Explained with ayahs 10–11
مرتد ہونے والے
ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 13
اگرچہ کہنے والا ایک شخص ہے، مگر " میں ایمان لایا " کہنے کے بجائے کہہ رہا ہے " ہم ایمان لائے " امام رازی نے اس میں ایک لطیف نکتے کی نشاندہی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ منافق اپنے آپ کو ہمیشہ زمرہ اہل ایمان میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے ایمان کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ بھی ویسا ہی مومن ہے جیسے دوسرے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بزدل اگر کسی فوج کے ساتھ گیا ہے اور اس فوج کے بہادر سپاہیوں نے لڑ کر دشمنوں کو مار بھگایا ہے، تو چاہے اس نے خود کوئی کارنامہ انجام نہ دیا ہو، مگر وہ آکر یوں کہے گا کہ ہم گئے اور ہم خوب لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست فاش دے دی، گویا آپ بھی انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
خلاصہ تفسیر
اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو راہ خدا میں کچھ تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو ایسا (عظیم) سمجھ بیٹھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب) جس سے آدمی بالکل ہی مجبور ہوجائے حالانکہ کسی مخلوق کو ایسے عذاب پر قدرت ہی نہیں اب تو ان کا یہ حال ہے) اور اگر (کبھی) کوئی مدد (مسلمانوں کی) آپ کے رب کی طرف سے آپہنچتی ہے (مثلاً جہاد ہو اور اس میں ایسے لوگ ہاتھ آجائیں) تو (اس وقت) کہتے ہیں کہ ہم تو (دین اور عقیدہ میں) تمہارے ساتھ تھے (یعنی مسلمان ہی تھے، گو کفار کے اکراہ اور زبردستی کی وجہ سے کفار کے ساتھ ہوگئے تھے، اس پر حق تعالیٰ کا ارشاد یہ…
Read the full tafseer →ومن الناس من یعقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین (10)
یہ ایمان کے مدعیوں کو ذکر فرمایا کہ یہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن جب اس راہ کی آزمائشوں سے سابقہ پیش آیا ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی اذیت سے اس طرح گھبرا اٹھے ہیں جس طرح خدا کے عذاب سے ڈرنا اور گھبرانا چاہیے۔ حالانکہ اس دنیا میں جو دکھ بھی پہنچے گا بہرحال وہ چند روزہ ہے۔ برعکس اس کے خدا جس عذاب میں پکڑنے والا ہے وہ ابدی ہے۔ اس وجہ سے حق کی خاطر اس دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت جھیل لینا بھی آسان ہے بمقابلہ اس کے کہ اس سے…
Read the full tafseer →10-1اس میں اہل نفاق یا کمزور ایمان والوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کی وجہ سے انھیں ایذاء پہنچتی ہے تو عذاب الہی کی طرح وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ نتیجتا وہ ایمان سے پھرجاتے اور دین عوام کو اختیار کرلیتے ہیں۔
10-2یعنی مسلمانوں کو فتح و غلبہ نصیب ہوجائے۔
10-3یعنی تمہارے دینی بھائی ہیں، یہ وہی مضمون ہے جو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں، اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملتی ہی، تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ اور اگر حالات کافروں کے لیے کچھ سازگار ہوتے ہیں تو کافروں سے جا کر کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو گھیر نہیں لیا تھا۔ اور مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
4: یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب جتنا سنگین ہے یہ لوگ انسانوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو بھی اتنا ہی سنگین سمجھتے ہیں، اور اس کی وجہ سے کفار کی بات مان کر واپس کفر کی طرف چلے جاتے ہیں، اور یہ بات منافقت کے طور پر مسلمان سے چھپاتے ہیں۔
5: یعنی جب مسلمانوں کو فتح ہوگی، اور فتح کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے تو یہ لوگ مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہم تو دل سے تمہارے ساتھ تھے، اس لیے ہم سے کافروں جیسا معاملہ کرنے کے بجائے ہمیں اس فتح کے نتائج میں شریک کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اب ، مشکلات راہ ایمان ہی کے حوالے سے ایک دوسرا کردار ، کہ جب مشکلات آتی ہیں تو چیختا چلاتا ہے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کامیابی اور فتوحات آتی ہیں تو پھر لمبے جوڑے دعوے کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ چند کلمات میں اس کردار کو بھی نمایاں فرماتا ہے ، یوں کہ ایک واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔
ومن الناس من یقول ۔۔۔۔۔۔ ولیعلمن المنفقین (10 – 11)
لوگوں میں ایسے کردار عام ہیں ، ایسے لوگ لفظ ایمان کو ایک معمولی بات سمجھ کر اقرار کرتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا ہے ۔ اس کے کچھ تقاضے نہیں۔ لیکن جب اللہ کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، اور یہ آزمائش اس کلمے کی وجہ سے آتی ہیں…
Read the full tafseer →9 یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو زبان سے اپنے کو مومن کہتے تھے۔ مگر دلوں میں ایمان راسخ نہیں تھا۔ ان کو جہاں اللہ کے راستہ میں کوئی تکلیف پہنچی یا دین کی وجہ سے لوگوں نے ستایا تو آزمائش کو خدائی عذاب سمجھنے لگے۔ جس طرح آدمی عذاب الٰہی سے گھبرا کر جان بچانا چاہتا اور اپنے پہلے دعو وں سے دستبردار ہونے لگتا ہے اور ناچار اعتراف کرتا ہے کہ میں غلطی پر تھا، یہ ہی حال ان ضعفاء القلوب کا ہے۔ جہاں دین کے معاملہ میں کوئی سختی پہنچی بس گھبرا کر دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونا شروع کردیا اور زبان سے یا عمل سے گویا اقرار کرنے لگے کہ ہم اس دعوے میں غلطی پر تھے یا ایسا دعویٰ کیا ہی نہ تھا۔
1 یعنی اگر مسلمان کی کوئی…
Read the full tafseer →آیت 10 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَاب اللّٰہِ ط ”
یعنی لوگوں کی طرف سے ڈالی گئی آزمائش سے ایسے گھبرا جاتے ہیں جیسے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگیا ہو۔ یہاں یہ نکتہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب اسلام میں منافقت کا شائبہ تک نہ تھا ‘ بلکہ یہ وہ وقت تھا جب کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے ہر شخص پر عرصۂ حیات تنگ کردیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا تھا اس کے ایمان میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمّ ہے کہ سب لوگوں کی طبیعتیں ایک جیسی…
Read the full tafseer →15 یعنی وہ ہوتا تو کمزور ایمان والا ہے مگر اپنے آپ کو راسخ العقیدہ مسلمانوں میں شامل سمجھتا ہے۔ اور انہی کی طرح اپنے ایمان کا اقرار اور دعویٰ کرتا ہے۔
16 اسلام لانے والوں کا بھی اسلام لانے کے ساتھ ہی امتحان شروع ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کو کفار کی جانب سے طرح طرح کے دکھ اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ یہ دراصل حق و باطل کی سرد جنگ ہوتی ہے۔ اور ابتداء چونکہ حق کمزور اور باطل اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو کئی طرح کی مشکلات اور پریشانیاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ کمزور ایمان والے اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے اور اسے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اپنے دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونے لگتے ہیں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10۔ (اور اس بشری گزند رسانی کے خوف سے نہ صرف زبان سے باطل کا کلمہ پڑھنے لگتے ہیں بلکہ دل تک کو انہیں عقائد باطلہ کے موافق بنالیتے ہیں) (آیت) ” فی اللہ ]‘۔ فی سببیہ ہے۔ یعنی اللہ کی خاطر۔ اللہ کی سبب سے۔ یا اللہ کی راہ میں۔ اے لاجلہ عزوجل علی ان فی للسببیۃ اوالمراد فی سبیل اللہ (روح)
11۔ مثلا جہاد ہوا۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور یہ لوگ بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے۔
12۔ (دین و عقیدہ میں دل سے) یعنی جب مسلمانوں کے بس میں آجاتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو مسلمان شروع ہی سے تھے۔ کافروں کے ساتھ محض مجبوریوں اور مصلحتوں سے ہوگئے تھے۔
13۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول کو رد کرکے فرماتا ہے کہ عالم الغیوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذآ اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ . اور بعض
لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ان کو کچھ دکھ پہنچتا ہے تو آدمیوں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ کو وہ اللہ کے عذاب کی طرح قرار دیتے ہیں۔
یہ منافقوں کی حالت بیان کی گئی ہے۔ فِی اللہ اللہ کی راہ میں یعنی مسلمان ہونے کی بنیاد پر جو دکھ ان کو کافروں کی طرف سے پہنچتا ہے۔ کَعَذَابِ اللہ یعنی آخرت کے عذاب کی طرح۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر نہیں رکھتے اور بےتاب ہو کر کافروں کا کہا مان لیتے ہیں اور اسلام چھوڑ دیتے ہیں جس طرح کہ مسلمان اللہ کے عذاب آخرت کے خوف…
Read the full tafseer →(10) اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں یعنی عیاش ابن ابی ربیعہ جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی اس تکلیف کو ایسا سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ کا دوزخ میں ہمیشہ کے لیے عذاب نازل ہوگیا ہو اور پھر ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔
اور اگر مکہ مکرمہ فتح ہونے لگتا ہے تو اس وقت یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم دین میں تمہارے ساتھ ہیں کیا للہ تعالیٰ کو دنیا جہاں والوں کے دلوں کا حال معلوم نہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ومن الناس من یقول امنا“۔ (الخ)
اس آیت کا شان نزول سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰهِ۔۔ : یہ وہ لوگ ہیں جو مکہ میں مسلمان ہوگئے، مگر مشرکین کے ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ ان کی دی ہوئی ایذا پر صبر نہیں کرسکتے تھے، جب انھیں ایذا دی جاتی تو دل سے شرک کی طرف پلٹ جاتے، مگر مسلمانوں سے یہ بات چھپاتے اور ان کے ساتھ رہتے۔ یہ لوگ منافق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہجرت سے پہلے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ ضحاک اور جابر بن زید کا قول ہے۔ (ابن عاشور) فرمایا، لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں ایمان لایا، پھر جب اسے اللہ کے بارے میں ایذا اور سزا دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی سزا اور ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے، حالانکہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اس سے مراد ہمارا دین ہے۔ امر کی وجہ سے فعل مضارع کو جزم دی گئی۔ فراء اور زجاج نے کہا : یہ شرط و جزا کی تاویل میں امر ہے۔ مراد اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھا لیں گے۔ جس طرح شاعر نے کہا :
میں نے کہا : اگر تو بلائے تو میں بھی بلائوں گا بیشک زیادہ اونچی آواز اس وقت ہوتی ہے جب دو بلانے والی دعوت دیں۔ شعر میں ادعی و ادع شرط و جزا کی صورت میں ہیں ان دعوت دعوتُ
مہدوی نے کہا : انھم لکذبون کا اس کے بعد وقوع معنی پر حمل کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ معنی ہے اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھائیں گے۔ جب صیغہ امر معنی میں خبر کی طرف راجع ہوتا ہے تو اس پر تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ سے لے کر آیت ولیعلمن المفقین تک سے مراد ہے کہ کچھ لوگ ایمان لاتے ہیں اپنی زبانوں کے ساتھ جب ان کو کوئی مصیبت لوگوں نے کی طرف سے پہنچتی ہے یا کوئی مصیبت ان کو اپنی جانوں میں یا اپنے مالوں میں پہنچتی ہے تو فتنہ میں مبتلا ہوجاتے اور یہ دنیا میں اس پہنچنے والی تکلیف کو ان کے لیے ایسا بنا دیا گیا جیسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ سے مراد ہے کہ کچھ مومن تھے جو…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو ] يَّقُوْلُ [کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [اللہ پر ] فَاِذَآ [پھر جب ] اُوْذِيَ [ان کو اذیت دی جاتی ہے ] فِي اللّٰهِ [اللہ (کی راہ) میں ] جَعَلَ [تو بناتے ہیں ] فِتْنَةَ النَّاسِ [لوگوں کی آزمائش کو ] كَعَذَابِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے عذاب کی مانند ] وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] جَاۗءَ [آئے گی ] نَصْرٌ [کوئی نصرت ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ (کی طرف) سے ] لَيَقُوْلُنَّ [تو یہ لوگ لازما کہیں گے ] اِنَّا كُنَّا [بیشک ہم تھے ] مَعَكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ] اَوَلَيْسَ اللّٰهُ [اور کیا اللہ نہیں ہے ] بِاَعْلَمَ [خوب جاننے والا ] بِمَا [اس کو جو ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
مدعیان ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے
صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ بعض مسلمان تھے وہ زبان سے تو اسلام کا اظہار کردیتے تھے پھر جب کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچ جاتی تھی تو ان کے موافق ہوجاتے تھے اور اس موافقت کو مسلمانوں سے چھپاتے تھے۔ اور قتادہ سے یہ نقل کیا ہے کہ بعض لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے پھر مشرکین مکہ انہیں واپس لے گئے۔ دنیا داری حقیقت میں کمزوری کا سبب ہے، اگر آخرت کا یقین پختہ ہو اور آخرت کی ضرورت سمجھ کر ایمان قبول کیا ہو تو منافقت کی شان ختم ہوجاتی ہے، اگر کافروں میں پھنس کر کوئی مومن بندہ مجبور ہوجائے تو گو وہ بظاہر زبان سے کوئی نامناسب کلمہ کہہ دے لیکن دل سے کفر اختیار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →8:۔ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے الایۃ نزلت فی المنافقین (قرطبی ج 13 ص 339) ۔ اوذی فی اللہ الخ یعنی اللہ کی توحید کی خاطر اور اس کی راہ میں ای لاجلہ عز وجل علی ان فی للسببیۃ او المراد فی سبیل اللہ بان عذبھم المشرکون علی الایمان بہ تعالیٰ (روح ج 20 ص 139 ایمان والوں کو توحید کی وجہ سے بڑی مشکلات پیش آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ان منافقوں کی طرح کمزوری کا اظہار نہیں کرنا ہوگا جو زبان سے تو ایمان کا دعوی کرتے ہیں لیکن جب اللہ کی توحید اور اللہ کے دین کی خاطر مشرکین کی طرف سے ایذاء پہنچی تو اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر جزع فزع اور بےصبر کا اظہار کرنے لگے اور ایمان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ربط آیات
اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
والدین سے حسن سلوک
اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِيَ فِي اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللہِ 0ۭ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ 0ۭ اَوَلَيْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَ 10
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
والذین عملوا الصلحت لند خلنہم فی الصلحین پہلے کلام کی تاکید ہے کہ جو اچھے کام کرے گا ہم اس کو صالحین کے زمرہ میں داخل کردیں گے۔ وہ کہ جن کے لیے کون و فساد نہیں۔ اس میں علویات بھی آگئے۔ یہ حکماء کا قول ہے۔ پھر اسی پہلی بات کی طرف دوسرے عنوان سے رجوع کرتا ہے۔ فقال ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ زبان سے تو کہتے ہیں۔ امنا کہ ہم ایمان لائے، مگر فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ جب اس کو اللہ کی راہ میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو اس کے ڈر سے دین سے اس طرح رک جاتا ہے کہ جس طرح اللہ کے عذاب کے ڈر سے لوگ گناہوں سے رکتے ہیں اور اس تکلیف کی وہ کچھ بھی برداشت نہیں کرتا اور…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ط وَلَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ط اَوَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِالْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 10)
(اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، لیکن جب انھیں اللہ کی راہ میں ستایا گیا تو انھوں نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے، کیا لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت مبارکہ کی ابتداء میں مومنوں کی آزمائش اور ظالموں کی گرفت کے بارے میں فرمایا۔ اب منافقوں کے کردار کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے جس کا معنٰی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں ایک منہ بند کیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آتا۔ یہی منافق کا کردار ہوتا ہے کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرتے ہوئے اسلام کی خوبیاں ذکر کرتا ہے۔ اگر اسے اسلام کے راستے میں کوئی آزمائش آئے تو وہ کفار کی طرف رخ موڑ لیتا ہے۔ منافق کی اسی کیفیت کا یہاں ذکر کیا گیا…
Read the full tafseer →10 : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَا اُوْذِیَ (اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے) ۔ فِی اللّٰہِ (جب ان کو اللہ کی راہ میں دکھ پہنچتا ہے) ۔ اس سے مراد منافقین ہیں یعنی جب ان کو کفار کی طرف سے ایذاء پہنچتی ہے۔
جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ (وہ آدمیوں کی طرف سے ملنے والی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح قرار دیتا ہے) ۔ یعنی اس تکلیف پر اسی طرح جزع فزع کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب پر کیا جاتا ہے۔ وَلَپنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ (اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →10۔ ومن الناس من یقول امنابااللہ فاذا اوذی فی اللہ، لوگوں کی طرف سے ان کو بلا اور آزمائش پہنچی ۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ، کچھ لوگوں کو دکھ کافروں کی طرف سے پہنچتا ہے اور ان کو عذاب پہنچتا ہے۔ جیسا کہ آخرت میں عذاب دیاجاتا ہے یعنی یہ لوگ کافروں کی طرف سے دیے گئے عذاب پر صبر نہیں کرتے بلکہ جزع فزع کرتے ہیں اور اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں، جس طرح کہ مسلمان اللہ کے عذاب آخرت کے خوف سے کفر و معصیت کو ترک کردیتے ہیں، یہ قول سدی اور ابن زید کا ہے یہ منافق کے بارے میں کہاجاتا ہے ، کب اسکوتھوری سی اذیت دی جاتی ہے تو وہ اسلام کو چھوڑ دیتا ہے اور کفر اختیار کرلیتا ہے۔
” ولئن جاء نصر من ربک، ، جب مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9 تا 11۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کئے ہیں اپنے نیک بندوں میں داخل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں ان کو رکھا جائے گا اس کے بعد ارشاد کیا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے اسی واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو پھر وہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں غرضیکہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہوئے تو اطمینان ہے اور اگر کچھ جانچ ہوئی تو پھرگئے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آجاوے مدد اور فتح تیرے رب کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ اس شخص کی آزمائش ہونا لازمی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے، تو یہ بھی واضح کردیا کہ لوگوں میں سے ایک گروہ محن و ابتلاء پر صبر نہیں کرسکتا بعض تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا چناچہ فرمایا (ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب ان کو اللہ (کے راستے) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ مار کر مال چھین کر اور عاردلا کر اسے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر باطل کی طرف لوٹ آئے (جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ) تو لوگوں کی تکلیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8 منافقوں اور کمزور ایمان والوں کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے اسلام و ایمان کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود جب ان کو راہ حق میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ایسے لوگ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کے برابر قرار دینے لگتے ہیں "۔ اور دنیاوی تکلیف کے مقابلے میں آخرت کے عذاب کو قبول کرلیتے ہیں حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ان تکلیفوں اور عذابوں کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ دنیاوی تکلیف و پریشانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرحال فانی اور چند روزہ ہے جبکہ آخرت کا عذاب دائمی اور بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات
تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر کفر و معصیت سے باز آجانا چاہیے۔ یہ ان کافروں اور بدعتیوں کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں سے ڈر کر ایمان اور حق بات کو چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ایمان سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ یہ حال منافقین کا ہے۔ (دیکھئے سورة حج آیت 11) 9 ۔ حالانکہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے دیکھئے۔ ( سورة نسا آیت :14) 10 ۔” جو ان کے دلوں کا حال اس پر پوشیدہ رہے “ ؟
Read the full tafseer →(29:10) اوذی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ ستایا گیا۔ اسے ایذا دی گئی۔ ایذاء (افعال) مصدر اذی یؤذی۔ اذی مادہ۔
فی اللہ : لاجل عزوجل اللہ تعالیٰ کی وجہ سے۔ او فی سبیل اللہ۔ اللہ کے راستہ میں ۔
جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ۔ (تو) اس نے لوگوں کی آزمائش کو۔ لوگوں کی ایذاء رسانی کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھا۔ یعنی اس نے دونوں کو ایک سی حیثیت دیدی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 :
وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 :
کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کیے ہیں اپنے بندوں میں شامل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں اور ان کو رکھاجائے گا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ، ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اس واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو پھر یہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ، غرض کہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہو تو اطمینان ہے اور اگر جانچ ہوئی تو پھرگئے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر کبھی کوئی مدد اور فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[4] یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو زبان سے تو اپنے کو مومن کہتے تھے لیکن دلوں میں ایمان راسخ نہ تھا۔ ان کو جہاں اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچی یا ایمان لانے کی وجہ سے کفار نے ستایا تو اس آزمائش کو عذاب الٰہی کی طرح سمجھنے لگے۔ جس طرح آدمی عذاب الٰہی سے گھبرا کر جان بچانا چاہتا ہے اور اپنے پہلے دعوؤں سے دستبردار ہونے لگتا ہے اور ناچار اعتراف کرتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جہاں دین کے معاملے میں کوئی سختی پہنچی بس گھبرا کر دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونا شروع کردیا اور زبان یا عمل سے اقرار کرنے لگے کہ ہم اس دعوے میں غلطی پر تھے یا ایسا دعویٰ کیا ہی نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 1: اس آیت میں منافقین کا ذکر ہے ۔ کہ زبان سے تو ایمان کا دعویٰ ہے ۔ مگر جب مصائب و تکالیف کا سامنا ہوتا تو گھبراٹھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ بھی اللہ کا عذاب ہے ۔ اور جب یسر اور آسانی کے لمحات میسر ہوتے ہیں ۔ اس وقت پھر جذبہ ایمان ان میں عود کر آتا ہے ۔
حل لغات :۔ فتنۃ الناس ۔ لوگوں کی ایذا دہی کو صدور ۔ صدر کی جمع ہے بمعنی سینہ
Read the full tafseer →10۔ اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ان کو کافروں کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی اس ایذا رسانی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اگر کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے آجائے تو یہی لوگ یوں کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو دین میں تمہارے تھے کیا یہ بات نہیں ہے کہ اہل علم کے سینوں میں جو باتیں مخفی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کچھ ضعیف الایمان لوگ ایسے ہیں جو زبان سے تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کافروں کی ایذا رسانی کو ایسی اہمیت دیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا عذاب یعنی جس طرح اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 3۔ مقصود درد سے یہ نہیں کہ ان کا اسلام اب مقبول نہیں، بلکہ استمرار علی الاسلام فی الماضی کے دعوے میں تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →بعض لوگوں کا ایمان بھی بڑا ہی عجیب ایمان ہوتا ہے :
10۔ بلاشبہ ایمان لانے والوں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اسلام سے باہر بیٹھ کر جب وہ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو دیکھتے ہیں تو متاثر ہو کر ایمان لے آتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے دیکھا تھا کہ یہ راہ تو بہت ہموار راہ ہے اور ادھر کوئی نشیب و فراز نہیں اس لئے بغیر کسی زحمت کے گوارا کئے وہ منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور ایمان لے آئے لیکن انکی توقعات کے بالکل خلاف جب مصائب وآلام کے بادل گھر کر آجاتے ہیں تو اس وقت وہ اپنے بچاؤ کی خطر اسلام سے منحرف ہوجاتے ہیں ان کے متعلق زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ بلاشبہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(1)-It means that such people join the infidels when they apprehend some kind of torture from them, but when Allah's help will come to the Muslims in a battle against the infidels, they will pretend to be Muslims on the plea that they had joined the infidels only because they feared to be persecuted by them.
(2)-The sense is that they did not believe in Islam with their hearts, and this fact cannot: be concealed from Him, because He knows whatever lies in the hearts of the people.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
13 Though the speaker is a single person, he uses the plural pronoun and says, "We have believed," Imam Razi has pointed out a subtle point in it. He says that the hypocrite always tries to be counted among the believers and mentions his faith as though he is also a true believe like others. His case is like that of a cowardly soldier who accompanies an army to the battlefield where the soldiers have fought well and put the enemyto rout. This cowardly person might have made no contribution at all, but when he returns home, he will say, "We put up a good fight and routed the enemy", as if he…
Read the full tafseer →