29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 29:1
1 ؎ الم یہ حروف مقطعات مخاطب کو تنبیہ کرنے کے لے لیے شروع کلام میں آتے ہیں جیسا کہ سنو۔ دیکھو تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس کے بعد کوئی بڑی بات کہی جائے گی اس لیے بجز تین صورتوں کے اس کلمہ کے بعد کتاب یا تنزیل یا قرآن کا ذکر آیا ہے جو بڑی بھاری بات ہے مگر ان تین سورتوں میں بھی اور دوسری بھاری بات بیان ہوئی کھیعص۔ الم۔ غلبت الروم الم احسب الناس سو یہ بھی ایک بڑی بات تھی کہ لوگ زبان سے آمنا کہنا کافی سمجھتے تھے اور ان حروف میں اور بھی اشارات ہوتے ہیں جیسا کہ یہاں الف ہے اللہ کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ ہی نے مجھے سب کو بنایا اور وہی باقی رہے گا علم مبدر آگیا ل سے رسول کہ اس نے دنیا کی رہنمائی کو رسول بھیجے۔ علم بالوسطہ آگیا م سے معاد یعنی دار آخرت اور وہاں کی خوبیاں اس میں علم معاد آگیا اور لطف یہ ہے کہ پہلی اللہ کا حرف اول یسار بیچ میں رسول کا حرف اخیر پر معاد کا حرف اول تاکہ معلوم رہے کہ رسولوں کا بھیجنا ہدایت کا ذریعہ ہے اور مقصد و مبدر معاد ہے اور رسول کا اخیر حرف لینا یہ ہی بتلاتا ہے کہ اب رسولوں کا بھیجنا آخر ہوا۔ 12 منہ
Ayahs 29:2–5

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم آمنا کہہ کر چھوٹ جاویں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جاوے گی

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ان سے پہلوں کو بھی آزمایا ہے، پھر اللہ ضرور معلوم کرکے رہے گا کہ کون سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ضرور جان لے گا۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا بدی کرنے والوں نے (یہ) سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے بھاگ کر آگے نکل جائیں گے۔ وہ بہت ہی بری تجویز کیا کرتے ہیں،

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جس کسی کو (مر کر) اللہ سے ملنے کی توقع ہو تو اس کو ضرور تیاری کرنی چاہیے، کیونکہ اس کی مقرر کردہ اجل ضرور آنے والی ہے اور وہ ہر کچھ سنتا ‘ جانتا ہے

ترکیب : ان یترکوا ان وما عملت فیہ یسد مسد المفعولین۔ ان یقولوا ای بان یقولوا دیجوز ان یکون بدلا من ان یترکوا من کان شرط و الجواب فان اجل اللہ و التقدیر لایۃً ۔ تفسیر : پہلی سورة کے خاتمہ میں فرمایا تھا کہ ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الیٰ معاد اور معاد دار آخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جانا آسان بات نہیں، اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کی برداشت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس سورة میں الم سے ایک خاص 1 ؎ مطلب کی طرف اشارہ کرکے، یہ فرمایا احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لا کے بیٹھ رہنا کافی ہے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہوگی ؟ ضرور ہوگی کس لیے کہ ان سے پہلے بھی ایمانداروں نے بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ آزمائے گئے ہیں گھر بار لوٹے گئے ہیں، ماریں پڑی ہیں، دیس سے نکالے گئے ہیں۔ اس سے اہل اسلام کو مضبوط کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تکالیف دیکھ کر نہ گھبرائیں، ایسی ہی آزمائشوں میں سچے جھوٹے کا امتیاز ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں خصوصاً ہجرت سے پیشتر ایمانداروں کو بڑی بڑی مصیبتوں کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ برادری کا چھوٹنا، کافروں سے مار کھانا، جلاوطن ہونا، مارا جانا، جورو بچے چھٹنا، مال و اسباب سے دست بردار ہونا وغیرہ وغیرہ، چناچہ ایک بار آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بعض صحابہ نے مشرکین کے ظلم و ستم کی شکایت کی کہ ہم یوں یوں ستائے جارہے ہیں۔ آپ دعا نہیں کرتے۔ خفا ہو کر فرمایا تم سے پہلے دیندار آرے سے چیرے گئے ہیں، پر وہ دین سے نہ ہٹے ‘ لوہے کے کنگھے ان کے سر میں کئے گئے کہ گوشت چیر کر ہڈی تک پہنچ گئے، پر وہ تب بھی اپنے دین سے نہ ہٹے اور قسم ہے اللہ کی یہ دین تو پھیلے گا یہاں تک کہ صنعا سے لے کر حضرموت تک سوار امن سے جاوے گا، لیکن تم جلدی کررہے ہو۔ رواہ البخاری مفسرین متفق ہیں کہ یہ ان اہل اسلام کی شان میں نازل ہوا ہے کہ جن کو کفار سے تکلیفیں پہنچ رہی تھیں۔ جیسا کہ عمار بن یاسر اور ولید بن الولید وسلم ہ بن ہاشم، فتنہ جان اور مال اور آبرو پر مصیبت آنا۔ الغرض مسلمانوں کو تسلی اور ثابت قدمی دی گئی کہ راہ حق میں جو تکالیف پیش آویں ان کی برداشت کرو زبانی دعویٰ کافی نہیں۔ یہ آزمائش ہے جو ثابت قدم رہا، صادقوں میں لکھا گیا ورنہ کاذب قرار دیا گیا اور یہ کچھ نئی بات نہیں تم سے پہلے بھی دینداروں کو بڑی تکلیفیں پہنچی ہیں۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب ان کے حواری یا ان کے مرید روم میں پہنچے تو روم کے بادشاہوں نے کسی کو لوہے کے ستونوں سے گرم کرکے بندھوادیا۔ کسی کو آگ میں ڈلوادیا۔ کسی کو درندوں سے پھڑوادیا مگر وہ ثابت قدم رہے۔ اس کے بعد ان تکلیف دینے والوں کو بھی آگاہ کرتا ہے، بقولہ ام حسب الذین یعملون السیئات الخ یہ برائی کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم سے بڑھ جاویں گے، یعنی ہمارے قابو میں نہ آویں گے۔ اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ ہم بہت جلد اپنے نبی کی مدد کریں گے۔ سرکشوں کے سر توڑ ڈالیں گے، چناچہ چند روز کے بعد ایسا ہی ہوا۔ پھر دینداروں کی طرف روئے سخن کرکے فرماتا ہے کہ من کان یرجوا لقاء اللہ الخ کہ جو کوئی دار آخرت کا طالب اور اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہے کہ اس کے پاس جاؤں اور حیات ابدی پاؤں تو اللہ کا وعدہ آنے والا ہے، یعنی موت چلی آرہی ہے۔ اس کے بعد اس کو وہ کچھ ملے گا کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا، نہ دل میں گزرا پس اس کو چاہیے کہ سرگرمی سے ایمان اور نیکوکاری میں مصروف رہے۔ وھو السمیع العلیم اور تمہاری یہ کوشش ایسی نہیں کہ جو اس کو معلوم نہ ہو کیونکہ وہ سمیع ہے، منہ کی بات سنتا ہے۔ علیم ہے، دل کے بھید جانتا ہے،
Ayahs 29:6–7

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی کوشش کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔ البتہ اللہ تو تمام جہان سے بےنیاز ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے تو ضرور ہم ان سے ان کی برائیاں مٹا ڈالیں گے اور ہم ان کو ان کے کام کا بہت ہی اچھا بدلہ بھی دیں گے

ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہٖ الخ اور یہ بھی یاد رہے کہ جو کوئی نیکی میں کوشش اور سرگرمی کرتا ہے تو اپنے فائدہ کے لیے کیونکہ اللہ کو کسی کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ اصول دین تین ہیں، مبداء کا پہچاننا اس کی طرف امنا میں اشارہ کیا اور وسط کا جاننا وہ رسولوں کا بھیجنا اور شریعت کا قائم کرنا اسی کی طرف وھم لایفتنون میں اشارہ کیا۔ معاد سے واقف ہونا اس کی طرف من کان یرجوا میں اشارہ کیا۔ اس میں یہ بھی بتلادیا کہ مرنے کے بعد روح جاتی رہتی ہے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے نیکی کرے اور (ہاں) اگر وہ اس بات پر اصرار کریں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک کرے کہ جس کو تو جانتا بھی نہ ہو تو پھر ان کا کہنا نہ مان تم سب کو پھر کر میرے ہی پاس آنا ہے، تب میں تم کو بتلادوں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے

ترکیب : حسنا منصوب بوصیتنا وقیل محمول علی المعنی و التقدیر الزمناہ حسنا۔ والذین اٰمنوا مبتداء لندخلنہم خبر من یقول مبتداء من الناس خبر۔ تفسیر : ان اللہ لغنی عن العلمین میں فی الجملہ ایک تہدید سی تھی جس سے کم سمجھ لوگوں کے دل پر شبہ ہوتا تھا کہ پھر نیک کام کیا ہے ؟ اس لیے اس خیال کو رد کر کے فرمایا۔ والذین آمنوا و عملو الصٰلحت جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔ ہم بارہا بیان کر آئے ہیں کہ ایمان شروع میں جو کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے، اس کو سچا جاننا اور ماننا ہے، جن میں سے اللہ کی ذات پاک اور اس کی صفات اور ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لانا یعنی تصدیق کرنا ازحد ضروری ہے۔ اور عمل صالح وہ کام ہے کہ جس کی رغبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دلائی اور عمل فاسد وہ کہ جس سے منع کیا۔ عمل ایک عرض غیر قار ہے باقی نہیں رہتا، مگر نیت اور خلوص سے۔ ان دونوں کے انعام میں دو چیزیں عطاء فرمانے کا وعدہ کیا لنکفرن ایمان کے بدلے میں کہ ہم ان کی پہلی برائیاں مٹا دیں گے۔ ولنجزینہم کہ ان کے اعمال خیر کا عمدہ بدلہ دیں گے۔ جنت اور وہاں کے نعماء اور نیز دنیا میں بھی کبھی بدلہ مل جاتا ہے۔ چونکہ اعمال صالحہ کا ذکر تھا، اس لیے ان میں سے بعض ان عملوں کا ذکر کرتا ہے کہ جن کے صالح ہونے میں کسی کو بھی کلام نہیں اور اس کی کس لطف کے ساتھ فرضیت ثابت کرتا ہے، بقولہ و وصینا الانسان بوالدیہ حسنا کہ ہم نے انسان کو حکم دے دیا ہے (اس کو بلفظ وصیت تاکید کے لیے فرمایا) کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کیا کرے، کیونکہ یہ اس کے بڑے محسن ہیں۔ لڑکپن میں جبکہ یہ کچھ بھی کما نہیں سکتا تھا، اس کو پالا پرورش کیا، علم و تہذیب سکھائی، مگر وان جاھداک لتشرک بی الخ وہ اس بات کی اگر کوشش کریں کہ تو میرا کسی کو شریک کرے تو ان کا کہنا اس بات میں نہ ماننا کس لیے کہ سب سے زیادہ میں محسن ہوں، ماں باپ سے بھی زیادہ میرے احسانات ہیں، اس لیے میری بےادبی نہ کرنا کہ کسی کو میرا شریک ٹھہرانے لگے۔ وہ پڑے جھگڑا کریں تو مانیو ہی نہیں۔ تم سب میرے پاس آؤ گے، میں تم کو وہاں بتادوں گا کہ تم کیا کرتے تھے۔ یعنی اس بارے میں تیرے ماں باپ کے اور تیرے جھگڑے کا میں فیصلہ کردوں گا اور ممکن ہے کہ یہ جملہ فانبئکم بما کنتم تعملون خلوص نیت کے لیے تاکید ہو۔ مالیس لک بہ علم کہ جس کو تو جانتا نہیں اس کو بھی میرا شریک نہ کرنا اور جس کو تو جانتا ہے اس کو تو بدرجہ اولیٰ نہ کرنا کس لیے کہ جب تجھے خود معلوم ہے کہ فلاں شے مخلوق اور حادث ہے، اس کو کیا شریک کرے گا، ہاں جس کو جانتا بھی نہیں جہاں وسوسہ ہوسکتا تھا کہ شاید یہ شخص خدائی میں شریک ہونے کی قابلیت رکھتا ہے۔ پس اس لیے مالیس لک بہ علم کی قید لگائی۔
Ayahs 29:9–10

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل بھی کئے ان کو ہم ضرور نیک بختوں میں داخل کریں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ (زبان سے) جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لے آئے، پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے لوگوں کی تکلیف کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں اور اگر آپ کے رب کے پاس سے آجائے تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے اور کیا خدا دنیا جہان کے دلوں کی باتیں نہیں جانتا ؟

والذین عملوا الصلحت لند خلنہم فی الصلحین پہلے کلام کی تاکید ہے کہ جو اچھے کام کرے گا ہم اس کو صالحین کے زمرہ میں داخل کردیں گے۔ وہ کہ جن کے لیے کون و فساد نہیں۔ اس میں علویات بھی آگئے۔ یہ حکماء کا قول ہے۔ پھر اسی پہلی بات کی طرف دوسرے عنوان سے رجوع کرتا ہے۔ فقال ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ زبان سے تو کہتے ہیں۔ امنا کہ ہم ایمان لائے، مگر فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ جب اس کو اللہ کی راہ میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو اس کے ڈر سے دین سے اس طرح رک جاتا ہے کہ جس طرح اللہ کے عذاب کے ڈر سے لوگ گناہوں سے رکتے ہیں اور اس تکلیف کی وہ کچھ بھی برداشت نہیں کرتا اور لطف یہ ہے ان جاء نصر من ربک کہ اللہ کی طرف سے کوئی فتح نصیب ہوجاوے تو کہنے لگیں انا معکم کہ ہم تو پہلے سے تمہارے ساتھ تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ اولیس اللہ باعلم کہ کیا خدا لوگوں کے دلوں کی بات نہیں جانتا۔ پس ہم ان کے دلی راز سے واقف ہیں، یعنی ان کا یہ جھوٹ ہم سے نہیں چل سکتا۔ مسائل : ماں باپ کی اطاعت فرض ہے مگر گناہ کے کام میں نہیں۔ انسان کو کسی تکلیف سے یا کسی کے خوف سے دین یا اس کے کسی بات کو ترک کرنا حرام ہے۔ دین پر سختی اور نرمی میں ثابت قدم رہنا فرض ہے۔
Ayahs 29:11–13

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ اللہ ایمان داروں کو جانچ لے گا اور منافقوں کو بھی

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر ایمانداروں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریق پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، وہ بالکل جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور (ہاں) البتہ وہ اپنے بار گناہ اٹھاویں گے اور بار بھی اپنے بوجھوں کے ساتھ اٹھاویں گے۔ اور قیامت کے دن ان کی فتنہ پردازیوں کا ضرور پوچھا جائے گا

ترکیب : الذین امنوا یعلمن کا مفعول اتبعوا الخ مقولہ ہے قال الذین کفروا کا ولنحمل عطف علی اتبعوا وار ادوا یجمع ہذان الامران فی الحصول ان تتبعوا طریقننا و ان نحمل خطایا کم نظیرہ لیکن منک العطاء و لیکن منی الدما انہم لکاذبون فی اخیار حمل الخطایاوان صدر فلک بلفظ الامر۔ وعندی اذا کان الوعدمن غیر صمیم القلب السمی ھذا فی العرف بالکذب فعلی ھذا لاینحصر لکذب فی الاخبار بل قدیکون فی الامنشاء وھم ظلمون حال من ضمیرھم فی اخذھم۔ تفسیر : ولیعلمن اللہ الذین امنوا ولیعلمن المنفقین یہ کلام سابق کا تتمہ ہے کہ وہ جو ایسی باتیں بناتے ہیں اللہ پر کوئی بات مخفی نہیں، وہ دلوں کے راز جانتا ہے اور آیندہ مومن اور منافق کا پورا امتیاز ہوجاوے گا۔ اللہ کو ہر چیز کا ہمیشہ سے علم ہے، پھر یہ جو قرآن میں آیا کرتا ہے تاکہ اللہ جان جاوے اور اللہ جان جاوے گا وغیرہ تو اس سے علم تفصیلی مراد ہے ؟ ایک حادثہ اور تجربہ کے بعد اس شخص کو بھی حاصل ہوجاتا ہے کہ جس کا یہ معاملہ ہے اور لوگ بھی جان لیتے ہیں کہ اس کے الزام کے لیے بھی اس پر حجت ہوا کرتا ہے۔ یہاں یہ کلام ہوسکتا ہے کہ یہ سورة مکیہ ہے اور مکہ میں یا کافر تھے یا مومن منافق کہاں تھے ؟ منافق یعنی دل میں کافر ظاہر میں مومن یا کسی لالچ پر ہوتے ہیں یا کسی خوف سے اور مکہ میں تو اہل اسلام کی طرف سے کوئی توقع نفع کی تھی اور نہ کچھ خوف تھا، کیونکہ خود مسلمان مصیبت میں تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کسی شخص کا واقعہ نہیں بلکہ ایک تمثیل ہے کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ زبان سے ایمان ظاہر کرتے ہیں اور لوگوں کی تکلیف سے ایسا ڈرتے ہیں کہ جیسا اللہ کے عذاب 1 ؎ سے ڈرتے ہیں اور راحت کے وقت ایمانداروں کے ساتھ رہنا بیان کرتے ہیں، یا یوں کہو کہ یہ پیشین گوئی ہے کہ ایسے لوگ بھی اسلام میں آویں گے چناچہ مدینہ میں آکر یہ بات پیش آئی اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اسلام میں فتوحات پیش آویں گی، حال کی مصیبت سے نہ ڈرو۔ وقال الذین کفروا سے ان ظالم کافروں کی ایک اور ڈھٹائی بیان فرماتا ہے۔ وہ کمبخت کافر بےکس مسلمانوں کو ازحد ستاتے تھے، اس پر ان سے یہ کہتے تھے کہ تم یہ تکالیف کس لیے اٹھاتے ہو، کس لیے اسلام نہیں چھوڑ دیتے ؟ وہ کہتے تھے کہ ہم اپنے اس گناہ سے ڈرتے ہیں، آخرت کا خوف ہے، اس کے جواب میں وہ کہتے تھے اجی تم چھوڑو دنیا کے مزے اڑاؤ تمہارے گناہ ہم اٹھالیں گے (چنانچہ آج کل فساق ایک دوسرے کو یہی کہہ کر گناہ پر آمادہ کیا کرتے ہیں کہ میری قسم شراب کی پیالی پی لو تمہارا گناہ ہمارے سر پر ‘ تمہارے عوض ہم عذاب اٹھالیں گے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، وما ھم بحاملین من خطیہم من شیئٍ کہ وہ ان کا کوئی گناہ بھی نہ اٹھاسکیں گے وہ اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں، اول تو دار آخرت کی تکلیف پر کوئی اپنی تکلیف کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ دوسرے کی تکلیف اور خدا تعالیٰ کا عدل کب مقتضی ہے کہ کسی کے گناہوں پر کسی اور سے مطالبہ کرے، البتہ وہ لیحملن اثقالہم اپنے گناہوں کا بار اٹھا ویں گے واثقالا مع اثقالہم اور اس کے ساتھ اپنی اس دلیری اور ان کے بہکانے کا بھی بار گناہ اٹھاویں گے اور ان کی اس افتراء پر دازی سے قیامت کو باز پرس ہوگی کہ تم کس جرأت اور بےباکی سے ایسی باتیں بناتے تھے ؟ اول سورة میں فرمایا تھا کہ تم سے پہلے لوگ بھی دینداری کے سبب بہت کچھ ستائے گئے ہیں۔ اب اس کی تصدیق کے لیے حضرت نوح ( علیہ السلام) کا حال بیان فرماتا ہے، فقال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قوم الخ کہ ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا، پھر وہ اس میں ساڑھے نو سو برس 1 ؎ تک رہا، بہت کچھ وعظ و پند کیا مگر نہ مانا اور نوح ( علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ چند ایمانداروں کو وہ وہ تکلیفیں دیں کہ جو بیان سے باہر ہیں۔ آخرکار فاخذھم الطوفان الخ ان کو طوفان نے آلیا اور وہ اس وقت تک ویسے ہی بدکار تھے اور ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھ جو کشتی میں تھے بیوی بیٹے اور چند دینداروں کو بچالیا اور قرنوں تک اس کشتی کو اپنی قدرت کا نمونہ دکھانے کے لیے باقی رہنے دیا کہ دیکھ کر لوگ عبرت پکڑیں اور اس عہد کو یاد کریں اور اپنی سرکشی سے باز آویں، اس میں کفار مکہ کی طرف روئے سخن ہے کہ غرہ نہ ہونا جس طرح قوم نوح کو ہلاک کیا تم بھی ایک روز گرداب بلا میں آجاؤ گے۔ 1 ؎ جل فتنۃ الناس کعذاب اللہ کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کبعب اس کو دنیا میں اسلام پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے کسی ظالم کی طرف سے تو اس کو وہ اللہ کی طرف کا عذاب سمجھ کر اسلام سے پھرجاتا ہے یعنی اسلام کو نامبارک سمجھتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے نوح کو ان کے قوم کی طرف بھیجا پھر وہ اس میں پچاس کم ہزار (ساڑھے نو سو برس) تک رہے پھر ان لوگوں کو طوفان نے آلیا، حالانکہ وہ بدکاری میں مصروف تھے۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچالیا اور کشتی کو دنیا کے لیے نشانی بنادیا۔

1 ؎ توریت سفر الخلیفۃ کے پانچویں اور چھٹے باب میں یوں لکھا ہے کہ آدم کی عمر ایک سو تیس برس کی ہوئی تو اس کے ہاں سیت (شیث) پیدا ہوا۔ ٭ آدم کی کل عمر نو سو تیس برس کی ہوئی اور سبت کے ایک سو پانچ برس کی عمر میں انوس پیدا ہوا اور اس کی کل عمر نو سو بارہ برس کی ہوئی اور انوس کی جب نوے برس کی عمر ہوئی تو اس سے قینان پیدا ہوا اور انوس کی کل عمر نو سو پانچ برس کی ہوئی اور قینان کی ستر برس کی عمر میں محلل ایل پیدا ہوا اور قینان کی کل عمر نو سو دس برس کی اور محلل ایل کی پینسٹھ برس کی عمر میں اس سے یارد پیدا ہوا اور محلل ایل کی کل عمر آٹھ سو پچانوے برس کی ہوئی اور یارد کی ایک سو باسٹھ برس کی عمر میں اس سے حنوک پیدا ہوا۔ اور بارد کی کل عمر نو سو باسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک کی پینسٹھ برس کی عمر میں اس سے متوسلح پیدا ہوا اور حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی تھی کہ اس کو خدا نے لیا اور غائب ہوگیا اور وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور متوسلح ایک سو ستاسی برس کا ہوا اس سے ملک پیدا ہوا اور متوسلح کی کل عمر نو سو انہتر برس کی ہوئی اور ملک ایک سو بیاسی برس کا تھا کہ اس سے نوح پیدا ہوا اور ملک کی کل عمر سات سو ستتر برس کی ہوئی اور نوح پانچ سو برس کا تھا کہ اس سے سام عام۔ یافث ہوئے نوح کی عمر جب چھ سو برس کی ہوئی تب طوفان آیا اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین سو برس جیتا رہا۔ اور نوح کی ساری عمر نو سو پچاس برس کی ہوئی لبث فہیم کی ضمیر خاص اس کافر قوم کی طرف راجع نہیں جو طوفان سے ہلاک ہوئے بلکہ ان کی طرف اور ان کے بعد والوں کی طرف یعنی قوم کی طرف راجح ہے اور بعث کے معنی یہ ہوں گے کہ ان میں ساڑھے نو سو برس کی عمر تک چلتی رہی۔ 12
Ayahs 29:16–19

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم (کے حالات بھی بیان کرو) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کیا کرو اور اس سے ڈرا کرو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے، اگر خبر رکھتے ہو۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے اور جھوٹی باتیں بناتے ہو جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ وہ تمہاری روزی کے مالک نہیں، پس تم روزی بھی اللہ ہی سے مانگو اور اس کی عبادت بھی کیا کرو اور اس کا شکریہ کیا کرو، اسی کے پاس لوٹائے جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پیشتر بہت سے لوگ (رسولوں کو) جھٹلا چکے ہیں اور رسول پر تو یہی ہے کہ کھول کر پیغام پہنچادے

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

یہ کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ اول بار کیونکر پیدا کیا کرتا ہے، پھر اس کو باردگر لوٹاتا ہے۔ بیشک یہ کام اللہ پر آسان ہے۔

ترکیب : و ابراہیم معطوف علی المفعول فی انجیناہ وعلیٰ تقدیر واذکروا علیٰ ارسلنا النشاۃ الآخرۃ بالمدو القصر لغتان اوثانا مفعول لتعبدون جمع و ثن ای صنم و تخلقون معطوف علی تعبدون ای تقولون۔ افکا ای کذبا تمیزمن ضمیر تخلقون او مفعول مطلق الذی اسم ان تعبدون من دون اللہ صلۃ لہ والعائد محذوف لا یملکون خبر کیف ھو والجملہ مفعول اولم یروا کیف بمعنی الکیفیۃ ابداء الخلق، یبدء بضم اولہ و قرءت بفتحہ من بدا و ابدء بمعنی واحد ای یخلقھم ابتداء فی الارض متعلق بمعجزین والمفعول ربکم۔ تفسیر : و ابراھیم یہ دوسرا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت نوح کے ( علیہ السلام) بیٹے سام کی نسل سے ہیں ان کے اور نوح ( علیہ السلام) کے بیچ میں آٹھ پشت ہوتی ہیں۔ طوفان کے بعد حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اولاد یشیائِ کو چک سے پورب رخ عراق عرب میں آرہی تھی اور اسی جگہ انہوں نے شہر بابل اور ایک بلند برج آیندہ طوفان سے بچنے کے لیے بنایا تھا۔ پھر نوح کی اولادیں یہیں سے تمام دنیا میں پھیلیں۔ گویا سب کا قدیم وطن یہی دیس ہے۔ جیسا کہ توریت سفر الخلیقۃ کے گیارہویں باب سے ثابت ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد تک جو حضرت نوح ( علیہ السلام) سے سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے لوگوں میں بت پرستی ازحد ہوگئی تھی۔ یہ لوگ صابی مذہب کے تھے، عناصر اور کواکب اور دیگر روحانیات کی مورتیں بناکر ان کو پوجتے تھے اور ان کو اپنے رزق اور دنیا کی راحت کا مالک جانتے تھے اور دار آخرت کے قائل نہ تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس قوم کی طرف مبعوث کئے گئے۔ انہوں نے وعظ کیا کہ اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جن کو تم پوجتے ہو ان کو تمہاری روزی کا کچھ بھی اختیار نہیں، یہ جھوٹے خیالات ہیں کہ وہ روزی دیتے ہیں۔ روزی اللہ دیتا ہے، اسی سے طلب کرو، اس کی عبادت کرو، اس کا شکریہ کرو، تم کو اس کے پاس پھر کر جانا ہے، الیہ ترجعون و ان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم الخ اور اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو کوئی جدید بات نہیں، تم سے پہلے بہت سے گروہ اور فرقے پہلے انبیاء کو جھٹلا چکے ہیں۔ نوح اور شیث اور ادریس کو ان کے لوگوں نے جھٹلایا تھا۔ رسول کا کام صاف صاف حکم پہنچادینا ہے، اب تم مانو یا نہ مانو۔ اس مسئلہ کو دو دلیلوں سے مدلل کیا۔ فقال اولم یرو کیف یبداء الخلق کہ کیا وہ عقلی برہان سے نہیں دیکھتے جو قائم مقام آنکھوں کے دیکھنے کے ہے کہ اللہ نئے سرے سے کیونکر پیدا کرتا ہے، ہر حجر و شجر و حیوانات کو دیکھو کہ پہلے کب تھے از خود تو بنے نہیں کیونکہ کوئی شے جو حادث ہو از خود نہیں، اگر ازخود ہوتی ہو تو پہلے ہی کیوں نہ تھی، کسی نے تو اس کو روک رکھا تھا، پھر جس نے روک رکھا تھا وہی تو اس کا خالق ہے۔ وہ اللہ ہے جو تم کو حس سے محسوس نہیں ہوتا اور جو ابتدائً پیدا کرتا ہو (اور اس کو تو تم بھی مانتے ہو، اس لیے استفہام کے طور پر اولم یروا فرمایا) اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، اس کو قیاس عقل چاہتا ہے اور اس لیے آیت کو ان ذلک علی اللہ یسیر پر ختم کردیا۔ اس کے بعد دوسری دلیل ذکر فرماتا ہو، قل سیروا فی الارض الخ اگر تم کو علم یقینی اور حدس مذکور حاصل نہ ہو تو اقطار الارض میں یعنی ملکوں میں پھر کر دیکھو اور موالید ثلٰثہ معادن نبات حیوان کے پیدا ہونے کی کیفیت ملاحظہ کرو کہ ان کو کس طرح سے پیدا کیا ہے، تاکہ یہ فکر مشاہدہ تک پہنچادے اور اسی لیے اس جگہ کیف یبدء الخلق تفسیر : بلفظ ماضی ذکر کیا کہ اگر آیندہ اول بار پیدا کرنے اور بارد گر پیدا کرنے میں شک ہو تو پیدا کی ہوئی چیزوں کو دیکھو انسان کو ایک قطرہ منی سے بنایا، درختوں کو ایک ذرا سے تخم سے بلند وبالا کیا، پھر اس سے سمجھ لو کہ وہ باردگر یعنی مرنے کے بعد پھر دوبارہ تم کو پیدا کرے گا۔ پس دونوں جملوں میں ایک جملہ کا دوسرے پر معنی کے لحاظ سے عطف ہے۔ پھر ثم اللہ ینشیء میں بجائے ضمیر کے لفظ اللہ کے لانے میں یہ نکتہ ہے کہ یہ تمہارے معبودوں کا کام نہیں، دلائل الانفس والافاق کے بعد نتیجہ ثابت کرتا ہے، اللہ علی کل شی قدیر کہ وہ اول بھی پیدا کرسکتا ہے، پھر مٹا کر اس کو باردگر بھی بناسکتا ہے دار آخرت قائم کرکے یعذب من یشاء، و یرحم من یشاء جس کو چاہے گا سزا دے گا جس پر چاہے گا مہربانی کرے گا۔ اسی طرح دنیا میں بھی تم کہیں مرو کہیں دفن ہو یا جلائے جاؤ الیہ تقلبون سب اسی کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔ ہم سے نہ زمین میں کہیں بھاگ کر جاسکتے ہو نہ آسمان میں چڑھ سکتے ہو۔ وما انتم بمعجزین فی الارض ولا فی السماء اور نہ کسی معبود کی مدد سے سامنے ہو کر مقابلہ کرسکتے ہو، کس کے لیے کہ مالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر اس کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی ہے نہ مددگار،
Ayahs 29:20–22

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دو زمین پر (چل) پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح سے ابتداء ً پیدا کیا، پھر اللہ آخرت کا جی اٹھنا بھی پیدا کرے گا۔ بیشک اللہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے،

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور تم اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم نہ زمین میں (چھپ کر) ہراسکتے ہو اور نہ آسمان میں (اڑ کر) اور نہ تمہارا اللہ کے سوا کوئی حمایتی ہے اور نہ مددگار۔

حکایۃ کلام اللہ تعالیٰ لابراھیم او محمد۔ 12 بیضاوی۔
Ayahs 29:23–26

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو اللہ کی آیتوں اور اس کے ملنے کے منکر ہوئے وہی میری رحمت سے بھی ناامید ہوگئے ہیں اور انہی کے لیے عذاب الیم ہے،

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر اس کی قوم کے پاس بغیر اس کے اور کچھ جواب ہی نہ تھا۔ کہنے لگے کہ اس کو یا تو مار ڈالو یا جلادو، پھر ابراہیم کو اللہ نے آگ سے بچالیا۔ البتہ اس میں بھی ایمان لانے والی قوم کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم نے (اپنی قوم سے) کہا تم نے جو اللہ کے سوا بت بنا رکھے ہیں تو آپس کی محبت کے لیے جو دنیا کی زندگی میں ہے، پھر قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور (اُس وقت) تمہارا ٹھکانا آگ ہوگا اور تمہارے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ابراہیم کو لوط نے مانا اور کہا میں اپنے رب کی طرف وہ وطن چھوڑ کرجاتا ہوں۔ بیشک وہ زبردست حکمت والا ہے

ترکیب : قال جار اللہ الزمخشری مودۃ بالنصب اما باضافۃ او بغیر اضافۃ فعلی الاول التعلیل لتودوا بینکم وعلی الثانی یکون مفعولاً ثانیا علی حذف المضاف اوعلی ان المصدر بمعنی بمفعول ای اتخذتم الاوثان سبب المودۃ بینکم و اتخذ تموھامود وۃ بینکم وقری بالرفع ایضاً باضافۃ فعلی الوجھین یکون خیر الان علی ان ما موصلہ والتقدیران التی اتخذ تموھا اوثاناھی سبب مودۃ بینکم او مودہ بینکم۔ پھر جب مجبوراً ہمارے دربار عدالت میں لائے جاؤ گے تو والذین کفروا بایات اللہ ولقائہٖ وہ جو اللہ کی آیتوں اور اس کے پاس جانے کے منکر ہوگئے ہیں۔ اولئک یئسوا من رحمتی وہ درحقیقت میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں، پس اولئک لہم عذاب الیم ان کو سخت سزا ملے گی، یہ آخرت کا فیصلہ ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وان تکذبوا سے لے کر اولئک لہم عذاب الیم تک بقرینہ قولہ تعالیٰ قل سیروا فی الارض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں جملہ معترضہ ہے، جس میں قریش مکہ سے کلام ہے۔ اس لیے کہ عرب کی حالت کفر و شرک و انکار حشر میں بعینہٖ قوم ابراہیم کی حالت تھی فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ اوحرقوہ فانجہ اللہ من النار سے پھر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ اس کی قوم کو بجز اس کے اور کچھ جواب نہ آیا کہ جل کر یہ کہہ دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا آگ میں جلا دو ۔ چناچہ آگ میں ڈال دیا۔ اللہ نے حضرت کو سلامت وہاں سے نکالا۔ ان فی ذلک لآیٰتٍ 1 ؎ لقوم یؤمنون اس میں ایمانداروں لیے 1 ؎ نوح کی کشتی کے لیے آیۃ للعالمین آیا ہے اور یہاں آیات یقوم یومنون آیا اس سبب سے کہ وہ کشتی صرف ایک ہی نشانی تھی اور جہان کے لیے بھی کے قرنوں وہ باقوں رہی ہر ایک شخص کا فرد مومن اسکو دیکھتا تھا برخلاف ابراہیم کے اگ سے نکلنے کے اس کو تو وحی کے سبب ایمان والے ہے انتہی ہیں اور اس میں چند نشانیاں ہیں جیسا کہ بیان ہوا۔ 12 منہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ اللہ ایسا قادر ہے کہ آگ میں ڈال کر سلامت نکال لیتا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ دینداروں پر ہمیشہ اس کی عنایت رہتی ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ امت محمدیہ ملت ابراہیمیہ کی پابند ہے جس طرح ان کو آگ سے نجات دی اس کے پیرو وں کو جہنم کی آگ سے بھی نجات دے گا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وعظ شروع کیا کہ آج دنیا میں تم نے باہمی محبت سے بت پرستی کر رکھی ہے، باپ دادا کی محبت سے ان کے غلط طریق پر چلتے ہو اور برادری کی محبت سے غلط بات کو نہیں ترک کرتے قیامت میں وہ محبت بھی جاتی رہے گی، وہی تم پر لعنت کریں گے اور تم جہنم میں جاؤ گے کوئی نہ بچائے گا۔ فامن لوط پس اس قوم میں سے حضرت کا بھتیجا لوط ( علیہ السلام) ایمان لایا اور وہ وطن چھوڑ کر پہلے حران اطراف کوفہ میں آئے، پھر وہاں سے ملک شام میں گئے، مہاجر الی ربی یعنی رب کے حکم سے ہجرت کرتا ہوں، جہاں وہ لے جاتا ہے جاتا ہوں
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب قائم کی اور ہم نے دنیا میں بھی اس کا بدلہ اس کو دیا اور وہ آخرت میں بھی نیک بختوں میں سے ہوں گے۔

، ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب یہاں سے حضرت ابراہیم پر جو کچھ انعامِ الٰہی ہوا، اس کو بیان فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو ایسا بلند اقبال بیٹا اسحاق اور پوتا یعقوب ( علیہ السلام) عطا کیا اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب قائم کی گئی توریت زبور انجیل قرآن اسی کی اولاد کو ملی اور دنیا میں بھی اس کو بدلہ دیا مال و اسباب و اولاد و عزت اور آخرت میں بھی وہ کاملین میں ہیں۔
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور (بیان کرو) لوط کا (حال) جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم تو وہ بےحیائی کرتے ہو کہ جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے بھی نہیں کی،

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم لڑکوں کے پاس جاتے ہو اور راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو۔ پھر اس کی قوم کے پاس بجز اس کے کچھ جواب نہ تھا کہ تو ہم پر اللہ کا عذاب لے کر آ اگر تو سچا ہے۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے رب ! (ان) بدمعاش لوگوں پر مجھے غالب کر

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جبکہ ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اسی بستی کے لوگوں کو غارت کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بڑے ظالم ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا اس بستی میں تو لوط بھی ہے۔ وہ بولے ہم خوب جانتے ہیں جو اس میں ہے، ہم لوط کو اور اس کے کنبے کو بچالیں گے، مگر اس کی بیوی کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جبکہ ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس آئے تو لوط کو ان کا آنا برا معلوم ہوا اور ان سے دل میں تنگ ہوئے اور فرشتوں نے کہا اب کچھ خوف نہ کیجیے اور نہ غم کھایئے۔ بیشک ہم آپ کو اور آپ کی بیوی کے سوا گھر والوں کو بچالیں گے، کیونکہ وہ تو پیچھے رہ جانے والوں میں قرار پاچکی۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی والوں پر آسمان سے ایک آفت اتارنے والے ہیں، اس سبب کے کہ وہ بدکاری کرتے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور البتہ اس بستی کے کچھ کھلے ہوئے نشان تو عقلمندوں کے لیے باقی رکھ چھوڑے ہیں۔

ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔ تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے دریائے یرون کی ساری ترتی اپنے لیے پسند کی اور شہر سدوم کے پاس آکر مقام کیا۔ یہ شہر اس شور جھیل کے کنارے پر آباد تھا کہ جس کو بحر المیت کہتے ہیں، کنعان سے پورب اور جنوب میں یہاں کے لوگ بڑے بدکار اور فاسق تھے، مردوں سے بدفعلی کرتے تھے اور راہ گیر کو بھی پکڑ کر اس سے ایسی بدفعلی کرتے تھے، اس لیے اس طرف کا رستہ بند ہوگیا تھا اور رہزنی بھی کرتے تھے اور مجلس میں بیٹھ کر بےحیائی کے کام کرتے تھے، لوط ( علیہ السلام) نے منع کیا وہ کب مانتے تھے، تمسخر کے طور پر کہنے لگے کہ اللہ کے عذاب کو لے آ اگر سچا ہے، لوط نے دعا کی کہ مجھے ان بدمعاشوں پر فتح یاب کر یعنی ان کو سزا دے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوپہر کے وقت بلوطوں میں اپنے خیمے میں بیٹھے تھے کہ ان کو تین شخص نظر آئے۔ ابراہیم نے ان کی ضیافت کے لیے کچھ روٹیاں اور تلا ہوا بچھڑا تیار کروایا، اُنہوں نے کھانے سے ہاتھ روکا ابراہیم (علیہ السلام) ڈرگئے کیونکہ اس وقت جو کوئی کسی کے پاس بد ارادہ سے جاتا تھا تو اس کے ہاں کا کھانا نہ کھاتا تھا۔ فرشتوں نے کہا خوف نہ کر ہم تجھ کو بشارت دینے آئے ہیں کہ تیری بیوی سارہ کے ہاں فرزند پیدا ہوگا اور جب چلنے لگے تو کہا ہم سدوم کو غارت کرنے جاتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا وہاں تو لوط بھی ہے۔ انہوں نے کہا ہم کو معلوم ہے، اس کو اور اس کے کنبے کو بچالیں گے مگر اس کی بیوی نہ بچے گی، کیونکہ وہ پیچھے اس بستی کو مڑ کر دیکھے گی، ان کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگی۔ شام کو وہ لوگ سدوم آئے اور لوط ( علیہ السلام) سدوم کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ان کو مسافر سمجھ کر اپنے گھر لے گئے مگر دل میں ناخوش ہوئے اور بہت تنگ ہوئے، اس لیے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی صورت میں تھے۔ شہر کی حالت معلوم تھی، مگر مہمان نوازی ضروری تھی، یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کو گھر میں نہ لاتے، خاطر مدارات نہ کرتے، ابھی وہ سونے کے لیے نہ لیٹے تھے کہ شہر کے مردوں نے جوان سے لے کر بوڑھے تک نے ان کا گھر آگھیرا اور کہنے لگے، ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر کہ ان سے بدفعلی کریں۔ لوط ( علیہ السلام) کواڑ کھول کر باہر ان کے پاس گئے اور بہت سمجھایا کہ یہ میرے مہمان ہیں، وہ بولے پرے ہٹ کیا تو یہاں گزر کرنے آیا ہے یا حکومت کرنے، تب وہ کواڑ توڑ کر اندر کو لپکے فرشتوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کے لوط ( علیہ السلام) کو تو اندر کھینچ لیا اور وہ دروازہ بند کردیا اور ان کو اندھا کردیا کہ وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے، تب ان مہمانوں نے لوط ( علیہ السلام) سے کہا۔ سنو جی ہم فرشتے ہیں، آپ کچھ خوف و غم نہ کیجئے، ہم اس شہر کو غارت کرنے آئے ہیں۔ آپ صبح ہونے سے پیشتر اپنے لوگوں کو لے کر باہر نکل جایئے، چناچہ لوط ( علیہ السلام) باہر نکلے اور سورج کے نکلنے کے وقت خدا تعالیٰ نے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ برسائی، بیوی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا، وہ نمک کا کھنبا بن گئی اور اس شہر کے کچھ نشان عبرت کے لیے باقی رہ گئے۔
Ayahs 29:36–40

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تب اس نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو اور قیامت کی توقع رکھو اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو،

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو انہوں نے اس کو جھٹلادیا، تب تو ان کو زلزلہ نے آلیا، پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے ہی عاد اور ثمود کو (غارت کیا) اور البتہ تم کو ان کے کچھ مکانات بھی دکھائی دیتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال (بد) پر ان کو رجھا دیا تھا، پھر ان کو رستہ سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سمجھ بوجھ بھی رکھتے تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کیا) اور البتہ ان کے پاس موسیٰ نشانیاں بھی لے کر آئے تھے (باوجود اس کے) پھر انہوں نے زمین میں سرکشی کی اور وہ بھاگ کر نہ جاسکے۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑلیا، پھر کسی پر تو ان میں سے ہم نے سخت آندھی بھیجی اور ان میں سے کسی کو کڑک نے آلیا اور کسی کو ان میں سے زمین دھنسادیا اور ان میں سے کسی کو غرق کردیا اور اللہ تو ان پر کیوں ظلم کرنے لگا تھا، لیکن خود وہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے۔

ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔ تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی انہی میں سے تھے جو اس گروہ کے نبی کرکے بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ بت پرست تھے اور قیامت کے منکر اور لوٹ مار ان کا پیشہ تھا۔ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے تین باتوں کی نصیحت کی فقال یقوم اعبدو اللہ کہ اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو نہ پوجو، یہ توحید کی تعلیم تھی۔ وارجوا الیوم الآخر اور قیامت پر ایمان لاؤ۔ یہ ایمان بالبعث کی تعلیم تھی۔ ولا تعثوا فی الارض مفسدین اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو، یہ اصلاح معاش کی بابت تعلیم تھی، مگر فکذبوہ وہ کب ماننے والے تھے۔ آخر نہ مانا پھر ان پر بلائے آسمانی نازل ہوئی، زلزلہ نے آلیا، سب مر کر وہیں پڑے رہ گئے۔ وعا دا و ثمودا الخ پانچواں قصہ مجملاً عاد وثمود کا ہے۔ قوم عاد عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں رہتی تھی اور قوم ثمود ان کے بعد اٹھی جو عرب کے شمالی حصہ میں آباد تھی۔ ان قوموں کی بڑی سلطنت اور حشمت ہوچکی ہے، ان کا حال کئی جگہ ہم مفصل بیان کر آئے ہیں۔ ان کے غارت ہونے کے بعد آنحضرت ( علیہ السلام) کے عہد تک ان کے مکانات کے آثار قدیمہ باقی تھے جن کو سفر میں آتے جاتے اہل مکہ دیکھا کرتے تھے، اس لیے فرماتا ہے۔ وقدتبین لکم من مساکنہم، ان کا حال کیا تھا وزین لہم الشیطن اعمالہم کہ ان کے برے کام ان کو عمدہ معلوم ہوتے تھے، اس لیے راہ راست سے رک گئے۔ باوجودیکہ کانوا مستبصرین سمجھ بوجھ رکھتے تھے۔ دُنیاوی کاموں میں بڑے ہوشیار تھے۔ معاذ اللہ جب انسان اپنی برائی کو بھلائی اور برے کام کو اچھا سمجھنے لگتا ہو تو اس مرض لادوا کا کوئی علاج ہی نہیں بجز موت روحانی کے۔ قارون و فرعون وھامن چھٹا تذکرہ موسیٰ کے ہم زمانہ تین سرکش لوگوں کا ہے۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا۔ ہامان اس کا وزیر قارون موسیٰ ( علیہ السلام) کی برادری میں سے تھا، بڑا مالدار۔ تینوں کے رسول موسیٰ ( علیہ السلام) تھے۔ معجزات بھی دکھائے لیکن فاستکبروا فی الارض زمین میں تکبر اور سرکشی اور غرور نے ان کو مطیع نہ ہونے دیا، پھر اللہ سے کہاں جاسکتے تھے ؟ وماکانوا سابقین۔ بعض معترضین کہا کرتے ہیں کہ ہامان تو اخسویرس شاہ ایران کا وزیر تھا نہ کہ فرعون کا، یہ ان کا اعتراض بیجا ہے۔ کس لیے کہ ایک نام کے کیا دو شخص نہیں ہوتے، فرعون کے وزیر کا نام بھی ہامان تھا۔ فکلا اخذ نا بذنبہ عاد اور ثمود و قارون و فرعون و ہامان کا ذکر کرکے سب کی ایک جملہ میں سزا بیان فرماتا ہے۔ پہلے تو اجمالاً یہی کہہ دیا کہ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے سبب پکڑ لیا، پھر تفصیل کرتا ہے۔ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا کہ ان میں سے بعض پر سخت آندھی بھیجی کہ جس میں کنکریاں تھیں۔ (حاصبا ریحاعا صفا فیھا حصباء جلالین) اس سے قوم عاد مراد ہے، ان پر بھی عذاب آیا تھا۔ و منہم من اخذتہ الصیحۃ جیسا کہ قوم ثمود ومنہم من خسفنا بہ الارض جیسا کہ قارون و منہم من اغرقنا۔ جیسا کہ فرعون و ہامان زجر کے طور پر یہ آیت بلاغت و فصاحت میں اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ پھر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اللہ نے اپنی مخلوق پر ظلم کیا، اس لیے بعد میں فرمادیا۔ وماکان اللہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون کہ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا نہ یہ اس کی شان ہے، ہاں وہی خود اپنے اوپر ظلم کرکے برباد ہوئے، بری بات کا برا نتیجہ بھگتا۔