ہے۔ زمین میں یا آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے یا جو نطام بھی ہے جس شے میں جو کمال بھی ہے سب کچھ اللہ کا ہے اس کی عطا ہے اور وہی چلا رہا ہے جبکہ اللہ خود ہر شے سے بےنیاز اور لائق ستائش ہے ہر شے اس کی محتاج ہے وہ کسی شے کا محتاج نہیں۔ اللہ کی حمد و ثنا اور عظمت کے بیان کے لیے دنیا بھر کے درختوں کی اگر قلمیں بن سکیں سمندر کو سات گناہ اور بھی بڑھا کر سیاہی بنا دی جائے اور کوئی ہمیشہ لکھتا ہی چلا جائے تو اللہ کے علوم و کمالات اور اوصاف ختم ہونے میں نہ آئیں گے جبکہ لکھنے والی قلمیں کاغذ سیاہیاں تمام ہوجائیں گی بیشک اللہ سب سے بالا تر اور حکمت والا ہے۔ تمہیں پیدا کرنا اور موت دے کر دوبارہ زندہ کرنا اسے ایسا ہی آسان ہے جیسا ایک جان کو پیدا کرنا اس کی قدرت کے لیے کچھ مشکل نہیں اور کسی کی بات یا ذات اس سے بھولی ہوئی نہیں ہر شے اور ہر بات کو جانتا ہے اور سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے۔ اے مخاطب تو نہیں دیکھتا کہ اللہ رات کو اور اس کے اجزاء و اوقات کو دن میں اور دن کے اجزا کو رات میں شامل اور تبدیل فرماتا ہے چاند اور سورج کو مقرر راستوں پر چلا دیا ہے مقرر اور معین اوقات پر کہ اگر وقت یا راستے میں ذرہ برابر فرق آئے تو نطام عالم تباہ ہوجائے مگر ہر شے درست چل رہی ہے تو جس رب العالمین کو اتنے وسیع نظام کی لمحہ لمحہ کی باریکیوں کی خبر ہے وہ یقینا تمہارے اعمال سے بھی باکبر ہے۔ اور یہ دلوئل ہیں اس بات پر کہ بیشک اللہ حق ہے اور اس کے علاوہ اس کے مقابل جس کو بھی لایا جائے وہ باطل ہے اور اللہ ان سب باتوں سے بہت ہی بلند اور سب سے بڑا ہے۔
Ayahs 31:31–34

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی (سمندر کی سواری) سمندر میں چلتی ہے تاکہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائیں اس میں ہر ایسے شخص کے لئے دلائل ہیں جو صبر (اور) شکر کرنے والا ہو

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (سمندر کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھاجاتی ہیں تو وہ خالص اعتقاد کرکے صرف اللہ کو پکارتے ہیں پھر جب ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتے ہیں تو کچھ لوگ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کا (ضد سے) انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو بدعہد (اور) ناشکرے ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ جس دن باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہ آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے کسی قسم کا فریب دے

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی مینہہ برساتے ہیں اور جانتے ہیں جو رحموں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ (ان باتوں کے) جاننے والے باخبر ہیں

آیات 31 تا 34 اسرارومعارف اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ بہت بڑے بڑے جہاز کتنے گہرے سمندروں میں تیرتے پھرتے ہیں اللہ کی نعمتیں لادے ہوئے اور بندوں کے لیے رزق کے وسائل لے کر یہ سب عقل تمہیں اس لیے عطا ہوئی ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوسکو جس نے پانی اور لکڑی کو یہ خصوصیات دیں اور تمہیں یہ شعور بخشا مگر یہ سب ایسے لوگوں کی سمجھ میں ہی آسکتا ہے جو ذرا تحمل مزاج اور جذبہء شکر رکھنے والے ہوں ورنہ تو جب سمندری لہریں اٹھی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی بادل بڑھتا آرہا ہو تو یہ سب لوگ بڑے خلوص سے صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اس وقت کوئی اللہ کے بغیر سوجھتا ہی نہیں اور جب اللہ انہیں طوفانوں سے بچا کر زمین پر پہنچا دیتا ہے تو کچھ لوگ تو اس کے بعد واقعی توحید الہی پر قائم ہوجاتے ہیں اور اکثر پھر سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ بھی جان بوجھ کر اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اس لیے کہ وہ طبعا جھوٹے اور حق سے دور ہوچکے ہوتے ہیں۔ باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے : لوگو اللہ کی نافرمانی سے بچو اور اس دن سے ڈرو کہ جس روز نہ تو باپ بیٹے کے کام آسکے گا اور نہ بیٹا باپ کی کوئی مدد کرسکے گا یعنی محض نسبی رشتہ کام نہ آئے گا کہ اگر باپ مومن ہے اور بیٹا کفر پر مر گیا تو اس کی کوئی مدد نہ کرسکے گا ایسے ہی بیٹا اگر مومن ہو اور باپ نہ ہو تو بیٹا بھی رائی برابر بوجھ نہ بانٹ سکے گا کہ اخروی اور دائمی رشتوں کا مدار ایمان پر ہے نسبی رشتے محض انسانی نسل کی بقا کے لیے ہیں جس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی تو رشتہ کیسا۔ ہان دونوں کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو تو رشتہ ایمان بھی ہوگا اور مزید نسبی رشتے کے سبب محبت بھی ہوگی لہذا ایک دوسرے کی شفاعت و سفارش بھی کریں گے جس کی تفصیل احادیث و تفاسیر میں موجود ہے۔ اور یہ باتیں طے شدہ ہیں۔ اللہ نے وعدہ کردیا کہ ایسا ہوگا اور اللہ کا وعدہ سچا اور کھرا ہے یہ یاد رکھ لو محض دنیا کی دولت یا اقتدار و وقار میں کھو کر ان حقائق کو نہ بھولو۔ اور یہ عارضی وقار یا دولت جو محض ایک دھوکہ ہے کہیں شیطان تمہیں اس میں مبتلا کر کے اللہ سے غافل نہ کردے کہ وہ بڑا دھوکے باز ہے۔ علم الہی : اور یہ بھی جان لو کہ معاملات کی ابتدا و انتہا صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی کو خبر ہے کہ کب قیامت قائم ہوگی اور کس لمحے دنیا ختم ہوجائے گی جس طرح بارش کو وہی اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ رحم میں کیا ہے نیز کوئی نہیں جانتا کہ اسے آئندہ کل کیا پیش آنے والا ہے اور نہ کوئی اپنی زندگی کے خاتمے سے واقف ہے کہ اسے کس جا موت آجائے گی اور وہ زمین کے کس حصہ میں مرے گا بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر بات سے باخبر ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض باتوں کی خبر انبیاء نے دی بعض اولیاء اللہ کے مشاہدات اور پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں پھر نجومی اور جوتشی وغیرہ جو اندازے لگاتے رہے وہ ٹھیک ثابت ہوتے رہے اور آج سائنس یہ بتا رہی ہے کہ پیٹ میں بچہ ہے یا بچی اس سوال کے بڑے طویل جوابات نقل کیے گئے ہیں۔ مختصرا بات سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ان تمام ذرائع میں وہ تفصیل نہیں ہوتی جو اللہ کے علم میں ہے اور جزوی علم یا اندازا جان لینا تو علم نہیں جیسے کوئی موسمیات والا بارش کی پیشگوئی تو کرتا ہے مگر نہیں جانتا کہ کتنے قطرے برسیں گے کس جگہ کتنا پانی جذب ہوگا اور وہاں کیا عمل کرے گا یا سائنس یہ جاننے سے تو رہی کہ بچہ صالح ہوگا یا بدکار صاھب علم بنے گا کہ جاہل امیر ہوگا یا فقیر ہوجائے گا کتنا قد کیا رنگ اور چہرے کے تاثرات کیا ہوں گے اللہ تو اس سے زیادہ جانتے ہیں اور ہر قطرے ہر بچے کے بارے جانتے ہیں۔ یہی حال موت کا ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی خود اپنے بارے نہیں آتی کہ کہاں زندگی ساتھ چھوڑ دے گی۔ سورة لقمان تمام ہوئی