29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمر 29 کل رکوع 7 آیات 69 الفاظ و کلمات 990 حروف 4410 یہ سورة مکہ مکرمہ میں ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کفار و مشرکین نے اہل ایمان پر ظلم و سلم کرکے مکہ کی سرزمین کو ان پر تنگ کردیا تھا اور وہ مکہ مکرمہ چھوڑے نے پر مجبور ہوگئے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے صحابہ کرام (رض) حبشہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ برائی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ فرمایا تم صبر کرو بہتر نتیجہ تمہارے حق ہی میں نکلے گا اور تم کامیاب ہو گے۔ اس سورة میں متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے صبر و تحمل سے کام لے کر دن رات جدوجہد کی۔ جو سعادت مند لوگ تھے انہوں نے دین کی سچائیوں کو قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنالی اور بد بخت لوگ نہ دنیا حاصل کرسکے نہ آخرت۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک ‘ متقی اور پرہیز گار بندوں کو دنیا اور آخرت میں بلند مقام عطا کرنے کے لیے طرح طرح سے آزماتا ہے۔ جو اس امتحان میں تکلیفیں ‘ مصیبتیں اور شدید تر مخالفتوں کے باوجود صبر و تحمل کا دامن تھامے رہتے ہیں ان کو دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں سے مالا مال کردیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے راستے کو چھوڑ کر کفر و شرک کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں وہ بظاہر عیش و آرام میں ہوتے ہیں لیکن ان کا انجم بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ وہ مظلوم اہل ایمان پر ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ دنیا کے بد ترین ناکام لوگوں میں سے ہیں۔ جب یہ سورت نازل ہوئی اس وقت کفار مکہ اور مشرکین عرب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز خق و صداقت کو پابند کرنے کے لیے ہر وہ ظلم و ستم کررہے تھے کہ جس سے مکہ کی سرزمین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ماننے والوں پر اس قدر تنگ ہوچکی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق صحابہ کرام (رض) حق و صداقت کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ چناچہ صحابہ کرام (رض) نے حبشہ کی طرف ہجرت شروع کردی اور کچھ عرصہ بعد اللہ کے حکم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ان حالات میں یہ سورة نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور ان کے ماننے والوں کو یہ سمجھایا کہ اہل ایمان حق وصداقت کی راہوں کو روشن کرتے رہیں یہ کفار مکہ کا ظلم و ستم اور ان کا غرور تکبر مکڑی کے جالے سے زیادہ طاقت ور نہیں ہے۔ جس طرح مکڑی اپنے جال کو مضبوط سمجھ کر اس میں ہر ایک کو شکار کرنے کے لیے مضبوط تریسن سمجھتی ہے حالانکہ مکڑی کا گھر اتنا ہی کمزور ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اہل ایمان نہ گھبرائیں بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان کفار کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ان کے لیے کوئی راہ نجات نہ ہوگی۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گذشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کے حالات کو بتا کر یہ سمجھایا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب بھی اللہ نے اپنے کسی نبی کو بھیجا تو کفار و مشرکین نے اس سچائی کو جھٹلایا۔ انبیاء کرام کی بات نہ مان کر انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت برباد کر ڈالی اور اللہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب و بامراد فرمایا اور انہیں دین و دنیا کی ساری نعمتوں سے مالا مال فرمایا۔ (١) اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کا ذکر فرمایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم اور نسلوں کو سمجھایا مگر انہوں نے اہل ایمان کا مذاق اڑایا۔ انہیں طرح طرح سے ستایا جس سے و ہے کفار خود ہی مشکلات میں پھنس گئے۔ جب وہ مسلسل نافرمانیاں کرتے رہے تو اللہ نے ان کو پانی میں غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو نجات عطا فرما دی۔ (٢) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو حق و صداقت کی طرف بلایا تو ساری قوم نے کہا کہ ہمارے بتوں اور معبودوں کی توہین کرنے والے ابراہیم کو قتل کردو ‘ ماردو ‘ جلا ڈالو اور کڑی سے کڑی سزا دو ۔ چناچہ ان کو زندہ آگ میں پھینک دیا گیا۔ اللہ نے اس آگ کو ایسا گل و گلزار بنادیا کہ آگ ان پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوگئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر فلسطین میں آباد ہوگئے اور کفار اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ (٣) حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو غیر فطری گناہوں اور بد فعلیوں سے بچانے کے لیے ہر طرح سمجھایا مگر سوائے چند لوگوں کے سب نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی انبدکرداروں کے ساتھ مل گئی اور دولت ایمانی سے محروم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ ان کی مومن گھر والوں اور ماننے والوں کو نجات دے دی اور ان کفار پر پتھروں کی بارش کردی اور ان کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ (٤) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم تک دین کو پہنچایا۔ ان کو حق وصداقت پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ معاملات میں بددیانتی ‘ بےایمانی اور ماپ تول میں کمی سے منع فرمایا مگر ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرما دی اور نافرمانوں کو طوفانی ہواؤں اور پانی کے طوفان سے تہس نہس کرڈالا۔ (٥) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو ہر طرح کے کفر و شرک سے بچانے اور قوم فرعون کے ظلم وستم سے نجات دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ایک نئی زندگی دی لیکن انہوں نے نافرمانی کرنے کو اپنا مزاج بنا لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمانبرداروں کو نجات دی اور کفار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کردیا۔ (٦) قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کی نافرمانیاں کیں اللہ نے جو ان کو بےپناہ قوت و طاقت عطا کی تھی اس کا غلط استعمال کیا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور ان کے ماننے والوں کو نجات دے دی اور ان قوموں کو تباہ و برباد کرڈالا۔ (٧) قارون کا واقعہ سنایا گیا جسے اللہ نے بےپناہ دولت عطا کی تھی مگر اس کی دولت نے اس کو ایسا سرکش ‘ ضدی اور ہٹ دھرم بنا دیا تھا کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جٹلانا شروع کردیا۔ اللہ نے قارون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہلامیان کو یہواقعات سنا کر ان کو تسلی دی ہے کہ آج اگر کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثاروں کو ستا رہے ہیں ایسے لوگ مذکورہ نبیوں اور لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کریں کہ اللہ اور اس کے نبیوں کے انکار کا کس قدر بھیانک انجام ہوا اور اہل ایمان کو کس قدر عزت و سربلندی اور نجات نصیب ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کام میں لگے رہیں ‘ کسی کی پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ کا نظام اور طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اہل ایمان سے فرمایا کہ وہ (١) تلاوت کلام اللہ کرتے رہیں۔ (٢) نمازوں کی پابندی کریں۔ (٣) اور اہل کتاب سے گفتگو میں شائستگی کے پہلو کو نظر انداز نہ کریں۔ اس سورة میں چند اور اہم باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں وہ اگر واقعی حق کی تلاش میں ہیں تو قرآن کریم ان کے سامنے ایک معجزہ کے طور پر ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی اور معجزہ کا مطالبہ ایک عجیب سامطالبہ ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا عذاب کیوں نہیں آتا فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے اللہ کا اپنا ایک نظام ہے جب وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو پھر اس سے بچانے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔ جب کوئی سرزمین اس حدتک تنگ کردی جائے کہ وہاں رہنا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانا ہی بہتر ہے۔ اگر کوئی اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑتا ہے تو اس کو یہ سوچنا کہ ہم کھائیں گے کیا ؟ فرمایا کہ پرندے بھی روزانہ اپنا رزق تلاش کرتے ہیں اور رات کو پیٹ بھر کر سوتے ہیں فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے میں چلنے والوں کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ فرمایا کہ جب یہ کفار کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور جب نجات پالیتے ہیں تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان کے دل جانتے ہیں کہ ساری کائنات اللہ نے پیدا کی ہے وہی نجات دیتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں مشقت اور مصیبتیں اٹھاتے ہیں اللہ ان کے لیے زندگی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ دیانت وامانت اختیار کرنے والا اللہ کی مدد کا مستحق ہوتا ہے۔ ان سے اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اہل ایمان کے لیے بڑی خوش خبری اور بشارت ہے۔

Ayahs 29:1–7

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالانکہ ہم ان کو بھی آزماچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو کر گذرے ہیں۔ اور البتہ اللہ ان کو جان لے گا جو سچے ہیں اور وہ ان کو بھی کھول کر رکھ دے گا جو جھوٹے ہیں۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے جو برائیاں (گناہ) کرتے رہتے ہیں یہ سمجھ لیا ہے کہ کہیں وہ ہم سے نکل بھاگیں گے (آگے بڑھ جائیں گے) ۔ جو کررہے ہیں وہ ایک برا فیصلہ ہے۔

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

پھر جو لوگ اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں تو بیشک اللہ کی ملاقات کی مدت مقرر ہے۔ وہ سنتا اور جانتا ہے۔

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

جو شخص جدوجہد کرتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے لئے ہے۔ بیشک اللہ تو تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے بھلے کام کئے تو ہم ان کے گناہ ضرور دور کردیں گے اور جو کچھ وہ کرتے تھے ان کو اس سے زیادہ بہتر بدلہ عطا کریں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 : حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 : اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور اپنے اندر ہر طرح کے طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا کرلے تو وہ مخالف حالات کی اس بھٹی سے کندن بن کر نکلتا ہے جس طرح سونے کو آگ میں تپایا جاتا ہے تو اس کا میل کچیل نکل جاتا ہے اور وہ سونا کندن بن جاتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ سعادت مندوں کے علاوہ پورے عرب کے لوگ آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑنے لگے جن کے تصور سے روح کا نپ اٹھتی ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ نے بےمثال قربانیوں اور صبر و تحمل کا پیکر بن کر ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ اس خوف اور دہشت کے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل رک کے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ وہ کفار کی اس یلغار سے قطعاً پریشان نہ ہوں کیونکہ ان سے پہلے سچائی کے راستے پرچلنے والوں کو اس سے بھی زیادہ تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں۔ حالات کی یہ سختی درحقیقت اہل ایمان کا ایک امتحان ہے جو اچھے اور برے لوگوں کو چھانٹ کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو بھی اس حق وصداقت کے راستے پر چلے گا ثابت قدم رہ کر ہر ظلم و ستم کو برداشت کرتاچلا جائے گا اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد کیا جائے گا۔ سورئہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہیں جنت یوں ہی مل جائے گی اور تم اس میں داخل کردیئے جائو گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات بھی نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے تھے جو ایسی پریشانیوں اور تکلیفوں اور مصیبتوں میں مبتلا کئے گئے اور ہلا مارے گئے تھے کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سنو ! اللہ کی مدد بہت قریب ہے “۔ (سورئہ بقرہ) اسی طرح جب حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے اور صحابہ کرام ؓ پر ہر طرف سے کفار کے ظلم و ستم بڑھ گئے تو حضرت خباب ابن ارت ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس وقت عرض کیا جب آپ کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے تھے۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمارے لئے (ان برے حالات سے نکلنے کے لئے) دعاکیوں نہیں کرتے ؟ یہ سن کر آپ ﷺ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو اہل ایمان گذر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں آئی تھیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں بٹھا دیا جاتا اور اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے جاتے ‘ کسی کیبدن پر لوہے کے کھنگھے گھسے جاتے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ اللہ کی قسم یہ کام پورا ہو کر رہے گا (نظام اسلام مکمل ہو کر رہے گا) یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے حضر موت تک بےخوف و خطر سفر کرے گا اور وہ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رکھے گا۔ (بخاری ‘ ابودائود ‘ ترمذی) خلاصہ یہ ہے کہ اس راہ عشق میں زبانی دعوے سے کام نہیں چلتا بلکہ دین کی سچائیوں کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے سے کامیابی کی منزل قریب آتی ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے۔ ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہنے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔ حالانکہ ہم ان لوگوں کو بھی آزماچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں۔ یقیناً اللہ ان کو ظاہر کرکے رہے گا جو سچائی کے علم بردار ہیں اور ان لوگوں کی حقیقت کو بھی کھول کر رکھ دے گا جو جھوٹے ہیں “۔ فرمایا ” وہ لوگ جو کفر اور گناہ کے راستے پر چل کر اہل ایمان کو ستا رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم سے نکل کر وہ کہیں بھاگ نکلیں گے بلکہ وہ ہماری نظروں میں ہیں۔ اگر وہ ایساسوچتے ہیں تو وہ ایک غلط فیصلہ کئے ہوئے ہیں یعنی وہ اللہ کی گرفت میں آکر رہیں گے “۔ اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ” وہ لوگ جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں ان کے لئے ایک وقت مقررہ ہے۔ وہ سن رہا ہے اور جانتا ہے۔ جو شخص (اللہ کی راہ میں) جدوجہد کرے گا اسکا فائدہ اسی کو پہنچے گا۔ بلاشبہ اللہ تو جہاں والوں سے بےنیاز ہے یعنی وہ کسی کی جدوجہد یا عبادت کا محتاج نہیں ہے۔ فرمایا جو لوگ ایمان لاکر بھلے اور نیک کام کریں گے تو ہم ان کے گناہ ضرور دور کردیں گے۔ اور وہ جو بھی عمل صالح کرتے ہیں اس پر انہیں زیادہ بہتر بدلہ اور صلہ عطا کیا جائے گا جو وہ کرتے رہے ہیں “۔ خلاصہ یہ ہے کہ دین کی سچائیوں کو دین بھر میں قائم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایک مومن یہ نہیں دیکھتا کہ حالات کس قدر سنگین اور ناموافق ہیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی قوت سے ہر طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اس میں اس بات کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حالات کو تبدیل کرلیتا ہے۔ وہ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں رکھتا۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد آنے والوں کا یہی حوصلہ اور بےخوفی تھی کہ ساری دنیا کی سلطنتیں ان کے قدموں کی دھول بن کر رہ گئی تھیں کیونکہ ان کے دلوں میں صرف ایک اللہ کا خوف تھا باقی وہ دنیا کی ہر طاقت کے خلاف آندھی طوفان کی طرح اٹھے اور دنیا کو ظلم و ستم سے پاک کرکے انسانیت کی اقدار کو قائم کرکے دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنادیا۔
Ayahs 29:8–13

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو والدین سے حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اور اگر وہ اس بات کی کوشش کریں کہ تو کسی کو میرا شریک بنالے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کا کہنا مت مان۔ تم سب کو میری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔ پھر میں تمہیں ضرور بتائوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو میں انہیں ضرور نیک بندوں میں شامل کروں گا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب اللہ کی راہ میں ستائے گئے تو انہوں نے لوگوں کے ستانے کو ایساسمجھ لیا جیسے اللہ کا عذاب ہے۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو اس وقت وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ کیا اللہ کو معلوم نہیں ہے کہ جو کچھ دنیا جہاں کے لوگوں کے دلوں میں ہے۔

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور یقیناً اللہ ان لوگوں کو معلوم کرلے گا جو ایمان لائے۔ اور البتہ وہ ضرور معلوم کرلے گا منافقوں کو۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمان والوں سے کہا کہ ہمارے راستے پر چلو۔ ہم تمہارے (گناہوں کا) بوجھ اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہ اٹھانے والے نہیں ہیں۔ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

حالانکہ وہ خود اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کے نجانے کتنے بوجھ اٹھائیں گے۔ اور قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 : وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 : کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف کرسکتا ہے “۔ اگر کوئی مشرک اپنے شرک سے توبہ نہ کرے تو اس کی بخشش نہیں ہوگی اور اللہ اس کو کبھی معاف نہ کرے گا۔ کیونکہ شرک درحقیقت اللہ کی ذات پر براہ راست حملہ ہے جسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ شرک کتنا بڑا گناہ ہے اس کا اندازہ اس آیت سے بھی لگایا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ والدین جن کے ساتھ حسن سلوک جائز باتوں میں ان کی اطاعت و فرماں برداری اور بےغرض خدمت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تمام انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور اہم حق ماں باپ کا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ مومن ہیں یا کافرو مشرک ہر حال میں ان کے ساتھ حسن سلوک ضروری ہے۔ لیکن اگر والدین اپنی اولاد پر دبائو ڈالیں اور زور دیں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک یا گناہ کریں تو اس میں ان کی قعطاً اطاعت و فرماں برداری نہیں کی جائے گی۔ بلکہ اس کا صاف انکار کردینا لازمی اور ضروری ہے۔ کیونکہ والدین کے حقوق اس وقت تک قابل احترام ہیں جب تک خالق کے حقوق سے نہ ٹکرائیں۔ اگر خالق اور والدین کے حقوق آپس میں ٹکراجائیں تو ہر حال میں اپنے خالق ومالک اللہ کا حکم ماننا ضروری ہوگا ۔ اسی لئے صاف حکم موجود ہے کہ لا طاعتہ المخلوق فی معصیتہ الخالق خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص ان دس خوش نصیب صحابہ ؓ میں سے ایک ہیں جن کو دنیا ہی میں جنتی ہونے کی خوشخبری اور بشارت دی گئی ہے۔ یہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ان کے واقعات زندگی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنی والدہ غمنہ بنت ابی سفیان سے والہانہ محبت کرتے اور ان کی اطاعت و فرماں برداری میں ایک مثال تھے۔ جب حضرت سعد ؓ نے دین اسلام قبول کرلیا اور اس بات کی اطلاع ان کی والدہ کو ہوئی تو وہ بہت ناراض ہوئیں اور ان پر شدید دبائو ڈالا کہ وہ اس دین کو چھوڑ کر اپنے باپ دادا کے مذہب کو پھر سے اختیار کرلیں۔ انہوں نے حضرت سعد ؓ پر دبائو ڈالنے کے لئے قسم کھالی کہ جب تک وہ اس دین کو نہ چھوڑیں گے اس وقت تک وہ نہ کھائیں گی پئیں گی اور نہ سائے میں بیٹھیں گی۔ انہوں نے کہا میں اسی طرح بھوکی پیاسی مرجاؤں گی۔ انہوں نے حضرت سعد نے کہا کہ اگر اسی حالت میں مر گئی تو ساری دنیا تجھے طعنے دے گی اور کہے گی کہ تو اپنی ماں کا قاتل ہے۔ حضرت سعد ؓ کے لئے یہ بہت کڑا اور کھٹن امتحان تھا۔ ایک طرف والدہ کی اطاعت و محبت اور دوسری طرف ان کی اپنی آخرت کا مسئلہ تھا۔ آخرکار انہوں نے دین اسلام پر استقامت کا فیصلہ کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اے اماں جان ! اگر آپ کی سوجانیں بھیہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکلتی جائیں تو اللہ کی قسم میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار نہ کروں گا۔ آگے آپ کی مرضی ہے۔ آپ جو چاہے کریں۔ حضرت سعد ؓ کے اس فیصلے کو سن کر ان کی والدہ قطعاً مایوس ہوگئیں اور انہوں نے اپنی قسم توڑ ڈالی اور خاموشی اختیار کرلی۔ (مسلم ‘ ترمذی) اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” ہم نے انسان کو الدین سے حسن سلوک کی وصیت (تاکید) کی ہے۔ لیکن اگر وہ (والدین) اس بات کی کوشش کریں کہ تو کسی کو میرا شریک بنالے جس کا تجھے علم بھی نہیں ہے تو ان کا کہنا مت مان۔ کیونکہ تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر میں بتاؤں گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو میں ان کو اپنے نیک بندوں میں شامل کروں گا۔ “ شرک جس طرح ایک بدترین خصلت اور عادت ہے اسی طرح منافقت بھی برائی میں شرک سے کم نہیں ہے۔ جس کی نہایت ہیبت ناک سزا مقرر فرمائی گئی ہے۔ فرمایا کہ بعض وہ منافق ہیں جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ لیکن اگر ان پر ذرا بھی کوئی آزمائش آجاتی ہے جس سے وہ کسی مشکل یا مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے ایک عذاب سمجھنے لگتے ہیں۔ اور فوراً ہی بدل جاتے ہیں اور کفار کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں اور ان کو ایمان جیسی نعمت معمولی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی منافقت کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی فتح و نصرت اور کامیابی مل جاتی ہے تو وہ مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ کو ان کیدلی جذبات اور ان کی تمام حرکتوں کا پوری طرح علم ہے۔ کیونکہ ایک آدمی اپنی کسی بات کو ساری دنیا سے چھپاسکتا ہے۔ لوگوں کی نظروں میں دھول جھونک کر ان کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن وہ اپنے اندرونی جذبات کو اللہ سے نہیں چھپا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کون منافقت کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مشرکین اور منافقین کے ساتھ ساتھ کافروں کا ذکر بھی کیا ہے۔ جو ایمان والوں سے کہتے تھے کہ تم ہمارے کہنے سے دین اسلام کو چھوڑ کر اپنے باپ دادا کیمذہب پر پلٹ آئو تاکہ دنیا میں اور آخرت میں ہر طرح کے نقصانات اور تکلیفوں سے محفوظ ہو جائو۔ ان کا خیال یہ تھا کہ دین اسلام کو چھوڑ دینا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اگر آخرت میں پوچھ گچھ ہوئی تو ہم تمہارا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھالیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ان کیبوجھ اٹھان کے قابل کہاں ہوں گے کیونکہ ان پر تو ویسے ہی دوھرے گناہوں گے ایک بوجھ تو خود گمراہ ہونے کا اور دوسرے اوروں کو گمراہ کرنے اور بھٹکانے کا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ وہاں تو ایسی نفسانفسی ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی۔ وہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو گناہ پر آمادہ کرتا ہے یا کسی برے راستے پر لگاتا ہے تو اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ دوسرے کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو ہدایت کے راستے پر لگائے گا تو اس کو بھی اجر وثواب ملے گا جس نے کسی کو سیدھے راستے پر لگایا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ‘ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کی بات مان کر ہدایت پر عمل کریں گے ان سب کا ثواب اس دعوت دینے والے کو بھی ملے گا بغیر اس کے کہ بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کی بات مان کر ہدایت پر عمل کریں گے ان سب کا ثواب اس دعوت دینے والے کو بھیملے گا بغیر اس کہ عمل کرنے والوں کے اجروثواب میں کوئی کمی آئے۔ اسی طرح جو شخص کسی کو گناہ یا گمراہی کے راستے پر بلائے گا اور وہ اس گناہ میں مبتلا ہوگا تو اس کے کہنے سے جو بھی گمراہ ہوگا اس کے برے اعمال کا وبال اس گمراہ کرنے والے پر بھی ہوگا۔ اور ان کے عذاب میں کوئی کمی نہ آئے گی۔ (مسلم ‘ ابن ماجہ ‘ قرطبی)
Ayahs 29:14–18

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ پھر وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار ( ساڑھے نو سو) سال تک رہے۔ پھر انہیں (قوم نوح کو) ایک طوفان نے آپکڑا اور وہ ظالم (گناہ گار) تھے۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور جہاز کو دنیا والوں کے لئے ایک نشانی بنا دیا۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور اسی طرح جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور اسی سے ڈرو۔ اگر تم جانتے ہو تو اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہو حالانکہ تم ان کو خود ( اپنے ہاتھوں سے) گھڑتے ہو۔ بیشک تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن دوسروں کی عبادت کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں۔ تم اللہ کے پاس سے رزق تلاش کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اسی کا شکرادا کرو اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تمہیں جھٹلایا گیا تو بہت سے ان گروہوں نے جو تم سے پہلے گذرچکے ہیں وہ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ رسول کے ذمے سوائے کھول کھول کر پہنچانے کے اور کچھ ذمہ داری نہیں ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان کا یہ ظلم و ستم اسی طرح جاری رہے گا اور وہ قدرت کی گرفت میں نہ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام ؐ اور انکی امتوں کو ثبوت کے طور پر پیش کرکے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ان کی نافرمانیوں کی سزادیتا ہے تو پھر ان ظالموں کو بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو بیان کیا کہ انہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کس طرح اپنی امتوں کو سمجھانے کے لئے ایک لمبی عمر تک دن رات جدوجہد کی۔ وہ لوگ جنہوں نے ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کے دامن سے وابستگی اختیار کی وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد رہے اور جنہوں نے ان کی نافرمانی کی ان کی دنیا بھی برباد ہوئی اور وہ آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک نافرمانوں کو ہر طرح سمجھایا۔ دن رات جدوجہد کی اور ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں مگر ان کی قوم نے ان کا مذاق اڑایا۔ طرح طرح سے آیتیں اور تکلیفیں پہنچائیں اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ قوم ان کی اطاعت و فرماں برداری کرے ‘ غرور وتکبر اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اللہ کے بندے بن کر رہیں ‘ غریبوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا چھوڑدیں ‘ اور جو بھی طاقت ور ہے وہ اپنے کمزوروں پر ظلم و ستم چھوڑ کر ان کو ستانے سے باز رہے۔ اور وہ بت جن کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنا کر ان کو اپنا معبود بنارکھا ہے ان کی عبادت و بندگی نہ کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی صدیوں کی اس تبلیغ سے بہت تھوڑے سے لوگوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کی اور باقی ساری قوم اپنی جہالت و نادانی پر قائم رہی۔ ایک دن بار گاہ الٰہی میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کردیا۔ الہی میں نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ میری بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اب آپ فیصلہ فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پوری قوم کو اور اس کے تمام مال و اسباب کو پانی میں اس طرح غرق کردیا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھنے والے بھی اس عذاب سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی وہ بڑی کشتی جس میں اہل ایمان سوار تھے وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی کہ وہ اللہ نے کس طرح اس زبردست طوفان میں اس کشتی اور اس میں بیٹھنے والوں کو نجات عطا فرمائی اور خود حضرت نوح (علیہ السلام) کی زندگی بھی ایک نشانی ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کی مگر وہ اس سے اکتائے نہیں بلکہ پوری قوم کو سمجھاتے رہے۔ سوائے کچھ سعادت مندوں کے پوری قوم نے آپ کے لائے ہوئے پیغام کو اہمیت نہیں دی جس سے آخر کار وپری قوم کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور وہ پانی سے طوفان میں غرق کردی گئی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے ایک طویل عمر تک اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھائیں۔ انہوں نے بھی اپنی قوم کو یہی سمجھایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں کیونکہ وہی سب کا مشکل کشا ہے۔ ہر ایک کی بگڑی بنانے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بت جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو یہ اللہ پر ایک بہت بڑا جھوٹ ہے یہ بت ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ یہ اپنے نفع نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں یہ تمہارے رازق نہیں ہیں بلکہ ہر طرح کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی سب کا رازق ہے اور سب کی مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے جو بھی تمہیں رزق دیا ہے اس پر اس اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔ فرمیا تم سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان تمام باتوں پر بہت کم لوگوں نے توجہ کی لیکن جن لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا ان کو ہی نجات عطا کی گئی۔ ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اسی طرح سارے نبیوں کو جھٹلایا گیا ہے اور ان کی نافرمانی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ سے فرمایا ہے کہ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو نبی اور رسول بنا کر بھیج دیا ہے اب اگر ان کو بھی گذشتہ انبیاء کی طرح جھٹلایا گیا تو پھر قیامت تک کوئی دوسرا ان کی اصلاح کے لئے نہیں آئے گا۔ نجات ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو نبی کریم ﷺ کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار کریں گے۔ نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو کھول کر واضح انداز سے پہنچادیتا ہے نجات صرف ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کی مکمل اطاعت و محبت سے کام لیتے ہیں۔
Ayahs 29:19–23

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ پیدائش کی ابتدا کیسے کرتا ہے اور پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت آسان ہے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ تم زمین میں چلو پھرو اور پھرو دیکھو کہ اس نے پیدائش کی ابتداء کیسے کی پھر اللہ دوبارہ ان کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم و کرم کرتا ہے۔ تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

نہ تم اس کو زمین میں عاجزو بےبس کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں۔ اور اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات اور اس کے ملنے سے انکار کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو میری رحمت سے ناامید ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 : یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 : اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ پھر میدان حشر میں ہر انسان کو اپنے کئے ہوئے کاموں کا حساب دینا ہے جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جنت اور کفر وشرک اور منافقت کرنے والوں کو جہنم میں بھیج دے گا۔ جب کفار کے سامنے یہ آیتیں اور مضمون آتا تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہماری عقلوں میں یہ بات نہیں آتی کہ جب انسان مرکھپ جائیگا۔ اس کے اعضاء اور اجزاء بکھر جائیں گے تو وہدوبارہ کیسے زندہ ہوگا ؟ اس کے اعضاء اور اجزاء کس طرح جڑ سکیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا جواب بیشمار مرتبہ دیا ہے اور فرمایا ہے کہ کیا وہ سامنے کی اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زندگی کی ابتداء کیسے کی تھی ؟ یہ اس کی قدرت ہے کہ وہ اس کو دوبارہ وجود عطاکرے گا۔ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی چیز کا پہلی مرتبہ پیدا کرنا تو بظاہر مشکل ہے لیکن جب ایک چیز بن جائے تو اس کو دوبارہ بنانا مشکل نہیں بلکہ انتہائی آسان ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ انسے کہے کہ وہ زمین میں چل پھر کردیکھیں کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو کس طرح پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ اسکے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ اس کو دوبارہ پیدانہ کرسکے گا۔ بلاشبہ اللہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اس کی قدرت سے یہ چیز بھی دور نہیں ہے کہ وہ قیامت کے دن یا اس سے پہلے جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم وکرم فرمادے۔ آخر کار سب کو اسی ایک اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کائنات میں اس کی یہ قدرت و طاقت ہے کہ وہ سب کچھ کرتا ہے کوئی اس کو اس زمین پر اور آسمانوں پر عاجزو بےبس نہیں کرسکتا۔ اور اللہ کے سوا نہ کسی کی حمایت کام آئے گی نہ مدد۔ وہی ہر ایک کی مدد کرتا ہے اسی کی مدد اور حمایت سے اہل ایمان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت وحمایت سے صرف وہ لوگ مایوس اور ناامید ہوا کرتے ہیں جو کفر پر جمے ہوئے ہیں اور اللہ سے ملنے پر یقین نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 29:24–27

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر (ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم) کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے اس کو قتل کرڈالو یا اس کو جلاڈالو۔ پھر اللہ نے ان کو آگ سے بچا لیا۔ بیشک اس میں یقین رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم نے) کہا کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کو (اپنا معبود) بنارکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں تمہاری آپس کی محبت قائم رہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرائو گے۔ اور تم میں سے ایک دوسرے کو لعنت کرے گا۔ اور تمہار ٹھکانا جہنم ہوگا اور تمہارے لئے کوئی حمایتی نہ ہوگا۔

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

اور (ابراہیم نے ) کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرکے چلا جائوں گا۔ بیشک وہی زبر دست اور حکمت والا ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (جیسی اولاد) عطا فرمائی۔ اور ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب (بھیجنے کو) قائم رکھا ہے۔ اور ہم نے ان کو ( ان کی خدمات کا ) صلہ دنیا میں دیا ہے اور بیشک وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 27 : اقتلوا (تم قتل کرو۔ تم مارو) حرقوا (جلاڈالو) ‘ انجی ( اس نے نجات دی) ‘ مودۃ (دوستی۔ محبت) یلعن ( وہ لعنت کرتا ہے) ‘ ماوی ( ٹھکانا) ‘ مھاجر ( ہجرت کرنے والا) وھبنا (ہم نے دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 : ان آیات سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جارہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور کمزوریوں کو ظاہر کرکے ان کو خالص توحید کی دعوت دی تو چاروں طرف ایک شورمچ گیا۔ اور قوم نے کہنا شروع کیا کہ ابراہیم کو یا تو قتل کردینا جائے یا آگ میں جلا کر بھسم کردیا جائے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل تو موجود نہ تھی اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلاکر خاک کردینے کا فیصلہ کرکے اس کی زبردست تیاریاں شروع کردیں اور لکڑیاں جمع کرکے ان میں آگ لگادی جب آگ کے شعلے بلند ہوگئے تو انہوں نے کسی ذریعہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کی طرف اچھال دیا تاکہ وہ آگ کے درمیانی حصے میں گریں اور بچ نہ سکیں۔ مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم (علیہ السلام) پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا۔ چنانچ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا گیا تو وہ آگ ایک ایسا آرام دہ باغیچہ بن گئی جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت سکون و اطمینان سے سات دن تک رہے۔ نمرود اور اسکی قوم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اتنی بڑی آگ میں ڈالے جانے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بچنا ممکن نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ سے نجات عطا فرمائی اور ساری دنیا کو بتادیا کہ جس کی حفاظت اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے اس کو کوئی شخص نقصان نہیں پہنچا سکتا یہ ایمان اور یقین رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے ایک کھلی ہوئی نشانی ہے جس میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلو موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! تم نے جو بھی اپنے معبود بنارکھے ہیں ان کا مقصد محض دنیا کے وقتی فائدے ‘ میل جول اور اتحاد کو قائم رکھنا ہے۔ فرمایا کہ یہ پر فریب اتحاد و اتفاق تمہارے کب تک کام آئے گا۔ آخر کار موت کے ساتھ ہی جب ہر شخص کو اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہونا ہے اس وقت جب ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی تو یہ وقتی اتحاد و اتفاق ‘ دوستیاں ‘ رشتہ داریاں اور تعلقات اس طرح دشمنی میں بدل جائیں گے کہ ہر ایک دوسرے کو برا بھلاکہتے ہوئے ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرتا نظر آئے گا۔ جب ان کو برے اعمال کی وجہ سے جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونکا جائے گا اس وقت ان کا نام نہاد اتفاق و اتحاد ان کے کام نہ آسکے گا۔ اس وقت انکے جھوٹے معبود ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مسلسل تبلیغ اور جدوجہد کے نتیجے میں ان کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اطاعت کی تصدیق کی اور ان کی مکمل اطاعت و پیروی اختیار فرمائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس اتنے بڑے واقعہ کے بعد اپنی بیوی حضرت سارہ اور اپنے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو لے کر عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت فرماگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اٹھارہ سال کے بعد ان کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے لائق فرزند اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسے پوتے کو ایک نعمت کے طور پر عطا فرمایا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا لقب اسرائیل تھا ان سے بنی اسرائیل کا سلسلہ شروع ہوا اور اس طرح ان کے گھرانے میں نبوت و رسالت کی عظمتیں قائم ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں یہ عظیم اجر عطا فرما اور آخرت میں تو وہ صالحین میں سے ہوں گے۔ اس طرح نبوت و رسالت کا سلسلہ قائم ہوا اور آخر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا بھیجا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دن رات کی جدوجہد اور اللہ کے فضل و کرم سے ان کی اولاد میں سیکڑوں بلکہ بعض روایات کے مطابق ہزاروں پیغمبر تشریف لائے اور اس طرح آپ کی اولاد کے ذریعہ اللہ کا دین ساری دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتیں عرض ہیں۔ (1) ساری دنیا مل کر بھی اگر کسی کو نقصان پہنچانا چاہے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ البتہ اگر اللہ ہی چاہے تو پھر اس کو ساری دنیا مل کر بھی بچا نہیں سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کی طاقت و قوت ہے اس کے سوا کسی کے پاس نہ طاقت و قوت ہے اور نہ ہیبت و جلال۔ (2) وہ اتحاد و اتفاق جس کا مقصد محض دنیاوی مفادات ‘ تعلقات اور دوستیوں کو قائم کرنا ہے اور اتحاد صرف اسی دنیا تک محدودرہتا ہے۔ آخرت میں یہ اتحاد نہ آئے گا بلکہ ہر شخص ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرے گا کہ جب وہ گمراہی کے راستے پر چل رہا تھا تو اس کو اس حرکت سے کو یں نہ روکا گیا۔ لیکن ایسے لوگ آخر کار جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ اس کے بر خلاف جس اتحاد و اتفاق کی بنیاد اللہ کی رضا و خوشنودی اور اسکے احکامات کی اطاعت ہوگی وہ اتحاد صرف اس دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی کام آئے گا۔ (3) جو لوگ اللہ کے دین کی سربلندی کی جدوجہد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی عزت و سربلندی عطا فرماتا ہے اور آخرت کی تمام بھلائیاں بھی ان ہی لوگوں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ (4) اللہ کے راستے میں ہجرت کرنا سنت ابراہیمی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے اسی سنت کو زندہ کرتے ہوئے اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دین اسلام کی سربلندی کی کوششیں فرمائیں۔
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو (نبی بنا کر) بھیجا۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسے بےحیائی کے کام کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا میں کسی نے نہیں کئے۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں پر لپکتے ہو اور تم ڈاکہ ڈالتے ہو اور تم بھری محفلوں میں بےہودہ کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا وہ کہتے ہمارے اوپر عذاب لے آئو۔ اگر تم سچے لوگوں میں سے ہو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

(لوط (علیہ السلام) نے ) کہا میرے پروردگار اس فسادی قوم پر میری مدد فرما۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ( حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی) خوش خبری لے کر آئے اور کہا ہم اس (قوم لوط (علیہ السلام) ) کی بستی کو ہلاک کرنے بھی آئے ہیں کیونکہ اس بستی کے رہنے والے ظالم (گناہ گار) ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا وہاں تولوط (علیہ السلام) بھی رہتے ہیں ؟ (فرشتوں نے ) کہا ہم خوب جانتے ہیں اس میں کون لوگ ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے لیکن ان کی بیوی کو نہیں (بچائیں گے) کیونکہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ رنجیدہ ہوگئے اور وہ دل میں گھٹن محسوس کرنے لگے۔ (فرشتوں نے ) کہا تم خوف نہ کرو اور نہ رنجیدہ ہو۔ بیشک ہم آپ کو بچا لیں گے اور آپ کے گھر والوں کو بھی سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم اس بستی کے کچھ نشانات باقی رہنے دیں گے تاکہ وہ لوگ جو عقل و فہم رکھتے ہیں اس سے عبرت حاصل کریں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 : لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 : اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم اور عمورہ کی جن بستیوں کی اصلاح کے لئے پیغمبر بنا بھیجے گئے تھے وہاں لوگوں کا یہ حال تھا کہ وہ غیر فطری فعل کو کھلم کھلا اس طرح کرتے تھے کہ اس کیخلاف بات کرنے اور کسی نصیحت کو سننے کے لئے تیار نہ تھے چناچہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس پوری قوم کو للکارا کہ تم نے ایک ایسے فعل کو رواج دیا ہے جو آج تک دنیا میں کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ تم اپنی نفسان خواہشات کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کرتے ہو۔ تمہاری شیطانی حرکتوں سے ہر شخص عاجز آچکا ہے۔ لوگوں کے لئے راستہ چلنا دشوار ہوگیا ‘ چوری ‘ ڈاکہ اور لوٹ مار سے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔ تم کھلے عام بےشرمی اور بےحیائی کے کام کرتے ہو۔ تمہاری گفتگو اور بات چیت میں شائستگی اور تہذیب دم توڑچ کی ہے۔ اگر تم نے اللہ سے توبہ نہ کی اور اس فعل سے بازنہ آئے تو جس طرح تم سے پہلی امتوں پر اللہ کا عذاب آیا تھا اسی طرح تم پر بھی اللہ کا قہر ٹوٹ پڑے گا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تمام نصیحتوں کا پہلے تو مذاق اڑانا شروع کیا پھر دھمکیوں پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ اے لوط ! اگر تم نے اپنی ان نصیحتوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو ہم تمہیں اس بستی سے نکال باہر کریں گے۔ اور جس عذاب کی تم بات کرتے ہو اگر تم سچے ہو تو اس کو لے آئو۔ قوم لوط کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی انتہائی نافرمان اور اپنی قوم کی حمایت میں سب سے آگے آگے تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی بےحسی ‘ بےغیرتی اور دھمکیوں کے باوجود دن رات سمجھاتے رہے مگر وہ قوم نہ سمجھی نہ سنبھلی اور اپنی شہوت پرستی میں لگی رہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جب بالکل مایوس ہوگئے تو انہوں نے بار گاہ الہی میں یہ درخواست پیش کردی کہ اے اللہ ! یہ لوگ فساد اور تباہی پر تلے بیٹھے ہیں اور میری کسی بات کو نہیں سنتے نہ میری اطاعت کرتے ہیں۔ اس قوم کا مزاج ہی ظالمانہ اور مفسدانہ بن کر رہ گیا ہے ان کا فیصلہ فرمادیجئے اور میری مدد فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمالیا اور اس قوم کو ان کی نافرمانیوں کی سزادینے کا فیصلہ فرمالیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجا۔ یہ فرشتے سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ایک بیٹے کی خوش خبری دینے کے لئے آئے علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوش خبری تھی۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اجنبی مہمان سمجھ کر ان کی خاطر تواضع فرمائی اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لا کر انکے سامنے رکھ دیا مگر انہوں نے کھانے سے انکار کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کچھ پریشان سے ہوگئے کیونکہ اس زمانہ میں کھانے سے انکار کاملطب یہ ہوتا تھا کہ یہ دوست نہیں بلکہ اس کا دشمن ہے اور اس کے ارادے صحیح نہیں ہیں۔ حضرت ابراہیم ؐ کی پریشانی کو دیکھ کر ان فرشتوں نے کہا کہ دراصل ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو آپ کو اولاد کی خوش خبری دینے اور قوم لوط کو برباد کرنے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قوم لوط کی بربادی کی اس اطلاع سے سخت افسوس ہوا۔ افسردہ ہو کر فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں جو اللہ کے نبی اور سچے دین پر چلنے والے ہیں۔ فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ اس نافرمان قوم کیلئے ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ( ان کی بیوی کے سوا) ان کے تمام گھر والوں کو بچا لیا جائے گا۔ یہ فرشتے جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجے گئے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہم آپ کے ہاں مہمان کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اپنے گھر ٹھہرا تو لیا مگر وہ اس بات سے فکر مند ہوگئے کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں کو پتہ چل گیا کہ کچھ خوبصورت نوجوان میرے گھر آئے ہیں تو کہیں وہ بدکار لوگ کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھیں جس سے ان کو شرمندگی ہوجائے کیونکہ آپ اپنی قوم کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے چناچہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے سب کو بتادیا کہ ان کے گھر کچھ خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ پوری قوم کے لوگ دوڑ پڑے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اس صورتحال سے گھبرا گئے کیونکہ ان بد کرداروں کا مطالبہ تھا کہ ان نوجوانوں کو ان کے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کو دیکھ کر فرشتوں نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ مت گبھرائیے۔ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ہیں۔ یہ ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ نے اس بد کردار قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آپ صبح ہوتے ہی اپنی بیوی کے سوا سب گھروالوں کو لے کر اس شہر سے نکل جائیے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھئے۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں روانہ ہوگئے اور ان کی بیوی وہیں رہ گئیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے جاتے ہی صبح کو ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دی جس سے سننے والوں کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں پھر ان پر زبردست پتھروں کی بارش کردی گئی اور اس پوری آبادی کو اوپر اٹھا کر نیچے کی طرف الٹ دیا گیا۔ ان بستیوں پر سمندر کا پانی چڑھ دوڑا اور اس طرح نہ صرف سدوم اور عامورہ کی بستیاں تباہ و برباد کردی گئیں اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا بلکہ ان بستیوں پر سمندر کا پانی چڑھ آنے سے پوری آبادی ڈوب گئی اور ان کی جگہ ایک ایسا سمندر بن گیا جس میں آج تک کوئی جانور بھی زندہ نہیں رہتا اسی لئے اس کو بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ تباہی اور زلزلے کے اثرات سے یہ علاقہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے چلا گیا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو سزادے کر عقل و بصیرت رکھنے والوں کے لئے اس جگہ کو نشان عبرت و نصیحت بنادیا ہے۔
Ayahs 29:36–40

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ پھر انہوں نے کہا اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اور قیامت کے دن سے ڈرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر انہوں نے (شعیب (علیہ السلام) کو) جھٹلایا تو انہیں ایک زلزلے نے آپکڑا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (اسی طرح) ہلاک کیا۔ اور ان کا ہلاک ہونا ان کے گھروں سے ظاہر ہے۔ اور شیطان نے ان کے کاموں کو ان کی نظر میں خوبصورت بنا کر رکھ دیا تھا اور ان کو سچائی کے راستے سے روک دیا تھا۔ ویسے نہایت ہوشیار تھے۔

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون، فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کیا) جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے زمین میں تکبرو سر کشی اخیتار کی اور وہ (ہم سے) جیت جانے والے نہ تھے۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا دی۔ پس کوئی تو ان میں سے وہ تھے جن پر ہم نے تیز آندھی کا طوفان بھیجا۔ ان میں سے بعضوں کو ہیبت ناک آواز نے آدبایا۔ اور بعض وہ تھے جن کو زمین میں دھنسا دیا۔ اور بعض وہ تھے جن کو ہم نے غرق کردیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔ تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے گذر گئیں تو دنیا کی یہ تمام طاقتیں اور قوتیں ان کو عذاب الہی سے نہ نچا سکیں۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم مدین کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا گیا تھا جو تجارتی بددیانتیوں، مظلوموں پر ظلم و ستم اور خیرو شر کے ہر فرق کو بھول کر اپنی بد اعمالیوں، نافرمانیوں اور بد مستیوں میں مگن تھے۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر لکڑی، مٹی اور پتھرکے بتوں کے سامنے اپنی محترم پیشانی کو نہ جھکائیں کیونکہ انسان ان سے کتنی ہی امیدیں وابستہ کرلے یہ دنیا اور آخرت میں ان کے کام نہ آئیں گے بلکہ آخرت میں ان کے یہ بت اور من گھڑت معبود ان سے نفرت کا اظہار کریں گے اور کہہ دیں گے کہ ہم نے ان کو اپنی عبادت و بندگی پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی ہمیں اپنا معبود بنائے ہوئے تھے۔ اس وقت اللہ کا عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ہر باطل سہارا ٹوٹ چکا ہوگا اس وقت ان کی حسرتوں کا کیا حال ہوگا ؟ لہذا وہ آخرت کی فکر کریں جہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی زمین کو اپنی بداعمالیوں کے فساد سے تباہ نہ کریں کیونکہ اللہ کو فساد کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ اس قوم کا سب سے بڑافساد یہ تھا کہ وہ معاملات کے لین دین میں شدید بد دیانتی کیا کرتے تھے۔ کم تولنا، کم ماپنا، بےایمانی، دھوکے بازی، چوری، ڈاکہ اور دوسروں پر ظلم و زیادتی ان کا مزاج بن چکا تھا۔ وہ نادان اور جاہل نہیں تھے بلکہ نہایت سمجھ دار عقل مند لوگ تھے مال و دولت کمانے اور بلند وبالا اور خوبصورت بلڈنگیں بنانے کے فن سے خوب واقف تھے مگر ان کی بد قسمتی یہ تھی کہ جن لوگوں نے مال و دولت کمانے اور معیارزندگی کے بلند کرنے کے راز معلوم کر لئے تھے، دنیا اور آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کے بھید کو معلوم نہ کرسکے۔ لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو ہر طرح کی نافرمانیوں سے بچنے کی تلقین کرتے رہے اور اپنے عظیم خطبات سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے رہے مگر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ اے شعیب ہمیں تو تمہاری عظیم صلاحیتوں سے بڑی امیدیں تھیں مگر تم نے ہمارے ہی معبودوں اور رسم و رواج کر برا کہنا شروع کردیا۔ ہم تمہاری کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلانے کی انتہاء ہوگئی تب اللہ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا وہ لوگ رات کو سوئے تو زبردست طوفان سے ان کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے وہ گئے ۔ ان کے خوبصورت اور بلندو بلا مکانات اور ان کے مال و دولت ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی بات مان کر ایمان کا راستہ اختیار کرنے والوں کو نجات عطا فرما دی ۔ قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دونوں قومیں جود نیاوی ترقیات میں بہت آگے تھیں ان کو بھی ان کی طافرمانیوں نے تباہی کے کنارے پہنچا کر چھوڑا۔ احقاف، یمن اور حضر موت تک یہ قوم عاد کی آبادی تھی اور رابغ سے عقبہ تک، اور مدینہ منورہ، خیبر، تیما اور تبوک تک کا علاقہ ایک آباد اور ترقی یافتہ علاقہ تھا جس کے کھنڈرات اور ٹوٹی پھوٹی بستیوں کے آثار اور نشانات مکہ والواں کے سامنے تھے جو ان راستوں سے گذرتے ہوئے ان بستیوں کو دیکھتے تھے جو آج عبرت و نصیحت کا نمونہ ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ وہ تھے جن کے برے اعمال کو شیطان نے ان کی نظروں میں بہت زیادہ قیمتی اور خوبصورت بنا کر پیش کیا ہوا تھا۔ یہ نہایت عقل مند اور سمجھ دار قومیں تھیں مگر دین کے بارے میں نہایت جاہلانہ طرز اختیار کئے ہوئے تھے۔ ان کے مال و دولت نے ان کو سچائی سے روکا ہوا تھا۔ جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم عاد کو اور حضرت صالح نے قوم ثمود کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے ڈرایا اور آگاہ کیا تو ان کو قوموں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ان کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کیا اور وہ مسلسل اپنی نافرمانیوں پر ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے تب ان ترقی یافتہ قوموں پر اللہ کا شدید ترین عذاب آگیا۔ قوم عاد پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک شدید ترین طوفانی ہواؤں نے ان کی پوری تہذیب اور ترقی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ قوم ثمود جو اس زمانہ میں بیس بیس منزلہ بلڈنگیں تعمیر کیا کرتے تھے اور دولت کی ریل پیل تھی ان کو بھی زبردست چنگھاڑ نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے وزیر ہامان کا ذکر فرمایا۔ وہ فرعون جس نے اللہ کا بھلا کر اپنے ” الہ “ ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کو اپنی مضبوط سلطنت اور فوج پر بڑا ناز تھا۔ اللہ نے اس کو سمندر میں غرق کردیا۔ قارون جس کے خزانواں کا یہ حال تھا کہ اس کے خزانوں کی چابیاں ہی اتنی زیادہ تھیں کہ ان کو ایک مضبوط اور طاقت ور جماعت بھی نہ اٹھا سکتی تھی۔ جب اس نے غرور وتکبر کی انتہا کو دی تو اللہ نے اس کو، اس کے ساتھیوں کو اور اس کے زبردست خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کا جب فیصلہ آجاتا ہے تو پھر اس کی طاقت و قوت کے سامنے کسی کی طاقت و قوت کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اس نے کسی قوم کو تیز آندھی سے، کسی کو ہیبت ناک آواز سے تہس نہس کردیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو پانی کے طوفان میں غرق کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگوں کے برے اعمال ہیں جو ان کو تباہی کے کنارے پہنچادیتے ہیں۔ ہم کسی فراد اور قوم پر ظلم و زیادتی نہیں کرتے۔ کیونکہ اللہ نے اسی کائنات میں قوانین مقررکئے ہوئے ہیں جو بھی ان کو مانتا ہے اور ان کے مطابق چلتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے لیکن جو بھی اس کے بنائے ہوئے قوانین سے ٹکراتا ہے اس کو اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی سزا مل کر رہتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا نافرمان اور مجرم خود ہی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ قوانین الہی کو توڑتا ہے اور جان بوجھ کر قانون شکنی کرتا ہے تو اس کو سزا دی جاتی ہے اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے بندوں کو سنبھلنے، سوچنے اور صحیح راستے پر چلنے کا زیادہ سے زیادہ وقت دیتا ہے۔ جب کوئی اپنی انتہاؤں سے گذر جاتا ہے تو پھر اللہ اس کے لئے اپنے قوانین کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے جس کے لئے کائنات کی ساری قوتیں مل کر بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتیں۔ ان آیات میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور مکہ کے کفار کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس کافی مہلت موجود ہے اگر وہ فائدہ اٹھا کر نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے تو ان کا انجام بہتر ہوگا ورنہ ان کا انجام بھی گذشتہ قوموں سے مختلف نہیں ہوگا ۔