29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے7

7 یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرنا کچھ سہل نہیں جو دعویٰ کرے امتحان و ابتلاء کے لیے تیار ہوجائے یہ ہی کسوٹی ہے جس پر کھرا کھوٹا کسا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ سب سے سخت امتحان انبیاء کا ہے، ان کے بعد صالحین کا، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کا جو ان کے ساتھ مشابہت رکھے ہوں۔ نیز امتحان آدمی کا اس کی دینی حیثیت کے موافق ہوتا ہے۔ جس قدر کوئی شخص دین میں مضبوط اور سخت ہوگا اسی قدر امتحان میں سختی کی جائے گی۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے8 سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو9

8 یعنی پہلے نبیوں کے متبعین بڑے بڑے سخت امتحانوں میں ڈالے جا چکے ہیں۔ بخاری میں ہے کہ صحابہ ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں فریاد کی کہ حضرت ! ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجئے اور دعاء فرمائیے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر سختی اور ظلم و ستم کی انتہاء کر رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک (زندہ) آدمی کو زمین کھود کر (کھڑا) گاڑ دیا جاتا تھا۔ پھر اس کے سر پر آرہ چلا کر بیچ سے دو ٹکڑے کردیتے تھے، بعضوں کے بدن میں لوہے کہ کنگھیاں پھرا کر چمڑا اور گوشت ادھیڑ دیا جاتا تھا۔ تاہم یہ سختیاں ان کو دین سے نہ ہٹا سکیں۔ 9 یعنی اللہ تعالیٰ اعلانیہ ظاہر کر دے گا اور دیکھ لے گا کہ دعوائے ایمان میں کون سچا نکلتا ہے اور کون جھوٹا، اسی کے موافق ہر ایک کو جزا دی جائے گی۔ (تنبیہ) " فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہ الخ " سے جو حدوث علم باری کا وہم ہوتا ہے اس کا نہایت محققانہ جواب مترجم علام قدس سرہ نے دیا ہے۔ ملاحظہ کیا جائے پارہ دوم رکوع اول (اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ) 2 ۔ البقرۃ :143) کے تحت میں۔ ہم نے یہاں ان توجیہات کی طرف اشارہ کردیا ہے جو مفسرین نے لکھی ہیں۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں جو لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں کہ ہم سے بچ جائیں بری بات طے کرتے ہیں1

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت ان کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔ " (موضح) یعنی مومنین کے امتحانات کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ ہم مزے سے ظلم کرتے رہیں گے اور سختیوں سے بچے رہیں گے۔ وہ ہم سے بچ کر کہاں جاسکتے ہیں۔ جو سخت ترین سزا ان کو ملنے والی ہے اس کے سامنے مسلمانوں کے امتحان کی سختی کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔ اگر اس وقت کی عارضی مہلت سے انہوں نے یہ رائے قائم کرلی ہے کہ ہم ہمیشہ مامون رہیں گے اور سزا دہی کے وقت خدا کے ہاتھ نہ آئیں گے تو حقیقت میں بہت ہی بری بات طے کی ایسا احمقانہ فیصلہ آنے والی مصیبت کو روک نہیں سکتا۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی توقع رکھتا ہے اللہ کی ملاقات کی سو اللہ کا وعدہ آ رہا ہے اور وہ ہے سننے والا جاننے والاف 2

2 یعنی جو شخص اس توقع پر سختیاں اٹھا رہا ہے کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں بات بات پر پکڑ ہوگی۔ ناکامیاب ہوا تو یہاں کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر سختیاں جھیلنی پڑیں گی اور کامیاب رہا تو ساری کلفتیں ڈھل جائیں گی اللہ کی خوشنودی اور اس کا دیدار نصیب ہوگا۔ ایسا شخص یاد رکھے کہ اللہ کا وعدہ آرہا ہے، کوئی طاقت اسے پھیر نہیں سکتی۔ اس کی اعلیٰ توقعات پوری ہو کر رہیں گی اور اس کی آنکھیں ضرور ٹھنڈی کی جائیں گی۔ اللہ سب کی باتیں سنتا اور جانتا ہے کسی کی محنت رائگاں نہ کرے گا۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی محنت اٹھائے سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے اللہ کو پروا نہیں جہان والوں کی3

3 یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کی اطاعت سے کیا نفع اور معصیت سے کیا نقصان۔ وہ تو کلی طور پر بےنیاز ہے۔ ہاں بندہ اپنے پروردگار کی طاعت میں جس قدر محنت اٹھائے گا اس کا پھل دنیا و آخرت میں اسی کو ملے گا، پس مجاہدے کرنے والے یہ خیال کبھی نہ آنے دیں کہ ہم خدا کے راستہ میں اتنی محنت کر کے کچھ اس پر احسان کر رہے ہیں ؟ (العیاذ باللہ) اس کا احسان ہے کہ خود تمہارے فائدہ کے لیے طاعت و ریاضت کی توفیق بخشے۔ من نہ کردم خلق تاسودے کنم بلکہ تا بربندگاں جو دے کنم
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ہم اتار دیں گے ان پر سے برائیاں ان کی اور بدلہ دیں گے ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا4

4 یعنی جہاں سے بےپروا اور بےنیاز ہونے کے باجود اپنی رحمت و شفقت سے تمہاری محنت کو ٹھکانے لگاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوں گی۔ " (موضح القرآن)
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید کردی انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی سے رہنے کی اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک کرے میرا جس کی تجھ کو خبر نہیں5 تو ان کا کہنا مت مان6 مجھی تک پھر آنا ہے تم کو سو میں بتلا دوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے7

5 یعنی تمام کائنات میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو خدا کی شریک ہو سکے۔ پھر اس کی خبر کسی کو کہاں سے ہوئی۔ جو لوگ شرکاء ٹھہراتے ہیں محض جاہلانہ اوہام اور بےسند خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔ واقعہ کی خبر انھیں کچھ بھی نہیں۔ 6 دنیا میں ماں باپ سے زیادہ حق کسی کا نہیں۔ پر اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔ ان کی خاطر دین نہ چھوڑے۔ (موضح) حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی والدہ نے جو مشرکہ تھی بیٹے کے اسلام کی خبر سن کر عہد کیا کہ دانہ پانی کچھ نہ چکھوں گی نہ چھت کے نیچے آرام کروں گی، تاوقتیکہ سعد (معاذ اللہ) اسلام سے نہ پھرجائے چناچہ کھانا پینا ترک کردیا اور بالکل نڈھال ہوگئی۔ لوگ زبردستی منہ چیر کر کھانا پانی دیتے تھے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا اس طرح خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک ابتلاء و امتحان ہے، چاہیے کہ مومن کے پائے ثبات کو لغزش نہ ہو۔ 7 یعنی سب کو عدالت میں حاضر ہونا ہے اس وقت بتلا دیا جائے گا کہ اولاد اور والدین میں سے کس کی زیادتی اور کون حق پر تھا۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کیے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں8

8 یعنی جو اس قسم کی زبردست رکاوٹوں کے باوجود بھی ایمان اور نیکی کی راہ پر قائم رہے حق تعالیٰ ان کا حشر اپنے خاص نیک بندوں میں کرے گا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں یعنی اولاد نے اگر ناحق بات میں والدین کا کہا نہ مانا اور والدین ناحق پر قائم رہے تو اولاد کا حشر صالحین کے زمرہ میں ہوگا، ان والدین کے زمرہ میں نہ ہوگا گو طبعی و نسبی تعلقات کی بناء پر وہ اس سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ معلوم ہوا " اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ " میں حب دینی مراد ہے، حب طبعی مراد نہیں۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور ایک وہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اللہ پر پھر جب اس کو ایذاء پہنچے اللہ کی راہ میں کرنے لگے لوگوں کے ستانے کو برابر اللہ کے عذاب کی9 اور اگر آپہنچے مدد تیرے رب کی طرف سے تو کہنے لگیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں1 کیا یہ نہیں کہ اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ سینوں میں ہے جہان والوں کے2

9 یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو زبان سے اپنے کو مومن کہتے تھے۔ مگر دلوں میں ایمان راسخ نہیں تھا۔ ان کو جہاں اللہ کے راستہ میں کوئی تکلیف پہنچی یا دین کی وجہ سے لوگوں نے ستایا تو آزمائش کو خدائی عذاب سمجھنے لگے۔ جس طرح آدمی عذاب الٰہی سے گھبرا کر جان بچانا چاہتا اور اپنے پہلے دعو وں سے دستبردار ہونے لگتا ہے اور ناچار اعتراف کرتا ہے کہ میں غلطی پر تھا، یہ ہی حال ان ضعفاء القلوب کا ہے۔ جہاں دین کے معاملہ میں کوئی سختی پہنچی بس گھبرا کر دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونا شروع کردیا اور زبان سے یا عمل سے گویا اقرار کرنے لگے کہ ہم اس دعوے میں غلطی پر تھے یا ایسا دعویٰ کیا ہی نہ تھا۔ 1 یعنی اگر مسلمان کی کوئی کامیابی اور عروج دیکھیں تو باتیں بنانے لگیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے اور اب بھی تمہارے اسلامی بھائی ہیں۔ خصوصاً اگر مسلمانوں کو فتح ہو اور فرض کیجیے یہ لوگ کفار کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے ہاتھ میں قید ہوجائیں، پھر تو نفاق و تملق کی کوئی حد نہ رہے۔ 2 یعنی جیسے کچھ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اللہ کو سب معلوم ہے۔ کیا زبانی دعوے کر کے اللہ سے اپنے دلوں کا حال چھپا سکتے ہیں ؟
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جو لوگ دغا باز ہیں3

3 یعنی معلوم تو اسے پہلے ہی سے سب کچھ ہے لیکن اب تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ لے گا کہ کون اپنے کو سچا مومن ثابت کرتا ہے اور کون جھوٹا دغا باز منافق ہے (تنبیہ) اس قسم کے مواضع میں " لَیَعْلَمَنْ اللّٰہُ " کے معنی " لَیُرِیَنَّ اللّٰہُ " کے لینا ابن عباس سے منقول ہے کہ کما فی تفسیر ابن کثیر۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھا لیں تمہارے گناہ4 اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے ان کے گناہ بیشک وہ جھوٹے ہیں

4 یعنی مسلمان کو چاہیے ایمان پر مضبوط رہے، نہ کوئی تکلیف و ایذاء دہی اس کو طریق استقامت سے ہٹا سکے اور نہ کفار کی احمقانہ استمالت سے متاثر ہو، مثلاً کفار مسلمانوں سے کہے ہیں کہ تم اسلام چھوڑ کر اپنی برادری میں آملو اور ہماری راہ پر چلو، تمام تکلیفوں اور ایذاؤں سے بچ جاؤ گے مفت میں کیوں مصیبتیں جھیل رہے ہو۔ اور اگر ایسا کرنے میں گناہ سمجھتے اور مؤاخذہ کا اندیشہ رکھتے ہو تو خدا کے ہاں بھی ہمارا نام لے دینا کہ انہوں نے ہم کو یہ مشورہ دیا تھا۔ اگر ایسی صورت پیش آئی تو ساری ذمہ داری ہم اٹھا لیں گے، اور تمہارے گناہ کا بوجھ اپنے سر رکھ لیں گے کما قال الشاعر۔ ع تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور البتہ اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے5 اور البتہ ان سے پوچھ ہوگی قیامت کے دن جو باتیں کہ جھوٹ بناتے تھے6

5 یعنی جھوٹے ہیں، تمہارا بوجھ رتی برابر بھی ہلکا نہیں کرسکتے۔ ہاں اپنا بوجھ بھاری کر رہے ہیں۔ ایک تو ان کے ذاتی گناہوں کا بار تھا، اب دوسروں کے اغواء واضلال کے بار نے اس میں مذید اضافہ کردیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " کوئی چاہے کہ رفاقت کر کے کسی کے گناہ اپنے اوپر لے لے، یہ نہیں ہوگا۔ مگر جس کو گمراہ کیا اور اس کے بہکائے سے اس نے گناہ کیا، وہ گناہ اس پر بھی اور اس پر بھی۔ " (موضح) جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں تو جو کوئی کسی کو (ناحق) قتل کرے، اس کے گناہ کا حصہ آدم کے پہلے بیٹے (قابیل) کو پہنچتا ہے جس نے اول یہ بری راہ نکالی۔ 6 یعنی جو جھوٹی باتیں بناتے ہیں کہ ہم تمہارا بوجھ اٹھا لیں گے، یہ خود مستقل گناہ ہے جس پر ماخوذ ہوں گے۔ آگے چند قصص کے ضمن میں متنبہ کیا گیا ہے کہ سچوں کے مقابلہ میں ہمیشہ سے جھوٹے اغواء اور شرارت کرتے رہیں اور سچوں کو مدتوں تک امتحان و ابتلاء کے دور میں سے گزرنا پڑا ہے۔ مگر آخری نتیجہ انہی کے حق میں بہتر ہوا، منکر اور شریر لوگ خائب و خاسر رہے سچے کامیاب و سربلند ہوئے۔ اشقیاء کے تمام مکائد تار عنکبوت سے زیادہ ثابت نہ ہوئے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کے پاس پھر رہا ان میں ہزار برس پچاس برس کم7 پھر پکڑا ان کو طوفان نے اور وہ گناہ گار تھے8

7 ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت نوح چالس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے۔ ساڑھے نو سو برس دعوت و تبلیغ اور سعی و اصلاح میں مصروف رہے۔ پھر طوفان آیا، طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے اس طرح کل عمر ایک ہزار پچاس سال ہوئی۔ 8 یعنی جب گناہوں اور شرارتوں سے باز نہ آئے تو طوفان نے سب کو گھیر لیا۔ بجز چند نفوس کے سب ہلاک ہوگئے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جہاز والوں کو9 اور رکھا ہم نے جہاز کو نشانی جہان والوں کے واسطے10

9 یعنی جو آدمی یا جانور جہاز پر سوار تھے ان کو نوح (علیہ السلام) کی معیت میں ہم نے محفوظ رکھا۔ سورة " ہود " میں یہ قصہ مفصل گزر چکا۔ 10 کہتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا جہاز مدت دراز تک " جودی " پر لگا رہا تاکہ دیکھنے والوں کے لیے عبرت ہو اور اب جو جہاز اور کشتیاں موجود ہیں یہ بھی ایک نشانی ہے جسے دیکھ کر سفینہ نوح کی یاد تازہ ہوتی اور قدرت الٰہی کا نمونہ نظر آتا ہے۔ یا شاید یہ مراد ہو کہ کشتی کے اس قصہ کو ہم نے ہمیشہ کے لیے عبرت بنادیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس وقت یہ سورت اتری ہے حضرت کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے جب حضرت ﷺ مدینہ ہجرت کر آئے تب وہ جہاز والے صحابہ بھی سلامتی سے آملے۔ " (موضح بتغییر یسیر) گویا نوح و سفینہ نوح کی تاریخ اس رنگ میں دہرائی گئی۔
Ayahs 29:16–17

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو بندگی کرو اللہ کی اور ڈرتے رہو اس سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

یہی بتوں کے تھان اور بناتے ہو جھوٹی باتیں1 بیشک جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے وہ مالک نہیں تمہاری روزی کے سو تم ڈھونڈو اللہ کے یہاں روزی اور اس کی بندگی کرو اور اس کا حق مانو اسی کی طرف پھر جاؤ گے2

1 یعنی جھوٹے عقیدے تراشتے ہو اور جھوٹے خیالات و اوہام کی پیروی کرتے ہو، چناچہ اپنے ہاتھوں سے یہ بت بنا کر کھڑے کرلیے ہیں۔ جنہیں جھوٹ موٹ خدا کہنے لگے۔ 2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے۔ سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا روزی کوئی نہیں دیتا وہ ہی دیتا ہے۔ اپنی خوشی کے موافق۔ " لہٰذا اس کے شکر گزار بنو اور اسی کی بندگی کرو۔ وہیں تم کو لوٹ کر جانا ہے، آخر اس وقت کیا منہ دکھاؤ گے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

تم تو پوجتے ہو اللہ کے سوائے اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو جھٹلا چکے ہیں بہت فرقے تم سے پہلے اور رسول کا ذمہ تو بس یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر3

3 یعنی جھٹلانے سے میرا کچھ نہیں بگڑتا، میں صاف صاف تبلیغ و نصیحت کر کے اپنا فرض ادا کرچکا، بھلا برا سمجھا چکا، نہ مانو گے نقصان اٹھاؤ گے جیسے " عاد " و " ثمود " وغیرہ تم سے پہلے اٹھا چکے ہیں۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں کیونکر شروع کرتا ہے اللہ پیدائش کو پھر اس کو دہرائے گا4 یہ اللہ پر آسان ہے5

4 یعنی خود اپنی ذات میں غور کرو، پہلے تم کچھ نہ تھے، اللہ نے تم کو پیدا کیا اسی طرح مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " شروع تو دیکھتے ہو، دوہرانا اسی سے سمجھ لو۔ " 5 یعنی اللہ کے نزدیک تو کوئی چیز بھی مشکل نہیں۔ البتہ تمہارے سمجھنے کی بات ہے کہ جس نے بدون نمونہ کے اول ایک چیز کو بنایا، نمونہ قائم ہونے کے بعد بنانا تو اور زیادہ آسان ہونا چاہیے۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

تو کہہ ملک میں پھرو پھر دیکھو کیونکر شروع کیا ہے پیدائش کو پھر اللہ اٹھائے گا پچھلا اٹھان6 بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے

6 یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو کہ کیسی کیسی مخلوق خدا نے پیدا کی ہے۔ اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کرلو۔ اس کی قدرت اب کچھ محدود نہیں ہوگئی۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

دکھ دے گا جس کو چاہے اور رحم کرے گا جس پر چاہے7 اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے

7 یعنی دوبارہ پیدا کر کے جسے اپنی حکمت کے موافق چاہے گا سزا دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل و کرم سے مہربانی فرمائے گا۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم عاجز کرنے والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ سے ورے حمایتی اور نہ مددگار8

8 یعنی جس کو اللہ تعالیٰ سزا دینا چاہے وہ نہ زمین کے سوراخوں میں گھس کر سزا سے بچ سکتا ہے نہ آسمان میں اڑ کر، کوئی بلندی یا پستی خدا کے مجرم کو پناہ نہیں دے سکتی نہ کوئی طاقت اس کی حمایت اور مدد کو پہنچ سکتی ہے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے اور اس کے ملنے سے وہ ناامید ہوئے میری رحمت سے1 اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

1 یعنی جنہوں نے اللہ کی باتوں کا انکار کردیا اور اس سے ملنے کی امید نہیں رکھی۔ (کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے قائل ہی نہ ہوئے) انھیں رحمت الٰہی کی امید کیونکر ہوسکتی ہے۔ لہذا وہ آخرت میں بھی محرم و مایوس ہی رہیں گے۔ یہ گویا (مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ ) 29 ۔ العنکبوت :5) کا عکس ہوا۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے اس کو مار ڈالو یا جلا دو2 پھر اس کو بچا دیا اللہ نے آگ سے3 اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین لاتے ہیں4

2 یعنی ابراہیم کی تمام معقول باتیں اور دلائل وبراہین سن کر جب ان کے ہم قوم جواب سے عاجز ہوئے تو قوت کے استعمال پر اتر آئے اور آپس میں مشورہ کیا کہ یا تو قتل کر کے ایک دم ان کا قصہ ہی تمام کردو اور یا آگ میں جلاؤ شاید تکلیف محسوس کر کے اپنی باتوں سے باز آجائے تو نکال لیں گے ورنہ راکھ کا ڈھیر ہو کر رہ جائے گا۔ 3 یعنی انہوں نے مشورہ کر کے آگ میں ڈال دیا، مگر حق تعالیٰ نے آگ کو گلزار بنادیا۔ جیسا کہ سورة " انبیاء " میں مفصلاً گزر چکا ہے۔ 4 یعنی اس واقعہ سے سمجھا دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کو کس طرح بچا لیتا ہے۔ اور مخالفین حق کو کس طرح خائب و خاسر کرتا ہے۔ نیز یہ معلوم ہوا کہ ہر چیز کی تاثیر اس کے حکم سے ہے۔ جب حکم نہ ہو تو آگ جیسی چیز جلا نہیں سکتی۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم بولا5 جو ٹھہرائے ہیں تم نے اللہ کے سوا بتوں کے تھان سو دوستی کر کر آپس میں دنیا کی زندگانی میں6 پھر دن قیامت کے منکر ہوجاؤ گے ایک سے ایک اور لعنت کرو گے ایک کو ایک7 اور ٹھکانا تمہارا آگ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار8

5 یعنی آگ سے نکل کر پھر نصیحت شروع کردی۔ 6 یعنی بت پرستی کو کون عقلمند جائز رکھ سکتا ہے ؟ بت پرست بھی دل میں جانتے ہیں کہ یہ نہایت مہمل حرکت ہے۔ مگر شیرازہ قومی کو جمع رکھنے کے لیے ایک مذہب ٹھہرا لیا ہے کہ اس کے نام پر تمام قوم متحد و متفق رہے اور ایک دوسرے کے دوست بنے رہیں کہ جیسا کہ آج کل ہم یورپ کی عیسائی قوموں کا حال دیکھتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بت پرستی کا شیوع و رواج اس بناء پر نہیں ہوا کہ وہ کوئی معقول چیز ہے بلکہ اندھی تقلید، قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کا دباؤ اس کا بڑا سبب ہے۔ یا یہ غرض ہو کہ بت پرستی کی اصل جڑ آپس کی محبت اور دوستی تھی۔ ایک قوم میں کچھ نیک آدمی جنہیں لوگ محبوب رکھتے تھے انتقال کر گئے۔ لوگوں نے جوش محبت میں ان کی تصویریں بناکر بطور یادگار رکھ لیں پھر تصویروں کی تعظیم کرنے لگے۔ وہی تعظیم بڑھتے بڑھتے عبادت بن گئی۔ یہ سب احتمالات آیت میں مفسرین نے بیان کئے ہیں۔ اور ممکن ہے، ، مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ ، ، سے بت پرستوں کی اپنے بتوں سے جو محبت ہے وہ مراد ہو جیسا کہ دوسری جگہ، ، انداد یحبونھم کحب اللہ، ، فرمایا۔ واللہ اعلم۔ 7 یعنی یہ سب دوستیاں اور محبتیں چند روزہ ہیں۔ قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بنو گے اور بعض بعض کو لعنت کرو گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہں، ، یعنی وہ شیطان جس کے نام کے تھان ہیں اللہ کے روبرو منکر ہوں گے کہ ہم نے نہیں کہا کہ ہم کو پوجو۔ تب یہ پوجنے والے ان کو لعنت کریں گے کہ ہماری نذر ونیاز لے کر وقت پر پھرگئے۔ (موضح) 8 جو دوزخ کی آگ سے تم کو بچالے جیسے میرے پروردگار نے تمہاری آگ سے مجھ کو بچا لیا۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پھر مان لیا اس کو لوط نے اور وہ بولا میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہ ہی ہے زبردست حکمت والاف 9

9 حضرت لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ ابراہیم کو ان کی قوم کے کسی مرد نے نہ مانا۔ البتہ لوط نے فوراً بلا توقف تصدیق کی۔ دونوں کا وطن " عراق " میں شہر بابل تھا۔ خدا کے توکل پر وطن سے نکل کھڑے ہوئے اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ (تنبیہ) " وقال اِنِّی مُہَاجِرٌ الخ " میں دونوں احتمال ہیں۔ قائل ابراہیم ہوں یا لوط علیہما السلام۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور دیا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب10 اور رکھ دی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب11 اور دیا ہم نے اس کو اس کا ثواب دنیا میں اور وہ آخرت میں البتہ نیکوں سے ہے1

10 یعنی اسحاق بیٹا اور یعقوب پوتا دیا۔ جن کی نسل " بنی اسرائیل " کہلاتی ہے۔ 11 یعنی حضرت ابراہیم کے بعد بجز ان کی اولاد کے کسی کو کتاب آسمانی اور پیغمبری نہ دی جائے گی۔ چناچہ جس قدر انبیاء ان کے بعد تشریف لائے ان ہی کی ذریت سے تھے۔ اسی لیے ان کو " ابو الانبیاء " کہا جاتا ہے۔ 1 یعنی دنیا میں حق تعالیٰ نے مال، اولاد، عزت اور ہمیشہ کا نام نیک دیا، اور ملک شام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کو بخشا۔ (کذا فی الموضح) اور آخرت میں اعلیٰ درجہ کے صالحین کی جماعت میں (جو انبیائے اولوالعزم کی جماعت ہے) شامل رکھا۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اپنی قوم کو تم آتے ہو بےحیائی کے کام پر تم سے پہلے نہیں کیا وہ کسی نے جہان میں2

2 یعنی یہ فعل شنیع تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ ہی اس کی دلیل ہے کہ فطرت انسانی اس سے نفور ہے۔ ایسے خلاف فطرت و شریعت کام کی بنیاد تم نے ڈالی۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر اور راہ مارتے ہو3 اور کرتے ہو اپنی مجلس میں برا کام4 پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے لے آ ہم پر عذاب اللہ کا اگر تو ہے سچا5

3 راہ مارنے سے مراد ممکن ہے کہ ڈاکہ زنی ہو، یہ بھی ان میں رائج ہوگئی، یا اسی بدکاری سے مسافروں کی راہ مارتے تھے کہ ڈر کے مارے اس طرف ہو کر نہ نکلیں یا " تَقْطَعُون السَّبِیْلَ " کا مطلب یہ ہو کہ فطری اور معتاد راستہ کو چھوڑ کر توالد و تناسل کا سلسلہ منقطع کر رہے تھے۔ 4 شاید یہی بدکاری اعلانیہ لوگوں کے سامنے کرتے ہوں گے۔ اس بات کی شرم بھی نہ رہی تھی یا کچھ اور ٹھٹھے اور چھیڑ اور بےشرمی کی باتیں کرتے ہوں گے۔ 5 یعنی اگر تم سچے نبی ہو اور واقعی سچ کہتے ہو کہ ہمارے یہ کام خراب اور مستوجب عذاب ہیں تو دیر کیا ہے وہ عذاب لے آئیے۔ دوسری جگہ فرمایا (وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚاِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :82) یعنی ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ بڑے پاک بننا چاہتے ہیں۔ شاید قوم میں سے بعض نے یہ بعض نے وہ جواب دیا ہوگا، یا ایک وقت میں ایک بات اور دوسرے میں دوسری کہی ہوگی۔ مثلاً اول عذاب کی دھمکیوں کا مذاق اڑایا، پھر آخری فیصلہ یہ کیا ہوگا، کہ انھیں بستی سے نکال دیا جائے بہرحال ثابت ہوگیا کہ وہ قوم نہ صرف اس فعل شنیع کی مرتکب اور بانی تھی، بلکہ اس کے جاری رکھنے پر اس قدر اصرار تھا کہ نصیحت کرنے والے پیغمبر کو اپنی بستی سے نکالنے پر تیار ہوگئے۔ ان کی فطرت اور طبائع اس قدر مسخ ہوچکی تھی کہ خوف خدا کا کوئی شائبہ دلوں میں باقی نہ رہا تھا۔ عذاب کی دھمکیوں کا مذاق اڑاتے تھے اور پیغمبر کے مقابلہ پر آمادہ تھے۔ جرم کی یہ ہی نوعیت ان کے ہلاک کرنے کے لیے کافی تھی۔ اور اگر اس کے ساتھ توحید کے بھی قائل نہ تھے تو کڑوا کریلا نیم چڑھا " سمجھئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی دعوت حضرت ابراہیم کی طرف سے مشتہر ہو کر پہنچ چکی ہوگی۔ اس لیے لوط (علیہ السلام) خاص اسی فعل شنیع سے روکنے پر مامور ہوئے۔ اور ممکن ہے انہوں نے توحید وغیرہ کی دعوت بھی دی ہو۔ مگر اس کو یہاں نقل نہیں فرمایا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

بولا اے رب میری مدد کر ان شریر لوگوں پر6

6 یہ ان کی طرف سے مایوس ہو کر فرمایا، شاید سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی درست ہونے والی نہیں۔ وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلیں گی جیسے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ (اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا) 71 ۔ نوح :27) کذا قال النیشا بوری فی تفسیرہ۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے ہم کو غارت کرنا ہے اس بستی والوں کو بیشک اس کے لوگ ہو رہے ہیں گناہ گار7

7 لوط (علیہ السلام) کی دعا پر فرشتوں کو اس بستی کے تباہ کرنے کا حکم ہوا۔ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، ان کو بڑھاپے میں بیٹے کی بشارت سنائی اور اطلاع دی کہ ہم اس بستی (سُدُوم) کو تباہ و برباد کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ کیونکہ وہاں کے لوگ کسی طرح اپنی حرکات شنیعہ سے باز نہیں آتے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة اعراف، ہود اور حجر وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ (تنبیہ) شاید ہلاکت کی خبر کے ساتھ بیٹے کی بشارت دینے کا مطلب یہ ہو کہ ایک قوم سے اگر خدا کی زمین خالی کی جانے والی ہے تو دوسری طرف حق تعالیٰ ایک عظیم الشان قوم " بنی اسرائیل " کی بنیاد ڈالنے والا ہے۔ نبہ علیہ العلامۃ النیشابوری فی تفسیرہ۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

بولا اس میں تو لوط بھی ہے8 وہ بولے ہم کو خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے ہم بچا لیں گے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہے گی رہ جانے والوں میں9

8 یعنی کیا لوط کی موجودگی میں بستی کو تباہ کیا جائے گا ؟ یا انھیں وہاں سے علیحدہ کر کے تعذیب کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ؟ غالباً حضرت ابراہیم کو ازراہ شفقت خیال آیا کہ لوط کی آنکھوں کے سامنے یہ آفت نازل ہوئی تو عجب نہیں کہ عذاب کا ہولناک منظر دیکھنے سے وحشت اور گھبراہٹ ہو، فرشتوں نے اپنے کلام میں کوئی استثناء کیا نہ تھا، اس سے ان کے ذہن میں یہ ہی شق آئی ہوگی کہ لوط کی موجودگی میں کارروائی کریں گے۔ واللہ اعلم۔ 9 یعنی فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں اور جو ان میں خدا کے مجرم ہیں۔ تنہا لوط نہیں، بلکہ اس کے گھر والوں کو بھی کوئی گزند نہ پہنچے گا۔ سب کو عذاب کے مواقع سے علیحدہ کرلیں گے صرف اس کی ایک عورت وہاں رہ جائے گی۔ کیونکہ اس پر بھی عذاب آنا ہے۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس ناخوش ہوا انکو دیکھ کر، اور تنگ ہوا دل میں1 اور وہ بولے مت ڈر اور غم نہ کھا ہم بچائیں گے تجھ کو اور تیرے گھر کو مگر عورت تیری رہ گئی رہ جانے والوں

1 فرشتے نہایت حسین وجمیل مردوں کی شکل میں وہاں پہنچے۔ حضرت لوط نے اول پہچانا نہیں۔ بہت تنگدل اور ناخوش ہوئے کہ اب ان مہمانوں کی عزت قوم کے ہاتھ سے کس طرح بچاؤں گا۔ اگر اپنے یہاں نہ ٹھہراؤں تو اخلاق و مروت اور مہمان نوازی کے خلاف ہے۔ ٹھہراتا ہوں تو اس بدکار قوم سے آبرو کس طرح محفوظ رہے گی۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم کو اتارنی ہے اس بستی والوں پر ایک آفت آسمان سے اس بات پر کہ وہ نافرمان ہو رہے تھے2

2 یعنی اپنی قوم کی شرارت سے ڈریے مت۔ یہ کچھ نہیں کرسکتی اور ہمارے بچاؤ کے لیے غمگین نہ ہو ہم آدمی نہیں، فرشتے ہیں، جو تجھ کو اور تیرے ہم مشرب گھر والوں کو بچا کر اس قوم کو غارت کرنے کے لیے آئے ہیں۔ یہ قصہ پہلے کئی جگہ گزر چکا۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور چھوڑ رکھا ہم نے اس کا نشان نظر آتا ہوا سمجھ دار لوگوں کے واسطے3

3 یعنی ان کی الٹی ہوئی بستیوں کے نشان مکہ والوں کو ملک شام کے سفر میں دکھائی دیتے ہیں۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور بھیجا مدین کے پاس ان کے بھائی شعیب کو پھر بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی اور توقع رکھو پچھلے دن کی4 اور مت پھرو زمین میں خرابی مچاتے5

4 یعنی آخرت کی طرف سے غافل نہ بنو۔ اکیلے خدائے واحد کی پرستش کرو۔ 5 خرابی مچانے سے شاید مراد ہے لین دین میں دغا بازی کرنا، سود بٹہ لگانا، جیسا کہ ان کی عادت تھی۔ اور ممکن ہے رہزنی بھی کرتے ہوں۔ وقیل غیر ذلک۔
Ayahs 29:37–38

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا تو پکڑ لیا ان کو زلزلے نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہلاک کیا عاد کو اور ثمود کو اور تم پر حال کھل چکا ہے ان کے گھروں سے6 اور فریفتہ کیا ان کو شیطان نے ان کے کاموں پر پھر روک دیا ان کو راہ سے اور تھے ہوشیار7

6 یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر تم دیکھ چکے ہو ان سے عبرت حاصل کرو۔ 7 یعنی دنیا کے کام میں ہشیار تھے اور اپنے نزدیک عقلمند تھے پر شیطان کے بہکائے سے نہ بچ سکے۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہلاک کیا قارون اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے پاس پہنچا موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر، پھر بڑائی کرنے لگے ملک میں اور نہیں تھے ہم سے جیت جانے والے1

1 یعنی کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی حق کے سامنے نہ جھکے اور کبر و غرور نے ان کی گردن نیچے نہ ہونے دی۔ پھر نتیجہ کیا ہوا ؟ کیا بڑے بن کر سزا سے بچ گئے ؟ یا العیاذ باللہ خدا کو تھکا دیا۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر سب کو پکڑا ہم نے اپنے اپنے گناہ پر2 پھر کوئی تھا کہ اس پر ہم نے بھیجا پتھراؤ ہوا سے3 اور کوئی تھا کہ اس کو پکڑا چنگھاڑ نے4 اور کوئی تھا کہ اس کو دھنسا دیا ہم نے زمین پر5 اور کوئی تھا کہ اس کو ڈبا دیا ہم نے6 اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے پر تھے وہ اپنا آپ ہی برا کرتے7

2 یعنی ان میں سے ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا دی گئی۔ 3 یہ قوم لوط ہے اور بعض نے " عاد " کو بھی اس میں داخل کیا ہے۔ 4 یہ " ثمود " تھے اور اہل مدین بھی۔ 5 یعنی قارون کو جیسا کہ سورة قصص میں گزرا۔ 6 یہ فرعون و ہامان ہوئے اور بعض نے قوم نوح کو بھی اس میں داخل کیا ہے۔ 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں کہ کوئی ناانصافی یا بےموقع کام کرے، اس کی بارگاہ عیوب و نقائص سے بکلی مبرا ومنزہ ہے۔ ظلم تو وہاں متصور ہی نہیں، ہاں بندے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، یعنی ایسے کام کرتے ہیں جن کا نتیجہ لا محالہ ان کے حق میں برا ہو۔