29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 29:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader

الۤمّۤ۔

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ وہ اتناکہنے سے چھوڑدئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایانہ جائے گا۔

دعویٰ ایمان کے بعد امتحان بھی ہوتا ہے یہاں سے سورة عنکبوت شروع ہو رہی ہے، عربی زبان میں عنکبوت مکڑی کو کہا جاتا ہے اس سورة کے پانچویں رکوع میں عنکبوت یعنی مکڑی کا ذکر ہے اسی لیے یہ سورة اس نام سے مشہور ہے۔ آیت کے ابتدائی مضمون میں اول تو یوں فرمایا کہ جو لوگ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ خیال کیا کہ صرف اتنا کہہ دینے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ کیا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ میں مومن ہوں کافی نہیں ہے، دل سے مومن ہونا لازم ہے اور جب کوئی سچا مومن ہوگا تو آزمائشوں میں ڈالا جائے گا، یہ آزمائشیں کئی طرح سے ہوں گی، عبادات میں مجاہدہ ہوگا، خواہشوں کے خلاف بھی چلنا ہوگا، مصائب پر صبر کرنا ہوگا، ان چیزوں کے ذریعہ مومن بندوں کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جب امتحان ہوتا ہے اور مجاہدات اور مشقتیں سامنے آتی ہیں تو مخلص مومن اور منافق کے درمیان امتیاز ہوجاتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے (جلد 2 ص 134) بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم حضرت شعبی ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے ہجرت کے بعد مکرمہ میں ہوتے ہوئے اسلام قبول کرلیا تھا، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ نے (جو ہجرت کرکے مدینہ منورہ آچکے تھے) ان لوگوں کو لکھا کہ جب تک ہجرت نہ کرو گے تمہارا اسلام لانا مقبول اور معتبر نہ ہوگا، اس پر وہ لوگ مدینہ منورہ کے ارادہ سے نکلے تو مشرکین ان کے پیچھے لگ گئے اور انہیں واپس لے گئے، اس پر آیت بالا نازل ہوئی، مہاجرین نے انہیں پھر لکھا کہ تمہارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس پر انہوں نے پھر مکہ معظمہ سے نکلنے کا ارادہ کیا اور یہ طے کیا کہ اگر مشرکین آڑے آئے تو ہم ان سے جنگ کریں گے، چناچہ یہ لوگ ہجرت کے ارادہ سے نکلے اور مشرکین پھر ان کے پیچھے لگ گئے جس پر انہوں نے قتال کیا، بعض مقتول ہوگئے اور بعض نجات پاکر مدینہ منورہ پہنچ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة نحل کی یہ آیت نازل فرمائی (ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَ صَبَرُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے فتنہ میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور قائم رہے تو آپ کا رب اس کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ ) اس کے بعد صاحب روح المعانی نے حضرت حسن بصری (رح) کا مقولہ نقل کیا ہے کہ یہاں الناس سے منافقین مراد ہیں۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمنے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا ہے سو اللہ ضرور ضرور ان لوگوں کو جان لے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو بھی جان لے گا۔

پھر فرمایا (وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے) (فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا) (سو ضرور ضرور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں) (وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) (اور ضرور ضرور ان لوگوں کو بھی جان لے گا جو جھوٹے ہیں) یعنی جو زبان سے ایمان کے مدعی ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا گیا ان کو بھی تکلیفیں پہنچیں اور دشمنان اسلام سے واسطہ پڑا، مقتول ہوئے، زخم کھائے اور دوسری تکلیفوں میں مبتلا ہوئے، اب امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ) مخاطب ہے ان کا بھی امتحان لیا جائے گا۔ سورۂ آل عمران میں فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَہٗ رِبِّیُّوْنَ کَثِیْرٌ فَمَا وَ ھَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَکَانُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ) (اور بہت سے نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، پھر جو مصیبتیں ان کو اللہ کی راہ میں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ ہمت ہارے نہ کمزور پڑے اور نہ عاجز ہوئے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ) اہل ایمان کے ساتھ آزمائش کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، دعا امن و عافیت اور سلامتی کی ہی کرنی چاہیے، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے تو صبر و تحمل اور برداشت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو سامنے رکھتے ہوئے آزمائش کا وقت گزار دیں، تکلیفوں پر بھی اجر اور صبر پر بھی، صبر کا پھل میٹھا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جو لوگ صدق دل سے مسلمان ہوتے ہیں وہ تکلیفوں اور آزمائشوں میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور جو لوگ دفع الوقتی کے طور پر دنیا سازی کے لیے اوپر اوپر سے اسلام کے مدعی ہوجاتے ہیں وہ آڑے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ مصائب اور مشکلات کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ کو مخلوق پیدا فرمانے سے پہلے ہی سب کچھ معلوم تھا کہ کون کیا کرے گا اور کیسا ہوگا، اسے پہلے ہی سے اس کا علم ہے، پھر جب اسی علم ازلی کے مطابق لوگوں کے اعمال اور احوال کا ظہور ہوجاتا ہے تو یہ علم بھی ہوجاتا ہے کہ علم ازلی کے مطابق جو واقعہ ہونے والا تھا وہ ہوچکا۔ مفسرین کرام اسے علم ظہوری سے تعبیر کرتے ہیں، یہ مسئلہ ذرا باریک سا ہے کسی اچھے عالم سے سمجھ لیں۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے چھوٹ کر کہیں بھاگ جائیں گے، برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔

یہ جو کچھ امتحان اور آزمائش کا ذکر تھا ایمان کا دعویٰ کرنے والوں سے متعلق تھا اور جو لوگ تکلیفیں پہنچاتے تھے (یعنی مشرک) ان کے بارے میں فرمایا (اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا) جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے آگے بڑھ جائیں گے (یعنی ہماری گرفت میں نہ آسکیں گے اور کہیں نکل کر بھاگ جائیں گے ؟ ) (سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) (یہ لوگ جو کچھ اپنے خیال میں گمان کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں اور اپنے گمان کے مطابق فیصلہ کر رہے ہیں یہ برا فیصلہ ہے) اور بیہودہ خیال ہے، خدا وندی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے، اس میں ایذاء دینے والوں کے لیے تہدید بھی ہے اور اہل ایمان کو تسلی بھی ہے کہ یہ لوگ جو تمہیں ستاتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں انہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔
Ayahs 29:5–6

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے سو بلاشبہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، اور وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے،

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

جو شخص مجاہدہ کرتا ہے سو وہ اپنے لیے ہی محنت کرتا ہے، بلاشبہ اللہ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے

ہر شخص کا مجاہدہ اس کے اپنے نفس کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اسے ثواب ملے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات اور ثواب عطا فرمانے کے لیے ایک وقت مقرر فرمایا ہے اور وہ وقت ضرور آئے گا اور جو عمل ثواب کے لائق ہوگا اس پر ضرور ثواب ملے گا، اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ سب کی دعائیں سنتا ہے، آرزوئیں جانتا ہے، سب کے اعمال سے باخبر ہے وہ تمام مخلصین کو بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ اہل ایمان کو جو ایمان قبول کرنے پر بعض مرتبہ تکلیفیں ہوتی ہیں اور دشمنان دین سے اذیت پہنچتی ہے یہ ایک مجاہدہ ہے یعنی نفس سے مقابلہ ہے۔ یہ لفظ جہد سے مشتق ہے، عربی زبان میں جہد مشقت کو کہتے ہیں۔ یہ باب مفاعلہ ہے جو جانبین کی شرکت پر دلالت کرتا ہے، جب کوئی شخص آخرت کی بہتری کے لیے عمل کرنا چاہے (جس میں ایمان کا قبول کرنا بھی ہے) تو نفس کو شاق گزرتا ہے اور نفس کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے اس لیے اس کو مجاہدہ سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا جو شخص مشقت اٹھائے، محنت اور مجاہدہ کرے تو اس کا تکلیف اٹھانا اور مشقت برداشت کرنا اس کی اپنی جان کے لیے ہے وہ اس کا اجر وثواب پالے گا، اللہ تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں ہے اسے کسی کے کسی عمل کی حاجت نہیں وہ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ضرور ضرور ہم ان کی برائیوں کا کفارہ کردیں گے اور ضرور ضرور ہم انہیں ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دیں گے۔

اس کے بعد ایک عمومی قانون بتایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (الآیۃ) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کی برائیوں کا کفارہ کردیں گے یعنی ان کی برائیوں کو اپنی مغفرت سے ڈھانپ دیں گے، توبہ کے ذریعہ اور نیکیوں کے ذریعہ اور اپنے فضل و کرم سے انہیں معاف کردیں گے، کفر اور شرک کا ایمان سے کفارہ ہوجاتا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد جو گناہ کیے ہوں ان کا کفارہ ہوتا رہتا ہے اسلام پر باقی رہتے ہوئے اخلاص کے ساتھ جو اعمال صالحہ اختیار کیے جائیں ان کا اچھے سے اچھا بدلہ ملے گا جو ان کے اعمال سے بہت زیادہ اچھا اور عمدہ ہوگا، تھوڑے سے کام پر بہت زیادہ نعمتیں ملیں گی اور ہر نیکی کم از کم دس گنا کردی جائے گی اور اسی اعتبار سے ثواب ملے گا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کر اور اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہرا جس کی دلیل تیرے پاس نہیں ہے سو تو ان کی فرمانبرداری نہ کرنا، میری طرف تم لوگوں کو واپس ہوتا ہے سو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کردوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے، سورة بنی اسرائیل رکوع 3 میں اس کا طریقہ کار بھی بیان فرمایا ہے، وہاں ارشاد فرمایا : (وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَ بالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا اَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) (اور تیرے رب نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں سو ان کو کبھی اف بھی مت کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا اے میرے رب ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔ ) سورۂ بنی اسرائیل کی مندرجہ بالا آیات میں اول تو (وَ بالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا) فرمایا جس میں والدین کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے کا حکم دیا ہے جو حسن سلوک کرنے اور ان پر مال خرچ کرنے کو شامل ہے۔ پھر بوڑھے ماں باپ کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا کہ ان کو اف بھی نہ کہو اور ان کو مت جھڑکو اور ان سے اچھے طریقے سے بات کرو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ماں باپ کے سامنے شفقت اور رحمت کی وجہ سے انکساری کے ساتھ جھکے رہو۔ پھر ان کے لیے دعا کرنے کا حکم دیا کہ یوں دعا کرو کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں میری پرورش کی ہے۔ اس میں رحمت اور شفقت کا سبب بھی بیان فرمایا کہ کبھی تم ایسے تھے کہ ان کی شفقت کے محتاج تھے، انہوں نے تمہیں پالا پوسا تمہارے لیے تکلیفیں اٹھائیں اب وہ ضعیف ہیں تم قوی ہو تمہیں ان کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔ مزید تفصیل کے لیے سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ آیات کی تفسیر دیکھئے وہاں ہم نے بہت سی احادیث شریفہ کا ترجمہ بھی لکھ دیا ہے جو والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنے سے متعلق ہیں۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنے کا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اِنْ جَاھَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا) (اور اگر تیرے ماں باپ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے معبود ہونے کی تیرے پاس دلیل نہیں تو ان کی فرمانبرداری مت کرنا) یہ حکم سورة لقمان میں بھی ہے وہاں مزید فرمایا (وَ صَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرِوْفًا) (کہ ان کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے پر پیش آتے رہو) یعنی اگر وہ کفر و شرک کرنے کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت مت کرنا، اور باوجودیکہ وہ کافر ہوں حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا اور ان کی خدمت سے دریغ نہ کرنا، جیسا کہ ماں باپ کے کہنے سے کفرو شرک حرام ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بھی نافرمانی کرنا ممنوع ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : (لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ) (کہ خالق تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی فرمانبرداری کی اجازت نہیں) ، ہاں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک میں اور مالی انفاق میں کوتاہی نہ کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) حضرت ابو بکرصدیق ؓ کی ایک بیٹی حضرت اسماء ؓ تھیں وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئی تھیں، ان کی والدہ مشرکہ تھیں اور وہ مکہ مکرمہ میں رہ گئی تھیں، سن 6 ھ میں جب رسول اللہ ﷺ سے مشرکین مکہ کا معاہدہ ہوا جس میں یہ بھی تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ نہ کریں گے اس زمانہ میں حضرت اسماء ؓ کی والدہ مدینہ آگئیں، حضرت اسماء ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور اس وقت عاجز ہیں اور مالی مدد چاہتی ہیں کیا میں مال سے ان کی خدمت کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ان کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرو۔ (رواہ البخاری) آجکل نوجوانوں کو اس میں بڑا ابتلا ہوتا ہے کہ ماں باپ انہیں گناہوں کی زندگی اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں، داڑھی مونڈوانے پر اصرار کرتے ہیں، رشوت لینے پر آمادہ کرتے ہیں، بینک کی نوکری اختیار کرنے اور سود لینے کا بھی حکم دیتے ہیں، بےپردگی اختیار کرنے کو کہتے ہیں، ان کے علاوہ بہت سے گناہوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ اوپر حدیث سے معلوم ہوا کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی فرمانبرداری نہیں، ماں باپ کے لیے حرام ہے کہ اولاد کو گناہوں کا حکم دیں اور اولاد کے لیے بھی حلال نہیں ہے کہ ماں باپ کے کہنے پر کوئی گناہ کریں، اللہ تعالیٰ خالق اور مالک ہے، اس نے سب کو وجود بخشا ہے اس کا حق سب سے پہلے ہے اور سب سے زیادہ، کسی مخلوق کا حق اس کے بعد میں ہے، اللہ تعالیٰ کے حق کی رعایت کرنا لازم اور فرض ہے، اس کے حکم کی خلاف ورزی کسی کے کہنے سے بھی حلال نہیں ہے۔ تفسیر روح المعانی ص 139 میں آیت بالا کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اسلام قبول کرلیا تو ان کی والدہ نے کہا کہ اے سعد میں نے سنا ہے کہ تو اپنا دین چھوڑ کر دوسرے کے دین میں داخل ہوگیا ہے ؟ میں اللہ کی قسم کھاتی ہوں کہ میں کسی گھر میں داخل نہ ہوں گی (یوں ہی میدان میں پڑی رہوں گی خواہ دھوپ ہو اور ہوا سے میرا کچھ نہ بنے) اور مجھ پر کھانا پینا حرام ہے جب تک کہ تو محمد ﷺ کے اتباع کا انکار نہیں کرے، حضرت سعد ؓ اپنی والدہ کے سب سے زیادہ چہیتے بیٹے تھے، انہوں نے کفر اختیار کرنے سے صاف انکار کردیا اور ان کی والدہ نے اپنی قسم کی وجہ سے بغیر کھائے پیئے یوں ہی میدان میں پڑے ہوئے تین دن گزار دئیے، حضرت سعد ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ سنایا، اس پر آیت بالا اور سورة لقمان کی آیت (وَوَصَّیْنَاالْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا) نازل ہوئی۔ معالم التنزیل ص 461 میں لکھا ہے کہ حضرت سعد ؓ کی والدہ نے دو دن اور دو رات تک کچھ نہ کھایا پیا، اس کے بعد حضرت سعد ؓ والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اماں جان اگر آپ کے بدن میں سو 100 روحیں بھی ہوتیں اور ایک ایک کرکے نکلتی رہی تو میں اس کو دیکھ کر بھی کبھی اپنا دین نہ چھوڑتا، اب تم چاہو تو کھاؤ پیو یا مرجاؤ، بہرحال میں اپنے دین سے نہیں ہٹ سکتا، ماں نے اس گفتگو سے مایوس ہو کر کھانا کھالیا۔ (اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (میری طرف تمہارا لوٹنا ہے سو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کیا کرتے تھے) اس میں یہ بتادیا کہ دنیا میں کوئی شخص کیسا بھی عمل کرے بہرحال اسے قیامت کے دن حاضر ہونا ہے اور دنیا میں جو اعمال کیے تھے وہ سامنے آجائیں گے اور اعمال کے مطابق جزا سزا ملے گی۔ پھر اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کو خوشخبری دی اور فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّھُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم ضرور ضرور انہیں صالحین میں داخل کریں گے) یعنی ان کا شمار صالحین میں ہوگا اور انہیں صالحین کے مراتب اور درجات سے سرفراز کیا جائے گا۔
Ayahs 29:9–10

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے سو ہم ان کو ضرور ضرور نیک بندوں میں داخل کردیں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب انہیں اللہ کے بارے میں تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی طرح بنالیتے ہیں۔ اور اگر ان کے پاس آپ کے رب کی طرف سے مدد آجائے تو ضرور ضرور یوں کہیں گے کہ ہم تمہارے ساتھ تھے، کیا اللہ جہاں والوں کے سینوں کی باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا نہیں ہے ؟

مدعیان ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ بعض مسلمان تھے وہ زبان سے تو اسلام کا اظہار کردیتے تھے پھر جب کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچ جاتی تھی تو ان کے موافق ہوجاتے تھے اور اس موافقت کو مسلمانوں سے چھپاتے تھے۔ اور قتادہ سے یہ نقل کیا ہے کہ بعض لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے پھر مشرکین مکہ انہیں واپس لے گئے۔ دنیا داری حقیقت میں کمزوری کا سبب ہے، اگر آخرت کا یقین پختہ ہو اور آخرت کی ضرورت سمجھ کر ایمان قبول کیا ہو تو منافقت کی شان ختم ہوجاتی ہے، اگر کافروں میں پھنس کر کوئی مومن بندہ مجبور ہوجائے تو گو وہ بظاہر زبان سے کوئی نامناسب کلمہ کہہ دے لیکن دل سے کفر اختیار نہیں کرسکتا اور کافروں کا ہم نوا نہیں بن سکتا، اگر کافروں سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس پر صبر کرتا ہے جیسے عہد نبوی کے مسلمانوں (حضرت بلال، حضرت عمار اور حضرت خباب ؓ نے تکلیفیں برداشت کیں، پختہ مسلمان سمجھتا ہے کہ یہ تو تھوڑی سی تکلیف ہے کفر پر مرنے کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوگا وہ بہت ہی شدید ہوگا لیکن جن لوگوں کا ایمان یوں ہی نام کو ہوتا ہے وہ لوگ ایمان پر پہنچنے والی تکلیفوں کو اس عذاب کے برابر سمجھ لیتے ہیں جو آخرت میں کافروں کو ہوگا اور اس کی وجہ سے صریح کفر اختیار کرلیتے ہیں اور کافروں کا ساتھ دینے لگتے ہیں۔ اور چونکہ دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں اس لیے خفیہ طور پر کفر اختیار کرنے کے باوجود مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو تمہیں جو فلانی جگہ مال غنیمت حاصل ہوا ہمیں بھی اس میں شریک کرو ہم بھی تو تمہارے ساتھ تھے (یعنی ہم دینی اعتبار سے تمہارے ساتھی ہیں) ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا (اَوَ لَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ ) (کیا اللہ جہاں والوں کے سینوں کی باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا نہیں ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کہ کس کے دل میں کیا ہے کون مخلص ہے کون منافق ہے، اگر کسی نے بندوں سے اپنے نفاق کو چھپالیا تو اللہ تعالیٰ سے تو نہیں چھپا سکتا۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ اللہ ایمان والوں کو ضرور جان لے گا اور وہ ضرور ضرور منافقوں کو جان لے گا۔

(وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) (اور البتہ اللہ ایمان والوں کو ضرور جان لے گا اور وہ ضرور ضرور منافقوں کو جان لے گا) اسے ہمیشہ سے سب کچھ معلوم ہے اور آئندہ بھی جس کا جو عقیدہ اور عمل ہوگا وہ اسے جان لے گا۔ اہل ایمان کو ایمان کی جزا اور اہل نفاق کو نفاق کی سزا دے گا۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمان والوں سے کہا کہ تم ہمارے راستہ کا اتباع کرلو اور تمہارے گناہوں کو ہم اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں ہیں، بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں۔

قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا دشمنان اسلام خود تو کفر پر جمے ہوئے تھے ہی اہل ایمان کو بھی کفر پر لانے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور انہیں ترغیب دیتے رہتے تھے کہ تم ہمارے دین میں آجاؤ، ان کی ان باتوں میں سے یہاں پر ایک بات نقل فرمائی ہے اور وہ یہ کہ کافروں نے اہل ایمان سے کہا کہ تمہیں جو رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر یقین آگیا ہے اور تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ اگر تم محمد ﷺ کے دین سے پھر جاؤ گے تو قیامت کے دن عذاب میں گرفتار ہوگے اس کے بارے میں ہماری پیشکش سن لو ! تمہیں اس عذاب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، فرض کرو اگر قیامت کا دن واقعی کوئی چیز ہے اور اس دن محمد ﷺ کا اتباع نہ کرنے سے تمہارا مواخذہ ہوا اور تم دوزخ میں جانے لگے تو ہم تمہاری سب خطاؤں کو اپنے اوپر لاد لیں گے اور تمہارے بارے میں جو عذاب کا فیصلہ ہوگا اس عذاب کو ہم بھگت لیں گے بس تم ہمارے دین کا اتباع کرو اور ہمارے ساتھ رہو۔ چونکہ ان لوگوں کو قیامت کے واقع ہونے اور وہاں کی جزا سزا پر یقین نہیں تھا اس لیے ایسی بات کہہ دی، اگر قیامت کو ماننے اور قیامت کے دن کے عذاب کا اور دوزخ کا یقین رکھتے تو ایسی بات نہ کہتے۔ دنیا میں کوئی شخص ایک منٹ کے لیے بھی دنیا والی آگ ہاتھ میں رکھنے کے لیے تیار نہیں بھلا وہاں آگ کی تکلیف کیسے برداشت کرسکتا ہے جس کی حرارت دنیاوی آگ کی حرارت سے انہتر درجہ زیادہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا کوئی کسی کو نہ پوچھے گا نہ کوئی کسی کا عذاب اپنے سر لینے کو تیار ہوگا اسی کو سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے (وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) (اور کوئی گنہگار نفس کسی دوسرے گنہگار نفس کا بوجھ نہ اٹھائے گا) اور یہاں سورة عنکبوت میں فرمایا ہے (وَمَا ھُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰھُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں ہیں، بلاشبہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ) اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کفر اختیار کرنے میں اور دوسرے گناہوں پر چلنے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور سزا دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، جو کفر کرے گا اور گنہگاری کی زندگی گزارے گا وہ اپنی نافرمانی کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہوگا، مستحق عذاب کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی اور کو عذاب دینا یہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں نہیں ہے۔ بالفرض اگر کوئی شخص کسی کا عذاب اپنے سر لینے کے لیے تیار ہو بھی جائے تو اس کے لیے اس کی رضا مندی بھی تو ضروری ہے جس کی نافرمانی کی ہے۔ اپنی طرف سے بات بتادینے سے گناہ کرنے والے کی جان نہیں چھوٹ سکتی۔ کفار کا یہ کہنا کہ ہم عذاب بھگت لیں گے اس میں دو جھوٹ ہیں، اول عذاب بھگتنے کا وعدہ ! حالانکہ قیامت کے دن کوئی کسی کو نہ پوچھے گا، رشتہ دار، دوست احباب سب ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے، باپ بیٹے کی طرف سے اور بیٹا باپ کی طرف سے کوئی بدلہ نہ دے سکے گا نہ بدلہ دینے کے لیے تیار ہوگا۔ اور ان کے دعوے میں دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ ہم نے جو بات کہی ہے اللہ تعالیٰ اس کو منظور فرما لے گا اور تم عذاب سے بچ جاؤ گے۔ ان لوگوں کی تکذیب کے لیے فرمایا (اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں) اور یہ بھی فرمایا ہے (وَ لَیُسْءَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (اور ضرور ضرور قیامت کے دن اس کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا جو جھوٹ وہ بناتے ہیں۔ ) یاد رہے کہ آیت کریمہ میں یہ بتلایا ہے کہ ایک شخص کے کفر اور معاصی پر دوسرے شخص کو عذاب نہ ہوگا، ہر ایک شخص اپنے کفر اور عمل بد کی خود سزا بھگتے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو گمراہ کرنے کی سزا نہیں ملے گی، گمراہ کرنے والوں کو خود اپنے کفر کی سزا ملے گی اور گمراہ کرنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں اور کفر و شرک اور گمراہی پر لگایا اس کی بھی سزا ملے گی، یہ اس وجہ سے کہ گمراہ کرنا اور کفر و شرک پر ڈالنا ان کا اپنا عمل ہے۔ اسی کو سورة نحل میں فرمایا (لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقَیٰمَۃِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ) (تاکہ وہ اپنے گناہوں کے بوجھ پورے پورے اٹھا لیں اور ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھا لیں جنہیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں، خبردار بڑا بوجھ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں۔ ) اور یہاں سورة عنکبوت میں فرمایا (وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِھِمْ ) (اور وہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے) یعنی جن کے گمراہ کرنے کا سبب بنے اور ان کی گمراہی کا بھی عذاب بھگتیں گے اور ان کے گمراہ کرنے سے گمراہی اختیار کرنے والے سبکدوش نہ ہوں گے انہیں گمراہی اختیار کرنے پر مستقل عذاب ہوگا۔ اس تفسیر سے حدیث نبوی کا مفہوم بھی واضح ہوگیا، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے ان سب لوگوں کے اعمال کا بھی ثواب ملے گا جنہوں نے اس کا اتباع کیا اور ان اتباع کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی اور جس کسی شخص نے گمراہی کی دعوت دی تو اس پر ان سب لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا جنہوں نے اس کا اتباع کیا، اور ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ (رواہ مسلم) بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اپنے ساتھ کے اٹھنے بیٹھنے والوں کو گناہ کی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اپنے ماحول کی وجہ سے مجبور کرتے ہیں کہ تو ہماری طرح گنہگار ہوجا، اگر کوئی شخص یوں کہتا ہے کہ گناہ پر گرفت ہوگی اور آخرت میں عذاب ہوگا تمہارے کہنے پر گناہ کیوں کروں ؟ تو اس پر کہہ دیتے ہیں کہ اس کا جو گناہ ہے وہ ہمارے اوپر رہا اس کی سزا ہم بھگت لیں گے۔ درحقیقت اس میں وہی کا فرانہ عقیدہ پوشیدہ ہے کہ قیامت کے دن عذاب نہیں ہوگا، اگر عذاب کا یقین ہوتا تو ایسی باتیں نہ کرتے، کسی کے یوں کہہ دینے سے کہ میں تیری طرف سے عذاب بھگت لوں گا عذاب سے چھٹکارا نہ ہوگا البتہ یہ بات کہنے والا اپنی اس بات کی سزا پائے گا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ترغیب دی اور اپنی طرف سے یہ قانون بنالیا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی طرف سے عذاب بھگت لے گا اللہ کے دین میں داخل کیا۔
Ayahs 29:13–14

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور وہ لوگ ضرور ضرور اپنے بوجھوں کو اٹھائیں گے، اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے، اور قیامت کے دن ضرور ضرور ان باتوں کا سوال کیا جائے گا جو دنیا میں جھوٹ بناتے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، سو وہ ان میں پچاس کم ہزار سال رہے سو ان لوگوں کو طوفان نے پکڑلیا اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ اور ان کی قوم کی بغاوت و ہلاکت کا تذکرہ ان دونوں آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت اور بعثت اور مدت اقامت اور قوم کی عداوت و بغاوت اور ہلاکت کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے، ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور تبلیغ کی اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ فرمائی مگر ان لوگوں نے بہت بڑی سرکشی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو الٹے الٹے جواب دیتے رہے اور کفر و شرک پر جمے رہے، حد یہ ہے کہ انہوں نے یوں کہہ دیا کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ لے آؤ، اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم دیا، جب کشتی بنالی تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنے باایمان گھر والوں کو اور دوسرے اہل ایمان کو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں، جب یہ حضرات کشتی میں سوار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیج دیا زمین نے پانی اگلا اور آسمان نے بھی پانی برسایا، کافر قوم میں سے کوئی بھی نہ بچا سب غرق ہوگئے سورة اعراف میں فرمایا (فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْفَلْکِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ ) (سو ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا سو ہم نے انہیں اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے نجات دے دی اور ہم نے ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا بلاشبہ وہ لوگ اندھے تھے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی بغاوت اور غرقابی کا مفصل قصہ سورة اعراف (ع 7) اور سو رۂ ہود (ع 4) کی تفسیر میں لکھا جاچکا ہے اور سورة شعراء (ع 5) میں بھی گزر چکا ہے اور سورة نوح میں بھی آئے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔
Ayahs 29:15–16

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دے دی ہے اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لیے عبرت بنا دیا۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور اللہ تعالیٰ سے رزق طلب کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمانا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت اور رسالت کا اور قوم کو توحید کی دعوت دینے اور شرک سے بیزار ہونے کا اجمالاً تذکرہ فرمایا ہے، ان کا واقعہ جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے، سورة آل عمران میں ان کا نمرود سے مناظرہ کرنا اور سورة انعام میں اپنی قوم کو اور اپنے باپ کو بت پرستی اور ستارہ پرستی سے روکنا اور انہیں یہ بتانا کہ یہ سب گمراہی کا کام ہے اور سورة انبیاء میں اور سورة شعراء میں اپنی قوم کو سمجھانے اور بت پرستی کا ضرر اور نقصان اور خسران سمجھانے کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہو اور جھوٹی باتیں تراشتے ہو تمہارا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کے شریک ہیں اور تمہارا یہ خیال کرنا کہ یہ ہمارے کام آئیں گے یہ سب جھوٹ ہے اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے تم ان کی عبادت چھوڑ دو ، اللہ سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اور یہ بھی سمجھ لو کہ تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، اس کی عبادت کرو گے اور اس کا شکر ادا کرو گے تو موت کے بعد اچھی حالت میں رہو گے، اور اگر تم کفر اور شرک پر جمے رہے تو مرنے کے بعد اس کی سزا بھگتو گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلا چکی ہیں، وہ اپنے کردار کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں، رسول کا کام بس اتنا ہے کہ واضح طور پر حق کو بیان کردے، ایسا کرنے سے اس کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے، تم سے پہلے جو لوگ رسولوں کی رسالت کے منکر ہوئے انہوں نے اپنا ہی برا کیا اور اپنی جانوں کو عذاب میں جھونکنے کا راستہ اختیار کیا، تم بھی سمجھ لو کہ اگر تم نے میری دعوت قبول نہیں کی، شرک سے توبہ نہ کی، توحید پر نہ آئے تو تمہارا اپنا ہی برا ہوگا۔
Ayahs 29:17–19

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر تم بتوں ہی کی عبادت کرتے ہو اور جھوٹی باتیں تراشتے ہو یہ تمہارے لیے رزق کے مالک نہیں ہیں سو تم اللہ کے پاس رزق تلاش کرو اور باس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر جھٹلاؤ گے تو تم سے پہلی امتیں جھٹلا چکی ہیں، اور رسول کے ذمہ واضح طور پر پیغام پہنچانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا ہے پھر وہ اسے دوسری بار پیدا فرمائے گا، بلاشبہ اللہ پر آسان ہے۔

اثبات قیامت پر دلیل آفاقی اور منکرین قیامت کے لیے زجر ابھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو باقی ہے جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان تھی، درمیان میں قریش مکہ کو خطاب فرمایا جو قرآن کے مخاطبین اولین تھے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کے منکر ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے سامنے انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کی ابتدائی پیدائش ہوتی رہتی ہے، چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو پیدا فرما دیتا ہے، ابتداً پیدا فرمانا اور دوبارہ پیدا فرمانا اس کے لیے آسان ہے، دیکھو زمین ہری بھری ہوتی ہے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں، پھر فنا ہوجاتی ہیں، زمین مردہ ہوجاتی ہے یعنی خشک ہوجاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ زمین سے بار بار ہری بھری کھیتیاں نکال دیتا ہے، یہ سب نظروں کے سامنے ہے پھر انسان کو دوبارہ تخلیق میں کیوں شک ہے ؟ قال صاحب روح : قولہ تعالیٰ (ثم یعید) عطف علی (اولم یروا) لا علی یبدئ وجوز العطف علیہ بتأویل الاعادۃ بانشاۂ تعالیٰ کل سنۃ مثل ما انشأہ سبحانہ فی السنۃ السابقۃ من النبات والثمار وغیرھما فان ذلک مما یستدل بہ علی صحۃ البعث ووقوعہ علی ما قیل من غیر ریب۔ (تفسیر روح المعانی کے مصنف فرماتے ہیں ثُمَّ یُعِیْدُ کا عطف اولم یروا پر ہے نہ کہ یُبْدِئُ پر اور بعض حضرات نے یُبْدِئُ پر عطف کا احتمال نکالا ہے تو اس تاویل کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر آنے والے موسم میں پچھلے موسم کی طرح کھیتوں اور پھلوں وغیرہ کو نئے سرے سے اگاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ایسا ہے کہ اس سے انسانوں کے مرنے کے بعد جی اٹھنے پر وقوع حشر پر بلاشک استدلال کیا جاسکتا ہے۔ )
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چلو پھرو سو دیکھو اللہ نے پہلی بار کس طرح مخلوق کو پیدا فرمایا پھر دوسری مرتبہ بھی اللہ پیدا فرما دے گا بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

پھر فرمایا تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے ابتداً مخلوق کی تخلیق فرمائی اس کے بعد جب دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو پھر پیدا فرما دے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا رحم فرمائے گا اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

(یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کو چاہے عذاب دے) (وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ ) (اور جس پر چاہے رحم فرمائے) (وَ اِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ) (اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) دنیا میں اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسی کے فیصلوں کے مطابق سب کچھ ہوگا، آسمان اور زمین میں کوئی عاجز کرنے والا نہیں، اگر کوئی یہ چاہے کہ کہیں چھپ جائے یا بھاگ جائے اور اللہ کے قضا اور قدر والے فیصلے سے بچ جائے یا اس کے عذاب سے چھوٹ جائے ایسا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم زمین پر کسی کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں،

اسی کو یہاں فرمایا ہے (وَ مَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ) (اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو زمین میں نہ آسمان میں) (وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ) (اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے) وہ جس پر چاہے رحم کرے اور جس کی چاہے مدد کرے۔ جب اس کا کسی کو عذاب دینے کا فیصلہ ہوجائے تو کوئی بھی اس کی کسی قسم کی مدد نہیں کرسکتا
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا اور اس کا انکار کیا یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

(وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآءِہٖٓ) (الآیۃ) (اور جو لوگ اللہ کی آیات اور ملاقات کے منکر ہوئے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا) اس وقت سمجھ لیں گے کہ ہم اپنے کفر کی وجہ سے اس لائق نہیں ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہوں گے۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

سو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس کو قتل کر ڈالو یا جلا ڈالو، سو اللہ نے ان کو آگ سے نجات دے دی، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا جواب کہ ان کو قتل کر دو یا آگ میں جلا دو اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور تبلیغ کا ذکر تھا درمیان میں کچھ تنبیہات آگئیں جو قرآن کریم کے مخاطبین سے متعلق ہیں، یہاں سے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مخالفین کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین کی تو ان کی قوم نے یہی کہا کہ ان کو مار ڈالو یا آگ میں جلا دو ، چناچہ قوم نے انہیں آگ میں ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈی ہوجانے کا حکم دے دیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دے دی، وہ آگ سے صحیح سالم نکل آئے، (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قوم کو سمجھانا کہ تم دنیاوی دوستی کی وجہ سے بت پرستی میں لگے ہو اور قیامت کے دن ایک دوسرے پر لعنت کرو گے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنی قوم سے دعوت توحید کے سلسلہ میں باتیں کیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ تم لوگوں نے جو بتوں کو معبود بنا رکھا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم لوگوں کی دیکھا دیکھی اس کام میں لگ گئے ہو، تم نے غورو فکر تو کیا ہی نہیں جس سے تم پر حق واضح ہوجاتا کہ بتوں کا پوجنا بہت بڑی حماقت ہے، تم نے تو یہ دیکھ لیا کہ ساری قوم ان کی پرستش کرتی ہے، اور باپ دادے ان کی پوجا کرتے چلے آتے ہیں، تمہاری دنیا والی دوستیاں ایک دوسرے کو جو کفر و شرک پر لگائے ہوئے ہیں، تم یہ سمجھتے ہو کہ توحید کو مانیں اور بتوں کو چھوڑیں تو قوم سے علیحدہ ہوجائیں گے، قوم ہم سے ناراض ہوجائے گی۔ صاحب روح المعانی (جلد 20: ص 150) (مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : المعنی ان مودۃ بعضکم بعضاھی التی دعتکم الی اتخاذھا بان رأیتم بعض من تو دونہ اتخذھا فاتخذتموھا موافقۃ لہ لمودتکم ایاہ، وھذا کما یری الانسان من یودہ یفعل شیئاً فیفعلہ مودۃ لہ۔ (اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہاری ایک دوسرے سے محبت ہی ہے جس نے تمہیں بچھڑے کو معبود بنانے کی دعوت دی۔ اس طرح کہ تم نے اپنی محبت والے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ بچھڑے کو پوج رہے ہیں تو تم نے بھی محبت کی وجہ سے ان کی موافقت میں بچھڑے کو معبود بنالیا۔ اور یہ ایسے ہے جیسے انسان اپنے کسی گہرے تعلق والے کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو وہ بھی اس کی محبت کی وجہ سے اسی کام کو کرنے لگتا ہے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ دنیا میں تو تم دوست بنے ہوئے ہو، اور تمہاری یہ دوستی آپس میں ایک دوسرے سے بت پرستی کرانے کا سبب بنی ہوئی ہے لیکن قیامت کے دن تمہاری یہ دوستی دشمنی سے بدل جائے گی وہاں ایک دوسرے کے مخالف ہوجاؤ گے اور تم میں سے بعض پر لعنت کریں گے کیونکہ تم نے ایک دوسرے کو راہ حق سے روکا تھا، یہ لعن طعن آپس میں ہوگا اور سب ہی کو دوزخ میں جانا ہوگا اور وہاں تم میں سے کوئی کسی کا مددگار نہ ہوگا، یہاں شرک کرانے میں ایک دوسرے کے مددگار بنے ہوئے ہو لیکن وہاں کوئی کسی کی مدد نہ کرے گا۔ سورة اعراف میں فرمایا (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا) (جب کوئی جماعت دوزخ میں داخل ہوگی تو اپنی ساتھ والی جماعت پر لعنت کرے گی جو ان سے پہلے دوزخ میں داخل ہوچکی ہوگی) سورة ص میں فرمایا (قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ لاَ مَرْحَبًا بِکُمْ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا فَبِءْسَ الْقَرَارُ ) (یعنی دنیا میں جو لوگ اتباع تھے وہ اپنے متبوعین یعنی لیڈروں اور سرداروں سے کہیں گے تمہارے لیے کوئی مبارکباد نہیں تم نے کفر کو ہماری طرف بڑھایا اب یہ برا ٹھکانہ ہے جس میں ہمیں بھی ٹھہرنا ہے اور تمہیں بھی) جو حال اہل کفر کا ہے وہی اہل معاصی کا ہے، ایک دوسرے کو دنیا میں گناہوں پر ابھارتے ہیں، اپنے ساتھ لگاتے ہیں، اپنے پاس سے پیسے دے کر گناہ کراتے ہیں اور آخرت میں کوئی کسی کا یار و مددگار نہ ہوگا۔
Ayahs 29:25–26

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنالیا ہے یہ تمہاری آپس کی دوستی کی وجہ سے ہے جو دنیا والی زندگی میں ہے، پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کے مخالف ہوگے اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کریں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہاری مدد کرنے والے بالکل نہ ہوں گے

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

سو لوط نے ابراہیم کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا کہ بلاشبہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، بلاشبہ وہ عزیز ہے حکیم ہے۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کا دعوت ابراہیمی کو قبول کرنا اور دونوں حضرات کا فلسطین کے لیے ہجرت کرنا : اس کے بعد فرمایا (فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ) لوط (علیہ السلام) ابراہیم کی نبوت پر ایمان لے آئے (جو حضرت ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے تھے) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر ہر طرح سے حجت پوری کردی تو فرمایا اب میں اس وطن کو چھوڑتا ہوں اور اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں یعنی میرے رب نے جو ہجرت کی جگہ بتائی ہے وہاں جاتا ہوں بلاشبہ میرا رب عزیز ہے حکیم ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ (وَ قَالَ اِنِّیْ مُھَاجِرٌ) کا فاعل حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں لیکن پہلی بات راجح ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے جیسا کہ سورة صافات میں مذکور ہے (وَقَالَ اِِنِّی ذَاھِبٌ اِِلٰی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِیْ ) (اور انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ عنقریب مجھے راہ بتادے گا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وطن سے (جو عراق اور فارس کے درمیان تھا) ہجرت فرمائی اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت سارہ سلام اللہ علیہا کو ساتھ لے کر (جو آپ کے چچا کی بیٹی تھیں اور آپ کی بیوی تھیں) ہجرت فرما کر فلسطین میں آکر مقیم ہوگئے۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے ان کی ذریت (اولاد) میں نبوت اور کتاب کو قائم رکھا اور ہم نے ان کو دنیا میں اس کا اجر دیا، اور بلاشبہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے۔

بیٹے اور پوتے کی بشارت اور موہبت : اس وقت آپ کی عمر بعض مفسرین کے قول کے مطابق 75 سال تھی اور آپ کی اہلیہ محترمہ بوڑھی تھیں، شام میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی : (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اے میرے رب مجھے صالحین میں ایک لڑکا عطا فرمائیے) اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فرشتوں کے ذریعہ آپ کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دی، یہ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش سے متعلق تھی، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دوسری بیوی یعنی حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری فرمانا : حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائے اور ہمیشہ کے لیے ان کی ذریت میں نبوت بھی رکھ دی اور کتابوں کا نازل فرمانا بھی انہیں کی ذریت میں رکھ دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں نبیوں پر ہی نازل ہوا کرتی تھیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے سب انہیں کی نسل میں سے تھے، آخر سید الانبیاء والمرسلین سیدنا حضرت محمد حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں۔ ذکر خیر کی دعا اور قبولیت : اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑا مرتبہ دیا، دنیا میں بھی ان کو چن لیا اور اپنا خلیل بنالیا اور بعد میں آنے والی قوموں میں اچھائی کے ساتھ ان کا ذکر جاری فرما دیا، جتنے ادیان ہیں ان کے ماننے والے حضرت ابراہیم کو اچھائی کے ساتھ یاد کرتے ہیں ان میں یہود و نصاریٰ بھی ہیں اور دیگر مشرک اقوام بھی ہیں، مسلمانوں کے علاوہ دوسری قومیں گو سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں سب ہی اچھے کلمات کہتے ہیں انہوں نے جو دعا کی تھی (وَاجْعَلْ لِّی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِیْنَ ) وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کا ذکر حسن تمام ادیان میں جاری رکھا۔ (وَ اٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا) (اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں دے دیا) ان کی ذریت میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کا آنا متعین فرما دیا اور انہیں دارالکفر سے نجات دلا کر فلسطین میں پہنچا دیا اور ان سے کعبہ شریف بنوا دیا اور ان کے ذریعے قربانی کا سلسلہ جاری فرما دیا، دنیا میں جو کچھ ملا وہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی وجہ سے آخرت کا اجر وثواب اور رفع درجات اور قرب الٰہی کا حصول اس کے علاوہ ہیں، اسی کو سورة بقرہ، سورة نحل اور سورة عنکبوت میں فرمایا (وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (اور بلاشبہ وہ آخرت میں نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ )
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بلاشبہ تم بےحیائی کا کام کرتے ہو تم سے پہلے اس کام کو دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے اعمال سے روکنا، پھر قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیے جانے کا ذکر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وطن سے ہجرت کی تو ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی تشریف لے آئے، حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرما دیا اور انہوں نے سدوم نامی بستی میں قیام کیا وہاں اور بھی چند بستیاں تھیں جو نہر اردن سے قریب تھیں، حضرت لوط (علیہ السلام) ان بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے اور وہاں کے رہنے والوں کو توحید کی دعوت دی اور برے کاموں سے روکا، یہ لوگ ایک ایسے برے کام میں مبتلا تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا اور وہ یہ کہ مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے اور راہزنی بھی کرتے تھے اور اپنی مجلسوں میں بعض دیگر منکرات کے بھی مرتکب ہوتے تھے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ تم ان سارے فواحش و منکرات کو چھوڑ دو لیکن وہ نہیں مانے بلکہ الٹا یہ جواب دیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو، سو ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ تو اللہ کا عذاب لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے۔

یہ جو فرمایا : (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) اس کا ایک مطلب تو یہی ہے کہ راہزنی کرتے ہو یعنی جو لوگ تمہارے علاقہ سے گزرتے ہیں تم ان پر ڈاکہ ڈالتے ہو، اور اس کا ایک معنی بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ تم مردوں سے شہوت پوری کرکے توالد و تناسل کا راستہ روک رہے ہو کیونکہ اولاد عورتوں سے پیدا ہوتی ہے مردوں سے پیدا نہیں ہوتی، اور تیسرا مطلب یہ بتایا کہ جو لوگ تمہارے علاقہ سے گزرتے ہیں ان کے ساتھ برا کام کرتے ہو جس کی وجہ سے لوگوں نے تمہارے علاقے سے گزرنا چھوڑ دیا یہ بھی (قَطْعُ السَّبِیْلَ ) کا ایک طریقہ ہے۔ (وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” تم مجلس میں برا کام کرتے ہو “ اس کے بارے میں حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون سا منکر تھا جس کا آیت کریمہ میں ذکر ہے ؟ فرمایا کہ وہ لوگ راہگیروں کو دور سے کنکریاں مارتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔ بعض روایات میں یوں ہے کہ وہ اپنے پاس کنکریاں لے کر بیٹھتے تھے پھر گزرنے والوں کو مارتے تھے جس کی کنکری جس راہگیر کو لگ گئی وہ اس کا ہوگیا اور وہ اس کو ساتھ لے جاکر برا کام کرتا تھا اور اس کو چند درہم دے دیتا تھا ان کے ہاں قاضی بھی تھا جو اس بات کا فیصلہ کردیتا تھا۔ اور حضرت قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ یہ لوگ اپنی مجلسوں میں ہوا چھوڑنے میں مقابلہ کیا کرتے تھے، اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ یہ لوگ پوری بےشرمی کے ساتھ اپنی مجلسوں میں مرد مردوں کے ساتھ برا فعل کیا کرتے تھے۔ (معالم التنزیل جلد 3: ص 466) حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب فسادی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما (یعنی میں نے جو ان سے عذاب کا وعدہ کیا ہے میرے وعدہ کو سچا کردے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے بھیج دئیے، فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہیں بشارت دی کہ تمہارے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو صاحب علم ہوگا اور ساتھ ہی اس لڑکے کا ایک لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور پہلے ہی سے انہوں نے لڑکے کا نام اسحاق اور پوتے کا نام یعقوب بتادیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے دریافت کیا کہ آپ حضرات کا کیسے تشریف لانا ہوا ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں جس میں حضرت لوط (علیہ السلام) رہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ بستی پر عام عذاب آئے گا اور اس میں لوط (علیہ السلام) بھی ہیں ان کے ساتھ کیا ہوگا، اپنا یہ سوال فرشتوں کے سامنے رکھ دیا۔ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس بستی میں کون کون ہے، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دے دیں گے ہاں ان کی بیوی نجات نہ پائے گی کیونکہ اس نے ایمان قبول نہ کیا اس لیے وہ ان لوگوں میں رہ جائے گی جو ہلاک ہونے والے ہیں یعنی ہلاکت والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کا جواب دینے کے بعد حضرت ملائکہ ( علیہ السلام) حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، یہ حضرات خوبصورت انسانوں کی صورت میں تھے انہیں دیکھ کر لوط (علیہ السلام) رنجیدہ ہوئے اور دل میں پریشانی کی کیفیت پیدا ہوگئی، انہیں خیال ہوا کہ میری قوم کے لوگ بدکار ہیں اور یہ لوگ میرے مہمان ہیں، خوبصورت ہیں، بستی کے رہنے والے بدکار کہیں ان کی طرف متوجہ نہ ہوجائیں، فرشتوں نے پریشانی کو محسوس کرلیا اور ان سے کہا کہ آپ نہ ڈریں اور غم نہ کریں ہم ان لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں، آپ کو اور آپ گھر والوں کو ہم نجات دے دیں گے البتہ آپ کی بیوی ہلاک کیے جانے والوں میں شامل رہے گی، ان بستی والوں پر ہم عذاب اتارنے والے ہیں، ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر عذاب آئے گا اور ہلاک ہوں گے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے ایک حصہ میں اس بستی سے نکل جائیں اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، ہاں اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جانا کیونکہ وہ بھی قوم کے ساتھ عذاب میں شریک ہوگی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو اور دیگر اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو ان کی قوم پر عذاب آگیا، یہ بستی جس میں حضرت لوط (علیہ السلام) رہتے تھے اور اس کے آس پاس کی بستیاں جن کے رہنے والے کافر تھے اور بدکار بھی، ان سب بستیوں کا تختہ الٹ دیا گیا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اٹھا کر اس طرح پلٹ دیا کہ نیچے کا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے کردیا اوپر سے پتھروں کی بارش بھی ہوگئی، اس طرح یہ سب لوگ ہلاک و برباد ہوگئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) رات کے کسی وقت اپنے ساتھیوں کو لے کر بستی سے نکلے تھے اور سورج نکلنے کے وقت ان کی قوم پر مذکورہ بالا عذاب آگیا۔ سورۂ اعراف، سورة ہود، سورة حجر، سورة الشعراء اور سورة النمل میں بھی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاکت کا واقعہ گزر چکا ہے۔
Ayahs 29:30–35

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے عرض کیا کہ اے میرے رب فساد کرنے والے لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرمائیے۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں بلاشبہ اس بستی کے لوگ ظالم ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا یہ یقینی بات ہے کہ اس بستی میں لوط بھی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ اس بستی میں کون ہے، اور ہم لوط کو اور اس کے گھر والوں کو ضرور ضرور نجات دے دیں گے سوائے اس کی بیوی کے، وہ رہ جانے والوں میں سے ہے

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

۔ اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ سے رنجیدہ ہوئے اور تنگ دل ہوئے، اور قاصدوں نے کہا کہ آپ ڈرئیے نہیں اور رنج نہ کیجیے، بلاشبہ ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دینے والے ہیں سوائے آپ کی بیوی کے وہ رہ جانے والوں میں سے ہے۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کے کام کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے اس بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس جگہ سے کبھی صبح کو کبھی رات کو گزرنا ہوتا تھا۔ ان (اہل مکہ) سے فرمایا تم انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے۔ ان بستیوں کی جگہ آج کل بحرمیت موجود ہے افسوس ہے کہ سفر کرنے والے آج تفریح کے لیے دیکھتے ہیں اور ذرا بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔