Ayah 27:1طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ : یہاں قرآن کا ذکر پہلے ہے جب کہ سورة حجر میں اس کے برعکس کتاب کا ذکر پہلے ہے، وہاں فرمایا : (الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ) [ الحجر : 1 ] ”۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔“ یہ فرق کیوں ہے ؟ ابو حیان اور زمخشری کے مطابق یہ فرق ظاہر نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض معطوف علیہ اور معطوف ایسے ہوتے ہیں جن میں سے کسی کو پہلے ذکر کرنے کی کوئی وجہ ترجیح نہیں ہوتی، جسے چاہو پہلے ذکر کر دو اور جسے چاہو بعد میں، جیسا کہ ”وَقُوْلُوْا حِطَّةً“ اور ”وَادْخُلْوْا الْبَابَ سْجَّداً“ میں ہے۔ قرآن اور کتاب کے عطف کا معاملہ بھی یہی ہے، جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں جن میں معطوف علیہ کو پہلے لانے کی وجہ ظاہر ہوتی ہے، جیسے : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ) [ آل عمران : 18 ]”اللہ نے گواہی دی کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ابن عاشور نے ایک وجہ ترجیح بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سورة حجر میں اس آیت کے بعد کفار کے قیامت کے دن حسرت و افسوس کا ذکر ہے، جب کہ یہاں اس کے بعد ایمان والوں کے لیے اس کے ہدایت اور بشارت ہونے کا ذکر ہے۔ کفار کو چونکہ قرآن پڑھنے سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے وہاں کتاب کا ذکر پہلے فرمایا، کیونکہ کتاب تو ہر حال میں ان پر حجت ہے۔ مومنین کا تعلق قرآن لکھنے سے زیادہ پڑھنے کے ساتھ ہے، اس لیے یہاں قرآن کا ذکر پہلے فرمایا۔ (التحریر والتنویر)
Ayahs 27:2–3هُدًى وَّبُشْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی ابتدائی آیات (2 تا 4) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 27:4اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ۔۔ : اہل ایمان کے لیے قرآن کے ہدایت اور بشارت ہونے کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، کہ ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزیّن کردیے ہیں، یعنی انھیں ان کے کفر کی یہ سزا دی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) [ الأنعام : 110 ] ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں گے۔“ یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا ہی میں مگن ہوگئے اور اسی کو اپنی تمام کوششوں کا مرکز سمجھنے لگے، گویا آخرت پر ایمان نہ لانے کی یہ سزا ملتی ہے کہ انسان اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ هُزُوًا) [ الکہف : 103 تا 106 ] ”کہہ دے کیا ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ بیشک وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے، سو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ یہ ان کی جزا جہنم ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنایا۔“
Ayah 27:5اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْعَذَابِ۔۔ : یہ برا عذاب دنیا میں بھی ہے کہ اموال و اولاد کے باوجود انھیں قناعت اور سکون قلب میسر نہیں، فرمایا : (وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى) [ طٰہٰ : 124 ] ”اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔“ بلکہ وہ اموال و اولاد ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) [ التوبۃ : 55 ] ”سو تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“ اس کے علاوہ بھی یہ عذاب مختلف افراد اور اقوام پر مختلف صورتوں میں آتا ہے۔ بیماریاں، فقر، بدامنی، قتل و غارت اور دشمن کا غلبہ، غرض عذاب کی بیشمار صورتیں ہیں، پھر موت کے وقت فرشتوں کے ہاتھوں عذاب اور برزخ کے عذاب کا مرحلہ ہے اور آخرت کے عذاب کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے والے قرار دیا۔
Ayah 27:6وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ۔۔ : ”مِنْ لَّدُنْ“ (کے پاس سے) کے لفظ سے قرآن مجید کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدّتِ اتصال بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے عطا کر رہا ہے۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں کہ جس کا علم ناقص ہو، یا جو معاملات کی حکمت سے نا آشنا ہو، بلکہ یہ ایک کمال حکمت والے ہر چیز کا علم رکھنے والے نے اپنے پاس سے تجھے عطا کیا ہے، جس کا ہر کام اور ہر حکم حکمت سے بھرا ہوا ہے اور جسے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اس لیے نہ اس کی کوئی خبر غلط ہوتی ہے اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی غلطی ہوتی ہے۔
حَكِيْمٍ عَلِیْمٍ : دونوں صفات کا گزشتہ آیات سے بھی تعلق ہے اور آئندہ انبیاء کے قصوں کے ساتھ بھی کہ ان انبیاء کی بعثت، ان پر گزرنے والے واقعات اور آپ کی طرف ان کی صحیح ترین صورت میں وحی اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا اظہار ہے۔ یہ دونوں الفاظ مبالغہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کو نکرہ لانے سے مزید مبالغہ پیدا ہوگیا ہے، یعنی ایک انوکھے کمال حکمت و علم رکھنے والے کے پاس سے۔
Ayah 27:7اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا : ”تَصْطَلُوْنَ“ ”صَلِيَ یَصْلٰی“ (ع) سے باب افتعال ہے۔ اصل میں ”تَصْتَلِیُوْنَ“ تھا، تاء کو طاء سے بدل دیا اور یاء حذف ہوگئی۔ ”شِھَابٌ“ شعلہ یا انگارا۔ ”قَبَسٍ“ (کسی آگ سے) سلگایا ہوا۔ ان آیات کی تفسیر سورة اعراف میں اور سورة طٰہٰ کی ابتدا میں گزر چکی ہے، یہاں صرف اس مقام سے متعلق چند باتیں ذکر ہوں گی۔ ”اِذْ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ محذوف ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا۔ اس کی طرح تجھے بھی کسی پیشگی علم یا توقع کے بغیر وحی عطا کی گئی ہے۔ (دیکھیے قصص : 86) اور اس کے بعد ذکر کردہ انبیاء اور ان کی اقوام کے قصوں میں تیرے اور تیری قوم کے لیے بہت سا علم و حکمت کا سامان موجود ہے۔
Ayah 27:8فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ۔۔ : موسیٰ ؑ جب اس آگ کے پاس آئے تو انھیں آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے۔ یہاں سوال ہے کہ ”مَنْ فِي النَّارِ“ (وہ جو آگ میں ہے) سے مراد کون ہے ؟ اور ”مَنْ حَولَھَا“ (جو اس آگ کے اردگرد ہے) سے مراد کون ہے ؟ بعض مفسرین نے ”مَنْ فِی النَّارِ“ سے مراد موسیٰ ؑ لیے ہیں اور کہا ہے کہ موسیٰ ؑ آگ کے قریب تھے، اس لیے ان کو ”مَنْ حَولَھَا“ کہہ دیا گیا اور ”مَنْ فِي النَّارِ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ بعض نے ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ ؑ اور فرشتوں کے لیے سلام کے قائم مقام قرار دیا ہے، جس طرح فرشتوں نے سارہ[ کو ”رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ“ کہا تھا۔ صاحب ”مواہب الرحمان“ فرماتے ہیں، یہ تکلف سے خالی نہیں۔ زمخشری اور ان کے ہم خیال حضرات نے ”ۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ“ کا معنی ”بُوْرِکَ فِيْ مَکَان النَّارِ“ کیا ہے، یعنی آگ کی جگہ بابرکت ہے اور اس کے اردگرد کی جگہ، یعنی سارا ملک شام بابرکت ہے۔ مگر ”مَن“ ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس سے مکان مراد لینا بعید بات ہے۔ سب سے ظاہر بات وہ ہے جو عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ سے نقل کی ہے، انھوں نے فرمایا : ”نُوْرُ اللّٰہِ بُوْرِکَ“ یعنی اللہ کا نور بابرکت ہے۔ عبد الرزاق ہی نے حسن کا قول نقل کیا ہے کہ ”مَنْ فِي النَّارِ“ سے مراد نور ہے اور ”مَنْ حَولَھَا“ سے مراد فرشتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات پاک جو اس آگ میں ہے اور وہ فرشتے بھی جو اس کے ارد گرد ہیں۔ اس معنی کی تائید اگلی آیت میں مذکور الفاظ ”يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ“ سے بھی ہوتی ہے۔ یہ آگ جو موسیٰ ؑ کو نظر آئی اللہ تعالیٰ کی ذات کا نور نہیں تھی بلکہ نور یا نار کا وہ پردہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے چہرے کا حجاب ہے۔ یہ تفسیر عبداللہ بن مسعود ؓ کے بیٹے ابوعبیدہ نے اللہ تعالیٰ کے نور کے پردوں والی حدیث بیان کرتے ہوئے زیر تفسیر آیت کی تلاوت کرکے فرمائی ہے۔
صحیح مسلم میں ابو عبیدہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِيْ لَہُ أَنْ یَّنَامَ ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہُ ، یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّھَارِ ، وَ عَمَلُ النَّھَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّیْلِ ، حِجَابُہُ النُّوْرُ وَفِيْ رِوَایَۃِ أَبِيْ بَکْرٍ النَّارُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ) [ مسلم، الإیمان، باب في قولہ ؑ إن اللہ لا ینام۔۔ : 179 ] ”اللہ عز و جل سوتا نہیں، نہ ہی سونا اس کے لائق ہے۔ وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل اس کی طرف دن کے عمل سے پہلے اوپر لے جایا جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں (نور کی جگہ) نار ہے۔ ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں اس کی مخلوق میں سے ان سب چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ ابوعبیدہ نے یہ حدیث بیان کر کے یہ آیت پڑھی : (فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ مسند أحمد : 4؍400، 401، ح : 19606 ] اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں سورة نمل کی اس آیت کے تحت یہ حدیث بیان فرمائی ہے، جس کے آخر میں ابوعبیدہ نے اس آیت کی تلاوت کی ہے۔ ابن ابی حاتم کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ [ الصحیح المسبور ]
یونانی فلسفے سے متاثر بہت سے مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن و حدیث میں بیان کی گئی بہت سی باتوں کا انکار کردیا، یا ان کی تاویل کی، مثلاً قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے نور یا نار کے پردے میں محجوب رہ کر نزول فرماتا ہے، وہ رات کے پچھلے پہر آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ قیامت کے دن زمین پر نزول فرمائے گا، اس دن اس کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ جب چاہے، جو چاہے، جس سے چاہے کلام کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ ہمارے ان مفسرین نے ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی قرار دے کر ان کا انکار کردیا، یا ان کی ایسی تاویل کی جو انکار سے بھی بدتر ہے۔ ان حضرات نے یہ نہ سوچا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر اللہ کی شان نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ بیان کرسکتے ہیں۔ اس مقام پر ”مَنْ فِی النَّار“ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بجائے موسیٰ ؑ یا کوئی اور مراد لینے کے پیچھے بھی یہی مشکل کار فرما ہے۔
وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : یہ اس بات کی تردید ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے آگ کے حجاب میں نزول کو یا بذات خود کلام کرنے کو اپنے نزول یا کلام کرنے کی طرح سمجھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی یہ بھی مانو کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مگر اس کا سمع و بصر تمہاری مثل نہیں۔
3 بعض حضرات نے اس جگہ کی تعیین کا تکلف کیا ہے، جہاں موسیٰ ؑ کو یہ معاملہ پیش آیا تھا اور انھوں نے عیسائی بادشاہ قسطنطین کے 365 ء میں اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرنے کو بطور دلیل پیش کیا ہے، بلکہ لوگوں کی روایات کو بنیاد بنا کر ایک درخت کو بھی وہ درخت قرار دے دیا ہے جس میں موسیٰ ؑ کو آگ نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں کہ ہم اس جگہ کی تعیین کرسکیں۔ ہدایت کے لیے وہی کافی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرما دیا ہے، اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی تعیین فرما دیتے۔
Ayah 27:9يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : دیکھیے سورة طٰہٰ (14) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی دو صفات بیان فرمائیں، ایک ”عزیز“ اور دوسری ”حکیم“۔ کیونکہ موسیٰ ؑ کو جو عظیم ذمہ داری دی جانے والی تھی اس کے لیے انھیں یہ اطمینان دلانا ضروری تھا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت اس کی شان و شوکت یا قوت و عظمت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انھیں بھیجنے والا اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور جو کمال حکمت والا ہے۔ موسیٰ ؑ کو فرعون کے گھر پرورش دلانے، پھر دس سال بکریاں چروانے اور اندھیری رات میں صحرا میں راستہ بھلا کر اچانک نبوت اور معجزے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجنے میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں۔
Ayah 27:10وَاَلْقِ عَصَاكَ ۭ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ۔۔ : ”جَاۗنٌّ“ اصل میں چھوٹے سفیدسانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (107) اور شعراء (32) میں اس کے لیے ”ثُعْبَانٌ“ کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی بڑا سانپ (اژدہا) ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ شروع میں ”جَانٌّ“ تھا، پھر ”ثُعْبَانٌ“ بن گیا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی، جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔“ (موضح) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سانپ حجم میں اژدہا تھا، مگر تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔
يٰمُوْسٰي لَا تَخَفْ۔۔ : موسیٰ ؑ کے خوف زدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر لوٹنے سے ظاہر ہے کہ انھیں اس سے پہلے نہ اپنے نبی بنائے جانے کا علم تھا، نہ یہ معجزات عطا کیے جانے کا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ بھی پہلی وحی پر سخت خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ”اے موسیٰ ! ڈرو نہیں، رسول میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔“ بعض حضرات نبی ﷺ کو پیدائش سے بھی پہلے عالم الغیب باور کروانے پر اصرار کرتے ہیں۔
Ayah 27:11اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا۔۔ : یعنی میرے حضور ڈرنے کی صرف ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ کسی شخص نے فی الواقع ظلم کیا ہو، اور ظالموں کو ڈرنا ہی چاہیے، لیکن جو شخص ظلم کے بعد توبہ کرلے، برے کاموں کے بعد نیکی کی راہ اختیار کرلے اور اپنا طرز عمل بدل لے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں۔ اس کے بعد ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ غالباً اس میں موسیٰ ؑ کے غلطی سے قبطی کو قتل کرنے کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جسے انھوں نے خود ظلم کہا تھا : (رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ) [ القصص : 16 ] ”اے میرے رب ! یقیناً میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا تھا، فرمایا : (فَغَفَرَلَهٗ) [ القصص : 16 ] ”تو اس نے اسے بخش دیا۔“ اب پھر اس مغفرت کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ جب میں تمہیں معاف کرچکا تو تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔
Ayah 27:12وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ : موجودہ تورات کی دوسری کتاب خروج، باب (4) کی آیت (6) میں موسیٰ ؑ کے ہاتھ کو مبروص لکھا ہے۔ قرآن مجید چونکہ کتب سابقہ پر مہیمن (نگہبان) بن کر آیا ہے، جہاں ان میں کوئی غلطی ہو اس کی اصلاح کرتا ہے، اس لیے اس جگہ فرمایا : (مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ) یعنی مبروص نہ تھا۔ (ثنائی)
فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ۔۔ : یعنی یہ دو معجزے ان نو (9) نشانیوں میں سے ہیں، جن کے ذریعے سے میں نے تیری مدد کی ہے۔ ان نو نشانیوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101) بعض نے کہا ہے کہ یہ دو نشانیاں (عصا اور ید بیضا) ان نو (9) نشانیوں کے علاوہ تھیں، اس صورت میں ”فِی“ بمعنی ”مَعَ“ ہوگا اور ترجمہ ہوگا ”نو نشانیوں سمیت۔“ (قرطبی)
Ayah 27:13فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَةً۔۔ :”مُبْصِرَةً“ دکھانے والی، آنکھیں کھول دینے والی، واضح، روشن۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر آیا ہے کہ جب موسیٰ ؑ کے اعلان کے مطابق ان پر کوئی عام عذاب آتا تو فرعون اور اس کے درباری موسیٰ ؑ سے کہتے تھے کہ اپنے رب سے دعا کرکے یہ عذاب ٹلوا دو ، تو تم جو کہتے ہو ہم مان لیں گے۔ مگر جب وہ عذاب ٹل جاتا تو وہ اپنے وعدے سے مکر جاتے۔ ظاہر ہے سارے ملک پر قحط، طوفان، ٹڈی دل اور دوسرے الٰہی لشکروں کا امڈ آنا جادو کا کرشمہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا۔ آنکھیں کھول دینے والی اتنی نشانیاں آنے پر بھی انھوں نے انھیں کھلا جادو کہہ دیا۔
Ayah 27:14وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ۔۔ : ”أَیْقَنَ یُوْقِنُ“ کا معنی بھی یقین کرنا ہے، ”اِسْتَیْقَنَ“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی کیا گیا ہے ”اچھی طرح یقین کرلیا۔“ جحود یہ ہے کہ دل سے ایک بات کو درست سمجھتے ہوئے زبان سے اس کا انکار کر دے، یعنی فرعون اور اس کی قوم نے ان معجزوں کے سچا ہونے کے یقین کے باوجود ان کا انکار کردیا۔ یہی بات موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہی تھی : (قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) [ بني إسرائیل : 102 ] ”بلاشبہ یقیناً تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا۔“
ظُلْمًا وَّعُلُوًّا : یعنی پوری طرح یقین کے باوجود ان کے انکار کی دو وجہیں تھیں، ایک ظلم، دوسرا علو۔ ظلم یہ کہ انھوں نے موسیٰ ؑ کو رسول ماننے کے بجائے جھوٹا کہہ دیا، بلکہ جادوگر قرار دے دیا اور علو کا بیان ان آیات میں ہے : (ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ڏ بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ) [ المؤمنون : 45 تا 47 ] ”پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور واضح دلیل دے کر بھیجا۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔ تو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔“
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ : اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور آپ کو جھٹلانے والوں کے لیے وعید ہے۔ ”فَانْظُرْ“ (پس دیکھ) کا مخاطب ہر شخص بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 27:15وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا : موسیٰ ؑ اور فرعون کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ملتا ہے جنھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کیا، جیسے ابو لہب اور ابوجہل وغیرہ اور سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ہے جو حق واضح ہونے پر ایمان لے آئے اور فرعون کے طرز عمل کے برعکس ان کی سلطنت ان کے لیے حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنی۔ یہی حال رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں کا تھا۔ یمن کا بادشاہ نجاشی ہو یا سرداران قریش میں سے ایمان لانے والے ہوں، یا مدینہ کے اوس و خزرج کے سردار۔
”عِلْماً“ کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ مراد پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”ہمیں ان دو پیغمبروں کے سوا کسی کے متعلق معلوم نہیں کہ ان کو یہ علم دیا گیا ہو۔“ اور یہ تنوین تعظیم کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یعنی ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان علم عطا کیا، جس میں نبوت و حکمت، قضا و سلطنت، پرندوں کی بولی اور سائنس کے علوم شامل تھے۔ جن کی بدولت ان کے زمانے میں ان کی سلطنت برّی، بحری اور فضائی اعتبار سے اپنے دور کی سب سے طاقت ور حکومت تھی، بلکہ سلیمان ؑ کو تو وہ حکومت عطا کی کہ قیامت تک آنے والی کوئی سلطنت بھی ان کی سلطنت جیسی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ) [ صٓ : 35 ] ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“
وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ۔۔ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا حصہ تھا کہ ان تمام نعمتوں پر مغرور ہونے کے بجائے انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور اس کا شکر ادا کیا۔
الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰي كَثِيْرٍ۔۔ : ”جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی“ سب پر فضیلت کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کہ موسیٰ ؑ کو اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا تھا اور داؤد اور سلیمان ؑ جو موسیٰ ؑ کی شریعت پر چلتے تھے، یہ جانتے ہوئے تمام بندوں پر فضیلت کا دعویٰ نہیں کرسکتے تھے اور اس لیے کہ تمام اولاد آدم پر فضیلت تو صرف خاتم الانبیاء ﷺ ہی کو حاصل ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ أَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ) [ مسلم، الفضائل، باب تفضیل نبینا ﷺ علی جمیع الخلائق۔۔ : 2278 ] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی اور پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔“
Ayah 27:16وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ۔۔ : اس سے مراد مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت و سلطنت اور علم و عمل کی وراثت ہے۔ اگر مال و جائداد کی وراثت ہوتی تو وارث کے طور پر صرف سلیمان ؑ کا ذکر نہ ہوتا بلکہ اس میں داؤد ؑ کے دوسرے بیٹے بھی شریک ہوتے۔ علاوہ ازیں اگر ان کے ذاتی اموال کی وراثت ہی مراد ہو تو سلیمان ؑ کا ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کہہ کر سب لوگوں کو بتانا بےمعنی ہوجاتا ہے۔ انبیائے کرام ؑ کے اموال و جائداد کا کوئی وارث نہیں ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ) [ بخاري، الفرائض، باب قول النبي ﷺ لا نورث۔۔ : 6727، عن عائشۃ ] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔“ اور ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَاءِ وَ إِنَّ الْأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْھَمًا، وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ) [ أبوداوٗد، العلم، باب في فضل العلم : 3641، قال الألباني صحیح ] ”یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے ورثے میں دینار و درہم نہیں چھوڑے، انھوں نے صرف علم کا ورثہ چھوڑا ہے، تو جو اسے حاصل کرلے اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کرلیا۔“ مزید دیکھیے سورة مریم (5، 6)۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ : یعنی ہمیں پرندوں کی بولی سمجھنا سکھایا گیا ہے، بلکہ بولنا بھی، جیسا کہ سلیمان ؑ کا ہُد ہُد سے مکالمہ آگے آ رہا ہے، پھر انھیں صرف پرندوں ہی نہیں بلکہ تمام حیوانات کی بولی سکھائی گئی تھی، جیسا کہ چیونٹی کی بات سننے کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ پرندوں کا ذکر اختصار کے لیے ہے، کیونکہ پرندے تمام جانداروں سے زیادہ انسان سے دور رہنے اور بدکنے والے ہیں۔ جب داؤد اور سلیمان ؑ ان کی بولی جانتے تھے تو دوسرے جانوروں کی بولی کا علم تو انھیں بالاولیٰ تھا، جو انسان کے قریب رہتے ہیں۔ تمام جانوروں میں سے پرندوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے بھی ہے کہ وہ ان کی فوج کا باقاعدہ حصہ تھے۔ پرندوں کی بولی کے علم سے مراد اندازوں پر مبنی علم نہیں، جو علم الحیوانات کے ماہرین ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ مراد واضح طور پر ان کی باتوں کو سمجھنا ہے، جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ خاص معجزہ تھا۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ :”كُلِّ شَيْءٍ“ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اس میں علم و نبوت، مال و حکمت حتیٰ کہ جنوں، انسانوں، پرندوں، حیوانات اور ہوا وغیرہ کی تسخیر سبھی چیزیں شامل ہیں۔ (شوکانی) یہاں ”كُلِّ“ کا لفظ کثیر کے معنی میں ہے، جیسا کہ ہُد ہُد نے ملکہ سبا کے متعلق کہا تھا : (وَاُوْتِیَت مِنْ كُلِّ شَيْءٍ) [ النمل : 23 ]”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ اسے ہر چیز میں سے حصہ تو نہیں ملا تھا، اور جیسا کہ قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا : (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۢ بِاَمْرِ رَبِّهَا) [ الأحقاف : 25 ] ”وہ (آندھی) ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“
اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ : فضل کا معنی برتری ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا کرنے کے لیے بیشمار انسانوں میں سے ہمیں منتخب فرمایا، یقیناً یہ واضح برتری ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ یہ بتانے سے سلیمان ؑ کا مقصد فخر کا نہیں بلکہ شکر کا اظہار تھا۔ اس کے علاوہ لوگوں کو یہ بات بتانا ان کی ذمہ داری تھی، تاکہ لوگ ان کی قدر پہچانیں اور ان کی اطاعت کریں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ) [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بني إسرائیل : 3148، قال الألباني صحیح ] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں۔“
Ayah 27:17وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ۔۔ : ”فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ“ اگر ”وَزَعَ یَزَعُ“ بروزن ”وَضَعَ یَضَعُ“ سے ہو تو اس کا معنی روکنا ہے اور اگر ”أَوْزَعَ یُوْزِعُ“ (افعال) سے ہو تو اس کا معنی تقسیم کرنا ہے۔ (قاموس) اس میں سلیمان ؑ کی اس خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے جس میں وہ پوری انسانی تاریخ میں منفرد ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں ہی پر نہ تھی، بلکہ جنّات، حیوانات اور پرندے حتیٰ کہ ہوا تک ان کے تابع فرمان تھی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ کے تمام لشکروں یعنی انسانوں، جنوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اہتمام جہاد فی سبیل اللہ ہی کے لیے کیا جاتا تھا، تاکہ ساری دنیا میں اللہ کا دین غالب اور اس کا بول بالا ہوجائے۔ اس کی دلیل آگے آرہی ہے کہ کس طرح ملکہ سبا اور اس کی قوم کے شرک کا علم ہونے پر سلیمان ؑ نے اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا اور حکم عدولی کی صورت میں اسے اپنے لشکروں کی دھمکی دی، فرمایا : (فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا) [ النمل : 37 ] ”اب ہر صورت ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہیں۔“
فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ : یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، مثلاً جنوں کا گروہ الگ، انسانوں کا گروہ الگ اور پرندوں کا گروہ الگ، پھر فوجی ترتیب کے مطابق ان کی تقسیم کی جاتی، مثلاً دس دس آدمیوں پر ایک امیر، پھر سو آدمیوں پر امیر، پھر ہزار پر۔ غرض تمام لشکر بہترین تقسیم کے ساتھ مرتب تھے، جس سے نہایت مختصر وقت میں ان کا جائزہ بھی لیا جاسکتا تھا اور جنگی احکام پر عمل درآمد بھی ہوجاتا تھا۔
Ayah 27:18حَتّىٰٓ اِذَآ اَتَوْا عَلٰي وَاد النَّمْلِ۔۔ : اس آیت سے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں : 1 چیونٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کا شعور بخشا ہے، چناچہ وہ بستیوں کی صورت میں رہتی ہیں۔ ان کی باقاعدہ ایک ملکہ ہوتی ہے، جس کے احکام کے تحت وہ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان کی بستیوں کے اندر حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ مکانات، ان کی دہلیزیں، چھتیں، راستے، غرض سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے غذا جمع کرتی ہیں اور اسے ایسے طریقے سے محفوظ کرتی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، چناچہ وہ غلے کے ہر دانے کو کاٹ کر دو حصوں میں کردیتی ہیں، تاکہ وہ نمی سے اگ نہ جائے۔ ان میں پہرے دار، لڑاکا دستے، خوراک جمع کرنے والے اور صفائی کرنے والے، غرض ہر طرح کے مجموعے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ وادی جس پر سے سلیمان ؑ گزرنے والے تھے ایسی ہی وادی تھی جس میں چیونٹیوں کی بستیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا محل وقوع بیان نہیں فرمایا، نہ ہدایت کے مقصد کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ مفسرین میں سے کوئی وہ وادی شام میں بیان کرتا ہے، کوئی طائف میں۔ اصل مقام کوئی بھی نہیں جانتا۔ 2 سلیمان ؑ کے اس وادی کے قریب آنے پر ایک چیونٹی نے کہا : ”اے چیونٹیو ! اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس بظاہر حقیر سی مخلوق کا ایک فرد اپنی ساری قوم کے لیے فکر مند ہے اور انھیں بچنے کی تدبیر سے آگاہ کر رہا ہے۔ یہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔ جب کسی قوم کے افراد صرف اپنی فکر میں پڑجائیں تو اس قوم کو ذلت اور بربادی سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی، جیسا کہ اس وقت امت مسلمہ کے اکثر افراد کا حال ہوچکا ہے۔
3 سلیمان ؑ کا عالم الغیب نہ ہونا چیونٹیوں کو بھی معلوم تھا، چناچہ اس چیونٹی نے کہا، کہیں سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں، جب کہ وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔ 4 اس میں سلیمان ؑ اور ان کے لشکروں کی تعریف بھی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے کبھی زیادتی نہیں کرتے، لاعلمی میں کوئی ان کی یلغار میں کچلا جائے تو الگ بات ہے۔ اصحاب رسول ﷺ کی بھی یہی شان تھی، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَاۗءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَـــطَــــُٔوْهُمْ فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ) [ الفتح : 25 ] ”اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کردیا جاتا)۔“ 5 اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام راستے پر چلنے والوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ چیونٹیوں وغیرہ کو بچائیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنا بچاؤ خود کریں۔ 6 یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ پرندوں کے علاوہ دوسرے جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے، یہ ان کا معجزہ تھا۔ 7 چیونٹی کی آواز آدمی کو سنائی نہیں دیتی، سلیمان ؑ نے سن لی، یہ چیونٹی کی بولی سمجھنے کے علاوہ مزید معجزہ ہے۔ 8 معجزات کے بعض منکروں نے لکھا ہے کہ ”وادی النمل“ بنو نمل قبیلے کا مسکن تھی اور یہ نملہ چیونٹی نہیں تھی بلکہ اس قبیلے کا ایک آدمی تھا۔ مگر یہ قرآن کی بدترین تحریف ہے، کیونکہ چیونٹی کے قول ”وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ“ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عام چیونٹیاں تھیں جو زمین پر رینگتی پھرتی ہیں، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی لشکر انسانوں سے بھری ہوئی وادی کو کچلتا ہوا گزر جائے اور اسے پتا ہی نہ چلے۔ علاوہ ازیں اس صورت میں آیت کا اس علم سے کوئی تعلق نہیں رہتا جس کے عطا ہونے پر سلیمان ؑ اللہ تعالیٰ سے شکر نعمت کی توفیق مانگ رہے ہیں۔ نہ تاریخ میں بنو نمل نامی قبیلے کا کوئی وجود پایا جاتا ہے، نہ عربی زبان میں۔ بنو کلب قبیلے کے آدمی کو کلب یا بنو اسد قبیلے کے آدمی کو اسد کہا جاتا ہے کہ بنو نمل قبیلے کے آدمی کو نملہ کہا جائے ! ! معجزات کے منکروں کی مشکل یہ ہے کہ وہ قرآن کا صاف انکار کرنے کی جرأت نہیں رکھتے، اس لیے اس کے معانی میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 27:19فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا : تبسم بعض اوقات غصے اور ناراضی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ کعب بن مالک ؓ کی حدیث توبہ میں ہے : (تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ) [ بخاري : 4418 ] کہ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے، غصے والے کی طرح مسکرانا۔ تبسم کے بعد ”ضَاحِكًا“ اس لیے فرمایا کہ یہ مسکراہٹ ہنسنے کا پیش خیمہ تھی، جو خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ مسکرانے اور ہنسنے کی وجہ ایک تو چیونٹی کی دانش مندی اور اپنی قوم کی خیر خواہی پر تعجب تھا، دوسری وجہ اپنی نیک شہرت پر خوشی تھی کہ چیونٹیاں تک جانتی ہیں کہ سلیمان دانستہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔
وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ۔۔ : چیونٹی کی آواز سن لینا، پھر اس کی بات سمجھ لینا، پھر اپنی نیک شہرت، یہ سب ایسی چیزیں تھیں کہ سلیمان ؑ کا دل فخر و غرور کے بجائے شکر کے جذبات سے لبریز ہوگیا۔ مگر یہ سوچ کر کہ میں اس نعمت کا اور ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے شکر کی توفیق عطا کرنے کی دعا کی۔ والدین پر نعمت بھی آدمی کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔
وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ : عمل صالح وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ سلیمان ؑ کو علم عطا ہونے پر عمل کی فکر دامن گیر ہوئی، کیونکہ عمل کے بغیر علم انسان کے خلاف حجت ہوتا ہے۔
وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے صالح بندوں میں شمولیت اور جنّت کا حصول اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا : (لَنْ یُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ لَا، وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَۃٍ) [ بخاري، المرضٰی، باب تمني المریض الموت : 5673 ] ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں ؟“ فرمایا : ”نہیں ! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
3 سلیمان ؑ نے نبی ہو کر صالحین میں داخل ہونے کی دعا کیوں کی ؟ دیکھیے سورة یوسف (101)۔
Ayah 27:20وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى۔۔ : اس سے سلیمان ؑ کے کمال احتیاط، نظم و ترتیب اور بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا پتا چلتا ہے، حتیٰ کہ پرندوں میں سے ایک پرندے ہُد ہُد اور ہُد ہُد میں سے ایک خاص ہُد ہُد کی عدم موجودگی بھی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔ خلفائے راشدین ؓ بھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی بہ نفس نفیس خبر رکھتے تھے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ کے حالات، خصوصاً ان کا شام کا سفر اس کی بہترین مثال ہے۔
فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى : یعنی معاملہ کیا ہے، آیا ہُد ہُد یہاں موجود ہے اور مجھے نظر نہیں آ رہا، یا وہ ان میں سے ہے جو غائب ہیں ؟ معلوم ہوا جائزے میں اور بھی کئی لوگ غائب تھے، مگر ان کے متعلق باز پرس کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ ممکن ہے وہ اجازت سے غائب ہوں، یا ان کے تذکرے کی ضرورت نہ ہو۔ اس واقعہ سے انبیاء ؑ کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ اگر سلیمان ؑ کو ہُد ہُد کے متعلق علم ہوتا تو یہ بات نہ کہتے۔
3 اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ سلیمان ؑ نے ہُد ہُد کو اس لیے طلب کیا تھا کہ وہ زمین کے نیچے پانی دیکھ لیتا تھا، مگر یہ بات بےدلیل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ بتادیتا، یا رسول اللہ ﷺ اس کا ذکر فرما دیتے۔ آیت کے الفاظ بھی اس مفہوم کے خلاف ہیں، کیونکہ اس میں ہے کہ سلیمان ؑ نے تمام پرندوں کا جائزہ لیا تو ایک خاص ہُد ہُد (الھدھد) کو غائب پایا۔ اس میں پانی کی ضرورت کے لیے ہُد ہُد کو طلب کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ہُد ہُد کے متعلق سوال کی وجہ لشکر کا جائزہ تھا اور لشکر کا جائزہ مجاہدین کی معمول کی بات ہے۔ علاوہ ازیں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سلیمان ؑ کو ہُد ہُد کی کوئی محتاجی نہ تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنوں اور عفریتوں کی وہ فوج عطا کر رکھی تھی جسے کسی بھی جگہ سے پانی لانا کچھ مشکل نہ تھا (جیسا کہ آنکھ جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت آجانا، اس کی واضح مثال ہے)۔ کوئی قدیم مفسر اس قسم کی کوئی بےسروپا اسرائیلی روایت نقل کردیتا ہے تو بعد والے مفسرین اسے اندھا دھند نقل کرتے جاتے ہیں، یہ سوچتے ہی نہیں کہ اس کا کوئی ثبوت بھی ہے یا نہیں، حتیٰ کہ ایسی بہت سی بےسروپا باتوں کو متفق علیہ حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔ (تفسیر السعدی)
Ayah 27:21لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا۔۔ : ہُد ہُد کا بلا اجازت غائب ہونا صریح نافرمانی تھا، اس لیے سلیمان ؑ نے واضح عذر پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے دو سزائیں سنائیں، ایک ذبح کردینا اور دوسری ذبح سے کمتر کوئی سخت سزا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سلطان کی بلاعذر نافرمانی پر تعزیر ہونی چاہیے، اگر کوئی مجاہد بلا اجازت غائب ہوتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ آیا یہ اس کا معمول ہے یا اتفاق سے ایسا ہوا ہے، پھر معمول ہونے کی صورت میں اس کی غیر حاضری اگر لشکر پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے طرز عمل سے امیر کے احکام کی قدر و قیمت باقی نہ رہنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا جرم بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس موقع کو بھی دیکھا جاتا ہے جس سے وہ غائب ہوا ہے، اگر اس کی ذمہ داری ایسی ہے کہ اس کے غائب ہونے یا سو جانے سے پورے لشکر کی تباہی کا خطرہ ہے تو ایسی کوتاہی معاف کرنے کا مطلب اپنے لشکر کو آپ ہی برباد کردینا ہے۔ اس کے باوجود سلیمان ؑ کا کمال انصاف اور تحمل دیکھیے کہ واضح دلیل پیش کرنے کی صورت میں اس سزا سے مستثنیٰ قرار دیا۔
Ayah 27:22فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ۔۔ : احاطہ کا معنی کسی چیز کا پورا علم اور مکمل معلومات ہوتا ہے۔ ہُد ہُد کو بھی فکر تھی کہ غیر حاضری کی کیا سزا ہوسکتی ہے، اس لیے وہ تھوڑی ہی دیر میں حاضر ہوگیا اور اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرنے لگا۔ سب سے پہلے اس نے سلیمان ؑ کے دل میں اس خبر کا تجسس اور شوق پیدا کیا جو وہ سنانے چلا تھا، چناچہ اس نے کہا کہ میں نے اس بات کی مکمل معلومات حاصل کرلی ہیں جس کی مکمل معلومات آپ کے پاس نہیں اور میں سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ کو سبا کے پورے حالات معلوم نہ تھے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”سلیمان ؑ کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا، اب پہنچا۔“ (موضح) یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی عظیم الشان سلطنت کے باوجود سلیمان ؑ کو سبا اور یمن کا علم کیوں نہ ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ سلیمان ؑ کو یمن کا علم نہ تھا، بات صرف یہ ہے کہ وہ دوسرے علاقوں کے معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کرسکے تھے۔ اس لیے ہُد ہُد نے جو چشم دید حالات بیان کیے، وہ اس سے پہلے انھیں معلوم نہیں ہو سکے تھے۔ ہُد ہُد نے بھی احاطہ علم کی نفی کی ہے، علم کی نفی نہیں کی۔ اس کے علاوہ ہُد ہُد نے عورت کے حکمران ہونے اور اس کی اور اس کی قوم کی آفتاب پرستی کو زیادہ نمایاں کیا، کیونکہ اس کے نزدیک ان میں سے کوئی بات بھی قابل برداشت نہیں تھی۔
3 سلیمان ؑ وہ عظیم پیغمبر تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا) [ النمل : 15 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے داؤد اور سلیمان کو ایک علم دیا۔“ ان کے مقابلے میں علمی لحاظ سے ہُد ہُد کی کوئی حیثیت نہ تھی، اس کے باوجود ہُد ہُد نے دعوے سے کہا کہ میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا۔ سلیمان ؑ اس پر نہ ناراض ہوئے، نہ اسے گستاخ قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا ایک کم مرتبہ شخص کو کوئی ایسی بات معلوم ہوسکتی ہے جو اس سے عالی مرتبے والے کو معلوم نہ ہو، مثلاً یہ مسئلہ کہ اجازت تین دفعہ مانگی جاتی ہے، اس کے بعد واپس چلے جانا چاہیے، عمر ؓ کو معلوم نہ تھا، ابوسعید خدری ؓ کو معلوم تھا۔ [ دیکھیے أبوداوٗد : 5180 ] جنابت کے لیے تیمم کا مسئلہ عمار بن یاسر ؓ کو یاد رہا، عمر اور ابن مسعود ؓ کے ذہن میں نہ رہا۔ چناچہ وہ جنبی کے لیے تیمم کے قائل نہیں تھے۔ [ دیکھیے بخاري : 346، 347 ] وہ درخت جو مسلم کی مانند ہے، ابوبکر و عمر ؓ اور رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے دوسرے حاضرین کے ذہن میں نہ آیا، ابن عمر ؓ کے ذہن میں آگیا۔ [ دیکھیے بخاري : 61 ] صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے : (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکَاۃَ) یہ حدیث ابن عمر ؓ کو معلوم تھی، ابوبکر و عمر ؓ کو معلوم نہ تھی۔ اس پر حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : ”اس قصے میں دلیل ہے کہ سنت بعض اوقات اکابر صحابہ سے مخفی رہ جاتی ہے اور دوسرے صحابہ اس پر مطلع ہوجاتے ہیں، اس لیے آراء کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، خواہ وہ کتنی قوی ہوں، جب ان کے خلاف سنت موجود ہو اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ سنت فلاں سے کیسے مخفی رہ گئی ؟“ (واللہ الموفق)
[ فتح الباري، الإیمان، باب : (فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ۔۔) ، تحت ح : 25 ]
3 فروہ بن مُسَیْک مرادی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سبا کے بارے میں آیات نازل ہوئیں، (جیسے سبا : 15) تو ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! یہ سبا کیا ہے، کوئی زمین ہے یا کوئی عورت ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَۃٍ وَلٰکِنَّہُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَۃً مِنَ الْعَرَبِ ، فَتَیَامَنَ مِنْھُمْ سِتَّۃٌ وَ تَشَاءَ مَ مِنْھُمْ أَرْبَعَۃٌ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ تَشَاءَ مُوْا : فَلَخْمٌ وَ جُذَامٌ وَ غَسَّانُ وَ عَامِلَۃُ ، وَ أَمَّا الَّذِیْنَ تَیَامَنُوْا فَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَحِمْیَرٌ وَکِنْدَۃُ وَمَذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ، فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَمَا أَنْمَارُ ؟ قَالَ : الَّذِیْنَ مِنْھُمْ خَثْعَمٌ وَبَجِیْلَۃُ) [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة سبا : 3222، قال الألباني صحیح حسن ] ”نہ وہ زمین ہے نہ عورت، بلکہ عرب کا ایک آدمی تھا جس کے ہاں دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں چلے گئے اور چار شام کو چلے گئے۔ جو لوگ شام میں گئے تھے وہ یہ ہیں : لخم، جذام، غسان اور عاملہ اور جو یمن میں گئے تھے وہ یہ ہیں : ازد، اشعرون، حمیر، مذحج اور انمار۔“ اس نے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! انمار سے مراد کون ہیں ؟“ فرمایا : ”وہی جن میں سے خثعم اور بجیلہ ہیں۔“ بعد میں اس قوم کا اور یمن کے اس شہر کا نام بھی سبا پڑگیا، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ یہ شہر یمن کے موجودہ دار الحکومت صنعاء سے تقریباً پچیس میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
3 یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ سلیمان ؑ نبی تھے، مگر یہ ”نَبَأٌ“ (خبر) ان کے پاس نہ تھی۔ ہد ہد نبی نہ تھا، مگر یہ ”نَبَأٌ“ (خبر) اس کے پاس تھی۔ معلوم ہوا نبی کے پاس ہر ”نَبَأٌ“ نہیں ہوتی، نہ وہ عالم الغیب ہوتا ہے، بلکہ اس کے پاس صرف اتنی ”نَبَأٌ“ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اسے بتادے اور صرف کسی ”نَبَأٌ“ سے کوئی شخص نبی نہیں بن جاتا، جب تک اسے وحی الٰہی سے خبر نہ دی جاتی ہو۔ (الشیخ محمد حسین شیخوپوری (رح)
3 اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حکمران کو حالات سے باخبر رہنے کے لیے تمام اطراف میں جاسوس مقرر کرنے ضروری ہیں۔
Ayah 27:23اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ : ہُد ہُد کے لیے یہ بات بڑے تعجب کی تھی کہ کسی قوم کی بادشاہ ایک عورت ہو۔ ابوبکرہ ؓ فرماتے ہیں : ”جب نبی ﷺ کو خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَھُمُ امْرَأَۃً) [ بخاري، المغازي، باب کتاب النبي ﷺ إلٰی کسرٰی و قیصر : 4425، 7099 ] ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنے معاملے کا والی ایک عورت کو بنادیا۔“
وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ : یعنی اسے سلطنت کے لیے درکار ہر چیز دی گئی ہے۔ ”كُلِّ“ کا مفہوم ہر مقام کی مناسبت سے متعین ہوتا ہے، ورنہ اسے ہر چیز تو نہیں دی گئی تھی۔
3 اس عورت کا نام مفسرین نے بلقیس بیان کیا ہے، بعض نے لکھا ہے کہ اس کی ماں جنوں سے تھی، مگر یہ بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، اگر ضرورت ہوتی تو قرآن میں اس کا نام ضرور بیان ہوتا اور انسانوں اور جنوں کی اس رشتہ داری کا ذکر بھی ہوتا۔ یقیناً اس کا نام و نسب ذکر نہ کرنے ہی میں حکمت ہے۔ اس لیے آپ اسے بلقیس کے بجائے ملکہ سبا کہہ سکتے ہیں۔
3 اسرائیلیات میں کس قدر مبالغہ ہوتا ہے، خواہ بیان کرنے والے کتنے ثقہ اور کس پائے کے ہوں، اس کا اندازہ مفسرین کے ان بیانات سے ہوتا ہے جن میں انھوں نے ملکہ سبا کی افواج کی تعداد بیان کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں سے اس کے متعلق تین اقوال ملاحظہ فرمائیں : 1 ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ سلیمان ؑ کے معاملے والی خاتون کے ساتھ ایک ہزار سردار تھے اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو تھے (کل تعداد دس کروڑ ہوئی)۔ 2 مجاہد نے کہا، ملکہ سبا کے تحت بارہ ہزار سردار تھے اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو تھے (کل تعداد ایک ارب بیس کروڑ)۔ 3 قتادہ نے کہا، اس کے مشیر تین سو بارہ آدمی تھے، ہر آدمی دس ہزار پر امیر تھا (کل تعداد اکتیس لاکھ بیس ہزار)۔ ابن کثیر نے فرمایا : ”یہ قول زیادہ قریب ہے، اگرچہ ملک یمن کے لحاظ سے یہ بھی بہت زیادہ ہے۔“
یہ روایات اگرچہ ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ سے آئی ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں۔ ان کا اسرائیلی ہونا ظاہر ہے اور ابن کثیر نے دو لفظوں میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا بیان فرما دیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اتنی فوج تو بہت دور کی بات ہے، آیا اس وقت ملک یمن یا شاید پوری دنیا کی آبادی بھی ایک ارب بیس کروڑ تھی ؟ اس سے پہلے سلیمان ؑ کے لشکروں کی تعداد بھی مفسرین نے اسی انداز سے بیان کی ہے اور کئی مفسرین نے ناقابل اعتبار کہہ کر اسے نقل نہیں کیا۔ بہرحال ”مِنْ كُلِّ شَيْءٍ“ سے یہ ظاہر ہے کہ ملکہ عظیم الشان سلطنت کی مالک تھی اور اسے مال و دولت، افواج اور اسلحہ وغیرہ کی تمام چیزیں میسر تھیں، جو حکومت کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ : ہُد ہُد نے اس کے تخت کا خاص طور پر ذکر کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تخت میں کوئی ایسی خوبی تھی کہ سلیمان ؑ جیسے شان و شوکت والے بادشاہ کے ساتھ رہنے والے ہد ہد نے بھی اسے عظیم قرار دیا۔ یہاں بھی بعض مفسرین نے ایسی اسرائیلی روایات ذکر کی ہیں جو پہلی ہی نظر میں فضول دکھائی دیتی ہیں، مثلاً یہ کہ وہ اسی (80) ہاتھ (120 فٹ) لمبا اور چالیس (40) ہاتھ (60 فٹ) چوڑا تھا۔ بھلا ایک عورت کو بیٹھنے کے لیے اتنے لمبے چوڑے تخت کی کیا ضرورت تھی۔ طبری نے یہاں بہت خوب صورت بات فرمائی ہے کہ عظیم سے مراد یہاں قدر و قیمت میں عظیم ہونا ہے، نہ کہ لمبا چوڑا ہونے میں عظیم ہونا۔
Ayah 27:24وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ۔۔ : یعنی ہر قسم کی نعمت میسر ہونے پر لازم تھا کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی عبادت کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے، مگر میں نے دیکھا کہ اس کے بجائے وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے ہیں اور انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، لہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے۔ یعنی ان کے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں سورج کی پرستش مزین کردی ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں۔ اب غلط راستے پر چلنے والا کوئی شخص یقین کرلے کہ میں صحیح جا رہا ہوں اور غلطی بتانے والے کی دشمنی پر اتر آئے تو وہ کبھی سیدھے راستے پر نہیں آسکتا۔ یہ کہہ کر ہد ہد نے گویا سلیمان ؑ کو اس قوم سے جہاد کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ یہاں اعمال مزین کرنے کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہ میں گناہ کو مزین کرتا ہے۔ دوسری جگہ کفار کے لیے اعمال مزین کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت (4) میں ہے، کیونکہ مخلوق کے ہر عمل کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : (وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ) [ الصافات : 96 ] ”حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔“
Ayah 27:25اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ۔۔ : ”الْخَبْءَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ”اَلْمَخْبُوْءُ“ ہے، چھپی ہوئی چیز، یعنی یہ لوگ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیز نکالتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے۔ ہُد ہُد نے اس بنیادی حقیقت کے ثبوت کے لیے تین عظیم الشان دلیلیں پیش کیں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے، اس کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مخفی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کے عموم میں سورج، چاند، ستارے، سیارے، بارش، ہوا اور بجلی وغیرہ سب ہی داخل ہیں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں میں تمام نباتات، پودے، درخت، دریا، چشمے، زیر زمین پانی، تیل، گیس اور بیشمار معدنیات سب آجاتے ہیں۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ہد ہد کی خوراک عام طور پر وہ کیڑے ہوتے ہیں جو درختوں کی چھال یا زمین کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اس بظاہر معمولی سے پرندے نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل اپنی سمجھ اور تجربے کے مطابق دی کہ عبادت اور سجدے کے لائق وہ اللہ ہے جو ہر مخلوق کو اس کی چھپی ہوئی روزی تک رسائی دیتا ہے۔ سورج جسے اپنی گردش ہی سے فرصت نہیں، نہ اس نے کوئی چیز پیدا کی کہ وہ اسے چھپانے یا ظاہر کرنے کا علم یا اختیار رکھتا ہو، وہ عبادت یا سجدے کے لائق کیسے ہوگیا ؟ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا، نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔“
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ : یہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنے کی دوسری دلیل ہے، یعنی سجدے کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین ہی کی پوشیدہ قوتوں اور چیزوں کو جانتا ہے بلکہ وہ سب کچھ بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو یا پوشیدہ رکھتے ہو۔ سورج یا کسی اور مخلوق کو کسی کے ظاہر یا پوشیدہ حالات کی کیا خبر کہ وہ سجدے کے لائق ہو۔