Ayah 27:55اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً۔۔ : ہمزہ استفہام کے بعد ”إِنَّ“ اور لام کے ساتھ تاکید کا مطلب تعجب کا اظہار ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے کہ تم وہ کام کرتے ہو جو کسی صحیح الفطرت آدمی کے خیال میں بھی نہیں آتا۔
3 پچھلی آیت میں صرف فاحشہ کا ذکر کیا تھا، اب مذمت کی مزید تاکید کے لیے ان کے فعل بد کی تصریح فرمائی کہ تم پاک دامنی اور اولاد کے حصول کے لیے بیویوں کے پاس جانے کے بجائے محض شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ شہوت پوری کرنے کے لیے عورتیں کافی نہیں بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو علم کے بجائے جہل کے اسیر ہو اور اس فعل بد کے انجام سے جاہل ہو کہ دنیا اور آخرت میں اس کا وبال کتنا خوف ناک ہے۔ دنیا میں چند ہی سالوں میں تمہاری نسل ختم ہوجائے گی اور تمہاری عورتوں میں بدکاری پھیل جائے گی۔ جہالت کا ایک معنی سفاہت اور حماقت بھی ہے، کوئی گالی گلوچ اور بےہودہ حرکتیں کرنے لگے تو کہتے ہیں، وہ جہالت پر اتر آیا ہے، جیسے فرمایا : (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) [ الفرقان : 63 ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ مطلب یہ کہ مردوں کے پاس جانا تمہاری کوئی حقیقی ضرورت نہیں، محض سفاہت و حماقت ہے جس کی وجہ سے تم یہ کام کر رہے ہو۔
Ayah 27:56فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ۔۔ : لوط ؑ کی بہترین نصیحت کا جواب ان کے پاس جہالت کے سوا کچھ نہ تھا اور انھوں نے ثابت کردیا کہ لوط ؑ جو انھیں ”قَومٌ تَجْھَلُوْن“ کہہ رہے تھے، درست ہی کہہ رہے تھے۔ چناچہ انھوں نے اتنی سنجیدہ بات کا جواب استہزا اور تمسخر کے ساتھ دیا، جو جاہلوں کا کام ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرمایا تھا : اَعُوْذُ باللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ البقرۃ : 67 ] ”میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں کہ میں جاہلوں سے ہوجاؤں۔“ مزید دیکھیے سورة اعراف (82)۔
Ayahs 27:57–58فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ۔۔ : اس کی تفصیل سورة ہود (81 تا 83) میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سورت میں موسیٰ ؑ کے بعد تین انبیاء سلیمان، صالح اور لوط ؑ کے حالات کا ذکر ہوا ہے اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ ﷺ کے حالات میں مشابہت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤ تو بہتر، ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی تم تاب نہ لا سکو گے۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ صالح ؑ کو ان کی قوم نے بلوے کی صورت میں شب خون مار کر قتل کرنا چاہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دے دی۔ قریش مکہ نے بھی آپ ﷺ سے یہی سلوک کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی سازش سے بال بال بچا لیا۔ لوط ؑ کی قوم کو ان کی قوم نے شہر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں، جب کہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو عملاً شہر سے نکل جانے پر مجبور کردیا۔ (کیلانی)
3 ابو حیان اندلسی نے فرمایا کہ لوط ؑ کے قصے سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ پورے قرآن میں لوط ؑ کے انھیں اس بےحیائی سے روکنے ہی کا ذکر ہے، توحید کی دعوت کا ذکر نہیں، اس کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں، لیکن اس برے کام کی ایجاد اور اپنے رسول کو جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب آیا ہو، جیسا کہ سورة شعراء میں ہے : (كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ) [ الشعراء : 160 ]”لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔“ یا یہ وجہ ہے کہ وہ تھے تو مشرک لیکن جب لوط ؑ نے دیکھا کہ وہ بہیمیت میں بلکہ اس سے بھی نیچے درجے میں گر چکے ہیں، تو ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں انسانیت کے رتبے کی دعوت دی جائے، پھر توحید کی دعوت دی جائے۔ (البحر المحیط)
Ayah 27:59قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : اس آیت کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ؑ کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کے اور انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو نجات دینے کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ کے اس احسان پر ”الحمد للہ“ کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے منکروں کی جڑ کاٹ دی اور اپنے بندوں کو بچا لیا، جیسا کہ فرمایا : (فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۭوَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الأنعام : 45 ] ”تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔“
وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى : اس کا عطف ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ پر بھی ہوسکتا ہے کہ کہو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ اور کہو ”َسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى“ اور ”ۧقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ پر بھی۔ اس صورت میں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے چنیدہ بندوں پر سلام ہے اور یہی راجح ہے۔ یعنی اللہ کے ان بندوں پر سلام ہے جنھیں اس نے نبوت کے لیے یا انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی مدد کے لیے چن لیا اور جو اپنی اقوام کی شدید مخالفت اور بیشمار مصائب کے باوجود حق پر ڈٹے رہے اور حق کا پیغام پہنچاتے رہے۔ اللہ کے ان بندوں میں انبیاء، ان کے صحابہ اور تمام مومن شامل ہیں، جیسا کہ تشہد میں ہے : (اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ)”سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔“
اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ : یعنی اللہ تو وہ ہے جو مجرموں کو سزا دیتا ہے اور اپنے چنیدہ بندوں کو نجات دیتا ہے اور ان پر سلام بھیجتا ہے۔ اب بتاؤ وہ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنھیں لوگوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، جو دوسروں کو نفع یا نقصان تو کجا اپنی حفاظت تک نہیں کرسکتے۔
3 بعض مفسرین نے اس آیت کی پہلی آیات سے یہ مناسبت ذکر فرمائی کہ انبیاء کے قصص سے فارغ ہو کر ”اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ“ سے توحید کا بیان شروع فرمایا اور یہ الفاظ بطور خطبہ ارشاد فرمائے جو بیان شروع ہونے سے قبل کہنے چاہییں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔“ (موضح) چناچہ کلام کا یہی ادب علماء، خطباء اور واعظین کی تحریروں، تقریروں میں اور فتح کی خوش خبری اور کسی نعمت پر مبارکباد کے مکتوبات میں تورات سے چلا آتا ہے کہ ابتدا حمد وسلام سے کرتے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اور مصنّفین اپنی گفتگو یا تحریر کا آغاز اس کلام سے کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے، یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔
”خَيْرٌ“ اسم تفضیل کا صیغہ ہے، جو اصل میں ”أَخْیَرُ“ تھا، زیادہ اچھا، یعنی کیا اللہ بہتر (زیادہ اچھا) ہے یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے معبودوں میں بھی کوئی خیر یا اچھائی ہے، کیونکہ ان میں تو کسی خیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ان پر طنز ہے کہ تم جو ان باطل معبودوں کو پوجتے ہو تو یقیناً ان میں کوئی خیر سمجھ کر ہی پوجتے ہو، مگر یہ بتاؤ کہ تمہارے مطابق بھی بہتر اور زیادہ اچھا کون ہے ؟ یہ ایسا سوال ہے کہ ضدی سے ضدی مشرک بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں، اور یہ مان لینے کے بعد کہ بہتر اللہ تعالیٰ ہے، ان کے شرک کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو سراسر عقل کے خلاف ہے کہ بہتر کو چھوڑ کر کمتر کو اختیار کیا جائے۔
Ayah 27:60اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ”حَدَاۗىِٕقَ“ ”حَدِیْقَۃٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں وہ باغ ہے جس کے گرد دیوار ہو، پھر ہر باغ کو ”حَدِیْقَۃٌ“ کہا جانے لگا۔ ”اَمَّنْ“ کے ”أَمْ“ سے پہلے ہمزہ استفہام والا ایک جملہ مقدر ہے، جو عبارت کے تسلسل سے سمجھ میں آرہا ہے : ”أَيْ أَشُرَکَاءُ ھُمْ خَیْرٌ أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ“ ”یعنی کیا ان کے شریک بہتر ہیں یا وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ؟“ یہاں اللہ تعالیٰ نے پانچ آیات میں اپنی وہ صفات ذکر فرمائیں جو مشرکین مکہ بھی مانتے تھے کہ وہ اللہ کے سوا کسی میں نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ ہر آیت میں چند صفات بیان کر کے فرماتے ہیں کہ جب یہ صفات صرف اللہ کی ہیں تو پھر کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہوسکتا ہے ؟ اس پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفات بیان فرمائیں کہ آسمانوں کا خالق وہ ہے اور زمین کا بھی، پھر آسمان سے بارش برسانے والا اور اس کے ساتھ زمین سے خوش ذائقہ اور خوش منظر باغات اگانے والا بھی وہی ہے۔ مشرکین یہ تینوں باتیں مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ) [ الزخرف : 9 ] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ضرور کہیں گے کہ انھیں سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔“ آسمان و زمین ہی نہیں، خود ان کو پیدا کرنے والا بھی وہ اللہ ہی کو مانتے ہیں، فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ) [ الزخرف : 87 ] ”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔“ اور فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ العنکبوت : 63 ] ”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیاتو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ مطلب یہ ہے کہ تم مانتے ہو کہ یہ سب کچھ کرنے والا وہ اکیلا ہے، کائنات کے اس سارے نظام میں نہ کوئی فرشتہ شریک ہے، نہ کوئی نبی و ولی اور نہ کوئی اور معبود، پھر اس کے ساتھ ان کی عبادت کرتے ہو جن کے متعلق مانتے ہو کہ نہ پیدا کرتے ہیں، نہ رزق دیتے ہیں، تو بتاؤ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہوسکتا ہے جو نہ پیدا کرے نہ روزی دے ؟ اور فرمایا : (اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ) [ النحل : 17 ] ’ تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا ؟ پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔“ عرب کے مشرکین ہی نہیں، دنیا بھر کے مشرکین مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور کائنات کے نظام کو چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے قرآن مجید کے اس سوال کا کوئی ہٹ دھرم سے ہٹ دھرم شخص برائے بحث بھی یہ جواب نہیں دے سکتا تھا کہ ان کاموں میں ہمارے معبود شریک ہیں، اگر کوئی ایسا کہتا تو اس کی قوم کے ہزاروں آدمی اسے جھٹلا دیتے اور کہہ دیتے کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔
مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا : یہ اس خیال کی تردید ہے جو انسان کے ذہن میں آجاتا ہے کہ زمین کو ہم بناتے ہیں، بیج ہم ڈالتے ہیں، پانی ہم دیتے ہیں، غرض یہ باغ اور کھیتیاں اگانے والے ہم ہیں۔ فرمایا، تمہارے بس ہی میں نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگاتے، یہ ہم ہیں جنھوں نے رونق اور خوبی والے یہ باغ اگائے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ) [ الواقعۃ : 63 تا 67 ] ”پھر کیا تم نے دیکھا جو کچھ تم بوتے ہو ؟ کیا تم اسے اگاتے ہو، یا ہم ہی اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کردیں، پھر تم تعجب سے باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ بیشک ہم تو تاوان ڈال دیے گئے ہیں۔ بلکہ ہم بےنصیب ہیں۔“
ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ : نہیں، اللہ کی قسم ! نہیں۔
بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ : ”يَّعْدِلُوْنَ“ ”عُدُوْلٌ“ سے ہے، جس کا معنی ہٹنا ہے، بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو راستے سے ہٹ رہے ہیں۔ یا ”عَدْلٌ“ سے ہے، جس کا معنی برابر کرنا ہے، بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (دوسروں کو) اللہ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پہلے جنھیں مخاطب کیا گیا تھا، یعنی : (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔۔) (اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا۔۔) اب انھیں غائب کے صیغے کے ساتھ ذکر فرمایا : (ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ) (بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو راستے سے ہٹ رہے ہیں) اس سے ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے کہ یہ لوگ خطاب کے قابل نہیں۔
Ayah 27:61اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا : یا کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ مفسر عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اس ایک جملے میں اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں۔ یہ بات تو ہزاروں سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرۂ زمین گول ہے اور فضا میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے اور زمین کے گول ہونے کے باوجود پانی اس سے گر نہیں جاتا۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آسمانی کرہ کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے، جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں، ماسوائے گیسوں اور آبی بخارات کے کہ ان کا کرّہ ہی زمین سے اوپر ہے۔ اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہو، زمین سے بھی نکلے گی تو از خود اوپر اٹھ جائے گی۔ یہ عجائبات ہی کیا کم تھے کہ اب مزید علم ہیئت کی تحقیقات نے ان عجائبات میں بےپناہ اضافہ کردیا ہے، مثلاً یہ کہ ہماری زمین سورج کے سامنے رہتے ہوئے اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے اور اس کا چکر ایک دن رات یا 24 گھنٹوں میں پورا ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین سورج سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کے گرد بھی ایک سال میں ایک گردش پوری کرتی ہے، تو گویا سورج کے گرد اس کی گردش کی رفتار چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ ان دونوں قسم کی گردشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ ہم محسوس تک نہیں کرسکتے، بلکہ آرام سے اس پر چلتے پھرتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ زمین کے جائے قرار ہونے کا ایک مفہوم یہ ہوا اور صحیح احادیث میں وارد ہے کہ ہماری زمین پہلے ان گردشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف اطراف میں پہاڑ ایسی مناسبت سے رکھ دیے کہ ہچکولے کھانا بند ہوگئی اور دوسری تمام اشیاء کے لیے قرار بن گئی۔ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمین ہمیشہ سورج کے سامنے رہتی تو زمین کے نصف حصہ پر تو ہمیشہ دن چڑھا رہتا اور باقی نصف پر ہمیشہ رات ہی رہتی، اس طرح پوری کی پوری زمین نباتات اور سب جانداروں کے لیے بالکل ناکارہ ثابت ہوتی۔ اس لیے کہ نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشو و نما کے لیے جیسے دن کی ضرورت ہے ویسے ہی رات کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رات اور دن کا نظام قائم فرما کر اسے تمام مخلوق کے لیے جائے قرار بنادیا۔ اس کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ زمین سے سورج کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلے سے کم ہوتا تو تمام مخلوق گرمی کی شدت اور تپش سے مرجھا جاتی اور بالآخر ختم یا تباہ ہوجاتی اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا تو اتنی زیادہ سردی ہوتی کہ تمام تر مخلوق سردی سے ٹھٹھر جاتی اور بالآخر تباہ یا ہلاک ہوجاتی۔ اس طرح بھی یہ زمین مخلوق کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی تھی۔ اس کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد 77 ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے گھوم رہی ہے، جس سے ایک تو دن اور رات کے اوقات میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے، کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں بتدریج چھوٹی ہوتی جاتی ہیں اور کبھی اس کے برعکس معاملہ شروع ہوجاتا ہے، پھر اس بنا پر موسموں میں تبدیلی آتی ہے، کبھی موسم گرما ہوتا ہے کبھی سرما، کبھی بہار، کبھی خزاں اور کبھی برسات اور ان موسموں کا مختلف قسم کی اجناس، غلے اور پھل دار درختوں کے پیدا ہونے، ان کی نشو و نما اور فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گہرا تعلق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ نظام قائم نہ فرماتے تو پھر اس زمین پر بسنے والوں کے لیے خوراک کا مسئلہ نہایت پریشان کن صورت اختیار کرسکتا تھا۔ اس صورت میں یہ زمین ہمارے لیے جائے قرار نہ بن سکتی تھی اور اس کا چھٹا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سے اوپر پانچ چھ سو میل کی بلندی تک کثیف ہوا کا کرہ بنا کر زمین کو آفات سماوی یا فضائی سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً دو کروڑ شہاب ثاقب روزانہ 30 میل فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے ہماری زمین کا رخ کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ جب وہ اس کرۂ ہوائی میں پہنچتے ہیں تو انھیں آگ لگ جاتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر بعض اوقات زیادہ بڑی جسامت والا شہاب زمین پر گر بھی پڑتا ہے اور زمین میں گہرا گڑھا ڈال دیتا ہے، لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے، جیسا اللہ کو منظور ہوتا ہے، عام حالات میں ہم ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کے گرد کرۂ ہوائی کا یہ انتظام نہ فرماتے تو زمین کبھی محفوظ جائے قرار نہیں بن سکتی تھی۔ غرض اس مسئلہ کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ جتنا بھی ان میں غور کیا جائے مزید پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کا بھی کچھ دخل ہے، خواہ یہ دخل کتنا ہی معمولی ہو ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کی عبادت میں کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے ؟“ (تیسیر القرآن)
وَّجَعَلَ خِلٰلَهَآ اَنْهٰرًا : نہروں سے مراد تمام ندی نالے اور دریا وغیرہ ہیں، انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے، بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے، باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کرلیتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں۔ سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کرلیتی ہے، یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کرلیتا ہے۔ انھی کے ذریعے سے ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے، یا وقت پر نہیں ہوتی اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لیے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشو و نما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔ (کیلانی)
وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فرقان (53)۔
بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر مشرکین حق کا علم نہیں رکھتے، اس لیے اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حق کا علم رکھتے ہیں، مگر عناد کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے۔
Ayah 27:62اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ۔۔ : اس سے پہلے آفاق میں پائی جانے والی چیزوں کا ذکر تھا، جنھیں مشرکین بھی مانتے تھے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اب خود انسان کی ذات میں پائی جانے والی چند چیزوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ کیا تمہارے معبود بہتر ہیں یا وہ ذات پاک کہ جب تمام سہارے جواب دے جاتے ہیں اور تمہاری مجبوری اور بےچارگی آخری حد کو پہنچتی ہے تو تم بےاختیار اسے پکارتے ہو اور وہ تمہاری فریاد سنتا اور اسے قبول کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ یقیناً وہی بہتر ہے۔ مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے اور یہ بات صرف مشرکین عرب تک ہی محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مشرکین کا عام طور پر یہی حال ہے، کیونکہ یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، حتیٰ کہ روس کے دہریے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں اور جنھوں نے باقاعدہ اللہ کے وجود اور اس کی عبادت کے خلاف مہم چلا رکھی ہے، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہوگیا، تو انھیں اللہ تعالیٰ کو پکارنے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔ اس لیے قرآن مجید یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو۔ دیکھیے سورة انعام (40، 41) ، یونس (21، 22) ، نحل (53 تا 55) اور بنی اسرائیل (67) یہ حال مشرکین اور منکرین کا تھا، مگر تعجب ہمارے زمانے کے ان مسلمانوں پر ہے جو توحید کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن مصیبت تک میں اللہ کو نہیں پکارتے، بلکہ یا رسول اللہ ! یا غوث اعظم ! یا معین الدین اجمیری ! کشتی پار کر دے، جیسے نعرے لگاتے ہیں۔
وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ : زمین کا جانشین بنانا دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ وہ تمہیں ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی صورت میں زمین میں لاتا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں سب کو پیدا کردیتا تو زمین تنگ ہوجاتی، رشتہ داریوں اور تعلقات کا سلسلہ قائم نہ ہوسکتا، سب لوگ باقی رہنے کی کوشش میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے، پھر یا تو ہر ایک کو صدیوں زمین پر جینا پڑتا، جہاں کوئی خوشی خالص نہیں ہے، یا چند ہی سالوں میں زمین کی آبادی کا یہ سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا۔ زمین کے جانشین بنانے کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ تمہیں ایک دوسرے کے بعد زمین میں سلطنت عطا کرتا ہے۔
قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ : ”قَلِيْلًا“ کا معنی ہے ”بہت کم۔“ ”ما“ کے ساتھ اس کی تاکید سے معنی ہوگیا ”بہت ہی کم۔“ یعنی پوری طرح نصیحت حاصل کرتے تو اللہ کے ساتھ شریک نہ بناتے۔
Ayah 27:63اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ : یعنی یا وہ بہتر ہے جس نے ستاروں کے ذریعے سے ایسا انتظام کردیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرسکتے ہو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت، سفر اور منزل مقصود کی طرف راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے، فرمایا : (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) [ النحل : 16 ] ”اور علامتیں (بنائیں) اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ (تفہیم القرآن) پھر مقناطیس میں قطب نمائی کی خاصیت رکھ کر بندوں کو اس سے آگاہ کردینا بحرو بر اور دن رات میں رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔
وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ : رحمت سے مراد یہاں بارش ہے، جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمد کی خبر کردیتی ہیں۔
Ayah 27:64اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ : یہ سادہ سی بات، جسے ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے، اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الٰہ اور وحدت الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے، انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے ؟ ! اس وقت تک مسلّم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود سب قطعی ناکام ہوچکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز معلوم کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں ”ڈی۔ این۔ اے“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے، جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد آگے دیکھیے، زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں، بلکہ بیشمار متنوّع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریباً 10 لاکھ اور نباتات کی تقریباً 2 لاکھ انواع کا پتا چلا ہے، یہ لکھوکھہا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثیٰ مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے، اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے اور ہر وہ افسانہ جو کسی مقصود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع، حکیم، ایک الخالق، الباری، المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوّع صورتیں عطا کی ہیں۔
یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ، اب ذرا اعادۂ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل رکھ دیا ہے جو اس کے بیشمار افراد میں سے بیحد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورت نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانۂ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کے لیے ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے کے ایک حصہ میں ہوتا ہے، جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشو و نما کو حتماً اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانے سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے۔ کسی آب و ہوا یا کسی ماحول میں یہ حادثہ رونما نہیں ہوا کہ دانۂ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانۂ جو پیدا ہوتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی، بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۂ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بیشمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالدو تناسل کے اس خوردبینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بےانتہا لطیف و پر پیچ عملیات کو دیکھے کہ جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی تصوّر نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبّر اور ایک حی و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و راہ نمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانۂ خلق و اعادۂ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ : رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر کوئی شخص ان مختصر الفاظ کو پڑھ کر محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے، اور پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ گرمی، روشنی، ہوا، پانی اور زمین کے مختلف اقسام کے مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرّہ بھی وجود میں نہیں آسکتا۔ کون شخص تصور کرسکتا ہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یوں ہی اتفاقاً ہوسکتا تھا ؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جنّ ، فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی عمل دخل ہے ؟ (تفہیم القرآن)
قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : یعنی اس چیز کی کوئی دلیل لاؤ کہ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ ظاہر ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ) [ المؤمنون : 117 ]”اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔“ تو جب تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہی نہیں تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں، مگر عبادت اس کے سوا یا اس کے ساتھ کسی اور کی کی جائے ؟ ”بُرَھَانَکُم“ (اپنی دلیل) اس لیے فرمایا کہ فی الواقع تو کوئی دلیل نہیں، تم نے اگر کوئی دلیل بنا رکھی ہے تو پیش کرو۔
Ayah 27:65قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : ”الْغَيْبَ“ ”غَابَ یَغِیْبُ“ کا مصدر ہے، اکثر غائب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مراد وہ چیزیں ہیں جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکیں اور نہ عقل ان کا ادراک کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبود کی عبادت، اس سے فریاد کرنے اور اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھنے کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ اسے عالم الغیب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ورنہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ میرے تمام احوال سے میرے مالک کے سوا کوئی واقف ہی نہیں، تو وہ کسی غیر کو کیوں پکارے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کوئی آسمان میں ہے یا زمین میں، اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔
3 اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بعض باتوں کی اطلاع دیتا ہے، مگر اس سے وہ عالم الغیب نہیں بن جاتے، کیونکہ انھیں اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا) [ الجن : 26 تا 28 ] ”(وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کرلے تو بیشک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے پہرا لگا دیتا ہے۔ تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ یعقوب ؑ کو مصر سے قمیص کی روانگی کے ساتھ ہی یوسف ؑ کی خوشبو آگئی، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں پڑے ہوئے یوسف ؑ کی خبر نہ ہوسکی اور سال ہا سال تک رونے کی وجہ سے آنکھیں سفید ہوگئیں، مگر علم اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ہمارے نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معراج کروا دیا، مگر جوتوں پر لگی گندگی کا علم اسی وقت ہوا جب جبریل ؑ نے آکر نماز میں بتایا۔ اگر بعض باتیں معلوم ہونے سے کوئی عالم الغیب بن جاتا ہو تو ہم میں سے ہر شخص عالم الغیب ہوگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بتانے سے ہمیں بھی غیب کی کئی باتوں کا علم ہے۔
3 اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ سوال کے انداز میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ مشرکین بھی مانتے تھے کہ پیدا کرنا، بارش اتارنا، رزق دینا اور دوسری صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ علم کے متعلق چونکہ مشرکین یہ نہیں مانتے تھے، بلکہ غیر اللہ کو پکارتے ہی اس لیے تھے کہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے حال سے واقف ہیں اور ہماری فریاد سن رہے ہیں، حالانکہ اکیلے اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کا مطلب یہی ہے کہ اپنی مخلوق کا پورا علم بھی وہی رکھتا ہے، فرمایا : (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) [ الملک : 14 ] ”کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔“ جس نے پیدا ہی نہیں کیا اسے اللہ کی مخلوق کے جملہ احوال کا علم کیسے ہوسکتا ہے ؟ مگر آج کل بھی بعض کلمہ گو حضرات انبیاء، اولیاء اور پیروں فقیروں کو اس عقیدے کے ساتھ پکارتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں، بلکہ صاف کہتے ہیں کہ وہ کون سی بات ہے جو ان سے مخفی ہے اور اس کے لیے انھوں نے بیشمار کہانیاں گھڑ رکھی ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سوالیہ انداز کے بجائے صاف لفظوں میں کہہ دینے کا حکم فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
3 جب انبیاء و اولیاء غیب نہیں جانتے تو کاہن، رمال، جفار، جوتشی، جعلی استخارے کر کے آئندہ کی خبریں بتانے والے اور چوریاں بتانے والے عالم الغیب کیسے ہوسکتے ہیں ؟ یہ سب لوگ جھوٹے و دغا باز ہیں۔ آسمان سے سنی ہوئی کوئی بات سچی نکل آتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے جھوٹ کا بازار چمکاتے رہتے ہیں۔
3 اگر اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب ہوتا تو اس کے سب سے زیادہ لائق ہمارے نبی کریم ﷺ تھے۔ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو علم غیب عطائی تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”مَا کَانَ وَ مَا یَکُوْنُ“ کا علم عطا فر دیا تھا، فرق صرف ذاتی اور عطائی کا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی کسی صفت میں برابر کا شریک بنا لے۔ دیکھیے سورة روم (28) اور سورة نحل (71) کی تفسیر۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس دعویٰ کے لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ”مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ“ (جو ہوچکا اور جو ہوگا) کا سارا علم نبی کریم ﷺ کو دے دیا تھا، یہ واضح کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وہ علم کب عطا فرمایا۔ اگر کہا جائے کہ نبوت ملنے سے پہلے یا وفات سے پہلے کسی وقت آپ کو یہ علم عطا ہوگیا تھا تو جبریل ؑ کی آمد اور وحی کے نزول کا سلسلہ عبث ٹھہرتا ہے اور اگر کہا جائے کہ وفات سے پہلے تو آپ عالم الغیب نہیں تھے، البتہ وفات کے وقت عالم الغیب ہوگئے تھے، تو وہ احادیث اس کا رد کرتی ہیں جن میں فرشتوں کے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنے کا ذکر ہے کہ (إِنَّکَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ) [ بخاري : 4625 ] ”تم نہیں جانتے انھوں نے تمہارے بعد کیا نئے کام کیے تھے۔“ اور جن میں شفاعت کے لیے عرش کے نیچے سجدے کی حالت میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ محامد سکھانے کا ذکر ہے جو آپ ﷺ کو اس سے پہلے معلوم نہیں ہوں گے۔ (دیکھیے بخاری : 7510)
3 الغرض، یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ کے سوا کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے غیب کی کسی بات کی اطلاع دے دے، لیکن جمیع ”مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ“ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، چناچہ فرمایا : (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ) [ الأنعام : 59] ”اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اور فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ) [ لقمان : 34 ] ”بیشک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔“ اور فرمایا : (يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ) [ البقرۃ : 255 ] ”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔“
قرآن مجید نے اللہ کے سوا کسی سے علم الغیب کی صرف مطلق اور عام نفی ہی نہیں فرمائی بلکہ انبیاء ؑ اور خود نبی کریم ﷺ کے بارے میں صاف تصریح فرمائی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں، انھیں غیب کا علم اتنا ہی دیا گیا ہے جس کی رسالت کے لیے ضرورت تھی۔ پہلے انبیاء کے متعلق دیکھیے، آدم ؑ کا قصہ۔ [ طٰہٰ : 120 تا 122 ] نوح ؑ کا قصہ۔ [ ھود : 31 تا 36 اور 45 تا 47 ] ابراہیم ؑ کا قصہ۔ [ الشعراء : 69 تا 86 ] لوط ؑ کا قصہ۔ [ ھود : 77 تا 83 ] یعقوب ؑ کا قصہ۔ [ یوسف : 83، 84] سلیمان ؑ کا قصہ۔ [ النمل : 20 تا 28] موسیٰ ؑ کا قصہ۔ [ الأعراف : 143۔ طٰہٰ : 21 اور 64 تا 68 اور 83 تا 86۔ النمل : 10۔ القصص : 20] زکریا ؑ کا قصہ۔ [ مریم : 2 تا 10۔ آل عمران : 37 تا 47 ] داؤد ؑ کا قصہ۔ [ صٓ : 22 تا 25 ] فرشتے بھی غیب نہیں جانتے۔ [ البقرۃ : 31 تا 33 ] اور جن بھی غیب نہیں جانتے ہیں۔ [ سبا : 12 تا 14 ] ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی کے تین زمانے ہیں، نبوت سے پہلے کا زمانہ۔ نبوت کا زمانہ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد کا زمانہ۔ نبوت سے پہلے زمانے کے متعلق قرآن مجید نے تصریح فرمائی کہ آپ کو ان باتوں کا علم نہ تھا۔ دیکھیے سورة شوریٰ (52) ، قصص (44 تا 46، 48) اور ہود (49)۔
نبی بننے سے فوت ہونے تک کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو گزشتہ و آئندہ کے بیشمار واقعات اور علوم عطا فرمائے، مگر اللہ کے علم سے آپ کے علم کی کوئی نسبت نہیں، جیسا کہ خضر ؑ نے موسیٰ ؑ کو اپنے اور موسیٰ ؑ کے علم کی اللہ تعالیٰ کے علم سے نسبت کی مثال سمندر اور چڑیا کی چونچ کے قطرے کی مثال دے کر سمجھائی۔ [ دیکھیے بخاري : 4725 ] ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا : (مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ یَعْلَمُ الْغَیْبَ فَقَدْ کَذَبَ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ أحدا)۔۔ : 7380، 4855 ] ”جو شخص تجھے یہ کہے کہ رسول ﷺ غیب جانتے تھے اس نے جھوٹ کہا۔“ اب نبی ﷺ کی زندگی کے چند واقعات اختصار کے ساتھ ملاحظہ ہوں جن سے آپ کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے : 1 عائشہ ؓ سے متعلق واقعۂ افک۔ دیکھیے سورة نور (16 تا 26) اور صحیح بخاری میں حدیث افک (4141)۔ 2 شہد حرام کرنے کا واقعہ۔ دیکھیے سورة تحریم (1 تا 4) اور صحیح بخاری (4912)۔ 3 اللہ نے آپ سے کچھ پیغمبروں کا حال بیان فرمایا، کچھ کا نہیں۔ دیکھیے سورة نساء (164)۔ 4 آپ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں۔ دیکھیے سورة احزاب (63) ، شوریٰ (17) ، اعراف (187) ، طٰہٰ (15) ، نمل (65) ، لقمان (34) ، حٰم السجدہ (47) ، زخرف (85) اور ملک (25، 26)۔ 5 اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دیکھیے مدثر (31)۔ 6 عبداللہ بن ام مکتوم نابینا صحابی کا واقعہ۔ دیکھیے سورة عبس (1 تا 12)۔ 7 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مدینہ اور اس کے ارد گرد کچھ منافق ہیں، نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم انھیں جانتے ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (101)۔ 8 رسول اللہ ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور جبریل ؑ سے بار بار پوچھنا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ پھر آپ ﷺ کا فرمانا کہ سدرۃ المنتہیٰ کو ایسے رنگوں نے ڈھانپ لیا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے ؟ [ دیکھیے بخاري، الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ في الإسراء : 349 ] 9 فتح مکہ کے موقع پر آپ پردے کے پیچھے غسل کر رہے تھے کہ ام ہانی ؓ حاضر ہوئیں، اس نے سلام کہا تو آپ نے فرمایا : ”کون ہے ؟“ بتایا کہ ام ہانی ہوں۔ [ دیکھیے بخاري، الغسل، باب التستر فی الغسل عند الناس : 280 ] 0 ایک سفر میں عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا، رسول اللہ ﷺ اور لوگ آپ کے ساتھ اس کی تلاش کے لیے ٹھہر گئے۔ بعد میں اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر عائشہ ؓ سو رہی تھیں تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔ [ دیکھیے بخاري، التیمم، باب : 334 ]
! مرض الموت میں جب آپ کا مرض بڑھ گیا تو آپ بار بار بےہوش ہو کر ہوش میں آتے تو فرماتے : ”لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟“ عرض کیا جاتا، نہیں تین بار ایسا ہوا۔ [ دیکھیے بخاري، الأذان، باب أن جعل الإمام لیؤتم بہ : 687 ] @ستر صحابہ کو مشرکین کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، انھوں نے ان کو شہید کردیا، آپ سخت غمگین ہوئے۔ [ دیکھیے بخاري، الوتر، باب القنوت قبل الرکوع و بعدہ : 1002 ] # رسول اللہ ﷺ سوئے رہے، ابوبکر و عمر ؓ اور دوسرے صحابہ بھی سوئے رہے، سورج پوری طرح نکل آیا تو صبح کی نماز بعد میں پڑھی۔ [ دیکھیے مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔۔ : 680 ] $ مسجد میں جھاڑو دینے والی عورت فوت ہوگئی اور جنازے کے بعد دفن کردی گئی، تو آپ نے فرمایا : ”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔“ پھر آپ نے فرمایا : ”مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ [ دیکھیے بخاري، الصلاۃ، باب کنس المسجد : 458 ] % رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں اپنے گھر جاتا ہوں، وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے، میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں، لیکن پھر یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ کی کھجور نہ ہو تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔“ [ دیکھیے بخاري، اللقطۃ، باب إذا وجد
تمرۃ۔۔ : 2431 ]
^آپ نے فرمایا : ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی۔“ [ دیکھیے بخاري، فضل لیلۃ القدر، باب التماس لیلۃ القدر۔۔ : 2016 ] بنوعکل اور عرینہ کے لوگوں کا واقعہ جنھیں آپ ﷺ نے اونٹوں کے ساتھ رہ کر دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا اور وہ تندرست ہونے پر آپ کے چرواہے کو قتل کرکے اونٹنیاں ہانک کرلے گئے۔ [ دیکھیے بخاري، الجہاد والسیر، باب إذا حرق المشرک۔۔ : 3018، 233 ] یہودی عورت کا بکری کے گوشت میں زہر ملانے کا واقعہ۔ [ دیکھیے بخاري، الھبۃ و فضلھا، باب قبول الھدیۃ من المشرکین : 2617 ] (رسول اللہ ﷺ نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے روانہ کیا، ان کا سردار عاصم بن ثابت انصاری ؓ کو بنایا۔ سات شہید ہوگئے، تین بچ گئے، انھوں نے دعا کی : ”یا اللہ ! ہماری خبر ہمارے پیغمبر ﷺ کو پہنچا دے۔“ بعد میں باقی دو بھی شہید ہوگئے اور خبیب ؓ قیدی بن گئے، پھر ان کو بھی شہید کردیا گیا۔ [ دیکھیے بخاري، الجھاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل ؟۔۔ : 3045 ] مزید واقعات محترم ارشاد اللہ مان کی کتاب ”تلاشِ حق“ میں دیکھیں، انھوں نے یہاں اٹھتر (78) واقعات نقل کیے ہیں۔
رہا نبی ﷺ کی وفات کے بعد کا زمانہ، تو کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ قیامت کے دن بھی عالم الغیب نہیں ہوں گے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَأَیُّھَا النَّاسُ ، إِنَّکُمْ مَحْشُوْرُوْنَ إِلَی اللّٰہِ حُفَاہً عُرَاۃً غُرْلًا، ثُمَّ قَالَ : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْن) إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ ثُمَّ قَالَ : أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَاءِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاھِیْمُ ، أَلَا وَإِنَّہُ یُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِيْ فَیُؤْخَذُ بِھِمْ ذَات الشِّمَالِ فَأَقُوْلُ یَا رَبِّ ! أُصَیْحَابِيْ ، فَیُقَالُ ، إِنَّکَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ ، فَأَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ) فَیُقَالُ : إِنَّ ھٰؤُلَاءِ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی أَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُمْ) [ بخاري، التفسیر، باب : (و کنت علیہم شھیدا ما دمت فیھم۔۔) : 4625 ] ”اے لوگو ! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ جمع کیے جاؤ گے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْن) [ الأنبیاء : 104 ] ”جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقیناً ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔“ پھر فرمایا : ”سنو ! سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم ؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ سن لو ! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والوں (یعنی دوزخیوں) میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا : ”اے رب ! یہ تو میرے امتی ہیں۔“ ارشاد ہوگا : ”تم نہیں جانتے، انھوں نے تمہارے بعد کیا کام کیے۔“ تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ ؑ نے کہا : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ) [ المائدۃ : 117 ] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا۔“ ارشاد ہوگا : ”یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل اسلام سے پھرتے رہے جب تو ان سے جدا ہوا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَأَسْتَأْذِنُ عَلٰی رَبِّيْ فَیُؤْذَنُ لِيْ فَأَقُوْمُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَأَحْمَدُہُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَیْہِ الْآنَ ، یُلْھِمُنِیْہِ اللّٰہُ تَعَالٰی) [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا : 326؍193 ] ”(قیامت کے روز جب سب لوگ میرے پاس آئیں گے تو) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، مجھے اجازت دے دی جائے گی تو میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوجاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمدو ثنا کروں گا کہ آج میں اس پر قادر نہیں، اس وقت وہ حمد اللہ تعالیٰ مجھے القا کرے گا۔“ rnۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ علم غیب کی نفی ان سے نہیں کی جا رہی جو قیامت کے دن اٹھائے نہیں جائیں گے، مثلاً بت یا حجر و شجر، یا شمس و قمر، یا فرشتے، بلکہ ان لوگوں سے کی جا رہی ہے جو قیامت کو اٹھائے جائیں گے، خواہ وہ پیغمبر ہوں یا صدیق، یا شہداء، یا صالحین، فرمایا، علم غیب تو کجا انھیں یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 27:66بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ :”ادّٰرَكَ“ اصل میں ”تَدَارَکَ“ ہے، جو باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ ہے۔ اس کا مادہ ”درک“ ہے، اسی سے ”ادّٰرَكَ“ بنا ہے، کسی چیز کو پالینا۔ ”تَدَارَکَ“ کا معنی ہے کسی چیز کو پکڑنے کے لیے لگا تار دوڑنا، بھاگ کر پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کرنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آخرت کو جاننے کے لیے ان کا علم لگاتار دوڑتا ہی رہا، مگر اسے حاصل نہ کرسکا، آخر تھک ہار کر رہ گیا۔ ”غَابَ“ گم ہوگیا، ”اِنْتَھٰی“ ختم ہوگیا۔ ”ادّٰرَكَ“ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں، ان میں سے سب سے صحیح یہی قول ہے، کیونکہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابو طلحہ کے واسطے سے ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے : ”(بل ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ) یَقُوْلُ غَابَ عِلْمُھُمْ“ [ طبري : 27292 ] یعنی ”ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ“ کا معنی ہے آخرت کے بارے میں ان کا علم گم ہوگیا۔
”عَمُوْنَ“ ”عَمِيٌ“ (بروزن فَرِحٌ) کی جمع ہے، مراد دل کے اندھے ہیں۔
3 پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ کے سوا آسمان و زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ظاہر ہے اس میں مشرکین کے بنائے ہوئے معبودوں کے ساتھ انبیاء و صحابہ سب شامل ہیں کہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اس کے بعد سلسلۂ کلام عام کفار و مشرکین کی طرف پھر گیا ہے، جو قیامت کے منکر تھے، ان کے متعلق تین دفعہ لفظ ”بل“ کے ساتھ تین باتیں فرمائیں، بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم گم ہوگیا ہے، انھیں اس کے وقوع کے وقت کے متعلق کچھ علم نہیں، بلکہ انھیں قیامت کے واقع ہونے ہی میں شک ہے۔ قیامت کی فکر تو وہ کرے گا جسے اس کے حق ہونے کا یقین ہو، بلکہ یہ جان بوجھ کر اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، پیغمبر کی بات پر اور قیامت کے حق ہونے کے دلائل پر غور تک کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور حساب دینے پر یقین کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ اپنی خواہش پرستی اور من مانی نہیں کرسکتے، اس لیے قیامت کے انکار کا بہانہ یہ بنائے رکھتے ہیں کہ بتاؤ وہ قیامت کب قائم ہوگی ؟ جیسا کہ فرمایا : (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ يَسْــَٔـلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِ) [ القیامۃ : 1 تا 6 ] ”نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں ! اور نہیں، میں بہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں ! کیا انسان گمان کرتا ہے کہ بیشک ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں ؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔ وہ پوچھتا ہے اٹھ کھڑے ہونے کا دن کب ہوگا ؟“
Ayah 27:67وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ کفار آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس آیت میں بتایا کہ وہ اپنے اندھے پن میں کیسے بےکار اعتراض کرتے ہیں۔ یہاں بظاہر ”قَالُوْا“ کہنا ہی کافی تھا کہ ”انھوں نے کہا“ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا) ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا“ یعنی ان کی اس بات کا سبب ان کا کفر، یعنی حق کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔ دوبارہ زندہ کرنے پر تعجب کے اظہار کے لیے کفار نے دو مرتبہ ہمزہ استفہامیہ استعمال کیا ہے اور دوسرے ہمزہ کے بعد مزید تعجب کے اظہار کے لیے إِنَّ اور لام تاکید کا لفظ استعمال کیا ہے کہ ”کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں۔“ ان کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کے نزدیک قبروں میں جانے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکالا جانا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا جواب دیا ہے کہ جس نے پہلی دفعہ بنایا وہ دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتا۔