Al-Ankaboot 29:12

Al-Ankaboot · from ayah 12

29:12

وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ ؕ— وَمَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ ؕ— اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ۟وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِيۡلَـنَا وَلۡـنَحۡمِلۡ خَطٰيٰكُمۡ ؕ وَمَا هُمۡ بِحٰمِلِيۡنَ مِنۡ خَطٰيٰهُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ‌ؕ اِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins." But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:12

یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے حالانکہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کافروں نے ایماں والوں سے کہا کہ تم ہماری راه کی تابعداری کرو تمہارے گناه ہم اٹھا لیں گے، حاﻻنکہ وه ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ : ہمارے راستے کے پیچھے چلو تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کی خطاؤں کا ذرا بھی بوجھ نہیں اٹھاسکتے، اور یہ لوگ یقینا بالکل جھوٹے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطاؤں (کے بوجھ) کو اٹھا لیں گے، حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی (بوجھ) اٹھانے والے نہیں ہیں بیشک وہ جھوٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے کہ تم ہمارے راستے پر چلو اور لازم ہے کہ ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں، حالانکہ وہ ہرگز ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بیشک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو تو ہم تمہارے گناہوں کا بار اٹھا لیں گے حالانکہ وہ دوسرے کے گناہوں کا کچھ بھی بار نہیں اٹھائیں گے۔ یہ سراسر جھوٹے لوگ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، ہم تمہارے گناہوں کو بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں بنیں گے۔ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر وباطل پر وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے پیچھے چلو ہم تمہاری خطائیں اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ وہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں وہ قطعی طور پر جھوٹے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں ہماری راہ چلو اور تمہارے گناہ ہمارے ذمہ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کافر کہتے ہیں اہل ایمان سے کہ تم ہمارے راستے کی پیروی کرو ہم (آخرت میں) تمہاری خطاؤں کا بوجھ اٹھا لیں گے اور وہ نہیں اٹھانے والے ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی۔ یقیناً وہ جھوٹ بول رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ”ہمارے طریقوں پر چلو ہم تمہارے گناہ اپنے سر لیں گے، حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں ‘ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The unbelievers say to the believers: “Follow our way and we will carry the burden of your sins.” (They say so even though) they are not going to carry any part of their sins. Surely they are lying.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who disbelieve say to those who believe, :Follow our way, and we will bear the burden of your sins. And they are not (able) to bear the burden of their sins in the least. Indeed they are pure liars.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who disbelieve say to those who believe, :Follow our way, and we will bear the burden of your sins. And they are not (able) to bear the burden of their sins in the least. Indeed they are pure liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who disbelieve say to those who believe: "Follow our way and let us bear your sins." Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who disbelieve say unto those who believe: Follow our way (of religion) and we verily will bear your sins (for you). They cannot bear aught of their sins. Lo! they verily are liars.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins." But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.

— Saheeh International

The unbelievers say to the believers. "Follow our way. We shall take the responsibility for your sins." They cannot take responsibility for any of the sins. They are only liars.

— Muhammad Sarwar

And those who disbelieve say to those who believe: Follow our path and we will bear your wrongs. And never shall they be the bearers of any of their wrongs; most surely they are liars.

— Muhammad Habib Shakir

And those who disbelieve say unto those who believe: follow our way, and we shall surely bear your sins; whereas they shall not bear aught of their sins; verily they are the liars.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Unbelievers say to those who believe: "Follow our path, and we will bear (the consequences) of your faults." Never in the least will they bear their faults: in fact they are liars!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–13

گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولا غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابتداروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔ ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ 25؀) 16۔ النحل :25) یعنی یہ اپنے کامل بوجھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 17 ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اول تو زندگی بعد موت اور حشر و نشر اور حساب و جزا کی یہ باتیں سب ڈھکوسلا ہیں۔ لیکن اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی باز پرس بھی ہوتی ہے تو ہم ذمہ لیتے ہیں کہ خدا کے سامنے ہم سارا عذاب اپنی گردن پر لے لیں گے۔ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو چھوڑ دو اور اپنے دین آبائی کی طرف واپس آجاؤ، روایات میں متعدد سرداران قریش کے متعلق یہ مذکور ہے کہ ابتدا جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان سے مل کر یہ لوگ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عمر کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ابو سفیان اور حرب بن امیہ بن خلف نے ان سے مل کر بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–13

معارف و مسائل وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، کفار کی طرف سے اسلام کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کو بہکانے کی تدبیریں مختلف طریقوں سے ہوتی رہی ہیں، کبھی زور و زر کی نمائش سے کبھی شکوک و شبہات پیدا کرنے سے اس آیت میں بھی ان کی ایک ایسی ہی تدبیر مذکور ہے، کہ کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ بلا وجہ عذاب آخرت کے خوف سے ہمارے طریقہ پر نہیں چلتے، لو ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ اگر تمہاری ہی بات سچی ہوئی کہ اس طریقہ پر چلنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا تو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے جو کچھ عذاب، تکلیف پہنچنے گی ہمیں پہنچنے گی تم پر آنچ نہ آئے گی۔ اسی طرح کا ایک شخص کا واقعہ سورة نجم کے آخری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

وقال الذین کفروا للذین امنوا اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم ط وما ھم بعملین من خطیھم من شی انھم لکذبون ولیحملن اتقالھم واتقالا مع اثقالھم ولیسکن یوم القیمۃ عما کا نو یفترو (12۔ 13) الذین کفروا اگرچہ باعتبار لفظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کی اولادی یا دوسرے زیر دست افراد اسلام میں داخل ہوچکے تھے۔ یہ لوگ اپنے زیر دستوں کو اسلام سے پھیرنے کے لئے ان پر جبرو ظلم بھی کرتے اور یہ اخلاقی دبائو بھی ڈالتے کہ ہم نیک و بد اور خیرو شر کو تم سے زیادہ سمجھنے اور پرکھنے والے ہیں۔ اس وجہ سے تم ہمارے طریقے پر چلتے رہو، اگر ہمارا طریقہ غلط ہوا تو اس کا عذاب وثواب ہماری گردن پر ہے، تم اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12-1یعنی تم اسی آبائی دین کی طرف لوٹ آؤ، جس پر ہم ابھی تک قائم ہیں، اس لئے کہ وہی دین صحیح ہے، اگر اس روایتی مذہب پر عمل کرنے سے تم گناہ گار ہو گے تو اس کے ذمے دار ہم ہیں، وہ بوجھ ہم اپنی گردنوں پر اٹھائیں گے۔ 12-2اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جھوٹے ہیں۔ قیامت کا دن تو ایسا ہوگا کہ وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ وہاں تو ایک دوست، دوسرے دوست کو نہیں پوچھے گا چاہے ان کے درمیان نہایت گہری دوستی ہو۔ حتی کہ رشتے دار ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ اور یہاں بھی اس بوجھ کے اٹھانے کی نفی فرمائی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–13

7: یعنی جن لوگوں کو انہوں نے گمراہ کیا، ان کے گناہوں کا بوجھ بھی ان کو اٹھانا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لوگ گناہوں کی سزا سے بچ جائیں گے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کو تو گناہ ہوگا ہی، لیکن ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی گناہ ہوگا جنہوں نے ان کو گمراہ کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

آخر میں لوگوں کو گمراہ اور بدراہ کرنے کی آزمائش کا نمونہ آتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ جزاء و سزا کے بارے میں اہل کفر کا تصور کسی قدر پوچ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو گمراہ کرکے اخروی ذمہ داری خود لیتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں یہ اصل الاصول ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا انصاف ہے جو اسلام نے واضح طور پر قائم کیا۔ یہ عدل کا زریں اصول ہے۔ وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کانوا یفترون (12 – 13) یہ بات ، یہ لوگ اس بددیانہ اصول کے مطابق کہتے تھے جس میں جرائم کے سلسلہ میں ذمہ داری اجتماعی ہوا کرتی تھی۔ کسی جرم کا ذمہ دار اور پورا قبیلہ ہوتا تھا۔ اس غلط رواج کے تحت وہ یہ بھی زعم رکھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مسلمان کو چاہیے ایمان پر مضبوط رہے، نہ کوئی تکلیف و ایذاء دہی اس کو طریق استقامت سے ہٹا سکے اور نہ کفار کی احمقانہ استمالت سے متاثر ہو، مثلاً کفار مسلمانوں سے کہے ہیں کہ تم اسلام چھوڑ کر اپنی برادری میں آملو اور ہماری راہ پر چلو، تمام تکلیفوں اور ایذاؤں سے بچ جاؤ گے مفت میں کیوں مصیبتیں جھیل رہے ہو۔ اور اگر ایسا کرنے میں گناہ سمجھتے اور مؤاخذہ کا اندیشہ رکھتے ہو تو خدا کے ہاں بھی ہمارا نام لے دینا کہ انہوں نے ہم کو یہ مشورہ دیا تھا۔ اگر ایسی صورت پیش آئی تو ساری ذمہ داری ہم اٹھا لیں گے، اور تمہارے گناہ کا بوجھ اپنے سر رکھ لیں گے کما قال الشاعر۔ ع تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ ط ” اس آیت میں مکہ کے ماحول میں ایمان لانے والے نوجوانوں کے تیسرے اہم مسئلے کی نشاندہی ملتی ہے۔ یعنی رشتوں کے کٹنے اور کہیں کہیں حوصلے کی کمزوری کے اظہار کے علاوہ ایک سنجیدہ مسئلہ یہ بھی تھا کہ قبیلے کے بڑے بوڑھے ناصحانہ انداز میں نوجوانوں کو سمجھانے بیٹھ جاتے تھے کہ دیکھو برخوردار ! تم نوجوان ہو ‘ باصلاحیت ہو ‘ خاندانی کاروبار کے وارث ہو ‘ ایک مثالی کیرئیر اور روشن مستقبل تمہارے سامنے ہے۔ مگر تم جذبات میں آکر ایک ایسا راستہ اپنانے جا رہے ہو جس میں مشکلات ‘ پریشانیوں اور افلاس کے سوا تمہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 یہ بات مشرکین مکہ مسلمانوں سے اس لئے کہتے تھے کہ وہ خود آخرت کے قیام کے قائل ہی نہ تھے۔ نہ انھیں اس بات کا احساس تھا کہ آخرت میں ان سے باز پرس بھی ہونے والی ہے پھر انھیں اپنے اپنے گناہوں کا بار بھی اٹھانا پڑے گا۔ دوسری طرف انھیں اپنا دین مرغوب بھی تھا اور وہ اس مشرکانہ دین کو برحق بھی سمجھتے تھے۔ اسی لئے وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ اگر تم واپس ہمارے دین میں آجاؤ۔ تو تمہارے خیال کے مطابق تمہارے اس ارتداد کا گناہ قیامت کو ہم اٹھائیں گے۔ گویا اس طرح کے سمجھوتہ میں انھیں فائدہ ہی فائدہ نظر آتا تھا۔ یعنی ان کا مطالبہ ارتداد تو ابھی پورا ہوجائے۔ اور اس کے معاوضہ کا جو وعدہ کرتے تھے اس پر وہ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–13

14۔ یہ دوسرے گناہ وہ ہوں گے جن کے یہ لوگ سبب و باعث بنے تھے گو اس سے سبکدوشی ان اصلی گنہگاروں کی بھی نہ ہوجائے گی۔ (آیت) ” من خطیھم “۔ میں ” من “ بیانیہ ہے۔ (آیت) ” من شیء “۔ میں من زائد تاکید استغراق یا تاکید نفی کے لیے ہے۔ یعنی ” کچھ بھی “ یا ” ذرا بھی “۔ من مزیدۃ لتاکید الاستغراق (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذین کفروا للذین امنوا تبعوا سبیلنا ولنعمل خطیکم . اور کافروں نے مؤمنوں سے کہا : ہماری راہ پر چلو (اگر قیامت راہ اور ہماری راہ پر چلنا غلط ہوگا) تو ہم کو تمہارے جرائم بھی اپنے اوپر اٹھا لیناضرور ہے۔ مجاہد نے کہا کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : ابو سفیان نے مؤمنوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین پر اور ہمارے باپ دادا کے مذہب پر چلو۔ کفر کو اختیار کرنے کی جرأت پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ایسا کہا تھا۔ فراء نے کہا : وَلْنَحْمِلْ لفظ کے اعتبار سے امر کا صیغہ ہے لیکن معنی کے لحاظ سے (شرط محذوف کی) جزا ہے یعنی اگر ہماری راہ پر چلو گے تو ہم تمہارے گناہ (قیامت کے دن بشرطیکہ وہ دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) اور ابوجہل اور اس کے ساتھی حضرت علی ؓ اور حضرت سلمان ؓ سے کہتے ہیں کہ ہمارا دین اختیار کرلو قیامت کے دن تمہارے گناہوں کا بوجھ ہمارے ذمہ ہے حالانکہ یہ لوگ قیامت کے دن ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا۔۔ : اس آیت میں ایمان لانے والوں کی ایک اور آزمائش کا ذکر فرمایا ہے کہ کفار ہر طریقے سے انھیں بہکانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے کفار نے ایمان لانے والوں سے کہا، تم ہمارے راستے پر چلو، ہماری طرح بت پرستی کرو اور من مانی زندگی بسر کرو، نہ کچھ کرنے کی پابندی نہ کسی کام سے رکنے کی پابندی اور ہم پر لازم ہے کہ تمہارے گناہ اٹھائیں۔ (”ولنحمل“ امر کا صیغہ تاکید کے لیے استعمال کیا ہے) یعنی ہم ہر صورت تمہارے گناہ اٹھائیں گے، جیسے کہا جاتا ہے، تم یہ کام کرو، تمہارا گناہ میری گردن پر۔ وَمَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–13

اس سے مراد ہمارا دین ہے۔ امر کی وجہ سے فعل مضارع کو جزم دی گئی۔ فراء اور زجاج نے کہا : یہ شرط و جزا کی تاویل میں امر ہے۔ مراد اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھا لیں گے۔ جس طرح شاعر نے کہا : میں نے کہا : اگر تو بلائے تو میں بھی بلائوں گا بیشک زیادہ اونچی آواز اس وقت ہوتی ہے جب دو بلانے والی دعوت دیں۔ شعر میں ادعی و ادع شرط و جزا کی صورت میں ہیں ان دعوت دعوتُ مہدوی نے کہا : انھم لکذبون کا اس کے بعد وقوع معنی پر حمل کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ معنی ہے اگر تم ہمارے دین کی اتباع کرو تو ہم تمہاری خطائوں کو اٹھائیں گے۔ جب صیغہ امر معنی میں خبر کی طرف راجع ہوتا ہے تو اس پر تکذیب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وقال الذین کفرو للذین اٰمنواتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم کے بارے میں فرمایا یعنی کافروں نے ایمان والوں سے کہا ہمارے دین پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے یہ مکہ میں رہنے والے مشرکین جو کافر تھے وہ ایمان والوں کو کہتے نہ ہم کو اٹھایا جائے گا اور نہ ہی تم کو تم ہماری پیروی کرو اگر تم پر کوئی مصیبت آئی تو وہ ہم پر ہوگی یعنی ہم اس کو بھگت لیں گے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت وقال الذین کفروا کے بارے میں روایت کیا کہ آیت الذین اتبعوا سبیلنا یعنی ہمارے دین کا اتباع کرو اور محمد ﷺ کے دین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں سے جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّبِعُوْا [تم لوگ پیروی کرو ] سَبِيْلَنَا [ہمارے راستے کی ] وَلْنَحْمِلْ [اور ضروری ہوگا کہ ہم اٹھالیں ] خَطٰيٰكُمْ ۭ [تمہاری غلطیوں کو ] وَ [حالانکہ ] مَا هُمْ [وہ نہیں ہیں ] بِحٰمِلِيْنَ [اٹھانے والے ] مِنْ خَطٰيٰهُمْ [ان کی غلطیوں میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [کچھ بھی ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [یقینا جھوٹے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: کفار مکہ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ بلاوجہ عذاب آخرت کے خوف سے ہمارے طریقہ پر نہیں چلتے، لو ہم ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر تمہاری ہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا دشمنان اسلام خود تو کفر پر جمے ہوئے تھے ہی اہل ایمان کو بھی کفر پر لانے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور انہیں ترغیب دیتے رہتے تھے کہ تم ہمارے دین میں آجاؤ، ان کی ان باتوں میں سے یہاں پر ایک بات نقل فرمائی ہے اور وہ یہ کہ کافروں نے اہل ایمان سے کہا کہ تمہیں جو رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر یقین آگیا ہے اور تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ اگر تم محمد ﷺ کے دین سے پھر جاؤ گے تو قیامت کے دن عذاب میں گرفتار ہوگے اس کے بارے میں ہماری پیشکش سن لو ! تمہیں اس عذاب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، فرض کرو اگر قیامت کا دن واقعی کوئی چیز ہے اور اس دن محمد ﷺ کا اتباع نہ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–13

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ کفار پر شکوی اور تخویف اخروی ہے۔ کافروں کی سرکشی اور بیباکی ملاحظہ ہو خود کفر و شرک کرتے ہیں اور مسلمانوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی ان کی راہ پر چلیں اور جس عذاب کا تمہیں خطرہ ہے اس کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ولنحمل، اتبعوا پر معطوف ہے اور امر بمعنی خبر ہے۔ قول ابن عطیۃ قولہ ولنحمل خبر یعنی امرا ومعناہ الخبر (بحر ج 7 ص 144) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–13

ربط آیات اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ والدین سے حسن سلوک اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰيٰكُمْ۝ 0ۭ وَمَا ہُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰہُمْ مِّنْ شَيْءٍ۝ 0ۭ اِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ۝ 12 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–13

ترکیب : الذین امنوا یعلمن کا مفعول اتبعوا الخ مقولہ ہے قال الذین کفروا کا ولنحمل عطف علی اتبعوا وار ادوا یجمع ہذان الامران فی الحصول ان تتبعوا طریقننا و ان نحمل خطایا کم نظیرہ لیکن منک العطاء و لیکن منی الدما انہم لکاذبون فی اخیار حمل الخطایاوان صدر فلک بلفظ الامر۔ وعندی اذا کان الوعدمن غیر صمیم القلب السمی ھذا فی العرف بالکذب فعلی ھذا لاینحصر لکذب فی الاخبار بل قدیکون فی الامنشاء وھم ظلمون حال من ضمیرھم فی اخذھم۔ تفسیر : ولیعلمن اللہ الذین امنوا ولیعلمن المنفقین یہ کلام سابق کا تتمہ ہے کہ وہ جو ایسی باتیں بناتے ہیں اللہ پر کوئی بات مخفی نہیں، وہ دلوں کے راز جانتا ہے اور آیندہ مومن اور منافق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–13

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰـکُمْ ط وَمَا ھُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰـھُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط اِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ز وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 12، 13) (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راستے کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطائوں کو اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو پھسلانے کے لیے کفار اور منافقوں کے مختلف ہتھکنڈے، اور قیامت کے دن ان کی پوچھ کے بارے میں انتباہ کفار اور منافقوں کی ہر وقت کوشش تھی اور رہتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے پھسلا دیا جائے۔ اسی کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کے دور میں مسلمانوں کو پھسلانے اور بہکانے کے لیے کفار اور منافقوں نے مسلمانوں کو یہ بھی کہا کہ اگر تم دین اسلام کو چھوڑ دو ۔ تو تمہارے اسلام چھوڑنے کا گناہ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ اس طرح انھوں نے مسلمانوں کو پھسلانے اور ان کے دلوں سے اسلام کی محبت کم کرنے کی کوشش کی۔ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ کفار اور منافقوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا (اور کافروں نے مؤمنوں کو کہا ہماری راہ پر چلو) ۔ تو ہم تمہارے جرائم وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ (ضرور اپنے اوپر اٹھا لیں گے) ۔ کفار نے مسلمانوں کو اپنے کفریہ راستے پر چلنے کا امر کیا اور اپنے بارے میں ان کے گناہوں کی ذمہ داری قبول کرنیکا حکم دیا۔ امر کا عطف امر پر کیا گیا۔ مقصد کفار کا یہ تھا کہ یہ دونوں امر حاصل ہونے چاہئیں۔ نمبر 1۔ ہمارے راستے کی پیروی۔ نمبر 2۔ تمہاری خطائوں کو اپنے سر لینا۔ حاصل یہ ہوا کہ اگر تم ہمارے راستہ کی اتباع کرو گے تو تب ہم تمہارے گناہوں کو اٹھالیں گے۔ کفار قریش یہی کہتے تھے۔ جو شخص ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔ وقال الذین کفروا للذین امنوا اتبعوا سبیلنا، ، مجاہد کا قول ہے کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی جو لوگ ایمان لائے تھے ان کو، کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ ابوسفیان نے مومنوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین پر اور ہمارے باپ دادا کے دین پرچلو، کفر کو اختیار کرنے کی جرات پیدا کرنے کے لیے انہوں نے ایسا کہا تھا، ولنحمل خطیاکم، تمہارا بوجھ بھی اپنے اوپرڈال دیں گے۔ فراء نے کہا کہ ولنحمل، کا لفظ کے اعتبار سے امرکاصیغہ ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جزاء ہے، یعنی اگر ہماری راہ پرچلو گے توہم تمہارے گناہ اپنے اوپراٹھالیں گے دوسری آیت میں بھی اسی طرح آیا ہے، فرمایا ہے ، فلیلقہ الیم بالساحل، پھر دریا کو چاہیے کہ اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

12‘ 13۔ تفسیر مقاتل وغیرہ میں مجاہد اور ضحاک کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جو تھوڑے سے مسلمان لوگ رہ گئے تھے ان سے ابوسفیان اور مشرک لوگ یہ کہ کرتے تھے کہ اول تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرنے کے بعد پھر جیویں گے اور نیکی بدی کا حساب و کتاب ہو کر جزاوسزا ہوگی اور اگر ایسا ہوا بھی تو تمہاری بدیوں کی سزا ہم اپنے ذمہ لے لیں گے تم اپنے قدیمی دین پر قائم ہوجاؤ ان کے اس قول کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں جو آخرت کے مؤاخذہ کا غیروں کا بوجھ اپنے ذمہ لیتے ہیں وہاں ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–13

12 اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی بہتان طرازی اور اہل امیان کو اپنے دین کی طرف ان کی دعوت کا ذکر کرتا ہے۔ اس ضمن میں اہل ایمان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کفار سے دھوکہ کھائیں نہ ان کی چالوں میں آئیں۔ چناچہ فرمایا (وقال الذین کفرو للذین آمنو تبعو سبلنا) اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو۔ “ یعنی اپنے دین یا دین کے کچھ حصے کو ترک کردو اور ہمارے دین میں ہماری پیروی کرو ہم تمام معاملے کی ذمہ داری لیتے ہیں (والنحمل خطیکم) اور ہم تمہاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے لہٰذا فرمایا (وما ھم بجملین من خطیھم من شیً ) حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 نور ایمان سے محروم لوگوں کی لاپرواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے پیچھے چلو ہم تمہاری خطائیں اپنے اوپر لے لیں گے "۔ یعنی قیامت اور حساب کتاب کی باتیں یونہی ہیں اور اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی تو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اٹھائیں گے۔ پس تمہیں اس بارے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم بس آنکھیں بند کر کے ہمارے پیچھے چلتے رہو اور جو کچھ ہم کہیں، کریں، تم بھی وہی کہتے اور کرتے رہے رہو۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آخرت کے ایمان و یقین سے محروم ہونے کے بعد انسان کس قدر غیر ذمہ دار اور کتنا لاپرواہ اور غلط کار ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–13

اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–13

1 ۔ اسی کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : من سن سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرعا و وزرمن عمل بھا۔ (دیکھئے سورة محمد آیت :3) جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اپنا وبال بھی ہے اور ان تمام لوگوں کا وبال بھی جنہوں نے اس برے طریقہ کی پیروی کی۔ (شوکانی بحوالہ صحیح مسلم عن ابی ہریرہ) نیز دیکھئے۔ (سورۃ نحل آیت 45) 2 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے رہے۔ مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ اس سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ ہم تمہارے ذمہ دار ہیں جو وبال تم پر پڑے گا ہم اسے اپنے سر لے لیں گے۔ اس پر بھی ان سے سوال اور مواخذہ کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:12) سبیلنا ۔ طریقتنا ۔ دیننا۔ ہمارا طریقہ۔ ہمارا دین۔ ہمارا مذہب۔ ولنحمل۔ لام۔ لام امر ہے۔ اگرچہ اس کی ذاتی حرکت کسرہ ہوتی ہے لیکن واؤ اور فاء کے بعد متحرک ہونے کے بہ نسبت ساکن زیادہ آیا کرتا ہے ۔ نحمل مضارع مجزوم (بوجہ لام امر) جمع متکلم اور ہم (تمہارے گناہوں کے بوجھ کو) اٹھالیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–13

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 : وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 : کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–13

مشرکوں کا ذکر، نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کی نصیحت۔ (ف 1) شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ میں جو تھوڑے سے مسلمان تھے وہ کافر بےکس مسلمانوں کو از حدستاتے تھے اور ان سے یہ کہتے تھے کہ تم یہ تکالیف کس لیے اٹھاتے ہو کس لیے اسلام نہیں چھوڑ دیتے، وہ کہتے کہ ہم اپنے اس گناہ سے ڈرتے ہیں آخرت کا خوف ہے مسلمانوں سے ابوسفیان اور مشرک لوگ کہا کرتے تھے کہ اول تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرنے کے بعد پھر کیسے جیے گے اور نیکی اور بدی کا حساب کتاب ہوکرجزاوسزا ہوگی اگر ایسا ہوابھی تو تمہاری بدیوں کی سزاہم اپنے ذمہ لے لیں گے ، تم اپنے قدیمی دین پر قائم رہو، اور دنیا کے مزے اٹھاؤ، ۔ ان کے اس قول کا جواب ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] کفار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم اسلام چھوڑ کر ہماری راہ پر چلو تو تم تکلیفوں اور ایذاؤں سے بچ جاؤ گے۔ یہ زندگی کے بعد موت، حشر ونشر اور جزا و سزا سب فرضی باتیں ہیں اور اگر بالفرض موت کے بعد دوبارہ زندگی اور حساب و کتاب ہوا تو ساری ذمہ داری ہم اٹھا لیں گے اور تمہارے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر پر رکھ لیں گے۔ بقول شاعر : تومشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

لا تزروازرۃ وزرا اخریٰ 2: بات یہ ہے کہ جب منکرین اسلام مسلمانوں کو کہتے ۔ کہ تم باجود افلاس وغربت اور تکالیف ومصائب کے اسلام کی امانت عزیز کو کیوں سینوں سے چمٹائے ہوئے ہو ۔ اور کیا وجہ ہے ۔ کہ تم ہمارے ساتھ نہ مل کر مادی لذائذ سے محروم رہو : تو مسلمان کہتے کہ یہ تمہارا کہنا درست ہے ۔ کہ اسلام کو ترک کرکے ایک گونہ دنیا کی مسرتیں حاصل ہوجاتی ہیں ۔ مگر آخرت اور عقلی میں کیا ہوگا ۔ وہاں کون شخص اللہ کے عذاب سے چھڑائیگا ۔ اور کون ہے جو وہاں کی کفالت لیتا ہے اور عذاب سے رہائی کا ٹھیکہ دار بنتا ہے ۔ تو اس پر وہ نہایت دیدہ دلیری مگر بیوقوفی سے کہتے کچھ بڑا نہیں ۔ تم ہمارے مسلک کفر وگمراہی کو قبول…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

12۔ اور کافر و منکر ایمان والوں سے یوں کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریق پر چلو اور ہمارے راستے کی پیروی کرو اور تمہارے گناہ ہم اٹھائیں گے حالانکہ یہ کافروں کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں یقینا یہ کافر بالکل جھوٹ بول رہے ہیں ۔ یعنی روسائے قریش مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اول تو یہ باتیں تمہارے دین کی عقل اور سمجھ سے باہر ہیں کہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے اور حساب و کتاب ہوگا اس لئے ہم تم سے کہتے ہیں کہ تم اپنے آبائی دین پر قائم رہو اور جس دین پر تمہارے بزرگ تھے اسی میں واپس آ جائو اور اگر بالفرض یہ باتیں پیش بھی آئیں تو ہم تم کو یقین دلاتے ہیں کہ تمہارے تمام گناہ اٹھا لیں گے ۔ یہ بات ابو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 3۔ مقصود درد سے یہ نہیں کہ ان کا اسلام اب مقبول نہیں، بلکہ استمرار علی الاسلام فی الماضی کے دعوے میں تکذیب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافروں کی دیدہ دلیری کا بیان جس کی حیثیت ایک بڑمحض ہے : 12۔ قوم کے بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہی ہوتی ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اپنی بڑائی کے نشہ میں جو ان کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں قریش مکہ کے سرداروں کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب کوئی غریب آدمی ایمان لے آتا تو وہ اس کو اپنی مجلس میں طلب کرتے اور اس کو برملا کہہ دیتے کہ تمہارا رسول جو باتیں کرتا ہے وہ یقین کے قابل ہی نہیں کہ اول تو زندگی بعد الموت اور یہ حشر ونشر اور حساب کتاب کی ساری باتیں ہی اس کی ایک ڈھکوسلا ہیں ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں اور اگر بالفرض وہاں کوئی ایسی بات پیش بھی آگئی تو ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

Commentary وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا (And those who disbelieve say - 29:12). The infidels had tried all sorts of devices to mislead the Muslims and to hinder the progress of their faith. Sometimes they tried to get hold of Muslims by show of power and wealth, and at others by trying to put doubts in their minds. This verse mentions one such move made by them. They asked Muslims not to leave their ancestral religion in fear of torments in the Hereafter, because no such thing was going to happen at the first place, but even the belief of the Muslims about the Hereafter would come true, they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 What they meant to say was: "In the first place, the talk about life hereafter and Resurrection and accountability is all meaningless. But supposing there is another life in which the people will be called to account for their deeds, we take the responsibility that we shall take the punishment, etc. on our own selves. You should, therefore,- listen to us and give up this new Faith and return to your ancestral religion." According to the traditions several chiefs of the Quraish used to counsel thus the people who embraced Islam in the beginning. So, when Hadrat `Umar accepted Islam, Abu…

Read the full tafseer →