Explained with ayahs 58–60
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق
حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
سورة الروم 83
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرو " اس لیے کہ توبہ اور ایمان اور عمل صالح کی طرف رجوع کرنے کے سارے مواقع کو وہ کھو چکے ہوں گے اور امتحان کا وقت ختم ہو کر فیصلے کی گھڑی آچکی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس…
Read the full tafseer →کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (59)
یعنی جو لوگ اپنے آپ کو سمع و بصرا اور دل کی صلاحیتوں سے محروم کرلیتے ہیں اور کوئی معقول بات سننا سمجھنا نہیں چاہتے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58-1جن سے اللہ کی توحید کا اثبات اور رسولوں کی صداقت واضح ہوتی ہے اور اسی طرح شرک کی تردید اور اس کا باطل ہونا نمایاں ہوتا ہے۔
58-2وہ قرآن کریم کی پیش کردہ کوئی دلیل ہو یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی معجزہ وغیرہ
58-3یعنی جادو وغیرہ کے پیروکار، مطلب یہ ہے کہ بڑی سے بڑی نشانی اور واضح سے واضح دلیل بھی اگر وہ دیکھ لیں، تب بھی ایمان بہرحال نہیں لائیں گے، کیوں ؟ اس کی وجہ آگے بیان کردی گئی ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کا کفر و طغیان اس آخری حد کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد حق کی طرف واپسی کے تمام راستے ان کے لیے مسدود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)
سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات…
Read the full tafseer →7 یعنی جو آدمی نہ سمجھے، نہ سمجھنے کی کوشش کرے اور ضد وعناد سے ہر بات کا انکار کرتا رہے اور اسی طرح شدہ شدہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور آخرکار ضد وعناد سے دل اتنا سخت ہوجاتا ہے کہ قبول حق کی استعداد بھی ضائع کر بیٹھتا ہے۔ العیاذ باللہ !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت 60 فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ”
جیسا کہ قبل ازیں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن میں بہت سے مقامات پر صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے مگر دراصل آپ ﷺ کی وساطت سے تمام اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا…
Read the full tafseer →65 یعنی جب لوگوں کا بغض وعناد اور ضد اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ کوئی سچی بات قبول کرنے کو تیار نہ ہوں۔ تو عین یہی وقت ہوتا ہے جب اللہ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ان لوگوں میں حق کو قبول کرنے کی استعداد ختم ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →78۔ (ان کی شدت عناد اور حق ناشناسی کی بناء پر) اور وہ دلوں پر مہر لگنا یہی ہے کہ روز بروز ان کی قبول حق کی استعداد ضعیف ومضمحل ہوتی جاتی ہے۔ (آیت) ” الذین لایعلمون “۔ کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں یہ وہ لوگ جن کے دلوں میں علم صحیح کی طلب نہیں ہوتی۔ اے لایطلبون العلم (بیضاوی۔ روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…
Read the full tafseer →کذلک . اسی طرح۔ یعنی جس طرح ہم نے مکہ کے کافروں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اسی طرح۔
یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون اللہ ٹھپہ لگا دیتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو (ا اللہ کی توحید کو) نہیں جانتے۔
لَا یَعْلَمُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی توحید سے ناواقف ہیں ‘ یا یہ مراد ہے کہ ان کو علم کی طلب ہی نہیں ہے ‘ اپنے بےہودہ عقائد پر جمے ہوئے ہیں۔ جہل مرکب معرفت حق سے روکتا ہے اور تکذیب حق پر آمادہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ توحید خداوندی کا اقرار نہیں کرتے اور نہ اس کا یقین کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر اسی طرح مہر کردیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ۔۔ : یعنی جن کے دل صحیح علم سے کورے ہوتے ہیں اور وہ ہٹ دھرمی سے ہر بات کا انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں، بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں قبول حق کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ہر قسم کی مثال جو ان کی رہنمائی کرتی ہے جس کے وہ محتاج ہیں اور انہیں توحید اور رسولوں کی صداقت پر آگاہ کرتی ہے۔ ولئن جئتھم بایت آیہ سے مراد معجزہ ہے جس طرح سمندر کا پھٹنا، عصا اور دوسرے معجزات۔ لیقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطلون کافر مومنوں کہیں گے : تم باطل اور جادو کی اتباع کرتے ہو۔ کذلک جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے والی آیات کو نہیں سمجھتے، اسی طرح یطبع اللہ علی قلوب الذین لایعلمون اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو توحید کے اولہ کو نہیں جانتے۔ فاصبر ان وعد اللہ حق ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ [اس طرح چھاپ لگا دیتا ہے اللہ ] عَلٰي قُلُوْبِ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کے دلوں پر جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ [علم نہیں رکھتے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
قرآن عمدہ مضامین پر مشتمل ہے، معاندین کو حق ماننا نہیں ہے آپ صبر سے کام لیں، اللہ کا وعدہ حق ہے
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے۔ اول تو یہ بتایا کہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی عمدہ باتیں بتادی ہیں ان میں جو کوئی شخص غورو فکر کرے گا تو اس کے ذہن پر یہ وارد ہوگا کہ قرآن حق ہے اور قرآن کا ہر بیان حق ہے، قرآن اور صاحب القرآن ﷺ کی دعوت حق ہے، لیکن جو لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں اور ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ رکھی ہے وہ بات ماننے والے نہیں ہیں، یہ قرآن خود ایک معجزہ ہے، اس کے علاوہ بھی جتنے معجزے اور آیات آپ پیش فرما دیں کافر لوگ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یوں ہی کہیں گے کہ تم لوگ باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
خاتمہ سورت بر اعجاز قرآن
قال اللہ تعالیٰ ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یستخفنک الذین لا یؤقنون۔
(ربط) سورت کا آغاز ایک دلیل نبوت سے فرمایا اب اس سورت کو پھر ایک دلیل نبوت پر ختم کرتے ہیں کہ یہ قرآن عجیب و غریب کتاب حکمت اور دستور ہدایت ہے اس کی خوبی پر نظر کرو تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ آسمانی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے جو قیامت تک باقی رہے گی انبیا سابقین کے معجزات ختم ہوگئے مگر قرآن ایسا معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا اور ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان مشرکین کے عناد اور جہالت پر صبر کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو فتح ونصرت کا…
Read the full tafseer →46:۔ کاف بمعنی لام تعلیلیہ ہے اور ذلک سے تکذیب کی طرف اشارہ ہے جو ماقبل سے مفہوم ہے یعنی ضد وعناد کی بنا پر تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے معاندین کے دلوں پر مہرجباریت لگا دیتا ہے جو حق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اہواء و خرافات کی پیروی میں اپنی عمر کھو دیتے ہیں۔ لا یعلمون لا یطلبون العلم ولا یتحرون الھق بل یصرون علی خرافات اعتقدوھا وترھات ابتدعوہا (ابو السعود ج 6 ص 732) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کے تین ادوار کا ذکر کیا ہے۔ انسان کی پیدائش اور بچپن کمزوری اور ناتوانی کا دور ہوتا ہے۔ پھر جب وہ سن بلوغت کو پہنچتا ہے تو یہ اس کی قوت کا زمانہ ہوتا ہے۔ آخر میں پھر انسان کے اعضا کمزور پڑنے…
بیان کی ہے ، عربی زبان میں ضرب کا معنی مارنا ، سفر کرنا اور بیان کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس مقا م پر مراد بیان کرنا ہی ہے۔ اللہ نے مختلف سورتوں میں تقریب فہم کے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائی ہیں ، چناچہ کلی سورة لقمان میں مسئلہ توحید سے متعلق مثال بیان کی گئی ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق مثالیں سورة اعراف و سورة حج میں گزر چکی ہیں۔ نور خداوندی…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 59
طبع
الطَّبْعُ : أن تصوّر الشیء بصورة مّا، كَطَبْعِ السّكّةِ ، وطَبْعِ الدّراهمِ ، وهو أعمّ من الختم وأخصّ من النّقش، والطَّابَعُ والخاتم : ما يُطْبَعُ ويختم . والطَّابِعُ : فاعل ذلك، وقیل للطَّابَعِ طَابِعٌ ، وذلک کتسمية الفعل إلى الآلة، نحو : سيف قاطع . قال تعالی: فَطُبِعَ عَلى قُلُوبِهِمْ [ المنافقون/ 3] ،
( ط ب ع ) الطبع
کے اصل معنی کسی چیز کو ( ڈھال کر) کوئی شکل دینا کے ہیں مثلا طبع السکۃ اوطبع الدراھم یعنی سکہ یا دراہم کو ڈھالنا یہ ختم سے زیادہ عام اور نقش سے زیادہ خاص ہے ۔ اور وہ آلہ جس سے مہر لگائی جائے اسے طابع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ترکیب : من کل مثل فی محل النصب لکونہ مفعولا بضربنا ای بیناہ و للناس متعلق بضربنا ای ان القرآن مشحون بقصص و اخبار کلھا کالمثل السائر فی غراب تھا و حسن مواقعھا فصار القرآن فی کل ماجاء بہ کالا مثال السائرۃ حتی لا یجمھا الطبائع الصافیۃ کذالک اے مثل ذلک الطبع۔
تفسیر : مسئلہ معاد کے بعد مسئلہ رسالت پر کس لطف کے ساتھ کلام تمام کرتا ہے۔ فقال و لقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل مسئلہ رسالت کی بابت دو باتیں ہیں۔ اول سب سے بڑھ کر اس کتاب کی خوبی پر نظر کی جاتی ہے کہ جس کو رسول اللہ کا دستور العمل بتلاکر عالم کو اس پر چلنے کا حکم دیتا ہے اور جس کو اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کہتا ہے، کیونکہ اس کتاب میں…
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 59)
(اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیا کرتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو جاننا نہیں چاہتے۔ )
ہٹ دھرمی دلوں پر مہر کا باعث بنتی ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب لوگ کسی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں اور معقولیت کی بجائے جہالت کا طرز اپنا لیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سمع و بصر اور دماغ و دل سے بہرہ ور فرمایا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ یعنی قبولیتِ ایمان اور حق کو سمجھنے کی صلاحیت ان سے سلب کرلی جاتی ہے۔ اب اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کی معذرتیں اس لیے قبول نہیں ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں ہر طرح کی مثالیں دے کر انہیں سمجھایا ہے۔
اس فرمان کے دو مطالب ہیں ایک طرف قبل از وقت مجرموں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفر و شرک پر تکرار جاری رکھا تو یاد رکھو وہ دن دور نہیں جب تم اپنے کیے پر معذرتیں کروگے لیکن تمہاری معذرتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جائے گا لہٰذا سنبھلنا چاہتے ہو تو آج موقعہ ہے سنبھل جاؤ ورنہ پچھتاوے کے سو اکچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف نبی کریم ﷺ کو تسلّی دی گئی ہے کہ اگر آپ ان کے سامنے مزید دلائل اور معجزے پیش کریں تو پھر بھی یہ لوگ آپ پر…
Read the full tafseer →59: کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الَّذِیْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لَا یَعْلَمُوْنَ (جو نہیں جانتے) یعنی اس مہر کرنے کی طرح (الطبعؔ : مہر) اللہ تعالیٰ جہلاء کے دلوں پر مہر کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ گمراہی کو پسند کریں گے یہاں تک کہ انہوں نے حق پرستوں کو باطل والا قرار دیا حالانکہ وہ بذات خود اس گمراہی کی صفت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
Read the full tafseer →59، کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون ، اللہ تعالیٰ کی توحید کو نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55 تا 59۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
آیت نمبر : 58 ۔ 60
(ولقد ضربنا) ” اور ہم نے بیان کی “ اپنی عنایت ‘ رحمت ‘ لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر (للناس فی ھذا القران من کل مثل) ” لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال “ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں ‘ تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہوچکی ہے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
83 صبر واستقامت سے کام لینے کی ہدایت : سو اس سے پیغمبر کو صبر و استقامت سے کام لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ صبر و ضبط سے کام لیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور کبھی ہلکا نہ پائیں آپ وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے "۔ پس آپ ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے مقابلے میں صبر و ضبط اور ثبات و استقامت ہی سے کام لیتے رہیں۔ آپ کے رب نے آپ ﷺ سے دین حق کے غلبہ اور آپ ﷺ کی نصرت و امداد کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ سو وہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ پاک اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور لوگوں کا یہ سلوک و رویہ آپ ﷺ کے لئے قلق و اضطراب اور خفت و بےصبری کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–60
گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت
تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرارومعارف
اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی جن کے دل صحیح علم سے کورے ہوتے ہیں اور وہ ہٹ دھرمی سے ہر بات سے انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں قبول حق کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(30:59) کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون ۔ اس طرح مہر کردیتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھتے نہیں ہیں۔ یعنی جب وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو اور اس کی صریح مثالوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور نتیجۃً یقین و ایمان سے عاری رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مہر کردیتے ہیں اور پھر وہ حق کو بھی ناحق سمجھنے لگتے ہیں اور خدا کی صریح آیات کو اور پیغمبر کے معجزات کا کبھی سحر سے تشبیہ دیتے ہیں اور کبھی کاہن کے کرشمے بتاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشافرماتا ہے کہ تم انکی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اسوعدہ کو ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے آخربدر کی لڑائی کے وقت اور فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ بدر کی لڑائی میں بڑے بڑے مخالف دین مارے گئے اللہ تعالیٰ سچا ہے ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
[31] اشارہ ہے اس وعدہ نصرت کی طرف جس کا ذکر سورت کی آیت 47 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ تم ان بدبختوں کے ضد وعناد سے رنجیدہ نہ ہو اور صبرواستقلال کے ساتھ اپنے دعوۃ و اصلاح کے کام میں لگے رہو۔ اللہ نے تم سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور اسے پورا کرے گا۔
[32] یعنی ان بدعقیدہ اور بےیقین لوگوں کی طرف سے خواہ کیسی بات پیش آئے مگر ایسا نہ ہو کہ تم برداشت نہ کرسکو اور ان سے دب جاؤ یا مرعوب ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
غرض یہ ہے ۔ جہاں تک سمجھانے اور حقائق کو دل تک اتارنے کا تعلق ہے ۔ قرآن حکیم کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔ ہر نوع کے استدلال اور ہر قسم کے استنباط سے م لیا ہے ایک جاہل سے لے کر فاضل فلسفی تک کے لئے ذہنیتوں کا خیال ما ہے ۔ سادی باتیں بتائی ہیں ۔ اور حکیمانہ انداز میں اختیار کیا ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ عبرت پذیری کے لئے جرتد ذریعے افہام و تفہیم کے ہوسکتے ہیں وہ سب قرآن میں موجود ہیں مگر منکرین کو کیا کیا جائے ۔ کہ ان کو اس میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ۔ وہ دلائل اور مشاہدات دیکھتے ہوئے بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے واقعات کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ ان کے دلوں میں ہدایت کو قبول کرنے کی استعداد…
Read the full tafseer →59۔ جو لوگ یقین نہیں لاتے اللہ تعالیٰ پر اسی طرح ان کے دلوں پر مہرکر دیا کرتا ہے۔ یعنی جن کا کفر عناد بڑھتاجاتا ہے قبول حق کی صلاحیت کمزور پڑتی چلی جاتی ہے تا آنکہ قبول حق کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہتی اسی کو فرمایا۔ یطبع اللہ یعنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا باقی نہ رہنا ہی مہر اور چھاپ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگا دی جاتی ہے جس طرح یہ قاعدہ ہے اسی طرح ان لوگوں کے قلوب پر جو دلائل سے قائل نہیں ہوتے اور یقین نہیں لاتے اللہ تعالیٰ ان کے قلوب پر مہر لگا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 7۔ یعنی روزانہ استعداد قبول حق کی مضمحل و ضعیف ہوتی جاتی ہے، اس لئے انقیاد میں ضعف اور عناد میں قوت بڑھتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ کبھی سمجھنے کے نہیں ہیں :
59۔ بلاشبہ جاہل اور نادان لوگوں کے دلوں پر اس طرح مسلسل انکار پر اصرار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے جس کے بعد وہ حق اور صداقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے رہی یہ بات کہ اس مہر لگانے کا مطلب کیا ہے اور وہ کیونکر لگائی جاتی ہے ؟ اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة البقرہ کی آیت 7 میں بیان کرچکے ہیں اور عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 179 میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے لہذا وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour'. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
84 The allusion is to the promise made in verse 47 above. There, AIIah has mentioned His way of taking vengeance on those criminals who denied and resisted and ridiculed the clear Signs brought by the Messengers of AIIah stubbornly, and of helping the believers.
85 That is, "Let not the enemies find you so weak as to suppress you by their uproar, nor to cow you by their campaign of slander-mongering, nor to dishearten you by their jesting, taunts and derision, nor frighten you by their threats, show of power and persecution, nor allure you by offering baits, nor make you effect a compromise…
Read the full tafseer →