Ar-Room 30:60

Ar-Room · from ayah 60

30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ ۟۠فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So be patient. Indeed, the promise of Allah is truth. And let them not disquiet you who are not certain [in faith].

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:60

پس (اے نبیؐ) صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، یقین جانو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے ان کی وجہ سے تم ڈھیلے پڑجاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو صبرکرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ صبر کیجئے، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے، جو لوگ یقین نہیں رکھتے کہیں (ان کی گمراہی کا غم اور ہدایت کی فکر) آپ کو کمزور ہی نہ کر دیں۔ (اے جانِ جہاں! ان کے کفر کو غمِ جاں نہ بنا لیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ لوگ تجھے ہرگز ہلکا نہ کردیں جو یقین نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آپ صبر کیجئے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے وہ آپ کو ہلکا بنادیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم صبر کرو، بیشک اللہ کا وعدہ شدنی ہے اور یہ یقین نہ رکھنے والے تم کو بےوزن نہ بنانے پائیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز کبھی آپ کو ہلکا نہ پائیں (اے پیغمبر !) وہ لوگ جو (ایمان و) یقین نہیں رکھتے

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور جو لوگ بےیقین ہیں کہیں آپ کو بےبرداشت نہ کردیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ ﷺ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پس آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور دیکھو جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو اوچھا نہ بنا دیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Therefore, (O Prophet), have patience. Surely Allah's promise is true. Let those who lack certainty not cause you to be unsteady.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, be patient. Surely Allah‘s promise is true, and let not the disbelievers shake your firmness.

— Muhammad Taqi Usmani

So, be patient. Surely Allah‘s promise is true, and let not the disbelievers shake your firmness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So be patient. Verily, the promise of Allah is true; and let not those who have no certainty of faith discourage you (from conveying Allah's Message).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So have patience (O Muhammad)! Allah's promise is the very truth, and let not those who have no certainty make thee impatient.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So be patient. Indeed, the promise of Allah is truth. And let them not disquiet you who are not certain [in faith].

— Saheeh International

Be patient. The promise of God is certainly true. Let not the faithless make you despair of the promise of God.

— Muhammad Sarwar

Therefore be patient; surely the promise of Allah is true and let not those who have no certainty hold you in light estimation.

— Muhammad Habib Shakir

So have thou patience; verily the promise of Allah is true. And let not make thee impatient those who have no conviction.

— Abdul Majid Daryabadi

So patiently persevere: for verily the promise of Allah is true: nor let those shake thy firmness, who have (themselves) no certainty of faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–60

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 84 اشارہ ہے اس وعدے کی طرف جو اوپر آیت نمبر 47 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ سنت بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی بینات کا مقابلہ تکذیب و تضحیک اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کیا ہے اللہ نے ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیا ہے (فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا) اور اللہ پر یہ حق ہے کہ مومنوں کی نصرت فرمائے (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ)۔ سورة الروم 85 یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شور و غوغا سے تم دب جاؤ، یا ان کی بہتان و افترا کی مہم سے تم مرعوب ہوجاؤ، یا ان کی پھبتیوں اور طعنوں اور تضحیک و استہزاء سے تم پست…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–60

آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاصبرو ان وعدہ اللہ حق ولا یستخفنک الذین لا یوقنون (60) ’ استخفاف ‘ کے معنی کسی کو ہلکا پھلکا اور معمولی سمجھ کر باتوں میں اڑا دینا اور اس کو بےوزن بنا دینا ہے۔ اب یہ آخرت میں نہایت قطعی الفاظ میں آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا کہ تم اپنے موقف پر۔۔ رہو۔ الہنے دنیا اور آخرت میں تمہاری نصرت اور فلاح کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کے رہے گا تو یہ لوگ جو اللہ کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں تمہارا مذاق اڑا کر تمہیں بےوزن بنانے کا موقع نہ پائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی دعوت اور اپنے موقف پر جمے رہے تو یہ خود رسوا اور بےوزن ہوں گے۔ تمہارے قدم اکھاڑنے کی جو کوششیں یہ کر رہے ہیں یہ سب ناکام ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60-1یعنی ان کی مخالفت وعناد پر اور ان کی تکلیف دہ باتوں پر، اس لئے کہ اللہ نے آپ سے مدد کا وعدہ کیا ہے، یقینا حق ہے جو بہر صورت پورا ہوگا۔ 60-2یعنی آپ کو غضب ناک کر کے صبر و حلم ترک کرنے یا خوش آمد پر مجبور نہ کردیں بلکہ آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور اس سے انحراف نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 58–60

ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59) سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جب ان بدبختوں کا حال ضد وعناد کے اس درجہ پر پہنچ گیا تو آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ بلکہ پیغمبرانہ صبر و تحمل کے ساتھ اپنے دعوت و اصلاح کے کام میں لگے رہیں۔ اللہ نے جو آپ سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے یقینا پورا کر کے رہے گا۔ اس میں رتی برابر تفاوت و تخلف نہیں ہوسکتا۔ آپ اپنے کام پر جمے رہیے۔ یہ بد عقیدہ اور بےیقین لوگ آپ کو ذرا بھی آپ کے مقام سے جنبش نہ دے سکیں گے۔ تم سورة الروم وللہ الحمد والمنہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 59–60

آیت 60 فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ” جیسا کہ قبل ازیں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن میں بہت سے مقامات پر صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے مگر دراصل آپ ﷺ کی وساطت سے تمام اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 اللہ کا یہ وعدہ اس سورة کی آیت نمبر 47 میں گزر چکا ہے اور وہ یہ ہے (حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47؀) 30 ۔ الروم :47) یعنی اللہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مومنوں کی مدد کرے۔ آپ کفار کی ایذاؤں پر صبر کیجئے خود بھی اور مسلمانوں کو بھی صبر و برداشت کی تلقین کیجئے۔ اللہ کا وعدہ اپنے وقت پر پورا ہو کے رہے گا۔ 67 یعنی ان کافروں کی مکاریوں اور سازشوں سے، ان کے مذاق و تمسخر سے، ان اسلام دشمن کارروائیوں سے، ان کی ایذاؤں اور مظالم سے، ان کے منافقانہ سمجھوتوں کی کوششوں سے اور ان کی دھمکیوں سے آپ کے پائے ثبات میں ہرگز لغزش نہ آنی چاہئے اور ان کو اسی بات کا یقین آجانا چاہئے کہ آپ اپنے مشن میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ (کہ حق ایک روز منصور وکامیاب اور باطل بالآخرکام وسرنگوں ہو کر رہے گا) 80۔ یعنی حالات کیسے ہی سخت اور صبر آزما ہوں، آپ کے ہاتھ سے دامن صبر ومتانت و استقامت کسی حال میں بھی نہ چھوٹنے پائے، اور بےعقیدہ، بےایمان لوگوں کو کوئی سا موقع ہنسی کا یا طنز کا نہ ملنے پائے۔ آیت میں تعلیم ہے ساری امت کے لئے۔ اکابر امت کو تو خصوصا اپنے حال کا رکھ رکھاؤ چاہیے کہ حتی الامکان کافروں، فاجروں کو کوئی موقع اعتراض کا ہاتھ نہ لگنے پائے۔ (آیت) ” لا یستخلفنک “۔ خطاب براہ راست رسول سے ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے امت سے ہے۔ والخطاب للنبی ﷺ والمراد امتہ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–60

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر ان وعد اللہ حق . سو آپ (ان کی اذیت رسانی پر) صبر کیجئے کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یعنی اللہ نے جب آپ کی مدد کرنے کا اور آپ کے مذہب کو تمام مذاہب پر غالب بنا دینے کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ سچا ہے ‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ ولا یستخفنک الذین لا یوقنون . اور ایمان نہ رکھنے والے لوگ (آپ کو ایذائیں پہنچا کر اور آپ کی تکذیب کر کے) آپ کو غیرمتحمل نہ بنا پائیں۔ یا لاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بےیقین لوگ آپ کو نادانی اور گمراہی کی پیروی پر آمادہ نہ کر پائیں۔ بحمد اللہ سورة روم کی تفسیر 15/ رجب 1206 ھ ؁ کو ختم ہوئی۔ اس کے بعد انشاء اللہ سورة لقمان کی تفسیر شروع ہوگی۔ الحمد اللہ والمنتہ لہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد ﷺ آپ صبر کیجیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ وہ آپ کی مدد فرمائے گا اور ان کو ہلاک کرے گا سچا ہے اور وہ ضرور واقع ہوگا اور یہ بدیقین یعنی کفار مکہ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں آپ کو بےبرداشت نہ کرنے پائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ۔۔ : اللہ کا یہ وعدہ اس سورت کی آیت (47) میں گزر چکا ہے، فرمایا : (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ)”اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہی تھا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے ذمے لے رکھا ہے، اس لیے آپ صبر کریں اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے آپ کو کسی موقع پر ہلکا نہ کردیں کہ آپ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں، بلکہ خوب مستحکم اور مضبوط ہو کر اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 58–60

ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ہر قسم کی مثال جو ان کی رہنمائی کرتی ہے جس کے وہ محتاج ہیں اور انہیں توحید اور رسولوں کی صداقت پر آگاہ کرتی ہے۔ ولئن جئتھم بایت آیہ سے مراد معجزہ ہے جس طرح سمندر کا پھٹنا، عصا اور دوسرے معجزات۔ لیقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطلون کافر مومنوں کہیں گے : تم باطل اور جادو کی اتباع کرتے ہو۔ کذلک جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے والی آیات کو نہیں سمجھتے، اسی طرح یطبع اللہ علی قلوب الذین لایعلمون اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو توحید کے اولہ کو نہیں جانتے۔ فاصبر ان وعد اللہ حق ان کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–60

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاصْبِرْ [پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ [یقینا اللہ کا وعدہ برحق ہے ] وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ [اور ہرگز ہلکا سمجھیں آپ ﷺ کو ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] لَا يُوْقِنُوْنَ [یقین نہیں رکھتے ] ۔ نوٹ۔ 1: کسی کو اپنی قوت و صلاحیت اور اپنے اسباب و وسائل پر ناز نہیں ہونا چاہیے۔ جو کچھ بھی انسان کو ملتا ہے سب خدا کا ہی دیا ہوا ملتا ہے پھر اسی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تم اپنے وجود پر ہی غور کرو۔ اللہ تعالیٰ کمزور ناتواں حالت میں تم کو وجود بخشتا ہے۔ اس کے بعد پھر جوانی کی توانائیاں اور صلاحتیں عطا فرماتا ہے۔ اس کے بعد پھر بڑھاپے کی صورت میں نا توانی کا دور عود کر آتا ہے۔ کسی کے امکان میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–60

قرآن عمدہ مضامین پر مشتمل ہے، معاندین کو حق ماننا نہیں ہے آپ صبر سے کام لیں، اللہ کا وعدہ حق ہے یہ تین آیات کا ترجمہ ہے۔ اول تو یہ بتایا کہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی عمدہ باتیں بتادی ہیں ان میں جو کوئی شخص غورو فکر کرے گا تو اس کے ذہن پر یہ وارد ہوگا کہ قرآن حق ہے اور قرآن کا ہر بیان حق ہے، قرآن اور صاحب القرآن ﷺ کی دعوت حق ہے، لیکن جو لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں اور ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ رکھی ہے وہ بات ماننے والے نہیں ہیں، یہ قرآن خود ایک معجزہ ہے، اس کے علاوہ بھی جتنے معجزے اور آیات آپ پیش فرما دیں کافر لوگ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یوں ہی کہیں گے کہ تم لوگ باطل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–60

خاتمہ سورت بر اعجاز قرآن قال اللہ تعالیٰ ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یستخفنک الذین لا یؤقنون۔ (ربط) سورت کا آغاز ایک دلیل نبوت سے فرمایا اب اس سورت کو پھر ایک دلیل نبوت پر ختم کرتے ہیں کہ یہ قرآن عجیب و غریب کتاب حکمت اور دستور ہدایت ہے اس کی خوبی پر نظر کرو تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ آسمانی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے جو قیامت تک باقی رہے گی انبیا سابقین کے معجزات ختم ہوگئے مگر قرآن ایسا معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا اور ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان مشرکین کے عناد اور جہالت پر صبر کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو فتح ونصرت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور وعدہ نصرت کا دوسری بار اعادہ ہے۔ اگر معاندین اتنے واضح بیانات کے باوجود انکار سے باز نہیں آتے تو آپ آزردہ خاطر اور ملول نہ ہوں، ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت حق ہے۔ اللہ تعالیٰ لا محالہ آپ کے دشمنوں کو ذلیل ورسوا اور مقہور و مغلوب کرے گا اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو بدر میں ان پر فتح و غلبہ عطا فرمائے گا۔ ولا یستخفنک الخ ان منکرین توحید و رسالت اور جاحدین بعث و نشور کا معاندانہ رویہ آپ کی گھبراہٹ یا عجلت میں ان کے لیے بد دعا کرنے کا باعث نہ بننے پائے کیونکہ اگر وہ اسی ڈگر پر قائم رہے تو ہمارا عذاب ان پر آکر رہے گا۔ ای لایحملنک ھؤلاء…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–60

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کے تین ادوار کا ذکر کیا ہے۔ انسان کی پیدائش اور بچپن کمزوری اور ناتوانی کا دور ہوتا ہے۔ پھر جب وہ سن بلوغت کو پہنچتا ہے تو یہ اس کی قوت کا زمانہ ہوتا ہے۔ آخر میں پھر انسان کے اعضا کمزور پڑنے… بیان کی ہے ، عربی زبان میں ضرب کا معنی مارنا ، سفر کرنا اور بیان کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس مقا م پر مراد بیان کرنا ہی ہے۔ اللہ نے مختلف سورتوں میں تقریب فہم کے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائی ہیں ، چناچہ کلی سورة لقمان میں مسئلہ توحید سے متعلق مثال بیان کی گئی ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق مثالیں سورة اعراف و سورة حج میں گزر چکی ہیں۔ نور خداوندی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ۝ 60ۧ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 58–60

ترکیب : من کل مثل فی محل النصب لکونہ مفعولا بضربنا ای بیناہ و للناس متعلق بضربنا ای ان القرآن مشحون بقصص و اخبار کلھا کالمثل السائر فی غراب تھا و حسن مواقعھا فصار القرآن فی کل ماجاء بہ کالا مثال السائرۃ حتی لا یجمھا الطبائع الصافیۃ کذالک اے مثل ذلک الطبع۔ تفسیر : مسئلہ معاد کے بعد مسئلہ رسالت پر کس لطف کے ساتھ کلام تمام کرتا ہے۔ فقال و لقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل مسئلہ رسالت کی بابت دو باتیں ہیں۔ اول سب سے بڑھ کر اس کتاب کی خوبی پر نظر کی جاتی ہے کہ جس کو رسول اللہ کا دستور العمل بتلاکر عالم کو اس پر چلنے کا حکم دیتا ہے اور جس کو اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کہتا ہے، کیونکہ اس کتاب میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلاَ یَسْتَخِفَّـنَّـکَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْقِنُوَنَ ۔ (الروم : 60) (پس اے پیغمبر ! آپ صبر کریں، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلکا نہ پائیں آپ کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔ ) دعوت کے راستے کی فیصلہ کن ہدایت آیتِ کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن روئے سخن صحابہ کرام ( رض) سے لے کر قیامت تک آپ ﷺ کی امت کی طرف ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی جس کشمکش سے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والے گزر رہے تھے وہ آپ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہر دور میں یہ کشمکش جاری رہے گی۔ اہل حق کو ہر طرح کے حالات سے سابقہ پیش آتا رہے گا۔ کیونکہ : ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–60

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی معذرتیں اس لیے قبول نہیں ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں ہر طرح کی مثالیں دے کر انہیں سمجھایا ہے۔ اس فرمان کے دو مطالب ہیں ایک طرف قبل از وقت مجرموں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفر و شرک پر تکرار جاری رکھا تو یاد رکھو وہ دن دور نہیں جب تم اپنے کیے پر معذرتیں کروگے لیکن تمہاری معذرتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جائے گا لہٰذا سنبھلنا چاہتے ہو تو آج موقعہ ہے سنبھل جاؤ ورنہ پچھتاوے کے سو اکچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف نبی کریم ﷺ کو تسلّی دی گئی ہے کہ اگر آپ ان کے سامنے مزید دلائل اور معجزے پیش کریں تو پھر بھی یہ لوگ آپ پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلی رسول ﷺ : 60: فَاصْبِرْ (سو آپ صبر کیجئے) پس آپ ان کی ایذاء پر صبر کریں یا ان کی عداوت و دشمنی پر صبر کریں۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) جو اس نے تیرے دشمنوں کے خلاف تیری مدد کے متعلق کر رکھا ہے اور اسلام کو ہر دین پر غلبہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے یقینا سچا ہیحَقٌّ (برحق ہے) اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اور پورا کرنا لازمی ہے۔ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ (اور ہرگز آپ کو وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے خفت پر آمادہ نہ کردیں) یعنی نمبر 1۔ یہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے آپ کو ہلکے پن اور بددعا میں عجلت پر آمادہ نہ کردیں۔ نمبر 1۔ اپنے اقوال و افعال سے گھبراہٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60، فاصبر ان وعداللہ حق، تمہاری مدد اور تمہارے دشمن پر اظہارحق کرنے میں ۔ ، ولا یستخفنک ، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ بےیقین لوگ آپ کی نادانی اور گمراہی کی پیروی پر آمادہ نہ کر پائیں ۔ ، الذین لا یوقنون، دوبارہ زندہ ہونے اور حساب پر یقین نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

60۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ تم ان کی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک خدا تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ اپنے اس وعدہ کو ضرور ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ جو اللہ پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور نہ اس کے رسولوں کو سچا چانتے ہیں اور نہ خدا کی کتابوں پر اور بعد مرنے کے جی اٹھنے پر ایمان لانے ہیں تمہیں آیندہ کی نصحیت سے بےدل کردیں اس لیے تم کو چاہئے کہ جس طریقہ پر تم کو خدا تعالیٰ نے رسول کرکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–60

آیت نمبر : 58 ۔ 60 (ولقد ضربنا) ” اور ہم نے بیان کی “ اپنی عنایت ‘ رحمت ‘ لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر (للناس فی ھذا القران من کل مثل) ” لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال “ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں ‘ تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہوچکی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–60

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 59–60

83 صبر واستقامت سے کام لینے کی ہدایت : سو اس سے پیغمبر کو صبر و استقامت سے کام لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ صبر و ضبط سے کام لیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور کبھی ہلکا نہ پائیں آپ وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے "۔ پس آپ ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے مقابلے میں صبر و ضبط اور ثبات و استقامت ہی سے کام لیتے رہیں۔ آپ کے رب نے آپ ﷺ سے دین حق کے غلبہ اور آپ ﷺ کی نصرت و امداد کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ سو وہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ پاک اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور لوگوں کا یہ سلوک و رویہ آپ ﷺ کے لئے قلق و اضطراب اور خفت و بےصبری کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–60

گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–60

آیات 54 تا 60 اسرارومعارف اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:60) لایستخفن۔ مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ استخفاف (اسفتعال) مصدر خفیف سے۔ خ، ف، ف، مادہ۔ الخفیف اس کے مختلف معانی ہیں :۔ (1) وزن کے لحاظ سے ہلکا ہونا۔ ثقیل کے مقابلہ میں۔ (2) تقابل زمانی کے اعتبار سے سبک رفتار کو خفیف اور سست رفتار کو ثقیل کہیں گے۔ (3) جو ثیز طبیعت کو خوش کر دے اسے خفیف اور جو طبیعت پر گراں گزرے اسے ثقیل کہتے ہیں۔ (4) جو شخص جلد طیش میں آجائے اسے خفیف اور جو پروقار ہوا سے ثقیل کہا جاتا ہے۔ (5) جو شخص سطحی اقدار کا مالک ہو اور ان سے بھر جانے میں دیر نہ کرتا ہو وہ خفیف اور جس کی اقدار ٹھوس اور محکم بنیادوں پر مبنی ہوں وہ ثقیل کہلاتا ہے۔ انہی معنی میں ہے فاستخفف قومہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–60

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–60

(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشافرماتا ہے کہ تم انکی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اسوعدہ کو ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے آخربدر کی لڑائی کے وقت اور فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ بدر کی لڑائی میں بڑے بڑے مخالف دین مارے گئے اللہ تعالیٰ سچا ہے ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 58–60

[31] اشارہ ہے اس وعدہ نصرت کی طرف جس کا ذکر سورت کی آیت 47 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ تم ان بدبختوں کے ضد وعناد سے رنجیدہ نہ ہو اور صبرواستقلال کے ساتھ اپنے دعوۃ و اصلاح کے کام میں لگے رہو۔ اللہ نے تم سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور اسے پورا کرے گا۔ [32] یعنی ان بدعقیدہ اور بےیقین لوگوں کی طرف سے خواہ کیسی بات پیش آئے مگر ایسا نہ ہو کہ تم برداشت نہ کرسکو اور ان سے دب جاؤ یا مرعوب ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حق کی نصرت مقدرات میں سے ہے اس لئے حضور ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ فکر مند اور طول نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے یقینا آپ کامیاب اور فائز المرام ہونگے ۔ اور آپ کے یہ دشمن ناکام اور رسوا ۔ آپ گھبرائیے نہیں اور ایسا نہ ہو کہ یہ بےیقین لوگ اپنی حرکات سے آپ کے پیمانہ صبر کو چھلکادیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

60۔ سو اے پیغمبر آپ ان کے طعن وتشنیع اور ان کی سو قیانہ حرکات کو برداشت کیجئے اور سہا کیجئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور حق ہے اور یہ بد یقین اور محروم الیقین لوگ آپ کو آپ کی شان کے خلاف ہلکی اور چھچھوری باتوں پر آمادہ نہ کردیں اور آپ کو بےبرداشت نہ کریں ۔ یعنی معاندین کی گستاخیوں پر صبر کرتے رہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت اور وعدہ غلبہ حق ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بدیقین لوگ آپ کو غصہ دلا کر اکھاڑ نہ دیں اور پھسلا نہ دیں اور یہ بےسمجھ لوگ ایسی اوچھی حرکات پر نہ آمادہ کردیں جو آپ کی شان کے لائق نہ ہوں ۔ ثم تفسیر سورة الروم واللہ الحمد علی الائہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 8۔ وہ وعدہ ضرور واقع ہوگا، پس صبر و تحمل تھوڑے ہی دن کرنا پڑتا ہے۔ 9۔ یعنی ان کی طرف سے خواہ کیسی ہی بات پیش آوے، مگر ایسا نہ ہو کہ آپ برداشت نہ کریں۔ فائدہ : نفسانی انتقام گو فی نفسہ جائز ہے مگر صاحب تبلیغ کے لئے اور بالخصوص تخاطب کے وقت کہ اسلام کی ابتدائی حالت تھی خلاف مصلحت تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ صبر کریں بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے یقین نہ رکھنے والے آپ کو ہلا نہ دیں : 60۔ یہ بات پیچھے بار بار بیان کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم کا معجزانہ کلام ہے کہ وہ بظاہر مخاطب تو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو ہی کرے گا لیکن حقیقت میں وہ بات آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو مخاطب کرکے کرنا چاہتا ہوگا اور اس کا پیرایہ بیان عام ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول رحمت للعالمین کو اس طرح مخاطب کیا ہے تو آپ ﷺ بھی اور دنیا کے سارے لوگ آخر کیا ہیں اور ان کو مخاطب کرکے یہ بات کیوں نہیں کی جاسکتی ؟ یہی پیرایہ بیان زیر نظر آیت میں اختیار کیا گیا ہے اور قرآن کریم آپ کی امت کے ہر فرد کو مخاطب کرکے یہ کہہ رہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–60

After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِ‌مُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ‌ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour'. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–60

84 The allusion is to the promise made in verse 47 above. There, AIIah has mentioned His way of taking vengeance on those criminals who denied and resisted and ridiculed the clear Signs brought by the Messengers of AIIah stubbornly, and of helping the believers. 85 That is, "Let not the enemies find you so weak as to suppress you by their uproar, nor to cow you by their campaign of slander-mongering, nor to dishearten you by their jesting, taunts and derision, nor frighten you by their threats, show of power and persecution, nor allure you by offering baits, nor make you effect a compromise…

Read the full tafseer →