29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 29:1
الۗمّۗ: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا۔۔ : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمان بہت سخت حالات سے گزر رہے تھے، کفار نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ انسانی فطرت کے مطابق مسلمان کبھی کبھار مصیبتوں کی تاب نہ لا کر گھبرا جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حوصلہ دینے کے لیے فرمایا : ”کیا لوگوں نے گمان کر رکھا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔“ یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ آزمائش ضرور ہوگی، تاکہ سچے کو جھوٹے سے اور مخلص کو منافق سے جدا کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق آزمائش ایمان کے حساب سے ہوتی ہے، جتنا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی آزمائش سخت ہوتی ہے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (أَلْأَنْبِیَاءُ ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ، یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِیْنِہِ ، فَإِنْ کَانَ فِيْ دِیْنِہِ صَلاَبَۃٌ زِیْدَ فِي بَلاَءِہِ ، وَ إِنْ کَانَ فِيْ دِیْنِہِ رِقَّۃٌ خُفِّفَ عَنْہُ ، وَمَا یَزَالُ الْبَلَاء بالْعَبْدِ حَتّٰی یَمْشِيَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْءَۃٌ) [ مسند أحمد : 1؍172، ح : 1485۔ ترمذي : 2398، و صححہ الألباني ] ”(آزمائش میں سب سے سخت) انبیاء ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر لوگوں میں سے جو افضل ہو، پھر جو اس کے بعد افضل ہو، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے حساب سے ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں نرمی ہو تو اس سے تخفیف کی جاتی ہے اور آدمی کی آزمائش جاری رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا پھرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔“ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (142 اور 179) ، بقرہ (214) ، توبہ (16) اور سورة محمد (31)۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں، خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے کہا : (أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا ؟ أَلاَ تَدْعُوْ لَنَا ؟ فَقَالَ قَدْ کَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِي الْأَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا فَیُجَاء بالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَ یُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہِ ، وَاللّٰہِ ! لَیَتِمَّنَّ ہٰذَا الْأَمْرُ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰی حَضْرَ مَوْتَ لاَ یَخَافُ إِلاَّ اللّٰہَ وَالذِّءْبَ عَلٰی غَنَمِہِ وَ لٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ) [ بخاري، الإکراہ، باب من اختار الضرب و القتل و الھوان علی الکفر : 6943 ] ”کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے ؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم سے پہلے لوگوں میں آدمی کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھا جاتا اور اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے نوچ دیا جاتا اور یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں روکتی تھی۔ اللہ کی قسم ! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا، یا اسے اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہوگا) ، لیکن تم بہت جلدی کا مطالبہ کرتے ہو۔“ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۔۔ : ”سو اللہ تعالیٰ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر بات کو جانتا ہے، پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کو جان لے گا۔ مفسر ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے، عام علم تو ان چیزوں کا بھی ہوتا ہے جو وجود میں نہ آئی ہوں، مگر دیکھنے سے حاصل ہونے والا علم (یا یہ علم کہ کوئی چیز وجود میں آچکی ہے) کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (142) کی تفسیر۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

یا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا۔۔ : اگرچہ ”الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ“ (جو لوگ برے کام کرتے ہیں) کے الفاظ عام ہیں، جن میں مومن و کافر دونوں آجاتے ہیں، مگر یہاں مراد کافر ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔“ (موضح) یعنی ایمان والوں کی آزمائشوں اور امتحانات کو دیکھ کر کیا کافروں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے ؟ اگر انھوں نے عارضی مہلت سے یہ رائے قائم کرلی ہے کہ ہم ہمیشہ مزے میں رہیں گے، کبھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آئیں گے، تو انھوں نے بہت بری رائے قائم کرلی ہے، کیونکہ مومنوں کی آزمائش تو ایک وقت تک ہے اور ان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے، جب کہ کفار کے لیے شدید عذاب تیار ہے جو مومنوں کی آزمائش کی طرح چند روزہ نہیں بلکہ دائمی ہے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بیشک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں ایمان والوں کے لیے خوش خبری ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے وہ اس چند روزہ آزمائش پر صبر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی امید ضرور پوری ہوگی، کیونکہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بندے کی دعا کو اور اس کے عمل کو بلکہ کائنات کی ہر آواز اور ہر کام کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ قرآن مجید میں دو قسم کے لوگ بیان ہوئے ہیں، ایک وہ جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتے ہیں، ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور سورة کہف کی آخری آیت میں بھی، فرمایا : (فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا) [ الکہف : 110 ] ”پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔“ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید اور اس کا شوق رکھنے والے کو خوش خبری ہو کہ اس کی امید ضرور پوری ہوگی اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ ضرور آنے والا ہے۔ اس لیے اسے چاہیے کہ اس وقت سے پہلے ملنے والی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اخلاص کے ساتھ اپنے رب کو راضی کرنے والے صالح اعمال کرلے۔ عبادہ بن صامت ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہُ ، وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہُ ، قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہِ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ ، قَالَ لَیْسَ ذَاکَ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہُ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَ عُقُوْبَتِہِ فَلَیْسَ شَيْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہُ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہُ) [ بخاري، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ أحب اللہ لقاء ہ : 6507 ] ”جو شخص اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔“ اس پر عائشہ ؓ یا آپ کی کسی اور بیوی نے کہا : ”ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ بات نہیں، بلکہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی اور اس کے باعزت ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی جو اس کے آگے آنے والی ہے اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ ناپسندیدہ چیز کوئی نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہے تو وہ اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔“ عمار بن یاسر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی دعا نماز میں پڑھی، جس میں اللہ تعالیٰ سے کئی چیزیں مانگی گئی ہیں، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : (وَ أَسْأَلُکَ لَذَّۃَ النَّظَرِ إِلٰی وَجْھِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَاءِکَ فِيْ غَیْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّۃٍ وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ) [ نساءي، السھو، نوع آخر : 1306 ]”(اے اللہ !) اور میں تجھ سے تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، کسی تکلیف کے بغیر جو نقصان پہنچانے والی ہے اور کسی فتنے کے بغیر جو گمراہ کرنے والا ہے۔“ لوگوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی نہ امید رکھتا ہے نہ شوق، ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا وَرَضُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِيْنَ ھُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) [ یونس : 7، 8 ] ”بیشک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔“
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے، یقینا اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بےپروا ہے۔

وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ : ”جَھَدَ یَجْھَدُ“ کا معنی کوشش کرنا ہے اور ”جاھد“ (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ دشمن کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہوجاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کا لفظ اکثر اسی معنی میں آیا ہے۔ سب سے اونچا درجہ اس کا وہ ہے، جب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر قربان ہوجاتا ہے۔ عبداللہ بن حُبْشی ؓ بیان کرتے ہیں (لمبی حدیث ہے) : (قِیْلَ فَأَيُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ مَنْ جَاہَدَ الْمُشْرِکِیْنَ بِمَالِہِ ، وَنَفْسِہِ ، قِیْلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ ؟ قَالَ مَنْ أُہْرِیْقَ دَمُہُ ، وَعُقِرَ جَوَادُہُ) [ مسند أحمد : 3؍411، 412، ح : 15407، قال محقق المسند إسنادہ قوي۔ أبوداوٗد : 1449، قال الألباني صحیح ]”(نبی ﷺ سے) سوال کیا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“ پوچھا گیا : ”پھر کون سا قتل سب سے اونچی شان والا ہے ؟“ فرمایا : ”جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا جائے۔“ 3 فرمایا، جو شخص اپنے نفس یا شیطان یا کسی بھی دشمن کے مقابلے میں اپنی آخری کوشش لگا دیتا ہے اس کا فائدہ خود اس کو ہے، اللہ تعالیٰ کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان، بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورة حم السجدہ کی آیت (46) : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہوگی۔“ اور سورة بنی اسرائیل کی آیت (7) : (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا)”اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے۔“ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب تعالیٰ سے بیان کیا، لمبی حدیث ہے، اس میں ہے : (یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذٰلِکَ فِيْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُلْکِيْ شَیْءًا) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2577 ] ”اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے انسان اور تمہارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہوجائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں ہوگا اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے انسان اور تمہارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہوجائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ فاجر ہے تو اس سے میری بادشاہت میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا۔“ 3 مفسر رازی نے فرمایا، اس آیت میں خوش خبری بھی ہے اور ڈرانا بھی۔ ڈرانا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جب سارے جہانوں سے غنی ہے تو اگر وہ تمام بندوں کو اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک کر دے تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور خوش خبری اس لیے کہ اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اپنے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو دے دے تو اس کا کچھ کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں سے کسی چیز کی اسے تو ضرورت نہیں، وہ سارے جہانوں سے بےپروا ہے، پھر ”کُنْ“ کہہ کر وہ جتنا چاہے اور پیدا کرسکتا ہے، یہ بات بہت امید دلانے والی اور بہت بڑی خوش خبری ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے یقینا ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کردیں گے اور یقینا انھیں اس عمل کی بہترین جزا ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَـيِّاٰتِهِمْ : یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، آزمائش پر ثابت قدم رہے، مشرکین کی ایذا سے متزلزل نہیں ہوئے، پھر صالح اعمال کرتے رہے، اپنے اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے جہاد کرتے رہے تو ہم ان کی برائیاں ضرور دور کردیں گے، ایمان لانے کی برکت سے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے، پھر اعمال میں سے ہجرت سے پہلے کے تمام گناہ معاف کردیں گے اور حج سے پہلے کے تمام گناہ معاف کردیں گے۔ عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل کیا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا : ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیں، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا، کہتے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو آپ نے فرمایا : ”عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟“ میں نے کہا : ”میں چاہتا ہوں کہ شرط کرلوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کس چیز کی شرط کرو گے ؟“ میں نے کہا : ”اس بات کی کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الإِْسْلاَمَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ؟ وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا ؟ وَأَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ؟) [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ۔۔ : 121 ] ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے ؟ اور ہجرت اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتی ہے ؟ اور حج اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے ؟“ پھر توبہ سے گزشتہ گناہ معاف ہی نہیں ہوتے بلکہ نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة فرقان کی آیت (70) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ وضو، نماز، روزہ، صدقہ اور جہاد غرض ہر نیکی گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود کی آیت (114)۔ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ آدمی کے نیک اعمال میں سے جو اعمال سب سے زیادہ اچھے ہوں گے ان کو ملحوظ رکھ کر اسے اچھی جزا دی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ آدمی اپنے عمل کے لحاظ سے جتنی جزا کا مستحق ہوگا اس سے زیادہ اچھی جزا اسے دی جائے گی۔ کفر کی حالت میں جو نیک اعمال کیے تھے مسلمان ہونے کے بعد ان کی جزا بھی ملے گی۔ حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! یہ بتائیں کہ وہ کام جو میں جاہلیت میں ثواب سمجھ کر کرتا تھا، یعنی صلہ رحمی، غلام آزاد کرنا اور صدقہ، تو کیا میرے لیے ان میں اجر ہے ؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ لَکَ مِنْ خَیْرٍِ) [ بخاري، البیوع، باب شراء المملوک من الحربي و ھبتہ و عتقہ : 2220 ] ”تم اس تمام نیکی سمیت مسلمان ہوئے ہو جو اس سے پہلے تم نے کی۔“ پھر ایمان لانے کے بعد ہر نیکی کا بدلا دس گنا سے لے کر سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ تک بلکہ بلا حساب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة نساء (40) ، انعام (160) ، قصص (84) ، بقرہ (261) ، زمر (10) اور مومن (40)۔ 3 رازی نے بہتر بدلے کے متعلق ایک نفیس نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے اعمال یا تو دل سے تعلق رکھتے ہیں، یا آنکھ سے نظر آتے ہیں، یا کان کے ساتھ سنائی دیتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے کہ ان اعمال کے بدلے میں جو آنکھوں سے نظر آتے ہیں وہ نعمتیں دے گا ”مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ“ (جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں) اور کان سے سنائی دینے والے اعمال کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا ”وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ“ (جو کسی کان نے نہیں سنیں) اور دل کے ایمان اور حسن اعتقاد کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا ”وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ“ (جن کا خیال تک کسی بشر کے دل میں نہیں آیا)۔ ایمان اور عمل صالح کی اس سے بہتر جزا کیا ہوسکتی ہے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، تمہیں میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمہیں بتاؤں گا جو تم کیا کرتے تھے۔

وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا : اللہ پر ایمان اور عمل صالح کی تلقین اور اس کی فضیلت بیان کرنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، کیونکہ انھی سے انسان کا وجود ہوتا ہے، باپ خرچ کرتا اور پرورش کرتا ہے، جبکہ ماں دودھ پلاتی اور پالتی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً اللہ کے حق کے بعد والدین کا حق بیان ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا) [ بني إسرائیل : 23 ] ”اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو ”اُف“ مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔“ بقاعی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کا یہ ربط نکالا ہے کہ آزمائش کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کو اس کے والدین کفرو شرک پر مجبور کریں تو ایسے موقع پر اسے ثابت قدم رہنا چاہیے اور کفرو شرک کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا : یعنی اگر والدین تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، یعنی جس کے شریک ہونے کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، کیونکہ علم وہ ہے جس کی دلیل ہو۔ مقصد یہ ہے کہ بھلا شرک کی بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے، وہ تو محض توہم پرستی اور تقلید کے اندھے پن سے وجود میں آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کے کہنے پر اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی صورت جائز نہیں، صرف شرک ہی نہیں اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بھی نافرمانی ماں باپ یا کسی مخلوق کے کہنے پر جائز نہیں۔ علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ) [ مسند أحمد : 1؍131، ح : 1099، صحیح علٰی شرط مسلم ] ”اللہ عزوجل کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔“ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا أَحَبَّ وَکَرِہَ مَا لَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ عَلَیْہِ وَ لاَ طَاعَۃَ) [ ترمذي، الجہاد، باب ما جاء لا طاعۃ لمخلوق في معصیۃ الخالق : 1707، و صححہ الترمذي و الألباني ] ”سننا اور ماننا مسلمان آدمی پر فرض ہے ان حکموں میں جو اسے پسند ہوں یا ناپسند ہوں، جب تک اسے (اللہ کی) نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، تو جب اسے (اللہ کی کسی) نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا جائز ہے نہ ماننا۔“ 3 سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ان کے بارے میں قرآن کی کئی آیات اتریں، (ان میں سے یہ ہے کہ) سعد کی ماں نے (ان کے مسلمان ہونے پر) قسم کھالی کہ اس سے کبھی کلام نہیں کرے گی جب تک وہ اپنے دین سے کافر نہ ہوجائے اور نہ کھائے گی نہ پیے گی۔ اس نے کہا، تم کہتے ہو کہ اللہ نے تمہیں والدین کے بارے میں وصیت کی ہے اور میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں یہ حکم دیتی ہوں۔ سعد نے کہا، وہ تین دن ایسے ہی رہی، حتیٰ کہ بھوک سے اس پر غشی طاری ہوگئی، تو اس کا ایک بیٹا اٹھا جس کا نام عمارہ تھا، اس نے اسے (پانی وغیرہ) پلایا تو وہ (ہوش میں آ کر) سعد پر ب دعائیں کرنے لگی، اس پر اللہ عز و جل نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی : (وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا) [ العنکبوت : 8 ] اور یہ آیت : (وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا) [ لقمان : 15 ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص ؓ : 1748، بعد الحدیث : 2412 ] اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ۔۔ : یعنی دنیا کی یہ رشتہ داریاں اور والدین کے حقوق اس دنیا کی حد تک ہیں، آخر کار ماں باپ اور اولاد سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور پلٹ کر جانا ہے، پھر اگر ماں باپ نے اولاد کو گمراہی پر مجبور کیا یا ناحق زیادتی کی تو وہ پکڑے جائیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے جائز حقوق میں کوتاہی کی تو ان سے باز پرس ہوگی۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے ہم انھیں ضرور ہی نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : یعنی اگر کسی کے والدین مشرک ہوں گے تو مومن بیٹا نیکوں کے ساتھ ہوگا، مشرک والدین کے ساتھ نہیں، اس لیے کہ گو والدین دنیا میں اس کے بہت قریب رہے اور محبت بھی کرتے رہے مگر ان کی اس سے اور اس کی ان سے محبت طبعی تھی، دینی نہ تھی، جب کہ حقیقی محبت دینی محبت ہے جو والدین کی کفار کے ساتھ تھی اور اس کی اہل ایمان کے ساتھ تھی اور قیامت کے دن آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اسے حقیقی (دینی) محبت ہوگی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ سے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے مگر ابھی ان سے نہیں ملا ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ) [ بخاري، الأدب، باب علامۃ الحب في اللہ۔۔ : 6169 ] ”آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے گا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا) [ النساء : 69 ] ”اور جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔“ اس لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے صالحین میں داخل فرمائے گا جن کے ساتھ ملانے کی دعا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر کرتے رہے، جیسا کہ سلیمان ؑ نے دعا کی : (وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ) [ النمل : 19 ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ اور یوسف ؑ نے دعا کی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ یوسف : 101 ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ ان لوگوں کو صالحین میں داخل کرنے کی اس مقام پر ایک لطیف مناسبت ہے کہ جب والدین کے شرک کا حکم دینے کی صورت میں ان کی بات نہ ماننے کا حکم دیا گیا تو ظاہر ہے اس سے والدین اور اس کے درمیان دوری اور قطع تعلق قدرتی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ان سے اس جدائی کے بدلے اسے صالحین میں داخل فرمایا، تاکہ اسے ان سے انس حاصل ہو اور اس کا دل لگا رہے۔ (ابن عاشور) اپنے عزیزوں سے جدائی کے عوض اللہ تعالیٰ کی طرف سے انس عطا ہونے کی ایک مثال آسیہ[ کی دعا ہے، جس نے ایمان لانے کی وجہ سے خاوند اور گھر چھن جانے پر دعا کی : (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ) [ التحریم : 11 ] ”اے رب ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔“ اس دعا میں ”عندک“ اور ”بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ“ کے الفاظ قابل غور ہیں، فرعون کے بدلے رب تعالیٰ کی ہمسائیگی اور گھر کے بدلے جنت کا گھر، کیا خوب جزا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ اور دوسرے خویش و اقارب کی مزاحمت کے باوجود ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے یہ بہت بڑا انعام ہے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اللہ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے اور یقینا اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو یقینا ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے، اور کیا اللہ اسے زیادہ جاننے والا نہیں جو سارے جہانوں کے سینوں میں ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰهِ۔۔ : یہ وہ لوگ ہیں جو مکہ میں مسلمان ہوگئے، مگر مشرکین کے ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ ان کی دی ہوئی ایذا پر صبر نہیں کرسکتے تھے، جب انھیں ایذا دی جاتی تو دل سے شرک کی طرف پلٹ جاتے، مگر مسلمانوں سے یہ بات چھپاتے اور ان کے ساتھ رہتے۔ یہ لوگ منافق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہجرت سے پہلے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ ضحاک اور جابر بن زید کا قول ہے۔ (ابن عاشور) فرمایا، لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں ایمان لایا، پھر جب اسے اللہ کے بارے میں ایذا اور سزا دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی سزا اور ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے، حالانکہ لوگوں کی طرف سے ملنے والی ایذا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی آپس میں کوئی مشابہت نہیں۔ لوگوں سے ملنے والی سزا محدود ہے جو ختم ہونے والی ہے، زیادہ سے زیادہ موت تک رہ سکتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے، لوگوں سے ملنے والی سزا اس کے لیے ثواب کا باعث ہے، جب کہ اللہ کا عذاب اس کے غضب کا نتیجہ ہے، اس لیے اسے چاہیے تھا کہ اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے لوگوں کی ایذا اور سزا پر صبر کرتا اور ہمیشہ کی جنت کا حق دار بنتا، مگر اس نے لوگوں کی ایذا و سزا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اور دین سے پھر گیا، مگر دنیوی مفادات کی خاطر ظاہری تعلق مسلمانوں سے بھی قائم رکھا۔ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ۔۔ : چناچہ اگر کبھی رب تعالیٰ کی طرف سے مدد آگئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی تو کہہ دیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے، کیا اللہ تعالیٰ اس چیز کو سب سے زیادہ جاننے والا نہیں جو تمام جہانوں کے سینوں میں ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں : ”معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں ان لوگوں کا دل سے کفر اور ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا مشرکین کے ساتھ ایک قسم کا طے شدہ معاملہ تھا، کیونکہ یہ سورت مکی ہے۔“ اس مضمون کی آیت یہ ہے : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ) [ الحج : 11] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھرجاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔“ 3 اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ایذا اور مجبور کرنے کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک وہ جنھوں نے مجبوری کی وجہ سے کلمۂ کفر کہہ دیا، مگر دل سے اسلام پر مطمئن رہے، دوسرے وہ جنھوں نے شرح صدر کے ساتھ دل سے کفر اختیار کرلیا، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا) [ النحل : 106 ] ”جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے۔“ زیر تفسیر آیت میں مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ”مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا“ (جو کفر کے لیے سینہ کھول دے) کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور یقینا اللہ ان لوگوں کو ضرور جان لے گا جو ایمان لائے اور یقینا انھیں بھی ضرور جان لے گا جو منافق ہیں۔

وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ : یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے کہ تم ہمارے راستے پر چلو اور لازم ہے کہ ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں، حالانکہ وہ ہرگز ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بیشک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا۔۔ : اس آیت میں ایمان لانے والوں کی ایک اور آزمائش کا ذکر فرمایا ہے کہ کفار ہر طریقے سے انھیں بہکانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے کفار نے ایمان لانے والوں سے کہا، تم ہمارے راستے پر چلو، ہماری طرح بت پرستی کرو اور من مانی زندگی بسر کرو، نہ کچھ کرنے کی پابندی نہ کسی کام سے رکنے کی پابندی اور ہم پر لازم ہے کہ تمہارے گناہ اٹھائیں۔ (”ولنحمل“ امر کا صیغہ تاکید کے لیے استعمال کیا ہے) یعنی ہم ہر صورت تمہارے گناہ اٹھائیں گے، جیسے کہا جاتا ہے، تم یہ کام کرو، تمہارا گناہ میری گردن پر۔ وَمَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ شَيْءٍ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کفار ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، یقیناً یہ جھوٹ بول رہے ہیں، اس وقت گناہ اٹھانا تو دور کی بات انھوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں سے بالکل ہی لا تعلق ہوجانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ) [ البقرۃ : 166 ] ”جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے بالکل بےتعلق ہوجائیں گے جنھوں نے پیروی کی اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات بالکل منقطع ہوجائیں گے۔“ ان کے گناہ نہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کسی صورت نہیں ہوسکتا کہ قیامت کے دن ان کے گناہ خود اٹھا کر انھیں گناہ سے بری کردیں اور کہیں کہ تم جنت میں جاؤ، تمہارے گناہوں کی سزا ہم بھگتیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى) [ فاطر : 18 ] ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قرابت دار ہو۔“
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔

وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ : یعنی یہ جھوٹے ہیں، ان کا بوجھ رتی برابر ہلکا نہیں کرسکتے، ہاں اپنا بوجھ بھاری کر رہے ہیں، ایک تو یہ اپنے ذاتی گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور دوسرا اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنھیں انھوں نے گمراہ کیا تھا، اگرچہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (دیکھیے نحل : 25) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ دَعَا إِلٰی ہُدًی کَانَ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْءًا وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الإِْثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْءًا) [ مسلم، العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ أو سیءۃ۔۔ : 2674 ] ”جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اسے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ملے گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کچھ کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِہَا، لِأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ : 3335 ] ”کوئی جان ظلم سے قتل نہیں کی جاتی مگر آدم ؑ کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کا ایک حصہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا۔“ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : یعنی جو جھوٹی باتیں یہ بناتے ہیں کہ ہم تمہارا بوجھ اٹھا لیں گے یہ خود مستقل گناہ ہے، اس افترا کی بھی انھیں سزا ملے گی۔ جس میں ان سے کی جانے والی بازپرس بھی ہوگی، جو بجائے خود نہایت خوفناک مرحلہ ہے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں بچ اس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ : سورت کے آغاز میں جو فرمایا تھا کہ ہم نے پہلے لوگوں کی بھی آزمائش کی، اس کی کچھ تفصیل کے لیے ان پیغمبروں کا ذکر فرمایا جنھوں نے لمبے عرصے تک آزمائش پر صبر کیا اور قوم کی طرف سے بیشمار اذیتوں کے باوجود ان کی خیر خواہی میں اور انھیں دعوت دینے میں کمی نہیں کی۔ مقصد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں کو تسلی دینا ہے۔ ان واقعات کا آغاز نوح ؑ سے فرمایا، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے۔ نوح ؑ کا ذکر قرآن مجید میں تینتالیس (43) جگہ آیا، ان واقعات میں انبیاء اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذکر بھی ہے اور اس بات کا بھی کہ کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ ہماری گرفت سے بچ نکلیں گے۔ نوح ؑ کے متعلق مزید دیکھیے سورة آل عمران (33) ، نساء (163) ، انعام (84) ، اعراف (59 تا 64) ، یونس (71 تا 73) ، انبیاء (76، 77) ، مومنون (23 تا 30) ، فرقان (37) ، شعراء (105 تا 122) ، صافات (75 تا 82) ، قمر (9 تا 15) ، حاقہ (11، 12) اور سورة نوح مکمل۔ فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا : نوح ؑ کی اپنی قوم کو سمجھانے کی مدت ساڑھے نو سو (950) سال تھی۔ ظاہر ہے کہ منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی انھوں نے عمر کا ایک حصہ گزارا ہوگا اور طوفان کے بعد بھی زندہ رہے ہوں گے۔ مفسرین کے ان کی کل عمر کے متعلق مختلف اقوال ہیں، مگر صحت سند کے ساتھ کوئی بات ثابت نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ نوح ؑ کے اپنی قوم میں رہنے کی مدت بیان کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اس میں دو فائدے ہیں، ایک یہ کہ کفار کے اسلام قبول نہ کرنے اور کفر پر اڑے رہنے سے رسول اللہ ﷺ کا دل تنگ ہوتا تھا، آپ کی تسلی کے لیے فرمایا کہ نوح ؑ تقریباً ہزار برس دعوت دیتے رہے، جس کے نتیجے میں ان کی قوم میں بہت تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے، اس کے باوجود وہ نہ اکتائے، نہ انھوں نے دعوت دینا ترک کیا، تو آپ کا زیادہ حق بنتا ہے کہ صبر کریں، کیونکہ آپ ان کے مقابلے میں بہت تھوڑا عرصہ ان میں رہے ہیں اور آپ پر ایمان لانے والے کہیں زیادہ ہیں۔ دوسرا فائدہ کفار کو تنبیہ ہے کہ انھیں عذاب میں تاخیر سے کسی دھوکے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہزار برس کی مہلت بھی دے دیا کرتا ہے، مگر کفر پر اصرار کرنے والی قوم پر آخر کار اس کا عذاب آجاتا ہے، جیسا کہ نوح ؑ کی قوم جب ظلم وتعدی سے باز نہ آئی تو طوفان نے انھیں آلیا۔ ”فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ“ سے ظاہر ہے کہ طوفان کا باعث ان کا ظلم پر اصرار تھا، اگر وہ توبہ کرلیتے تو ان پر عذاب نہ آتا۔ 3 بعض لوگوں کو نوح ؑ کی اتنی عمر پر تعجب ہوتا ہے، مگر اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن مجید میں نوح ؑ کی طویل عمر کا ذکر ہے، صحیح حدیث کے مطابق انسان کی پیدائش کی ابتدا میں اس کا قد بھی آج کے قد سے کہیں لمبا تھا۔ مدت ہائے دراز گزرنے کے ساتھ دونوں میں کمی آتی گئی۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ ، طُوْلُہُ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔۔ فَکُلُّ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ آدَمَ ، فَلَمْ یَزَلِ الْخَلْقُ یَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّی الْآنَ) [ بخاري، الاستئذان، باب بدء السلام : 6227 ] ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس کی صورت پر پیدا کیا، اس کا طول (قد) ساٹھ ہاتھ تھا۔۔ تو جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم کی صورت پر ہوگا۔ پھر بعد میں اب تک خلقت (کا قد) کم ہوتا چلا گیا۔“
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے بچالیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔

فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ : یہ واقعہ سورة ہود (37 تا 48) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ وَجَعَلْنٰهَآ اٰيَةً لِّــلْعٰلَمِيْنَ : اس جملے کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اس واقعہ کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ جو بھی اسے سنے اس سے عبرت حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اس کشتی کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا یہ طریقہ ہے۔ چناچہ اس کے بعد تمام زمانوں میں انسان نے اس کی مانند کشتیاں بنا کر غرق ہونے سے بچنے کا اور سمندر میں سفر کا بندوبست کیا۔ یہ مضمون ان آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے : (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ) [ یٰسٓ : 41 تا 44 ] ”اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بیشک ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے۔“ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”جس وقت یہ سورت اتری ہے آپ ﷺ کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے، جب آپ ﷺ مدینہ ہجرت کر آئے تب وہ جہاز والے صحابہ بھی سلامتی سے آ ملے۔“ (موضح) گویا نوح ؑ اور سفینۂ نوح کی تاریخ اس رنگ میں دہرائی گئی۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کشتی صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی۔ اب بھی اخباروں میں اس کشتی کی تلاش کے لیے مہمات روانہ ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس مطلب کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے : (وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ) [ القمر : 13 تا 15 ] ”اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔ اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟“ چوتھا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے نوح ؑ اور کشتی میں سوار لوگوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا، جو کئی لحاظ سے نشانی تھی، ایک یہ کہ طوفان آنے سے پہلے کشتی تیار ہوگئی، دوسرا یہ کہ نوح ؑ نے اپنا اور کشتی میں موجود تمام انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذخیرہ کرلیا، تیسرا یہ کہ خوراک ختم ہونے سے پہلے پہلے پانی زمین میں جذب ہو کر خشک ہوگیا، جب کہ اتنا بڑا سمندر جو پہاڑوں کی بلندی کے برابر گہرا ہو، اتنی مدت میں کبھی خشک نہیں ہوتا، اگر اتنی جلدی پانی جذب نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی زندہ باقی نہ رہتا، چوتھا یہ کہ وہ کشتی اتنی مدت تک ہوا کے تھپیڑوں اور خطرناک بحری جانوروں کے حملوں سے بھی محفوظ رہی۔ ان تمام باتوں میں کشتی کا یا کشتی والوں کا کچھ کمال نہ تھا، یہ ہم تھے جنھوں نے ان تمام چیزوں کا اہتمام کر کے نوح ؑ اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں مطالب میں کوئی تضاد نہیں، چاروں بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

وَاِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ :”ابراھیم“ کا عطف ”نوحا“ پر ہے اور یہ ”ارسلنا“ کا مفعول ہے، یعنی ”اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔“ بعض مفسرین نے اسے ”اُذْکُرْ“ کا مفعول بنایا ہے کہ ابراہیم کو یاد کر۔ اگرچہ یہ بھی ہوسکتا ہے، مگر آگے آیت (36) میں ”وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا“ سے ظاہر ہے کہ راجح یہی ہے کہ یہ ”ارسلنا“ کا مفعول ہے۔ ابراہیم ؑ کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (رکوع 15، 16 اور 35) ، آل عمران (رکوع 7) ، انعام (رکوع 9) ، ہود (رکوع 7) ، ابراہیم (رکوع 6) ، حجر (رکوع 4) ، مریم (رکوع 3) ، انبیاء (رکوع 5) ، شعراء (5) ، صافات (رکوع 3) ، زخرف (رکوع 3) اور ذاریات (رکوع 2)۔ 3 نوح ؑ کے بعد ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا، کیونکہ ان کی آزمائش بھی بہت بڑی تھی، انھیں آگ میں پھینک دیا گیا، ہجرت کرنا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں کئی باتوں کے ساتھ آزمایا اور وہ سب میں پورے اترے۔ (دیکھیے بقرہ : 124) ان آزمائشوں میں بہت بڑی آزمائش اس قوم کو توحید کی دعوت دینا تھی جو بت پرست تھی۔ ابراہیم ؑ نے انھیں حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یعنی اس بات سے ڈرو کہ اگر تم نے اس کی عبادت نہ کی، اس کا حکم نہ مانا یا کسی غیر کو اس کا شریک بنایا تو وہ تمہیں عذاب دے گا۔ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : ”خیر“ اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے، زیادہ اچھا، مگر یہاں تفضیل کا معنی مراد نہیں، کیونکہ توحید شرک سے زیادہ اچھی نہیں بلکہ توحید ہی اچھی ہے، شرک میں کسی طرح کی کوئی اچھائی نہیں۔ (سعدی) یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اور تمہارے خیال میں اس میں کسی قسم کی خیر ہے، لیکن اللہ کی عبادت اور اسی سے ڈرنا ہر حال میں اس سے کہیں اچھا ہے (اگرچہ فی الواقع بتوں کی عبادت میں کوئی خیر نہیں)۔ (آلوسی) اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی اگر تمہیں کچھ بھی علم ہو۔ معلوم ہوا شرک میں وہی گرفتار ہوتا ہے جو علم سے بالکل محروم ہوتا ہے۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑ تے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا : قرآن مجید میں بتوں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں : 1 ”صَنَمٌ“ اس کی جمع ”أَصْنَامٌ“ ہے، معنی ہے وہ بت جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں، خواہ وہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں، یا لکڑی کے یا پتھر کے اور ”صِنَاعَۃُ الْأَصْنَامِ“ کا معنی ہے بت تراشی کا فن، جیسے ابراہیم ؑ کا باپ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ 2 ”نَصَبٌ“ اس کی جمع ”أَنْصَابٌ“ ہے، معنی ہے ایسے بت یا مجسّمے جنھیں پوجا پاٹ کے لیے نصب کردیا گیا ہو، جیسے مشرکین مکہ کے بت لات، منات، عزیٰ اور ہبل وغیرہ تھے۔ 3 ”أَوْثَانٌ“ یہ ”وَثَنٌ“ کی جمع ہے، وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے، یعنی آستانے وغیرہ، خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں (مثلاً پیپل وغیرہ) ، ستاروں (مثلاً قطب وغیرہ) یا دریاؤں (مثلاً گنگا وغیرہ) سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کردی جاتی ہے اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا کسی ولی یا کسی بت سے منسوب ہوتے ہیں۔ ابراہیم ؑ نے جو ”اوثان“ کا ذکر کیا تو اس سے مراد ان کی قوم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہیں۔ (کیلانی) وہ قبریں بھی ”اوثان“ میں شامل ہیں جن کی عبادت کی جائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَللّٰہُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا یُّعْبَدُ ، لَعَنَ اللّٰہُ قَوْمًا اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِہِمْ مَسَاجِدَ) [ مسند أحمد : 2؍246، ح : 7376، عن أبي ہریرہ۔ ، قال المحقق و إسنادہ قوي۔ الموطأ : 1؍172، ح : 414 ] ”اے اللہ ! میری قبر کو وثن (بت) نہ بنانا، جس کی عبادت کی جائے۔ اللہ ان لوگوں پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔“ وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا : یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو، ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کردیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینے میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑجاتے ہیں یا مرجاتے ہیں، یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اتنا خطرناک ہوتا ہے، یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزق میں فراوانی ہوجاتی ہے، لہٰذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو، ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ (کیلانی) اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں ابراہیم ؑ نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے، ایک یہ کہ یہ بت تمہارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں، گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمہاری مخلوق ہیں اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا اور یہ الٰہ تو مخلوق در مخلوق ہیں، یہ الٰہ کیسے بن گئے ؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمہیں خود ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمہارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کردیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بےجان مادّے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادّے الٰہ کیسے ہوسکتے ہیں ؟ تیسری دلیل یہ ہے کہ یہ تمہیں رزق کیا دیں گے، رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاؤوں اور نذروں نیازوں کی صورت میں رکھتے ہو، چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو ، چاہو تو اٹھا لو اور چاہو تو ان کے اوپر مل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجا لاؤ۔ (کیلانی) شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے، سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا اپنی خوشی کے موافق۔“ (موضح) اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : یعنی بالآخر تمہیں اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمہارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے، ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے، نہ تمہارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا تمہیں عبادت تو اس کی کرنی چاہیے جو تمہاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور رزق بھی اسی سے مانگنا چاہیے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کئی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمے تو کھلم کھلا پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔

وَاِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ : واؤ عطف سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے والا جملہ، جس پر اس جملے کا عطف ہے، وہ محذوف ہے، یعنی ”فَإِنْ تُصَدِّقُوْنِيْ فَقَدْ فُزْتُمْ بِسَعَادَۃِ الدَّارَیْنِ“ ”سو اگر تم میری تصدیق کرو تو تم دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔“ ”وَاِنْ تُكَذِّبُوْا۔۔“ اور اگر تم مجھے جھٹلا دو تو نصیحت کے لیے تمہارا یہ بات جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا ؟ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰــغُ الْمُبِيْنُ : اور رسول کے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کا پیغام اس طرح پہنچا دے کہ اس میں کوئی شک باقی نہ رہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دھرائے گا، بیشک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

اَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَــلْقَ۔۔ : ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین کے مطابق یہاں تک ابراہیم ؑ کا اپنی قوم سے خطاب ہے اور یہاں سے آگے اللہ تعالیٰ کا کفار قریش سے خطاب ہے جو ”لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد ”فَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ“ سے پھر ابراہیم ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ جبکہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ”فَمَاکَانَ جَوَابَ“ تک یہ سارا کلام ہی ابراہیم ؑ کا ہے۔ مجھے بھی یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نہ سلسلہ کلام توڑنا پڑتا ہے، نہ مطلب میں کوئی خلل آتا ہے، بلکہ ابراہیم ؑ اپنی قوم کو توحید کے بعد آخرت کے دلائل سنا رہے ہیں جن کے جواب کا ذکر اس آیت میں ہے : (فَمَاکَانَ جَوَابَ۔۔) ویسے ابراہیم ؑ کا یہ خطاب کفار قریش کے بھی عین حسب حال ہے، کیونکہ مشرک اقوام کے عقائد ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ 3 ابراہیم ؑ کی قوم اور کفار مکہ دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے، ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، دوسری آخرت کا انکار۔ پہلی گمراہی کا رد اوپر کی آیات میں آچکا ہے، یہ دوسری گمراہی کا رد ہے۔ 3 ابراہیم ؑ نے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کے لیے خود ان کے وجود کو پیش فرمایا، جس کا مشاہدہ وہ ہر وقت کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس وقت پیدا فرمایا جب کہیں ان کا ذکر تک نہ تھا۔ وجود میں آنے کے بعد وہ سننے دیکھنے والے انسان بن گئے، تو جس نے انھیں شروع میں پیدا فرمایا وہ انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، (”إِنَّ“ تعلیل کے لیے آتا ہے) کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ) [ الروم : 27 ] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”شروع تو دیکھتے ہو، دہرانا اسی سے سمجھ لو۔“
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کردیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کرلو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں آفاق پر غور کا حکم دیا۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور رحم کرتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَّشَاۗءُ۔۔ : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے دلائل کے بعد فرمایا کہ پھر وہ جسے چاہے گا اپنے عدل کے ساتھ عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل کے ساتھ رحم فرمائے گا، البتہ ہر حال میں تمہیں واپس اس کے پاس جانا ہے۔