Ayahs 28:1–2تفسیر سورة القصص
طٰسۗمّۗ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : حروف مقطعات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (1) اور دوسری آیت
کی تفسیر سورة یوسف کی آیت (2) میں دیکھیں۔
Ayah 28:3نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ : ”نَّبَاِ“ اس خبر کو کہتے ہیں جو اہم اور شان والی ہو۔ ”مِن“
بعض کے معنی میں ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ خبر“ کیا گیا ہے۔ شوق دلانے کے لیے قصے کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا، ہم تجھ پر موسیٰ ؑ اور فرعون کے اہم واقعے کا کچھ حصہ حق کے ساتھ، یعنی ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔
لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ :”یعنی مسلمان اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں۔“ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا اور بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو کمزور ہونے کے باوجود فرعون کے مقابلے میں کامیاب کیا، اسی طرح جو مسلمان مکہ میں کمزور اور مغلوب ہیں، یا دنیا کے کسی بھی خطے میں یا کسی بھی وقت مظلوم و مجبور ہوں گے، انھیں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح مدد فرمائے گا، انھیں دشمنوں سے نجات دلائے گا اور ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کرے گا۔
لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ : جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں اس کتاب لا ریب کو صرف متقین کے لیے ہدایت قرار دیا، اسی طرح یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کے قصے کا کچھ حصہ ان لوگوں کے لیے سنا رہے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ سنتے اگرچہ کافر بھی ہیں مگر فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھاتے ہیں۔ جن لوگوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں، انھیں اس واقعے سے بلکہ پورے قرآن سے کچھ حاصل نہیں۔ کچھ حصہ اس لیے فرمایا کہ اس قصے کے بہت سے حصے اس سورت کے بجائے دوسری سورتوں میں ہیں اور قرآن کوئی بھی واقعہ بطور تاریخ پورا بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے صرف وہ حصے بیان کرتا ہے جن کی ضرورت ہوتی ہے۔
3 اس واقعہ کے لیے مزید ملاحظہ کریں سورة بقرہ (رکوع 6) ، اعراف (رکوع 13 تا 16) ، یونس (رکوع 8، 9) ، ہود (رکوع 9) ، بنی اسرائیل (رکوع 12) ، مریم (رکوع 4) ، طٰہٰ (رکوع 1 تا 5) ، مومنون (رکوع 3) ، شعراء (رکوع 2 تا 4) ، نمل (رکوع 1) ، عنکبوت (رکوع 4) ، مومن (رکوع 3 تا 5) ، زخرف (رکوع 5) ، دخان (رکوع 1) ، ذاریات (رکوع 2) اور نازعات (رکوع 1)۔
Ayah 28:4اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ : ”الْاَرْضِ“ سے مراد سرزمین مصر ہے، جس کا قرینہ فرعون کا ذکر ہے، کیونکہ اس کی حکومت صرف مصر میں تھی۔ جو لوگ اسے پوری زمین کا بادشاہ سمجھتے ہیں ان کی بات درست نہیں، کیونکہ ہجرت کے بعد مصر کے قریب ہی مدین پہنچنے پر موسیٰ ؑ اس کی گرفت سے آزاد تھے۔ ”عَلَا“ کا لفظی معنی ہے ”اس نے سر اٹھایا، اونچا بن گیا“ یعنی اپنے اصل مقام بندگی سے اونچا ہو کر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا اور اپنی حقیقت کو بھول گیا۔ ”فِي الْاَرْضِ“ کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ بلندی اور کبریائی تو اس ذات کا لباس ہے جو عرش پر بلند ہے، زمین پر رہنے والے کا حق تو عرش والے کے سامنے پستی اور عاجزی ہے، نہ کہ سرکشی کرتے ہوئے اللہ کے بندوں کو ذلیل و خوار کرنا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا۔
وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا : یعنی اس نے سر زمین مصر کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ واضح رہے کہ فرعون کے زمانے کی تہذیب اور ان کے عقائد بہت حد تک ہندوؤں کی تہذیب اور عقائد سے ملتے جلتے ہیں۔ ہندو بھی چار طبقوں میں تقسیم ہیں، برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ جن میں برہمنوں کو سب پر بالادست رکھا گیا ہے اور شودر کو انسانیت کی حد سے بھی نیچے گرا دیا گیا ہے۔ مصری تہذیب بھی بادشاہ کی خدائی کے ساتھ گائے کی پجاری تھی، ہندوؤں کا بھی یہی حال ہے۔ فرعون مصر نے بھی مصر کے رہنے والوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا تھا اور ان سب کو آپس میں دست و گریبان کر رکھا تھا اور مختلف قسم کی مراعات دے کر یا ان پر ظلم و ستم کر کے انھیں اتنا بےوقعت اور بےبس بنا رکھا تھا کہ وہ کسی بات میں اس سے اختلاف کی جرأت نہیں کرسکتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے اس کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوے کو بھی مان لیا۔ (دیکھیے زخرف : 51 تا 54) آج کل بھی ملکوں اور قوموں کو محکوم رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں کا یہی طریقہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔
يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَةً مِّنْهُمْ : ”أَضْعَفَ یُضْعِفُ“ (افعال) کا معنی کمزور کرنا ہے اور استفعال میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی وہ ان میں سے ایک گروہ کو بہت زیادہ ہی کمزور کر رہا تھا۔ مراد اس سے بنی اسرائیل ہیں، جو یوسف ؑ کے زمانے میں مصر آئے تھے اور مدت تک نہایت شان و شوکت اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے، پھر اللہ کی نافرمانی اور اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مصر کے اصل باشندوں کو جو قبطی تھے، ان پر مسلط کردیا اور اس فرعون نے تو انھیں کمزور اور بےبس کرنے کی انتہا کردی۔ اس نے ایسا بندوبست کیا کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنی اسرائیل غلام اور خدمت گار بن کر۔ چناچہ مشقت کا ہر کام زبردستی ان سے لیا جاتا، مثلاً کھیتی باڑی، عمارتیں بنانے اور نہریں وغیرہ کھودنے کا کام اور گھروں میں خدمت کا کام ان کی عورتوں سے لیا جاتا۔ اس کے علاوہ لڑکوں کو ذبح کرکے عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے زندہ رکھا جاتا۔
يُذَ بِّحُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ : اس حکم کی وجہ اور ذبح کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (49)۔
اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ : ”إِنَّ“ عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے اس ظلم اور سرکشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا کام ہی فساد اور جن کی پہچان ہی مفسدین کے نام سے ہے۔
Ayah 28:5وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : فرعون کے اس ظلم کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح برداشت کرسکتی تھی، خصوصاً جب مظلوم قوم مسلمان بھی ہو۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : (اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ) [ بخاري، الزکاۃ، باب أخذ الصدقۃ من الأغنیاء۔۔ : 1496 ] ”مظلوم کی بد دعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔“ یعنی فرعون تو اس مظلوم قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا تھا، مگر ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں نہایت کمزور کیا گیا۔ احسان وہ عطیہ ہے جو کسی عوض کے بغیر دیا جائے، یعنی بنی اسرائیل پر فرعون سے نجات کی نعمت اور دوسری نعمتیں محض ہمارا احسان اور فضل و کرم تھا۔
وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً : مستضعفین کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کی غیرت جب جوش میں آتی ہے تو وہ ان سے صرف ظلم ہی دور نہیں کرتا، بلکہ انھیں مزید انعامات سے بھی نوازتا ہے۔ چناچہ فرمایا، ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں اور انھیں دین کی پیشوائی کے ساتھ حکومت و اقتدار کے پیشوا بھی بنائیں، تاکہ کسی کو ان پر ظلم کی جرأت ہی نہ ہو۔
وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ : اور انھیں فرعون اور آل فرعون کے غلبے و اقتدار کا اور ان تمام چیزوں کا وارث بنائیں جو وہ چھوڑ کر غرق ہونے والے تھے، اور ایسا ہی ہوا۔ دیکھیے سورة اعراف (137) ، شعراء (57 تا 59) اور دخان (25 تا 27)۔
Ayah 28:6وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : ہامان فرعون کا وزیر تھا، جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔ یعنی ہم چاہتے تھے کہ انھیں زمین میں اقتدار بخشیں اور ان کا سِکّہ جما دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے جس خطرے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا کہ کہیں ان کی تعداد اور قوت اتنی نہ بڑھ جائے کہ وہ ہماری حکومت پر قابض ہوجائیں، بنی اسرائیل ہی کے ذریعے سے وہ خطرہ انھیں حقیقت بنا کر دکھا دیں اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اس کے ارادے کو پورا ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ یوسف : 21 ] ”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
Ayah 28:7وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى : ”وحی“ کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ وحی کرنے کا مطلب کوئی بات خفیہ طریقے سے دل میں ڈالنا ہے۔ یہاں کلام کا ایک حصہ محذوف ہے کہ مظلوم بنی اسرائیل پر احسان کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ ان کی نجات کا ذریعہ بننے والے لڑکے کی ماں اس کے ساتھ اس سال حاملہ ہوئی جس میں ان کے لڑکوں کو ذبح کیا جاتا تھا۔ ان کے والد کا نام رسول اللہ ﷺ نے عمران بیان فرمایا ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ۔۔ : 267؍165 ] اس سے پہلے ان کے بھائی ہارون ؑ کی ولادت اس سال ہوچکی تھی جس میں لڑکے قتل نہیں کیے جاتے تھے۔ دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (49) کی تفسیر۔ ان کی والدہ کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا، نہ رسول اللہ ﷺ نے ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ان کا نام ”ایارفت“ اور بعض نے ”لوحا“ بتایا ہے، مگر یہ کسی صحیح حوالے سے ثابت نہیں۔ قرآن ان کا ذکر ”اُمّ موسیٰ“ کے نام سے کرتا ہے۔
3 یہاں اللہ تعالیٰ نے ”اَوْحَيْنَآ“ میں اور آگے آنے والے الفاظ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ شاہی حکم عموماً جمع کے صیغے سے جاری ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ملک الملوک اور شہنشاہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری قدرت و حکمت کے نتیجے میں ہوا، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔
3 وحی کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ اُمّ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کس طرح کی، اس کی صراحت نہیں فرمائی۔ انھیں الہام کیا (ان کے دل میں ڈالا) یا انھیں خواب دکھایا، بہر حال یہ وحی انھیں چند باتیں بتانے کے لیے تھی، نبوت کی وحی نہیں تھی۔ کیونکہ اس بات پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ موسیٰ ؑ کی والدہ نبیہ نہیں تھیں، کیونکہ تمام انبیاء مرد تھے۔ (دیکھیے انبیاء : 7) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان کے پاس فرشتہ آیا، اس صورت میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فرشتے تو بعض اوقات غیر انبیاء کے پاس بھی آجاتے ہیں، جیسا کہ مریم بنت عمران [ کے پاس بھی فرشتہ آیا اور انھیں مسیح ؑ کی ولادت کی بشارت دی۔ (دیکھیے مریم : 16 تا 21) صحیح بخاری (3464) اور صحیح مسلم (2964) میں گنجے، کوڑھی اور نابینے شخص کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور ان سے ہم کلام ہوا۔ سنن کبریٰ بیہقی کی صحیح حدیث (9110) میں ہے کہ فرشتوں نے عمران بن حصین ؓ کو سلام کیا، لیکن اس سے وہ نبی نہیں بن گئے۔
اَنْ اَرْضِعِيْهِ : اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے بچے کو کچھ مدت تک دودھ پلا، تاکہ اس کی ابتدائی غذائی ضرورت پوری ہوجائے، کیونکہ ماں کے دودھ سے بڑھ کر کوئی چیز وہ ضرورت پوری نہیں کرسکتی، اور جسم کچھ مضبوط ہوجائے، جو آخری مرتبہ دودھ پلا کر دریا میں ڈالنے سے لے کر دایہ کا دودھ ملنے تک کا وقفہ برداشت کرسکے۔ ”اسے دودھ پلا“ کے ضمن میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ اتنی مدت تک اسے ہر حال میں چھپا کر رکھ، کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ حمل کی پوری مدت، پھر ولادت کے وقت، حتیٰ کہ کچھ عرصہ دودھ پلانے تک فرعون کی مقرر کردہ دایوں اور اس کے جاسوسوں کو اس معاملے کی خبر نہ ہو سکنا اللہ تعالیٰ کا معجزانہ انتظام تھا، جس کا ذکر سورة طٰہٰ (39) میں ”وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ“ کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ دودھ پلانے کا یہ عرصہ کتنا تھا ؟ تین ماہ یا چھ ماہ یا سال، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، کیونکہ صحیح ذریعے سے اس کی تعیین ثابت نہیں۔
فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ : اس کی تفصیل سورة طٰہٰ (38 تا 40) میں ہے۔
وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ : خوف آنے والے خطرے کا ہوتا ہے اور غم گزشتہ نقصان کا۔ فرمایا جب تمہیں فرعون کے جاسوسوں کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں پھینک دو اور نہ ڈرو کہ ضائع ہوجائے گا، یا اسے کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ غم کرو کہ میں نے اپنے بچے کو دریا میں کیوں پھینک دیا۔
اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : مفسرین نے اس آیت میں اللہ کے کلام کا اعجاز بیان کیا ہے کہ اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو دو چیزوں کا حکم دیا ہے، یعنی ”اَنْ اَرْضِعِيْهِ“ اور ”فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ“ اور دو چیزوں سے منع فرمایا ہے، یعنی ”ولا تخافی“ اور ”ولا تحزنی“ اور دو چیزوں کا وعدہ فرمایا اور خوش خبری دی ہے، یعنی ”اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ“ اور ”وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ“۔
Ayah 28:8فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ : ”اِلْتَقَطَ“ کا معنی ہے کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا۔ اُمّ موسیٰ کا گھر دریائے نیل کے کنارے پر فرعون کے محل کے بالائی جانب تھا۔ انھوں نے موسیٰ ؑ کو ایک صندوق میں بند کر کے اسے پانی سے محفوظ بنا کر دریا میں ڈال دیا، جو بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا، اس کے لوگوں نے اسے دیکھا تو دریا سے نکال کر فرعون کے پاس لے آئے۔
لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا : اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ۔۔ :”خٰطِـــــِٕيْنَ“ ”أَخْطَأَ یُخْطِئُ“ (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور ”خَطِئَ یَخْطَأُ“ (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا : (نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ) [ العلق : 16 ] ”پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔“ اس کا مصدر ”خِطْأٌ“ (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا) [ بني إسرائیل : 31 ] ”بیشک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اور سورة یوسف میں ہے : (اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ) [ یوسف : 29 ] ”یقیناً تو ہی خطا کاروں سے تھی۔“ ”اِنَّ“ کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ ؑ ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے ؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کردیا اور بنی اسرائیل پر بےپناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ”چوکنے والے“ کیا ہے، مگر ”خَاطِئٌ“ کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔
Ayah 28:9وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّةُ عَيْنٍ لِّيْ وَلَكَ۔۔ : فرعون اور اس کی بیوی نے صندوق کھلوایا تو اس میں سے نہایت خوب صورت اور پیارا بچہ نکلا، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کشش رکھ دی تھی کہ جو دیکھے اس سے محبت کرنے لگے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ) [ طٰہٰ : 39 ]”اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی۔“ مگر جس طریقے سے یہ بچہ آیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی کا بچہ ہے، جس نے ذبح ہونے سے بچانے کے لیے اسے دریا کے حوالے کردیا ہے، اس لیے فرعون اور اس کے خونخوار ساتھیوں نے اصرار کیا کہ اسے ہر حال میں ذبح کیا جائے، مگر فرعون کی بیوی کہنے لگی کہ یہ میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل مت کرو۔ فرعون کی بیوی کا یہ کہنا کہ ”اسے قتل مت کرو“ اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کرنے کے درپے ہوچکے تھے۔
3 رسول اللہ ﷺ نے فرعون کی بیوی کا نام آسیہ بتایا ہے۔ یہ خاتون دنیا کی سب سے بلند مرتبہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیْرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَاءِشَۃَ عَلَی النِّسَاءِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَاءِرِ الطَّعَامِ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و ضرب اللہ مثلا۔۔) : 3411، عن أبي موسیٰ ؓ ] ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی عورتوں پر برتری ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی برتری تمام کھانوں پر۔“ آسیہ[ کے متعلق مزید دیکھیے سورة تحریم (11)۔
عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : اس سے معلوم ہوا کہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ اللہ کی شان دیکھیے کہ ”انا ربکم الاعلی“ کا دعویٰ کرنے والا اولاد کی خواہش رکھنے کے باوجود اولاد حاصل نہیں کرسکا۔ لوگوں کے بنائے ہوئے بہت سے مشکل کشا اور حاجت روا، جن سے لوگ اولاد مانگتے ہیں، دنیا سے بےاولاد ہی رخصت ہوگئے۔ لاہور میں مدفون مشہور بزرگ علی ہجویری کی خود اولاد نہیں تھی، مگر لوگ ہیں کہ انھیں داتا (رازق) اور گنج بخش (خزانے عطا کرنے والا) کہہ کر ان سے مال و اولاد مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
3 آسیہ[ نے موسیٰ ؑ کے متعلق جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ نے اسے سچ کر دکھایا، آپ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی بنے اور اسے وہ نفع پہنچایا جو کم ہی کسی بچے نے اپنی پالنے والی کو پہنچایا ہوگا۔ اگر فرعون بھی یہ الفاظ کہتا تو شاید اسے بھی یہ سعادت مل جاتی، مگر ظالموں کو ایسی ہدایت نہیں ملتی، جیسا کہ فرمایا : وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ) [ البقرۃ : 258] ”اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : یعنی انھیں یہ خیال تک نہ تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ہمارے زوال اور ہماری ہلاکت کا باعث بنے گا۔
Ayah 28:10وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا : اوپر ان کا حال بیان ہوا جنھیں وہ بچہ ملا، اب اس کا حال بیان ہوتا ہے جس سے وہ جدا ہوا۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا : (فَارِغًا مِنْ کُلِّ شَيْءٍ غَیْرِ ذِکْرِ مُوْسٰی)”موسیٰ ؑ کی ماں اتنی بےقرار ہوگئی کہ اس کا دل موسیٰ کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔“
اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِِنَّ“ ہے، جس کا اسم محذوف ہے۔ دلیل اس کی ”لَتُبْدِيْ بِهٖ“ پر آنے والا لام ہے۔ محذوف کو ظاہر کریں تو عبارت ہوگی : ”إِِنَّھَا کَادَتْ لَتُبْدِيْ بِہِ“ یعنی وہ بےقراری کی وجہ سے قریب تھی کہ اس کا معاملہ ظاہر کردیتی کہ ہائے میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا بچہ دریا میں پھینک دیا۔
لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی ہم نے اس سے جو وعدہ کیا تھا کہ ”اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ“ (ہم اسے تیرے پاس واپس لانے والے ہیں) اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لیے ہم نے اس کے دل پر صبر کا بند باندھ دیا اور اس کی ڈھارس بندھا دی، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ قریب تھی کہ بچے کا راز خود ہی فاش کردیتی، مگر ہمارے بند باندھنے کی وجہ سے وہ قائم رہی۔
Ayah 28:11وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ ”قَصَّ یَقُصُّ“ کا معنی بیان کرنا بھی ہے اور پیچھے پیچھے جانا بھی۔ موسیٰ ؑ کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اس سے پہلے موسیٰ ؑ کے ایک بھائی ہارون تھے اور ایک بہن تھی۔
فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : ”عن جنب“ کا معنی ”دور سے“ یا ”جانب سے“ یعنی وہ کنارے پر رہ کر ساتھ چلتی ہوئی دور سے اسے دیکھتی رہی، اس طرح کہ کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس سے اس لڑکی کی دانائی اور ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ ماں نے صرف پیچھے پیچھے جانے کو کہا تھا، یہ اس کی دانش مندی تھی کہ پیچھے کس طرح جانا ہے۔ ایک عرب شاعر نے خوب کہا ہے
إِذَا کُنْتَ فِيْ حَاجَۃٍ مُرْسِلاً
فَأَرْسِلْ حَکِیْمًا وَ لَا تُوْصِہٖ
”جب تم کسی کام کے لیے بھیجو تو دانا آدمی کو بھیجو، پھر اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔“
Ayah 28:12وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ :”الْمَرَاضِعَ“ ”مُرْضِعٌ“ کی جمع بھی ہوسکتی ہے، یعنی دودھ پلانے والیاں اور ”مَرْضَعٌ“ کی بھی جو ظرف مکان ہو تو مراد دودھ پلانے کی جگہ ہوگی، یعنی دودھ کی چھاتیاں اور اگر مصدر میمی ہو تو مراد تمام دودھ ہوں گے، یعنی ہم نے اپنی تقدیر میں طے شدہ حکم کے ذریعے سے موسیٰ ؑ پر تمام دودھ پہلے ہی حرام کردیے تھے، یعنی پینے سے منع کردیا تھا۔ فرعون کی بیوی کو موسیٰ ؑ سے بےپناہ محبت ہوگئی تھی اور وہ ہر قیمت پر ان کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، مگر جو دایہ بھی لائی گئی، موسیٰ نے اس کا دودھ پینے سے انکار کردیا۔ فرعون کی بیوی سخت فکر مند تھی کہ دودھ نہ پینے کی وجہ سے اتنا پیارا بچہ کہیں فوت نہ ہوجائے۔
فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰٓي اَهْلِ بَيْتٍ يَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ۔۔ : موسیٰ ؑ کی بہن اجنبی بن کر یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ جب موسیٰ ؑ کو دودھ پلانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو اس نے موقع پا کر کہا، کیا میں تمہیں ایک ایسے گھر والے بتاؤں جو تمہارے لیے اس کی کفالت کریں گے اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔ یہاں درمیان کی بات چھوڑ دی گئی ہے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے اس سے پوچھا کہ وہ گھر والے کون ہیں ؟ اس نے کہا، میری ماں۔ انھوں نے کہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بچہ تمہارا ہے اور تم اس کے متعلق جانتی ہو۔ اس نے کہا، بلکہ ہم بادشاہ کے خیرخواہ اور مخلص محبت کرنے والے ہیں، اس لیے اس بچے کی خیر خواہی اور خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا، تمہاری اماں کے ہاں دودھ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا، میرا بھائی ہارون پچھلے سال پیدا ہوا ہے اور دودھ پی رہا ہے۔ غرض انھوں نے موسیٰ ؑ کی والدہ کو بلوایا، کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ سلطنت کی ملکہ ہر حال میں اس کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، جوں ہی ماں نے بچے کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی، بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔
Ayah 28:13فَرَدَدْنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ : یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کی ماں سے جو وعدہ کیا تھا کہ اسے تمہارے پاس واپس لائیں گے، اتنی دیر ہی میں پورا کردیا جتنی دیر کوئی بچہ ماں کے دودھ کے بغیر گزار سکتا ہے۔
كَيْ تَــقَرَّ عَيْنُهَا : ”قَرَّ یَقِرُّ (ض، ع) قُرَّۃً وَ قُرُوْرًا“ ”آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔“ تاکہ اس کی آنکھ جو بیٹے کی جدائی میں سکون سے ناآشنا تھی، آنسو بہا بہا کر اور بیدار رہ کر سرخ اور گرم ہوچکی تھی، بیٹے کے واپس ملنے، اسے دودھ پلانے اور اپنے پاس رکھنے سے ٹھنڈی اور پرسکون ہوجائے اور آرام کی نیند سو جائے اور غم زدہ نہ رہے۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اعضا کا درجہ حرارت مختلف رکھا ہے، اس کی جلد کا درجہ حرارت عموماً 370 ہوتا ہے۔ جگر کو کام کرنے کے لیے 400 کے قریب درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ آنکھ کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 90 ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہوجائے تو آنکھ پگھل کر بہ جائے، اس لیے دل کی خوشی کے لیے آنکھ کی ٹھنڈک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ (شعراوی)
3 قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے دودھ پلانے والی عورتوں کے سپرد کردیتے تھے۔ خود ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی۔ اس کے مطابق موسیٰ ؑ کو ان کی والدہ اپنے گھر لے گئیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو واپس لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانے سے ماں کو جو وظیفہ ملتا رہا وہ اس کے علاوہ تھا۔
3 اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ الَّذِيْ یَعْمَلُ وَ یَحْتَسِبُ فِيْ صِنْعَۃِ الْخَیْرِ کَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَھَا) ”وہ شخص جو کام کرے اور اپنے کام میں نیکی کی نیت رکھے، اس کی مثال موسیٰ کی والدہ کی سی ہے، جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔“ مگر ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، البتہ ایک مرسل روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے : (مَثَلُ الَّذِیْنَ یَغْزُوْنَ مِنْ أُمَّتِيْ وَ یَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ یَتَقَوَّوْنَ بِہِ عَلٰی عَدُوِّھِمْ کَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَھَا) ”میری امت کے جو لوگ جنگ کرتے ہیں اور وظیفہ لیتے ہیں، جس کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال ام موسیٰ کی سی ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔“ یہ روایت مرسل (جو ضعیف کی ایک قسم ہے) ہونے کے علاوہ سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ”سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألباني (ح : 4500)“ اس حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے اگرچہ فی نفسہ درست ہے، جو اپنی طرف سے بطور مثال بیان کی جاسکتی ہے، مگر رسول اللہ ﷺ کے ذمے وہی بات لگانے کی اجازت ہے جو آپ سے ثابت ہو، ورنہ ”مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ“ کی وعید کا مصداق بننے کا خطرہ ہے۔
وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اسے پہلے وحی کے ذریعے سے سن کر اللہ کا وعدہ حق ہونے کا علم تھا، تو اب آنکھوں سے دیکھ کر اس کے حق ہونے کا علم ہوجائے۔ پہلے اگر علم الیقین تھا تو اب عین الیقین ہوجائے۔ (بقاعی)
وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جوں ہی کسی کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے بدظن ہوجاتے ہیں اور انھیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں رہتا، حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہوتا ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا وہ آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ پھر بعض اوقات آدمی ایک چیز کو برا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بری ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (216) اور نساء (19)۔
ہاں مشو نومید چوں واقف نہ ای ز اسرار غیب
باشد اندر پردہ بازی ہائے پنہاں غم مخور
”خبردار ! ناامید نہ ہو، کیونکہ تو غیب کے اسرار سے واقف نہیں۔ پردے کے اندر کئی پوشیدہ کھیل ہو رہے ہوتے ہیں، غم مت کر۔“
Ayah 28:14وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسْتَوٰٓى : یہاں ایک لمبی بات حذف کردی گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے رضاعت کے ایام اپنی والدہ کے پاس گزرے، جس سے انھیں اپنے والدین، بھائی بہن اور خاندان سے شناسائی ہوگئی اور آئندہ بھی اس تعلق کی وجہ سے میل جول جاری رہا، جس سے وہ اپنے آبائے کرام ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ اور ان کے دین سے واقف ہوگئے اور بنی اسرائیل کی زبوں حالت پر براہ راست مطلع رہنے لگے۔ رضاعت کے بعد شاہی محل میں منتقل ہونے کے ساتھ ان کی پرورش اور تربیت ایک شہزادے کی حیثیت سے ہوئی، انھیں اس وقت کے تمام علوم و فنون، لکھنے پڑھنے اور جہانبانی کے طریقے سکھائے گئے، جنگ میں درکار عام تربیت اور سپہ سالاری کے لیے خاص تربیت دی گئی۔ ان تمام چیزوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی اور تربیت تھی، جس کے ذریعے سے انھیں آنے والی ذمہ داری کے لیے تیار کیا گیا، حتیٰ کہ وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گئے۔ ”بَلَغَ اَشُدَّهٗ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (22) وہاں یوسف ؑ کے لیے صرف ”بَلَغَ اَشُدَّهٗ“ کا لفظ آیا ہے، جب کہ یہاں موسیٰ ؑ کے لیے ”وَاسْتَوٰٓى“ کا لفظ بھی آیا ہے، یعنی وہ پورے طاقت ور ہوگئے، کیونکہ جسمانی قوت یوسف ؑ میں موسیٰ ؑ جیسی نظر نہیں آتی۔
اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا : ”حُكْمًا“ کا معنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے اور ”عِلْمًا“ سے مراد دنیا اور دین کا علم ہے، یعنی جوان ہونے پر ہم نے انھیں حق و باطل میں فیصلہ کرنے کی اہلیت عطا فرمائی اور دنیا و دین دونوں کا علم عطا فرمایا۔ جس میں سے دنیا کے علوم شاہی محل کے ذریعے سے حاصل ہوئے اور دین کا علم اور اس کا فہم والدہ کے گھر اور خاندان کے ذریعے سے حاصل ہوا۔ بعض مفسرین نے ”حُكْمًا وَّعِلْمًا“ سے مراد نبوت لی ہے، مگر یہاں یہ معنی درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ نبوت تو اس کے دس سال بعد طور پر عطا ہوئی، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : احسان کا معنی نیک کام کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تفسیر ”أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ“ کے ساتھ فرمائی ہے کہ ”اللہ کی عبادت ایسے کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ [ دیکھیے بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل۔۔ : 50 ] احسان کا ایک معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاوضہ کی طلب یا خواہش کے بغیر کسی کے ساتھ نیکی کرنا، جیسا کہ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں نے قارون کو نصیحت کی تھی : (وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) [ القصص : 77 ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔“ فرمایا : ”ہم محسنین کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں“ اس سے معلوم ہوا موسیٰ ؑ احسان کی صفت سے پوری طرح آراستہ تھے، جس کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم و علم عطا فرمایا۔
Ayah 28:15وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا : ”شہر میں داخل ہوا“ سے معلوم ہوا کہ شاہی محلاّت عام آبادی سے باہر واقع تھے، جہاں سے وہ شہر میں داخل ہوئے۔ ”غَفْلَةٍ“ میں تنوین کی وجہ سے ”کسی قدر غفلت“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں ایسے وقت میں آئے جو کسی قدر غفلت کا وقت تھا۔ یہ صبح سویرے یا عشاء کے بعد یا دوپہر کے وقت میں سے کوئی وقت بھی ہوسکتا ہے، مگر غالب یہی ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں، لوگ گرمی کی وجہ سے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول ذکر فرمایا ہے : ”نِصْفُ النَّھَارِ“ ”(یعنی یہ) دوپہر کا وقت تھا۔“ [ ابن أبي حاتم : 16755 ]
فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَـقْتَتِلٰنِ۔۔ : موسیٰ ؑ کو معلوم تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں، وہ قبطیوں کے بنی اسرائیل پر مظالم سے بھی آگاہ تھے اور ہر روز اپنی آنکھوں سے ان مظالم کا مشاہدہ کرتے تھے، اس لیے قدرتی طور پر ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ قوم بھی جانتی تھی کہ وہ ان کے ایک فرد ہیں۔ اب موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ جھگڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک ان کی قوم سے ہے اور دوسرا قبطی ہے، جو ان کے دشمن تھے۔ قبطی حسب عادت غلام سمجھ کر اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا۔ اسرائیلی اگر مقابلہ کرسکتا ہوتا تو اسے مدد مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ بےبس ہوگیا تو اس نے مدد کے لیے موسیٰ ؑ کو آواز دی۔ موسیٰ ؑ طبعی طور پر کمزوروں اور مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ اب ظلم ہوتے دیکھا تو مظلوم کو بچانے کے لیے آگے بڑھے اور قبطی کو ایک گھونسا مارا، جس سے اس کا کام تمام ہوگیا۔ موسیٰ ؑ کا اسے قتل کرنے کا نہ ارادہ تھا نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ وہ ایک گھونسے سے مرجائے گا۔ جب اچانک یہ واقعہ ہوا اور موسیٰ ؑ نے اس کے انجام پر غور کیا کہ ان کے اور ان کی قوم کے حق میں اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، تو وہ سخت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ شیطان کا کام ہے جس نے بڑے فساد کے لیے مجھے غصہ دلا کر یہ کام کروایا ہے۔ وہ تو ایسا دشمن ہے جو کھلم کھلا گمراہ کردینے والا ہے۔
Ayah 28:16قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ۔۔ : گو موسیٰ ؑ نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے، ان کی شان کے لحاظ سے یہ بےاحتیاطی بھی مناسب نہ تھی، اس لیے موسیٰ ؑ نے اسے گناہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی، مگر موسیٰ ؑ اس کے بعد بھی نادم رہے اور قیامت کے دن جب لوگ ان کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کیجیے تو اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے : (إِنِّيْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِھَا) [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا : 194 ] ”میں نے ایک شخص قتل کردیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔“
3 قرآن کے بیان سے ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ سے یہ قتل نا دانستہ ہوا تھا، مگر بائبل موسیٰ ؑ کو قتل عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ چناچہ اس کی روایت ہے کہ ”مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر موسیٰ ؑ نے ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے، تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا۔“ (خروج : 2 : 12) یہ یہود کی ان تحریفات میں سے ہے جن کی اصلاح قرآن نے فرمائی، جو پہلی تمام کتابوں پر مہیمن ہے۔
3 موسیٰ ؑ کی دعا ”اغْفِرْ لِيْ“ میں بخشش کی درخواست کے ساتھ پردہ ڈالنے کی درخواست کا مفہوم بھی شامل ہے۔ ”مِغْفَرٌ“ اس خود کو کہتے ہیں جس کے ساتھ جنگ میں سر ڈھانپتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو معاف فرما دیا اور اس واقعہ پر پردہ بھی ڈال دیا اور اگلے دن پیش آنے والے واقعہ تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ قتل کس نے کیا ہے۔
Ayah 28:17قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ۔۔ : ”بما“ میں باء سببیت کے لیے ہے، یعنی اے میرے رب ! تو نے جو مجھ پر انعام کیا کہ مجھے ہر قسم کی نعمت سے نوازا اور میرے فعل پر پردہ ڈال دیا، اس وجہ سے میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ ممکن ہے موسیٰ ؑ کی مراد مجرم سے وہ اسرائیلی ہو جس کی انھوں نے مدد کی تھی، کیونکہ وہ جرم کا سبب بنا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ موسیٰ ؑ نے ”مجرمین“ سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ مراد لیے ہوں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مجرم تھے اور ان کے اللہ تعالیٰ کے حضور عہد کرنے کا مطلب یہ ہو کہ تو نے جو مجھے نعمت و عزت اور راحت و قوت عطا فرمائی ہے اس کا شکر یہ ہے کہ اسے ان مجرموں کی حمایت و اعانت میں صرف نہ کروں، بلکہ ان سے اپنا تعلق منقطع کرلوں اور اس ظالم حکومت کا کل پرزہ نہ بنوں۔ ابن جریر اور بہت سے دوسرے مفسرین نے موسیٰ ؑ کے اس عہد کا یہی مطلب لیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے بھی اس کے مطابق تفسیر فرمائی ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں کا ساتھ دینے اور ان کا تعاون کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
Ayahs 28:18–19فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ۔۔ : موسیٰ ؑ کے ہاتھوں قبطی قتل ہوگیا تھا، اس لیے انھوں نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ کل کے واقعہ سے خوف زدہ تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کب کوئی انھیں گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے کل ان سے ایک قبطی سے بچانے کے لیے مدد مانگی تھی، وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ جب موسیٰ ؑ وہاں سے گزرے تو اس نے چیخ چیخ کر انھیں مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ موسیٰ ؑ کل کے واقعہ سے آزردہ تھے، اسے کہنے لگے، یقیناً تو کھلا گمراہ شخص ہے، یعنی ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا
رہتا ہے، کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا، آج ایک اور سے جھگڑا مول لیے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کرچکا ہوں، اب تو نے پھر وہی ماحول بنادیا ہے۔ پھر جوں ہی موسیٰ ؑ نے اس قبطی کو پکڑنے کا ارادہ کیا، چونکہ انھوں نے ابھی اسرائیلی کو ڈانٹا تھا، اس لیے وہ موسیٰ ؑ کے تیور دیکھ کر ڈر گیا اور سمجھا کہ وہ اسے پکڑنا چاہتے ہیں۔ اس نے جان بچانے کے لیے کہا، موسیٰ ! تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو ! جیسے تم نے کل ایک بندہ قتل کردیا تھا۔ اس سے پہلے یہ راز موسیٰ اور اسرائیلی کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا۔ قبطی نے یہ بات سنی تو فوراً جا کر فرعون کو اطلاع دی، فرعون شدید غضب ناک ہوا اور اس نے خود اپنے سرداروں کی مجلس بلا کر فیصلہ کیا کہ اب اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے۔ ”فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ“ میں ”ان“ کے فائدے کے لیے دیکھیے سورة یوسف (96)۔
Ayah 28:20وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى۔۔ : ادھر فرعون کے آدمی موسیٰ ؑ کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ادھر مجلس میں موجود ایک شخص فوراً شہر کے سب سے دور کنارے سے گلیوں بازاروں کے قریب ترین راستے سے دوڑتا ہوا آیا اور موسیٰ ؑ سے کہنے لگا، موسیٰ ! سردار تمہیں قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں، اس لیے فوراً یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔
3 سورة یٰس میں ہے : (وَجَاۗءَ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَسْعٰى) [ یٰس : 20 ] جب کہ یہاں ہے : (وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى) مفسرین نے فرمایا، ہر مقام پر وہ لفظ پہلے لایا جاتا ہے جو وہاں اہم ہوتا ہے۔ اس مقام پر اس آدمی کی مردانگی بیان کرنا اہم ہے، اس لیے ”رجل“ کا لفظ پہلے ذکر فرمایا، کیونکہ فرعون کا راز فاش کرنے کے نتیجے سے آگاہ ہونے کے باوجود اس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے موسیٰ ؑ کو یہ اطلاع دی اور یہ کسی مرد ہی کا کام ہوسکتا تھا، پھر یہ بھی اس کی مردانگی تھی کہ بہت دور جگہ سے سرکاری دستے سے پہلے پہنچ گیا۔
3 شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ سنایا ہمارے پیغمبر کو کہ لوگ ان کی جان لینے کی فکر کریں گے اور وہ بھی وطن سے نکلیں گے، چناچہ کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں، اسی رات میں آپ وطن سے ہجرت کر گئے۔“ (موضح)
Ayah 28:21فَخَـــرَجَ مِنْهَا خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ۡ۔۔ :”يَّتَرَقَّبُ ۡ“ ”رَقَبَۃٌ“ سے ہے، گردن پھیرکر ادھر ادھر دیکھنا، انتظار کرنا۔ موسیٰ ؑ کے علم میں یہ بات آئی تو فوراً اکیلے ہی اس شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے انھیں ایسا کوئی سابقہ پیش نہیں آیا تھا، بلکہ وہ شہزادے کی حیثیت سے نہایت خوش حالی کے ساتھ راحت و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اب شہر سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دشمن کی گرفت سے بچتے ہوئے نکلے، اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! جس طرح تو نے میری معجزانہ طریقے سے پرورش فرمائی مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔ ظالم اس لیے فرمایا کہ پہلے بیشمار مظالم کے علاوہ ان کا تازہ ترین ظلم یہ تھا کہ وہ موسیٰ ؑ کے قتل کے در پے ہوگئے تھے، جو صریح ظلم تھا، کیونکہ قتل خطا کی سزا کسی قانون میں بھی قتل نہیں ہے۔
Ayah 28:22وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمائی اور انھیں اس راستے پر ڈال دیا جو مدین کی طرف جاتا تھا۔ مدین خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر ”مقنا“ سے چند میل بجانب شمال واقع تھا، آج کل اسے ”اَلْبِدَعْ“ کہتے ہیں۔ اس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہیں تھی، بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی ساحل، جن پر بنی مدیان آباد تھے، وہ مصری اقتدار سے آزاد تھے، اس لیے موسیٰ ؑ نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رخ کیا، کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا، لیکن وہاں جانے کے لیے انھیں گزرنا بہرحال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا اور مصر کی فوج سے بچ کر نکلنا تھا، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے، جس سے میں صحیح سلامت مدین پہنچ جاؤں۔ (تفہیم القرآن)
3 ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس ؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ ”موسیٰ ؑ مصر سے مدین کی طرف چلے تو ان کے پاس راستے میں سبزی اور درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہ تھی، حتیٰ کہ پاؤں سے ننگے ہوگئے۔ مدین پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاؤں کے جوتے ٹوٹ کر گرگئے۔ جب سائے میں جا کر بیٹھے تو اس وقت وہ ساری مخلوق میں اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے اور حال یہ تھا کہ بھوک سے پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔“
Ayah 28:23وَلَمَّا وَرَدَ مَاۗءَ مَدْيَنَ۔۔ : یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے، جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین ایک قبیلے کا نام بھی ہے، جو مدین بن ابراہیم کی اولاد سے تھا۔ اس لحاظ سے موسیٰ ؑ کا ان سے نسبی تعلق بھی تھا، کیونکہ وہ بھی ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوب ؑ کی اولاد سے تھے۔ (ابن عاشور)
وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ : ”ذَادَ یذُوْدُ ذَوْدًا“ ہٹانا۔ موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ دو عورتیں مردوں سے الگ ایک کنارے پر کھڑی ہیں اور اپنی بھیڑ بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے ہٹا رہی ہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لیے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور پھر گم ہوجائیں۔ اتنی قوت نہ تھی کہ مجمع کو ہٹا دیں یا خود بھاری ڈول نکال لیں۔
قَالَ مَا خَطْبُكُمَا : موسیٰ ؑ کو ان کا حال دیکھ کر رحم آیا اور ان سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو، پانی کیوں نہیں پلاتی ؟
قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَاۗءُ :”الرِّعَاۗءُ“ ”رَاعِيٌّ“ کی جمع ہے، چرواہے۔ ”أَصْدَرَ یُصْدِرُ“ پانی پلا کر واپس لے جانا۔ انھوں نے کہا، جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں، ہم پانی نہیں پلاتیں، کیونکہ ہمارا باپ بہت بوڑھا اور کمزور ہے، یہاں آنے کے قابل نہیں، نہ وہ پانی نکال سکتا ہے نہ ہم بھاری ڈول نکال سکتی ہیں، چرواہے چلے جائیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم پلا لیں گی، یا بعد میں ڈول میں تھوڑا تھوڑا پانی نکال کر انھیں پانی پلا لیں گی۔ ان عورتوں کا نام مفسرین نے ”صفورا“ اور ”لیا“ بیان کیا ہے، مگر یہ بات کسی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں۔
وَاَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ : ان خواتین کے والد کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ شعیب ؑ تھے۔ اس کی بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مدین کی طرف شعیب ؑ مبعوث ہوئے تھے، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ مدین کے وہ بزرگ جنھوں نے موسیٰ ؑ کی میزبانی کی وہ بھی شعیب ؑ ہی تھے۔ علماء فرماتے ہیں کہ شعیب ؑ کا زمانہ موسیٰ ؑ سے بہت پہلے کا ہے، کیونکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا : (وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ) [ ھود : 89 ] ”اور لوط کی قوم (بھی) ہرگز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔“ اور سب جانتے ہیں کہ لوط اور ابراہیم ؑ ایک زمانے میں ہوئے ہیں اور ابراہیم ؑ موسیٰ ؑ سے صدیوں پہلے گزرے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”اس کی تائید کہ وہ بزرگ شعیب ؑ نہیں تھے، اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اگر وہ شعیب ؑ ہوتے تو غالب گمان یہی ہے کہ قرآن میں ان کا نام مذکور ہوتا۔ بعض احادیث میں موسیٰ ؑ کے قصہ میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے، مگر ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے۔“ (ابن کثیر) بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ”ثیرون“ آیا ہے، ایک جگہ ان کا نام ”رعوائیل“ آیا، دوسری جگہ ”یترو“ آیا ہے اور ایک جگہ ”حوباب“ آیا ہے۔ علمائے اسلام میں سے بعض نے ان کا نام ”یثریٰ“ بیان کیا ہے، مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ بات ثابت شدہ خبر کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی، جو یہاں موجود نہیں۔
Ayah 28:24فَسَقٰى لَهُمَا : پیغمبروں میں فطری طور پر ہمدردی کا بےپناہ جذبہ ہوتا ہے، جیسا کہ اُمّ المومنین خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : (کَلَّا، وَاللّٰہِ ! مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَ تَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوَاءِبِ الْحَقِّ) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي۔۔ : 3 ] ”ہرگز (ایسا) نہیں (ہو گا) ، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بےکسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور بےروز گار کے لیے کام ڈھونڈھتے ہیں اور مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی طرف سے آنے والی مصیبتوں پر مدد کرتے ہیں۔“ موسیٰ ؑ تھکے ماندے اور بھوکے پیاسے تھے، اس کے باوجود انھوں نے ان کی بکریوں کو پلانی پلا دیا۔ ابن کثیر ؓ نے یہاں ابن ابی شیبہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : ”موسیٰ ؑ جب مدین کے پانی پر پہنچے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پایا جو پانی پلا رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہوگئے تو انھوں نے کنویں پر دوبارہ پتھر رکھ دیا، جسے دس آدمی ہی اٹھا سکتے تھے۔ موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو ہٹا رہی ہیں، ان سے پوچھا : ”تمہارا معاملہ کیا ہے ؟“ انھوں نے اپنا ماجرا بیان کیا، تو آپ نے جا کر وہ پتھر اٹھایا اور ایک ہی ڈول نکالا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں۔“ [ ابن کثیر : 6؍227 ] ابن کثیر نے فرمایا : ”اس کی سند صحیح ہے، حاکم نے بھی اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔“
ثُمَّ تَوَلّيٰٓ اِلَى الظِّلِّ : بقاعی لکھتے ہیں : ”پھر جس طرف ان کا رخ تھا اس طرف پیٹھ کر کے سائے کی طرف چلے گئے، تاکہ وہاں آرام کرسکیں اور مخلوق کی خیر خواہی اور مدد کے بعد خالق کی طرف متوجہ ہوئے۔ ”الظِّلِّ“ کو معرفہ اس لیے ذکر فرمایا کہ جہاں لوگ کثرت سے آتے جاتے ہوں وہاں سائے کی موجودگی انوکھی نہیں، بلکہ جانی پہچانی بات ہے، خصوصاً جہاں پانی بھی ہو۔“
فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ : اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے موسیٰ ؑ نے اس کی صفات میں سے صفت ”رب“ کے واسطے سے دعا کی، کیونکہ اس وقت ان کا حال صفت ربوبیت سے فریاد کا تقاضا کرتا تھا۔ بھوک اتنی کہ پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔ بےوطنی ایسی کہ کوئی واقفیت نہ کوئی مونس و غم خوار، کوئی گھر نہ ٹھکانا، دشمن کے تعاقب کا مسلسل خوف، غرض ہر لحاظ سے فقر ہی فقر۔ ایسی حالت میں انھوں نے کسی مخلوق کے ساتھ شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنے رب ہی کی جناب میں درخواست پیش کی کہ اے میرے پالنے والے ! میں تو جو خیر بھی تو میری طرف نازل فرمائے اس کا محتاج ہوں۔ ”نازل فرمائے“ کا لفظ اس لیے بولا کہ آدمی کو جو کچھ ملتا ہے آسمان سے آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ) [ الذاریات : 22 ]”اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کی یہ دعا نہایت جامع دعا ہے، دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں جو اس میں نہ آگئی ہو۔ طویل سفر کے بعد غربت اور فقر و فاقہ کی حالت میں عجزو انکسار سے بھری ہوئی یہ جامع دعا موسیٰ ؑ کے لبوں سے نکلی تو ساتھ ہی قبولیت کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔