29. Surah Al-Ankaboot
العنكبوتThe Spider · 69 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمر 29 کل رکوع 7 آیات 69 الفاظ و کلمات 990 حروف 4410 یہ سورة مکہ مکرمہ میں ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کفار و مشرکین نے اہل ایمان پر ظلم و سلم کرکے مکہ کی سرزمین کو ان پر تنگ کردیا تھا اور وہ مکہ مکرمہ چھوڑے نے پر مجبور ہوگئے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے صحابہ کرام (رض) حبشہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ برائی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ فرمایا تم صبر کرو بہتر نتیجہ تمہارے حق ہی میں نکلے گا اور تم کامیاب ہو گے۔ اس سورة میں متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے صبر و تحمل سے کام لے کر دن رات جدوجہد کی۔ جو سعادت مند لوگ تھے انہوں نے دین کی سچائیوں کو قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنالی اور بد بخت لوگ نہ دنیا حاصل کرسکے نہ آخرت۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک ‘ متقی اور پرہیز گار بندوں کو دنیا اور آخرت میں بلند مقام عطا کرنے کے لیے طرح طرح سے آزماتا ہے۔ جو اس امتحان میں تکلیفیں ‘ مصیبتیں اور شدید تر مخالفتوں کے باوجود صبر و تحمل کا دامن تھامے رہتے ہیں ان کو دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں سے مالا مال کردیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے راستے کو چھوڑ کر کفر و شرک کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں وہ بظاہر عیش و آرام میں ہوتے ہیں لیکن ان کا انجم بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ وہ مظلوم اہل ایمان پر ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ دنیا کے بد ترین ناکام لوگوں میں سے ہیں۔ جب یہ سورت نازل ہوئی اس وقت کفار مکہ اور مشرکین عرب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز خق و صداقت کو پابند کرنے کے لیے ہر وہ ظلم و ستم کررہے تھے کہ جس سے مکہ کی سرزمین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ماننے والوں پر اس قدر تنگ ہوچکی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق صحابہ کرام (رض) حق و صداقت کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ چناچہ صحابہ کرام (رض) نے حبشہ کی طرف ہجرت شروع کردی اور کچھ عرصہ بعد اللہ کے حکم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ان حالات میں یہ سورة نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور ان کے ماننے والوں کو یہ سمجھایا کہ اہل ایمان حق وصداقت کی راہوں کو روشن کرتے رہیں یہ کفار مکہ کا ظلم و ستم اور ان کا غرور تکبر مکڑی کے جالے سے زیادہ طاقت ور نہیں ہے۔ جس طرح مکڑی اپنے جال کو مضبوط سمجھ کر اس میں ہر ایک کو شکار کرنے کے لیے مضبوط تریسن سمجھتی ہے حالانکہ مکڑی کا گھر اتنا ہی کمزور ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اہل ایمان نہ گھبرائیں بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان کفار کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ان کے لیے کوئی راہ نجات نہ ہوگی۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گذشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کے حالات کو بتا کر یہ سمجھایا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب بھی اللہ نے اپنے کسی نبی کو بھیجا تو کفار و مشرکین نے اس سچائی کو جھٹلایا۔ انبیاء کرام کی بات نہ مان کر انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت برباد کر ڈالی اور اللہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب و بامراد فرمایا اور انہیں دین و دنیا کی ساری نعمتوں سے مالا مال فرمایا۔ (١) اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کا ذکر فرمایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم اور نسلوں کو سمجھایا مگر انہوں نے اہل ایمان کا مذاق اڑایا۔ انہیں طرح طرح سے ستایا جس سے و ہے کفار خود ہی مشکلات میں پھنس گئے۔ جب وہ مسلسل نافرمانیاں کرتے رہے تو اللہ نے ان کو پانی میں غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو نجات عطا فرما دی۔ (٢) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو حق و صداقت کی طرف بلایا تو ساری قوم نے کہا کہ ہمارے بتوں اور معبودوں کی توہین کرنے والے ابراہیم کو قتل کردو ‘ ماردو ‘ جلا ڈالو اور کڑی سے کڑی سزا دو ۔ چناچہ ان کو زندہ آگ میں پھینک دیا گیا۔ اللہ نے اس آگ کو ایسا گل و گلزار بنادیا کہ آگ ان پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوگئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر فلسطین میں آباد ہوگئے اور کفار اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ (٣) حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو غیر فطری گناہوں اور بد فعلیوں سے بچانے کے لیے ہر طرح سمجھایا مگر سوائے چند لوگوں کے سب نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی انبدکرداروں کے ساتھ مل گئی اور دولت ایمانی سے محروم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ ان کی مومن گھر والوں اور ماننے والوں کو نجات دے دی اور ان کفار پر پتھروں کی بارش کردی اور ان کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ (٤) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم تک دین کو پہنچایا۔ ان کو حق وصداقت پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ معاملات میں بددیانتی ‘ بےایمانی اور ماپ تول میں کمی سے منع فرمایا مگر ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرما دی اور نافرمانوں کو طوفانی ہواؤں اور پانی کے طوفان سے تہس نہس کرڈالا۔ (٥) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو ہر طرح کے کفر و شرک سے بچانے اور قوم فرعون کے ظلم وستم سے نجات دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ایک نئی زندگی دی لیکن انہوں نے نافرمانی کرنے کو اپنا مزاج بنا لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمانبرداروں کو نجات دی اور کفار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کردیا۔ (٦) قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کی نافرمانیاں کیں اللہ نے جو ان کو بےپناہ قوت و طاقت عطا کی تھی اس کا غلط استعمال کیا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور ان کے ماننے والوں کو نجات دے دی اور ان قوموں کو تباہ و برباد کرڈالا۔ (٧) قارون کا واقعہ سنایا گیا جسے اللہ نے بےپناہ دولت عطا کی تھی مگر اس کی دولت نے اس کو ایسا سرکش ‘ ضدی اور ہٹ دھرم بنا دیا تھا کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جٹلانا شروع کردیا۔ اللہ نے قارون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہلامیان کو یہواقعات سنا کر ان کو تسلی دی ہے کہ آج اگر کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثاروں کو ستا رہے ہیں ایسے لوگ مذکورہ نبیوں اور لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کریں کہ اللہ اور اس کے نبیوں کے انکار کا کس قدر بھیانک انجام ہوا اور اہل ایمان کو کس قدر عزت و سربلندی اور نجات نصیب ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کام میں لگے رہیں ‘ کسی کی پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ کا نظام اور طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اہل ایمان سے فرمایا کہ وہ (١) تلاوت کلام اللہ کرتے رہیں۔ (٢) نمازوں کی پابندی کریں۔ (٣) اور اہل کتاب سے گفتگو میں شائستگی کے پہلو کو نظر انداز نہ کریں۔ اس سورة میں چند اور اہم باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں وہ اگر واقعی حق کی تلاش میں ہیں تو قرآن کریم ان کے سامنے ایک معجزہ کے طور پر ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی اور معجزہ کا مطالبہ ایک عجیب سامطالبہ ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا عذاب کیوں نہیں آتا فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے اللہ کا اپنا ایک نظام ہے جب وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو پھر اس سے بچانے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔ جب کوئی سرزمین اس حدتک تنگ کردی جائے کہ وہاں رہنا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانا ہی بہتر ہے۔ اگر کوئی اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑتا ہے تو اس کو یہ سوچنا کہ ہم کھائیں گے کیا ؟ فرمایا کہ پرندے بھی روزانہ اپنا رزق تلاش کرتے ہیں اور رات کو پیٹ بھر کر سوتے ہیں فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے میں چلنے والوں کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ فرمایا کہ جب یہ کفار کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور جب نجات پالیتے ہیں تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان کے دل جانتے ہیں کہ ساری کائنات اللہ نے پیدا کی ہے وہی نجات دیتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں مشقت اور مصیبتیں اٹھاتے ہیں اللہ ان کے لیے زندگی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ دیانت وامانت اختیار کرنے والا اللہ کی مدد کا مستحق ہوتا ہے۔ ان سے اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اہل ایمان کے لیے بڑی خوش خبری اور بشارت ہے۔
الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader
الۗمّۗ
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔
وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader
حالانکہ ہم ان کو بھی آزماچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو کر گذرے ہیں۔ اور البتہ اللہ ان کو جان لے گا جو سچے ہیں اور وہ ان کو بھی کھول کر رکھ دے گا جو جھوٹے ہیں۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader
کیا ان لوگوں نے جو برائیاں (گناہ) کرتے رہتے ہیں یہ سمجھ لیا ہے کہ کہیں وہ ہم سے نکل بھاگیں گے (آگے بڑھ جائیں گے) ۔ جو کررہے ہیں وہ ایک برا فیصلہ ہے۔
مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader
پھر جو لوگ اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں تو بیشک اللہ کی ملاقات کی مدت مقرر ہے۔ وہ سنتا اور جانتا ہے۔
وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader
جو شخص جدوجہد کرتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے لئے ہے۔ بیشک اللہ تو تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے بھلے کام کئے تو ہم ان کے گناہ ضرور دور کردیں گے اور جو کچھ وہ کرتے تھے ان کو اس سے زیادہ بہتر بدلہ عطا کریں گے۔
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader
اور ہم نے انسان کو والدین سے حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اور اگر وہ اس بات کی کوشش کریں کہ تو کسی کو میرا شریک بنالے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کا کہنا مت مان۔ تم سب کو میری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔ پھر میں تمہیں ضرور بتائوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو میں انہیں ضرور نیک بندوں میں شامل کروں گا۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader
اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب اللہ کی راہ میں ستائے گئے تو انہوں نے لوگوں کے ستانے کو ایساسمجھ لیا جیسے اللہ کا عذاب ہے۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو اس وقت وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ کیا اللہ کو معلوم نہیں ہے کہ جو کچھ دنیا جہاں کے لوگوں کے دلوں میں ہے۔
وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader
اور یقیناً اللہ ان لوگوں کو معلوم کرلے گا جو ایمان لائے۔ اور البتہ وہ ضرور معلوم کرلے گا منافقوں کو۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader
اور کافروں نے ایمان والوں سے کہا کہ ہمارے راستے پر چلو۔ ہم تمہارے (گناہوں کا) بوجھ اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہ اٹھانے والے نہیں ہیں۔ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader
حالانکہ وہ خود اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کے نجانے کتنے بوجھ اٹھائیں گے۔ اور قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑتے تھے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader
اور البتہ تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ پھر وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار ( ساڑھے نو سو) سال تک رہے۔ پھر انہیں (قوم نوح کو) ایک طوفان نے آپکڑا اور وہ ظالم (گناہ گار) تھے۔
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader
پھر ہم نے ان کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور جہاز کو دنیا والوں کے لئے ایک نشانی بنا دیا۔
وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader
اور اسی طرح جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور اسی سے ڈرو۔ اگر تم جانتے ہو تو اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے۔
اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader
تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہو حالانکہ تم ان کو خود ( اپنے ہاتھوں سے) گھڑتے ہو۔ بیشک تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن دوسروں کی عبادت کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں۔ تم اللہ کے پاس سے رزق تلاش کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اسی کا شکرادا کرو اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔
وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader
اور اگر تمہیں جھٹلایا گیا تو بہت سے ان گروہوں نے جو تم سے پہلے گذرچکے ہیں وہ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ رسول کے ذمے سوائے کھول کھول کر پہنچانے کے اور کچھ ذمہ داری نہیں ہے۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ پیدائش کی ابتدا کیسے کرتا ہے اور پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت آسان ہے۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ تم زمین میں چلو پھرو اور پھرو دیکھو کہ اس نے پیدائش کی ابتداء کیسے کی پھر اللہ دوبارہ ان کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader
جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم و کرم کرتا ہے۔ تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader
نہ تم اس کو زمین میں عاجزو بےبس کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں۔ اور اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہے۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader
اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات اور اس کے ملنے سے انکار کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو میری رحمت سے ناامید ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader
پھر (ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم) کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے اس کو قتل کرڈالو یا اس کو جلاڈالو۔ پھر اللہ نے ان کو آگ سے بچا لیا۔ بیشک اس میں یقین رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader
اور (ابراہیم نے) کہا کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کو (اپنا معبود) بنارکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں تمہاری آپس کی محبت قائم رہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرائو گے۔ اور تم میں سے ایک دوسرے کو لعنت کرے گا۔ اور تمہار ٹھکانا جہنم ہوگا اور تمہارے لئے کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader
اور (ابراہیم نے ) کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرکے چلا جائوں گا۔ بیشک وہی زبر دست اور حکمت والا ہے۔
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader
اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (جیسی اولاد) عطا فرمائی۔ اور ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب (بھیجنے کو) قائم رکھا ہے۔ اور ہم نے ان کو ( ان کی خدمات کا ) صلہ دنیا میں دیا ہے اور بیشک وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے۔
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو (نبی بنا کر) بھیجا۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسے بےحیائی کے کام کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا میں کسی نے نہیں کئے۔
اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader
کیا تم مردوں پر لپکتے ہو اور تم ڈاکہ ڈالتے ہو اور تم بھری محفلوں میں بےہودہ کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا وہ کہتے ہمارے اوپر عذاب لے آئو۔ اگر تم سچے لوگوں میں سے ہو
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader
(لوط (علیہ السلام) نے ) کہا میرے پروردگار اس فسادی قوم پر میری مدد فرما۔
وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ( حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی) خوش خبری لے کر آئے اور کہا ہم اس (قوم لوط (علیہ السلام) ) کی بستی کو ہلاک کرنے بھی آئے ہیں کیونکہ اس بستی کے رہنے والے ظالم (گناہ گار) ہیں۔
قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader
(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا وہاں تولوط (علیہ السلام) بھی رہتے ہیں ؟ (فرشتوں نے ) کہا ہم خوب جانتے ہیں اس میں کون لوگ ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے لیکن ان کی بیوی کو نہیں (بچائیں گے) کیونکہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ رنجیدہ ہوگئے اور وہ دل میں گھٹن محسوس کرنے لگے۔ (فرشتوں نے ) کہا تم خوف نہ کرو اور نہ رنجیدہ ہو۔ بیشک ہم آپ کو بچا لیں گے اور آپ کے گھر والوں کو بھی سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader
ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔
وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader
اور ہم اس بستی کے کچھ نشانات باقی رہنے دیں گے تاکہ وہ لوگ جو عقل و فہم رکھتے ہیں اس سے عبرت حاصل کریں۔
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader
اور مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ پھر انہوں نے کہا اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اور قیامت کے دن سے ڈرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader
پھر انہوں نے (شعیب (علیہ السلام) کو) جھٹلایا تو انہیں ایک زلزلے نے آپکڑا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader
اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (اسی طرح) ہلاک کیا۔ اور ان کا ہلاک ہونا ان کے گھروں سے ظاہر ہے۔ اور شیطان نے ان کے کاموں کو ان کی نظر میں خوبصورت بنا کر رکھ دیا تھا اور ان کو سچائی کے راستے سے روک دیا تھا۔ ویسے نہایت ہوشیار تھے۔
وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader
اور قارون، فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کیا) جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے زمین میں تکبرو سر کشی اخیتار کی اور وہ (ہم سے) جیت جانے والے نہ تھے۔
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader
پھر ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا دی۔ پس کوئی تو ان میں سے وہ تھے جن پر ہم نے تیز آندھی کا طوفان بھیجا۔ ان میں سے بعضوں کو ہیبت ناک آواز نے آدبایا۔ اور بعض وہ تھے جن کو زمین میں دھنسا دیا۔ اور بعض وہ تھے جن کو ہم نے غرق کردیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔