29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 29:1–3

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

الم۔ احسب الناس۔۔۔۔۔ سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات کے بارے میں بات گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے میں اللہ، بہتر جانتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قرآن کا نام ہے۔ آحسب میں ہمزہ استفہام کا ہے مراد تقریر و توبیخ ہے۔ حسب کا معنی ظن ہے۔ آن یترکو محل نصب میں ہے جس کو نصب حسب نے دی ہے۔ سیبویہ کے قول کے مطابق یہ اور اس کا صلہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ ان یقولو میں ان دو توجہیوں میں سے ایک توجیہ کے مطابق محل نصب میں ہے۔ معنی ہے لان یقولو بان یقولو علی ان یقولوا۔ دوسری جہت کی بناء پر اس میں تکرار ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا : الناس سے مراد مومنوں کی قوم ہے (5) جو مکہ مکرمہ میں تھے قریش کے کفار اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں اذیتیں اور تکالیف دیا کرتے تھے۔ جس طرح حضرت سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ، حضرت ولید بن ولید، حضرت عمار بن یاسر، حضرت یاسر ان کے والد، ان کی والدہ حضرت سمیہ اور بنی مخزوم کے کچھ افراد وغیرہ۔ یہ آیت نازل ہوئی تاکہ تسلی دے اور تعلیم دے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں میں یہی معمول ہے کہ وہ مومنوں کو آزماتا ہے اور فتنہ میں ڈالتا ہغ۔ ابن عطیہ نے کہا : اگرچہ یہ آیت اسی سبب سے نازل ہوئی یا اس معنی میں جو اقوال ہیں ان میں نازل ہوئی۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی امت میں باقی ہے اس کا حکم آخر زمانہ تک موجود رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آزمائش مسلمانوں کی سرحدوں میں باقی رہے گی کبھی کسی کو گرفتار کرلیا جائے گا، کبھی دشمن کی جانب سے کوئی اذیت پہنچے گی اس کے علاوہ بھی صورتحال ہو سکتی ہے۔ اگر ہر جگہ کا اعتبار کیا جائے تو بھی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ بیماریاں واقع ہوں اور مختلف قسم کے امتحان واقع ہوں، لیکن وہ مصیبت جو قریش کی جانب سے واقع ہوئی اس کے مشابہ وہ ہے جو سرحد پر دشمن کی جانب سے واقع ہو سکتی ہے جس کا ذکر ہم نے ابھی کیا ہے۔ میں کہتا ہو : انہوں نے جو کہا کتنا اچھا کہا، جو کہا سچ کہا : مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت مجمع جو حضرت عمر ؓ کا غلام تھا اس کے بارے میں نازل ہوئی (1) یہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی جانب سے پہلا شہید تھا۔ عامر بن حضری نے اسے تیر مارا اور اسے شہید کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر فرمایا : سید الشھد امجع و ھو اول میں یدعی الی باب الجنتہ من ھذہ الامۃ : شہیدوں کا سردار مجمع ہے یہ اس امت کا وہ پہلا شخص ہے جسے جنت کے دروازے کی طرف دعوت دی جائے گی۔ اس کے والدین اور اس کی بیوی نے اس پر جزع فزع کی تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ شعبی نے کہا : اس سورت کا آغاز ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوا (2) جو مسلمانوں میں سے مکہ مکرمہ میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے حدبییہ سے انہیں خط لکھے کہ تمہارا اسلام کا اقرار کرنا قبول نہ کیا جائے گا یہاں تک تم ہجرت نہ کرو وہ نکلے تو مشرکوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں اذیتیں دیں تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی تو صحابہ نے انہیں خط لکھے کہ ان کے بارے میں فلاں فلاں آیت نازل ہوئی ہے تو انہوں نے کہا : ہم نکلیں گے اگر کسی نے ہمارا پیچھا کیا تو ہم اس سے جنگ کریں گے مشرکوں نے ان کا پیچھا کیا تو انہوں نے ان سے جنگ کی ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور کچھ نجات پا گئے۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، (النحل 110) و ھم لا یقون کہ ان کا امتحان نہ لیا جائے گا۔ کیا ان لوگوں نے گمان کرلیا ہے جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں سے گھبراہٹ کا اظہار کیا کہ ان کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم مومن ہیں اور ان کے امان، ذات اور اموال میں امتحان نہ لیا جائے گا جس سے ان کے ایمان کی حقیقت واضح ہوجائے۔ ہم نے گزشتہ لوگوں کو بھی آزمایا جس طرح حضرت خلیل کو آگ میں پھینکا گیا اور جس طرح کہ وہ قوم جو اللہ تعالیٰ کے دین کی وجہ سے آریوں سے چیر دی گئی تو وہ اس سے نہ پلٹے۔ امام بخاری نے حضرت حباب بن ارت ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی جبکہ آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں چادر کو تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ ﷺ سے عرض کی : کیا آپ ﷺ ہمارے لئے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ ﷺ ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے ؟ فرمایا : تم سے قبل ایک آدمی کو پکڑا جاتا زمین میں اس کے لئے گڑھا کھودا جاتا آری لائی جاتی، اسے اس کے سر پر رکھ دیا جاتا تو اس کو نصف نصف کردیا جاتا اس کے گوشت اور ہڈیوں کو لوہے کی کنگی سے جسم سے الگ کیا جاتا تو یہ عمل اسے اس کے دس سے نہ پھیر سکتا۔ اللہ کی قسم ! یہ امر مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعا سے حضرموت تک سفر کرے گا، تو اسے کسی چیز کا خوف نہ ہوگا، سوائے اللہ اور ریوڑ پر بھیڑئیے کے لیکن تم تو جلدمی مچا رہے ہو “ (1) ۔ امام ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کو سخت بخار تھا میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو میں نے لحاف کے اوپر سے اپنے ہاتھ میں آپ کے جسم کی حرارت کو پایا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ پر کس قدر شدید ہے ؟ فرمایا :” ہمارے لئے اسی طرح آزمائش کئی گنا ہوتی ہے اور ہمارے لئے کئی گنا اجر ہوتا ہے۔ “ (2) ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے ازروئے آزمائش کے کون سب سے زیادہ سخت ہیں : فرمایا ” انبیائ “۔ میں نے عرض کی : پھر کون ؟ فرمایا ” صالحین) (3) ۔ ان میں سے کسی کو فقر سے آزمایا جاتا ہے وہ کوئی چیز نہیں پاتے مگر عباء جسے پھاڑ کر وہ گریبان بنا لیتا ہے ان میں سے کوئی آزمائش سے یوں خوش ہوتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک خوشحالی سے خوش ہوتا ہے۔ “ حضرت سعد بن وقاص ؓ سے مروی ہے فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے کون سخت مصیبت والا ہوتا ہے ؟ فرمایا ” انبیاء پھر درجہ میں ان سے نیچے پھر درجہ میں ان سے نیچے ایک آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں ڈالا جاتا ہے آزمائش بندے کے ساتھ رہتی ہے یہاں تک وہ اسے یوں کر چھوڑتی ہے کہ زمین پر چلتا ہے تو اس پر کوئی خطا نہیں ہوتی “۔ (4) عبدالرحمن بن زید نے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک وزیر تھا ایک دن و سوار ہوا تو ایک درندے نے اسے پکڑ لیا اور اسے کھا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب : تیرے دین میں میرا وزیر، بنی اسرائیل پر میرا نائب اور ان میں میرا خلیفہ تو نے اس پر ایک درندہ مسلط کردیا تو وہ درندہ اسے کھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں اس کا میرے ہاں بلند مرتبہ تھا میں نے اس کا کوئی عمل ایسا نہ پایا جو اسے اس مقام تک پہنچائے تو میں نے اسے اس آزمائش میں ڈالا تو یہ عمل اسے اس مقام تک پہنچا دے گا۔ وہب نے کہا : میں نے حواری کی ایک کتاب میں دیکھا جب اللہ تعالیٰ تجھے آزمائش کے راستے پر چلائے تو آنکھ ٹھنڈا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے انبیاء اور صالحین کے راستے پر چلایا ہے اور جب تجھے خوشحالی کے راستے پر چلائے تو اپنی ذات پر رو تحقیق تجھے ان کے راستے سے مختلف راستہ پر چلایا گیا ہے۔ تاکہ جو ایمان میں سچے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دکھائے۔ سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ زجاج نے کہا : تاکہ اللہ تعالیٰ صادق کے صدق کو اس کی جانب سے صدق کے وقوع کو جانے جبکہ اللہ تعالیٰ صادق کو کاذب سے ان دونوں کی تخلیق سے پہلے بھی جانتا ہے لیکن یہاں ارادہ اس علم کے وقوع کا ہے جس پر جزا دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ صادق کے صدق کو واقع اور اس کے وقوع کو واقع ہونے والا جانتا ہے جبکہ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ ایسا وقوع ہوگا۔ نحاس نے کہا : اس میں دو قول ہیں (1) صدقوا یہ صدق سے مشتق ہے اور الکذبین کذب سے مشتق ہے جو صدق کی ضد ہے۔ معنی ہوگا انہوں نے جو سچ بولا اللہ تعالیٰ اسے واضح فرمائے گا۔ انہوں نے کہا تھا : ہم مومن ہیں اور اس کی مثل اعتقاد کیا۔ جب انہوں نے اس کے خلاف اعتقاد رکھا تو انہوں نے جھوٹ بولا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ صدقوا یہ صدق ہے مشتق ہے جو صلب ہے اور الکذبین یہ کذب سے مشتق ہے جس کا معنی شکت کھانا ہے تو معنی ہوگا اللہ تعالیٰ انہیں جانے جو جنگ میں ثابت قدم رہے اور جنہوں نے شکت کھائی۔ جس طرح شاعر نے کہا : عثر کے مقام پر شیر بہادروں کا شکار کرتا ہے اور وہ اس وقت بہادری کا مظاہرہ کرتا ہے جب شیر اپنے ہم پلہ افراد کے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ لیعلمن کے لفظ کو فلیبینن کی جگہ مجازا ذکر کیا۔ جماعت کی قرأت فلیعلمن یا اولام کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے یاء کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ اسی معنی کی وضاحت کرتی ہے جو نحاس نے کہا : یہ لفظ تین معانی کا احتمال رکھتا ہے (1) ان صادقین اور کاذبین کو ان کے ثواب اور عقاب کی منازل اور دنیا میں جو ان کے اعمال تھے آخرت میں انہیں آگاہ کردے گا (2) مفعول اوِّل مخدوف ہے اس کی تقدیر یہ ہوگی لوگوں اور عالم کو ان صادقین اور کاذبین پر آگاہ کردے گا یعنی انہیں رسواء کر دے اور انہیں مشہور کردے۔ صادقین خیر میں کاذبین شر میں مشہور ہوجائیں۔ یہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہوگا (3) یہ فعل علامت سے مشتق ہے یعنی ہر طائفہ کے لئے ایک علامت بنا دے جس کے ساتھ وہ مشہور ہوجائے۔ اس تعبیر کی بناء پر یہ آیت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ من اسر سھیرۃ المسہ اللہ ردامطا (1) ” جس نے راز کو پوشیدہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے چادر زیب تن کرائے گا۔ “
Ayahs 29:4–7

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

ام احسب الذین یعلمون۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد وہ شرک ہے آن یسبقونا وہ ہماری گرفت سے نکل سکتے ہیں اور ہمیں عاجز کرسکتے ہیں قبل اس کے کہ ہم ان کا مواخذہ کریں ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الذین سے مراد ولید بن مغیرہ، ابو جہل، اسود، عاص بن ہشام، شبہ، عتبہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، حنظلہ بن ابی سفیان اور عاص بن وائل ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی صفات میں جو یہ فیصلہ کیا وہ کتنا برا فیصلہ ہے کہ اس پر سبقت لی جاسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ مامحل نصب میں ہے یہ ساء شیاء او حکم یحکمون کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامحل رفع میں ہو معنی ہوگا یہ زجاج کا قول ہے۔ ابن کیسان نے ان دو تقدیروں کے علاوہ دو اور تقدیریں مقدر کی ہیں۔ (1) مایحکمون شی واحد کی جگہ ہے جس طرح تو کہتا ہے : اعجبنی ما صنعت، یہاں ما صنعک، صنعیک کے معنی میں ہے ما اور فعل مصدر کے حکم میں ہیں اور محل رفع میں ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہوگی، سائہ حکمھم، دوسری تقدیر یہ ہے کہ ما کا اعراب میں کوئی محل نہ ہو۔ یہ ساء کے اسم کے قائم مقام ہے اسی طرح نعم اور بئس ہے۔ ابو الحسن بن کیسان نے کہا : میں اس امر کو پسند کرتا ہوں کہ جہاں تک میں قادر ہوں کہ میں مَا کا کوئی محل بنائوں (1) ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آل عمران 159) اسی طرح (النسائ 155) اور اسی طرح (القصص 28) ان تمام مواقع پر مامحل جر میں ہے اور اس کا مابعد اس کے تابع ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (البقرہ 26) اس میں ما محل نصب میں ہے اور بعوضۃ اس کے تابع ہے۔ یہ یخاف کے معنی میں ہے ہذلی شہد اتارنے والے کے بارے میں کہتا ہے : جب شہد کی مکھیاں اسے ڈستی ہیں توہ ان کے ڈنگوں سے نہیں ڈرتا۔ اہل تفسیر نے اس پر اجماع کیا کہ معنی ہے جو آدمی موت سے ڈرتا ہے وہ عمل صالح کرے کیونکہ موت آنا ضروری ہے، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے : زجاج نے کہا کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید رکھتا ہے۔ (2) من مبتدا ہونے کی حیثیت سے محل رفع میں ہے۔ کان یہ خیبر کے محل میں ہے۔ یہ شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے۔ یرجواکان کی خبر کی جگہ اور ……ہے۔ جو آدمی دین میں جہاد کرتا ہے، کفار سے قتال اور طاعات کے اعمال پر صبر کرتا ہے۔ تو وہ اپنے لئے ہی کوشاں ہوتا ہے۔ یعنی ان کا سب کا ثواب اسے ہی ملے گا ان میں سے کسی چیز کا نفع اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے غنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جو آدمی اپنی ذات کے لئے اس کے دشمن سے جہاد کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے جہاد کی کوئی ضرورت نہیں۔ والذین آمنو جنہوں نے تصدیق کی کہ ہم مغفرت کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیں گے۔ ان کے احسن اعمال جو طاعات ہیں کا بدلہ دیں گے پھر یہ کہا گیا : یہ احتمال موجود ہے ان کی ہر وہ معصیت بخش دے گا جو انہوں نے حالت شرک میں کی۔ اور حالت اسلام میں جو انہوں نے اعمال حسنہ کئے ان پر ان کو ثواب دیا جائے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ کفر اور اسلام دونوں میں ان سے واقع ہونے والی سیئات کو بخش دے گا اور حالت کفر و اسلام میں انہوں نے جو نیکیاں کیں ان پر انہیں بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی (1) ۔ امام ترمذی نے اس بارے میں روایت کی ہے : فرمایا : میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں۔ اور واقعہ ذکر کیا حضرت سعد کی والدہ نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نیکی کا حکم نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم : میں کھانا نہیں کھائوں گی اور میں پانی نہیں پیوں گی یہاں تک کہ میں مر جائو یا تو کفر کرے۔ کہا : جب لوگ اس کو کھانا کھلانے کا ارادہ کرتے تو اس کے منہ میں لکڑی دیتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) حضرت سعد سے مروی ہے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ بڑی نیکی کرتا میں اسلام لایا تو اس نے کہا : تو اپنے دین کو چھوڑے گا یا میں نہ کھائوں گی اور نہ پیوں گی یہاں تک کہ میں مر جائوں تو تجھے میری وجہ سے عار دلائی جائے گی اور کہا جائے گا : اے اپنی ماں کے قاتل ! وہ ایک دو دن اسی طرح رہی۔ میں نے کہا : اے میری ماں : اگر تیری سو جانیں ہوں اور وہ ایک ایک نفس نکلیں تب بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑوں گا، چاہے تو کھا چاہے تو نہ کھا۔ جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے کھانا کھالیا اور یہ آیت نازل ہوئی (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ جو ابو جہل کا ماں کی جانب سے بھائی تھا کے حق میں نازل ہوئی۔ اس کی ماں نے بھی اسی طرح کیا۔ ان سے قول بھی مروی ہے۔ : یہ آیت تمام امت کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ صدیق کے علاوہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر صبر نہیں کرتا۔ حسنا بصریوں کے نزدیک تکریر کے طور پر منصوب ہے یعنی وصینا حسنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ماقبل کلام سے قطع کے طور پر منصوب ہے اس کی تقدیر یہ ہوگی وصینا بالحسن، جس طرح تو کہتا ہے : اہل کوفہ نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے وہ ووصینا الانسان : ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا کہ وہ اچھا عمل کرے تو اس کے لئے فعل مقدر کردیا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : میں اس گروہ پر متعجب ہوتا ہوں جو ہماری شکایت کرتا ہے اور جماعت کے سردار سے متعجب ہوتا ہوں جو ہمیں وصیت کرتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ حسن سلوک کریں گویا وہ ہمارے ماں جائے ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے : جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ص :33) تقدیر کلام یہ ہے : یمسح مسحا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے : ووصیا امرا اذا حسن صفت کو موصوف کے قائم مقام رکھا گیا ہے، مضاف کو حذف کردیا گیا ہے اور مضاف الیہ کو اس کی جگہ رکھ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معی ہم نے اس پر اچھا کام لازم کیا۔ عام قرأت حاء کے ضمہ اور سین کے سکون کے ساتھ ہے۔ ابو رجاء ابو عالیہ اور ضحاک نے حاء اور سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حجدری نے احسانا مفعول مطلعق کے طور پر پڑھا ہے اسی طرح حضرت ابی کے مصحف میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : یہ وصیا کے ساتھ منصوب نہیں کیونکہ اس کے پہلے ہی دو مفعول موجود ہیں۔ والدین کی اطاعت میں وعید ہے یعنی جو ان کی اطاعت نہ کرے اور اس امرکا انکار کرے اس کے لئے وعید ہے۔ مومنین کی حالت کی تمثیل کو مکرر ذکر کیا تاکہ نفوس میں حرکت پیدا کی جائے تاکہ یہ لوگ بھی ان کے مراتب کو حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان معنی میں مبالغہ کے طور پر لام ذکر کی یعنی وہ لوگ صالحیت میں انتہا اور اس کی آخری حد کو پانے والے ہیں جب مومن کے لئے یہ حکم حاصل ہوجاتا ہے تو وہ اس کا ثمرہ اور جزاء بھی حاصل ہوجاتی ہے جو جنت ہے۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے : ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ فتنہ سے مراد اذیت ہے۔ لعذاب اللہ جس طرح آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ تو وہ اس پر ایمان لانے سے مرتد ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس سے یوں جزع فزع کرتا ہے جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے جزع فزع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ اگر تیرے رب کی جانب سے مومنوں کو مدد پہنچے گی تو یہ مرتد کہیں گے : ہم تمہارے ساتھ ہیں جبکہ وہ جھوٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نسبت ان کے سینے میں جو کچھ ہے اس کو خوب جانتا ہے۔ مجاہد نے کہا : ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی جو اپنی زبانوں سے ایمان رکھتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں کوئی آزمائش یا ان کی ذاتوں میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ (1) ۔ ضحاک نے کہا : یہ آیت مکہ مکرمہ میں موجود منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ ایمان لاتے اور جب انہیں اذیت دی جاتی تو شرک کی طرف لوٹ جاتے۔ عکرمہ نے کہا : کچھ لوگ تھے جو اسلام لے آئے تھے، مشرکوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ان کے ساتھ بدر کی طرف نکلیں تو ان میں سے بعض قتل ہوگئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : (النحل 28) تو مدینہ طیبہ کے مسلمانوں نے مکہ مکرمہ میں موجود مسلمانوں کی طرف خط لکھا وہ نکلے تو پیچھے سے مشرکوں نے انہیں آ لیا تو بعض آزمائش میں مبتلا ہوگئے تو یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی وہ مسلمان ہوا ہجرت کی پھر اسے اذیت دی گئی اور اسے مارا گیا تو وہ مرتد ہوگیا۔ اسے ابو جہل اور حرث نے تکلیفیں دیں یہ دونوں ماں کی جانب سے اس کے بھائی تھے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : پھر وہ بعد میں طویل عرصہ تک زندہ رہا اور بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا۔ قتادہ نے کہا : یہ ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جن کو مشرکین نے مکہ مکرمہ کی طرف و اس کیا (3) ۔
Ayahs 29:10–13

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

اس سے مراد ہمارا دین ہے۔ امر کی وجہ سے فعل مضارع کو جزم دی گئی۔ فراء اور زجاج نے کہا : یہ شرط و جزا کی تاویل میں امر ہے۔ مراد اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھا لیں گے۔ جس طرح شاعر نے کہا : میں نے کہا : اگر تو بلائے تو میں بھی بلائوں گا بیشک زیادہ اونچی آواز اس وقت ہوتی ہے جب دو بلانے والی دعوت دیں۔ شعر میں ادعی و ادع شرط و جزا کی صورت میں ہیں ان دعوت دعوتُ مہدوی نے کہا : انھم لکذبون کا اس کے بعد وقوع معنی پر حمل کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ معنی ہے اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھائیں گے۔ جب صیغہ امر معنی میں خبر کی طرف راجع ہوتا ہے تو اس پر تکذیب واقع ہوتی ہے جس طرح خبر پر واقع ہوتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قریش میں سے مشرکوں نے کہا : ہمیں اور تمہیں دوبارہ ہمیں اٹھایا جائے گا۔ اگر تم پر کوئی بوجھ ہوا تو وہ ہم پر ہوگیا، یعنی جو تم پر لازم ہوگا وہ ہم پر لازم ہوگا۔ یہاں حمل حمالہ کے معنی میں ہے یعنی ذمہ داری اٹھانے کے معنی میں ہے یہ پشت پر اٹھانے کے معنی میں نہیں ہے۔ روایت کی گئی ہے : یہ قول کرنے والا ولید بن مغیرہ ہے۔ ان کی حسنات سے فارغ ہونے کے بعد ان کے گناہ ان کے ذمہ کردیئے جائیں گے جن پر انہوں نے ظلم کیا تھا اس کا معنی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔ سورة آل عمران میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی نے کہا : قیامت کے روز ایک آدمی لایا جائے گا جبکہ اس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اس سے لگا تار قصاص لیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ اس کی نیکیوں ختم ہوجائیں گی پھر اس سے مطالبہ لیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا۔ میرے بندے سے قصاص (بدلہ) لو۔ فرشتے عرض کریں گے : اس کی تو نیکیاں باقی نہیں رہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : مظلوم کی برائیاں اس سے لے لو اور اس کے ذمہ کر دو ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ قتادہ نے کہا : جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی اس پر اس کا بوجھ ہوگا اور جس نے اس پر عمل کیا اس کا بوجھ بھی اس پر ہوگا ان کے بوجھوں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النحل 25) اس کی مثل حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (1) جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ شروع کیا تو اس پر اس کا بوجھ ہوگا اور اس کا بوجھ ہوگا جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا، جبکہ ان کے بوجھوں میں سے کوئی کمی نہ کی جائے گی : حضرت ابوہریرہ ؓ اور دوسرے راویوں سے روایت مروی ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس آدمی نے ہدایت کی طرف دعوت دی اس کی پیروی کی گئی اور اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے ان کے اجروں کی مثل اجر ہوگا جنہوں نے اس کی اتباع کی، ان کے اجروں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ جس داعی نے گمراہی کی طرف دعوت دی اس کی پیروی کی گئی اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس پر ان کے بوجھوں کی مثل بوجھ ہوگا جنہوں نے اس کی اتباع کی ان کے بوجھوں میں سے کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی “۔ پھر حضرت حسن بصری (رح) نے اس آیت کی تلاوت کی : میں کہتا ہوں : یہ مرسل ہے، یہ ہی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث کا معنی ہے امام مسلم (رح) نے اسے نقل کیا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ کی رسول ﷺ سے حدیث کا متن یہ ہے : ابن ماجہ نے اسے سنن میں نقل کیا ہے جو بھی داعی گمراہی کی طرف دعوت دے تو اس کی اتباع کی جائے تو اس کے لئے ان کے بوجھوں کی مثل بوجھ ہوگا جنہوں نے اس کی اتباع کی اور ان کے بوجھوں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی اور جو بھی دعوت دینے والا ہدایت کی طرف دعوت دے تو اس کی اتباع کی جائے تو اس کے لئے ان کے اجروں کی مثل اجر ہوگا جنہوں نی اس کی اتباع کی اور ان کے اجروں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ اس باب میں حضرت ابو حجیفہ اور حضرت جریر سے مروی حدیث بھی ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ظالم کے مددگار ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اس کے بدعتی ہیں جب ان بدعتیوں کی اتباع کی جائے ایک قول یہ کیا گیا ہے : نئے نئے کام کرنے والے جب ان کے بعد ان پر عمل کیا جائے۔ معنی قریب قریب ہے، حدیث سب کو جامع ہے۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے، یعنی آپ ﷺ سے قبل بھی انبیاء کو کفار کی وجہ سے آزمایا گیا تو انہوں نے صبر کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ وہ پہلے رسول تھے جن کو زمین کی طرف معبوث کیا گیا۔ سورة ھود میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے کہ زمین کفر سے بھر چکی تھی۔ کسی نبی نے اپنی قوم سے ایسی تکالیف نہ اٹھائیں جیسی تکالیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اٹھائیں، جس طرح حضرت حسن بصری (رح) سے سورة ھود میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ قتادہ نے حضرت انس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ” سب سے پہلے جو نبی بھیجا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ “ (1) قتادہ نے کہا : انہیں جیزہ سے معبوث کیا گیا۔ ان کی عمر کتنی تھی اس میں اختلاف ہے۔ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی عمر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کی ہے۔ قتادہ نے کہا : انہیں دعوت دینے سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) تین سو سال تک رہے۔ اور تین سو سال تک دعوت دی اور طوفان کے بعد تین سو پچاس سال تک رہے۔ (3) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں معبوث کیا گیا آپ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس سال تک رہے اور لوگوں کے غرق ہونے کے بعد ساٹھ سال تک رہے، یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور لوگ عام ہوگئے (4) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک قول یہ بھی مروی ہے : آپ کو جب معبوث کیا گیا تو آپ کی عمر اڑھائی سو سال تھی اور آپ اپنی قوم میں نو سو پچاس سال تک رہے اور طوفان کے بعد دو سال تک رہے۔ وہب نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار چار سو سال تھی۔ کعب حبار نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار بیس سال تھی (5) ۔ عون بن ابی شداد نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کو معبوث کیا گیا جبکہ آپ کی عمر تین سو پچاس سال تھی۔ آپ اپنی قوم میں نو سو پچاس سال تک رہے اور طوفان کے بعد تین سو پچاس سال تک رہے آپ کی عمر ایک ہزار چھ سو پچاس سال تھی (6) حضرت حسن بصری نے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جب ملک الموت حضرت نوح (علیہ السلام) کی روح قبض کرنے کے لئے۔ پوچھا : اے نوح : تم دنیا میں کتنے عرصہ رہے ؟ فرمایا : معبوث ہونے سے پہلے تین سو سال ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں اور طوفان کے بعد ساڑھے تین سو سال، ملک الموت نے کہا : تو نے دنیا کو کیسے پایا ؟ حضرت نوح نے کہا : اس گھر کی طرح جس کے دو دروازے ہیں ایک میں سے داخل ہوا اور دوسرے سے نکل گیا۔ حضرت انس سے حدیث مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف معبوث کیا جب معبوث کیا تو عمر اڑھائی سو سال تھی آپ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، اور طوفان کے بعد اڑھائی سو سال تک رہے (1) ۔ جب ملک الموت ان کے پاس آیا، تو پوچھا : اے نوح : اے انبیاء میں سب سے بڑے ! اے طویل عمر پانے والے ! اے وہ جس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں ! تو نے دنیا کو کیسے پایا ؟ آپ نے فرمایا : اس آدمی کی طرح جس نے ایک گھر بنایا جس کے دو دروازے تھے وہ ایک دروازے سے داخل ہوا اور دوسرے دروازے سے نکل گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں سے ایک میں داخل ہوا تھوڑا سا بیٹھا پھر دوسرے دروازے سے نکل گیا۔ ابن وردی نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) نے سرکنڈے کا ایک گھر بنایا، آپ سے عرض کی گئی : کاش آپ اس کے علاوہ بھی گھر بنا لیتے۔ فرمایا : یہ اس کے لئے کثیر ہے جس نے مرنا ہے۔ اور مہاجر نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک بالوں سے بنے ایک خیمہ (گھر) میں رہے۔ ان سے عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! کوئی گھر ہی بنا لیجئے۔ فرمایا : میں آج یا کل مر جائوں گا۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) پر پانچ سو سال گزر گئے آپ عورت کے قریب نہ گئے۔ یہ محض موت کے ڈر سے ہوا۔ مقاتل اور جو بیر نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے آپ کی ہڈیاں نرم ہوگئیں۔ عرض کیا : اے میرے رب ! میں کب تک کدوکاوش کرتا رہوں گا ؟ فرمایا : اے آدم ! یہاں تک کہ تیرا ختنہ کیا ہوا بچہ پیدا ہو۔ ، تو دس بطنوں (ایک دفعہ جب عورت کو حمل ہو تو اسے بطن کہتے ہیں) کے بعد نوح (2) کی پیدائش ہوئی اس وقت ان کی عمر نو سو چالیس سال تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی عمر نو سو ساٹھ سال تھی، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب یوں ہے نوح بن لامک متوشلخ بن ادریس و اخنوخ بن یرد بن مہلاییل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم ہیں (3) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام سکن تھا ان کا نام سکن اس لئے رکھا گیا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد لوگ آپ کی بارگاہ سے سکون حاصل کرتے تھے۔ وہ لوگوں کے جد اعلیٰ تھے ان کی اولاد میں سام، حام اور یافث تھے۔ سام کی اولاد میں عرب فارسی اور رومی ہیں ان سب میں خیر ہے۔ حام کی اولاد میں قطبی، حبشی اور بربر ہیں۔ یافث کی اولاد میں ترک، صقالہ اور یاجوج ماجوج ہیں۔ ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سام کی اولاد میں سفید اور گندم گو ہیں، حام کی اولاد میں سیاہ اور تھوڑے سفید ہیں، یافث کی اولاد میں ترک اور حقالیہ زرد اور سرخ ہیں۔ ان کا چوتھا بیٹھا تھا جو کنعان تھا جو غرق ہوگیا تھا۔ عرب اسے یام کہتے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو نوح کہتے کیونکہ آپ نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم پر نوحہ کیا، آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انہوں نے کفر کیا تو حضرت نوح (علیہ السلام) ان پر روئے اور ان پر نوحہ کیا۔ قشیری ابو القاسم عبدالکریم نے اپنی کتاب التخبیر میں ذکر کیا : یہ روایت کی جاتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام یشکر تھا لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی خطا پر بہت زیادہ روئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی : اے نوح ! تو کتنے عرصے تک نوحہ کرتا رہے گا ؟ اس وجہ سے آپ کا نام نوح پڑگیا۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کی خطا کون سی تھی ؟ فرمایا : حضرت نوح (علیہ السلام) ایک کتے کے پاس سے گزرے آپ نے اپنے دل میں کہا : یہ کتنا قبیح ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی اس سے بہتر تو بنا دے۔ یزید رقاشی نے کہا : آپ کا نام نوح اس وجہ سے ہوا کیونکہ آپ نے اپنی ذات پر طویل عرصہ تک نوحہ کیا۔ اگر کہا جائے یہ کیوں فرمایا : اسے تسعمائۃ و خمسین عامہ انہیں فرمایا : اس میں دو جواب ہیں (1) مقصود عدد کی کثرت کو بیان کرنا ہے۔ الف کا ذکر لفظ اور عدد میں کثیر ہے (2) یہ روایت کی گئی ہے کہ آپ کو ایک ہزار سال عمر عطا کی گئی تو آپ نے پچاس سال اپنے ایک بیٹے کو عطا کردیئے۔ جب وفات کا وقت آیا تو ہزار پورا کرنے کی طرف راجع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس بات پر آگاہ کرنے کے لئے ذکر کیا کہ کمی اس (نوح علیہ السلام) کی جہت سے ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : طوفان سے مراد بارش ہے (1) ۔ ضحاک نے کہا : غرق ہونا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد موت ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے (2) ۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے۔ تباہی مچانے والی موت کے طوفان نے انہیں فنا کردیا۔ نحاس نے کہا : یہ ہر اس شے کے لئے طوفان کا لفظ بولا جاسکتا ہے جو تمام کا احاطہ کرلے وہ بارش ہو، قتل ہو، و ھم ظلمون یہ جملہ حال بن رہا ہے۔ الف سنۃ ظرف ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ مستثنیٰ ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ سیبویہ کے نزدیک مفعول کے قائم مقام ہے مفعول کی طرح اس سے استغناء ہے، جہاں تک مبردابوالعباس محمد بن یزید کا تعلق ہے اس کے نزدیک یہ مفعول محض ہے۔ گویا تو نے کہا : استثنیت زیدا۔ تنبیہ : حسان بن غالب بن نجبیح ابو القاسم مصری مالک بن انس سے وہ زہری سے وہ ابن مسیب سے وہ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حضرت جبریل امین میرے ساتھ حضرت عمر کی فضلیت میں مذاکرہ کیا کرتا تھا، میں نے پوچھا : اے جبریل ! حضرت عمر کی فضلیت کہاں تک پہنچی ہے ؟ اس نے کہا : اے محمد ﷺ اگر میں آپ کے ساتھ اتنا عرصہ رہوں جتنا عرصہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں رہے ہیں آپ کے سامنے حضرت عمر کی فضلیت بیان نہیں کرسکتا۔ “ اسے خطیب ابوبکر احمد بن ثابت بغدادی نے ذکر کیا۔ کہا : حسان بن غالب مالک سے روایت کرنے میں منفرد ہے، اس کی حیثیت ثابت نہیں۔ اصحاب السفینہ کا عطف ہاء ضمیر پر ہے۔ میں ہاء ضمیر سفینہ عقوبۃ یا نجات کے لئے ہے اس بارے میں تین اقوال ہیں۔
Ayahs 29:16–19

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

و ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔ کسائی نے کہا : ابراہیم کا لفظ انجینا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی اس کا عطف ہاء ضمیر پر ہے ؎ کسائی نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اس کا عطف نوح پر ہے معنی ہے ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔ ایک تیسرا قول ہے کہ یہ اذکر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ کی ذات کو عبادت میں خاص کرو۔ اس کے عقاب اور اس کے عذاب سے ڈرو۔ بتوں کی عبادت سے یہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ اوثان کا معنی بت ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : صنم اسے کہتے ہیں جو سونے، چاندی اور تانبے کا بنایا جاتا ہے اور روشن جو گچ یا پھتر سے بنایا جاتا ہے۔ جوہری نے کہا : وثن سے مراد بت ہے اس کی جمع وثن اور اوثان آتی ہے جس طرح اسد اور اوساد۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کا معنی ہے تم تراشتے ہو (1) معنی ہے تم بتوں کی عبادت کرتے ہوئے جبکہ تم خود ان کو بناتے ہو۔ مجاہد نے کہا : الافک سے مراد جھوٹ ہے معنی ہے تم بتوں کی عبادت کرتے ہو جبکہ تم جھوٹ گھڑتے ہو (2) ابو عبدالرحمن نے تخلقون قرأت کی ہے اسے تخلقون پڑھا گیا ہے یہ خلق سے کثرت کے معنی میں ہے اور تخلقون یہ تغلق سے ممشتق ہے جو تکذب اور تخرص کے معنی میں ہے اسے افکا بھی پڑھا گیا ہے اس میں دو وجوہ ہیں : یہ مصدر ہو۔ جس طرح کذب اور لعب ہے افک اس سے مخفف ہے جس طرح کذب اور لعب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے یہ فعل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے یعنی خلقا افکا یعنی یہ تعبدون کی وجہ سے منصوب ہے اور ماکافہ ہے۔ قرآن کے علاوہ میں اوثان کو رفع دینا بھی جائز ہے کہ ما ان کا اسم ہے تعبدون اس کا صلہ ہے اسم کے لمبا ہونے کی وجہ سے ضمیر کو حذف کردیا۔ اور اوثان کو ان کی خبر بنا دیا ہے۔ یہ فعل کی وجہ منصوب ہے کسی اور کی وجہ سے منصوب نہیں۔ اس طرح یعنی تم اپنے رزق کے لئے اپنی رغبتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دو صرف اسی سے سوال کرو کسی غیر سے سوال نہ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے : یعنی جھٹلانا کفار کی عادت ہے اور رسولوں پر صرف تبلیغ لازم ہے۔ عام قرأت کے ساتھ ہے یہ خبر اور اس کی توبیخ کے لئے ہے : یہ عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابو عبید نے کہا : امتوں کے ذکر کے لئے یاء کے ساتھ پڑھا گویا فرمایا : ابو بکر، اعمش، ابن وثاب، حمزہ اور کسائی نے پڑھا تروا اس وقت یہ خطاب کا صیغہ ہوگا، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ یہ کہا گیا ہے : قریش کو خطاب ہے، یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول نہیں۔ ہائر ضمیر سے مراد خلق اور بعث ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ پھلوں کو کیسے پیدا فرماتا ہے وہ زندہ ہوجاتے ہیں پھر فنا ہوجاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ پیدا فرماتا ہے یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اسی طرح انسان کی تخلیق کا آغاز فرماتا ہے پھر اس سے بچے کی پیدائش کے بعد ہلاک کردیتا ہے اس کے بچے سے بچہ جنم لیتا ہے۔ اس طرح باقی حیوانات بھی ہیں جب تم نے ابداء اور ایجاد پر اس کی قدرت کو دیکھ لیا تو وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرماتا ہے : کن فیکون۔
Ayahs 29:20–25

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔ ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔ اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم کرنا چاہتا ہے۔ اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔ فراء نے کہا : معنی ہے یعنی نہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں۔ عربی لغت میں یہ امر مبہم ہے کیونکہ دوسرے حصے میں ضمیر ظاہر نہیں، یہ حدیث حضرت حسان کے قول کی طرح ہے : تم میں سے جو رسول اللہ کی ہجو کرے اور جو آپ کی مدح اور مدد کرے وہ برابر ہیں۔ یہاں اس سے کا ارادہ کیا ہے، من کو مضمر کیا، یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، (الصافات) یہاں بھی اصل میں من لہ تھا، من مضمر ہے۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ کو اہل زمین میں اور اہل سماء آسمان میں عاجز نہیں کرسکتے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں۔ قطرب نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے : یعنی نہ آسمان میں اگر تم آسمان میں ہوتے، جس طرح تو کہتا ہے، معنی ہے اگر وہ بصرہ چلا جائے تب بھی میری گرفت سے باہر نہیں ہو سکتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ نہ زمین میں بھاگ جانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ وہ آسمان میں بھاگ جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مبرو نے کہا : معنی ہے اور نہ وہ آسمان میں ہیں اس بناء پر کہ من موصولہ نہیں ہے، بلکہ نکرہ ہے۔ فی السماء اس کی صفت ہے۔ صفت کو موصوف کے قائم مقام رکھا۔ علی بن سلیمان نے اس کا رد کیا اور کہا : یہ جائز نہیں اور کہا : من جب نکرہ ہو تو اس کی صفت کا لگانا ضروری ہے تو اس کی صفت صلہ کی طرح ہوگی۔ موصول کا حذف اور صلہ کا ترک جانا جائز نہیں۔ معنی ہے لوگوں کو اسی کی چیز کے ساتھ خطاب کیا گیا جس کی وہ عقل رکھتے تھے۔ معنی ہے اگر تم آسمان میں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کرسکتے، جس طرح فرمایا : (النسائ :78) بھی جائز ہے کیونکہ محل رفع کا ہے اور من زائد ہے۔ آیات سے مراد قرآن ہے یا ادلہ اور اعلام میں سے جن کو قائم کیا گیا۔ رحمت سے مراد جنت ہے اس کو ان کی طرف منسوب کیا گیا معنی ہے ان کو مایوس کردیا گیا۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی جانب سے جملہ معترضہ کے طور پر ہیں تاکہ اہل مکہ کو یاد دلایا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے، پھر خطاب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کی طرف لوٹتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تو ان کا جواب یہ تھا : پھر انہوں نے آپ کو جلانے پر اتفاق کیا ؎ یعنی آگ کی اذیت سے نجات دی۔ یعنی اس بڑی آگ سے آپ کو نجات دینے میں، یہاں تک کہ آگ میں جب آپ کو پھینکا گیا تو اس نے آپ کو نہ جلایا۔ لایت عام قرأت جواب کی باء کی نصب کے ساتھ ہے کیونکہ یہ کان کی خبر ہے۔ ان قالو یہ محل رفع میں ہے یہ کان کا اسم ہے سالم افطن اور عمرو بن دینار نے جواب کا لفظ رفع کے ساتھ پڑھا ہے (1) کہ یہ کان کا اسم ہے اور ان خبر کے محل میں ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وقال یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : حفص اور حمزہ نے مردۃ بینکم پڑھا ہے۔ ابن کثیر ابو عمرو اور کسائی نے مردۃ بینکم قرأت کی ہے۔ جہاں تک ابن کثیر کی قرأت ہے تو اس میں تین توج ہیں ہیں، زجاج نے ان میں دو کا ذکر کیا ہے۔ مردۃ کا لفظ ان کی خبر کی وجہ سے مرفوع ہے اور مالذی کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہے دوسری توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ مبتسدا مضمر ہو کہ تقدیر کلام یہ ہوگی : معنی ہے تمہارے الہ یا تمہاری جماعت تمہارے درمیان محبت ہے۔ ابن انباری نے کہا : اوثانا یہ وقف اس کے لئے اچھا ہے جس نے مردۃ کو رفع دیا اس تقدیر کی بناء پر ذلک مردۃ بینکم نے جس نے مردۃ کو اس بناء پر رفع دیا کہ ان کی خبر ہے وہ اس پر وقف نہیں کرے گا۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ جس کو اس نے ذکر نہیں کیا کہ مردۃ کا لفظ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور فی الحیاہ الدینا اس کی خبر ہو۔ جہاں تک مردۃ کے لفظ کو بینکم کی طرف مضاف کرنے کا تعلق ہے تو بینکم کو اسم بنایا جائے گا مگر یہ ظرف نہ ہوگا۔ نحوی کہتے ہیں : اسے مجاز کی بناء پر مفعول بہ بنایا ہے۔ سیبویہ نے حکایت بیان کی ہے۔ اس کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں اس حال میں کہ یہ ظرف ہے وہ ایسی علت ہے جس کے ذکر کا یہ محل نہیں جس نے مردۃ کو رفع دیا۔ اور اسے تنوین دی تو یہ اس معنی کی بناء پر ہے جو ذکر کیا گیا بینکم ظرف ہونے کی بناء پر منصوب ہے جس نے مردۃ کو رفع دیا اور اسے تنوین نہ دی اس نے اس کو مفعول بنایا کیونکہ اتخذ کا فعل اس پر واقع ہو رہا ہے انما ایک حرف ہے اس نے اسے الذی کے معنی میں نہیں بنایا۔ مردۃ کو اس وجہ سے نصب دیا بھی جائز ہے کہ مفعول لاجلہ ہے جس طرح تو کہتا ہے : کو مجرو و پڑھا بھی جائز ہے۔ جس نے مردۃ کو تنوین دی اور اسے نصب دی تو یہ اس تاویل کی بناء پر ہے جس کو ذکر کیا گیا بینکم منصوب ہے اضافت کے بغیر ہے ابن ابناری نے کہا : جس نے مردۃ پڑھا اس نے اوثانا پر وقف نہیں کیا۔ اس نے الحیاۃ الدنیاۃ پر وقف کیا آیت کا معنی ہے تم نے بتوں کو یوں بنا دیا ہے کہ اس پر باہم محبت کرتے ہو اور دنیاوی زندگی میں ان کی عبادت پر باہم محبت کرتے ہو۔ ثم بت اپنے عباد گزاروں اور سردار اپنے تابعداروں سے برأت کا اظہار کردیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الزخروف) یہ بتوں کے عبادت گزاروں کو خطاب ہے وہ ان میں سے سردار ہوں یا پیرو کار ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : اس میں بت داخل ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانبیائ 98)
Ayahs 29:26–27

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

حضرت لوط (علیہ السلام) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی جب آگ کو آپ پر ٹھنڈی اور سلامتی والا پایا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے جبکہ حضرت لوط، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے ہیں حضرت سارہ بھی آپ پر ایمان لائیں جبکہ وہ آپ کی چچا زاد تھیں۔ نخعی اور قتادہ نے کہا : جس نے کہا : اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں (1) ۔ قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کو ثا سے ہجرت کی یہ سواد کوفہ کا ایک دیہات تھا پہلے حر ان کی طرف ہجرت کی پھر شام کی طرف ہجرت کی آپ کے ساتھ آپ کے بھتیجے حضرت لوط بن ہاران بن تارخ تھے اور آپ کی بیوی حضرت سارہ تھیں۔ (2) کلبی نے کہا : حران کے علاقہ سے فلسطین کے علاقہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ وہ پہلے شخص ہیں کہ آپ نے کفر کے علاقہ سے ہجرت کی۔ مقاتل نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی، جبکہ آپ کی عمر 75 سال تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جس نے کہا : وہ حضرت لوط (علیہ السلام) تھے۔ بیہقی نے قتادہ سے ذکر کیا : جس نے سب سے پہلے اپنے اہل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی وہ حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت نضر بن انس ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو حمزہ یعنی حضرت انس بن مالک ؓ کو کہتے ہوئے سنا حضرت عثمان بن عفان ؓ حبشہ کی طرف نکلے جبکہ ان کے ساتھ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بارہ گاہ میں ان کی خبر دیر سے پہنچی تو قریش کی ایک عورت آئی اس نے کہا اے محمد ! ﷺ ۔ میں نے آپ کا داماد دیکھا جبکہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی۔ پوچھا :” ان دونوں کو کس حال میں دیکھا۔ “ اس نے عرض کی، میں نے انہیں دیکھا اس نے اپنی بیوی کو ایک گدھے پر بٹھا رکھا تھا جو اس دبابہ (ایسا جانور جو آہستہ چلتا ہے) سے تعلق رکھتا تھا جبکہ وہ اس جانور کو ہانک رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دونوں کا اللہ ساتھی ہے، حضرت عثمان، حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اہل کے ساتھ ہجرت کی۔ “ بیہقی نے کہا : یہ پہلی ہجرت میں ہوا جہاں تک حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کا تعلق تھا (3) ۔ واقدمی نے یہ گمان کیا ہے : یہ بعث کے پانچویں سال ہوئی۔ میرے رب کی رضا کی طراور جس کی طرف اس نے مجھے حکم دیا۔ ہجرت کے متعلق گفتگو سورة النساء اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد کے ساتھ ان پر احسان کیا۔ حضرت اسحاق بچے اور حضرت یعقوب کو پوتے کی صورت میں عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کے بعد حضرت اسحاق عطا فرمایا اور حضرت اسحاق کے بعد حضرت یعقوب عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کیا مگر آپ کی نسل سے ہی مبعوث کیا۔ کتاب کو واحد ذکر کیا کیونکہ مصدر کا ارادہ کیا جس طرح نبوت ہے۔ مراد تورات، انجیل اور فرقان ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نوازشات ہوں۔ دنیا میں اجر کی صورت یہ ہے کہ تمام ادیان والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دذات پر ایمان رکھتے ہیں، یہ عکرمہ کا قول ہے۔ سفیان نے حمید بن قیس سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ عکرمہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں پوچھے عکرمہ نے جواب دیا : تمام ادیان والے دعویٰ کرتے ہیں او کہتے ہیں وہ ہم سے ہیں : سعید بن جبیر نے کہا : اس نے سوچ بولا۔ قتادہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے (النحل 122) مراد عاقبت، عمل صالح اور اچھی تعریف، اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام ادیان والے اس کی پیروی کرتے ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اکثر انبیاء ان کی اولاد میں سے ہیں میں داخل نہیں یہ وضاحت ہے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزار چکی ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ دین حق پر صبر کرنے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتداء پر برانگیختہ کیا جائے۔