غیب کی پانچ باتیں
یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ نر ہوگا یا مادہ لڑکا ہوگا یا لڑکی نیک ہوگا یا بد ؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا ؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا ؟…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 63
یہ آیت دراصل اس سوال کا جواب ہے جو قیامت کا ذکر اور آخرت کا وعدہ سن کر کفار مکہ بار بار رسول اللہ ﷺ سے کرتے تھے کہ آخر وہ گھڑی کب آئے گی۔ قرآن مجید میں کہیں ان کے اس سوال کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے، اور کہیں نقل کیے بغیر جواب دے دیا گیا ہے، کیونکہ مخاطبین کے ذہن میں وہ موجود تھا۔ یہ آیت بھی انہی آیات میں سے ہے جن میں سوال کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے۔
پہلا فقرہ " اس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ " یہ اصل سوال کا جواب ہے۔ اس کے بعد کے چاروں فقرے اس کے لیے دلیل کے طور پر ارشاد ہوئے ہیں۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جن معاملات سے انسان کی قریب ترین دلچسپیاں وابستہ…
Read the full tafseer →(آیت) ان اللہ عندہ علم الساعة وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غداوما تدری نفس بای ارض تموت، یعنی اللہ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا (کہ کس سال کس تاریخ میں آئے گی) اور وہی بارش کو اتارتا ہے اور وہی جانتا ہے جو شکم مادر میں ہے (کہ لڑکی ہے یا لڑکا اور کس شکل و صورت کا ہے) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کمائے گا (یعنی خیر و شر میں سے کیا حاصل کرے گا) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔
پہلی تین چیزوں میں اگرچہ یہ تصریح نہیں کی گئی کہ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، مگر کلام ایسے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس سے ان چیزوں کے علم کا انحصار علم الٰہی میں…
Read the full tafseer →ان اللہ عندہ علم الساعدِ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذ تکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت، ان اللہ علیم خبیر (34)
یہ ایک دفع دخلل مقدر یعنی ایک شبہ یا اعتراض کا برسر موقع جواب ہے۔ مخالفین کو جب قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ جھٹ یہ سوال کرتے کہ متی ھذا الوعد آخر یہ دھمکی کب پوری ہوگی ! اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی ! اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کے آنے کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہوجاتی۔ زندگی کی کتنی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا لیکن کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کرتا۔ بارش…
Read the full tafseer →34-1حدیث میں آتا ہے کہ پانچ چیزیں مفاتیح الغیب ہیں، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قرب قیامت کی علامات تو نبی ﷺ نے بیان فرمائیں ہیں لیکن قیامت کے وقوع کا یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، کسی فرشتے کو، نہ کسی نبی مرسل کو، بارش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آثار و علائم سے تخمینہ تو لگایا جاتا اور لگایا جاسکتا ہے لیکن یہ بات ہر شخص کے تجربہ و مشاہدے کا حصہ ہے کہ یہ تخمینے کبھی صحیح نکلتے ہیں اور کبھی غلط۔ حتی کہ محکمہ موسمیات کے اعلانات بھی بعض دفعہ صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ بارش کا بھی یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ رحم مادر میں مشینی ذرائع سے جنسیت کا ناقص اندازہ تو شاید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →ان اللہ عندہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر (34)
اللہ تعالیٰ نے قیام قیامت کی گھڑی کو ایک ایسا غیب رکھا ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے تاکہ لوگ ہر وقت چوکنے رہیں۔ ہر وقت قیامت کی توقع کرتے رہیں۔ اور ہر وقت یہ کوشش کرتے رہیں کہ اس کے لیے کچھ کمائیں۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ کب قیامت ہوگی۔ بہرحال یہ اچانک آجائے گی اور اس وقت پھر کسی تیاری کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ کوئی توشہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق جہاں چاہتا ہے ، بارش برساتا ہے ، جس قدر چاہتا ہے ، برساتا ہے۔ لوگ اپنے تجربوں اور آلات و علامات کے ذریعہ بارش کے قریب ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن وہ نہ بارش برسانے کے اسباب پیدا…
Read the full tafseer →1 یعنی قیامت آکر رہے گی، کب آئے گی ؟ اس کا علم خدا کے پاس ہے۔ نہ معلوم کب یہ کارخانہ توڑ پھوڑ کر برابر کردیا جائے آدمی دنیا کے باغ و بہار اور وقتی تروتازگی پر ریجھتا ہے، کیا نہیں جانتا کہ علاوہ فانی ہونے کے فی الحال بھی یہ چیز اور اس کے اسباب سب خدا کے قبضہ میں ہیں۔ زمین کی ساری رونق اور مادی برکت (جس پر تمہاری خوشحالی کا مدار ہے) آسمانی بارش پر موقوف ہے۔ سال دو سال مینہ نہ برسے تو ہر طرف خاک اڑنے لگے۔ نہ سامان معیشت رہیں نہ اسباب راحت، پھر تعجب ہے کہ انسان دنیا کی زینت اور تروتازگی پر فریفتہ ہو کر اس ہستی کو بھول جائے جس نے اپنی باران رحمت سے اس کو تروتازہ اور پررونق بنا رکھا ہے۔ علاوہ بریں…
Read the full tafseer →آیت 34 اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ج ”
اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ عام طور پر ہم ”قیامت“ اور ”السّاعۃ“ کے الفاظ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور انہیں باہم مترادف الفاظ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ان دونوں میں سے ہر لفظ کا اپنا الگ مفہوم ہے۔ ”السَّاعۃ“ کے معنی مخصوص گھڑی کے ہیں اور قرآنی اصطلاح کے مطابق ”السَّاعۃ“ وہ معینّ گھڑی ہے جب پوری زمین زلزلے سے جھنجھوڑ ڈالی جائے گی ‘ اجرام سماویہ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ مثلاً سورة القارعہ میں ”السَّاعۃ“ کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے : اَلْقَارِعَۃُ مَا…
Read the full tafseer →49 کفار مکہ اکثر آپ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ کتاب و سنت میں اس کے کئی الگ الگ جواب مذکور ہیں۔ مثلاً ایک جواب یہ ہے کہ قیامت جب بھی آئی یک لخت ہی آجائے گی۔ کبھی قرب قیامت کی علامات بتلا دی گئیں۔ ایک صحابی نے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے پوچھا : کیا تم نے اس کے لئے کچھ تیاری کر رکھی ہے ؟ ایک سائل کو آپ ﷺ نے یہ جواب دیا کہ جو شخص مرگیا بس اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ لیکن اس سوال کا بالکل ٹھیک جواب یہی ہے کہ قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ کسی نبی کو بھی نہیں حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ تھا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان…
Read the full tafseer →38۔ مثلا یہی کہ جنین مردہ ہے یا زندہ، حمل، خصوصا اپنے ابتدائی زما نہ میں لڑکی کا ہے یا لڑکے کا، بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا یا مریض وناقص۔ ولادت طبعی طور پر پورے دنوں پر ہوگی، یا غیرطبعی طور پر اس کے قبل یا بعد، اور ہوگی تو ٹھیک کس دن، کس وقت ہوگی، قس علی ھذا۔ رحمیات سے متعلق ان تفصیلات کا پورا اور تحقیقی علم صرف ذات باری کو رہتا ہے۔ (آیت) ” وینزل الغیث “۔ یعنی اس کا پورا اور یقینی علم کہ بارش کب ہوگی، کہاں ہوگی، کس مقدار میں ہوگی، کتنی مدت تک رہے گی، قس علی ہذا۔ فضائیات کے بارے میں انسانی علوم کے ماہرین قرائن اور ظن وتخمین سے کام لے کر جس حد تک اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نہ اس کا شمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیت نمبر 31 تا 34
ترجمہ : کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چلتی رہتی ہیں تاکہ اے مخاطبو ! اس کے ذریعہ تم کو اپنی (قدرت) کی نشانیاں دکھا دے یقیناً اس میں اللہ کی معصیت سے ہر صبر کرنے والے اور اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والے کے لئے عبرت کی نشانیاں ہیں اور جب ان پر یعنی کفار پر موجیں ایسے پہاڑوں کے مانند چھا جاتی ہیں جو ہر اس شئ پر جو اس کے زیر سایہ
آجائے سایہ فگن ہوجائیں، تو نہایت خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعاء کرنے لگتے ہیں کہ ان کو (غرق) سے نجات دے یعنی (اس وقت) اس کے ساتھ غیر اللہ کو نہیں پکارتے پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو کچھ ان میں…
Read the full tafseer →ان اللہ عندہ علم الساعۃ . اللہ ہی کے پاس ہے (آخری) ساعت یعنی قیامت (برپا ہونے کے وقت) کا
(تعیینی) علم۔
وینزل الغیث . اور وہی (جب چاہتا ہے) بارش نازل کرتا ہے (اس کے سوا بارش کے وقت کو کوئی نہیں جانتا) ۔
وما تدری نفس ماذا اتکسب غدا . اور رحم کے اندر کی چیز کو بھی وہی جانتا ہے (کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی ‘ اس
کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔
وما تدری نفس بای ارض تموت . اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : غیب کے خزانے پانچ ہیں جن سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں : سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ‘ سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ رحم کے اندر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کے قائم ہونے کی خبر ہے اور اس چیز کی جو بندوں سے مخفی ہے اور وہ ہی بارش برساتا ہے اور بارش کا علم اور اس کی قدرت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے۔
اور وہی جانتا ہے جو کچھ حاملہ کے رحم میں ہے کہ لڑکا ہے ؟ یا لڑکی ؟ پورا ہے یا ناقص، بدنصیب ہے یا خوش نصیب، یہ چیز بھی اسی کے لیے خاص ہے اور اسی طرح کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا نیکی یا برائی کرے گا اس کی بھی اسی کو خبر ہے۔ اللہ ہی اپنی مخلوق کی تمام باتوں کو جاننے والا ہے اور ان کے اعمال اور اسی طرح جو کچھ ان کو نفع یا نقصان پہنچے گا سب سے باخبر ہے کسی دوسرے کو ان کاموں کی کچھ خبر…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ : قیامت کے ذکر پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کب آئے گی ؟ اور یہی سوال کفار بار بار کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسے مخفی رکھنا اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت ہے، تاکہ ہر شخص اس کے لیے ہر وقت تیار رہے اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے۔ (دیکھیے طٰہٰ : 15) ”عِنْدَهٗ“ کو پہلے لانے سے تخصیص کا معنی پیدا ہوا کہ قیامت کا علم صرف اس کے پاس ہے، کسی اور کے پاس نہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (187) ، احزاب (63) اور نازعات (42 تا 44) حدیث جبریل میں جبریل ؑ کے سوال ”مَتَی السَّاعَۃُ ؟“ (قیامت کب ہے ؟) کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا…
Read the full tafseer →فراء نے گمان کیا ہے کہ اس میں نفی کا معنی موجود ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اس میں نفی اور ایجاب دونوں کا معنی پایا جاتا ہے کیونہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر اگاہ کیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو (الانعام : 53) فرمایا :” اس سے مراد یہی چیزیں ہیں “۔
میں کہتا ہوں : ہم نے سورة الانعام میں اس بارے میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کا ذکر کیا، حضرت جبریل امین کا حدیث میں ہے عرض کی : مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے ؟ (1) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس سے اس کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے سائل سے زیادہ نہیں جانتا، یہ پانچ…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی دیہاتیوں میں سے آیا اور کہا میری بیوی حاملہ ہے مجھے بتائیے کیا وہ جنے گی۔ اور ہمارے شہر خشک ہو رہے ہیں مجھے بتائیے کب بارش نازل ہوگی اور میں نے جان لیا ہے کہ میں کب پیدا ہوا اب مجھے بتائیے کہ میں کب مروں گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔
2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جس کو وارث کہا جاتا وہ بنی مازن بن حفص بن قیص غیلان سے تعلق رکھتا تھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد قیامت کب قائم ہوگی ہمارے شہر خشک ہوچکے ہیں کب سرسبز ہوں گے اور اس نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا۔…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عِنْدَهٗ [اس کے پاس ہی ] عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ [اس گھڑی (قیامت) کا علم ہے ] وَيُنَزِّلُ [اور وہ اتارتا ہے ] الْغَيْثَ ۚ [بارش کو ] وَيَعْلَمُ [اور وہ جانتا ہے ] مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ [اس کو جو رحموں میں ہے ] وَمَا تَدْرِيْ [اور نہیں جانتی ] نَفْسٌ [کوئی جان ] مَّاذَا [کیا ] تَكْسِبُ [وہ کمائے گی ] غَدًا ۭ [کل ] وَمَا تَدْرِيْ [اور نہیں جانتی ] نَفْسٌۢ [کوئی جان ] بِاَيِّ اَرْضٍ [کون سی زمین میں ] تَمُوْتُ ۭ [وہ مرے گی ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عَلِيْمٌ [جاننے والا ہے ] خَبِيْرٌ [باخبر ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 34 ۔ میں پہلی تین چیزوں میں اگرچہ تصریح نہیں کی گئی کہ…
Read the full tafseer →پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے
قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ غیب اور شہادہ کو جاننے والا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا جس کسی کو اس نے غیب کا کچھ علم دیا ہے جس قدر عطا فرمایا ہے اسے اسی قدر علم ہے۔ یہاں پانچ امور غیبیہ کا تذکرہ فرمایا ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پوچھنے والا اور جس سے پوچھا گیا ہے اس بارے میں دونوں برابر ہیں اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا (فِیْ خَمْسٍ لاَ یَعْلَمُھُنَّ الاَّ اللّٰہَ ) (کہ یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
خاتمہ سورت برحکم تقویٰ وتذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور مبدا اور معاد کی تفصیل تھی اب سورت کو تقویٰ کی نصیحت اور وصیت پر ختم کرتے ہیں کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ یعنی صرف ایک خدا سے ڈرو اور قیامت کے دن سے ڈرو کہ جس دن سوائے تقویٰ کے کوئی قرابت اور مودت کام نہ آئے گی تقویٰ کی وصیت اور نصیحت سے بڑھ کر کوئی وصیت اور نصیحت نہیں اور آخرت کے لئے تقویٰ سے بڑھ کر کوئی توشہ نہیں۔
بعد ازاں یہ بتلایا کہ روز جزا کا کسی کو علم نہیں اور کسی کو خبر نہیں کہ میری موت کب آئے گی خوب…
Read the full tafseer →33:۔ ان اللہ الخ، یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے اور اس سے بھی نفی شرک فی العلم مقصود ہے۔ اس آیت میں پانچ امور کے علم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) قیامت کب آئیگی۔ (2) بارش کب ہوگی ؟ (3) مادہ کے رحم میں کیا ہے۔ (4) آدمی کل کیا کرے گا ؟ اور (5) اسے موت کہاں آئے گی ؟ ان پانچوں امور کو مفاتح الغیب یعنی غیب کے خزانے کہا جاتا ہے۔ اور اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب آئیگی تو آپ نے فرما ای فی خمس لا یعلمہن الا اللہ ثم تلا النبی ﷺ ان اللہ عندہ علم الساعۃ الایۃ (صحیح بکاری ص 12، صحیح مسلم ج 1 ص 29،…
Read the full tafseer →ربطہ آیات :
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، پھرت و حید اور شرک کا مسئلہ بیان ہوا اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی ہوگیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کمال اور بعض مشاہدات ِ قدرت کا ذکر کر کے انہیں اپنی توحید پر بطور دلیل پیش کیا ۔ اس کے علاوہ وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور جزائے عمل کا ذکر بھی ہے ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت مختصہ عالم الغیب ہونے کو خاص طور پر بیان کیا ہے ۔
مفتاح الغیب :
اس ضمن میں ان پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے اور کوئی دوسری ذات ان چیزوں کا تفصیلی اور واضح علم نہیں رکھتی ۔ سورة الانعام میں ان…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ 0 ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ 0 ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام 0 ِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا 0 ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 3 4ۧ
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا…
Read the full tafseer →ان اللہ 1 ؎ عندہ علم الساعۃ کہ اس گھڑی کا علم اللہ ہی کو ہے، اس کو اس مصلحت سے مخفی رکھا ہے کہ بندوں کے دل کو ہر وقت کھٹکا رہے، لیکن اس کے قائم ہونے پر دو دلیلیں بیان فرمائیں۔ اول ینزل الغیث کہ وہ مینہ برساتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے۔ دوم ویعلم ما فی الارحام اور رحم میں بچہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کی کیفیت سے وہی آگاہ ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ نر ہے یا مادہ کس شکل کا ہوگا۔ پس جو ابتداء پر قادر ہے وہ اعادہ پر بھی بطریق اولیٰ ۔ دیکھو ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے، اس کا تم کو مفصل علم نہیں، پھر کیا وہ ظہور میں نہیں آتا، اسی طرح قیامت کا معاملہ ہے اور تم تو اپنی معاش اور حیات کے متعلق بھی…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ج وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَـکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 34)
(بےشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں پلتا ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ وہ کس زمین میں
مرے گا، بیشک اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ )
یہ آیت درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کبھی جواب سے پہلے سوال کا بھی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس دن سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔
یقیناً اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی وہی بارش نازل کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔ کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کس جگہ واقع ہوگی۔ یقیناً اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں حتمی طور پر کوئی نہیں جانتا۔
علم قیامت :
کتب حدیث میں قیامت کے بارے میں بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرما دیا ہے کہ قیامت جمعہ…
Read the full tafseer →مفاتیح الغیب :
34: اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کی خبر ہے) ۔ یعنی قیامت کے وقوع کا وقت وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہی بارش برساتا ہے) ۔
قراءت : یُنَزِّل تشدید سے شامی، مدنی، عاصم نے پڑھا ہے۔ اور اس کا عطف اس پر ہے جس کا تقاضا فعل کا ظرف کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ان اللہ یثبت عندہ علم الساعۃ و ینزل۔ الغیثؔ (بارش و بادل) اپنے ظہور میں بغیر تقدیم و تاخیر کے وَ یَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ (اور وہ جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے) آیا مذکر ہے یا مؤنث، کامل یا ناقص وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ (اور کوئی نفس نہیں جانتا) خواہ نیک ہو یا بد ما ذا تتکسب غَدًا (وہ…
Read the full tafseer →34، ان اللہ عندہ علم الساعۃ، اس آیت کا نزول حارث بن عمروبن حارثہ بن محارب بن حفصہ کے بارے میں ہوئی ۔ یہ دیہات میں سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا اور یہ بھی کہا کہ ہماری زمین خشک ہوچکی ہے، بارش کب آئے گی ؟ اور اس شخص نے یہ بھی کہا کہ میری بیوی حاملہ ہے بتا یئے کیا پیدا ہوگا اور جس زمین پر میں پیدا ہوا تھا وہ تو مجھے معلوم ہے لیکن کس جگہ مروں گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وما تدری نفس ماذاتکسب غداوما تدری نفسی بای ارض تموت ، ابی بن کعب نے ، بایہ ارض ، پڑھا ہے ۔ مشہور، بای ارض ، ہے کیوں کہ زمین کی تانیث کی کوئی…
Read the full tafseer →34۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد کی روایت 4 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص دیہاتی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ میری بی بی حاملہ ہے بتلاؤ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی اس گاؤں میں میں رہتا ہوں وہاں مینہ کم برستا ہے بتلاؤ وہاں مینہ کب برسے گا اور یہ بتلاؤ کہ میں کب تک جیوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی صحیح بخاری مسند امام 1 ؎ احمد وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جن پانچ چیزوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ غیب کی کنجیاں ہیں سوائے اللہ اللہ تعالیٰ کے ان پانچ چیزوں کو اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 34
یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا ‘ عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ ‘ لہٰذا فرمایا : (ان اللہ عندہ علم الساعۃ) صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی لا یجلیھا لوقتھا الا ھو ثقلت فی السموٰت والارض لاتاتیکم الا بغتۃ) (الاعراف : 7/781) ”…
Read the full tafseer →علم غیب صرف اللہ کو ہے
قول باری ہے (ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے) اس خطاب کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان امور کی خبر دی ہے جن کا علم صرف اس کی ذات کو ہے اور بندوں کی ان تک رسائی نہیں ہے۔ کسی کو ان باتوں کا علم صرف اسی وقت ہوسکتا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے آگاہ کردیا جائے۔
اپنی بیوی کے حمل سے منکر قاذف نہیں ہوگا
اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ حمل کے وجود حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ اگرچہ ظن غالب کی حد تک اس کے وجود کا احساس ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ…
Read the full tafseer →67 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " بلاشبہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم "۔ یعنی قیامت کا علم کہ وہ کب آئے گی۔ اور قیامت کو " ساعۃ " ۔ " گھڑی " سے تعبیر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اچانک پل بھر میں آجائے گی ۔ { لَا تَأتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ ( الکشاف وغیرہ) ۔ نیز اس لئے کہ وہ اس دنیا کی آخری گھڑی ہوگی ۔ " لاَنِّہَا آخِرُ سَاعَۃِ الدّٰنیا " ۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ آیت کریمہ میں غیوب خمسہ کے بیان کے ضمن میں قیامت کا ذکر جملہ اسمیہ سے فرمایا گیا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ اور ایک ہی اٹل حقیقت ہے۔ اس میں تجدد و استمرار نہیں۔ بخلاف باقیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
اللہ اور اس کا علم ہی کامل ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرتوں میں سے ایک بہت بڑی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سائنسی معجزہ بھی ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کشتیاں جن میں بوجھ ہوتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ وہ پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہیں اور انسان کے ذرائع آمدورفت اور تجارت کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اب تو اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی ہوچکی ہے مگر بنیادی بات تو یہی ہے کہ پانی ہی کشتی کے چلنے کا، تیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ مگر انسان انتہائی ناشکری مخلوق ہے جب کبھی سمندر اور لہروں کے طوفان میں پھنس جاتا ہے مطلب یہ کہ مصیبت میں پھنستا ہے تو اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن جونہی مصیبت ٹلتی ہے اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیات 31 تا 34
اسرارومعارف
اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ بہت بڑے بڑے جہاز کتنے گہرے سمندروں میں تیرتے پھرتے ہیں اللہ کی نعمتیں لادے ہوئے اور بندوں کے لیے رزق کے وسائل لے کر یہ سب عقل تمہیں اس لیے عطا ہوئی ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوسکو جس نے پانی اور لکڑی کو یہ خصوصیات دیں اور تمہیں یہ شعور بخشا مگر یہ سب ایسے لوگوں کی سمجھ میں ہی آسکتا ہے جو ذرا تحمل مزاج اور جذبہء شکر رکھنے والے ہوں ورنہ تو جب سمندری لہریں اٹھی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی بادل بڑھتا آرہا ہو تو یہ سب لوگ بڑے خلوص سے صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اس وقت کوئی اللہ کے بغیر سوجھتا ہی نہیں اور جب اللہ انہیں طوفانوں سے بچا کر زمین…
Read the full tafseer →ف 4 اور یہ کہ نیک یا بد ؟5 اوپر قیامت کے دن سے ڈرایا ہے۔ اب یہاں فرمایا کہ اس کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ (کبیر) بخاری و مسلم اور مسند احمد کی متعدد روایات ہیں آنحضرت نے ان باتوں کو ” غیب کی کنجیاں “ قرار دے کر ان کے متعلق فرمایا ہے کہ انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خود نبی ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو ان باتوں کا یا ان میں سے کسی بات کا علم تھا سراسر باطل ہے اور قیامت کے متعلق تو حضرت جبرئیل والی روایت میں ہے کہ آنحضرت نے ان کے جواب میں فرمایا :” ما المسئول عنھا باعلم من السائل یعنی جس سے سوال کیا جا رہا ہے اس کو سائل سے زیادہ علم نہیں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی…
Read the full tafseer →(31:34) الساعۃ : ای القیامۃ۔
ینزل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ نزل ینزل تنزیل (تفعیل) سے وہ نازل کرتا ہے۔ وہ اتارتا ہے (وہ برساتا ہے) ۔
الغیث۔ بارش۔ مینہ۔ غاث یغیث (ضرب) فعل متعدی ہے۔ غاثنی اس نے مجھ پر بارش کی یہ غیث سے ہے جو اجوف یائی ہے اس کے مشابہ لفظ غوث ہے (مددگار) جو اجوف وادی ہے۔ مادہ غوث ہے ماضی و مضارع اغاث یغیث اغاثۃ آتا ہے (باب افعال) اور باب استفعال میں غیث اور غوث کی ظاہری شکل ایک طرح کی ہوجاتی ہے استغاث اس نے مدد چاہی۔ یا اس نے پانی مانگا
امام راغب نے لکھا ہے :۔ کہ آیت ان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل (18:29) میں دونوں معنی کا احتمال ہے۔ یعنی جب دوزخی مدد طلب کریں گے۔ یا پانی مانگیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34) ۔
صبار (بہت صبر کرنے والا) ۔ شکور (شکر ادا کرنے والا) ۔ ظلل (ظل) (سائے) ۔ مقتصد (سنبھل کر چلنے والا۔ اعتدال پسند آدمی) ۔ لا یجزی (کام نہ آئے گا۔ بدلہ نہ دے گا) ۔ مولود (پیدا کیا گیا (بیٹا) ۔ لاتغرن ( ہرگز تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) ۔ الغرور (دھوکہ۔ فریب) ۔ الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ الغیث (بارش) ۔ الارحام (رحم) (پیٹ) ۔ ماتدری (نہیں جانتا) ۔ غدا (کل صبح۔ آئندہ صبح) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34) ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی کشتیوں اور جہازوں کا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حفاظت سے پہنچنا ہے۔ “
سمندر یا دریا میں جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ عام طور پر…
Read the full tafseer →علم غیب کا ذکر۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت حارث بن عمر و کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر قیامت کے وقت کا دریافت کیا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے خبر دیجئے کہ مینہ کب آئے گا اور میری عورت حاملہ ہے، مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا یالڑ کی ، یہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیا، یہ مجھے بتائیے کہ آئندہ کل کو کیا کروں گا، یہ بھی میں جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا، مجھے یہ بتائیے کہ میں کہاں مروں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں، اور اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے بتائے ، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
[19] یعنی قیامت میں نفسی نفسی کا وہ عالم ہوگا کہ اولاد اور والدین میں سے کوئی ایثار کر کے دوسرے کی مصیبت اپنے سر پر لینے کو تیار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 3: اسلام کہانت اور عیب گوئی ختم کرنے کے لئے آیا ہے اس لئے اس کا دعویٰ ہے کہ کوئی شخص اٹکل سے غیب کی باتوں کو نہیں بناسکتا ۔ کسی شخص میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے جب چاہے سب کچھ معلوم کرلے ۔ چناچہ ارشاد ہے کہ قیامت کا صحیح علم صرف خدا تعالیٰ کو ہوے وہی جانتا ہے کہ کب بارش ہوگی اسی کو علم ہے کہ رحم مادر میں کیا مستشر ہے وہی بتا سکتا وے کہ کل کیا ہونے والا ہے اور کون شخص کہا مرے گا ! خصوصیت کے ساتھ ان چیزوں کو اس لئے بیان فرمایا ہے کہ عرب کے کاہن عموماً انہی چیزوں کے متعلق پیشگوئیاں کرتے تھے اور اس طرح قوم میں اپنی روحانیت کی ڈھاک بٹھاتے تھے ۔
حل لغات :۔ مقتصد ۔ معتدل ۔ ختار ۔ غدار ،…
Read the full tafseer →34۔ بلاش بہ قیامت کی خبر اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور جو کچھ رحم میں ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا با خبر ہے۔
حدیث میں ان آیات کو مفاتیج الغیب فرمایا ہے ان آیات میں علم غیب کے اختصاص کا ذکر ہے ، قیامت کا علم کہ وہ کب آئے گی یا بارش کہاں ہوگی اور کتنی ہوگی اور کس وقت ہوگی ۔ حاملہ عورت کے رحم میں کیا ہے اور ارحام میں کیا ہے خون ہے یا رسولی ہے یا کہلڑی ہے یا بیٹا ہے یا بیٹی ہے اگر اندازا ً کسی کو معلوم ہوجائے یا کی آلے سے پتہ چل جائے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر وعید تھی یوم قیامت کی اور منکرین بقصد انکار اسی کا وقت پوچھا کرتے تھے، اس لئے اس آیت میں (کہ اس کے شان نزول میں بھی بعض لوگوں کا حضور ﷺ سے اس کے متعلق سوال کرنا مذکور ہے) بطور جواب کے اپنا اختصاص علم غیب کے ساتھ ارشاد فرمایا، حاصل جواب یہ ہوا کہ نبی ﷺ کا وقت قیامت کو نہ جاننا مستلزم اس کے عدم وقوع کو نہیں ہے۔
Read the full tafseer →علوم خمسہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لئے خاص ہیں وہی غیوب کا جاننے والا ہے :
34۔ ” اس گھڑی کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے “ (الساعۃ) کے معنی قیامت کی گھڑی ، قیامت کا ذکر قرآن کریم نے بار بار کیا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے مخاطبین اول یعنی قریش مکہ کو اس سے کلی طور پر انکار تھا بلکہ ان کو اس نظریہ سے ایک چڑ سی ہوگئی تھی کیونکہ مکی سورتوں میں سے ایک سورت بھی ایسی نہیں خواہ وہ تین چار آیتوں ہی پر مشتمل کیوں نہ ہو جس میں اس گھڑی کا ذکر نہ کیا گیا ہو بلکہ اس کے لئے استعارات ‘ اشارات اور محاورات سے کام لے کر اس کی بار بار تفصیل سامنے لائی گئی گویا جس چیز سے ان کو چڑ تھی اس چیز کو ان کے سامنے…
Read the full tafseer →إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
Surely, it is Allah with whom rests the knowledge of the Hour, and He sends down the rain, and He knows what is in the wombs. And no one knows what he will earn tomorrow and no one knows in which land he will die. Surely, Allah is All Knowing, All Aware - 31:34.
Though, it has not been made explicit in the first three things that no one has their knowledge other than Allah, but the style of the statement…
Read the full tafseer →63 This verse is, in fact an answer to the disbelievers' question as to when the Hour of Resurrection will come, which they asked when they heard the Holy Prophet mention it and the promise of the Hereafter, again and again. The Qur'an has answered this sometimes by citing the question and sometimes without citing it, because the addressees knew what they were asking. This is one of those verses which answer the question without citing the question itself.
The first sentence: 'AIIah alone has the knowledge of the Hour", is the real answer to the question. The four sentences that follow…
Read the full tafseer →