28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 28:1
Ayah 28:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی،

Ayahs 28:3–6

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو ایمانداروں کے فائدہ کے لیے موسیٰ اور فرعون کا کچھ صحیح حال سناتے ہیں،

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

البتہ فرعون زمین پر سرکش ہوگیا تھا اور وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ کر ڈالے تھے، ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا کہ ان کے لڑکوں کو مروا ڈالتا تھا اور لڑکیوں کو جیتا رکھتا تھا، البتہ وہ مفسدوں کا مفسد تھا

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جو ملک میں کمزور کئے گئے تھے، ان پر احسان کریں اور ان کو سردار بنادیں اور ان کو وارث کریں۔ (ملک شام کا)

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان کو ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کی فوج کو وہ چیز دکھاویں کہ جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔

ترکیب : نتلوا کا مفعول محذوف ای شیئاً من نباء اس کی صفت جو اس پر دال ہے۔ اخفش کے نزدیک من زائد تب یہ نباء موسیٰ مفعول ہے، بالحق حال ہے نباء سے۔ نتلوا کے فاعل سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ ای نتلوا متلبساً بالحق لقوم لام نتلوا سے متعلق ونری معطوف ہے، نمکن پر اور وہ اور نجعل لمن پر اَنْ کے نیچے فرعون ھامان و جنودھما نری کا اول مفعول ماکانوا یحذرون مفعول دوم منہم تری سے متعلق اور بعض کہتے ہیں یحذرون سے وفیہ مافیہ لان الصلۃ لا تتقدم علی الموصول۔ تفسیر : اس سے پہلے سورة نمل کے خاتمہ میں یہ کہا وان اتلوا القرآن کہ مجھے قرآن سنانے کا حکم ہوا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لیے اس سورة کا ابتداء طسم حروف مقطعات سے کرکے جن میں ط سے طور اور س سے موسیٰ ( علیہ السلام) اور م سے محمد ﷺ کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح کوہ طور پر ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) پر کتاب لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجی، اسی طرح مکہ میں محمد ﷺ پر تلک اٰیت الکتب المبین سے کلام شروع کیا کہ قرآن کتاب واضح ہے، اس کی یہ آیتیں ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ کتاب اپنی صداقت پر آپ گواہی دے رہی ہے۔ جیسا کہ آفتاب اپنے وجود کی آپ دلیل ہے، مبین یعنی ظاہر ہونے کے سبب۔ نتلوا علیک من نباء موسیٰ و فرعون الخ سے اسی مناسبت سے موسیٰ اور فرعون کا حال شروع کیا کہ فرعون نے اپنی دولت و سلطنت کے غرور میں بنی اسرائیل کو پریشان کر رکھا تھا۔ شیعاً فرقاً یشیعو نہ علی مایریدو یطیعونہ وجعلھم اصنافًا فی است خدا مہ فمن بان و حارث (نیشاپوری) یعنی مصر کے لوگوں کے مختلف گروہ کردیے تھے، اپنی قوم قبط کو تو معزز خدمات پر کر رکھا تھا اور بنی اسرائیل کو محنت و ذلت میں ڈال دیا تھا، پھر ان میں بھی مختلف گروہ تھے، کوئی معماری پر کوئی کھیتی پر مامور تھا۔ یستضعف طائفتۃ منہم شیعًا کی تفصیل ہے اور ان کے جدا جدا گروہ کردینے اور باہم پھوٹ ڈالنے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے، تاکہ باہمی پھوٹ اور نفاق سے ان کا زور جاتا رہے اور ہمیشہ غلامی میں رہیں۔ مزید 1 ؎ اس کی تفصیل ہے کہ ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا، تاکہ ان کی نسل نہ بڑھے یا اس خوف ہے کہ کسی نجومی نے ان میں موسیٰ ( علیہ السلام) کے اور مبعوث ہونے کی خبر دی تھی، لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا کہ ان سے کچھ خوف نہیں اور تاکہ ان کی عورتوں کو اپنے کام میں لائیں، جس سے ان کی اور بھی ذلت تھی۔ انہ کان من المفسدین یعنی وہ بڑا شریر تھا، و نرید اور ہم کو یہ مقصود تھا کہ ان غریبوں پر احسان کریں اور ان کو ائمہ یعنی سردار بناویں بادشاہ یا ہادی دین اور وارث یعنی ملک شام کا مالک اور قابض کریں اور فرعون اور اس کے وزیر ہامان کو ان کے داؤ کو غلط کردکھائیں اور جس بات سے وہ ڈرتے تھے کہ یہ لوگ کہیں آزاد ہو کر ترقی نہ کرجائیں وہی ان کے سامنے لاویں۔ اس کلام سے یہ مطلب کہ جس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو مصیبت سے رہا کرنے کو موسیٰ بھیجا تھا، اسی طرح اے لوگو ! تمہاری بہتری 2 ؎ کو حضرت محمد ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور جس طرح تکبر سے فرعون نہ مانا ‘ ہلاک ہوا ‘ خدا کے ارادہ کو نہ روک سکا، اسی طرح تم سے پیش آئے گا۔ 1 ؎ یعنی یستضعف کی 12۔ 2 ؎ عرب نہ صرف جہالت و گمراہی کے ظلمات میں مبتلا تھا بلکہ قوموں کی نظروں میں ذلیل بھی تھا قیصر و کسریٰ کے دبدبہ میں دبا ہوا تھا پس آنحضرت ﷺ نے نہ صرف ان کو ورطہ ضلالت سے بچایا بلکہ ملکوں کا بادشاہ اور قوموں کا سردار بھی کردیا اور ابوجہل فرعون مکہ مکا کچھ داؤ نہ چلا اس کی کوئی تدبیر کارکردگی انسان کو لازم ہے کہ مشیت الٰہی کا خلاف نہ کرے اور ارادہ آسمانی کا مخالف نہ بنے ورنہ ہلاک ہوگا کیونکہ اللہ اپنی مخلوق پر ہمیشہ سے رحم کرتا آیا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 28:7–13

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو حکم بھیجا کہ اس کو دودھ پلا، پھر جب تجھے اس کا خوف ہو تو اس کو دریا میں ڈال دینا اور کچھ خوف اور غم نہ کرنا، کیونکہ ہم اس کو تیرے پاس واپس پہنچادیں گے اور اس کو رسولوں میں سے ایک رسول بنائیں گے،

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر اس کو فرعون کے خاندان والوں نے دریا سے اٹھالیا کہ انجام کار وہ ان کو دشمن اور رنج دینے والا بنے۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا۔ یہ لڑکا میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اس کو قتل نہ کرو، شاید کہ وہ نفع دے یا اس کو ہم بیٹا بنالیویں اور اس انجام کی خبر نہ تھی

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

(کہ بڑا ہو کر کیا کرے گا) اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا، اس راز کو ظاہر ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم اس کے دل کو صبر نہ دیتے تاکہ اس کو ہمارے وعدہ کا یقین رہے

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا، سو وہ اس کو اجنبی بن کر دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو خبر نہ تھی

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے سے موسیٰ پر دائیوں کا دودھ حرام کردیا تھا، سو اس کی بہن بولی کہو تو میں ایک ایسا گھرانہ بتاؤں کہ جو اس کی پرورش کرے اور وہ اس کے دردمند بھی ہوں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پس میں نے موسیٰ کو اس کی ماں کے پاس پہنچادیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، وہ آزردہ خاطر نہ رہے اور وہ معلوم کرلے اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن بہت لوگ جانتے ہی نہیں۔

ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔ تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا (کس لیے کہ یہاں وحی سے مراد وحی انبیاء نہیں) کہ تو بےکھٹکے موسیٰ کو دودھ پلائے جا جب فرعونی تلاش کرنے آویں جیسا کہ ان کا قانون اور دستور تھا کہ لڑکے کی خبر پاکر اس محکمہ کے لوگ آتے اور اس کو وہیں یا اور جگہ لے جاکر قتل کر ڈالتے تھے تو اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا صندوق میں رکھ کر اور اس بات سے کچھ خوف نہ کرنا کیونکہ ہم اس کو پھر تیرے پاس پہنچادیں گے۔ (یہ بات فرشتے نے ان کی ماں سے کہی یا ان کے دل میں القا کیا) آخر ڈال دیا اور وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس آیا۔ انہوں نے اٹھایا کھولا تو ایک حسین بچہ زندہ معلوم ہوا، خدا نے فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر کی تدبیر کو کس طرح سے غلط کیا کہ اس بچے کو اپنے گھر میں فرزند بناکر پرورش کرنے لگے کہ انجام کار یہی بچہ ان کے خاندان کی ہلاکت کا باعث ہوا، مگر موسیٰ کی ماں نے اپنی بیٹی سے کہہ دیا تھا کہ تو اجنبی بن کر اس صندوق کے ساتھ دیکھتی جانا کہ کدھر جاتا ہے اور تجھ کو کوئی نہ پہچانے، پھر جب فرعون کے محل میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پہنچ گئے اور دودھ پلانے کے لیے انائیں بلائی گئیں تو حضرت نے کسی کا دودھ بھی نہیں پیا۔ حضرت پر ان کے دودھ حرام کردیے تھے، تب ان کی بہن نے کہا کہو تو میں تم کو ایک انا بتاؤں جو اس کو اچھی طرح سے دودھ پلائے اور دل سے پرورش کرے۔ انہوں نے کہا بہت اچھا اس نے اپنی ماں کو بلایا۔ انہوں نے دودھ پلایا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پینے لگے۔ آخرکار پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی ماں کے پاس آگئے، خدا نے اس کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں، رنج دور کردیا اور بتلادیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اگر جانتے تو اس کے عذاب سے ڈرتے اور رزق وغیرہ کی بابت جو اس نے وعدہ کیا ہو اس پر توکل کرتے، دربدر مارے مارے نہ پھرتے، دنیا کے لیے عقبیٰ برباد نہ کرتے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں نے جب ان کو دریا میں ڈالا تو بیٹے کی محبت میں دل بےاختیار ہوگیا، قریب تھا کہ چیخیں مار مار کر روتی مگر اللہ نے اس کے دل کو صبر اور مضبوطی عطاء کی۔ فالتقطہ التقاط برداشتن اٹھانا ربودن لے جانا اچک لینا اسی لیے پڑی ہوئی چیز کہ جس کو لوگ اٹھالیتے ہیں، لقطہ کہتے ہیں اور پڑے ہوئے لڑکے کو جو اٹھالیتے ہیں، یعنی لاوارث کو لقیط، لیکون لہم یہ لام عربی میں لام عاقبت کہلاتا ہے نہ لام غرض یعنی موسیٰ کے اٹھالینے سے ان کی غرض اپنا دشمن پالنا اور رنج مول لینا نہ تھا، لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ کانو اخطئین ان کی یہ تدبیر غلط تھی، وقالت امرات فرعون یہ محل کے اندر کی گفتگو ہے، جبکہ بعض قیافے والوں نے یہ کہا کہ یہ بچہ کوئی بنی اسرائیل میں سے ہونہار معلوم ہوتا ہو، کہیں یہ وہی نہ ہو جس کی نجومیوں نے خبردی ہو، اس کو مار ڈالو، تب فرعون کی بیوی نے کہا نہ مارو، اس کے دل میں اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کی بیشمار محبت ڈال دی تھی۔ فرعون کے کوئی لڑکا نہ تھا، کہا یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، کسی شریف کا بچہ ہے، نفع پہنچا دے گا، ہم اس کو بیٹا بنالیں گے، اگر بیٹا نہ بنائیں گے تو بھی اس سے بھلائی کی توقع ہے۔ اگرچہ اس صندوق کو فرعون کی بیٹی نے اٹھوا منگایا تھا مگر سفارش بیوی نے کی اس لیے اس میں دونوں شریک تھے۔
Ayahs 28:14–21

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچا اور مستحکم ہوا تو ہم نے اس کو حکمت و علم دیا اور ہم نیک بندوں کو اسی طرح سے بدلا دیا کرتے ہیں

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور موسیٰ شہر میں لوگوں کی بیخبر ی کے وقت داخل ہوا، پھر اس نے وہاں دو شخصوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا کہ یہ ایک اس کی جماعت کا تھا اور یہ دوسرا مخالفوں میں سے تھا، پھر اس نے جو موسیٰ کے گروہ کا تھا اپنے دشمن پر موسیٰ سے مدد چاہی، تب موسیٰ نے مخالف کے مکا مارا تو کام تمام کردیا۔ موسیٰ کہنے لگے یہ تو شیطانی حرکت سرزد ہوگئی۔ بیشک شیطان صریح دشمن گمراہ کرنے والا ہے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

موسیٰ نے دعا کی اے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے، چناچہ بخش دیا۔ البتہ وہ جو ہے تو بڑا معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے رب ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر کرم کیا ہے تو آیندہ میں بھی کسی شریر آدمی کا مددگار نہ ہوں گا۔

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ‘ انتظار کرتے ہوئے صبح کی (پھر کیا دیکھتا ہے کہ) وہی شخص کہ جس نے کل موسیٰ سے فریاد کی تھی، اس کو پھر پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا، بیشک تو صریح کج رو ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے قصد کیا کہ اپنے اور اس کے دشمن پر ہاتھ دراز کرے تو یہ کہنے لگا۔ اے موسیٰ ! تو مجھے بھی قتل کیا چاہتا ہے، جیسا کہ کل ایک کو قتل کرچکا ہے تو یہی چاہتا ہے کہ ملک میں زبردستی کرتا پھرے اور تو یہ نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو کر رہے

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص نے جو شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا تھا۔ یہ کہا اے موسیٰ ! دربار والے تیرے لیے مشورہ کررہے ہیں کہ تجھے قتل کریں۔ سو تو نکل جا البتہ میں تیرا خیر خواہ ہوں،

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر موسیٰ شہر سے ڈرتے ‘ انتظار کرتے ہوئے نکلے۔ کہا اے رب ! مجھ کو ظالم قوم سے بچالے۔

ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔ تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور استویٰ کے ایک ہی معنی ہیں اور قوی یہی ہے کہ دونوں لفظوں کے جدا جدا معنی ہیں۔ اشد بلوغ اور استویٰ جہاں تک بڑھنے کی حد ہو بڑھ چکنا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اشد کا اٹھارہ برس سے تیس تک کا زمانہ ہے اور استویٰ تیس سے لے کر چالیس تک کا (نیشاپوری) ۔ دخل المدینۃ علی حین غفلۃ الخ مدینہ سے کون سا شہر مراد ہے کہ جہاں لوگوں کو غافل پاکر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) چلے گئے تھے اور غافل پاکر جانے کا کیا سبب تھا ؟ اس بارے میں علمائِ مفسرین نے کئی 1 ؎ قول لکھے ہیں، بہت لوگ کہتے ہیں کہ شہر مصر سے دو فرسخ کے فاصلہ پر فرعون نے اپنے رہنے کو ایک جدی بستی آباد کی تھی، وہاں موسیٰ ( علیہ السلام) کے آنے کی ممانعت تھی، کس لیے کہ اپنے عالمانہ اور حکیمانہ خیالات سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) فرعونیوں کے طریقہ پر معترض ہوا کرتے تھے۔ نگہبانوں کی آنکھ بچاکر ایک روز آپ وہاں چلے گئے، پھر وہاں یہ قصہ پیش آیا کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کو باہم لڑتے دیکھا، مصری اپنی قومی شوکت کے گھمنڈ پر زیادتی کررہا تھا۔ اسرائیلی نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے فریاد کی آپ نے چھڑانے کی غرض سے مصری کے سینہ میں ایک ہاتھ مار کر دھکا دیا۔ شہ زور آدمی تھے، اس کے دل پر کوئی صدمہ پہنچا مرگیا۔ اگرچہ موت ناگہانی تھی، اس میں موسیٰ ( علیہ السلام) کا کوئی قصور نہ تھا، مگر تاہم ایک آدمی ان کے ہاتھ سے ضائع ہوا، اس لیے افسوس کیا اور اس کو شیطانی کام کہا اور خدا سے استغفار کیا۔ عصمت موسیٰ : اس واقعہ سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر طعن کرنا اور عصمت انبیاء میں کلام کرنا بےفائدہ بات ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کا اس میں دراصل گناہ ہی کیا تھا، دوسرے اس وقت تک آپ نبی ہی کہاں ہوئے تھے۔ نبوت تو مدین سے واپس آتے وقت ملی جیسا کہ قرآن مجید سے صاف ظاہر ہے۔ فَعَلْتُہَآ اِذَا وَاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ لَــــہَا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِیْ رَبّْیْ حُکْمًا (شعراء) پس موسیٰ ( علیہ السلام) نے قسم کھائی کہ آیندہ مجرموں کی کبھی مدد نہ کروں گا۔ مدد تو اسرائیلی کی کی تھی، وہ مظلوم تھا مجرم نہ تھا، پھر یہ کیا فرمایا کہ آیندہ مجرموں کی مدد نہ کروں گا، پہلے کب مجرموں کی مدد کی تھی اور اگر وہ اسرائیلی مجرم تھا اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے حمیت قومی سے اس کی مدد کی تھی تو پھر موسیٰ ( علیہ السلام) کے گناہ میں کیا کلام باقی رہا ؟ اس کا جواب یہ ہے۔ 1 ؎ ضحاک کہتے ہیں عین الشمس مراد ہے بعض کہتے ہیں مصر مراد ہے۔ غین غفلۃ سے بعض کہتے ہیں شام کا وقت بعض کہتے ہیں دوپہر کا وقت اس کا سبب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ لڑکپن میں جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی ڈاڑھی پکڑلی اور لکڑی کھیلتے ہوئے سر میں مار دی تو ناراض ہو کر حکم دیا کہ ہمارے محل میں نہ آئے نہ خاص شہر میں یہ ممکن ہے کہ ایسا ہو مگر صاف بات یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) شہزادوں کی طرح پرورش پاتے تھے ادھر ادھر جانے کا حکم نہ تھا لوگوں کو غافل پاکر نکل آئے ہوں واللہ اعلم 12 منہ۔
Ayahs 28:22–24

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا امید ہے کہ اللہ مجھے سیدھا رستہ بتادے

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب کہ مدین کے پانی پر پہنچے تو لوگوں کا مجمع پایا جو پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ دو عورتیں دیکھیں جو اپنے چار پایوں کو روکے ہوئے تھیں۔ موسیٰ نے ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، وہ بولیں جب تک چرواہے پلاکر نہیں ہٹ جاتے ہم اپنی بکریوں کو نہیں پلاتے اور ہمارا باپ بڈھا بڑی عمر کا ہے۔

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پلادیا اور پلاکر چھاؤں کی طرف ہٹ آئے۔ پھر کہنے لگے اے رب ! تو جو کچھ خیر میرے پاس بھیجے تو میں محتاج ہوں۔

ترکیب : علی استحیاء حال ماسقیت، مصدریۃ ان تاجرنی فی موضع الحال و ثمانی ظرف۔ فمن عندک یجوزان یکون خبر مبتداء محذوف اے فالا تمام الرعاء اجمع راع تذودان تمنعان اغنامھما عن الماء۔ الزیاد منع۔ تفسیر : یہ ہے کہ ہرچند اسرائیلی مجرم نہ تھا زیادتی مصری کی تھی مگر مشہور ہے ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی، بہرحال بازاروں میں لڑنا لپا ڈ کی ہونا صالحین کی سیرت نہیں ان کو جو کوئی برا بھلا بھی کہتا ہے تو صبر ہی کرجاتے ہیں، آمادئہ جنگ نہیں ہوتے، اس لیے اس اسرائیلی کو اگلے روز آپ نے انک لغوی مبین کہا، اس لحاظ سے حضرت ( علیہ السلام) نے اس کو بھی مجرم ہی قرار دیا اور قصد کیا کہ آیندہ سے ایسے جھگڑوں میں نہ پڑوں گا، مگر خدا کی قدرت اگلے روز اسی اسرائیل کا کسی اور شخص سے بازار میں جھگڑا ہورہا تھا، موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھ کر پھر اس نے فریاد کی، آپ نے خفا ہو کر اس کو فرمایا کہ تو بڑا بےہودہ ہے، ہر روز لوگوں سے لڑا کرتا ہے، ان کو چھوڑانا اور ہاتھ بڑھا کر الگ کردینا چاہا تو اس بےہودہ اسرائیلی نے اس پہلی خفگی کی بات سے یہ سمجھا کہ میرے مارنے کو ہاتھ بڑھایا ہے، اس لیے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہا جس طرح سے کہ آپ نے کل ایک آدمی کو مار ڈالا آج مجھے بھی مارنا چاہتے ہیں۔ اس کے اس کہنے سے راز قتل افشاء ہوگیا۔ یہ خبر فرعون کے دربار تک پہنچی، ان کے اعتراضات اور تنفر کی وجہ سے وہ پہلے ہی ان سے ناراض اور باغی سمجھتے تھے، اب تو اور بھی غضبناک ہوگئے اور انتقام میں موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کی تدبیر کرنے لگے۔ فرعونیوں میں سے ایک نیک مرد موسیٰ ( علیہ السلام) کا خیر خواہ بھی تھا وہ دوڑا ہوا آیا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کو خبردی اور کہا آپ یہاں سے بھاگ جاؤ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اسی حالت میں نکل پڑے اور مدین کی طرف رخ کیا۔ یہ ایک بستی قلزم کے پار فرعون کی عملداری سے باہر عرب میں ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کے لوگوں کی تھی، حضرت شعیب ( علیہ السلام) ایک پیر مرد اسی بستی میں رہتے تھے، ان کی صرف دو لڑکیاں تھیں۔ بکریوں پر گزر اوقات تھی، کنوئیں سے ڈول کھینچ کر جب لوگ پانی پلاچکتے تو بچا ہوا یہ بھی پلاتیں اور اتنی دیر اپنی بکریوں کو روکے کھڑی رہتی تھیں۔ اتفاقاً حضرت ( علیہ السلام) کئی دن کا سفر طے کرکے مدین آئے اور اسی کنوئیں پر پہنچے، سایہ دار درخت کے تلے بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے، لڑکیوں سے پوچھا تم کیوں نہیں پلاتیں۔ اُنہوں نے کہا ہم سے ڈول نہیں کھنچ سکتا اور ہمارا باپ بوڑھا ہے، ان کو رحم آیا۔ قوی مرد تھے۔ تنہا چرس کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلادیا، گھر جاکر انہوں نے باپ سے کہا ایک نووارد مسافر آیا ہوا ہے اور بڑا نیک اور قوی ہے۔ آپ اس کو نوکر رکھ لیجئے، باپ نے کہا اس کو بلا لاؤ، ایک آئی مگر شرم و حیا کے ساتھ آکر کہا میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ کی اجرت دیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) گئے اور سب قصہ بیان کیا۔ شعیب نے فرمایا خوف نہ کر خدا نے تجھ کو نجات دی۔ خدمات کا مہر ہونا : پھر کہا میں ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں، اس شرط پر کہ آپ آٹھ برس تک میرے ہاں کام کاج کریں اور دس پورے کردیں تو آپ کی مہربانی اور میں آپ کو تکلیف نہ دوں گا۔ آخر نکاح ہوا اور باہمی قول وقرار پر اللہ کو ضامن کرکے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) وہاں رہنے لگے۔ یہ آٹھ برس کی نوکری گویا حضرت کا مہر تھا، اس وقت بجائے مال کے خدمات بھی مہر قرار پاتی تھیں۔ بعض علماء نے اس سے اور نیز بعض احادیث سے کہ جن میں آنحضرت ﷺ نے قرآن پڑھانا مہر قرار دیا ہے، آج کل بھی اس قسم کا مہر مقرر کرنا جائز قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ظاہر یہ کہتے ہیں، امام ابوحنیفہ (رح) مال ہی کو مہر قرار دیتے ہیں۔ بدلیل قولہ تعالیٰ اِبْتَغُوْا بْاَمْوَالِکُمْ الآیۃ۔
Ayahs 28:25–28

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر ان دونوں میں سے ایک عورت موسیٰ کے پاس شرم سے چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی میرے باپ نے تم کو بلایا ہے کہ تم کو پلائی کی اجرت دے۔ پھر جب موسیٰ اس کے پاس آئے اور سب قصہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا خوف نہ کرو تم قوم ظالم سے بچ آئے۔

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان میں سے ایک نے کہا اے باپ اس کو نوکر رکھ لو، البتہ جس کو آپ نوکر رکھیں تو قومی امانت دار ہونا بہتر ہے۔

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

ان کے باپ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں سے ایک کا تمہارے ساتھ نکاح کردوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ برس تک میری نوکری کرو۔ پھر اگر تم دس پورے کردو تو تمہاری طرف سے احسان ہے اور میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا، تم مجھے انشاء اللہ اچھے ہی لوگوں میں سے پاؤ گے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان عہد ہے۔ ان دونوں مدتوں میں سے جونسی بھی پوری کردوں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو اور اللہ ہمارے قول و اقرار پر گواہ ہے۔

1 ؎ اسی لفظ کی مناسبت سے اس سورة کو سورة قصص کہتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 28:29–31

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

غرض جب موسیٰ اپنی مدت پوری کرچکے اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو (رستہ میں) کوہ طور کی طرف سے ایک روشنی دیکھی، گھر والوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو مجھے ایک روشنی دکھائی دی ہے۔ شاید کہ وہاں سے تم کو (رستہ کی) خبر لاکر دوں یا آگ کا انگارا لائوں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو اس مقدس وادی کے دائیں جانب سے ایک درخت میں سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! تمام جہان کا پرورش کرنے والا اللہ میں ہوں

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ تم تو اپنا عصا ڈال دو ، پھر جب موسیٰ نے اس کو دیکھا کہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے تو منہ پھیر کر الٹا بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ہم نے کہا اے موسیٰ ! سامنے آؤ ڈرو نہیں (ہر طرح) امن میں ہے۔

جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہ میعاد پوری کرچکے تو بیوی کو لے کر وطن (مصر) کی طرف چلے، سردی کا موسم تھا۔ رستہ بھی رات میں بھول گئے تھے، گھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ جو دور سے جنگل میں آگ چمک رہی ہے، تم یہیں ٹھہرو، میں وہاں جاکر دریافت کرتا ہوں، یعنی رستہ کے لیے کہ اس آگ کے پاس کوئی ہوگا اور جو آگ زیادہ ہوئی تو اس میں سے ایک انگارا بھی تمہارے تاپنے کو لادوں گا، جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہاں آئے تو رستہ کے دائیں جانب ایک جنگل کی پاک جگہ میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں ہوں ” اللہ رب العالمین “ یہ وادی کہ جہاں درخت میں سے دور سے رات کو موسیٰ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی، کوہ طور کی وادی ہے۔ قلزم کے قریب اس کی دونوں شاخوں کے درمیان مدین سے ایک دو روز کے فاصلہ پر مصر جاتے ہوئے یہ وادی ملتی ہے۔ الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) نے جو دور سے آگ کا شعلہ دیکھا تھا، دراصل وہ آگ نہ تھی، تجلیِ الٰہی کی روشنی تھی، چناچہ جب وہاں آئے تو خدا سے ہمکلام ہوئے آگ لینے آئے تھے، نبوت مل گئی۔ وہیں عصا اور یدبیضا کے دو معجزے ملے اور حکم ہوا کہ فرعون کو جاکر سمجھاؤ دعا کی کہ میری زبان میں لکنت ہے، میرے ساتھ میرے بھائی ہارون کو بھی مددگار کردے، چناچہ آئے اور فرعون سے ملے اور معجزے دکھائے، وہ کب مانتا تھا۔ آخر وہ اور اس کا تمام لشکر قلزم میں غرق ہوا۔ یہ قصہ اور سورتوں میں مفصل ہے، یہاں اختصار کردیا گیا، کیونکہ جس غرض سے بیان ہوا وہ اسی قدر میں حاصل ہوگئی۔ اب کلام اس میں ہے کہ درخت میں سے جو آواز آئی اور موسیٰ کو سنائی دی وہ کس کی آواز تھی ؟ فرشتہ کی یا خود خدا تعالیٰ کی۔ اگر فرشتہ کی آواز تھی تو اس نے کیونکر کہہ دیا کہ اللہ میں ہوں، اگر خدا تعالیٰ کی تھی تو اس کا کلام آواز اور حروف سے پاک ہے، جیسا کہ محققین کا مذہب ہے۔ ترکیب : شاطی الوادی جانبہ و من الاولی والثانیۃ کلتا ھما لا بتداء لغایۃ ای اتاہ النداء من شاطی الوادی من قبل الشجرۃ فالثانیۃ بدل الاولی بدل الاشتمال لان الشجرۃ کانت بابتۃ علی الشاطی۔ تفسیر : کیونکہ یہ باتیں جسمانی چیزوں کے کلام میں ہوتی ہیں، اس کے جواب میں معتزلہ نے تو یہی کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی جسمانی چیز کے ذریعہ سے کلام کرسکتا ہے، یعنی اپنا کلام اس میں پیدا کرکے سنوار دیتا ہے۔ پتھر کی طرف توجہ کی تو پھر اس کی طرف سے زبان بن کر کلام کرنے لگا۔ درخت کی طرف کی تو وہ بولنے لگا۔ ماوراء النہر کے علماء اہل السنۃ و الجماعۃ کہتے ہیں کہ وہ کلام قدیم جو اللہ کی ذات سے قائم ہے، سنا نہیں جاسکتا اور جو درخت میں سے سنا گیا وہ ایک آواز اور حروف تھے، جو اس کے کلام پر دلالت کرتے تھے۔ اشعری فرماتے ہیں کہ وہ کلام کہ جو نہ آواز کے ذریعہ سے ہو نہ حروف کے وہ بھی ممکن ہے کہ سنائی دی جاوے، جیسا کہ ذات الٰہی جو نہ جسم ہے نہ عرض ہے، ممکن ہے کہ دکھائی دی جاوے (نیشاپوری) خلاصہ جواب یہ کہ فرشتہ کی آواز نہ تھی۔ بات یہ تھی کہ اس درخت پر خدا کی تجلی ہوئی اور موسیٰ وہاں پہنچے تو وہاں ان کی روح کو انکشاف ہوا، روحانی طور پر خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے، پس اس ندا کو آواز اور حروف ظاہری کی حاجت نہیں، ایسی باتوں کی پوری کیفیت حیطہ بیان سے بھی باہر ہے۔ بعض فلسفیانہ خیالات کے مسلمان اس روشنی کو فاسفورس کے سبب سے بیان کرتے ہیں اور اس آواز کی اور پھر دونوں معجزوں کی بھی عجب عجب بےسروپا توجیہیں کرتے ہیں، جو محض بےفائدہ بات ہے۔
Ayahs 28:32–38

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالو کہ وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف سے اپنے دونوں بازو اپنی طرف ملالو (یعنی اطمینان رکھو) پس یہ دو سند ہیں آپ کے رب کی طرف سے۔ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے لیے بیشک وہ بدکار قوم تھی۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے رب ! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کردیا ہے، سو خوف ہے کہ (اُس کے بدلے میں) کہیں مجھے نہ مار ڈالیں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون وہ مجھ سے فصیح اللسان ہے، اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارا بازو قوی کرادیتے ہیں اور تم کو غلبہ دیں گے۔ پھر وہ تم تک پہنچ بھی نہ سکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم اور تمہارے پیرو غالب رہیں گے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے تو لوگ بولے یہ ہے کیا، مگر جادو بنایا ہوا اور ہم نے تو اس کو اپنے اگلے باپ دادا میں سنا بھی نہ تھا

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ میرا رب خوب جانتا ہے، جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے (اور اس کو بھی خوب جانتا ہے) کہ جس کے لیے دار آخرت کی خوبیاں ہوں گی۔ البتہ ستمگار فلاح نہیں پاتے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے سردارو ! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور معبود ہے۔ پھر اے ہامان ! تو میرے لیے گاراپکوا (یعنی پزاوا) پھر میرے لیے ایک بلند محل چنوا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو جھانکوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔

1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)