29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

ان کے لوگوں کی مثال کہ جنہوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں۔ مکڑی کی سی مثال ہے کہ جس نے گھر بنایا اور البتہ سب گھروں سے بودا گھر مکڑی کا ہے۔ کاش وہ جانتے،

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

البتہ اللہ جانتا ہے جس کو کہ وہ اس کے سوا پکارتے ہیں اور وہ زبردست حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں ہیں کہ جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان کو وہی سمجھتے ہیں جو علم والے ہیں۔

ترکیب : مثل الذین صلہ و موصول مبتداء کمثل العنکبوت خبر اتخذت بیتا جملہ مستانفہ یا وصف والعنکبوت تقع علی الواحد والجمع والمذکر والمونث والتا، فیہ زائدۃ کتاء طاغوت و یجمع علی عناکیب و عناکب و عکابٍ و عکبۃ واعکبٍ (بیضاوی) مایدعون من دونہ من شیء ما استفہامیۃ منصوبۃ بیدعون بالتاء والیاء ویعلم معلقۃ عنھا (لان من خواص افعال القلوب التعلیق ای ابطال العمل لفظا فقطا) ومن للتنبیین اونافیتہ ومن مزیدۃ وشیء مفعول یدعون او موصولہ مفعول لیعلم و مفعول یدعون محذوف وھو العائد والخبر الامثال و نضربہا حال عنھا ویجوزان یکون خبرا والامثال لغت بالحق حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون اب یہاں ان کے اس ظلم کی جو وہ اپنی جانوں پر کرتے تھے، تشریح فرماتا ہے۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کہ اس سے بڑھ کر اپنی جان پر اور کیا ظلم ہوگا، خدا نے تو ان کو بزرگی دی، علم و ہنر ہوش و ادراک عطا کیا، لیکن انہوں نے اس عزت خدا داد کو کیسا غارت کیا کہ اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے بتوں کو سجدہ کرنے لگے جو نہایت مبتدل چیز ہے جس کو نہ حس و حرکت نہ عقل و شعور، ان کا یہ کام کمثل العنکبوت اتخذت بیتا مکڑی کے جالے کی طرح بےبنیاد ہے، سب چیزوں کے گھروں کو دیکھئے، ان سب میں بےبنیاد مکڑی کا گھر ہے جس سے نہ دھوپ کا آرام نہ بارش سے امن، ان اوھن البیوت لبیت العنکبوت ہاں وہ مکڑی اس میں مکھی مچھر کا شکار کرلیتی ہے، اسی طرح جو ان بت پرستوں کو کوئی دُنیاوی فائدہ پہنچ جاوے تو وہ بھی ایسا ہی بےبنیاد ہے، اس طرح ان کو اس مذہب سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ لوکا نوا یعلمون اگر وہ جانتے تو ایسا نہ کرتے یا یہ معنی کاش ان کو علم ہوتا۔ اس مثل پر شاید چالاک بت پرست یہ گفتگو کرتے ہوں گے جیسا کہ آج کل کیا کرتے ہیں کہ ہم ان بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ان کو کہ جن کے یہ بت ہیں اور وہ دیوتا اوتار ملائک روحانیات اولیاء کرام انبیاء ہیں جو اس کی بارگاہ کے مختار اور داروغہ ہیں جو چاہتے ہیں، کرتے ہیں اور نیز ان سے جو ہم مانگتے ہیں پاتے ہیں، اس کا جواب دیتا ہے۔ ان اللہ یعلم مایدعون من دونہ من شیئٍ کہ جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں، ہم کو معلوم ہیں۔ یہ کلام بطور تہدید کے ہے، یعنی وہ بھی پرستش کے قابل نہیں، ہمارے گھر کا کوئی مالک و مختار نہیں، سب ہمارے دست نگر ہیں۔ وھو العزیز ہم سب پر غالب ہیں اور نیز ہم کو کسی داروغہ یا اہل کار کی حاجت کیا ہے، کیونکہ الحکیم ہم حکیم ہیں، ہر شے کی تدبیر و تصرف آپ کیا کرتے ہیں۔ اس میں اس دوسری بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم جو کہتے ہو، ہم جو ان سے مانگتے ہیں، پاتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے، کیونکہ یہ دینا دلانا زبردست کا کام ہے، سو زبردست تو ہم ہیں جو تم کو دنیاوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ سب اپنی حکمت سے تم کو ہم دیتے ہیں، تم سمجھتے ہو کہ فلاں دیوی دیوتا نے ہم کو اولاد دی ‘ مال دیا اور نیز اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ مانگتے غیروں سے ہو، دیتے ہم ہیں۔ غصہ دنیا میں ظاہر نہیں کرتے کہ تمہارے کاربند کردیں نظام عالم میں خلل آوے۔ جو ازلی جہنمی ہے، اس کے گمراہ ہونے کے یہ اسباب اس کی حکمت بالغہ کا اثر ہے اور نیز ھو العزیز الحکیم میں یہ بھی اشارہ ہے کہ قابل پرستش وہ ہے جو غالب اور حکیم ہو، سو یہ دونوں وصف ہم کو حاصل ہیں نہ اور کو یہ معنی اس تقدیر پر ہیں کہ جب مایدعون کے ما کو موصولہ مانا جاوے اور اگر اس کو نافیہ یا استفہامیہ سمجھا جاوے تو یہ معنی ہوں گے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ کچھ بھی نہیں یا وہ کیا چیز ہیں ؟ اور بعض جہال اس مثال پر یہ بھی طعن کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مکڑی کا کیوں ذکر کیا، وہ تو ایک ذلیل چیز ہے، کوئی اور ہی مثال دینی تھی۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے تلک الامثال نضربہا للناس ومایعقلہا الا لعالمون کہ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سمجھانے کے لیے ذکر کرتے ہیں۔ یہ سمجھتے وہی ہیں جو ذی علم ہیں، وہ جان جاتے ہیں کہ مکڑی خواہ کیسی ہی ذلیل چیز ہو مگر غرض تو مشرکوں کے مذہب کو اس ذلیل چیز کے ذلیل گھر سے تشبیہ دینا ہے۔ سو وہ بخوبی حاصل ہے، اگرچہ العزیز الحکیم سے ان کے معبودوں کی قلعی کھول دی تھی مگر اس بات کو پھر ایک بڑی بھاری دلیل سے ثابت فرماتا ہے۔ خلق اللہ السموات والارض بالحق کہ اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو نہایت درستی سے بنایا ہے، کوئی ان میں بیکار نہیں نہ کوئی کارآمد بات رہ گئی ہے۔ پھر بتلاؤ تمہارے معبودوں نے کیا بنایا ہے، خواہ وہ بت ہوں یا وہ کہ جن کے یہ بت ہیں، ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین، اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی نشانی اور کامل حجت اور پوری اطمینان دینے والی سند ہے کہ وہی پرستش کے قابل ہے کہ جس نے آسمان زمین بنائے، باقی کا کیا حق ہے۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو درستی سے بنایا۔ البتہ اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

تفسیر : ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین تک انبیاء کے واقعات اور شرک کی برائی اور مشرکین کے ساتھ مناظرہ اور ان کی بت پرستی کی تحقیر تھی اور یہ ایک خاص مقصد تبلیغ رسالت سے متعلق تھا، جس میں روح پر تکان آنا اور طبیعت کا سست ہوجانا ایک جبلی بات ہے، اس لیے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تلاوت قرآن اور نماز اور ذکر الٰہی کا حکم دے کر پھر تازہ دم کیا جاتا ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے رسول ! ) وہ جو آپ کی طرف کتاب وحی کی گئی ہے، اس کو پڑھاکرو اور نماز کو (سرگرمی سے) ادا کرتے رہو، البتہ نماز بےحیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور اللہ کی بات سب سے بڑھ کر ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

فقال اتل ما اوحی الیک من الکتاب الخ کہ اگر یہ جاہل و سرکش نہ مانیں تو آپ کتاب الٰہی کی جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے، یعنی قرآن مجید تلاوت کیجئے، کیونکہ اس میں نوح و ابراہیم و لوط و موسیٰ کی امتوں کا پورا بیان ہے، آپ کے دل کو تسکین ہوجائے گی کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ یہ کچھ کیا تھا، جس پر برباد ہوئے، یہ کوئی نئی بات نہیں اور اسی لیے اتل فرمایا۔ اتل علیہم نہیں فرمایا اور نیز قرآن میں دنیا کی بےثباتی و دار آخرت کی ترغیب ہے، اس کے پڑھنے سے خواہ مخواہ دل کو تسلی اور روح کو روشنی حاصل ہوجاتی ہے اور دنیا کو بےثبات سمجھنے لگتا ہے، پھر کوئی رنج رنج نہیں معلوم ہوتا ہے اور اب تک قرآن مجید کی تلاوت میں بھی برکت رکھی ہوئی ہے اور تلاوت کا پہلے اس لیے حکم دیا کہ اس کو سننے والا بھی مستفیض ہوتا ہے اور اسی لیے اوسط درجہ کا جہر اولیٰ قرار دیا گیا، پس اگر اس سے بھی ان کو فیض نصیب نہ ہو تو اقم الصلوۃ نماز پڑھ کر کیونکہ ان الصلوٰۃ تنہی عن الفحشاء و المنکر نماز برے اور بےحیائی کے کاموں سے روک دیتی ہے۔ اول تو اس میں ہر رکعت میں سورة الحمد پڑھی جاتی ہے جس کا ہر ہر جملہ انسان کی روحانی قوتوں کو ابھارنے والا ہے، پھر اس کا کھڑا ہونا حمدوثناء کرنا اس کے آگے سر رکھ کر اس کی حمدوثناء کرنا روح کو تازہ کرتا ہے اور جب روح پر تازگی آتی ہے تو نفسانی قوتیں گھٹ جاتی ہیں جو بےحیائی اور برے کاموں کی محرک تھیں اور ذکر الٰہی نماز کے باہر بھی کر کیونکہ ولذکر اللہ اکبر خواہ ذکر قلبی ہو خواہ لسانی جہری ہو، خواہ سری، یہ بڑی چیز ہے۔ اس میں اللہ جل شانہ سے نزدیکی ہوتی ہے اور اس کی صحبت سے بڑھ کر ہے۔ یہ تین قسم کی عبادت ہے۔ تلاوت، نماز، ذکر، اگرچہ نماز میں تینوں کیا پاکیزہ حرف ہیں مگر جداگانہ بھی ہر ایک جدا اثر رکھتی ہے۔ اس لیے ہر ایک کو جداگانہ ذکر کیا اور اس ترتیب میں ایک نکتہ ہے۔ واللہ یعلم ماتصنعون میں اشارہ ہے کہ خلوص سے یہ کام کرو۔ وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، یہ تعلیم باطنی تھی کہ تم ایسے ہوجاؤ، تمہارے نور باطن سے لوگ خود بخود ہدایت پر آویں گے، اس لیے اس کے بعد اہل کتاب کے مناظرے اور جھگڑے سے بھی روک دیا جو وہ بسا اوقات مسلمانوں سے الجھا کرتے تھے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اے مسلمانو ! اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر اسی طریقہ سے کہ جو عمدہ ہو، مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (اُن سے پورا مقابلہ کرو) اور کہو ہم ایمان لائے، اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور (اس پر بھی) جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں

ترکیب : الا بالتی ای المجادلۃ التیھی احسن کا لدعاء الی اللہ اباتہ و لتنبیہ علی جحجہ الالذین ظلموا ھو استثناء من الجنس و فی المعنی و جہاں احدھما الا الذین ظلموا فلا تجادلوھم بالحسنی بل بالغلظۃ والثانی لا تجادلوھم البتہ۔ فقال ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن اہل کتاب سے مجادلہ نہ کرو مگر عمدہ طور سے ہو تو مضائقہ نہیں جس میں نرم کلامی اور اظہارِ حق مدنظر ہو الا الذین ظلموا منہم مگر جو ان میں ہٹ دھرم ہیں، بعض سخن پرور ضدی متعصب زبان دراز ہو تو ان سے مناظرہ نہ کرو، ان کو اس وقت کے لیے چھوڑ دو کہ آسمانی سلطنت کا بادشاہ اپنی تلوار اپنی ران پر لٹکائے اور اس کا دائیاں ہاتھ مہیب کام دکھائے۔ اس کے بعد اہل کتاب کے لیے کیا ساکت کرنے والا کلام فرماتا ہے۔ وقولوا امنا الخ کہ بھائیو الہام اور نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوگیا، ہم جو ہمارے نبی پر الہام ہوا اس کو بھی مانتے ہیں اور جو تمہاری طرف انبیائِ سابقین کی طرف الہام ہوا ہے کہ جن کو تم بھی جانتے ہو، اس کو بھی ہم مانتے ہیں توریت، زبور، انجیل سب پر ہمارا ایمان ہے اور ہمارا تمہارا ایک ہی خدا ہے، پھر جس نے پہلی کتابیں اور نبی بھیجے اسی نے یہ نبی اور کتاب بھیجی۔
Ayahs 29:47–49

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح کی ہم نے آپ کی طرف بھی کتاب نازل کی ہے۔ پھر جن کو کہ ہم نے کتاب دی تھی وہ تو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں سے بھی کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا کافر ہی انکار کیا کرتے ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور اس سے پہلے آپ اے نبی ! نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے، اب یہ بدکیش شبہ میں پڑگئے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ (یہ) قرآن کھلی ہوئی آیتیں ہیں، ان کے دلوں میں کہ جن کو علم دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا (کوئی) انکار نہیں کرتے، مگر ظالم۔

تفسیر : وکذلک انزلنا الیک الکتاب پھر اب تم کو ہمارے اہل حق ہونے میں کیا کلام باقی ہے، صاف بات ہے ہم پر نبی یا کتاب نہ ماننے کا الزام عائد نہیں ہوسکتا، ہاں تم پر ہے اس لیے خدا ترس اہل کتاب جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ اور عرب کے بھی با انصاف لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ فالذین اتینہم الکتاب یؤمنون بہ الخ پھر جو اس کا منکر ہے تو وہی ہے جو ازلی کافر ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون اس کے بعد ایک اور دلیل تسلی بخش ذکر کرکے فرماتا ہے۔ وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون کہ اس دن سے پہلے آپ نہ کبھی کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ لکھتے تھے یعنی ظاہری علم نہیں تھا، اگر اگلی کتابیں لکھے پڑھے ہوتے تو ان کے لیے شک کرنے کی گنجائش تھی کہ ان میں سے دیکھ کر کتاب لکھ لی ہوگی۔ پھر جب یہ نہیں تو بجز الہامِ الٰہی کے اور کوئی وجہ نہیں، پھر یہ مبطل جھوٹا کرنے والے یا تباہ کار کے لیے شک کرتے ہیں، بلکہ ہوایت بینات فی صدور الذین اوتوا العلم یہ قرآن کھلی کھلی آیتیں ہیں جو حفاظ کے سینوں میں لکھی ہوئی ہیں نہ کہ کاغذوں پر محمد ﷺ نے لکھ کردی ہیں، اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ قرآن مجید کی آیتیں واضح اور روشن ہیں، یعنی ان کے مطالب الہامی ہیں۔ اہل علم کے دلوں میں پیوست ہیں، وہ اہل علم دل سے تصدیق کرتے ہیں، یعنی کچھ اسی معجزہ پر بس نہیں کہ ایک امی سے ایسی کتاب ظاہر ہوئی بلکہ نفس مضامین قرآن اپنے لیے آفتاب کی طرح اہل علم کے نزدیک آپ دلیل ہیں اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ قرآن عالم بالا کے اہل علم ملائکہ کے دلوں میں لکھا ہوا ہے۔ وہاں سے دنیا میں آیا ہے نہ کہ محمد ﷺ نے فرمایا ہے، پھر جو کوئی ایسی آیتوں کا انکار کرے تو بڑا بےانصاف ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الظلمون یہاں تک اہل کتاب کے ساتھ احسن طریق پر مناظرہ تھا۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہ نازل کی گئیں۔ کہہ دو نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں جو ہوں تو کھول کر ڈر سنانے والا ہوں۔

وقالوا لولا انزل علیہ اٰیت من ربہ جب آنحضرت ﷺ کی نبوت دلائل سے ثابت کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ جس طرح پہلے نبیوں پر کتاب نازل کی گئی تھی، اس طرح آپ پر بھی اللہ نے نازل کی ہے، اس پر کفار قریش نے ازخود یا بعض اہل کتاب کے سکھانے سے یہ شبہ کیا کہ اس کو یعنی محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہ دیئے گئے تھے۔ نافع و ابن عامر اور بصریوں و حفص کی قرأت میں آیات جمع کا لفظ ہے اور یہی راجح ہے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل انما الایت عنداللہ وانما انا نذیر مبین کہہ معجزات تو اللہ کے اختیار میں ہیں، جب چاہے منکروں کے الزام کے واسطے ظاہر کرے اور میں رسول ہوں، رسول کے لیے مخالفین کی خواہش کے موافق معجزات کا دیا جانا کوئی شرط رسالت نہیں، رسول کے بھیجنے سے غرض لوگوں کا تنبیہ کردینا ہے۔ سو میں کھلم کھلا تم کو متنبہ کرنے والا ہوں۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے بھی یہودیوں نے صلیب پر چڑھاتے وقت معجزات طلب کئے، مگر جب دیکھا گیا کہ نہ مانیں گے نہ دکھائے گئے اور اگر تم کو کوئی معجزہ تصدیق کے لیے درکار ہو تو قرآن سے زیادہ اور کون سا معجزہ ہے، جو تم کو سنایا جاتا ہے، کیونکہ امی شخص سے ایسی کتاب کا ظاہر ہونا کہ جس کی دس آیتوں کے برابر بھی کسی سے نہیں بن سکتیں بڑا معجزہ ہے اور نیز قرآن صرف معجزہ ہی نہیں بلکہ نصیحت اور رحمت ہے ایمانداروں کے لیے۔ فقال او لم یکفہم الی قولہ یؤمنون دوسری دلیل نبوت کی اللہ کی شہادت ہے جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے، اس کی شہادت بس ہے۔ فقال قل کفی باللہ الخ پس جو غلط باتوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں وہ نہیں مانتے نہ مانیں وہ خسارہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ والذین آمنوا بالباطل الخ اس پر بھی کفار کو بس نہ تھی کہتے تھے کہ جب عذاب کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر سچا ہے تو ابھی اس کو لا ویستعجلونک بالعذاب فرماتا ہے، اس کے لیے ایک خاص وقت مصلحتِ الٰہیہ کی وجہ سے مقرر نہ ہوا ہوتا تو ابھی آتا اور وہاں وہ یکایک ان پر آوے گا۔ بدر کا واقعہ اور ایک قحط عظیم چناچہ آیا، پھر تعجب کے طور پر اسی کلمہ کا اعادہ کرتا ہے۔ ویستعجلونک بالعذاب کہ کیا جلدی کرتے ہو ؟ جہنم کے گھیرے میں تو پڑے ہوئے ہو،
Ayahs 29:51–55

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی، جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے، البتہ اس میں رحمت اور نصیحت ہے، اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دیجئے میرے اور تمہارے درمیان گواہی کو اللہ کافی ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ہے اور وہ جو جھوٹ پر ایمان لائے اور اللہ سے منکر ہوئے، وہی زیاں کار ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور وہ آپ سے جلدی عذاب مانگ رہے ہیں اور اگر وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو پھر ان پر عذاب آچکتا اور البتہ وہ ان پر دفعۃً آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی،

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

آپ سے جلدی کررہے ہیں، عذاب کے لیے اور البتہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن کہ عذاب ان پر چھا جائے گا ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور کہے گا چکھو جو کچھ کہ تم کیا کرتے تھے۔

ترکیب : انا انزلنا جملہ یکفہم کا فاعل یتلی علیہم کتاب کی صفت کفی کا فاعل اللہ اور ب زائد ہے شہیدا مفعول لہ کفی سے باتمیز اور ممکن ہے کہ حال بھی ہوجائے یوم یغشہم ظرف ہے اس کا عامل محیط ای سیحیط بھم یوم کذا۔
Ayahs 29:56–63

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے ایماندار بندو ! جب تک میری زمین فراخ ہے، پھر میری ہی عبادت کرو (اور غیر کے آگے نہ جھکو)

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر ہمارے ہی پاس پھر کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے، البتہ ہم ان کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ وہاں ہمیشہ رہا کریں گے۔ کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

ان کا کہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے ایسے جانور ہیں کہ جو اپنی روزی نہیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ ان کو بھی روزی دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سنتا جانتا ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اے رسول ! اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) سورج اور چاند کو محکوم کردیا تو کہیں گے اللہ نے، پھر کہاں بہکے چلے جاتے ہو۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے۔ اللہ ہر شے سے خبردار ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا کہ جس سے خشک ہوجانے کے بعد زمین کو سرسبز کیا تو کہیں گے، اللہ نے۔ کہو الحمدللہ۔ بلکہ اکثر ان میں سے نہیں سمجھتے۔

جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور اطمینان سے میری عبادت کرو، وطن چھوڑنا یوں بھی ایک آسان بات نہیں، اس پر مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کی جدائی اور اپنے دینی بھائیوں کا فراق شاق گزرتا تھا اور تنگدستی اور سفر کی غربت کا بھی خیال گزرتا تھا، ان دونوں باتوں سے تسکین و اطمینان کامل دلاتا ہوا اول بات کا اطمینان اس آیت میں دلاتا ہے، کل نفس ذائقہ الموت ثم الینا ترجعون کہ ہر ایک شخص کو ایک روز موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر بہتر یہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مرے اور مر کر سب ہمارے پاس آجاویں گے۔ پھر وہاں جدائی نہیں دنیا میں چند روزہ جدائی ہوئی تو کیا اور نیز اگر ہجرت نہ کی تو بھی مرنا ہے، جدائی تو پھر بھی تمہارے خیال کے مطابق ہے اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ تکلیف جو ہے چند روزہ ہے اور تمہارے مخالفوں کا زور شور بھی چند دن کے لیے ہے۔ دوسری بات کے اطمینان کے لیے یہ آیت ہے، والذین آمنوا وعملوا الصٰلحت لنبوئنہم من الجنۃ غرفًا تجری من تحتہا الانہار خلدین فیہا کہ ہم ایمانداروں، نیک کام کرنے والوں کو جنت کی کھڑکیوں اور جھروکوں میں جگہ دیں گے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ رہا کریں گے، یعنی تمہارے اس ایمان اور وطن چھوڑنے کے بدلے میں ہم تم کو ایسا عمدہ وطن دیں گے (لبنوئنہم اے لننزلنھم من الجنۃ عوالی و انتصاب غرفاً جمع الغرافۃ اما ینزع الخافض ای فی غرف فخدف فی و اما بکونہ مفعولاً ثانیا البویٰ الاقامۃ) اور عملوا الصلحت میں کی دو عمدہ نیکیوں کو بیان فرماتا ہے۔ الذین صبرو اوعلی ربہم یتوکلون کہ وہ جو سفر کرتے ہیں اور ہجرت کی تکلیف گوارا کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ گھر پر بھی تو بغیر مدد الٰہی کے کچھ کام نہیں چلتا، پھر سفر میں بھی وہی انیس ہے۔ ان کے رزق کا اطمینان دلاتا ہے، وکاین من دابۃ الخ کہ بہت سے زمین پر جانور ہیں کہ اپنی روزی کا آپ بندوبست نہیں کرسکتے، ہوا کے پرندوں اور زمین کے سوراخوں میں رہنے والوں کو وہی روزی دیتا ہے، پھر کیا تم کو نہ دے گا یا تم کو بھول جاوے گا نہیں ہرگز نہیں ھو السمیع العلیم وہ سننے جاننے والا ہے۔ پھر اس توکل کو ان تین آیتوں میں اور بھی مستحکم کرتا ہے اور اس کے ضمن میں مشرکوں پر تعریض بھی کرتا ہے اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ آفتاب و ماہتاب بارش وغیرہ انقلاب دہر اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ اے مہاجرین تم کو زبر اور مخالفوں کو زیر کردے گا۔ اول آیت سالتہم الخ کہ ان سے پوچھے گا تو اقرار کریں گے کہ آسمان و زمین چاند اور سورج اللہ نے بنائے ہیں۔ پھر کیا وہ تمہاری روزی کے اسباب پیدا نہ کرے گا ؟ اس میں مشرکوں پر طعن بھی ہے کہ پھر غیر کو کیوں پوجتے ہو ؟ دوسری آیت اللہ یبسط الرزق الخ کہ تنگدستی فراخ دستی اللہ کے ہاتھ ہے، تیسری آیت ولئن سالتہم من نزل الخ کہ وہی مینہ برساکر اس سے زمین کو ہرا بھرا کرتا ہے، ان آیتوں میں مہاجرین کے اطمینان اور مشرکوں پر تعریض اور اللہ تعالیٰ کے خالق وفادار ہونے کا ثبوت و حشر بالا جساد وبالا رواح کا بیان ہے۔ فائدہ : اب بھی جہاں فرائضِ دینی ادا کرنے سے کوئی مانع ہو تو ہجرت واجب ہے اور اس جگہ کی کہ جہاں ہجرت کرکے جاوے کوئی خصوصیت نہیں کہ مکہ معظمہ ہو یا مدینہ منورہ طیبہ یا کوئی دوسری جگہ کہ جہاں آزادی سے ارکان اسلام ادا کرسکے۔ تفسیر : اس وقت صحابہ حبشہ بھی ہجرت کرکے گئے تھے اور مدینہ تو دارالہجرت ہی تھا۔ فتح مکہ سے پیشتر ہجرت ضروری بات تھی پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اب ہجرت کرنا ضرور نہیں مگر جہاں کہیں مسلمانوں کی وہی حالت ہوجاوے جو ابتدائِ اسلام میں مکہ میں تھی تو پھر ہجرت کا وہی حکم ہے۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور کیا ہے اس دنیا کی زندگی مگر کھیل اور کود اور البتہ دار آخرت ہی زندگی (کی جگہ) ہے کاش وہ جانتے۔

ترکیب : والحیوان مصدرحی سمی بہ ذوالحیٰوۃ۔ واصلہ حییان فقلب الیاء الثانیۃ وا والئلاتلتبس بالتثنیۃ ولم تقلب الفالئلا بحذف احد لالفین والحیوٰۃ۔ ایضاً مصدر لکن الحیوان ابلغ لان من بناء فعلان من معنی الحرکۃ والاضطراب الازم للحیوٰۃ۔ بیضاوی وغیرہ۔ ان آیتوں کے بعد (کہ جن میں توکل کی ترغیب تھی اور جن میں اپنی قدرت کاملہ کے آثار ظاہر فرمائے تھے کہ ہم نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پھر آسمان سے مینہ برساکر روزی رزق پیدا کرتے ہیں۔ ہم ہی بےبس جانوروں کو روزی دیتے ہیں، ہم ہی تنگی و فراغدستی دیتے ہیں تاکہ بندہ اسی پر توکل کرے اور دین کی حفاظت میں جو کچھ مصیبت آوے اس سے نہ ڈرے) ایک ایسا جملہ ارشاد فرماتا ہے کہ جس سے دنیا سے دل سرد ہوجاوے اور یہاں کا عیش و آرام اور دکھ درد سب گرد ہوجاوے فقال و ما ھذہٖ الحیٰوۃ الدنیا الا لہو و لعب و ان الدار الآخرۃ لہی الحیٰون لوکانوا یعلمون۔ اس آیت میں تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ اول یہ کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کود ہے، یعنی اس چیز کے مانند بےحقیقت ہے کہ جس سے لڑکے تھوڑی دیر تک مل کر کھیل کود لیتے ہیں۔ پھر تھک کر الگ الگ ہوجاتے ہیں، اس طرح عالم وجود میں لوگ آتے ہیں۔ دنیا کی چیزوں پر فریفتہ ہوجاتے ہیں اور اپنے اصلی رستہ کو کہ جہاں جانا ہے اور اپنے اصلی کام کو کہ جو یہاں کرنا تھا بھول جاتے ہیں، اتنے میں جام عمر لبریز ہوا دنیا سے بڑی تلخ کلامی کے ساتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ایسے گئے کہ پھر کسی نے ادھر آکر بھی نہ جھانکا۔ غرض یہ کہ جس طرح کھیل کود بےبنیاد ہے اس طرح دنیا کی زندگی ہے، کیا خوب کہا ہے عارف جامی نے۔ ؎ دلاتا کے دریں کا خِ مجازی کنی مانند طفلاں خاکبازی بیفشان بال و پر زآمیزش خاک بپرتا کنگرئہ ایوان افلاک مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ ایک بکری کے کن کٹے مردہ بچے کے پاس سے ہو کر نکلے، لوگوں سے فرمایا۔ اس کو کوئی ایک درہم سے خریدنا چاہتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم تو اس کو مفت بھی نہیں لیتے، فرمایا بخدا اللہ کے نزدیک تمہارے لیے دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ خبردار دنیا ملعون ہے، جو کچھ اس میں ہے سب پر لعنت ہے، مگر اللہ کا ذکر اور اس کی پسند کا کام اور عالم اور طالب العلم رواہ الترمذی و ابن ماجۃ۔ سہیل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، اگر اللہ کے نزدیک دنیا مچھر کے برابر بھی ہوتی تو کسی منکر کو پانی بھی نہ پینے دیتا۔ رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ۔ حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ خطبہ میں فرماتے تھے کہ شراب گناہ کا گھر ہے اور عورت شیطان کی رسی ہے۔ (اس سے باندھ لیتا ہے) اور دنیا کی محبت سب گناہوں کی جڑ ہے۔ مشکٰوۃ ؎ ایام بقا چوباد سحر بگذشت تلخی و خوشی وزشت و دیبا بگذشت لہو ولعب سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں لہو ولعب کرنا چاہیے، بعض کہتے ہیں لہو اور لعب کے ایک ہی معنی ہیں۔ دوسرا لفظ پہلے کی تاکید کے لیے آیا کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں لعب لڑکپن کے زمانہ میں کھیلنے کو کہتے ہیں اور لہو جوانی میں کھیلنا۔ کھیل کود اس کا ترجمہ ہے۔ دوسری بات وان الدار الا خرۃ لہی الحیوان کہ آخرت کا گھر ہی زندگی کی جگہ ہے، یعنی فنا نہیں حیات ابدی ہے، پھر جس جگہ ہر وقت کوچ کا نقارہ بج رہا ہو، عاقل کو وہاں دل لگانے ‘ مکان بنانے، قصے قضیئے کرنے سے کیا کام اور اس رواروی کے اسباب عیش سے کیا آرام۔ ؎ مراد منزل جاناں چہ امن و عیش چوں ہر دم جرس فریاد میدار کہ دبر بندید محملہا اقارب و احباب کی موت ‘ بدن کے تغیرات زمانہ کا انقلاب اس غافل کے کوچ اور سفر کے لیے گھنٹیاں ہیں۔ ؎ مصحفی کس زندگانی پر بہلا میں شاد ہوں یاد ہے موت قتیل و مردن انشاء مجھے ؎ کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں تیسری بات لوکا نوا یعلمون۔ اگر لوگ جانتے تو دنیا پر نہ مرتے، یا یہ معنی کاش ان کو اس بات کا علم ہوتا گرچہ دنیا کی بےثباتی اور اپنی موت کا سب کو علم ہے، مگر جبکہ اس علم پر عمل نہیں تو وہ بمنزلہ جہل کے ہے، اس لیے یہ کلمہ فرمایا اور سچ بھی ہے کہ اس جاننے پر دنیا اور اس کے اسباب تفاخر میں یہ محویت ہے کہ مرنا بھی بھول گئے۔
Ayahs 29:65–68

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، خاص اسی کے لیے نیاز کرکے، پھر جب ان کو خشکی کی طرف بچاکر لے جاتا ہے تو جبھی شرک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ ہماری دی ہوئی (نعمتوں) کا انکار کریں اور برت لیں، پھر جلد معلوم کرلیں گے،

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنادیا اور لوگ ہیں کہ ان کے آس پاس سے اچکے جاتے ہیں۔ پھر کیا جھوٹ پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے کون بڑھ کر ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے، جبکہ اس کے پاس آوے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔

ترکیب : اذا رکبوا شرط دعوا جواب۔ مخلصین کا الدین مفعول اور فاعل اس کا ضمیر۔ یہ جملہ حال ہے، فاعل دعوا سے حرمًا موصوف امنا اھلہ من القتل او السبیّ صفت مجموعہ جعلنا کا مفعول ثانی اول بلدھم محذوف اور کل جملہ لم یروا کا مفعول۔ ویتخطف الخ جملہ حال مفعول جعلنا سے یا مستانفہ الخطف ربودن لے جانا۔ تفسیر : فاذا رکبوا فی الفلک یہاں پھر اس حیات دنیا کے ایک بڑے اثر کو بیان فرماتا ہے کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں، کشتی پر سوار ہو کر دریا کا سفر کرتے ہیں اور وہاں پہاڑ جیسی دریا کی موجیں اٹھتی اور کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں تو اس حیات دنیا کا نشہ اتر جاتا ہے اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے، ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی پکارنے لگتے ہیں۔ مخلصین لہ الدین الدین بمعنی الطاعۃ ای مخلصین الطاعۃ لایغیرہ ویمکن ان یکون بمعنی الملۃ فالمعنی کا ئتین فی صورۃ من اخلص دینہ من المؤمنین حیث لایذکرون الا اللہ تعالیٰ ولا یدعون سواہ۔ فلما نجہم الی البراذ اھم یشرکون پھر جب ان کو وہ خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اپنی اسی حالت پر آجاتے ہیں، اپنے انہیں معبودوں کی طرف دنیاوی طمع سے جس کو وہ ان کی طرف سے سمجھتے ہیں، ان کو اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا بما اتینہم تاکہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کریں۔ (واللام لام کے ای یشرکون لیکونوا کافرین بشرکھم نعمۃ النجاۃ اولام الامر علی التہدید بیضاوی) یعنی ان کو اس نعمت کا شکر کرنا چاہیے تھا مگر حیات دنیا کے نشہ میں اس کے بدلہ میں وہ ناشکری کرتے ہیں۔ غیروں کی طرف طمع میں آکر جھک جاتے ہیں۔ ولیتمتعوا اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ہم دنیا میں شاد بامراد رہیں گے، پھلیں پھولیں گے۔ دنیا کو برتیں گے، اگر ایسا نہ کریں تو یہ معبود ہم کو برتنے نہ دیں گے۔ چناچہ اب بھی مشرکوں کا اپنے بتوں کی طرف یہی خیال ہے کہ اگر ہم ان کو نہ پوجیں ‘ نذر نیاز نہ کریں ‘ تو بیمار ہوجاویں ‘ مفلسی آجاوے ‘ اولاد مرجاوے۔ دوسری تقدیر پر یعنی جبکہ لام امر لیا جاوے گا تو یہ معنی ہوں گے۔ اچھا برت لیں فسوف یعلمون پھر ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ یہ نعمتیں کس نے دی تھیں، اور اب اس کی ناشکری میں کون سزا دے رہا ہے ؟ یہ بات مرنے کے بعد بخوبی معلوم ہوگی۔ اولم یروا انا جعلنا حرمًا امنا الخ اب یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ سب نعمتیں ہماری دی ہوئی ہیں، اس میں ان کے معبودوں کا کچھ بھی دخل نہیں، ان نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ جس کو وہ بھی خاص اللہ ہی کی طرف سے سمجھتے تھے۔ وہ کیا حرم مکہ کا امن کی جگہ ہونا۔ عرب کے تمام قبائل حرم مکہ کی تعطیم ہمیشہ سے کیا کرتے تھے، حرم مکہ میں یعنی اس کے پاس ایک خاص مدت تک (جس کو ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں) نہ کسی کو مارتے تھے، نہ لوٹتے تھے، اس لیے مکہ کے لوگ امن و عافیت سے زندگی بسر کرتے تھے اور ان کے اردگرد حرم کی حد سے باہر لوگ اچک لیے جاتے تھے، یعنی جس طرح شکاری پرند چیل، باز وغیرہ زمین پر سے کسی کو اچک لیتے ہیں، یعنی اٹھا کرلے بھاگتے ہیں، اس طرح لوگوں کا حال تھا۔ افبالباطل یؤمنون و بنعمۃ اللہ یکفرون فرماتا ہے کہ پھر کیا غلط اور جھوٹی باتوں پر ایمان لاتے ہیں کہ فلاں بت نے اولاد دی، فلاں نے فلاں کام کردیا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں، اس کو نہیں مانتے۔ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ کافر و مشرکین اس حیات دنیا کے نشے میں دو کام کرتے تھے۔ ایک تو یہ کہ بتوں کے لیے افسانے اور قصے گھڑ رکھتے تھے کہ اس نے فلاں کو یہ نعمت دی تھی اور فلاں نے جو نذر و نیاز نہ کی تھی اس کو برباد کردیا تھا۔ اللہ نے ان کو اپنے گھر کا مختار کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ سچی باتوں کو جو رسول لے کر آیا تھا، جھٹلاتے تھے اور حقیقت یہ دونوں باتیں عقلاء کے نزدیک ازحد بری اور صریح ظلم ہیں، اس لیے فرماتا ہے ومن اظلم الخ کہ ان لوگوں سے بھی بڑھ کر کوئی ظالم اور بےانصاف ہے کہ جو اللہ پر جھوٹی باتیں بنائیں اور سچی بات کو نہ مانیں۔ پھر کیا ان کافروں کا جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا، یعنی ان کا جہنم میں گھر ہوگا۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہمارے معاملہ میں محنت کی البتہ ان کو ہم اپنے رستے بتادیں گے اور البتہ اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔

ترکیب : والذین موصول جاھدوا فینا جملہ صلہ مجموعہ مبتدا لنہدینہم ھم مفعول اول نھدی کا سبلنا مفعول ثانی جملہ خبر مع مضاف المحسنین مضاف الیہ خبران۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ الیس فی جہنم مثوًی للکفرین کہ کیا جہنم میں کافروں کا مقام نہیں ؟ یعنی جس رستہ پر یہ چلے جارہے ہیں، یہی رستہ جہنم کا ہے، کیونکہ جب رستہ تمام ہوجاتا ہے تو وہی مقام ملتا ہے کہ جس کا یہ رستہ ہے۔ اب اس کے مقابلہ میں ایک دوسری سیدھی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو خاص اس کی بارگاہ کبریائی تک پہنچی ہے۔ فقال والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا کہ وہ جو ہمارے لیے کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو اپنے پاس پہنچنے کے رستہ بتلادیں گے اور جب وہ ان رستوں پر چل پڑیں گے تو پھر کچھ غم کسی رستہ میں پیش آنے والی مصیبت کا نہیں کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین اللہ نیک بختوں کے ساتھ ہے، پھر جب ہم ساتھ ہیں تو کیا غم ہے نعم الطریق و نعم الرفیق۔ فوائد : (1) جاھدوا فینا اے فی حقنا ومن اجل رضاء نا خالصاً یعنی ہمارے دربار فیض آثار کا دربند نہیں جو کوئی قصد کرے اور قصد بھی جھوٹا قصد نہ ہو بلکہ جہاد یعنی پوری کوشش اور خوب جدوجہد ہو تو خود ہم ہی اس کو رستوں پر چراغ لے کر آملتے ہیں، وہ جو پہلے فرمایا تھا۔ وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان اب اس دار خلد کا آپ ہادی بن گیا۔ مطلب یہ کہ بندہ کا کام صرف کوشش کرنا ہے، پھر منزل مقصود تک تو ہم آپ پہنچادیتے ہیں۔ (2) یہ ایک ایسا کثیر المعنی جملہ ہے کہ جس کی تفسیر کے لیے ایک اتنی ہی بڑی اور تفسیر لکھی جاوے تو بس نہ ہو، اس میں ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ مقاصد کی طرف اشارہ ہے۔ اگر کوئی نیک کام کرنا چاہے کہ ہم مدرسہ یا مسجد بنادیں یا مسافروں، یتیموں کے لیے کوئی آرام گاہ تیار کریں یا کوئی دینی تصنیف کریں یا گمراہوں کو وعظ و پند سناکر راستی پر لاویں یا دنیا میں شریر اور سرکشوں کو زیر کرکے راست بازوں کے لیے امن قائم کریں جیسا کہ جہاد میں ہوتا ہے تو سب کاموں میں جو یہ کوشش ہوگی تو اللہ ہی کے لیے ہوگی، ان سب کاموں میں اللہ اس کی مدد کرکے اس کو کامیاب کرے گا اور یہ سب نیک رستے اس کے پاس پہنچنے کی سڑکیں ہیں، ان میں سے ہر ایک رستہ کی وہی رہنمائی کرکے اپنے دربار تک پہنچادے گا، جو دارالخلد ہے۔ اسی لیے ان سب طریقوں کے لحاظ سے سبلنا جمع کا صیغہ آیا، کیونکہ سبیل کی جمع سبل ہے اور اسی لیے پھر سبل کو نا کی طرف مضاف کرکے سب کو اپنا رستہ کہہ دیا۔ اسی طرح جو کوئی معرفت و حقیقت کے لیے کوشش کرے گا، ذکر و فکر و مراقبہ وغیرہ رستوں سے اللہ اس کو اپنے تک پہنچادے گا۔ بندہ کوشش تو کرے پھر تو اس کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اس میں جہاد اصغر اور جہاد اکبر دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ بندے کی کوشش کی دیر ہے فیض تو ہر وقت کھلا ہوا ہے، جہاں اس نے ادھر کے لیے کوشش کی فوراً مبدائِ فیاض سے اس پر تجلی پڑی۔ ہائے رے غفلت یار خود بلا رہا ہے راستہ دکھا رہا ہے، ہم ہیں کہ دنیا کے مال و اسباب جمع کرنے میں محو ہورہے ہیں، جن کو تھوڑی دیر کے بعد چھوڑ دینا پڑے گا۔ الٰہی اس کوشش کی بھی تو ہی توفیق عطا کر۔ آمین۔ (3) سورة کے خاتمہ میں تین فرقوں کی طرف اشارہ فرماتا ہے، فرقہ ناقصین کی طرف و من اظلم میں کہ یہ بدبخت اپنی استعداد کو نکمی باتوں میں صرف کرکے جہاں کہیں جانا ہے، وہاں جانا چاہتے ہیں، یعنی جہنم میں۔ فرقہ متوسطین کی طرف والذین جاھدوا فینا میں یہ لوگ سیدھے رستے کے لیے محنت کرتے ہیں، ان کی جدوجہد پر توفیقِ الٰہی ان کی رہنما ہوتی ہے اور فرقہ کاملین کی طرف و ان اللہ لمع المحسنین میں کہ یہ لوگ طبقہ علیا کے ہیں پیدا ہوتے ہی اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اول فرقہ کے لوگ کفار و بت پرست جن کو اصحاب الشمال کہتے ہیں اور دوسرے فرقہ کے صالحین و مومنین جن کو اصحاب الیمین کہتے ہیں، تیسرے فرقہ کے اولیائِ کرام و انبیاء جن کو السابقون الاولون کہتے ہیں۔