Explained with ayahs 10–11
مرتد ہونے والے
ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 16
یعنی اللہ آزمائش کے مواقع اس لیے بار بار لاتا ہے تاکہ مومنوں کے ایمان اور منافقوں کے نفاق کا حال کھل جائے اور جس کے اندر جو کچھ بھی چھپا ہوا ہے وہ سامنے آجائے، یہی بات سورة آل عمران میں فرمائی گئی ہے کہ مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ (آیت 179) " اللہ مومنوں کو ہرگز اس حالت میں رہنے دینے والا نہیں ہے جس میں تم اس وقت ہو (کہ صادق الایمان اور منافق سب ملے جلے ہیں) وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ نمایاں کر کے رہے گا "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
خلاصہ تفسیر
اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو راہ خدا میں کچھ تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو ایسا (عظیم) سمجھ بیٹھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب) جس سے آدمی بالکل ہی مجبور ہوجائے حالانکہ کسی مخلوق کو ایسے عذاب پر قدرت ہی نہیں اب تو ان کا یہ حال ہے) اور اگر (کبھی) کوئی مدد (مسلمانوں کی) آپ کے رب کی طرف سے آپہنچتی ہے (مثلاً جہاد ہو اور اس میں ایسے لوگ ہاتھ آجائیں) تو (اس وقت) کہتے ہیں کہ ہم تو (دین اور عقیدہ میں) تمہارے ساتھ تھے (یعنی مسلمان ہی تھے، گو کفار کے اکراہ اور زبردستی کی وجہ سے کفار کے ساتھ ہوگئے تھے، اس پر حق تعالیٰ کا ارشاد یہ…
Read the full tafseer →ولیعلمن اللہ الذی امنوا ولیعلمن النفقین (11)
مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح مخلصین کے ساتھ منافقین بھی ملے ہوئے ہیں تو اللہ ان کو اسی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ ان دونوں کو چھانٹ کر الگ الگ کرے گا۔ الذین امنوا سے یہاں مومنین مخلصین مراد ہیں۔ اس لئے کہ اس کے مقابل میں منافقین کا ذکر ہے جن کا کردار اوپر والی آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں چوٹ کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بصینعہ تاکید بیان ہوئی جسے سے واضح ہوتا ہے کہ بہ فرق و امتیاز اللہ تعالیٰ کی صفات کا لازمی تقاضا ہے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ بات اس کے عدل کے منافی ہوگی۔
Read the full tafseer →1 اسکا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشی اور تکلیف دے کر آزمائے گا تاکہ منافق اور مومن کی تمیز ہوجائے جو دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت کرے گا، وہ مومن ہے اور جو صرف خوشی اور راحت میں اطاعت کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ صرف اپنے حظ نفس کا مطیع ہے، اللہ کا نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں ضرور آزمائینگے، تاکہ ہم جان لیں تم میں مجاہد اور صابر کون ہیں اور تمہارے دیگر حالات بھی جانچیں گے ،۔ جنگ احد کے بعد، جس میں مسلمان اختیار و امتحان کی بھٹی سے گزارے گئے تھے، فرمایا…
Read the full tafseer →6: دیکھئے حاشیہ نمبر 1
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اب ، مشکلات راہ ایمان ہی کے حوالے سے ایک دوسرا کردار ، کہ جب مشکلات آتی ہیں تو چیختا چلاتا ہے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کامیابی اور فتوحات آتی ہیں تو پھر لمبے جوڑے دعوے کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ چند کلمات میں اس کردار کو بھی نمایاں فرماتا ہے ، یوں کہ ایک واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔
ومن الناس من یقول ۔۔۔۔۔۔ ولیعلمن المنفقین (10 – 11)
لوگوں میں ایسے کردار عام ہیں ، ایسے لوگ لفظ ایمان کو ایک معمولی بات سمجھ کر اقرار کرتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا ہے ۔ اس کے کچھ تقاضے نہیں۔ لیکن جب اللہ کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، اور یہ آزمائش اس کلمے کی وجہ سے آتی ہیں…
Read the full tafseer →3 یعنی معلوم تو اسے پہلے ہی سے سب کچھ ہے لیکن اب تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ لے گا کہ کون اپنے کو سچا مومن ثابت کرتا ہے اور کون جھوٹا دغا باز منافق ہے (تنبیہ) اس قسم کے مواضع میں " لَیَعْلَمَنْ اللّٰہُ " کے معنی " لَیُرِیَنَّ اللّٰہُ " کے لینا ابن عباس سے منقول ہے کہ کما فی تفسیر ابن کثیر۔
Read the full tafseer →آیت 11 وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ”
یعنی ابھی اس مرض کی ابتدا ہے۔ اگر تم لوگ nip the evil in the bud کے مصداق ابھی سے اس کا علاج کرلو گے تو بچ جاؤ گے۔ منافقت کا مرض ٹی بی کے مرض کی طرح ہے جو انفیکشن سے شروع ہوتا ہے اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا لا علاج روگ بن جاتا ہے۔ چناچہ ابھی تم لوگوں کو اس مرض کی انفیکشن ہوئی ہے۔ اگر ابھی تم نے اس کے تدارک کی فکر نہ کی اور یہ روگ ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ گیا تو مہلک اور لا علاج مرض باقاعدہ منافقت کی شکل اختیار کر جائے گا۔
اس آیت کے حوالے سے ایک خصوصی نکتہ یاد رکھنے کا یہ ہے کہ مکی قرآن کا یہ واحد مقام ہے…
Read the full tafseer →19 یعنی اللہ تعالیٰ بار بار ایسے موقع پیدا کرتا رہتا ہے جس سے سب کو معلوم ہوجاتا ہے۔ کہ فلاں شخص ایمان کے کس درجہ میں ہے۔ پختہ ایمان والا کون کون ہے، کمزور ایمان والا کون اور منافق کون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل کوئی وقتی اور عارضی سی چیز نہیں۔ اور نہ ہی یہ معرکہ ایسی چیز ہے جس کے نتائج صرف کسی معرکہ کارزار میں سامنے آئیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء چونکہ سب سے زیادہ پختہ ایمان والے ہوتے ہیں۔ اس لئے سب سے سیادہ ایذائیں اور مشکلات خود انہی کے حصہ میں آتی ہیں۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ اَشد البلاء علی الانبیاء ثم الأمثل فالأمثل یعنی سب سے مشکلات و مصائب انبیاء پر آتی ہیں پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
14۔ یہ دوسرے گناہ وہ ہوں گے جن کے یہ لوگ سبب و باعث بنے تھے گو اس سے سبکدوشی ان اصلی گنہگاروں کی بھی نہ ہوجائے گی۔ (آیت) ” من خطیھم “۔ میں ” من “ بیانیہ ہے۔ (آیت) ” من شیء “۔ میں من زائد تاکید استغراق یا تاکید نفی کے لیے ہے۔ یعنی ” کچھ بھی “ یا ” ذرا بھی “۔ من مزیدۃ لتاکید الاستغراق (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →ولیعلمن اللہ الذین امنوا ولیعلمن المنفقین . اور اللہ ضرور جان کر رہے گا ان کو جو (سچے دل سے) ایمان لائے اور منافقوں کو بھی ضرور جان کررہے گا۔ یعنی ہر شخص کو اس کے پوشیدہ ضمیر کے مطابق بدلہ دے گا۔ شعبی کا قول ہے کہ آغاز سورت سے یہاں تک دس آیات مدنی ہیں اور اس کے آگے آخر سورت تک ساری آیات مکی ہیں۔
Read the full tafseer →(11) اس کے بعد حضرت عیاش ؓ اور ان کے ساتھی مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام بھی اچھا ہوا اور اللہ تعالیٰ بدر کے دن ایمان والوں کو بھی ظاہری وباطنی طور پر ممتاز کرکے رہے گا اور منافقین کو بھی۔
Read the full tafseer →وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ : یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اس سے مراد ہمارا دین ہے۔ امر کی وجہ سے فعل مضارع کو جزم دی گئی۔ فراء اور زجاج نے کہا : یہ شرط و جزا کی تاویل میں امر ہے۔ مراد اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھا لیں گے۔ جس طرح شاعر نے کہا :
میں نے کہا : اگر تو بلائے تو میں بھی بلائوں گا بیشک زیادہ اونچی آواز اس وقت ہوتی ہے جب دو بلانے والی دعوت دیں۔ شعر میں ادعی و ادع شرط و جزا کی صورت میں ہیں ان دعوت دعوتُ
مہدوی نے کہا : انھم لکذبون کا اس کے بعد وقوع معنی پر حمل کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ معنی ہے اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھائیں گے۔ جب صیغہ امر معنی میں خبر کی طرف راجع ہوتا ہے تو اس پر تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ سے لے کر آیت ولیعلمن المفقین تک سے مراد ہے کہ کچھ لوگ ایمان لاتے ہیں اپنی زبانوں کے ساتھ جب ان کو کوئی مصیبت لوگوں نے کی طرف سے پہنچتی ہے یا کوئی مصیبت ان کو اپنی جانوں میں یا اپنے مالوں میں پہنچتی ہے تو فتنہ میں مبتلا ہوجاتے اور یہ دنیا میں اس پہنچنے والی تکلیف کو ان کے لیے ایسا بنا دیا گیا جیسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ سے مراد ہے کہ کچھ مومن تھے جو…
Read the full tafseer →وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ [اور اللہ لازما جان لے گا ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَلَيَعْلَمَنَّ [اور وہ لازما جان لے گا ] الْمُنٰفِقِيْنَ [منافقوں کو ] ۔
Read the full tafseer →(وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) (اور البتہ اللہ ایمان والوں کو ضرور جان لے گا اور وہ ضرور ضرور منافقوں کو جان لے گا) اسے ہمیشہ سے سب کچھ معلوم ہے اور آئندہ بھی جس کا جو عقیدہ اور عمل ہوگا وہ اسے جان لے گا۔ اہل ایمان کو ایمان کی جزا اور اہل نفاق کو نفاق کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →10:۔ یہ مومنوں کے لیے بشارت اور منافقوں کے لیے تخویف ہے اور علم سے مجازاۃ مراد ہے۔ والمراد بالعلم المجازاۃ ای لیجزینہم بمالھم من الایمان والنفاق (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ربط آیات
اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
والدین سے حسن سلوک
اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید…
Read the full tafseer →وَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ 11
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254]
( نق ) نفق
( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ترکیب : الذین امنوا یعلمن کا مفعول اتبعوا الخ مقولہ ہے قال الذین کفروا کا ولنحمل عطف علی اتبعوا وار ادوا یجمع ہذان الامران فی الحصول ان تتبعوا طریقننا و ان نحمل خطایا کم نظیرہ لیکن منک العطاء و لیکن منی الدما انہم لکاذبون فی اخیار حمل الخطایاوان صدر فلک بلفظ الامر۔ وعندی اذا کان الوعدمن غیر صمیم القلب السمی ھذا فی العرف بالکذب فعلی ھذا لاینحصر لکذب فی الاخبار بل قدیکون فی الامنشاء وھم ظلمون حال من ضمیرھم فی اخذھم۔
تفسیر : ولیعلمن اللہ الذین امنوا ولیعلمن المنفقین یہ کلام سابق کا تتمہ ہے کہ وہ جو ایسی باتیں بناتے ہیں اللہ پر کوئی بات مخفی نہیں، وہ دلوں کے راز جانتا ہے اور آیندہ مومن اور منافق…
Read the full tafseer →وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ ۔ (العنکبوت : 11)
(اور اللہ ایمان والوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔ )
استقامت اہل ایمان کی قوت اور نفاق ہلاکت ہے
حق و باطل کی آویزش میں حق کا اصل سرمایہ مخلصین کا وہ گروہ ہوتا ہے جو ایمان و عمل کی ہر آزمائش میں پورا اترتا ہے۔ اس لیے حق کے راستے پر چلنے والوں کے لیے سب سے زیادہ فکرمندی اس بات کی ہوتی ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی کمزور عنصر شامل نہ ہونے پائے تاکہ اس قافلے کی منزل کھوٹی نہ ہونے پائے۔ اسلام چونکہ قافلہ حق کا وہ عنوان ہے جسے قیامت تک کے لیے روشنی دینا ہے۔ اس لیے پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت مبارکہ کی ابتداء میں مومنوں کی آزمائش اور ظالموں کی گرفت کے بارے میں فرمایا۔ اب منافقوں کے کردار کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے جس کا معنٰی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں ایک منہ بند کیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آتا۔ یہی منافق کا کردار ہوتا ہے کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرتے ہوئے اسلام کی خوبیاں ذکر کرتا ہے۔ اگر اسے اسلام کے راستے میں کوئی آزمائش آئے تو وہ کفار کی طرف رخ موڑ لیتا ہے۔ منافق کی اسی کیفیت کا یہاں ذکر کیا گیا…
Read the full tafseer →11: وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ (اور ضرور بضرور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہر کریں گے) اور الْمُنٰفِقِیْنَ (منافقین کو
بھی ظاہر کریں گے) ۔ ان کا حال بخوبی ظاہر ہوجائے گا۔ ان دونوں کی حالت اس کے سامنے ظاہر ہے۔ جو ان دونوں کو بدلہ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →11۔ ولیعلمن اللہ الذین امنوا، ، انہوں نے تصدیق کی اور اسلام پر ثابت قدم رہے، مصیبت کے وقت۔ ولیعلمن المنافقین، ، اور منافقین کو بھی جانتے ہیں۔ جنہوں نے مصیبت کے وقت اسلام کو ترک کردیا۔ اس آیت کے نزول کے بارے میں اختلاف ہے کہ مجاہد نے کہا کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی، دوسراقول ہے اس آیت کا نزول ان لوگوں کے متعلق ہوا کہ جو زبان سے ایمان لائے لیکن جب ان کو مصیبت پہنچی تو وہ اسلام سے پھرگئے۔
عکرمہ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے مکہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر وہ اپنے ایمان پوشیدہ رکھتے تھے بدر کی لڑائی میں مشرک ان کو اپنے ساتھ لے گئے ان میں سے کوئی مارا گیا، تو مسلمانوں نے رسول اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9 تا 11۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کئے ہیں اپنے نیک بندوں میں داخل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں ان کو رکھا جائے گا اس کے بعد ارشاد کیا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے اسی واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو پھر وہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں غرضیکہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہوئے تو اطمینان ہے اور اگر کچھ جانچ ہوئی تو پھرگئے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آجاوے مدد اور فتح تیرے رب کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ اس شخص کی آزمائش ہونا لازمی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے، تو یہ بھی واضح کردیا کہ لوگوں میں سے ایک گروہ محن و ابتلاء پر صبر نہیں کرسکتا بعض تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا چناچہ فرمایا (ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب ان کو اللہ (کے راستے) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ مار کر مال چھین کر اور عاردلا کر اسے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر باطل کی طرف لوٹ آئے (جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ) تو لوگوں کی تکلیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8 منافقوں اور کمزور ایمان والوں کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے اسلام و ایمان کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود جب ان کو راہ حق میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ایسے لوگ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کے برابر قرار دینے لگتے ہیں "۔ اور دنیاوی تکلیف کے مقابلے میں آخرت کے عذاب کو قبول کرلیتے ہیں حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ان تکلیفوں اور عذابوں کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ دنیاوی تکلیف و پریشانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرحال فانی اور چند روزہ ہے جبکہ آخرت کا عذاب دائمی اور بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات
تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →11 ۔ یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔
Read the full tafseer →(29:11) ملاحظہ ہو 29:3 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 :
وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 :
کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کیے ہیں اپنے بندوں میں شامل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں اور ان کو رکھاجائے گا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ، ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اس واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو پھر یہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ، غرض کہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہو تو اطمینان ہے اور اگر جانچ ہوئی تو پھرگئے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر کبھی کوئی مدد اور فتح…
Read the full tafseer →[5] یعنی معلوم تو پہلے ہی سے اسے سب کچھ ہے لیکن اب تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ لے گا کہ کون اپنے کو سچا مومن ثابت کرتا ہے اور کون جھوٹا منافق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 1: اس آیت میں منافقین کا ذکر ہے ۔ کہ زبان سے تو ایمان کا دعویٰ ہے ۔ مگر جب مصائب و تکالیف کا سامنا ہوتا تو گھبراٹھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ بھی اللہ کا عذاب ہے ۔ اور جب یسر اور آسانی کے لمحات میسر ہوتے ہیں ۔ اس وقت پھر جذبہ ایمان ان میں عود کر آتا ہے ۔
حل لغات :۔ فتنۃ الناس ۔ لوگوں کی ایذا دہی کو صدور ۔ صدر کی جمع ہے بمعنی سینہ
Read the full tafseer →11۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر اور معلوم کر کے رہے گا جو صحیح ایمان لائے اور منافقوں کو بھی معلوم اور ظاہرکرکے رہے گا ۔ یعنی اگر اس قسم کے امتحانات میں ان کو مبتلا نہ کیا جائے تو برے اور بھلے اور کچے اور پکے نمایاں نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ مومن اور منافق نمایاں ہوجائیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 3۔ مقصود درد سے یہ نہیں کہ ان کا اسلام اب مقبول نہیں، بلکہ استمرار علی الاسلام فی الماضی کے دعوے میں تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →ایمان میں صادق اور کاذب دونوں کو ظاہر کردیا جائے گا :
11۔ امتحان وآزمائش کیوں ہوتا ہے ؟ محض اس لئے کہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ کردیا جائے ، محنت کرنے والا اور محنت کا چور دونوں کی حیثیت کھل کر سامنے آجائے ، چوریاں کھانے والوں اور خون دینے والوں کی پوزیشن واضح ہوجائے اور سب جان لیں کہ سچا مومن کون ہے اور دفع الوقتی کے لئے کون ایمان لایا ہے ۔ دونوں فریقوں نے ایک ہی دعوی کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دعوی میں صادق القول کون ہے اور کاذب القول کون ؟ اللہ تعالیٰ تو دونوں فریقوں کے متعلق اپنے علم ازل کی بنا پر پہلے ہی جانتا ہے لیکن دوسرے لوگوں پر بھی ان کی پوزیشن واضح کردینا ضروری ہے اور وہ اسی طرح واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
Commentary
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا (And those who disbelieve say - 29:12). The infidels had tried all sorts of devices to mislead the Muslims and to hinder the progress of their faith. Sometimes they tried to get hold of Muslims by show of power and wealth, and at others by trying to put doubts in their minds. This verse mentions one such move made by them. They asked Muslims not to leave their ancestral religion in fear of torments in the Hereafter, because no such thing was going to happen at the first place, but even the belief of the Muslims about the Hereafter would come true, they…
Read the full tafseer →16 That is, "Allah provides occasions for the trial again and again so that the faith of the believers and the hypocrisy of the hypocrites become manifest, and whatever is hidden in the hearts becomes exposed. The same thing has been said in Al-i-`Imran: 179: "Allah will not leave the believers in the state in which you happen to be at present: He will surely separate the pure from the impure people."
Read the full tafseer →