29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 29:1–13

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ وہ ایمان لے آئے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو آزمایا نہ جائے گا

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم تو ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں سو اللہ (ظاہری علم میں) ان لوگوں کو جان کر رہیں گے جو (ایمان کے دعوے میں) سچے تھے اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہیں گے

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ ان کی یہ بات بہت ہی بےہودہ ہے

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والے جاننے والے ہیں

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو یقینا اپنے ہی (فائدے کے) لئے محنت کرتا ہے۔ بیشک اللہ تو سارے جہانوں سے بےنیاز ہیں

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ضرور ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے کام (اعمال صالحہ) کا (ان کے استحقاق سے) ضرور اچھا بدلہ دیں گے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تم سے اس بات کی کوشش کریں کہ تم ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہراؤ جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں (نہ ہوسکتی ہے) تو ان کا کہنا نہ ماننا تم سب کو لوگ کر میرے پاس ہی آنا ہے سو میں تم سب کو تمہارے سارے کام (نیک اور بد) بتادوں گا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ضرور ان کو نیک بندوں میں داخل کردیں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کو ایذارسانی کو ایسا (بڑا) سمجھ لیتے ہیں جیسے اللہ کا عذاب۔ اور اگر کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے آپہنچتی ہے تو اس وقت کہتے ہیں بیشک ہم تو (دین اور عقیدے میں) تمہارے ساتھ تھے۔ کیا اللہ کو دنیا بھر والوں کے دلوں کی باتیں معلوم نہیں ؟

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ضرور ان کو بھی معلوم کریں گے جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرے رہیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے راستے پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بوجھ بھی اٹھانے والے نہیں۔ بیشک وہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے ، قیامت کے روز اس کے بارے ان سے ضرور پوچھا جائے گا

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان کی یہ سوچ بالکل غلط اور بری ہے یعنی وہ مغلوب ہوں گے اور دنیا میں بھی انجام کار مومن غالب ہوگا اور آخرت کا عذاب تو یقینی ہے۔ مومن کی زندگی : اور مومن جو وصال الہی کی امید پر زندگی گزارتا ہے کہ کافر کے کیے جو موت کہلاتی ہے اور بہت خوفناک نظر آتی ہے مومن کے لیے حضوری کی گھڑی اور نوید مسرت ہوتی ہے یعنی مومنانہ زندگی یہ ہے کہ اللہ سے ملاقات کے لیے زندہ رہا جائے تو ایسے لوگوں کو یقین کے ساتھ جان لینا چاہیے کہ اللہ کا وعدہ آرہا ہے اور اللہ سب کی بات سننے والا اور سارے حالات جاننے والا ہے۔ مجاہدہ انسان کی ضرورت ہے : اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دین کے لیے بہت قربان کر رہا ہے اور بہت بڑے مجاہدے سے گزر رہا ہے تو اس کی اپنی ضرورت ہے اور خود اسی کو اس کا فائدہ ملے گا۔ اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے وہ کسی کی عبادت یا مجاہدے کا محتاج اور ضرورت مند نہیں۔ بلکہ جو لوگ صحیح عقیدہ اختیار کر کے نیک عمل میں بھی کوشاں رہتے ہیں ان سے اگر غلطی ہوگئی یاکمی رہ گئی تو اللہ اپنی رحمت عامہ سے اس کی تلافی فرما کر انہیں ان کے نیک اعمال کا اجر اعمال کی نسبت بہت اعلی عطا فرمائیں گے لہذا مجاہدے سے گھبرانا نہ چاہیے۔ عقیدہ کی اہمیت : اور جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت اتنی ہے کہ خود اللہ نے والدین سے حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ بھی یہ کہ دیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو یا کفریہ بات جس کا حق ہونا ثابت نہ ہو ماننے کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کردیا جائے اور اے مخاطب ان کی یہ بات ہرگز مت ماننا اس لیے کہ تجھے واپس میری بارگاہ میں لوٹ کر آنا ہے جہاں اللہ کسی سے پوچھنے کا محتاج نہ ہوگا بلکہ آنے والے کو اس کے اعمال کی خبر دی جائے گی۔ اور یقینا جو لوگ نیکی پر کاربند رہے ان کا شمار نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اور کچھ لوگوں کا تو حال ایسا ہے کہ اپنے مسلمان ہونے کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پیش آئے تو یا کفار کوئی دباؤ ڈالیں تو گھبرا جاتے ہیں جیسے اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے کہ اس کا نہ تو جواب ہوسکتا ہے اور نہ برداشت کیا جاسکتا ہے مگر یہ کفار سے ڈر کر ان کی بات مان لیتے ہیں۔ اور جب اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے یا کوئی فائدہ نظر آتا ہے تو کہ اٹھتے ہیں کہ ہم بھی تو آپ کے ساتھ ہیں۔ کیا انہیں احساس نہیں کہ اللہ تو سب جہانوں کی مخلوق کے دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے اور یہ بھی کہ مشیت باری اسی جہان میں ایمانداروں اور منافقین کو الگ الگ کر دے گی۔ کفار اسلام کی راہ سے ہٹانے کے کئی حیلے کرتے ہیں جو ان کی طاقت اور رعب میں نہ آئے اسے کہتے ہیں بھئی تم ہماری راہ اختیار کرلو قیامت کو تمہارے گناہوں کا ذمہ ہم لے لیتے ہیں لہکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے وہ ہرگز کسی کا بوجھ نہ بانٹیں گے بلکہ ان کے اپنے کفر کا بوجھ ہی بہت بھاری ہوگا جبکہ دوسروں کو کفر کی دعوت دینے کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا اور اس جھوٹ کی پرسش ان کے لیے بہت بڑی مصیبت بن جائے گی ۔ کفر کی دعوت کا بوجھ : جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بولتے ہیں یہاں ثابت ہے کہ کفر کی دعوت دینا بھی بہت بڑا کفر ہے اور اگر کوئی عملا کفار کی غلامی پر لوگوں کو آمادہ کرے کہ دنی ا میں نقصان اٹھاؤ گے تو وہ بھی بہت بڑا گناہگار ہے اور کافروں کی غلامی میں انسان نقصان سے بچ نہیں سکتا بلکہ نقصان کے ساتھ ذلت میں بھی پھنس جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو عملا کفر کی غلامی کا مشورہ دیں اور جو سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر زندہ رہنا محال ہے یا اسلامی سزائیں وحشیانہ ہیں ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayahs 29:14–22

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ایک ہزار برس رہے (ان کو تبلیغ کرتے رہے مگر وہ نہ مانے) پس ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ بڑے ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے ان (نوح علیہ السلام) کو اور کشتی والوں کو نجات بخشی اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے عبرت بنادیا

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کو جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کو پوج رہے ہو اور (اس کے بارے) جھوٹی باتیں تراشتے ہو۔ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ پس اللہ کے ہاں سے رزق تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو ، (کہ) تم کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھو تو یقینا تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھوٹا سمجھ چکی ہیں اور پیغمبر کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح مخلوق کی پہلی بار پیدا فرماتے ہیں پھر وہی اس کو دوبارہ لوٹائیں (پیدا کریں) گے۔ بیشک یہ اللہ پر (بہت ہی) آسان ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

پھر آپ ان سے فرمائیے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس (اللہ) نے مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا فرمایا ہے پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا فرمائیں گے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جسے چاہیں عذاب دیں اور جس پر چاہیں رحم فرمائیں اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم نہ زمین میں (چھپ کر اللہ کو) ہرا سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

آیات 14 تا 22 اسرارو معارف یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ کا عذاب آیا اور تمام کفار کو طوفان نے گھیر کر غرق کردیا کہ وہ بہت بڑے ظالم تھے اپنی ساری طاقت دولت اور تدبیریں لے کر غرق ہوگئے ان کے کام نہ آسکیں اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان سے بھی اور طوفان سے بھی محفوظ کردیا بلکہ جتنے لوگ بھی ایمان لاکر ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے سب سلامت رہے اور سب عالم کے لیے ایک معجزہ قرار پائے۔ ایسے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھ لیجیے کہ جب وہ مبعوث ہوئے اور قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور کاروبار حیات میں اللہ کی اطاعت اختیار کرو تمہاری دنیا کی اور آخرت کی بہتری اسی میں ہے خوب سمجھ لو۔ بھلا تم اللہ کی عبادت سے محروم ہو کر بت خانے سجائے بیٹھے ہو اور بتوں کے بارے جھوٹے قصے اور باطل عقیدے تراش رکھے ہیں۔ ان بتوں کو دیکھو جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ تو تمہیں ایک دانہ گندم بھی نہیں دے سکتے۔ تمہیں دنیا ہی کی بھلائی مطلوب ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے پاس نصیب ہوسکتی ہے۔ تم اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرنے کا راستہ اپناؤ تاکہ دنیا میں بھی فائدہ حاصل کرو اور پھر آخرت میں تو اسی کی بارگاہ میں جانا ہی ہے۔ دنیا کا فائدہ بھی دین میں ہے کفر میں ہرگز نہیں : یہاں ثابت ہے کہ اگر کسی کو دنیا کا فائدہ ہی مطلوب ہو تو وہ بھی دین پر عمل کر کے ہی حاصل کرسکتا ہے اس لیے ہر کام کو صحیح طریقے سے کر کے فائدہ حاصل ہوسکتا ہے اور صحیح طریقہ دین ہے کاش عقل کے اندھوں کو یہ نظر آجاتا کہ کفار کا معاشرہ جن امور میں کامیابی حاصل کرتا عملا وہ اسلامی قواعد کے مطابق کرتا ہے آخرت کا اجر تو عقیدہ نہ ہونے کے باعث نہ پاسکیں گے مگر دنیا میں فائدہ حاصل کرلیتے ہیں۔ ان سب دلائل کے باوجود اگر یہ آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے تو آپ رنجیدہ نہ ہوں پہلے انبیاء کے ساتھ پہلی امتوں نے بھی ایسا سلوک کیا ہے۔ اور اللہ کے رسول کا کام کسی سے منوانا نہیں بلکہ اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔ یہ انکار تو کرتے ہیں مگر کی ایہ نہیں جانتے کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پیدا فرمایا اور یہ تخلیق باری کا عمل ہر آن کس تسلسل سے جاری ہے بھلا اسے کیا مشکل وہی دوبارہ سب کچھ پھر پیدا کردے گا۔ ان سے کہیے ذرا زمین پر پھر کر یعنی تحقیق کر کے دیکھو اس کی صنعت کے عجائبات اور چیزوں کی تخلیق کا عمل دیکھ کر اس کی قدرت کاملہ کی عظمت کا اعتراف کرو کہ تم جان سکو وہ قادر ہے آخرت میں پھر پیدا کردے گا وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ سائنس کی تحقیق اور کتاب اللہ : یہ عجیب بات یہاں ثابت ہے کہ قرآن نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے کفار کو دعوت دی تھی کہ تخلیق کے عمل کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرو اور جب اس کی سمجھ آئے تو اندازہ کرو کہ یہ سب باریک ترین نظام بنانے والا کتنا عظیم اور لاشریک خالق ہے مگر یہ بدبخت صدیوں بعد اس تحقیق کی ابتدا کرسکے اور اس سے بھی ابھی تک ماسوائے چند خوش نصیبوں کے کافر معاشرہ عظمت باری کا قائل نہ ہوسکا بلکہ بکار اور کمزور ایمان والے مسلمان مرعوب ہو کر اللہ کی عظمت کی بجائے کفار کی عظمت سے مرعوب ہونے لگے۔ حلان کہ یہ تحقیقات کر کے کفار کو دکھانا مسلمان کا کام تھا ورنہ تو یہ کام کافر بھی کرسکتا ہے اللہ قادو ہے جسے چاہے عذاب دے یعنی یہ حق اللہ کا ہے کہ کسی کام کو جرم قرار دے اور اس کے کرنے والے کو عذاب دے یا جس پر چاہے رحم فرمائے کہ سب کو اسی کی باراہ میں لوٹ کر جانا ہے۔ اے کفار تم سارا زورلگا لو تم اللہ کے نظام اور اس کی قدرت کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتے ہ زمین پر اور نہ آسمانوں میں نہ ایٹم کی دریافت سے اور نہ فضا میں راکٹ چلا کر بلکہ اس کی گرفت سے بچانے والا تمہیں کوئی نہ مل سکے گا نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں جسکا اظہار بڑی بڑی کافرطاقتوں کو زلزلوں بفانی اور بارش کے طوفانوں میں مبتلا ہو کر ہوتا رہتا ہے۔
Ayahs 29:23–30

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے منکر ہوئے وہ ہماری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں۔ اور ان ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر ان کی قوم کا (آخری) جواب یہ تھا کہ کہنے لگے اس کو قتل کر دو یا اسے جلا دو پھر اللہ نے ان کو آگ سے بچا لیا بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے دلائل ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بیشک تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) تجویز کررکھا ہے۔ (یہ) تمہارے دنیا کے آپس کے تعلقات کی وجہ سے ہے پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانہ دزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور (اپراہیم علیہ السلام) فرمانے لگے بیشک میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق (علیہ السلام ، بیٹا) اور یعقوب (علیہ السلام ، پوتا) عطا فرمائے اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلہ) کو قائم رکھا اور ان کا صلہ ان کو دنیا میں (بھی) دیا اور وہ آخرت میں (بھی بڑے درجے کے) نیک بندوں میں ہوں گے

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم عجب بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے ایسا نہیں کیا

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں (لونڈوں) سے فعل کرتے ہو اور تم ڈاکے ڈالتے ہو اور اپنی بھری مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کا صرف یہ جواب تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو پھر ہم پر اللہ کا عذاب لے آئیں

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

انہوں نے دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے ان فسادی لوگوں پر غالب فرمائیے

آیات 23 تا 30 اسرارومعارف کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔ کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی چاہیے۔ برائی پر اتحاد مفادات کے لیے ہوتا ہے : چنانچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم سے فرمایا کہ تمہارا یہ بظاہر اس بت پرستی اور بتکدوں پہ اتحاد و اتفاق محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہے اور حق یہ ہے کہ برائی پر جتنے لوگ جمع ہوتے ہیں سب کی اپنی اپنی اعراض ہوتی ہیں پوری ہوں یا نہ یہ الگ بات ہے مگر یہ یاد رکھو کہ روز محشر تم ایک دوسرے کو دیکھنا تک گوارا نہ کروگے بلکہ دوستی کا سرے سے انکار کردوگے مگر تم سب کو جہنم میں ٹھکانہ ملے گا اور کوئی تمہارا معاون و مددگار نہیں ہوگا کہ برائی سے الگ ہونا ہے تو آج ہوجاؤ اس وقت مفید نہ ہوگا مگر پوری قوم میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے ہجرت کا اور تمہارے شہروں سے چلے جانے کا حکم دیا ہے لہذا اب ایسی جگہ جارہا ہوں جہاں کوئی کافر معاشرہ اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ تارخ میں پہلی ہجرت تھی جو اللہ کی راہ میں کی گئی چناچہ اپنی اہلیہ حضرت سارہ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ اللہ نے انہیں ان سے بہتر رشتہ دار اور خاندان عطا فرمایا کہ اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) جیسے بچے عطا کیے جو نہ صرف خود نبی ہوئے بلکہ آئندہ انہی کی نسل میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے تاآنکہ نبی اکرم ﷺ حضرت اسمعیل کی اولاد میں سے مبعوث ہوئے یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی اولاد تھی صرف اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کی نہ تھی کتنا اچھا بدلہ انہیں دنیا میں عطا ہوا اور آخرت میں تو وہ اللہ کے نیک بندوں ہی میں سے ہیں اور لوط (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کی طرف نبی مبعوث ہوئے جب وہ غلط کام پر اتر آئی تھی چناچہ انہوں نے منع فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا کہ تم لڑکوں اور مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو اور ڈاکے ڈالتے ہو اور پھر اپنی مجالس میں ان برائیوں پر فخر کرتے ہو جو ایک بہت بڑی برائی ہے تو وہ بھی دلائل سے آجز آکر کہنے لگے اچھا اگر آپ سچ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور ہم نے اطاعت نہ کی تو ہم پر عذاب آجائے گا تو پھر لائیے وہ عذاب ہم آپ کی بات نہ مانیں گے۔ تو آپ نے ان پر بدعا فرمائی کہ اے اللہ ان فسادیوں کے مقابلہ میں تو میری مدد فرما۔