29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 29:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ محض یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوٹ جائیں گے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے،1۔

1۔ (طرح طرح کے مصائب سے) یعنی ایسے امتحانات ضرور پیش آئیں گے۔ اشارہ ہے ان مومینن کی طرف جو کفار کی ایذاء سے گھبرا گئے تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اس امر پر دال ہے کہ مجاہدہ وصول الی المقصود کے شرائط عادیہ میں سے ہے۔ اگرچہ اضطراری ہی ہو۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم تو انہیں بھی آزماچکے ہیں جو ان سے قلب گزرے ہیں سو اللہ ان لوگوں کو جان کررہے گا جو سچے تھے اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا،2۔

2۔ یعنی جس طرح سابق امتوں کے مومنوں کی آزمائشیں ہوچکی ہیں، ان لوگوں کے ساتھ بھی یہ معاملات پیش آکر رہیں گے، جو اپنے دعوے میں سچے ہوتے ہیں وہ امتحان سے اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ اور جن کے دعوے محض زبانی ہوتے ہیں وہ نکل بھاگتے ہیں۔ (آیت) ” لیعلمن اللہ “ اللہ جان کر رہے گا “ یعنی ظاہری سے، خلقت کی نظر میں، ورنہ حقیقۃ تو اللہ کو علم شروع ہی سے ہے۔
Ayahs 29:4–5

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

ہاں تو کیا جو لوگ برے برے کام کررہے ہیں وہ یہ بھی خیال کررہے ہیں کہ ہم سے نکل بھاگیں گے کیسی بیہودہ ان کی (یہ) تجویز ہے

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو اللہ کا وہ معین وقت تو ضرور ہی آنے والا ہے،3۔ اور وہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے،4۔

3۔ (سوایسوں کو تو ان واقعات سے پریشانی کی مطلق کوئی وجہ نہیں۔ وقت موعود پر ان کے سارے غم غلط ہو کر رہیں گے) (آیت) ” ام ...... یحکمون “۔ مشرک جاہلی قوموں کا اپنے دیوی دیوتاؤں پر قیاس کرکے خود حق تعالیٰ کے متعلق بھی یہ سمجھے رہنا کہ اس کی گرفت سے نکل جانا بالکل ممکن ہوگا، ذرا بھی تعجب انگیزنہ تھا۔ 4۔ ہر طاعت قولی سے واقف۔ ہر طاعت فعلی پر مطلع۔ اس کی راہ میں آج جتنی بھی کلفتیں انہیں اٹھانا پڑرہی ہیں سب کی جزائے خیر ایک ایک کرکے انہیں مل کر رہے گی، خدائے اسلام جاہلی قوموں کے دیوتاؤں کی طرح نہیں کہ اس کا علم ناقص ہو، اس کے حواس محدود ہوں وغیرہا۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کرتا ہے،5۔ بیشک اللہ سارے عالم سے بےنیاز ہے،6۔

5۔ (نہ یہ کہ اس سے اس کے معبود کو کوئی نفع پہنچے) (آیت) ” لنفسہ “۔ یعنی اپنے ہی نفع و راحت کے لیے۔۔ اپنے نفع کا علم ہوجانے کے بعدقدرۃ ہر مشقت آسان ہوجاتی ہے۔ مشرک جاہلی قوموں کا فلسفہ یہ تھا کہ بندے جس طرح خدا کے محتاج ہیں، خدا بھی اسی طرح ان کا محتاج ہے اور جس طرح وہ انکی نگرانی کرتا رہتا ہے یہ بھی تو برابر اس کی خدا مت میں لگے رہتے ہیں ! 6۔ (آیت) ” غنی عن العلمین “۔ ” بےنیاز “ یہاں اردو کے ” بےپروا “ کے معنی میں نہیں، غیر محتاج کے معنی میں ہے۔ ؛ یعنی تم جو خدا کو بھی کسی معنی میں اپنا محتاج دوست نگر سمجھ رہے ہو یہ تمامتر جہل ہے، وہ تو مخلوق میں سے کسی کا، کسی معنی میں بھی دست نگر نہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں مجاہدہ کے بعد عجب اور دعوی استحقاق پیدا ہونے کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہم ان کے گناہ ان سے دور کرکے رہیں گے،7۔ اور ہم ان کو ان کے اعمال کا زیادہ اچھا بدلہ دے کر رہیں گے،8۔

7۔ چناچہ مومنین صالحین کے بعض گناہ محض توبہ سے کہ وہ بھی ایک فرد ہے عمل صالح کی معاف ہوجائیں گے اور بعض دوسرے حسنات سے اور بعض محض فضل خداوندی سے۔ 8۔ یعنی ان کے اعمال حسنہ کی جزا ان کے اصل استحقاق سے کہیں بڑھ کر۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ سلوک نیک کا لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک بنا جس کی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں تو تو ان کا کہا نہ ماننا تو سب کو میرے ہی پاس آنا ہے میں تمہیں جتلا دوں گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہتے تھے،9۔

9۔ والدین کی اطاعت کا حکم تو قرآن میں عام ہے، بار بار آیا ہے۔ اس خاص آیت سے متعلق واقعہ نزول صحیح مسلم وجامع ترمذی دونوں میں یہ منقول ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص جب ایمان لے آئے تو ان کی مشرک والدہ بہت ہی ناخوش ہوئیں اور قسم کھا کر کہا کہ میں کھانا چھوڑتی ہوں اور چھوڑے رہوں گی جب تک تو اسلام ترک نہ کرے گا۔ یہ گویا تاریخ میں پہلی مثال بھوک ہڑتال (بلکہ بھوک اور پیاس ہڑتال) کی تھی۔ اس پر آیت نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ ایسی باتوں میں والدین کی اطاعت نہیں۔ (آیت) ” لیس لک بہ علم “۔ علم سے مراد دلیل، شہادت یا ثبوت ہے۔
Ayahs 29:9–10

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں ہم نیک بندوں میں داخل کرکے رہیں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ایسے ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے، پھر جب اللہ (کی راہ) میں تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی اذیت رسانی کو مثل عذاب الہی کے سمجھنے لگتے ہیں،10۔ اور اگر کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے آپہنچتی ہے،11۔ تو کہنے لگتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ تھے ہی،12۔ کیا اللہ کو دنیا جہان والوں کے دلوں کی باتیں خوب معلوم نہیں ؟ ،13۔

10۔ (اور اس بشری گزند رسانی کے خوف سے نہ صرف زبان سے باطل کا کلمہ پڑھنے لگتے ہیں بلکہ دل تک کو انہیں عقائد باطلہ کے موافق بنالیتے ہیں) (آیت) ” فی اللہ ]‘۔ فی سببیہ ہے۔ یعنی اللہ کی خاطر۔ اللہ کی سبب سے۔ یا اللہ کی راہ میں۔ اے لاجلہ عزوجل علی ان فی للسببیۃ اوالمراد فی سبیل اللہ (روح) 11۔ مثلا جہاد ہوا۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور یہ لوگ بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے۔ 12۔ (دین و عقیدہ میں دل سے) یعنی جب مسلمانوں کے بس میں آجاتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو مسلمان شروع ہی سے تھے۔ کافروں کے ساتھ محض مجبوریوں اور مصلحتوں سے ہوگئے تھے۔ 13۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول کو رد کرکے فرماتا ہے کہ عالم الغیوب والسرائر سے بھی یہ چالاکی ! تم مسلمان تھے ہی کب ؟” ہرچند کہ اکراہ میں تلفظ بکلمہ کفر کی اجازت ہے مگر ملامت اس پر ہے کہ دل سے کیوں کفر کیا تھا جیسا صدور کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے “۔ (تھانوی (رح )
Ayahs 29:11–13

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ایمان والوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں ہماری راہ چلو اور تمہارے گناہ ہمارے ذمہ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے گناہ اپنے اوپر لادے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ اور گناہ بھی،14۔ اور ان سے قیامت کے دن باز پرس ہو کر رہے گی جیسی جیسی باتیں یہ گڑھتے رہتے تھے

14۔ یہ دوسرے گناہ وہ ہوں گے جن کے یہ لوگ سبب و باعث بنے تھے گو اس سے سبکدوشی ان اصلی گنہگاروں کی بھی نہ ہوجائے گی۔ (آیت) ” من خطیھم “۔ میں ” من “ بیانیہ ہے۔ (آیت) ” من شیء “۔ میں من زائد تاکید استغراق یا تاکید نفی کے لیے ہے۔ یعنی ” کچھ بھی “ یا ” ذرا بھی “۔ من مزیدۃ لتاکید الاستغراق (روح)
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان نے آدبایا اور وہ (بڑے) ظالم لوگ تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو بچالیا، اور ہم نے اس (واقعہ) کو دنیا جہان والوں کے لئے ایک نشان بنادیا،15۔

15۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور طوفان نوح وغیرہ پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فلبث ..... عاما “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر سے متعلق توریت میں ہے :۔ اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین سو برس جیتا رہا اور نوح (علیہ السلام) کی ساری عمر ساڑھے نو سو برس کی تھی۔ تب وہ مرگیا “ (پیدائش۔ 9: 29) حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس وقت تک حسب تصریح توریت کل دس پشتیں گزری تھیں اور اوسط عمر بھی اس وقت کا آج کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھا۔ اس لیے آپ کی اتنی عمر چنداں مستبعد بھی نہیں۔ خود آپ کے والد کی عمر 773 سال کی ہوئی تھی اور آپ کے دادا کی عمر تو آپ سے بھی کچھ زائد 999 سال کی ہوئی تھی۔ نو سو سال سے اوپر عمروں کا ہونا تو اس وقت سے ذرا پہلے معمول عام ہی تھا۔ اس لیے ان کی اس قدر عمر خیر محال بلکہ مستبعد تو کیا ہوتی اس وقت کے معیار کے لحاظ سے کچھ ایسی طویل بھی نہیں کہی جاسکتی۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” وجعلنھا “۔ ھا کی ضمیر مؤنث عقوبۃ کی طرف سمجھی گئی ہے۔ اور جائز ہے کہ سفینۃ کی جانب لی جائے۔ اور سب سے بہتر ہے کہ نجات کی طرف سمجھی جائے۔ الھاء والالف فی جعلنا ھا للسفینۃ او للعقوبۃ او للنجاۃ (قرطبی)
Ayahs 29:16–17

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی پرستش کرو اور اس سے ڈرو، یہ بہتر ہوگا تمہارے حق میں اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم تو اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کو پوج رہے ہو اور جھوٹ تراشتے ہو۔ جنہیں تو اللہ کو چھوڑکرپوج رہے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے،16۔ سو تم لوگ رزق اللہ کے ہاں سے تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو،17۔ اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے،18۔

16۔ نہ وہ ہوائیں چلانے پر قادر، نہ وہ برساتی بخارات اٹھانے پر قادر، نہ وہ فضا میں بادل کے پھیلانے پر قادر، نہ وہ پانی کو بوندوں کی شکل میں اتارنے پر قادر نہ وہ زمین کے آفتاب سے تپانے پر قادر، نہ وہ زمین میں قوت نمو پیدا کرنے پر قادر، زراعت، فلاحت، تجارت، صنعت وحرفت غرض معاش کی کسی ایک صفت کے بھی اسباب مؤثر ان کے بس میں ذرا سے بھی نہیں۔ (آیت) ” رزقا “۔ کی تنوین وتنکری رزق کی تقلیل وتحقیر کے لیے ہے یعنی کوئی ادنی سا بھی رزق ان معبودان باطل کے بس میں نہیں۔ (آیت) ’ ابراہیم “ اور قوم ابراہیم پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ 17۔ (کہ وہی ہر قسم کے نفع کا مالک ہے، تمہارے ہر نفع کا منبع بھی وہی ہے) (آیت) ” فابتغوا عنداللہ الرزق “۔ اللہ سے تمہارا تعلق محض بحیثیت الہ المعاد کے نہیں، الہ معاش بھی وہی تو تمہارا ہے۔ سارے معاشی واسطے اور وسیلے اسی سے نکلتے ہیں۔ اس پر جاکر ختم ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الرزق “۔ رزق کا صیغہ معرفہ میں آنا اس کی کلیت واستغراق کے لیے ہے۔ یعنی سارے کا سارا رزق۔ اے کلہ علی ان تعریف الرزق للاستغراق (روح) (آیت) ” واعبدوہ واشکروا لہ “۔ ہر قسم کے حقوق اسی کے مقرر کیے ہوئے ادا کرتے رہو۔ 18۔ جس طرح ہر نفع کا مالک وہی ہے، ہر ضرر کا بھی وہی ہے، حساب کتاب اسی کو دینا ہوگا۔ آخری واسطہ اور سابقہ صرف اسی سے ٹھہرے گا۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ (مجھے) جھٹلا رہے ہو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں، اور پیغمبر کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہوتا ہے،19۔

19۔ (جس کے بعد اس کے اوپر امت کے کسی قول وفعل کی ذمہ داری نہیں)
Ayahs 29:19–20

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ کہیے تم لوگ زمین میں چلو پھرو، پھر اس پر نظر کرو اللہ نے کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کیا، پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،20۔

20۔ (خلق اول پر بھی اور عادہ خلق پر بھی) (آیت) ” اولم یروا۔ دعوت استدلال غور وفکر سے ہے۔ انسان اگر صرف اپنی ذات ہی میں، اپنے نیست سے ہست ہوجانے ہی پر غور کرے تو یہ حق تعالیٰ کی قوت ایجاد وابداع پر اعتقاد پیدا کردینے کے لیے کافی ہے۔ (آیت) ” سیروا فی الارض “۔ دعوت استدلال مشاہدات مادی سے ہے۔ انسان اگر دوسری مخلوقات کے عجائبات پر نظر کرتا رہتے تو اللہ تعالیٰ کی ہر قدرت کا کلمہ پڑھ اٹھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” سیروا فی الارض “۔ ان اہل طریق کا مستدل ہے جنہوں نے راہ سیاحی اختیار کی ہے۔ یہ گھوم پھر کر احوال خلق سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور اس میں ان کی اور بھی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ مثلا یہ کہ مخلوق سے تعلقات میں کمی ہو اور زندگی، گمنامی، کسمپرسی، بےنشانی میں بسر ہو اور معصیتوں کے اسباب ہی پر دسترس کم سے کم ہوجائے۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

عذاب دے گا اسے جس کی بابت اس کی مشیت ہوگی اور رحم کرے گا اس پر جسے وہ چاہے گا اور اسی کے پاس تم سب لوٹ کر جاؤ گے،21۔

21۔ اس ذرا سے فقرہ میں دو اہم حقیقتوں کا اثبات آگیا۔ ایک یہ کہ سب کا حشر حق تعالیٰ ہی کی حضور میں ہوگا نہ کہ کسی اور کے۔ مسیحیوں اور دوسرے اہل باطل کی تردید۔ (آیت) ” یعذب من یشآء ویرحم من یشآء “۔ یہ مشیت عذاب ہمیشہ اسی کے متعلق ہوگی جو مستحق عذاب ہوگا اور مشیت رحم اسی کے متعلق ہوگی جو رحمت کا اہل ہوگا۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم نہ زمین میں ہرا سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا نہ کار ساز ہے نہ مددگار،22۔

22۔ یعنی اس کی تعذیب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں، نہ اپنی کسی تدبیر سے بچ سکتے ہو نہ کسی دوسرے کی حمایت ونصرت سے۔ (آیت) ” فی الارض “۔ یعنی تکوینی قوتیں تو ساری کی ساری اسی کی محکوم وتابع تھیں۔ (آیت) ” ولا فی السمآء “۔ نہ آسمان پر کوئی دیوی دیوتا تمہاری مدد کو موجود ہے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک مضمون عہد عتیق میں ہے :۔” تیری روح سے میں کدھر جاؤں اور تیری حضوری سے میں کہاں بھاگوں ؟ اگر میں آسمان کے اوپر چڑھ جاؤں تو تو وہاں ہے اگر میں پاتال میں اپنا بستر بچھاؤں تو دیکھ تو وہاں بھی ہے۔ اگر صبح کے پنکھ لے کے میں سمندر کی انتہا میں جارہوں تو وہاں بھی تیرا ہاتھ مجھے لے چلے گا “۔ (زبور، 139: 7۔ 9)
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی نشانیوں اور سامنے جانے کے منکر ہیں وہی تو ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہوں گے،23۔ اور وہی تو ہیں جنہیں عذاب دردناک ہوگا

23۔ (قیامت کے دن) یعنی جب انکشاف حقائق کا وقت ہوگا تو انہیں خود مشاہدہ ہوجائے گا کہ ہم تو محل رحمت ہی نہیں ! (آیت) ” یئسوا “۔ صیغہ ماضی ہے لیکن یہاں مضارع کے معنی کھلے ہوئے ہیں، اور جس مستقبل کا تحقق یعنی ہے اس کے لیے ماضی کا صیغہ لے آنے کا دستور عربی فن بلاغت میں عام ہے۔ (آیت) ” رحمتی۔ عذاب الیم “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ عذاب کو یوں بھی مطلق چھوڑ دینا اور رحتم کا انتساب اپنی جانب صیغہ واحد متکلم کے ساتھ کرنا، یہ خود غلبہ رحمت الہی کے آثار میں سے ہے۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

سو ان (ابراہیم) کی قوم کا (آخری) جواب بس یہی تھا کہ کہنے لگے انہیں قتل کرڈالو یا انہیں جلا ڈالو، سو اللہ نے ان کو (اس) آگ سے بچا لیا،24۔ بیشک (اس واقعہ) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں،25۔

24۔ ذکر وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا چل رہا ہے۔ ان واقعات پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ 25۔ (نشانیاں اللہ کے قادر مطلق ہونے کہ پیغمبران برحق کے منصور ہونے کی اور کفر وشرک کے باطل ہونے کی)
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم نے یہ بھی) کہا کہ تم نے تو بس اپنے باہمی تعلقات دنیا کی بناء پر اللہ کو چھوڑ کر بت تجویز کر رکھے ہیں پھر قیامت میں تم سے ایک دوسرے کا منکر ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا،26۔

26۔ مشرک جاہلی قوموں میں عموما ہر ہر قبیلہ کے بت جداگانہ رہتے تھے اور قوم وار اور قبیلہ وار دیوی دیوتاؤں کی پرستش کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے قوم یا قبیلہ میں نظم یا جتھا قائم رہے گا۔ قیامت کے دن جب منکشف ہوجائے گا کہ یہ سیاسی یا معاشری مصلحتیں کس درجہ بےحقیقت تھیں تو احمق پجاری ایک دوسرے کے خلاف خوب دل کھول کر بخار نکالیں گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو اتحاد واتفاق سبب بن جائے فساددین کا، اس کا ترک واجب ہے۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پھر لوط (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق کی،27۔ اور (ابراہیم علیہ السلام) بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ترک وطن کرکے چلا جاؤں گا بیشک وہی بڑا زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے،28۔

27۔ لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور آگے چل کر خود بھی نبوت سے مشرف ہوئے، مفصل حاشیے پچھلی سورتوں میں گزر چکے۔ 28۔ وہ میری حفاظت پر بھی ہر طرح قادر ہے اور میری رہنمائی پر بھی (آیت) ” الی ربی “۔ یعنی اس مقام کی طرف جو میرے پروردگار کا بتایا ہوا ہے۔ اے الی حیث امرنی بالتوجہ الیہ (کبیر) امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ قرآنی فقرہ (آیت) ” الی ربی “ تفسیری فقرہ الی حیث امرنی ربی سے کہیں زیادہ بلند وبلیغ ہے۔ یہ کہ اس میں توجہ تمامتر پروردگار ہی کی طرف ظاہر ہورہی ہے نہ کہ کسی جہت ومقام کی طرف (آیت) ” الی ربی “۔ بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ اسی طرح طریقت میں اپنے رب کی طرف فنا ومحوہونا ہے اپنی خواہش واختیار وہستی کو ترک کرکے۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا کیا،29۔ اور ہم نے ان کی نسل میں نبوت اور کتاب کو قائم رکھا،30۔ اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں (بھی) دیا اور آخرت میں یقیناً وہ (بڑے) نیک کاروں میں ہوں گے،31۔

29۔ (بطور بیٹے اور پوتے کے) ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ 30۔ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ آپ کے بعد بھی مسلک توحید و رسالت کی دعوت آپ ہی کی اولاد اور اولاد در اولاد کے ذریعہ سے ہوتی رہی۔ قرآن مجید میں یہ کہیں بصیغہ حصر تو وارد نہیں ہوا ہے لیکن جابجا جہاں بھی اس نعمت کا ذکر آیا ہے سب کے سیاق پر غور کرنے سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ منصب نبوت اور عقیدۂ توحید دنیا میں نسل ابراہیمی ہی کے ساتھ مخصوص رہا ہے جس کی دو بڑی شاخیں اسرائیلی اور اسمعیلی ہیں۔ (آیت) ” الکتب “۔ کتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔ قصد بہ جنس الکتاب (کشاف) 31۔ دنیا میں مال، جاہ، عزت، خوش اقبالی نے آپ کا ساتھ دیا اور آخرت میں آپ مراتب قبول وقرب سے نوازے گئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دنیوی نعمتوں سے سرفرازی جیسا کہ بعض اہل اللہ کو ہوتی رہتی ہے آخرت میں ان کے مرتبہ کو گھٹا نہیں دیتی۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک تم تو ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں کسی نے نہیں کیا،32۔

32۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم سے متعلق حواشی سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” ماسبقکم بھا “۔ سے معلوم ہوا کہ ایک زمانہ دنیا پر ایسا بھی گزرا ہے جب انسان بدکاری کی اس خاص صورت سے واقف بھی نہ تھا اور یہیں سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے اس حرکت کے خلاف وضع فطرت ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں کہ امر خلقی و طبعی محتاج کسب وتعلیم نہیں ہوتا۔ اور جب انسان اس فعل سے ہزار ہا سال تک واقف نہ ہوا تو یہ خواہش اس کی فطرت وطبیعت میں داخل نہیں ہوسکتی، اس گندی حرکت کے تاریخی پہلو پر بھی حاشیہ سورة الاعراف ہی کے ذیل میں آچکا ہے۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

ارے ! تم تو مردوں سے فعل کرتے ہو اور تم رہزنی کرتے ہو، اور تم بھری مجلس میں ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہو،33۔ سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہی تھا کہ ہم پر عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو

33۔ قوم لوط علاوہ اس مخصوص گندگی کے اور بھی طرح طرح کے جرائم میں مبتلا تھی، حاشیے سورة الاعراف میں گزر چکے، فقہاء نے کہا ہے۔ ناچ رنگ اور عام منکرات کی محفلیں اسی حکم کے تحت میں آجاتی ہیں۔ اور جب یہ حال ان مجلسوں کا تھا تو آج تھیڑ اور سینما اور میوزک ہال اور آپیراہاؤس اور پکچر گیلری وقس علی ھذا کے جو احکام ہیں، وہ باکل ظاہر ہیں۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

) لوط (علیہ السلام) نے) دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے (ان) مفسد لوگوں پر غالب کردے،34۔

34۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اعداء دین پر بددعا کرنے کا جواز ثابت ہے۔ نیز یہ کہ ایسی بددعا حلم وکرم وغیرہ کمالات اخلاقی کے منافی نہیں۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے قاصد ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے،35۔ تو کہنے لگے ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں بیشک اس کے پاشندے بڑے بدکار ہیں،36۔

35۔ یہ قاصد انسانی شکل میں اللہ کے فرشتہ تھے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ان کے صاحبزادہ اسحاق کی ولادت کی بشارت لے کر آئے تھے۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) کے حاشیے۔ (آیت) ” رسلنا۔ رسول “۔ یہاں پیغمبر کے اصطلاحی معنی میں نہیں۔ قاصد کے عام لغوی معنی میں ہے۔ (آیت) ” البشری “۔ بشارت سے حضرت اسحاق کی ولادت کی بشارت مراد ہے۔ 36۔ مراد وہ بستیاں ہیں جن میں قوم لوط آباد تھی، یعنی شہر سدوم اور اس کے مضافات۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا (مگر) وہاں تو لوط (بھی) ہیں (فرشتے) بولے ہم کو خوب معلوم ہے وہاں کون کون رہتا ہے ہم لوط اور ان کے گھروالوں کو بچا دیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں ہوگی،37۔

37۔ حضرات انبیاء شفقت مجسم ہوتے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو شاید شفقت میں اور زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے تھے۔ فرشتوں سے سفارش ایک لطیف انداز میں کی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اور ان کے انجام کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ سورة الاعراف (پ 8) سورة ہود (پ 12) (آیت) ” لننجینہ “۔ مرشد تھانوی (رح) نے آیت سے مستفاد فرمایا کہ کسی مجمع میں اہل اللہ کا ہونا اس پر نزول عقوبت سے مانع ہوجاتا ہے اور اس سے اہل اللہ کا جدا ہوجانا تو اس مانع کا ارتفاع ہے۔ (آیت) ” الا امراتہ “۔ یہ بھی فرمایا کہ مقربین کے ساتھ محض قرابت کا تعلق بدون ایمان کے نافع نہیں۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور پھر جب ہمارے (وہ) قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان (کے آنے) سے مغموم ہوگئے اور ان کے سبب سے بہت کڑھے،38۔ (اس پر ان فرستادوں نے) کہا آپ اندیشہ نہ کریں اور مغموم نہ ہوں ہم بچا لیں گے آپ کو اور آپ کے گھروالوں کو بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں ہوگی

38۔ (اپنی نالائق قوم کی حرکتوں کا خیال کرکے کہ وہ ضرور انہیں چھیڑیں گے) (آیت) ” سی ٓء ...... ذرعا “۔ مرشدد تھانوی (رح) نے یہاں سے مستنبط فرمایا کہ طبعی غم اور حزن، کمال کے منافی نہیں۔ جب کہ ان کے مقتضائے غیر مشروع پر عمل نہ کیا جائے۔ یہ فرشتے حسین لڑکوں کی شکل میں تھے۔ اور سدوم والے یوں بھی پردیسیوں کے دشمن تھے۔ انہیں طرح طرح ستایا کرتے تھے (آیت) ” ضاق بھم ذرعا “۔ عربی محاورہ میں یہ ایسے موقع پر بولتے ہیں جب شدت ناگواری برداشت سے باہر ہوئی جارہی ہو۔ اور انسان عاجز آیا جارہا ہو۔ وقد جعلت العرب ضیق الذراع والذرع عبارۃ عن فقد الطاقۃ (کشاف) اے عجز عنھم (راغب)
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک عذاب آسمانی انکی بدکاریوں کی پاداش میں نازل کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی کے کچھ نشان رہنے دیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں،39۔

39۔ سدوم والوں کی تہ وبالا شدہ آبادیوں کے کھنڈر اب تک نگاہ عبرت کے لیے شرق یردن میں بحرمردہ (DEAD.SEA) کے مشرق میں موجود ہیں۔ اور بحر مردہ خود ایک عبرت گاہ ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین (والوں) کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر بھیجا) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم والو اللہ کی عبادت کرو اور روز قیامت سے ڈرو اور ملک میں فساد مت پھیلاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا بس انہیں زلزلہ نے آپکڑا وہ اپنے گھروں میں اوندھے گر کر رہ گئے،40۔

40۔ شعیب (علیہ السلام) ۔ مدین وغیرہ سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ ؛
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد وثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور یہ تم پر انکے مسکنوں سے ظاہر ہوچکا ہے،41۔ اور شیطان نے انکے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں خوش نما کر دکھایا تھا اور ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے،42۔

41۔ یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہے۔ عاد، ثمود، دونوں پر مفصل حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے ہیں، عرب تجارتی قافلے اپنے شام اور یمن کے سفروں میں اکثر ان مقامات سے گزرتے بھی رہتے تھے۔ 42۔ ان شامت زدہ قوموں میں لوگ ایسے نہ تھے جو عام طور پر سے احمق، بیوقوف، وحشی، لایعقل سمجھے جاتے، اچھے خاصے مہذب، شائستہ، متمدن لوگ تھے، دنیا کے اور سارے معاملات میں بڑے سوجھ بوجھ والے، بڑے بڑے تاجر، بڑے بڑے صناع، بڑے بڑے جہاز راں، بس ایک دین ہی کے معاملہ میں غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ گویا ہوبہونقشہ آج کے مہذب ومتمدن قوموں کا !
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور موسیٰ (علیہ السلام) یقیناً ان لوگوں کے پاس کھلے نشان لے کر آچکے تھے، لیکن انہوں نے زمین پر سرکشی کی اور بھاگ نہ سکے،43۔

43۔ (اور اپنی کسی حکمت وتدبیر، کسی صنعت وتزویر، کسی زور وقوت، کسی دولت و حشمت سے اپنے کو بچا نہ سکے) (آیت) ” فرعون “۔ پر تو بار بار اور (آیت ” قارون وھامن “۔ پر قریب میں حاشیے گزر چکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑلیا، سو ان میں سے کسی پر تو ہم نے تند ہوا بھیجی اور ان میں سے کسی کو ہولناک آواز نے آ دبایا،44۔ اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا البتہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے،45۔

44۔ (غرض کسی نہ کسی طریق پر وہ عذاب الہی کی گرفت ہی میں آکر رہے) (آیت) ” من ارسلنا علیہ حاصبا “۔ مثلا قوم عاد پر (آیت) ” من اخذتہ الصیحۃ “۔ مثلا قوم ثمود کو۔ (آیت) ” من خسفنا بہ الارض “۔ مثلا قارون وبیت قارون کو۔ (آیت) ” من اغرقنا “۔ مثلا فرعون اور اس کے لشکر کو۔ 45۔ یعنی یہ خود ہی اپنے مستحق عذاب بناتے اور عذاب الہی کی گرفت میں لاتے رہے۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیظلمھم “۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے تو ان پر صورۃ بھی ظلم نہیں کیا یعنی یہ کہ انہیں بلاوجہ ظاہری سزادے دیتا۔ واقعۃ وحقیقۃ تو حق تعالیٰ سے ” ظلم “۔ کا صدور کسی حال میں بھی ممکن نہیں۔