29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 29:1

الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader

الف۔ لا ... م می ... م

1۔ الف ۔۔۔۔۔۔۔ لا۔۔۔ م ی۔۔۔۔۔۔۔ م ۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہیں : اور اس جگہ یہ تیسری سورت ہے جو الف ل م سے شروع ہو رہی ہے ۔ حروف مقطعات پر ہم بحث سورة البقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں ، اس تفسیر کو دیکھنا ہو تو سورة البقرہ کی پہلی آیت کی طرف رجوع کریں ، یہ بات ہم نے ہر جگہ واضح کی ہے کہ حروف مقطعات عربوں کے ہاں مختلف طریقوں سے رائج تھے اور کسی شخص نے جب کسی دوسرے شخص کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا ہو تو وہ اس طرح کے الفاظ بولتا تھا ۔ قرآن کریم میں بھی سورتوں کے شروع میں اس مقصد کے لئے یہ الفاظ بولے گئے ہیں گویا ان سورتون کے مضمون کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ نہایت اہم مضمون پڑھا جا رہا ہے ذرا غور سے متوجہ ہو کر سنیں اور بلاشبہ ان سورتوں میں بہت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں اور یہی صورتحال زیر نظر سورت میں بھی ہے ۔
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ اس خیال میں ہیں کہ یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہو گی

کیا لوگوں کو صرف ایمان کے دعوی پر ہی چھوڑ دیا جائے گا ان کی آزمائش نہ کی جائے : 2۔ سونا بلاشبہ سونا ہی ہوتا ہے پھر کسوٹی استعمال کرکے اس کی قسم کو بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے تاہم کھرا سونا وہی کہلاتا ہے جس کو ایک بار بھٹی میں تپایا جائے اور اس کو پانی پانی کردیا جائے اس کی جتنی میل تھی گویا ساری کی ساری دھل گئی اور خالص سونا باقی رہ گیا ۔ اب اس کو کوئی شخص بھی جب چاہے تپا لے اس کے کھرا ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوگا یہ حال صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی تھی جو مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے ایمان لائے تھے کہ کفار نے ان پر سختیاں کرکے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعنج نے سختیاں برداشت کرکے لوگوں پر یہ ثابت کردیا تھا کہ اب یہ لوگ تڑپ تڑپ کر جان تو دے سکتے ہیں لیکن ایمان سے باز نہیں آسکتے اس لئے وہ لوگ جو ہجرت سے پہلے ایمان لائے تھے ان کے ایمان کی حالت اتنی مضبوط تھی کہ ایسا کھرا ایمان ہجرت کے بعد کسی کو کم ہی نصیب ہوا ہوگا ۔ اس مضمون کی تشریح دراصل قبل ازیں سورة البقرہ کی آیت 214 ‘ سورة آل عمران کی آیت 42 میں نہایت تفصیل سے گزر چکی ہے اس لئے ہم دوبارہ بیان نہیں کر رہے وضاحت کے لئے محولہ بالا آیتوں کی تفسیر دیکھیں ، بلکہ اس مضمون کی آیات سورة آل عمران کی آیت 179 ‘ سورة التوبہ کی آیت 16 میں گز چکی ہیں ، ان آیات کریمات سے اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہن نشین کرائی ہے کہ آزمائش ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھوٹا کھرا پر کھا جاتا ہے ، کھوٹا میل کی طرح خود بخود ہی اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے اور کھرا چھانٹ لیا جاتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات سے سرفراز ہو جو سچے مسلمانوں ہی کا حصہ ہے اس کی مثالیں اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں بلاشبہ آزمائش کے وقت آج بھی کھرے لوگوں نے کبھی کوئی کام بھیڑ چال کے تحت نہیں کیا بلکہ وہ سمجھ سوچ کر کرتے ہیں اگرچہ آج بھی ان لوگوں کی قلت ہے لیکن اگر کہیں یہ قلت کثرت کے مقابلہ میں آجائے تو بلاشبہ میدان آج بھی اسی قلت ہی کے ہاتھ رہے گا ۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بھی آزمائش کی ہے جو ان سے قبل گزرے ہیں تو اللہ ان لوگوں کو ظاہر فرما دے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

آزمائش پہلے لوگوں کی بھی کی گئی ہے اور اب بھی یقینا کی جائے گی : 3۔ چونکہ آزمائش ہی ایک ایسی شے ہے جس سے حق اور ناحق واضح ہوتا ہے کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں ؟ اس لئے ہر زمانہ میں لوگوں کی آزمائش کی گئی اللہ تعالیٰ پر تو کھرا اور کھوٹا پہلے ہی واضح ہے پھر اس آزمائش کی آخر ضرورت ؟ ضرورت یہ ہوئی کہ دنیا کے دوسرے لوگوں پر بھی تو یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ حق پر کون تھا اور کون نہیں تھا پھر اس کے اظہار کے لئے ضروری تھا کہ ان کی آزمائش کرکے لوگوں پر بھی ان کی حیثیت واضح کر جائے اور یہی کچھ کیا گیا ۔ (فلیعلمن اللہ) کے لفظی معنی تو یہی ہوتے ہیں کہ ” پس ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ معلوم کرے “ حالانکہ اللہ تعالیٰ پر تو پہلے ہی سب کچھ واضح ہے اس لئے اس کا مفہوم وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ ظاہر کردینا چاہتا ہے کہ لوگوں پر بھی کھرا اور کھوٹا مبہم نہ رہے اور بلاشبہ اس آزمائش نے ہمیشہ کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر دکھایا اور سب پر روشن ہوگیا کہ چوریاں کھانے والے کبھی خون نہیں دے سکتے خون دینا انہی لوگوں کو آتا ہے جن کے اندر ایمان وعشق موجود ہوتا ہے اور سچی محبت اپنے دل میں رکھتے ہیں ، علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس کی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے علم ازل سے ہر شخص کے جملہ احوال کو ازاول تا آخر جانتا ہے کہ فلاں نیک کام کرے گا ‘ فلاں بدکاریوں میں مشغول رہے گا ‘ فلاں اس سن میں جہاد کرے گا فلاں اس سال میں قتل کرے گا وغیرہ لیکن اس علم قدیم پر جزا وسزا مرتب نہیں ہوتی مثلا جس کا قاتل ہونا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اسے ارتکاب قتل سے پہلے سولی نہیں دے دیا جائے گا ، اسی طرح مجاہد کو اس کا اجر میدان جہاد میں داد شجاعت دینے کے بعد ملے گا ۔ اس لئے یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جس کے بعد کوئی شخص اپنے نیک وبد اعمال کے لئے جزا وسزا کا حق دار ہوتا ہے ۔ مولانا ثناء اللہ یہاں موجود نہیں ورنہ ہم ضرور پوچھ لیتے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب نے جس معصوم بچہ کو تمہارے خیال میں قتل کیا تھا اس کو اگر فی الواقع وہ معصوم تھا تو کیوں قتل کیا گیا جب کہ معصوم کو علم الہی پر سزا نہیں دی جاسکتی تو معلوم نہیں کہ وہ کا جواب دیتے لیکن آج ہم ان کے ترجمانوں سے یہ بات پوچھنے کے حق دار ہیں اس لئے اپنے معاصرین سے ہمارا آج بھی یہ سوال ہے دیکھتے ہیں کہ وہاں سے کیا جواب آتا ہے ؟ ہم نے تو اپنی تفہیم اس مقام پر بیان کردی ہے جہاں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو لوگ برائیاں کرتے رہتے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے (بچ کر) نکل جائیں گے (اگر ایسی بات ہے) تو کیا ہی غلط فیصلہ کر رکھا ہے ؟

برائیاں کرتے رہنے والوں کا کیا خیال ہے کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ : 4۔ نزول قرآن کریم کے وقت ایمان والوں کو اذیتیں کون دے رہا تھا ؟ ظاہر ہے کہ وہ قریش کے سردار ہی تھے قرآن کریم ان کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ کیا ان قریش کے سرداروں کو یہ گمان ہے کہ اسلام کی مخالفت میں ایمان لانے والوں کو اذیتیں دے کر اور ان پر ظلم کر کے ہم سے بازی لے جائیں گے کہ ہم انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے ۔ اگر ان کا یہ فیصلہ ہے تو کیسا برا فیصلہ ہے تو وہ کرتے ہیں بھلا اللہ تعالیٰ کی دسترس سے کوئی بچ کر نکل کہاں سکتا ہے اگر وہ پکڑنا چاہے ، پہلے مخاطب بلاشبہ پہلے ہی مخالف ہوسکتے تھے لیکن حکم عام ہے جو قیامت تک جاری وساری ہے اس لئے سب کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے جن کی سرشت میں ظلم کرنا ہے کہ جب ہمارا عذاب انہیں گھیر لے گا تو وہ مارے دہشت کے اپنی جگہ سے ہل ہی نہ سکیں گے چہ جائیکہ وہ بھاگ کر ہم سے روپوش ہوجائیں ، بلاشبہ ہر ایک انسان کی پیشانی ہمارے ہاتھ میں ہے اور اگر ہم نے ان کو مہلت دے رکھی ہے تو یہ ہمارے قانون امہال میں طے شدہ ہے کہ ہم کسی ظالم کو بھی ظلم کرتے ہوئے فورا ہی نہیں پکڑ لیا کرتے بلکہ ایک خاص مدت تک ڈھیل دے دیتے ہیں اور یہی ڈھیل قریش مکہ کو بھی دی گئی ہے ۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا معین وقت ضرور آئے گا اور وہ سننے والا ، جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے امیدوار جان لیں کہ معین وقت جلد ہی آنے والا ہے : 5۔ جس شخص کو یہ توقع اور کامل امید ہو کہ اسے مر کر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حضور ہونا ہے تو اسے طول حیات کے بےبنیاد بھروسے پر اپنی اصلاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کیا ہے بلاشبہ وہ تو آکر ہی رہے گا اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات سمیع بھی ہے ‘ علیم بھی ان کی کوئی بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ان کی ہر بات کو سنتا ہے ۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص مجاہدہ کرتا ہے تو اس کا مجاہدہ اس کی اپنی ہی ذات کے لیے ہے بلاشبہ اللہ تو سارے جہانوں سے بےپروا ہے

جو شخ بھی محنت کرتا ہے بلاشبہ اس کی محنت کا اس کو فائدہ بھی ملتا ہے : 6۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے اور اس کی خوشنودی اور رضا کی طلب میں مخالف قوتوں سے جان لڑاتا ہے وہ مخالف طاقت چاہے اس کا اپنا نفس ہی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ شیطان اور کافر ہوں بہرحال وہ ہر محاذ پر لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے چاہے اس کو مال و دولت سے لڑنا پڑے یا جان سے تو بلاشبہ اس کا فائدہ بھی اسی کو ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو دنیا جہاں کے سارے ہی انسانوں سے بےنیاز اور مستغنی ہے کہ اسے اپنی الوہیت قائم رکھنے کے لئے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہو اور دراصل جس آزمائش کا پیچھے ذکر چلا تھا ابھی اس کی تشریح کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جو شخص بھی اسلام کی سربلندی کے لئے مصروف جہاد رہتا ہے وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر کوئی احسان نہیں کر رہا بلکہ اس میں سراسر اس کا اپنا ہی فائدہ ہے کیونکہ اگر اس نے یہ کوشش نہ کی کہ کافروں کو مغلوب کیا جائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ یہی کہ وہ غالب آجائیں گے اور اگر وہ غالب آگئے تو اس کی آزادی چھن جائے گی ‘ اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا ‘ اس کا گھر بار ‘ مال ومتاع تاخت و تاراج کردیا جائے گا ‘ اس کی آبرو خاک میں مل جائے گی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ سفاک دشمن اس کا اسلام چھوڑنے پر مجبور کر دے ان تمام حالات میں نقصان کس کا ہوگا ؟ غور کرلو کہ آج ہم مسلمانوں نے اس مجاہدہ سے آنکھیں چرا کر نقصان کس کا کیا ہے ؟ قرآن کریم تو آج بھی ہم کو توجہ دلا رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ من حیث القوم ہمارے کان پر جوں بھی نہیں رینگ رہی اور اپنے فرض میں کوتاہی پر کوتاہی کئے جا رہے ہیں اور اس وقت ظاہری طور پر ایک میدان بھی ایسا نہیں جس میں ہم منہ دکھانے کے قابل ہوں لیکن اس کے باوجود ہم آپس میں دست و گریبان ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق دے اور ہمارے حکمرانوں کو اسلام کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو پھر ہم ان کے گناہ ان سے دور کردیں گے اور ان کے اعمال کا ان کو بہتر سے بہتر بدلہ دیں گے (کیونکہ اچھے اعمال کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے)

ایمان لانے کے بعد نیک عمل کرنے والوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا : 7۔ بلاشبہ جو لوگ صدق دل سے ان ساری چیزوں پر ایمان لائے جن کی دعوت اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے اور اللہ کی کتاب قرآن کریم نے دی ہے اور پنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق ڈھال لیا ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم ان کی برائیاں اور خطائیں جو ان سے سرزد ہوئیں دور کردیں گے اور انہوں نے جو نیک کام کئے ہوں گے ان کی بہتر سے بہتر جزا دیں گے ، اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہم کو صدق دل سے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے اور بلاشبہ اس کا پتہ ہم کو دنیا ہی میں لگ سکتا ہے کہ صدق دل سے ایمان لانے کی نشانی ہی یہ ہے کہ اعمال صالحہ پر جو فی الواقع صالحہ ہیں ان پر انسان کا دل جم جاتا ہے اور وہ برائیوں سے طبعا متنفر ہوجاتا ہے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک بنائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کا کہنامت مان ، بالآخر تم سب کو میری طرف واپس آنا ہے ، پس میں تم کو بتا دوں گا جو تم کیا کرتے تھے

والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت اور شرک سے دور رہنے کا حکم : 8۔ رب کریم نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ ان کی خدمت اور دلجوئی میں کوشاں رہے ۔ اسی حسن سلوک کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا اور ہر بار حکم دے کر ارشاد فرمایا حکم دینے اور بات کرنے میں جو فرق ہے سب کو معلوم ہے ، پھر اس جگہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تائید کرنے کے بعد یہ بات بھی واضح کردی اگر والدین بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیں تو یہ حکم ان کا نہیں مانا جاسکتا ۔ یہ بات صحیح ہے کہ والدین کے بڑے حقوق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا حق دنیا کے سارے حق داروں کے حق سے اعلی وارفع ہے ۔ شرک ایسی نامراد شے ہے کہ اس کے مرتکب کی کوئی عبادت قبول نہیں کی جاتی اور اس کی نیکی کوئی نیکی نہیں جو اس کو آخرت میں کام دے گی گویا شرک اتنا بڑا گناہ ہے جو انسان کی ساری نیکیوں کو کھا جاتا ہے ۔ روایات میں ہے کہ حمنہ سفیان بن امیہ یعنی ابو سفیان کی بھتیجی اور امیر معاویہ ؓ کی چچا زاد بہن کو جب معلوم ہوا کہ میرا بیٹا سعد بن ابی وقاص مسلمان ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تم محمد ﷺ کا انکار نہیں کرو گے نہ کھاؤں گی نہ پیئوں گی اور نہ سایہ میں بیٹھوں گی اور اسی طرح مر جاؤں گی اور اس طرح تو میرا قاتل ٹھہرے گا اور میرے مرنے کے بعد بھی لوگ تجھے عار دلاتے رہیں گے ، سعد بن ابی وقاص ؓ خود کہتے ہیں کہ میرے ماں نے جو کچھ مجھے تھا اس پر عمل کرنا شروع کردیا اور دو روز گزر گئے میں انتظار کرتا رہا کہ جب اس کو بھوک ستائے گی تو خود بخود کھانا شروع کر دے گی لیکن میں نے دیکھا کہ وہ اپنی ضد پر قائم ہے تو میں بہت پریشان ہوا ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر زیر نظر آیت نازل فرما دی تو میں نے ماں کو صاف صاف کہہ دیا کہ ’ یا اماہ لو کانت ماۃ نفس فخرجت نفسا نفسا ما ترکت دینی ” اے میری ماں ! اگر ایک جان کی بجائے تیری سو جانیں ہوں اور بھوک کی وجہ سے وہ ایک ایک کرکے بھی نکل جائیں تب بھی تیری یہ بات مان کر اپنا دین نہیں چھوڑوں گا ۔ “ اس نے جب بیٹے کا یہ عزم دیکھا تو مرن بھرت توڑ دیا ۔ یہ روایات مسلم ‘ ترمذی ‘ احمد ‘ ابو داؤد اور نسائی میں بھی موجود ہیں اور اس طرح کے واقعات اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے بھی بیان کئے گئے ہیں اور سب ہی اپنی جگہ پر صحیح ہیں ۔ تعجب ہے کہ فی زماننا والدین کو جو اہمیت دی گئی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے شاید ہی کوئی گھر موجود ہوگا جہاں اپنے بیوی بچوں کے مقابلے میں کوئی والدین کو ترجیح یا کم از کم برابری کے معیار پر ہی رکھنے کے لئے تیار ہو لیکن دین ہی کا ایک معاملہ ایسا ہے کہ اس کے متعلق ہر آدمی کی سوچ یہی ہے کہ جو میرے والدین کر رہے ہیں وہی صحیح اور درست ہے بلکہ ان کے عقیدے کے خلاف وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں گویا جس چیز سے قرآن کریم نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے حکم دے کر منع کیا ہے اس کو آج مسلمان کرنا نہایت ضروری سمجھتے ہیں اور جس جس کام میں ان کی مصاحبت کا حکم دیا ہے اس کام میں ان کی ایک نہیں سنیں گے ، ہمارے معاشرے میں ایسے بدبختوں کی کوئی کمی موجود نہیں ہے جو والدین سے بات تک کرنے کے روادار نہیں ہیں اور یہ بات طرفین کو شکو وں اور گلوں کے باوجود برداشت ہے لیکن رسم و رواج کے بارے میں کوئی اولاد بھی والدین کی راہ سے ہٹ کر سیدھی راہ چلنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ حالانکہ قرآن کریم کا حکم یہ ہے کہ اگر والدین تجھے مجبور کرنے کے لئے اپنا پورا زور بھی لگا دیں (وان جاھداک) تو ان کی شرک کی بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے ۔ ذرا (مالیس لک بہ علم) کے الفاظ پر غور کرو کہ اس میں والدین کی یہ بات نہ ماننے کی ایک دلیل دی گئی ہے کہ ماں باپ کا حق بلاشبہ یہ ہے کہ اولاد انکی خدمت کرے خواہ وہ مشرک ہوں ‘ ان کا ادب واحترام ملحوظ خاطر رکھے ‘ ان کی جائز باتوں میں ان کی اطاعت وفرمانبردای کرے خواہ وہ کسی مذہب وملت کے بھی ہوں لیکن یہ حق نہیں پہنچتا کہ آدمی اپنے علم کے خلاف ان کی اندھی تقلید کرے اور ان کے مذہب کو غلط سمجھنے کے باوجود نہ چھوڑے کہ یہ میرے ماں باپ کا مذہب ہے ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ جب علم ہوجائے کہ میرے والدین کے دینی نظریات درست نہیں ہیں تو بلاشبہ اولاد کو ان کے دینی نظریات ترک کردینا ہی ضروری ہے اور ان کے دباؤ کو بھی بردشت کرنا چاہئے اور انکی پیروی ہرگز نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دین کا معاملہ انفرادی معاملہ ہے اور ہر ایک انسان خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور بالآخر ہم سب کو والدین ہوں یا اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹ کر جانا ہے اور اس وقت ہر ایک کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں دے دیا جانے والا ہے نہ والدین کو اولاد کے متعلق اس معاملہ میں پوچھا جائے گا اور نہ ہی اولاد کو والدین کے متعلق استفسار ہوگا ۔ والدین کے حقوق کے متعلق پیچھے ہم سورة البقرہ کی آیت 83 ‘ 180 ‘ 215 ‘ سورة النساء کی آیت 36 ‘ 135 ‘ سورة الانعام کی آیت 151 ‘ سورة بنی اسرائیل آیت 23 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ہم ان کو نیک بندوں میں ضرور داخل کریں گے

ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی : 9۔ اس دنیا کے معاشرہ میں بھی جس گھر کے ہمسائے ‘ خاندان اور دوست و احباب میں نیک لوگ ہوں بلاشبہ وہ گھر جنت کا ایک خطہ ہے اور ایسے لوگوں کی معیت اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان سمجھنا چاہئے شیخ سعدی (رح) نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند : اچھی صحبت بلاشبہ انسان کو اچھا بنا دیتی ہے یا کم از کم برا بننے سے ضرور مانع ہوتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بری صحبت انسان کو یقینا برا بنا دیتی اور کم از کم یہ کہ وہ انسان کو اچھا نہیں رہنے دیتی ۔ اگر دنیا کا یہ حال ہے تو آخرت کے متعلق بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” جو لوگ کفر وشرک کو چھوڑ کر اللہ وحدہ لا شریک لہ پر ایمان لائے ہوں گے اور اس کی توحید کو قبول کرلیں گے اور نیک اور صالح اعمال کئے ہوں گے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں نیک اور صالح لوگوں میں شامل کر دے گا ۔ “ اور بلاشبہ نیک لوگوں کی سنگت اور انکی میتش بہت بڑی نعمت ہے ۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ، پھر جب اللہ کی راہ میں ان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لوگوں کے ستانے کو سمجھنے لگتے ہیں جیسے کہ اللہ کا عذاب ہے اور اگر تیرے رب کی طرف سے مدد پہنچتی ہے تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم بھی تو تمہارے ہی ساتھ تھے کیا اللہ اس سے بخوبی واقف نہیں جو کچھ تمام جہان والوں کے سینوں میں (پوشیدہ) ہے

بعض لوگوں کا ایمان بھی بڑا ہی عجیب ایمان ہوتا ہے : 10۔ بلاشبہ ایمان لانے والوں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اسلام سے باہر بیٹھ کر جب وہ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو دیکھتے ہیں تو متاثر ہو کر ایمان لے آتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے دیکھا تھا کہ یہ راہ تو بہت ہموار راہ ہے اور ادھر کوئی نشیب و فراز نہیں اس لئے بغیر کسی زحمت کے گوارا کئے وہ منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور ایمان لے آئے لیکن انکی توقعات کے بالکل خلاف جب مصائب وآلام کے بادل گھر کر آجاتے ہیں تو اس وقت وہ اپنے بچاؤ کی خطر اسلام سے منحرف ہوجاتے ہیں ان کے متعلق زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ بلاشبہ انہیں رحمت الہی سے دور کردیا جائے گا کیونکہ دشمنان اسلام کے ظلم وستم سے وہ گھبرا گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب سے انہیں ذرا خوف نہ آیا محض اس دنیاوی زندگی کی جان بچانے کے لئے یا دنیاوی منفعتیں حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے عہد وفا گویا توڑ ڈالا وہ اس قابل نہ رہے کہ انہوں ان لوگوں کی رفاقت حاصل ہو جو ہر دکھ سکھ میں اسلام پر جان دینے کے لئے تیار رہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو مزا ان کو دیکھ سہنے میں آیا شاید وہ لطف ان کو انعامات حاصل کرنے بھی نہ آیا ہو کیونکہ وہ ایمان لانے میں سچے تھے اور آخرت کی زندگی پر ان کا پورا پورا ایمان تھا بلکہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ سمجھا اس لئے آخرت کے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے دنیا کے دکھوں کی ذرا پروا نہ کی یہی وہ لوگ ہیں جن پر بلاشبہ اللہ راضی ہوا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ پر راضی تھے ، اس لئے انہوں نے ہوا کا رخ اختیار کرنے کی بجائے نہایت آندھی میں بھی اپنا رخ قائم رکھا اور ان کی صدائے بازگشت یہ سنائی دی کہ ۔ : تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے : ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو لوگ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے نظریات و عقائد میں ردوبدل کرلینے کے خوگر ہیں اگر وہ اسلام کو قبول کرنے کا اعلان بھی کرین گے تو اس وقت ان کو باد مخالف کا کوئی خطرہ نہ ہو اور جب ہی باد مخالف کا کوئی جھونکا آیا تو انہوں نے یہ پالیسی اختیار کی کہ ع ۔ چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو : ان کی یہ ساری پالیسی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور ان کے سینوں میں جو کچھ ہے وہ بلاشبہ اللہ رب العزت سے چھپا ہوا نہیں ہے پھر یہ جس اجر کے مستحق ہیں اس کو بھی پالیں گے یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ “
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو ایمان لائے اور ان کو بھی یقینا ظاہر کر دے گا جو دغا باز ہیں ، (ایمان کے دعویٰ میں جھوٹے ہیں)

ایمان میں صادق اور کاذب دونوں کو ظاہر کردیا جائے گا : 11۔ امتحان وآزمائش کیوں ہوتا ہے ؟ محض اس لئے کہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ کردیا جائے ، محنت کرنے والا اور محنت کا چور دونوں کی حیثیت کھل کر سامنے آجائے ، چوریاں کھانے والوں اور خون دینے والوں کی پوزیشن واضح ہوجائے اور سب جان لیں کہ سچا مومن کون ہے اور دفع الوقتی کے لئے کون ایمان لایا ہے ۔ دونوں فریقوں نے ایک ہی دعوی کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دعوی میں صادق القول کون ہے اور کاذب القول کون ؟ اللہ تعالیٰ تو دونوں فریقوں کے متعلق اپنے علم ازل کی بنا پر پہلے ہی جانتا ہے لیکن دوسرے لوگوں پر بھی ان کی پوزیشن واضح کردینا ضروری ہے اور وہ اسی طرح واضح ہو سکتی ہے کہ دونوں کا امتحان لے کر دونوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے بات واضح کردی جائے ایسے لوگوں کا ذکر پیچھے سورة النساء کی آیت 141 میں وضاحت سے گزر چکا ہے اگر مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورة النساء کی محولہ آیت کی تفسیر دیکھیں ۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری پیروی کرو اور ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے کچھ بھی گناہ نہ اٹھا سکیں گے وہ تو (بالکل) جھوٹے ہیں

کافروں کی دیدہ دلیری کا بیان جس کی حیثیت ایک بڑمحض ہے : 12۔ قوم کے بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہی ہوتی ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اپنی بڑائی کے نشہ میں جو ان کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں قریش مکہ کے سرداروں کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب کوئی غریب آدمی ایمان لے آتا تو وہ اس کو اپنی مجلس میں طلب کرتے اور اس کو برملا کہہ دیتے کہ تمہارا رسول جو باتیں کرتا ہے وہ یقین کے قابل ہی نہیں کہ اول تو زندگی بعد الموت اور یہ حشر ونشر اور حساب کتاب کی ساری باتیں ہی اس کی ایک ڈھکوسلا ہیں ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں اور اگر بالفرض وہاں کوئی ایسی بات پیش بھی آگئی تو ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اس کا سارا معاملہ اپنی گردن پر لیں گے اور زیادہ نہیں تو تمہارا پیچھا تو یقینا چھڑا دیں گے لہذا تم بےفکر ہوجاؤ اور اس نئے دین کو چھوڑ کر اپنے باپ داد کا دین اختیار کرلو دیکھو کہ ہماری زندگی اس رسالت کا دعوی کرنے والے سے ہزار بار اچھی گزر رہی ہے اگر وہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوتا تو اس کی اپنی زندگی اور ان تمام لوگوں کی زندگی تو آسانی سے گزرتی حالانکہ تم بھی دیکھ رہے ہو اور ہم بھی کہ جو ایمان لاتا ہے اس کو سوائے دکھوں کے وہاں کبھی بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اس طرح کی جو باتیں کیں وہ سب کی سب ہمارے پاس محفوظ ہیں اور جس ترنگ میں آکر انہوں نے یہ بات کہی ہے ہم اس کو جانتے ہیں تھوڑا توقف کرو ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے وہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے بھاگیں گے ان کی بہادری کا حال ابھی تم پر واضح ہوجائے گا اور ان کا جھوٹ ثابت کردیا جائے گا ۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ لوگ یقینا اپنے بوجھ اٹھائے ہوں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی ، اور قیامت کے روز ان سے اس بہتان کی ضرور ہی پرسش ہوگی جو وہ (بطور) جھوٹ باندھتے رہے

وہ یقینا اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور ان کی ساری حقیقت کھل جائے گی : 13۔ اپنے گناہوں کے بوجھ تو ان پر لادے ہی جانے والے ہیں اس لئے کہ انہوں نے گناہ کئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس نے جو کچھ کیا ہے اس کا گناہ اس پر پڑنے والا ہے لیکن ایسا کہنے والوں پر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ان پر ان کے بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کے بوجھ کا وزن بھی ڈالا جائے گا جن کی وہ ذمہ داری خود قبول کر رہے تھے انہوں نے انکی بات مانی یا نہ مانی ایسا کہنے والوں نے تو ایک بےلذت گناہ حاصل کر ہی لیا اور اس بوجھ کے وہ خواہ مخواہ مستحق قرار پائے ۔ دوسرے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو یقینا ان کی باتوں میں آگئے اور وہ ان کے کہنے پر کفر کی ہمت کرگئے چونکہ ان کے کفر میں تو وہ برابر کے حصہ دار ہیں اس لئے ان کی طرف سے جو حصہ ان کا تقسیم ہو کر آئے گا اس کا وبال بھی ان کے سر پڑے گا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ دراصل یہ بھی ان کا اپنا کیا ہی ہے جس کا بوجھ انکے سر پر آئے گا یہ دوسری بات ہے کہ جن لوگوں کو انہوں نے باتوں میں لگا کر کفر کرایا وہ بھی اپنے کئے سے بالکل بری الذمہ قرار نہیں پائیں گے گویا ان گناہوں کے وہ دونوں برابر برابر حصہ دار ٹھہرے جس کی سزا لازم آئے گی ۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جس شخص نے ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور لوگوں نے اس ہدایت کو قبول کرلیا اور پھر اس پر عمل کیا تو سارے عمل کرنے والوں کا ثواب اس داعی کو ملے گا اور ان کے ثواب میں جنہوں نے اس داعی کی دعوت کو قبول کر کے عمل کرنے والوں کا ثواب اس داعی کو ملے گا اور ان کے ثواب میں جنہوں نے اس داعی کی دعوت کو قبول کرکے عمل کیا ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوگی اور اس طرح جس نے گمراہی کی دعوت دی اور لوگوں نے اسے قبول کیا اور اس کے مطابق عمل کیا تو سب گمراہوں کی گمراہی کا بوجھ اس پر بھی لادا جائے گا اور ان کے بوجھ میں بھی ذرا کمی نہیں ہوگی ، اس طرح جو انہوں نے جھوٹ باندھا اس کے متعلق ان سے یقینا باز پرس ہوگی اس کی مثال سمجھنے کے لئے ذرا غور کرو کہ کسی نے ایک فعل ناروا کیا جس کی دو سزائیں اس کو سنا دیں کہ تمہارا جی چاہے تو سو جوتا کھالو اور اگر تمہارا جی پسند کرے تو سو پیاز کھالو ۔ سزا پانے والے نے پیاز کا کھانا پسند کیا اور بمشکل دس پیاز کھائے تھے کہ گھبرا گیا کہ یار مجھے چھوڑ دو میں پیاز نہیں کھاتا بلکہ جوتے لگا لو جب دس جوتے پڑے تو چیخنے لگا کہ چھوڑ دو میں پیاز کھاتا ہوں اور اس طرح کرتے کرتے وہ سو جوتے بھی برداشت کر گیا اور سو پیاز بھی کھا گیا ، یہی حال ان لوگوں کا بھی ہوگا کہ یہ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھا گئے جب کہ اپنے تو ان کو اٹھانے ہی تھے لیکن اس قانون کی خلاف ورزی بھی نہ ہوئی کہ ہر جان اپنا بوجھ اٹھائے گی اور کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ‘ بلاشبہ اس قانون کے تحت انہوں نے اپنا ہی بوجھ اٹھایا لیکن اپنی بیوقوفی اور تکبر کے باعث دوسروں کے بھی بوجھ کے مستحق قرار پا گئے اور اس بات کو ہم نے بےلذت گناہ سے تعبیر کیا ہے کہ بظاہر انہوں نے کچھ کیا بھی نہیں تھا لیکن نتیجہ کے وقت دوسروں کے بوجھ بھی باقاعدہ قانون کے مطابق ان پر رکھ دیئے گئے اور انہوں نے دنیا میں بخوشی قبول کیا تھا اور اب مجبورا ان کو اٹھانے پڑیں گے اور اس طرح گویا وہ پیاز بھی کھا جائیں گے اور جوتے بھی ، کتنے عقل مند ہیں یہ لوگ جو اس طرح کی ڈینگیں مارنے والے ہیں اور راہ جاتے گناہوں کو اپنے سر لادنے والے ہیں ، بلاشبہ یہ قوم کے و ڈیرے ہیں اور وڈیروں کی اس وقت بھی یہی حالت تھی اور آج بھی یہی ہے ذرا غور کرو گے تو یہ جو سیاسی قیدی آپ کو جیلوں میں نظر آ رہے ہیں سب اسی طرح کی ڈینگیں مارنے والے ہیں ، اگرچہ ان جیلوں کو انہوں نے عیش و آرام کے ٹھکانے بنا لیا ہے کیونکہ سب کو اپنی اپنی باری یہاں پہنچنا ہے لیکن وہاں کی جیل کے قانون بلاشبہ ایسے نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا انتظام براہ راست اللہ رب العزت کی نگرانی میں چلے گا جس کے علم میں ہرچیز بطور حال موجود ہے اور وہاں ماضی ومستقبل کا کوئی گزر ہی نہیں اور اب مضمون گزشتہ دعوتوں کی طرف منتقل کیا جارہا ہے تاکہ بات سمجھی جاسکے ۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پھر وہ اس میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے (کہ اتنے وقت میں کوئی دوسرا رسول نہ آیا) بالآخر اس (کی قوم کے لوگوں) کو طوفان نے آپکڑا ، اس لیے کہ وہ ظالم تھے

نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک لمبی مدت تک توحید کا درس دیا : 14۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو سمجھنے کے لئے ذرا پیچھے چلیں اور اس سورت کی تیسری اور چوتھی آیت کو نگاہ میں رکھیں جہاں ایک طرف اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ ہم نے ان سب اہل ایمان وایقان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور دوسری طرف وقت کے ظالموں ‘ مشرکوں اور مخالفین اسلام کو کہا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی جیت جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ جاؤ گے ایسا کبھی ممکن نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ تم سے پہلے بھی بڑے بڑے ظالم ‘ مشرک اور مخالف اس دھرتی میں پیدا ہوچکے حالانکہ آج ان کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا جب تک ہمارے قانون میں ان کو مہلت دی جانا طے تھی وہ دی گئی اور پھر جب پکڑ کا وقت آیا تو ان کو اس طرح پکڑ لیا گیا کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی ، اب زیر نظر آیت سے ان قصص کی طرف مضمون کو منتقل کردیا گیا کہ جن قصوں میں دونوں کردار موجود تھے اور جن پر ظالموں نے ظلم کیا اور وہ بھی جنہوں نے اپنے زمانے کے ظالموں کے ظلم برداشت کئے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی داستان ذکر کی گئی ہے اور نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ گزشتہ کئی ایک مقامات پر گذر چکا ہے مثلا سورة آل عمران کی آیت 33 ‘ 34 ‘ سورة النساء کی آیت 163 ‘ سورة الانعام کی آیت 84 ‘ سورة الاعراف کی آیات 59 تا 64 ‘ سورة یونس کی آیت 71 تا 73 ‘ سورة ہود کی آیت 25 تا 48 ‘ سورة الانبیاء آیت 76 ‘ 77 ‘ سورة المومنون آیت 23 تا 30 ‘ سورة الفرقان آیت 35 ‘ سورة الشعراء 105 تا 123 ملاحظہ پھر نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت بھی ہو رہ ہود میں بیان کی گئی ہے اس کو ملاحظہ کرلیں ۔ نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا زمانہ اور قوم نوح کی ہلاکت جس کا زیر نظر آیت میں خاص کر ذکر کیا گیا ہے دونوں کی بحث سرگزشت میں گزر چکی ہے ۔ گزشتہ مقامات پر بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ ان سرگزشتوں کے بار بار ذکر سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی اچھے کام کے لئے شدائد ومصائب برداشت کرتے کرتے تنگ آجاتا ہے تو اس وقت جب اس کے سامنے کسی ایسے شخص کی مثال بیان کردی جائے جس نے آزمائشوں اور تکلیفوں میں صبرواستقامت کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا ہو تو وہ انسان ایک بہت بڑی تسکین حاصل کرتا ہے اور بلاشبہ اس کی ہمت ایک بار پھر جوان ہوجاتی ہے کیونکہ وہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ سے پہلے بھی اللہ کے بندوں پر امتحان کی گھڑیاں آئیں اور انہوں نے اپنے ایمان ویقین کی پختگی کا اس طرح شاندار مظاہرہ کیا ، قرآن کریم بھی بار بار اسی مقصد کے پیش نظر نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو گزشتہ انبیاء کرام کے تذکار سناتا ہے تاکہ آپ ﷺ کی ہمت مزید بڑھ جائے اور آپ ﷺ کی ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں کو بھی سنائے جاتے ہیں جنہوں نے اس دعوت کی ذمہ داری اپنے سر لی ہے اور بلاشبہ اس کا وہی نتیجہ آج بھی نکلتا ہے جو اس وقت نکلتا تھا ، اس سلسلہ میں اس جگہ بھی نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی مختصر رواداد بیان کی جا رہی ہے اور اختصار کے ساتھ صرف دو آیتوں میں اس کا چلتے چلتے ذکر کردیا گیا ہے ۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو بچالیا اور اس کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنایا

نوح (علیہ السلام) کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو کشتی کے ذریعہ بچالیا گیا : 15۔ نوح (علیہ السلام) اس دنیا میں سب سے پہلے رسول ہیں اور ایک رسول سے دوسرے رسول تک کا زمانہ خواہ وہ کتنا لمبا کیوں نہ ہو اس رسول کا زمانہ کہلاتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کوئی آسمانی کتاب یا صحیفہ عطا فرمایا پھر اس نبی کی اس کتاب یا صحیفہ کی تعلیم خواہ کتنے ہی نبیوں نے جاری رکھی ہو دوسرے صاحب کتاب رسول کے آنے تک اس پہلے ہی کی دعوت کا زمانہ سمجھا جاتا ہے اس لئے نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا زمانہ بھی ایک لمبی مدت کا زمانہ ہے ۔ قرآن کریم نے اس کا تعین کرتے وقت ساڑھے نو سو سال کا عرصہ رسالت قرار دیا ہے اس عرصہ میں آپ کی نبوت و رسالت کا پیغام ہی پہنچایا جاتا رہا آپ کی زندگی میں براہ راست جو آپ نے تبلیغ کی اور معاصرین نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا اور انجام کار نوح (علیہ السلام) کو ایک کشتی بنانے کا حکم دیا گیا اور جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لوگوں کو بھی کشتی پر سوار ہونے کا حکم دیا اور اپنی ضرورت کی تمام چیزیں بھی اس پر سوار کرلیں جس کا نتیجہ بھی ہم کو بتایا گیا کہ اس قدر بارش ہوئی کہ گویا زمین کے اندر اور باہر کا سارا پانی آپس میں مل کر رہ گیا اور پانی کی بلندی پہاڑوں تک پہنچ گئی حتی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کہ کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رکی اور مختصر یہ کہ ایک بہت لمبی مدت تک حضرت نوح (علیہ السلام) نے توحید کا درس قوم کو دیا لیکن قوم بھی ایسی اکھڑ تھی کہ انہوں نے ایک نہ مانی اور انجام کار جب ان کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو وہی لوگ بچے جو کشتی پر سوار تھے باقی سب کا صفایا کردیا گیا ، معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرنے والوں کو اس دھرتی سے اٹھادیا جانا ضروری ٹھہرا تاکہ آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء ورسل کی مخالفت کا نتیجہ کیا رہتا ہے شاید ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں سمجھ آجائے اور وہ ان حرکات سے باز رہیں لیکن جو اس کا نتیجہ رہا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہر آنے والی قوم نے اپنے رسول کی مخالفت میں وہ سب کچھ کیا جو پہلے کرچکے تھے ۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (دیکھو) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم کچھ بھی سمجھ رکھتے ہو

ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر اور قوم کو توحید کی دعوت کا بیان : 16۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جو ابو الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں آپ نے سب سے پہلے اپنے والد کو اور پھر قوم کو مخاطب کیا کیونکہ آپ کا والد خود بت گر تھا اور اپنے قومی بزرگوں کے بت بنا کر فروخت کرنا اس کا کام تھا اور یہ بات قبل ازیں ہم بارہا عرض کرچکے ہیں کہ زمانہ کے رواج کے مطابق گزشتہ اقوام میں زیادہ اپنے قومی بزرگوں کے بت بنا کر سامنے رکھے جاتے تھے اور لوگ ان مجسموں کو سامنے رکھ کر اپنے قومی بزرگوں کی پرستش کرتے تھے ، قوم مسلم کے مشرکوں نے گزشتہ قوموں کے رواج کے خلاف اپنی قوم کا ایک نیا رواج نکالا کہ بجائے بتوں کے انہوں نے قبروں سے وہ کام لیا جو اس وقت لوگ بتوں سے لیتے تھے اور ہماری قوم مسلم کی ایک بہت بڑی اکثریت خصوصا اس برصغیر پاک وہند میں موجود ہے جس نے ان مشرکوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اور قبروں کے کاروبار کو اس قدر ترقی دی ہے کہ آج شاید ہی کوئی بستی ‘ گاؤں یا شہر آپ کو ملے گا جہاں ایک یا ایک سے زیادہ قبروں کی پرستش نہ ہوتی ہو اور یہ جملہ ” قبروں کی پرستش “ محض ظاہر داری کیوجہ سے ہم بول رہے ہیں ورنہ ہم نے یہ بات ہر جگہ واضح کی ہے کہ ہمیشہ صاحب قبر اور صاحب بت کی پرستش ہوتی ہے کبھی کسی نے نہ تو فی نفسہ کسی بت کی پرستش کی ہے اور نہ کسی قبر کی بہرحال سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ جس کی طرف اس جگہ اشارہ دیا گیا بہت سے مقامات پر بیان کیا جا چکا ہے ، مثلا عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 124 تا 132 ‘ 257 ‘ 258 ‘ عروۃ الوثقی جلد دوم آل عمران آیت 67 ‘ 68۔ عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام آیت 74 تا 82 ‘ عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة ہود آیت 69 تا 76 ‘ سورة ابراہیم آیت 25 تا 41 ‘ جلد پنجم سورة الحجر آیت 51 تا 56 ‘ سورة مریم آیت 41 تا 50 عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الانبیاء آیت 51 تا 72۔ زیر نظر آیت میں عروۃ الوثقی جلد نے اپنے والد اور قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی مخالفت ہرگز نہ کرو ‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم حق کو اختیار کرنا چاہتے ہو ۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کے سوا محض اوثان کو پوجتے ہو اور جھوٹ تراشتے ہو بلاشبہ تم جن کی اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھے ، اللہ سے رزق طلب کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو تم (سب) کو اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ سراسر جھوٹ اور افک ہے : 17۔ سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے والدہ اور قوم کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کردیا کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا تم جن جن کی پرستش بھی کرتے ہو خواہ وہ انبیاء ورسول ہوں یا اللہ کے دوسرے نیک بندے خواہ وہ زندہ ہوں یا تم نے انکے بت یا قبر یا کوئی تشبیہہ بنا کر رکھی ہو یا تشبیہہ بنا کر رکھی ہو یا تصویر آویزاں کردی ہو جو صورت بھی تم نے اختیار کی ہے وہ تمہارا محض جھوٹ ہے جس کو تم لوگوں نے گھڑ لیا ہے یا تمہارے آباء و اجداد نے ان سب میں سے جو بلاشبہ اللہ کے مقبول بندے ہیں ایک بھی ایسا نہیں جو تمہارا معبود کہلا سکے اور نہ ہی ان میں کوئی ایک ایسا ہے جو تمہارے رزق کا مالک ہو کہ تمکو حکم دیا جائے کہ اس سے روزی تلاش کرو ، تمہارا رزاق ہے تو صرف اور صرف ایک اور تمہاری عبادت کے لائق ہے تو صرف اور ایک اور وہ اللہ رب کریم ہے تمہارا حق ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو اس لئے کہ تم سب کو انجام کار اسی ذات اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، زیر نظر آیت میں توحید الہی کو بند کردیا گیا ہے جس کو پیچھے کئی ایک مقامات پر کھولا گیا ہے اور آئندہ بھی کھولا جائے گا بلکہ صرف اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اس کی تفسیر کی جائے تو بیسیوں صفحات پر پھیلتی چلی جائے ، لیکن اختصار کیوں ہوتا ہے اور تفصیل کیوں کی جاتی ہے اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو چونکہ پیچھے بہت تفصیل گزر چکی ہے جیسا کہ گزشتہ آیت کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے اب اس اختصار سے تمہارا ذہن خضود بخود اس تفصیل کی طرف منتقل ہونا چاہئے کہ اگر تم نے اس گرکو یاد کرلیا تو انشاء اللہ قصص انبیاء کی حقیقت کو تم نے پالیا اور اگر تم نے غور نہ کیا تو جو کچھ پہلے موجود تھا وہ بھی بلاشبہ ضائع ہوگیا ، اب غور کرو کہ تم پانے والوں میں ہو یا ضائع کرنے والوں میں ۔ آنے والی آیت سے مضمون کا رخ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف پھر رہا ہے ۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاتے رہو گے تو تم سے قبل امتیں بھی جھٹلاتی رہی ہیں اور رسول کے ذمہ تو بس پیغام (حق) صاف صاف پہنچا دینا ہے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر ان لوگوں نے آپ ﷺ کو جھٹلا یا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے : 18۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ اگر یہ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کی امتوں نے ان کو جھٹلایا پھر آپ ﷺ نے ان میں سے کتنے نبیوں اور رسولوں کا ذکر سنا کہ آخر کار جھٹلانے والوں کو نیست ونابود کردیا گیا اندریں صورت آپ ﷺ کے ذمہ بھی فقط اپنے مخاطبین تک ہمارا پیغام پہنچانا ضروری ہے انکومنوانا اور قبل کرانا ضروری نہیں اس لئے آپ ﷺ بھی ہمارا پیغام ان تک پہنچا دیں اور پوری وضاحت کے ساتھ پہنچا دیں ماننا نہ ماننا ان کے ذمہ کی بات ہے اگر وہ مانیں گے تو ان کا فائدہ ہے اگر نہیں مانیں گے تو ان کا اپنا نقصان ہے کیونکہ نہ ماننے والوں کے لئے انجام کار بھی اس دنیا میں بھی خسارہ ہے اور آخرت میں بھی اور آخرت کا خسارہ تو ایک نہ پوری ہونے والی چیز ہے پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے جھٹلانے والوں کا دنیا میں کیا حال ہوا کیونکہ وہ معاصریں سے پوشیدہ نہیں تھا اور ہم بھی آج تک ان کی داستان پڑھتے آ رہے ہیں اور آخرت میں بھی یقینا انکو عذاب ہوگا کیونکہ ان کے عذاب کی الہی اطلاع کبھی غلط نہی ہو سکتی ، گزشتہ امتوں کے جھٹلانے والوں کے ساتھ ان کو بھی عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا ۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تخلیق کس طرح شروع کی ، پھر اس کو دوبارہ پیدا کر دے گا ، یہ تو اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتداء کی وہ آخرت پر یقین کیوں نہیں کرتے ؟ 19۔ آخرت پر یقین نہ لانے والوں کے پاس آخرت کی زندگی سے انکار کی کوئی دلیل ہے ؟ اچھا اگر وہ کوئی دلیل نہیں رکھتے اور آخرت کی زندگی کو ماننے کے لئے تیار بھی نہیں تو وہ اپنی ابتدائی تخلیق ہی کے متعلق کچھ بیان کردیں گے کہ ایک انسان کی تخلیق کیونکر ہوئی اور اگر وہ تخلیق اول کے متعلق بھی کچھ نہیں کہہ سکتے تو موجودہ تخلیق کے متعلق ہی کچھ اظہار خیال کردیں کہ یہ تخلیق ان کی کیونکر ہو رہی ہے کہ وہ اپنی ایک خواہش نفس کو پورا کرتے ہیں جو طبعی اور فطری چیز ہے لیکن اس کے نتیجہ میں بشرطیکہ انہوں نے اپنی خواہش کو جائز اور صحیح استعمال کیا ہے تو ان کو کیسا صلہ ملا ؟ اور پھر ہر عالم و جاہل کو بدستور مل رہا ہے باوجود اس کے کہ وہ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور نتیجہ سے وہ بھی دو چار ہو رہے ہیں ان دونوں پہلی تخلیقات کو ذہن نشین کرلیں اور یقینا وہ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے سے انکار کر ہی نہیں سکتے حالانکہ اس عام اصول کو تو وہ بھی سمجھتے ہیں کہ بغیر کسی نمونہ اور خاکہ کے جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک بہترین مخلوق کے طور پر پیدا کردیا تو اب وہ دوبارہ اس نمونہ اور نقشہ کے مطابق کیوں پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا پہلی پیدائش مشکل تھی یا یہ آخری اور دوسری پیدائش مشکل ہے ؟ پھر جب وہ ایک مشکل چیز کو مان چکے ہیں تو آسان سے انکار کیوں کرتے ہیں ؟ ہم نے تخلیق اول کے متعلق تفصیلی ذکر عروۃ الوثقی جلد ششم سورة حج کی آیات 5 ‘ 6 ‘ سورة المومنون کی آیات 12 ‘ 13 ‘ میں کردیا ہے اور دنیا میں نئی کوششیں جو ہو رہی ہیں ان کا ذکر بھی سورة الفرقان کی آیت 54 میں تفصیل سے کردیا ہے محولہ بالا تینوں مقامات کی تفسیر دیکھ لیں انشاء اللہ کافی کچھ ملے گا اور اصول بات کبھی نہ بھولو کہ پیدائش اول اللہ تعالیٰ کا فضل ہے انسان کے لئے اگر کوئی کمال ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ صرف یہ کہ وہ حقیقت کو سمجھ لے کہ پیدائش اول کی حقیقت کیا ہے اور موجودہ زندگی کی پیدائش کی اصل کہاں ہے اور اس طرح آخرت کی زندگی کیونکر ہوگی تینوں کی سمجھ میں آجانے کے بعد اگر وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہاں ان ساری پیدائشوں کا اصل فاعل اللہ تعالیٰ ہے تو یقینا وہ حقیقت کو پا گیا لیکن اگر کسی جگہ کسی کو بھول لگ گئی تو یقینا وہ ایسا بھولا کہ اس نے اپنی آخرت برباد کرلی اور اتنے خسارہ میں رہا جس کا خسارہ پورا ہونے کی کوئی شکل نہ ہوگی پھر کسی فعل کو جان لینا ہی انسان کے لئے اصل خوبی کی بات ہے اس سے آگے جو کچھ ہے وہ سوائے دھوکہ اور فریب نظر کے کچھ بھی نہیں ۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا ، پھر اللہ اسے دوسری بار پیدا کر دے گا اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے (ہر چیز کا اس نے بندھن باندھ دیا ہے)

اس زمین میں چل پھر کر دیکھو شاید ان نشانات کو دیکھ کر تمہاری عقل سیدھی ہوجائے : 20۔ آنکھیں کھول کر قدرت الہی کے نشانات کو اگر دیکھا جائے کر اور عقل وفکر کو وا کر کے دیکھنا نصیب ہوجائے تو سمجھ لو کہ تم مراد کو پہنچ گئے ۔ لیکن خیال رہے کہ اکثر دیکھنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ دیکھتے رہتے ہیں لیکن عقل وفکر پر بدستور پردہ پڑا رہتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ باوجود اس کے کہ دنیوی اعتبار سے بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کے دیکھنے اور ایک بیل کے دیکھنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی نظر صرف اور صرف اس چیز تک محدود رہتی ہے جس کو وہ دیکھنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی نظر میں صرف اور صرف اس چیز تک محدود رہتی ہے جس کو وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس سے آگے ان کی نظر اس صانع تک نہیں پہنچتی ہے جس کی وہ تخلیق ہے اس لئے ان کو دیکھنا کچھ فائدہ نہیں دیتا اور فائدہ سے ہماری مراد فقط آخرت کا فائدہ ہے جس کی طرف ان کی آنکھیں ہمیشہ بند ہی رہتی ہیں اور وہ ان اشیاء کی ظاہری خوبی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں تا آنکہ ان کی سیاحت کا وقت ختم ہوجاتا ہے اگر تم ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے جوان تمام اشیاء کو وجود عطا کیا اور ہر ایک کے لئے الگ الگ اصول مقرر کردیئے اس میں راز کیا ہے ؟ کیا ایک انسان اور حیوان کی زندگی میں تمیز کرنے کی کوئی چیز نہیں ؟ بلاشبہ ہے تو اس فرق کو محلوظ خاطر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرو تو تم کو قدرت الہی کے نشانات ہی نشانات دکھائی دیں اور یقینا تم پکار کر کہو کہ ایسا خالق ‘ مالک اور رازق ہے اور اس نے ہرچیز کے لئے ایک بندھن باندھ دیا ہے اور اسی بندھن کے مطابق ہر ایک چیز کا وجود قائم ہے اور اسی بندھن میں وہ قائم رہے گا اور بلاشبہ اس بندھن کا باندھنے والا ہی اس کا اختیار رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے اس کو کھول دے ، گویا اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کو سرے و تفریح کا حکم دیا ہے جس سے خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ قیامت پر یقین رکھنے والوں کو بدرجہ اتم سیروسیاحت کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ کر اپنے ایمان کو تازہ کرنا چاہئے بشرطیکہ ایسا ممکن ہو۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ (اپنے قانون کے مطابق) جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

سزا کا مستحق وہی ہے جو سزا کے قابل بھی ہوتا ہے اور رحم اس پر کیا جاتا ہے جو رحم کے قابل ہو : 21۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ الل ٹپ نہیں ہوتا بلکہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون کے مطابق ہوتا ہے کوئی سزا پاتا ہے تو بلاشبہ وہی پاتا ہے جو سزا کے قابل ہوتا ہے اور رحم کیا جاتا ہے تو اس پر رحم کے قابل ہو اور امتحان اور آزمائش ایک اپنا مقام ہے تاہم کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ چاہے تو بدکاروں کو جنت بھیج دے اور نیکوں کاروں کو دوزخ میں پھینک دے کیونکہ وہ مختار کل ہے ، بلاشبہ وہ مختار کل ہے لیکن اس کے اختیار کا مطلب آپ نے غلط سمجھا ہے مختار کل کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جو کچھ اس نے اعلان کیا ہے وہ اپنی مرضی اور اختیار ہی سے کیا ہے جو کچھ کیا ہے تو وہ کسی حال میں بھی غلط ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا خلاف محال ہے ، ہاں ! بلاشبہ اس کا علم کو علم ہے کہ اس مخلوق میں سے کون کون ہے جو عقل وفکر سے کام لے گا اور کون کون ہے جو اندھی تقلید پر اڑا رہے گا کون کون ہے جو جنت کا وارث بنایا جانے والا ہے اور کون کون ہے جو دوزخ کا ایندھن بننے والا ہے تاہم ذات اقدس نے نہ تو کسی کو جنت کا مستحق ہونے کے لئے مجبور کیا ہے اور نہ دوزخ کا اہل قرار پانے کے لئے مضطر کیا ہے بلکہ ہر ایک کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو اہل جنت کے کام کرکے جنت کی طرف چلے اور چاہے تو اپنے اختیار سے دوزخ کی طرف رواں دواں ہو جن لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ جس کو وہ ذلیل و خوار کرنا چاہتا ہے اس کے دل میں حرص وطمع پیدا کردیتا ہے ‘ بدخلق بنادیتا ہے اپنی یاد اور ذکر سے اس کا دل پھیر دیتا ہے اتباع سنت کی بجائے بدعات کاشیدائی بنا دیتا ہے اس کی تفہیم صحیح نہیں ہوئی یا وہ دوسروں کی تفہیم جس طرح کرانا چاہتے تھے نہیں کرا سکے اسی لئے انہوں نے (آیت) ” یعذب من یشآء ویرحم من یشاء “ کا مفہوم اس طرح بیان کردیا ہے ہاں ! دریا بادی (رح) نے صحیح فرمایا کہ ” مشیت عذاب ہمیشہ اس کے متعلق ہوگی جو مستحق عذاب ہوگا اور مشیت رحم اس کے متعلق ہوگی جو رحمت کا اہل ہوگا ۔ “ اور ہر ایک کو لوٹ کر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف آنا ہے۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور ( آپ ﷺ فرما دیں اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہ اے منکرو) تم زمین و آسمان میں (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں

تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اسکے سوا تمہارا کوئی مدگار نہیں : 22۔ ایک آدمی کفر وشرک میں مبتلا ہے اس کفر وشرک پر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور اب وہ خود یا کوئی دوسرا چاہئے کہ اس کو اللہ کے عذب سے نجات مل جائے اور پھر وہ موت کے بعد مختلف طرح کے حیلے بہانے نکالے کہ اس کی بخشش ہوجائے گی تو بلاشبہ اس کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے نہ تو وہ خود کسی تدبیر سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کے کام آسکتا ہے کیونکہ آسمان و زمین کی ساری قوتیں اس ذات اقدس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی نہیں جو اس کو اس عذاب سے بچا سکے اگر کوئی کہتا ہے تو وہ بلاشبہ جھوٹ کہتا ہے ، اس دنیاوی زندگی میں اگر کوئی بد اعتدالیاں کرکے دنیوی عذاب سے بچ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آخرت میں بھی انہیں چالاکیوں کے باعث نجات پا جائے گا تو اس کا یہ خیال و گمان مکڑی کے ایک جالے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ ایں خیال است ومحال است وجنوں : لیکن افسوس کہ آج کل ایسے نمائشی دینداروں کی بھی کوئی کمی نہیں جو اپنی چرپ زبانی اور شوشہ پن کے باعث اپنے مرنے والوں کے لئے بخشش اکٹھی کرتے رہتے ہیں اور اپنے خاندان کے لوگوں کو اس طرح کی دھاندلیوں کے عذاب سے بچانے کی لاحاصل سعی کرتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنی مکاریوں اور فریب کاریوں کے باعث دنیا کا مال اکھٹا کرلیا ہے اسی طرح اب اس مال حرام کے باعث آخرت کے درجات بھی بلند کروا لئے جائیں گے ،۔ اس لئے جب ان کے ہاں کسی کی موت واقع ہوتی ہے توہ قرآن خوانیاں کرواتے ہیں ‘ تیسرے ‘ چوتھے کے ختمات کی تشہیر کرتے ہیں ۔ اسلامی مدرسوں میں پیغام بھجوا کر وہاں سے کئی کئی سو قرآن کریم پڑھوا کر اپنے اعزہ و اقارب کی بخشش کا سامان پیدا کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنے مرنے والے کے لئے اتنی مقدار میں قرآن کریم ختم کروا لئے ہیں اور اتنی دیگیں کھانے کی تقسیم کردی ہیں کیا اب بھی اس کی بخشش نہیں ہوگی حالانکہ قرآن کریم دوسری جگہ نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ ” اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو اور اتنی اور بھی تو یہ لوگ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لئے سب کچھ فدیئے میں دینے کے لئے تیار ہوجائیں گے “ (الزمر 39 : 47) اور دوسری جگہ اس کی وضاحت اس طرح کردی کہ ” ان کی حالت یہ ہوگی کی زمین کی ساری دولت دینے پر آمادہ ہوں گے کہ کسی طرح وہ عذاب دوزخ سے بچ جائیں لیکن ان کی پیشکش قبول نہیں کی جائے گی اور ان کا حساب بڑا سخت ہوگا ان کا ٹھکانا دوزخ ہے بہت ہی بری جگہ ہے ۔ “ (الرعد 13 : 18) اس طرح ایک طرف یہ چودہویں صدی کا ملاں ہے اور دوسری طرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام اور بیان دونوں کا آپ نے پڑھ لیا فیصلہ خود کرلیں کہ یہ چودہویں صدی کا ملاں صحیح کہتا ہے یا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ۔ کاش کہ اس کٹھ پتلی ملاں سے کوئی یہ بات بھی پوچھ لیتا کہ تیرا نظریہ قرآن کریم کی کس آیت اور نبی کریم ﷺ کی کس حدیث ہے ذرا اس کی وضاحت تو کر دے ۔ حالانکہ ہم میں سے ہر شخص یہ جانتا ہے کہ یہ لوگ ان مردوں کی قبروں پر قرآن کریم پڑھنے کے لئے بیٹھتے ہیں جن کے ورثاء ان کو ان کے بنائے عقیدے کے مطابق آفر کرتے ہیں کہ ہمارے مرنے والے کی قبر پر بیٹھو اور پھر جمعرات تک یہ لوگ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور جمعرات کو ایک ختم کی تقریب کرکے دوسرے لفظوں میں یہ بےغیرت اللہ میاں سے بخشوا کر گھرواپس آجاتے ہیں حالانکہ مرنے والے کے لوگوں نے جو کچھ بھی ان کو پشک کیا اس کی حیثیت سوائے چند کوڑیوں کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ حالانکہ مرنے والا جس طرح کا ظالم تھا وہ تو تھا ہی اس کے ساتھ یہ نظریہ رکھنے والے بھی ظالم ٹھہرے جنہوں نے پیٹ کی خاطر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے دین کو بدل ڈالا اور اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھوننے کے لئے یہ اتنا بڑا جھوٹ گھڑا جس کا نہ سر تھا نہ پیر لیکن مرنے والے کے گھر والوں نے اس کو کیونکر قبول کرلیا ؟ اس لئے کہ انہوں نے آباء و اجداد سے یہ سن رکھا تھا اور اس ملاں ازم کے لوگوں نے اس کو باور کردیا تھا کہ مرنے والے کی بخشش کا سامان اس طرح کیا جاسکتا ہے ۔ کوئی نہیں کہ قرآن کریم ہی نے تو یہ بتایا کہ ایسے گناہ کو کسی طرح ٹالے بھی نہیں ٹل سکتے تم لوگ چار آنے کی خاطر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بات کو ٹھکرا کر کیوں اتنا بڑا ظلم کمانے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظلم سے بچائے خصوصا ان ظالموں کے ظلم سے بھی جو ظلم کماتے مرے اور ان ظالموں سے بھی جنہوں نے اپنے پیٹ کی خاطر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین ہی کو بدل ڈالا تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 91 جلد چہارم سورة یونس کی آیت 54 کا مطالعہ کریں ‘ عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 229 میں بھی اس کی تفصیل دیکھ جاسکتی ہے ۔