27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

بلا شبہ یقینا اس سے پہلے ہم سے یہ وعدہ کیا گیا اور ہمارے باپ داد اسے بھی، یہ نہیں ہیں مگر پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں۔

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ : اس بات کا یعنی قبروں سے نکالے جانے کا وعدہ ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کیا گیا۔ یہاں ”ھٰذَا“ کا لفظ ”نَحْنُ“ سے پہلے ہے، جب کہ سورة مومنون میں ”نَحْنُ“ کا لفظ پہلے ہے، فرمایا : (لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا) [ المؤمنون : 83 ] اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ہر مقام کے لحاظ سے جو لفظ زیادہ اہم ہوتا ہے وہ پہلے لایا جاتا ہے۔ دونوں مقامات کا مقابلہ کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے بھی یہی وعدے کیے گئے تھے، وہی باتیں یہ پیغمبر نقل کر رہے ہیں، در حقیقت یہ محض فرضی قصے کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے دنیا کا نظام چلانے اور سرکشوں کو قابو میں رکھنے کے لیے گھڑیں اور نسل در نسل بیان ہوتی چلی آرہی ہیں۔ ہم نے آج تک نہ دیکھا، نہ سنا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد زندہ ہوا ہو، اسے نیکی پر جزا یا بدی پر سزا ملی ہو۔ ہمارے زمانے میں بھی جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہے، حالانکہ اس کا تعلق دیکھنے یا سننے سے نہیں، بلکہ اس کا تمام تر انحصار ایسے سچے (پیغمبر) کی خبر پر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبروں نے ان نافرمانوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو کر رہا اور پیغمبروں کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہوئی۔ اب جو ان پیغمبروں نے کہا ہے کہ ایک دن قیامت ضرور آئے گی اور اس میں لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی تو ان کی یہ بات بھی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ : قیامت کے منکروں کو مجرم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو جرم اور ظلم و زیادتی سے روکنے والی چیز صرف اور صرف آخرت کا یقین ہے۔ یہ نہ ہو تو آدمی کو مجرم بننے سے کوئی چیز باز رکھ سکتی ہی نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جب قیامت کے منکروں کے جرائم حد سے بڑھ جاتے ہیں تو اس کا زبردست ہاتھ انھیں تباہ و برباد کر کے دنیا کو ان کے وجود اور ان کے جرائم سے نجات دیتا ہے، مگر ان کے جرائم کا پورا بدلا تو انھیں آخرت ہی میں دیا جائے گا۔ دنیا میں اگر کوئی بچ بھی گیا تو آخرت میں بچ کر کہاں جائے گا۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان پر غم نہ کر اور نہ اس سے کسی تنگی میں ہو جو وہ چال چلتے ہیں۔

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ : اس میں آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے، تو آپ ان پر غمگین نہ ہوں۔ آپ کا کام سمجھانا اور بدی کے انجام سے آگاہ کرنا ہے، کسی کو مومن بنادینا نہ آپ کا کام ہے، نہ آپ کی ذمہ داری۔ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ : یعنی یہ لوگ آپ کے خلاف جو سازشیں کرتے اور چالیں چلتے ہیں، ان سے آپ تنگ دل نہ ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان ہے : (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) [ المائدۃ : 67 ] وہی آپ کو ان لوگوں سے بچائے گا اور وہ اپنے مکر و فریب میں خود ہی گرفتار ہوں گے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو ؟

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : کافروں کا یہ کہنا اس لیے نہیں تھا کہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ قیامت اور اس میں ہونے والا عذاب کب واقع ہوگا، بلکہ وہ یہ بات قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے کہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کریں گے، جب وہ ہمارے تقاضے کے مطابق واقع نہیں ہوگی تو ہمیں اس کا مذاق اڑانے کا اور اسے جھوٹ قرار دینے کا موقع مل جائے گا۔ لفظ ”الوعد“ کے ساتھ بھی وہ قیامت کا تمسخر اڑا رہے تھے، کیونکہ وعدہ اچھی چیز کا ہوتا ہے، بری چیز کی وعید ہوتی ہے۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے قیامت کو ”ھذا الوعد“ کہہ رہے ہیں، پھر ”اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“ کہہ کر جلد از جلد عذاب لانے پر ابھار رہے ہیں، انھیں یہ معلوم نہیں کہ پیغمبروں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں، مگر عذاب لانا یا نہ لانا اور جلدی لانا یا دیر سے لانا پیغمبر کا کام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ پیغمبر کا کام صرف خبردار کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ۠ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) [ الملک : 25، 26 ] ”اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟ کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔“
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دے قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آپہنچا ہو اس کا کچھ حصہ جو تم جلدی مانگ رہے ہو۔

قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ۔۔ : ”ردیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر کسی شخص کے پیچھے بیٹھا ہو۔ یعنی جلدی نہ مچاؤ، جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، وہ ہر حال میں آکر رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب آپہنچا ہو۔ اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر ہی سے ہوگیا تھا، پھر آپ ﷺ کی زندگی ہی میں اس کچھ حصے کی کئی قسطوں سے کفار کو سابقہ پیش آتا رہا، پھر قبر کا عذاب بھی قریب ہے اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب یقینا لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان کے اکثر شکر نہیں کرتے۔

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ۔۔ : ”لَذُوْ فَضْلٍ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے فضل والا“ کیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کے جلدی عذاب لانے کے مطالبے کے باوجود اللہ تعالیٰ عذاب میں تاخیر کر رہا ہے اور انھیں مہلت دے رہا ہے، تو یہ اس کا ان پر بہت بڑا فضل ہے، جس پر انھیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ ایک قلیل تعداد اہل ایمان کی ایسی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب یقینا جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ۔۔ : یعنی عذاب میں تاخیر کی یہ وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال کا علم نہیں، یقیناً تیرا رب وہ بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور وہ بھی جو وہ ظاہر کر رہے ہیں۔ لفظ ”رب“ میں تاخیر اور مہلت کا سبب بیان ہوا ہے اور اس بات میں کہ وہ ان کی سینوں میں چھپی ہوئی اور ان کی ظاہر ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، شدید وعید بھی ہے، جیسے کسی کو ڈانٹنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ میں تمہاری حرکتیں دیکھ رہا ہوں۔ پوشیدہ باتوں کو جاننا تو صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے ہی، لوگوں کے ظاہر اعمال کو جاننا بھی صرف رب تعالیٰ ہی کی شان ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا ایک وقت میں اتنے لوگوں کی بات سن ہی نہیں سکتا، ان کے ہر عمل سے کیسے باخبر ہو سکے گا۔ مزید دیکھیے سورة رعد (10) ، ہود (5) اور طٰہٰ (7)۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں کوئی غائب چیز نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔

وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَةٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (59) ”غَاۗىِٕبَةٍ“ میں تاء مبالغہ کے لیے ہے، جیسے ”کَافِیَۃٌ“ اور ”عَلاَّمَۃٌ“ میں ہے، یعنی انتہائی مخفی چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے، وہ اپنے وقت پر آکر رہے گا۔ اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ نہیں آئے گا، سرا سر حماقت ہے۔
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ۔۔ : مفسر رازی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوت پر بحث شروع فرمائی اور آپ ﷺ کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا، یعنی یہ قرآن آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہیں۔ بنی اسرائیل کے لیے جو تورات و انجیل کے عالم ہیں، اس کی یہ بات دلیل ہے کہ یہ ان کی اکثر وہ اشیاء بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے اور یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان میں حق اور درست بات کیا ہے۔ اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ : یہود و نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے، اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے، مثلاً عیسیٰ ؑ کو یہودی جھوٹا اور ولد الزنا کہتے تھے۔ نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ انھیں عین ذات الٰہی یا اس کا بیٹا بنا بیٹھے۔ (نعوذ باللہ) اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے۔ ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی جو قرآن کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 48) اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان سب کی فرقہ بندی ختم ہوجاتی۔ 3 یہ جو فرمایا کہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ چیزیں بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، تو اس میں اشارہ ہے کہ اس نے بہت سی باتیں جن میں ان کا اختلاف ہے، بیان نہیں کیں، کیونکہ ان کے ذکر کرنے سے کوئی اہم مقصد حاصل نہیں ہوتا تھا اور اس لیے کہ اس میں ان کی بعض خطاؤں اور لغزشوں کی پردہ پوشی ہے جو ان سے سرزد ہوئیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے ذکر نہ کرنے کو اپنی طرف سے عفو قرار دیا ہے، چناچہ فرمایا : (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ) [ المائدۃ : 15 ] ”اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔“
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک وہ یقینا ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔

وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : اگرچہ یہ قرآن تمام جہانوں کو خبردار کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 1) مگر اس سے ہدایت اور رحمت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 2 تا 5) اور ایمان والے لوگ ہی ان گمراہیوں سے بچتے ہیں جن میں بنی اسرائیل اور مشرکین عرب مبتلا ہوئے۔ اس قرآن کی بدولت انھیں زندگی کا سیدھا راستہ ملے گا اور اس کی بدولت ان پر اللہ کی وہ رحمتیں ہوں گی جن کا تصور بھی بنی اسرائیل یا کفار قریش نہیں کرسکتے، چناچہ چند ہی سالوں میں وہ لوگ جو سراسر گمراہی میں مبتلا تھے، ہدایت میں دنیا کے امام بن گئے اور ان پر اللہ کی اتنی رحمتیں ہوئیں کہ وہ روئے زمین کے بہت بڑے حصے کے فرماں روا بن گئے۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

یقینا تیرا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا اور وہی سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ : یعنی جس طرح تیرے رب نے دنیا میں ان کے اختلافات اور تحریفات کا بھانڈا پھوڑا ہے، اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی اپنے حکم کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ دیکھیے سورة زمر (46)۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس اللہ پر بھروسا کر، یقینا تو واضح حق پر ہے۔

وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ : کیونکہ وہ سب پر غالب ہے، اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں، اس لیے اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے اس پر بھروسا رکھیں، دشمنوں کی تکذیب، استہزا، ایذا رسانیاں اور سازشیں اگرچہ پریشان کرنے والی ہیں، مگر آپ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ آپ واضح حق پر ہیں جس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور جو حق پر ہو اسے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ غلبہ آخر کار حق ہی کا ہوگا۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بیشک تو نہ مردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر پلٹ جائیں۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ۔۔ : یہ بھی آپ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ ان لوگوں کے قرآن پر ایمان نہ لانے سے دل گرفتہ نہ ہوں، ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے ایمان لانا ہی نہیں۔ یہ کافر لوگ مردوں کی طرح ہیں، جنھیں دعوت دینا اور نصیحت کی کوئی بات سنانا قطعی سود مند نہیں اور یہ ان بہروں کی طرح ہیں جو پیٹھ دے کر بھاگ رہے ہوں۔ اگر وہ سامنے دیکھ رہے ہوتے تو شاید توجہ کے ساتھ کچھ سمجھ جاتے، مگر پیٹھ دے کر بھاگنے کی صورت میں تو ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی بات سن سکیں۔ روحانی موت اور روحانی بہرے پن کو جسمانی موت اور جسمانی بہرے پن کے ساتھ تشبیہ سے ظاہر ہے کہ مردوں کو کوئی بات سنائی نہیں جاسکتی۔ یہ نفی عام ہے، اس سے صرف وہ مواقع مستثنیٰ ہیں جو دلیل (کتاب و سنت) سے ثابت ہوں اور وہ صرف دو ہیں، ان کے علاوہ کسی آیت یا صحیح حدیث سے مردوں کا سننا ثابت نہیں۔ ایک موقع وہ ہے جو انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِيْ قَبْرِہِ وَتُوُلِّيَ وَ ذَھَبَ أَصْحَابُہُ حَتّٰی إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ ، أَتَاہُ مَلَکَانِ فَأَقْعَدَاہُ فَیَقُوْلَانِ لَہُ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ھٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ؟ فَیَقُوْلُ أَشْھَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ ، فَیُقَالُ انْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّۃِ ، قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا، وَ أَمَّا الْکَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَیَقُوْلُ لَا أَدْرِيْ ، کُنْتُ أَقُوْلُْ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ ، فَیُقَالُ لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ ، ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَقَۃٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ أُذُنَیْہِ فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُھَا مَنْ یَلِیْہِ إِلَّا الثَّقَلَیْنِ) [ بخاري، الجنائز، باب المیت یسمع۔۔ : 1338 ]”بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس سے رخ پھیرلیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چل دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، تو اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں، اسے بٹھا دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : ”اس شخص یعنی محمد ﷺ کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟“ وہ جواب دیتا ہے : ”میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ تو اس سے کہا جاتا ہے : ”جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تیرے لیے ایک ٹھکانا جنت میں بنادیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پھر اس بندۂ مومن کو جنت و جہنم دونوں دکھائی جاتی ہیں۔ اور رہا کافر یا منافق تو وہ (اس سوال کے جواب میں) کہتا ہے : ”مجھے نہیں معلوم، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا، وہی میں بھی کہتا رہا۔“ تو اسے کہا جاتا ہے : ”نہ تو نے کچھ سمجھا اور نہ (اچھے لوگوں کی) پیروی کی۔“ اس کے بعد ہتھوڑے کے ساتھ اس کے دونوں کانوں کے درمیان (یعنی سر پر) بڑی زور سے مارا جاتا ہے اور وہ اتنے بھیانک طریقے سے چیختا ہے کہ انسان اور جن کے سوا اردگرد کی تمام مخلوق اس چیخ چیخ پکار کو سنتی ہے۔“ دوسرا موقع ابو طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن قریش کے سرداروں میں سے چوبیس آدمیوں کے متعلق حکم دیا تو وہ بدر کے کنوؤں میں سے ایک خبیث گندگی والے کنویں میں پھینک دیے گئے اور آپ ﷺ جب کسی قوم پر فتح پاتے تو میدان میں تین دن ٹھہرتے تھے۔ جب بدر میں تیسرا دن ہوا تو آپ نے اپنی اونٹنی کے متعلق حکم دیا تو اس پر اس کا پالان کسا گیا، پھر آپ چل پڑے اور آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب بھی چل پڑے اور کہنے لگے، ہمارا خیال یہی ہے کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ آپ اس کنویں کے کنارے پر کھڑے ہوگئے اور انھیں ان کے اور ان کے باپوں کے نام لے لے کر پکارنے لگے : (یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ، وَ یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ! أَیَسُرُّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ ؟ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ؟ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْھُمْ) [ بخاري، المغازي، باب قتل أبي جھل : 3976 ] ”اے فلاں بن فلاں ! اور اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی، کیونکہ ہم نے تو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا اسے حق پایا، تو کیا تم نے بھی جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا، حق پایا ؟“ تو عمر ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ ان جسموں سے کیا بات کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! تم ان سے زیادہ وہ باتیں سننے والے نہیں جو میں انھیں کہہ رہا ہوں۔“ 3 ہمارا ایمان ہے کہ ان دونوں موقعوں پر مردے وہ بات سنتے ہیں جس کا حدیث میں ذکر ہے، ان کے سوا مردے زندوں کی کوئی بات نہیں سنتے، مگر ان دو احادیث کو بنیاد بنا کر بعض لوگوں نے عقیدہ بنا لیا کہ تمام مردے سنتے ہیں اور ہر بات ہر وقت سنتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مردہ پرستی اور غیر اللہ کو پکارنے اور ان سے فریاد کرنے کی بنیاد یہی عقیدہ ہے کہ مردے سنتے ہیں، ورنہ اگر یقین ہو کہ وہ سنتے ہی نہیں تو پاگل ہی ہوگا جو انھیں پکارے گا۔ قرآن مجید میں مردوں کے نہ سننے کا مضمون متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة روم (52) اور فاطر (19 تا 22) بلکہ مردوں کو خبر ہی نہیں کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (20، 21) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (4 تا 6) اور قیامت سے پہلے فوت شدہ لوگ واپس بھی نہیں آتے۔ دیکھیے سورة یٰس (31) اور انبیاء (95) عزیر ؑ اور جن حضرات کا دنیا میں زندہ ہونا قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت ہے، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ 3 قبر پرستوں کے برعکس کچھ لوگوں نے ان دو مواقع پر بھی مردوں کے سننے سے انکار کردیا، پھر ان میں سے بعض نے تو صاف ان حدیثوں کا انکار کردیا، حالانکہ یہ صحیح بخاری کی احادیث ہیں جن کی صحت پر امت کا اتفاق ہے اور بعض نے ان کی ایسی لغو تاویلیں کیں جو انکار سے بھی بدتر ہیں، حالانکہ حق افراط و تفریط کے درمیان ہے۔
Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے، تو نہیں سنائے گا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں، پھر وہ فرماں بردار ہیں۔

وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ۔۔ : یعنی آپ دل کے اندھوں کو راہ راست پر نہیں لاسکتے، آپ تو اسی کو سنائیں گے اور اسی کو راہ راست پر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان کا اثر قبول کرتے ہیں اور اثر قبول کرنا یہی ہے کہ آپ کی دعوت پر ایمان لے آئیں۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر بات واقع ہوجائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے کلام کرے گا کہ یقینا فلاں فلاں لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ۔۔ : یعنی جس وعید کو یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں اور اسے لانے کی جلدی مچا رہے ہیں، جب اس کا وقت آجائے گا تو ہم زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو انوکھی قسم کا ہوگا (تنوین تنکیر سے انوکھے کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے)۔ وہ جانور قیامت کی علامات میں سے ہوگا، اس کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ آخرت کی حقیقتوں سے حجاب اٹھنے کے بعد آزمائش کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ وہ جانور ستر ہاتھ لمبا ہوگا، اس کی چار ٹانگیں اور دو پر ہوں گے، اس کے پاس موسیٰ ؑ کا عصا اور سلیمان ؑ کی انگوٹھی ہوگی وغیرہ۔ مگر کسی صحیح حدیث میں اس جانور کی کیفیت بیان نہیں ہوئی، اس لیے ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ بعض لوگوں نے اسے حدیث دجّال میں مذکور جانور ”جساسہ“ قرار دیا ہے اور بعض نے یاجوج ماجوج، مگر یہ سب اندھیرے میں تیر ہیں۔ تُكَلِّمُهُمْ : وہ جانور لوگوں سے بات کرے گا۔ قیامت کے قریب اس قسم کے عجیب و غریب واقعات کثرت سے ہوں گے کہ وہ چیزیں جو عام طور پر کلام نہیں کرتیں، کلام کریں گی۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُکَلِّمَ السِّبَاعُ الإِْنْسَ ، وَ حَتّٰی یُکَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَتُخْبِرُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ) [ ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع : 2181، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد : 3؍84، ح : 11798 ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔“ حتیٰ کہ جب قیامت بالکل قریب ہوگی اور اس کی علامات خاصہ کا ظہور شروع ہوگا، جن کے ظاہر ہونے کے بعد کسی کا ایمان لانا قبول نہیں ہوگا (دیکھیے انعام : 158) اس وقت وہ جانور زمین سے نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بالا خانے سے ہمیں جھانک کر دیکھا، ہم قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّھَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَھَا عَشْرَ آیَاتٍ ، فَذَکَرَ الدُّخَانَ ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدَّابَّۃَ ، وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا، وَنُزُوْلَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَیَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ ، وَثَلَاثَۃَ خُسُْوْفٍ ، خَسْفٌ بالْمَشْرِقِ ، وَ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ ، وَ خَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ ، وَ آخِرُ ذٰلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِھِمْ) [ مسلم، الفتن، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ : 2901 ] ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم دس نشانیاں دیکھو۔“ اور آپ نے وہ نشانیاں شمار کیں کہ سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا، دخان (دھواں) ، دابہ (زمین سے نکلنے والا جانور) ، یاجوج ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ ابن مریم ؑ اور دجال کا نکلنا اور تین خسف (زمین کا دھنس جانا) ایک خسف مغرب میں، ایک خسف مشرق میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے محشر کی طرف لے جائے گی۔“ عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی، جو میں ابھی تک نہیں بھولا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (إِنَّ أَوَّلَ الْآیَاتِ خُرُوْجًا، طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا، وَخُرُوْجُ الدَّابَّۃِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی، وأَیُّھُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِھَا، فَالْأُخْرٰی عَلٰی إِثْرِھَا قَرِیْبٌ) [ مسلم، الفتن، باب في خروج الدجال۔۔ : 2941 ] ”آیات (نشانیوں) میں سب سے پہلی سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا اور دابہ (ایک جانور) کا دوپہر کے وقت لوگوں کے سامنے نکلنا، ان میں سے جو بھی دونوں سے پہلے ہوگی، دوسری اس کے بعد قریب ہی ظاہر ہوجائے گی۔“ ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلٰی خَرَاطِیْمِھِمْ ، ثُمَّ یُغْمَرُوْنَ فِیْکُمْ حَتّٰی یَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِیْرَ فَیَقُوْلَ مِمَّنِ اشْتَرَیْتَہُ ؟ فَیَقُوْلُ اشْتَرَیْتُہُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِیْنَ) [ مسند أحمد : 5؍268، ح : 22371۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 322 ] ”(زمین سے) ایک جانور نکلے گا، جو لوگوں کی پیشانیوں پر نشان لگائے گا اور وہ (نشان زدہ) لوگ بہت زیادہ ہوجائیں گے، حتیٰ کہ آدمی کسی سے اونٹ خریدے گا تو کوئی پوچھے گا کہ یہ تو نے کس سے خریدا ہے ؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے یہ کسی نشان زدہ سے خریدا ہے۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَادِرُوْا بالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا، أَوِ الدُّخَانَ ، أَوِ الدَّجَّالَ ، أَوِ الدَّابَّۃَ ، أَوْ خَاصَّۃَ أَحَدِکُمْ ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّۃِ) [ مسلم، الفتن، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال : 2947 ] ”چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو، ایک سورج کا مغرب سے نکلنا، دوسری دخان (دھواں) ، تیسری دجّال، چوتھی زمین کا جانور، پانچویں موت اور چھٹی قیامت۔“ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا۔۔ : اس کی ایک تفسیر وہ ہے جس کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”النَّاسَ“ سے مراد مخصوص لوگ ہیں، یعنی وہ جانور لوگوں سے یہ کلام کرے گا کہ فلاں فلاں لوگ (النَّاسَ) ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے، یعنی وہ ایمان نہ لانے والوں کی نشان دہی کرے گا، جیسا کہ اوپر عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث میں گزرا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”اَن النَّاسَ“ سے پہلے لام محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے : ”تُکَلِّمُھُمْ لِأَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیَاتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ“ یعنی وہ دابہ ان سے کلام کرے گا، کیونکہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس صورت میں اس دابّہ کا کلام کرنا ہی قیامت کی نشانی ہوگا۔ دونوں معنوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں یہ ”ان النَّاسَ“ جانور کا کلام ہے اور بعد والے معنی کے لحاظ سے یہ ”ان النَّاسَ“ جانور یا کلام دابہ کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک جماعت اکٹھی کریں گے، ان لوگوں سے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی قسمیں بنائی جائیں گی۔

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ۔۔ : ”فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ“ ”وَزَعَ یَزَعُ“ (ف) سے مضارع مجہول ہو تو معنی ہے ”روکے جائیں گے“ اور ”أَوْزَعَ یُوْزِعُ“ (افعال) سے ہو تو معنی ہے ”الگ الگ تقسیم کیے جائیں گے۔“ یعنی ہر امت میں سے اللہ کی آیات جھٹلانے والے لوگوں کے گروہ کو جمع کیا جائے گا، پھر جو لوگ آگے ہوں گے انھیں روک لیا جائے، تاکہ پیچھے والے ان سے آکر مل جائیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسموں کی جماعت بندی کی جائے گی، مثلاً چوروں، ڈاکوؤں، قاتلوں اور زانیوں وغیرہ میں سے ہر ایک کا الگ جتھا بنایا جائے گا۔ اس معنی کی تائید سورة صافات کی آیت (22) اور سورة تکویر کی آیت (7) سے ہوتی ہے۔
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے تو فرمائے گا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا، حالانکہ تم نے ان کا پورا علم حاصل نہ کیا تھا، یا کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے ؟

حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْ۔۔ : یعنی ان کے حاضر ہونے پر ان سے عقائد و اعمال دونوں کے متعلق سوال ہوگا اور یہ سوال انھیں شرمندہ اور لاجواب کرنے کے لیے ہوگا کہ کیا دنیا میں تمہارا یہی مشغلہ رہا کہ تم ہماری آیات کو پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بغیر ہی جھٹلاتے رہے۔ تمہارے جھٹلانے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ تم نے پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بعد انھیں غلط سمجھ کر جھٹلایا ہو، یا پھر بتاؤ تم کیا کرتے رہے تھے، جیسا کہ سورة ملک میں کفار کا قول نقل کیا ہے، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ) [ الملک : 10، 11 ] ”اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔“ ہمارے زمانے کے بدعتی، فرقہ پرست، منکرین حدیث اور کفار سے مرعوب جدّت کے دعوے دار لوگوں کا بھی یہی حال ہے کہ جہاں کوئی آیت یا حدیث سمجھ میں نہ آئی اس پر پوری طرح غور کرنے یا کسی سے سمجھنے کے بغیر ہی اسے ردّ کردیا، یا کوئی آیت یا حدیث اپنے فرقے کے مسلک کے خلاف نظر آئی تو اسے ردّ کردیا، یا اس کی ایسی تاویل کی جو ردّ کردینے سے بھی بدتر ہے۔
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان پر بات واقع ہوجائے گی، اس کے بدلے جو انھوں نے ظلم کیا، پس وہ نہیں بولیں گے۔

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا۔۔ : یعنی ان پر اللہ کی حجت قائم ہوگئی، اس لیے وہ بول ہی نہیں سکیں گے کہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوگا جب ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ۔۔ : حشر کا ذکر فرمایا تو اس کی دلیل کے طور پر رات کی نیند اور ظلمت کا ذکر فرمایا، جو ایک طرح کی موت ہے اور دن کی بیداری اور اجالے کا ذکر فرمایا، جو زندگی ہے۔ (دیکھیے زمر : 42) یعنی کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ موت و حیات کا یہ سلسلہ ہر روز ان کے مشاہدے میں آتا ہے، بلکہ خود ان کی ذات پر گزرتا ہے، جس میں ان کے لیے سکون اور تلاش رزق کی نعمتیں بھی موجود ہیں۔ صرف یہ دو نشانیاں ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو قیامت پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، گھبرا جائے گا مگر جسے اللہ نے چاہا اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہو کر آئیں گے۔

وَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ :”الصُّوْرِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (73) گزشتہ آیت (83) میں خاص کفار کے حشر کا ذکر تھا، اب تمام مخلوق کے حشر کا ذکر ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف کفار کا حشر ہوگا۔ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ : بعض مفسرین نے تین نفخے ذکر فرمائے ہیں، نفخۂ فزع، نفخۂ صعق اور نفخۂ قیام، مگر صحیح بات یہی ہے کہ نفخۂ فزع اور نفخۂ صعق ایک ہی ہے، کیونکہ دونوں کے بعد ”اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ“ ہے۔ صعق کا لفظ بےہوشی اور موت دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے پیدا ہونے والی ابتدائی کیفیت فزع اور گھبراہٹ ہے، جو آخر میں ہر چیز کی ہلاکت اور فنا تک پہنچ جائے گی، پھر ایک طویل وقفے کے بعد، جس کی مدت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا تو سب لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ أَرْبَعُوْنَ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ یَوْمًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَھْرًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءًً فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا یَنْبُتُ الْبَقْلُ ، لَیْسَ مِنَ الإِْنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا یَبْلٰی، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ ، وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ بخاري، التفیسر، باب : (یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا) : 4935 ] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔“ لوگوں نے کہا : ”(ابوہریرہ !) چالیس دن ؟“ انھوں نے کہا : ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا : ”چالیس مہینے ؟“ کہا : ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا : ”چالیس سال ؟“ کہا : ”میں یہ نہیں کہتا۔“ اور حدیث بیان کی : ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا تو لوگ اگ آئیں گے جیسے سبزی اگتی ہے اور انسان کی کوئی چیز نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے جو دم کی ہڈی ہے۔ اسی سے مخلوق کو قیامت کے دن دوبارہ جوڑا جائے گا۔“ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ : یعنی صور میں پھونکے جانے پر زمین و آسمان میں جو بھی ہے گھبرا جائے گا۔ سورة زمر میں فرمایا : (فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ) [ الزمر : 68 ] ”جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گرجائیں گے مگر جسے اللہ نے چاہا۔“ یعنی آسمانوں میں اور زمین میں موجود جو بھی ہے بےہوش ہوجائے گا، ہلاک ہوجائے گا مگر جسے اللہ چاہے۔ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ مفسرین میں سے بعض نے کہا کہ اس سے مراد انبیاء ہیں، بعض نے کہا شہداء، بعض نے ملائکہ اور بعض نے حورعین مراد لی ہیں، مگر ”اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ“ کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے سپرد کردی جائے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ وہ خوش نصیب کون ہیں جو اس نفخہ کے وقت نہ گھبرائیں گے، نہ بےہوش یا ہلاک ہوں گے۔ کیونکہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلنَّاسُ یَصْعَقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَکُوْنُ أَوَّلَ مَنْ یُّفِیْقُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَاءِمَۃٍ مِنْ قَوَاءِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَۃِ الطُّوْرِ ؟) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و واعدنا موسیٰ۔۔) : 3398 ] ”لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوجائیں گے، تو میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ اچانک میں موسیٰ ؑ کو دیکھوں گا کہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، سو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا انھیں طور کی بےہوشی کی جزا دی گئی۔“ تو جب سید الخلق ﷺ (جنھیں زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کی سعادت بھی نصیب ہوئی) اس صعقہ سے مستثنیٰ نہیں تو باقی شہداء یا انبیاء و صلحاء کے متعلق یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے ؟ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کہا جائے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس فزع اور صعقہ سے محفوظ رکھے گا۔ اس ”اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ“ میں بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا اظہار ہوگا کہ صور کی اس خوف ناک آواز کے وقت، جس سے جن، انسان، فرشتے، آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور پہاڑ، غرض ہر چیز فنا ہوجائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس پر اس وقت بھی گھبراہٹ یا فناکا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ : ”دَخَرَ“ کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقارت تینوں باتیں پائی جاتی ہیں، یعنی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : 93 ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا، انھیں گمان کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے، اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ یقینا وہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً۔۔ : یعنی اس وقت صرف انسان ہی نہیں بلکہ وہ پہاڑ جنھیں دیکھ کر تم خیال کرتے ہو کہ اپنی جگہ نہایت مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں، انھیں کوئی چیز ہلا نہیں سکتی، وہ قیامت کے دن بادل کی طرح فضا میں اڑتے پھریں گے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کے مختلف احوال مذکور ہیں، سب کا حاصل یہ ہے کہ ان کو اڑا کر زمین صاف کردی جائے گی۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (105) ، معارج (9) ، حاقہ (14) ، مزمل (14) ، قارعہ (5) ، فرقان (23) اور واقعہ (6) اور ان پر گزرنے والی کیفیات کی ترتیب کے لیے سورة نبا کی آیت (20) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ۔۔ : اتقان کا معنی کسی چیز کو پوری مہارت کے ساتھ مضبوط بنانا ہے، یعنی پہاڑوں کو بادل کی طرح اڑا دینا اس اللہ کی کاری گری ہے جس نے صرف پہاڑ ہی نہیں، بلکہ ہر چیز کو مضبوط اور محکم بنایا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور اس بات کی بھی کہ وہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، حتیٰ کہ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ کیونکہ اتقان قدرت کے بغیر ممکن نہیں اور قدرت علم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے اس علم و قدرت ہی سے قیامت قائم ہوگی اور اسی سے لوگوں کو ان کے افعال کی جزا یا سزا ملے گی، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔

مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا : نیکی سے مراد ہر نیک کام ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد ”لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ“ ، بعض نے اخلاص اور بعض نے فرائض کا ادا کرنا لیا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے عام رکھا جائے، کیونکہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی) ”خیر منھا“ سے مراد دس گنا سے سات سو گنا تک ہے، بلکہ نیکی میں زیادہ اخلاص اور حسن ادا کی برکت سے بغیر حساب بھی ہوسکتا ہے۔ وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ : ”فَزَعٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی وہ اس دن بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ) [ الأنبیاء : 103 ] ”انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی۔“ اگر کم درجہ کی گھبراہٹ ہو تو اس آیت کے منافی نہیں، جیسا کہ آیت (87) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے مگر اسی کا جو تم کیا کرتے تھے۔

وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ۔۔ : یہاں برائی سے مراد شرک ہے، اس پر صحابہ اور بعد کے علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے۔ اس تخصیص کی وجہ وہ ہولناک سزا ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے۔ دلیل اس کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ آگ سجدے کے مقامات کو نہیں کھائے گی (دیکھیے بخاری : 6573) اور سجدے کے مقامات میں سب سے زیادہ معزز مقام چہرہ ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ چہرے کے بل آگ میں گرائے جانے والوں سے مراد موحد مسلمان ہوں۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی اور اسی کے لیے ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوجاؤں۔

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ۔۔ : اس آیت میں قریش مکہ پر چوٹ ہے کہ تم لوگ جو اس شہر میں رہتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت والا اور جائے امن قرار دیا ہے، جہاں نہ کسی کو قتل کیا جاتا ہے، نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے، نہ اس میں شکار کی اجازت ہے، نہ اس کے درخت کاٹنے کی، جس کی وجہ سے تم بیشمار فوائد اٹھا رہے ہو۔ اللہ کے گھر کے متولی ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں تمہاری عزت اور تمہارا وقار قائم ہے۔ سارے عرب میں کسی کی جان اور مال محفوظ نہیں، لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے، ان کے اموال لوٹ لیے جاتے ہیں، مگر بیت اللہ کی وجہ سے مکہ میں بھی تمہیں اس کی نعمت میسر ہے اور ہر جانب سے وافر رزق تمہیں پہنچتا ہے۔ سردی میں یمن کی طرف اور گرمی میں شام کی طرف تمہارے تجارتی قافلے جاتے ہیں۔ کعبہ کے احترام کی وجہ سے کوئی انھیں لوٹنے کی جرأت نہیں کرتا۔ تم بھی مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اس گھر کے رب کی وجہ سے ہے، ان بتوں کی وجہ سے نہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ تمہارا حق تو یہ تھا کہ تم اس شہر کے رب کی عبادت کرتے جس نے تمہیں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن عطا کیا، فرمایا : (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ الَّذِيْٓ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ڏ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ) [ القریش : 3، 4 ] ”تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ وہ جس نے انھیں بھوک سے (بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔“ فرمایا، ان سے کہہ دو تم ان نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو تو تمہاری مرضی، مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں اس گھر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا : (إِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَہُ اللّٰہُ ، لَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ ، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ وَلَا یَلْتَقِطُ لُقَطَتَہُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَھَا) [ بخاري، الحج، باب فضل الحرم۔۔ : 1587 ] ”اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا، نہ اس کے کانٹے والے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کو ڈرایا جائے اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائے، مگر جو اس کا اعلان کرتا رہے۔“ وَلَهٗ كُلُّ شَيْءٍ : یہ لفظ اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اس لیے ہے کہ وہ شہر مکہ کا رب ہے، اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ہر چیز کا مالک بھی وہی ہے، اس لیے مجھے اس کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ وَّاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (161 تا 163)۔
Ayah 27:92

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ میں قرآن پڑھوں، پھر جو سیدھے راستے پر آجائے تو وہ اپنے ہی لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى۔۔ : یعنی مجھے یہ حکم ہے کہ میں خود بھی مطیع اور فرماں بردار رہوں اور تمہیں بھی قرآن پڑھ کر سناتا رہوں۔ پھر جو شخص میری دعوت سے راہ راست پر آجائے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو بھٹکا رہے تو کہہ دے کہ میرا کام اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، کسی کو راہ حق پر لے آنا میرا کام نہیں، نہ ہی مجھ پر اس کی ذمہ داری ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) [ الرعد : 40 ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اور فرمایا : (اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ) [ ھود : 12 ]”تُو تو صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔“
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انھیں پہچان لو گے اور تیرا رب ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : اور کہہ دے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ کسی کے ہدایت قبول کرنے یا نہ کرنے سے اس کی حمد میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اگر تمام جنّ و انس اور پہلے اور پچھلے سب سے متقی شخص کے دل والے ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر تمام جنّ و انس اور اول و آخر سب سے فاجر شخص کے دل والے ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا : عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تو تم انھیں پہچان لو گے کہ ہاں یہ وہی نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا تھا، مگر اس وقت کا پہچاننا تمہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گا۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے، اسلامی فتوحات اور تباہ شدہ قوموں کے آثار بھی ان میں شامل ہیں اور قرب قیامت کی نشانیاں بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ دیکھیے سورة حٰم السجدہ (53)۔ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : آیت کے اس جملے کے تحت ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے جید سند کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا : (فَلَوْ کَان اللّٰہُ مُغْفِلًا شَیْءًا لَأَغْفَلَ مَا تَعَفِّي الرِّیَاحُ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيِ ابْنِ آدَمَ) [ ابن کثیر : 6؍ 219 ] ”اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غفلت کرنے والا ہوتا، تو ابن آدم کے قدموں کے نشانوں سے ضرور غفلت برتتا، جنھیں ہوائیں مٹا دیتی ہیں (مگر اللہ تعالیٰ ان سے بھی غافل نہیں)۔“ مراد یہ آیت ہے : (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ) [ یٰس : 12 ] ”بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔“ اور ابن کثیر نے امام احمد ؒ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے ؂ إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّھْرَ یَوْمًا فَلاَ تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِیْبُ وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفُلُ سَاعَۃً وَ لَا أَنَّ مَا یَخْفٰی عَلَیْہِ یَغِیْبُ ”یعنی جب تو کسی بھی وقت اکیلا ہو تو یہ نہ کہنا کہ میں اکیلا ہوں، بلکہ کہنا کہ مجھ پر ایک زبردست نگران ہے اور نہ کبھی گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہے اور نہ یہ کہ کوئی پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔“