Al-Ankaboot 29:9

Al-Ankaboot · from ayah 9

29:9

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـنُدۡخِلَـنَّهُمۡ فِى الصّٰلِحِيۡنَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:9

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں میں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ہم انہیں ضرور نیکو کاروں (کے گروہ) میں داخل فرما دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے ہم انھیں ضرور ہی نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انھیں ہم صالح لوگوں میں شامل کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو صالحین کے زمرہ میں داخل کریں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے ان کو ہم ضرور داخل کردیں گے ان کی شان اور درجہ کے مطابق اپنے قرب خاص کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں ہم نیک بندوں میں داخل کرکے رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہم انہیں لازماً داخل کریں گے صالحین میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who believed and acted righteously, We shall certainly admit them among the righteous.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who believe and do righteous deeds, We shall include them among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

And those who believe and do righteous deeds, We shall include them among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And for those who believe and do righteous deeds, surely, We shall admit them among the righteous.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for those who believe and do good works, We verily shall make them enter in among the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].

— Saheeh International

We shall admit the righteously striving believers into the company of the pious ones.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who believe and do good, We will most surely cause them to enter among the good.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believe and work righteous works--We shall surely cause them enter among the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who believe and work righteous deeds,- them shall We admit to the company of the Righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–9

انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة العنکبوت 11 اس آیت کے متعلق مسلم، ترمذی، احمد، ابوداؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ 18۔ 19 سال کے تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا، ان کی ماں حمنہ بنت سفیان بن امیہ (ابو سفیان کی بھتیجی) کو جب معلوم ہوا کہ بیٹا مسلمان ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تو محمد کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، نہ سائے میں بیٹھوں گی، ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ کا حکم ہے، تو میری بات نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا۔ حضرت سعد اس پر سخت پریشان ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ممکن ہے کہ ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

خلاصہ تفسیر اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور (اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ) اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس (کے معبود ہونے) کی کوئی (صحیح) دلیل تیرے پاس نہیں ہے، (اور ہر چیز ایسی ہی ہے کہ کل اشیاء کے ناقابل عبادت ہونے پر دلائل قائم ہیں) تو (اس باب میں) ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے سو میں تم کو تمہارے سب کام (نیک ہوں یا بد) جتلا دوں گا اور (تم میں) جو لوگ ایمان لائے ہوں گے ہم ان کو نیک بندوں (کے درجہ) میں (جو کہ بہشت ہے داخل کردیں گے (ور اسی طرح اعمال بد پر ان کے مناسب سزا دیں گے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین امنوا وعملوا الصلحت لند خلنھم فی الصلحین۔ (9) اوپر کی آیات میں نمایاں پہلو تنبیہ کا تھا اس آیت میں تسلی کے پہلو کا صریح الفاظ میں ذکر فرمادیا۔ امنو وعملوا لصلحت۔ یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے دشمنوں کی تمام دشمنی کے علی الرغم ایمان و عمل صالح پر قائم و استوار رہیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو ہم بلا شبہ زمرہ صالحین میں داخل کریں گے۔ زمرہ صالحین سے مراد اللہ کے ان خالص و مخلص بندوں کا گروہ ہے جن کو اس دنیا کی مختلف آزمائشوں سے گزار کر اللہ تعالیٰ آخرت کی ابدی بادشاہی کے لئے منتخب فرما رہا ہے۔ اس گروہ میں ہر مدعی کے لئے جگہ نہیں ہے۔ اس میں صرف وہی لوگ بار پائیں گے جو اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9-1یعنی اگر کسی کے والدین مشرک ہوں گے تو مومن بیٹا نیکوں کے ساتھ ہوگا، والدین کے ساتھ نہیں۔ اس لیے کہ گو والدین دنیا میں اس کے بہت قریب رہے ہوں گے لیکن اس کی محبت دینی اہل ایمان ہی کے ساتھ تھی بنابریں المرء مع من أحب کے تحت وہ زمرہ صالحین میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

4: یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب جتنا سنگین ہے یہ لوگ انسانوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو بھی اتنا ہی سنگین سمجھتے ہیں، اور اس کی وجہ سے کفار کی بات مان کر واپس کفر کی طرف چلے جاتے ہیں، اور یہ بات منافقت کے طور پر مسلمان سے چھپاتے ہیں۔ 5: یعنی جب مسلمانوں کو فتح ہوگی، اور فتح کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے تو یہ لوگ مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہم تو دل سے تمہارے ساتھ تھے، اس لیے ہم سے کافروں جیسا معاملہ کرنے کے بجائے ہمیں اس فتح کے نتائج میں شریک کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9) والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔ ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو اس قسم کی زبردست رکاوٹوں کے باوجود بھی ایمان اور نیکی کی راہ پر قائم رہے حق تعالیٰ ان کا حشر اپنے خاص نیک بندوں میں کرے گا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں یعنی اولاد نے اگر ناحق بات میں والدین کا کہا نہ مانا اور والدین ناحق پر قائم رہے تو اولاد کا حشر صالحین کے زمرہ میں ہوگا، ان والدین کے زمرہ میں نہ ہوگا گو طبعی و نسبی تعلقات کی بناء پر وہ اس سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ معلوم ہوا " اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ " میں حب دینی مراد ہے، حب طبعی مراد نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّہُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ” نیک اہل ایمان کو صالحین کے گروہ میں شامل کرنے کا یہ وعدہ دنیا کے لیے بھی ہے اور آخرت کے لیے بھی۔ اس مژدۂ جانفزا کے مفہوم کو بھی مکہ کے مذکورہ حالات کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے ‘ جہاں اہل ایمان اپنے پیاروں سے کٹ رہے تھے ‘ والدین اپنے جگر گوشوں کو چھوڑنے پر مجبور تھے ‘ اولاد والدین کی شفقت و محبت سے محروم ہو رہی تھی اور بھائی بھائیوں سے جدا ہو رہے تھے۔ جیسے سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے بڑے بیٹے حذیفہ رض ایمان لے آئے جبکہ چھوٹا بیٹا ولید کافر ہی رہا۔ عتبہ اور اس کا بیٹا ولید غزوۂ بدر میں سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 یعنی ایسے نامساعد اور پریشان کن حالات میں جو شخص ایمان لائے اور نیکی کی راہ پر قائم رہے۔ جبکہ ان کے والدین یہی کافر تھے تو اللہ ایسے لوگوں کو صالحین کے زمرہ میں شامل فرما دے گا۔ نیز اللہ کا دستور یہ ہے کہ اگر والدین بھی مسلمان ہوں اور اولاد بھی تو اللہ تعالیٰ اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ ملا دے گا۔ اگرچہ والاد کے نیک اعمال اپنے والد کے اعمال کے پایہ کے نہ ہوں۔ اگر والدین کافر تھے تو اللہ ان کی اولاد کو صالحین کے زمرہ میں شامل فرما دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

10۔ (اور اس بشری گزند رسانی کے خوف سے نہ صرف زبان سے باطل کا کلمہ پڑھنے لگتے ہیں بلکہ دل تک کو انہیں عقائد باطلہ کے موافق بنالیتے ہیں) (آیت) ” فی اللہ ]‘۔ فی سببیہ ہے۔ یعنی اللہ کی خاطر۔ اللہ کی سبب سے۔ یا اللہ کی راہ میں۔ اے لاجلہ عزوجل علی ان فی للسببیۃ اوالمراد فی سبیل اللہ (روح) 11۔ مثلا جہاد ہوا۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور یہ لوگ بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے۔ 12۔ (دین و عقیدہ میں دل سے) یعنی جب مسلمانوں کے بس میں آجاتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو مسلمان شروع ہی سے تھے۔ کافروں کے ساتھ محض مجبوریوں اور مصلحتوں سے ہوگئے تھے۔ 13۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول کو رد کرکے فرماتا ہے کہ عالم الغیوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین امنو وعملوا الصلحت لندخلنھم فی الصلحین . اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیکیاں کیں ہم ضرور ہی ان کو صالحین میں شامل کردیں گے۔ اَلصَّالِحِیْنَ سے مراد ہیں انبیاء ‘ اولیاء ‘ شہداء۔ یعنی ہم نیکوکار مؤمنوں کو انبیاء ‘ اولیاء وغیرہ کے ساتھ شامل کردیں گے یا ان کا حشر ان لوگوں کے ساتھ کریں گے یا جنت میں ان کے ساتھ ان کو داخل کریں گے ‘ جنت میں سب ساتھ ہوجائیں گے۔ صلاح اور نیکی میں کمال مؤمنوں کے درجات کی انتہا ہے اور انبیاء مرسلین کی تمنا کا بھی یہ ہی آخری نقطہ ہے کیونکہ کمال صلاح کا معنی یہ ہے کہ کسی طرح کا بگاڑ اور خرابی نہ ہو ‘ نہ عقیدہ میں ‘ نہ عمل میں ‘ نہ اخلاق و مشاغل زندگی میں۔ ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) البتہ تم میں سے جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک کام کیے ہوں گے ان کو جنت میں نیک بندوں کے ساتھ داخل کردیں گے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ حضرت عثمان غنی ؓ حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین شان نزول : (آیت) ”۔ ووصینا الانسان بوالدیہ“۔ (الخ) مسلم ؒ اور ترمذی ؒ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت سعد ؓ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم نہیں دیا اللہ کی قسم میں نہ کوئی چیز کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک میں مرجاؤں یا تو کفر کرے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : یعنی اگر کسی کے والدین مشرک ہوں گے تو مومن بیٹا نیکوں کے ساتھ ہوگا، مشرک والدین کے ساتھ نہیں، اس لیے کہ گو والدین دنیا میں اس کے بہت قریب رہے اور محبت بھی کرتے رہے مگر ان کی اس سے اور اس کی ان سے محبت طبعی تھی، دینی نہ تھی، جب کہ حقیقی محبت دینی محبت ہے جو والدین کی کفار کے ساتھ تھی اور اس کی اہل ایمان کے ساتھ تھی اور قیامت کے دن آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اسے حقیقی (دینی) محبت ہوگی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ سے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے : ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ فتنہ سے مراد اذیت ہے۔ لعذاب اللہ جس طرح آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ تو وہ اس پر ایمان لانے سے مرتد ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس سے یوں جزع فزع کرتا ہے جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے جزع فزع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ اگر تیرے رب کی جانب سے مومنوں کو مدد پہنچے گی تو یہ مرتد کہیں گے : ہم تمہارے ساتھ ہیں جبکہ وہ جھوٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نسبت ان کے سینے میں جو کچھ ہے اس کو خوب جانتا ہے۔ مجاہد نے کہا : ایسے لوگوں کے بارے میں آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید 1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میری ماں نے کہا کہ میں اس وقت تک نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو محمد ﷺ کا انکار کردے چناچہ وہ کھانے پینے سے رک گئی یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے منہ کو لاٹھی سے بھرنا شروع کردیا تو یہ آیک آیت نازل ہوئی آیت ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا وان جاہداک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساستھ بھلائی کرنے کی نصیحت کی اور اگر وہ دونوں تم پر زور دے کر کہیں کہ تو میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک قرار دو کہ جن کا تمہیں کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ 2۔ عبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] لَــنُدْخِلَنَّهُمْ [تو ہم لازماداخل کریں گے ان کو ] فِي الصّٰلِحِيْنَ [نیک لوگوں میں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–10

مدعیان ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ بعض مسلمان تھے وہ زبان سے تو اسلام کا اظہار کردیتے تھے پھر جب کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچ جاتی تھی تو ان کے موافق ہوجاتے تھے اور اس موافقت کو مسلمانوں سے چھپاتے تھے۔ اور قتادہ سے یہ نقل کیا ہے کہ بعض لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے پھر مشرکین مکہ انہیں واپس لے گئے۔ دنیا داری حقیقت میں کمزوری کا سبب ہے، اگر آخرت کا یقین پختہ ہو اور آخرت کی ضرورت سمجھ کر ایمان قبول کیا ہو تو منافقت کی شان ختم ہوجاتی ہے، اگر کافروں میں پھنس کر کوئی مومن بندہ مجبور ہوجائے تو گو وہ بظاہر زبان سے کوئی نامناسب کلمہ کہہ دے لیکن دل سے کفر اختیار نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–13

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ یہ بشارت اخروی ہے جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور توھید کی راہ میں آنے والی ہر مصیبت اور تکلیف میں ثابت قدم رہے ان کو ہم صالحین میں شمار کریں گے اور انہیں ان جیسی ہی جزاء دیں گے۔ ای یجعلہم منھم و یدخلہم فی عدادھم کما یقال الفقیہ من العلماء (کبیر ج 6 ص 647) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–13

ربط آیات اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ والدین سے حسن سلوک اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَــنُدْخِلَنَّہُمْ فِي الصّٰلِحِيْنَ۝ 9 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–10

والذین عملوا الصلحت لند خلنہم فی الصلحین پہلے کلام کی تاکید ہے کہ جو اچھے کام کرے گا ہم اس کو صالحین کے زمرہ میں داخل کردیں گے۔ وہ کہ جن کے لیے کون و فساد نہیں۔ اس میں علویات بھی آگئے۔ یہ حکماء کا قول ہے۔ پھر اسی پہلی بات کی طرف دوسرے عنوان سے رجوع کرتا ہے۔ فقال ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ زبان سے تو کہتے ہیں۔ امنا کہ ہم ایمان لائے، مگر فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ جب اس کو اللہ کی راہ میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو اس کے ڈر سے دین سے اس طرح رک جاتا ہے کہ جس طرح اللہ کے عذاب کے ڈر سے لوگ گناہوں سے رکتے ہیں اور اس تکلیف کی وہ کچھ بھی برداشت نہیں کرتا اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّہُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ۔ (العنکبوت : 9) (اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔ ) اہلِ ایمان کو تسلی کی وضاحت گزشتہ آیت کے آخر میں والدین کو تنبیہ کے ساتھ ساتھ ایمان لانے والی اولاد کو تسلی دی گئی تھی کہ تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے۔ آج تمہارا ہر عمل اور تمہارا ایمان تمہارے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے لیکن تمہیں بہرصورت اپنے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے وہاں تمہاری یہی مشکلات تمہاری کامرانیوں اور جنت کی نعمتوں کا سبب بنیں گی۔ پیش نظر آیت میں تسلی کے اسی پہلو کو کھول دیا گیا ہے اور صریح الفاظ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نیک اعمال کا ذکر ہوا۔ یہاں یہ بتلایا کہ اچھے اعمال میں بہترین عمل والدین کے ساتھ بھلائی کرنا اور شرک سے اجتناب کرنا ہے۔ صالح اعمال میں سب سے بڑا عمل۔ اللہ تعالیٰ کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک سمجھنا اور اس کی خالص عبادت کرنا ہے۔ اس کے بعد دوسرا صالح عمل والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد انسان کو جو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے ” احسان “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ عبادت کے بارے میں استعمال ہو تو اس کا معنی ہے کہ کامل توجہ کے ساتھ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْ خِلَنَّہُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ہم ضرور بضرور انہیں صالحین میں داخل فرمائیں گے) ۔ منجملہ صالحین میں۔ الصلاح مؤمنین کی کامل ترین صفت ہے۔ یہ انبیاء (علیہم السلام) کا مطلوب ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی دعا میں ہے وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین ] النمل۔ 19[ دعائے یوسف (علیہ السلام) میں ہے۔ توفنی مسلمًا والحقنی بالصالحین ] یوسف۔ 10[ نمبر 2۔ فی الصالحین سے صالحین کے داخل ہونے کی جگہ جنت مراد ہے۔ شان نزول۔ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 9۔ والذین آمنواوعملوالصالحات لندخلنھم فی الصالحین، ، صالحین کے زمرہ میں داخل کردیں گے اور وہ انبیاء اولیاء ہیں یعنی ہم نیکوکار مومنوں کا انبیاء اولیائ، وغیرہ کیساتھ شامل کردیں گے بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ ان کو جنت میں داخل کردیں گے اور جنت میں سب ساتھ ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–11

9 تا 11۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کئے ہیں اپنے نیک بندوں میں داخل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں ان کو رکھا جائے گا اس کے بعد ارشاد کیا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے اسی واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو پھر وہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں غرضیکہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہوئے تو اطمینان ہے اور اگر کچھ جانچ ہوئی تو پھرگئے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آجاوے مدد اور فتح تیرے رب کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 9 جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا، یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ اور اپنا اپنا مرتبہ ہے۔ ایمان صحیح اور عمل صالح، بندے کی سعادت کا عنوان ہے اور بیشک وہ اہل رحمان میں سے اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

6 خالق کی اطاعت سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین کے سلسلے میں اس بات کی بھی تصریح فرما دی گئی کہ اگر وہ تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات کبھی نہیں ماننی۔ سو اس سے اس اصول کو واضح فرما دیا گیا کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو اس کی شریک ہو سکے۔ تو پھر اس کے بارے میں علم کا کیا سوال ؟ سو یہ تعلیق بالمحال کے قبیل سے ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ میرے ساتھ کسی بھی چیز کو کسی بھی حال میں شریک ٹھہرانا جائز نہیں۔ سو ماں باپ کی ہر بات مانی جائے مگر ان کے کہنے پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–13

اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی ان کا حشر نیکوں کے ساتھ کرینگے یا انہیں نیکوں کی جگہ (جنت) میں داخل کریں گے اور پھر ایسی اولاد اپنے مشرک والدین کے ساتھ نہیں اٹھائی جائے گی گو دنیا میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی رشتہ تھا کیونکہ قیامت کے دن حشر انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت دینی تھی۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:9) لندخلنھم مضارع مجہول بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو ضرور داخل کریں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–13

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 : وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 : کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کیے ہیں اپنے بندوں میں شامل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں اور ان کو رکھاجائے گا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ، ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اس واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو پھر یہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ، غرض کہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہو تو اطمینان ہے اور اگر جانچ ہوئی تو پھرگئے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر کبھی کوئی مدد اور فتح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[4] یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو زبان سے تو اپنے کو مومن کہتے تھے لیکن دلوں میں ایمان راسخ نہ تھا۔ ان کو جہاں اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچی یا ایمان لانے کی وجہ سے کفار نے ستایا تو اس آزمائش کو عذاب الٰہی کی طرح سمجھنے لگے۔ جس طرح آدمی عذاب الٰہی سے گھبرا کر جان بچانا چاہتا ہے اور اپنے پہلے دعوؤں سے دستبردار ہونے لگتا ہے اور ناچار اعتراف کرتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جہاں دین کے معاملے میں کوئی سختی پہنچی بس گھبرا کر دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونا شروع کردیا اور زبان یا عمل سے اقرار کرنے لگے کہ ہم اس دعوے میں غلطی پر تھے یا ایسا دعویٰ کیا ہی نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

ف 2: یعنی والدین کی اطاعت مذہب اور دین کا اہم جزو ہے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور ہر حالت میں انکا احترام کرے بجز اس صورت کے کہ وہ شرک ، بدعت کی باتوں پر آمادہ کریں ۔ حل لغات : وصینا ۔ توصیہ کے معنی تاکید کے ساتھ کسی بات کو کہنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے ان لوگوں کو ہم نیک اور شائستہ حضرات کے درجے میں داخل کردیں گے۔ صالحین کا درجہ بہشت ہے چناچہ یہ لوگ بہشت میں داخل کردیئے جائیں گے نیک اعمال میں کافروں کی ایذا رسائی پر صبر کرنا اور ان کی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا بھی داخل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے اور کفار کی ایذا رسانی سے خواہ وہ قولا ً ہو یا فعلا ً ہو اس ایذا رسانی سے گھبرائے نہیں تو ہم ایسے لوگوں کو ضرور بہشت میں داخل کریں گے اور بہشت والوں میں شامل کرلیں گے ۔ آگے ان منافقین کا ذکر ہے جن کا ایمان پختہ نہیں چناچہ آگے ارشاد ہے۔ حضرت شاہ صاحب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 2۔ حاصل یہ ہوا کہ واقعہ بالا میں ماں کی عصیان سے وسوسہ گناہ کا نہ کیا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی : 9۔ اس دنیا کے معاشرہ میں بھی جس گھر کے ہمسائے ‘ خاندان اور دوست و احباب میں نیک لوگ ہوں بلاشبہ وہ گھر جنت کا ایک خطہ ہے اور ایسے لوگوں کی معیت اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان سمجھنا چاہئے شیخ سعدی (رح) نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند : اچھی صحبت بلاشبہ انسان کو اچھا بنا دیتی ہے یا کم از کم برا بننے سے ضرور مانع ہوتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بری صحبت انسان کو یقینا برا بنا دیتی اور کم از کم یہ کہ وہ انسان کو اچھا نہیں رہنے دیتی ۔ اگر دنیا کا یہ حال ہے تو آخرت کے متعلق بھی ارشاد فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

(1)-It means that such people join the infidels when they apprehend some kind of torture from them, but when Allah's help will come to the Muslims in a battle against the infidels, they will pretend to be Muslims on the plea that they had joined the infidels only because they feared to be persecuted by them. (2)-The sense is that they did not believe in Islam with their hearts, and this fact cannot: be concealed from Him, because He knows whatever lies in the hearts of the people.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

13 Though the speaker is a single person, he uses the plural pronoun and says, "We have believed," Imam Razi has pointed out a subtle point in it. He says that the hypocrite always tries to be counted among the believers and mentions his faith as though he is also a true believe like others. His case is like that of a cowardly soldier who accompanies an army to the battlefield where the soldiers have fought well and put the enemyto rout. This cowardly person might have made no contribution at all, but when he returns home, he will say, "We put up a good fight and routed the enemy", as if he…

Read the full tafseer →