27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔

اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ۔۔ : یہ توحید کی تیسری دلیل ہے کہ وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ مالک تو وہ کائنات کی ہر چیز کا ہے، لیکن یہاں صرف عرش عظیم کا ذکر کیا۔ ایک تو اس لیے کہ عرش الٰہی کائنات کی سب سے بڑی چیز اور سب سے برتر ہے۔ دوسرا یہ واضح کرنے کے لیے کہ ملکہ سبا کا تخت شاہی بھی گو بہت بڑا ہے، مگر اسے عرش عظیم سے کوئی نسبت نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق مستوی ہے۔ یہاں ہد ہد کا کلام ختم ہوا۔ بعض مفسرین نے ان دو آیات کو اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کے کلام کے بعد توحید کی تعلیم کے لیے فرمایا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : (إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ نَھٰی عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ : النَّمْلَۃُ وَالنَّحْلَۃُ وَالْھُدْھُدُ وَالصُّرَدُ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في قتل الذر : 5267 ] ”نبی ﷺ نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور صُرَد (لٹورا) کو۔“
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

کہا عنقریب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا، یا تو جھوٹوں سے تھا۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ : چونکہ ہد ہد نے سزا سے بچنے کے لیے بطور عذر یہ بات بیان کی تھی، اس لیے اس میں غلط بیانی کا بھی امکان تھا، لہٰذا سلیمان ؑ نے اگرچہ سزا سے درگزر فرمایا، تاہم فرمایا کہ ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں سے تھا۔ یہاں یہ الفاظ قابل غور ہیں کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”أَ صَدَقْتَ أَمْ کَذَبْتَ“ یعنی تو نے سچ کہا یا جھوٹ کہا، یہ فرمایا کہ ”یا تو جھوٹوں سے تھا۔“ بقاعی نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ سلیمان ؑ جیسے صاحب جلال بادشاہ کے سامنے جھوٹ بولنے کی جرأت وہی کرسکتا تھا جو عادی جھوٹا ہو، اس لیے فرمایا : ”یا تو جھوٹوں میں سے تھا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی متہم شخص خبر لائے تو لازم ہے کہ اس کے سچا یا جھوٹا ہونے کی تحقیق کی جائے۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ خط لے جا، پس اسے ان کی طرف پھینک دے، پھر ان سے لوٹ آ، پس دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا۔۔ : سلیمان ؑ نے فوراً ہی خبر کی تحقیق کا آغاز کردیا، چناچہ خط لکھا اور ہد ہد کو حکم دیا کہ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف پھینک، پھر ان سے لوٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یعنی ایک طرف رہ کر ان کی باتیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ، پھر آ کر مجھ سے بیان کر۔ یہاں بات کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے کہ ہد ہد وہ خط لے کر گیا اور اسے ملکہ سبا کے پاس لے جا کر پھینک دیا۔ ملکہ اس خط کی آمد کا طریقہ اور اس کا مضمون پڑھ کر حیران رہ گئی۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ ہد ہد سے عام معلومات کی بہم رسانی کے علاوہ خط رسانی کا کام بھی لیتے تھے۔
Ayahs 27:29–31

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

اس (ملکہ) نے کہا اے سردارو ! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے، جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

یہ کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس آجاؤ۔

قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ۔۔ : چناچہ اس نے اپنی سلطنت کے سرداروں اور مشیروں کو جمع کیا اور انھیں مخاطب کرکے کہا : ”اے سردارو ! میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“ ملکہ نے اس خط کو بہت عزت والا اس لیے کہا کہ ایک تو وہ عجیب و غریب اور غیر معمولی طریقے سے آیا تھا، کسی سفارتی وفد کے بجائے ایک پرندے نے اسے لا پھینکا تھا۔ دوسرے وہ سلیمان جیسے باشکوہ بادشاہ کی طرف سے تھا جو شام و فلسطین اور اردگرد کے علاقوں کے فرماں روا تھے۔ تیسرے اس کی ابتدا بتوں یا دیوتاؤں کے نام کے بجائے اللہ رحمٰن ورحیم کے نام سے تھی، پھر اتنا مختصر اور جامع کہ لکھنے والے کی پوری مراد چند لفظوں میں مکمل ادا ہو رہی تھی اور اس نے نہایت بارعب اور پُر ہیبت لہجے میں صاف صاف حکم دیا تھا کہ سرکشی چھوڑ کر اطاعت کرو اور تابع فرمان یا مسلمان بن کر اس کے سامنے حاضر ہوجاؤ۔ 3 اس خط سے خط لکھنے کے کئی آداب معلوم ہو رہے ہیں، ایک یہ کہ خط لکھنے والے کو خط کے شروع میں اپنا تعارف کرانا ضروری ہے کہ یہ خط کس کی طرف سے ہے۔ دوسرا یہ کہ خط کی ابتدا ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے ہونی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ خط مختصر، جامع اور واضح ہونا چاہیے۔ قرآن میں مذکور الفاظ کے مطابق خط لکھنے والے کا نام ”بِسْمِ اللّٰهِ“ سے پہلے ہے، مگر مفسرین فرماتے ہیں کہ ملکہ چونکہ اپنے الفاظ میں خط کا تذکرہ کر رہی تھی، اس لیے اس نے ”مِنْ سُلَيْمٰنَ“ کا ذکر پہلے کردیا، ورنہ ”بِسْمِ اللّٰهِ“ اس سے پہلے ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے خطوط سے واضح ہے کہ ان میں ابتدا اس طرح ہوتی ہے : (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ اِلٰی ھِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ۔۔) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي : 7 ] ”وَاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ“ کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ”میرے پاس تابع فرمان بن کر آجاؤ۔“ یہ شاہی جلال کا آئینہ دار ہے، دوسرا یہ کہ مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ، یہ پیغمبرانہ شان کا اظہار ہے۔ سلیمان ؑ میں دونوں صفات موجود تھیں، اس لیے مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بن کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ، اگر اسلام قبول نہیں تو تابع فرمان تمہیں ہر حال میں ہونا پڑے گا۔ فرمایا : (حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) [ التوبۃ : 29 ] ”یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

کہا اے سردارو ! تم میرے معاملے میں مجھے حل بتاؤ، میں کبھی کسی معاملے کا فیصلہ کرنے والی نہیں، یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود ہو۔

قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ۔۔ : اس سے پہلے ملکہ سبا کی بات چل رہی ہے، ”يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ۔۔“ بھی اسی کا کلام ہے۔ بظاہر درمیان میں ”قَالَتْ“ لانے کی ضرورت نہ تھی۔ بقاعی فرماتے ہیں : ”کلام کے درمیان وقفہ ہے کہ ملکہ سبا سلیمان ؑ کا خط سنا کر منتظر تھی کہ قوم کے سردار اس پر اپنا رد عمل ظاہر کریں گے، مگر جب وہ خط سن کر خاموش اور مبہوت رہ گئے، تو اس نے کہا : ”اے سردارو ! میرے اس معاملے میں مجھے حل بتاؤ۔“ 3 اس سے ملکہ کی دانش مندی اور سمجھ داری ظاہر ہے کہ وہ ہر کام اپنے سرداروں کے مشورے سے کرتی تھی اور یہ بھی کہ سبا کا نظام بادشاہی ہونے کے باوجود استبدادی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ طرز حکومت کوئی بھی ہو، بادشاہت ہو یا خلافت، یا جمہوریت، مشورے کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ بادشاہت کو مطلق العنانی اور جمہوریت کو مشورہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ ایک بادشاہ ہر کام مشورے سے کرنے والا ہوسکتا ہے، عادل بادشاہ ایسے ہی ہوتے ہیں اور ایک جمہوری سربراہ بدترین مطلق العنان آمر ہوسکتا ہے، جو پارلیمنٹ کے ارکان کو ان کی خواہشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے داغ دار بنا کر اپنی مرضی کے تابع رکھنے پر مجبور رکھنے والا ہو۔ اس وقت تقریباً دنیا کے تمام جمہوری سربراہوں کا یہی حال ہے، بلکہ جمہوریت جس میں عوام کے لفظ کی گردان ذکر الٰہی کی طرح کی جاتی ہے، صرف عوام کو ایک دفعہ رائے کا حق دیتی ہے، پھر وہ چار پانچ سال تک بےبسی سے اپنے چنے ہوئے نمائندوں کی مطلق العنانی کے زخم کھاتے رہتے ہیں۔ اسلام میں مطلق العنان بادشاہت یا جمہوریت دونوں کا وجود نہیں۔ یہاں خلیفہ ہو یا بادشاہ، اللہ تعالیٰ کے احکام کو، جو قرآن و حدیث میں ہیں، کوئی چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں نافذ کرنے کا پابند ہے۔ اس کے بعد دوسرے معاملات میں وہ مشورہ کرنے کا پابند ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ) [ الشورٰی : 38 ] ”اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے۔“ اور فرمایا : (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ) [ آل عمران : 159 ] ”اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ مگر اس کے لیے نہ ہر ایک سے مشورہ ضروری ہے نہ وہ اکثریت کی رائے کا پابند ہے، بلکہ وہ ہر کام میں ان لوگوں سے مشورہ لے گا جو اس کے اہل ہیں اور چونکہ فیصلے کے نفع نقصان کا ذمہ دار وہ ہے، اس لیے آخری فیصلہ اسی کا ہوگا، جو بعض اوقات اقلیت کی رائے کے مطابق بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا : (لَوْ أَنَّکُمَا تَتَّفِقَانِ عَلٰی أَمْرٍ وَاحِدٍ مَا عَصَیْتُکُمَا فِيْ مَشْوَرَۃٍ أَبَدًا) [ فتح الباري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول اللہ تعالیٰ : (و أمرھم شورٰی۔۔) : 13؍341 ] ”اگر تم کسی بات پر متفق ہوجاؤ تو میں اس معاملے میں کبھی تمہاری مخالفت نہیں کروں گا۔“ مشورے کی ایک مثال ملکہ سبا کے سرداروں کی مجلس ہے کہ انھوں نے مشورہ دے کر کہا : (وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ) [ النمل : 33 ]”اور معاملہ تیرے سپرد ہے، سو دیکھ تو کیا حکم دیتی ہے۔“
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم بڑی قوت والے اور بہت سخت جنگ والے ہیں اور معاملہ تیرے سپرد ہے، سو دیکھ تو کیا حکم دیتی ہے۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ۔۔ : سرداروں نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہم بڑی قوت والے اور سخت جنگجو ہیں، یعنی اسلحہ، فوج اور تیاری ہر لحاظ سے پورے ہیں، مگر ہم آپ کے حکم کے بغیر کچھ بھی کرنے والے نہیں، آپ غور و فکر کرلیں کہ کیا حکم دیتی ہیں، ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کردیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں سے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور اسی طرح یہ کریں گے۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً۔۔ : ملکہ ان سے زیادہ سمجھ دار تھی اور سلیمان ؑ کے متعلق ان سے زیادہ علم رکھتی تھی، انھوں نے اگرچہ جنگ کے حق میں رائے دی تھی، مگر اسے معلوم تھا کہ سلیمان ؑ کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہ جنّ اور پرندے بھی شامل ہیں اور وہ ان کا کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتی۔ وہ ہد ہد کے ذریعے سے آنے والے خط کا عجیب و غریب مشاہدہ بھی کرچکی تھی۔ اس لیے اس نے کہا، مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم نے ان سے مقابلے اور لڑائی کا ارادہ کیا تو وہ اپنے لشکروں کے ساتھ حملہ آور ہو کر مجھے اور تم سب سرداروں کو خاص طور پر ذلیل و خوار یا ہلاک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں بزور شمشیر داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اور اس کے باشندوں میں سے جو عزت والے ہوں انھیں ذلیل کردیتے ہیں، قتل کرکے یا قیدی بنا کر، کیونکہ وہ ان کی موجودگی کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ : یہ ملکہ سبا کا قول بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے اطاعت قبول نہ کی تو یہ لوگ بھی ایسے ہی کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہوسکتا ہے کہ ملوک ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اللہ کا ڈر نہ رکھنے والے بادشاہوں کا یہی حال ہوتا ہے، کیونکہ ان کی مہم جوئی اور دوسری قوموں پر چڑھائی اعلائے کلمۃ اللہ اور کسی نیک مقصد کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ محض اپنی برتری کے اظہار اور دوسری قوموں کو اپنا غلام بنانے کے لیے اور ان کے تمام وسائل پر قبضے کے لیے ہوتی ہے۔ چناچہ اس مقصد کے لیے وہ ظلم کی کسی صورت سے بھی دریغ نہیں کرتے، حتیٰ کہ بعض اوقات شہروں کے شہر آگ لگا کر جلا دیتے ہیں۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور بیشک میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجنے والی ہوں، پھر انتظار کرنے والی ہوں کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں۔

وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ۔۔ : اس کے بعد اس نے طے کیا کہ حالات کا جائزہ لیتی رہے اور سلیمان ؑ سے موافقت کرکے صلح کرلے۔ چناچہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ میں اس کی طرف ان کے شایان شان تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے قاصدوں کو کیا جواب دیتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ تحفہ قبول کرلیں اور ہم ہر سال کچھ رقم بطور جزیہ بھیجتے رہیں اور وہ ہم پر چڑھائی کا خیال ترک کردیں۔ یہ خاتون اپنے شرک کی حالت اور اسلام کی حالت دونوں میں بہت عقل مند تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کسی کے شوق کے مطابق تحفہ وہ چیز ہے جو لوہے کو بھی نرم کردیتا ہے، اور اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں، اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں، پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں، پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مُضِر ہے۔ مفسرین نے ان تحائف کی عجیب و غریب تفصیلات بیان کی ہیں جو سب اسرائیلیات ہیں، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

تو جب وہ سلیمان کے پاس آیا تو اس نے کہا کیا تم مال کے ساتھ میری مدد کرتے ہو ؟ تو جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔

فَلَمَّا جَاۗءَ سُلَيْمٰنَ۔۔ : جب سفیر تحائف لے کر سلیمان ؑ کے پاس آیا تو انھوں نے وہ تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور صاف کہہ دیا کہ مجھے تمہارے مال و دولت سے کوئی غرض نہیں اور نہ میں مال و دولت کی رشوت لے کر اپنے ارادے سے باز رہ سکتا ہوں۔ میں یہ دولت لے کر کیا کروں گا، وہ تو میرے پاس پہلے ہی تم سے بہت زیادہ موجود ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ میں تم سے مال و دولت لے کر خوش ہوجاؤں اور تمہیں کفر و شرک پر قائم رہنے دوں ؟ ”اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ“ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہدیہ مال و زر کی صورت میں تھا۔ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ : ”فَرِحَ“ کا معنی خوش ہونا بھی ہے اور پھول جانا بھی، یعنی یہ تمہارا ہی کام ہے کہ اس قسم کے تحفوں سے خوش ہوجاتے ہو اور پھول جاتے ہو، مجھے تو اگر تحفہ چاہیے تو تمہارے ایمان کا چاہیے، اگر تم اس پر آمادہ نہیں تو لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کے پاس واپس جا، اب ہر صورت ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہیں اور ہر صورت انھیں اس سے اس حال میں ذلیل کر کے نکالیں گے کہ وہ حقیر ہوں گے۔

اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ۔۔ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، یعنی یہ تحفے تحائف لے کر واپس چلے جاؤ اور انھیں بتاؤ کہ اگر وہ تابع فرمان ہو کر حاضر نہ ہوئے تو ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہ ہوگی۔ وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَآ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ : ذلت یہ کہ سلطنت اور حکومت چھن جائے گی اور ”صغار“ (حقارت اور پستی) یہ کہ غلام اور قیدی بنیں گے، یا جلاوطن کیے جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف ملکہ سبا کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مسلمانوں کو تمام دنیا کے کفار سے لڑتے رہنے کا حکم ہے، حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دینے کی ذلت قبول کریں اور مسلمانوں کے سامنے پست اور حقیر ہوں، جیسا کہ فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) [ التوبۃ : 29 ] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ افسوس ! اس کتاب ہدایت نے تو سلیمان ؑ کے واقعہ کے ساتھ بھی اور صریح الفاظ میں بھی مسلمان کو حکم دیا تھا کہ تمام دنیا کے کفار سے لڑتے رہو، حتیٰ کہ وہ اسلام قبول کرلیں یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دے کر مسلمانوں کے ماتحت ہو کر زندگی بسر کریں، مگر مسلمانوں نے یہ سبق بھلا دیا اور شہادت اور جنت کی لذتوں کی طلب کے بجائے دنیائے فانی کے عیش و عشرت میں کھو گئے اور جہاد سے ہاتھ اٹھا بیٹھے۔ نتیجہ کفار کی ذلّت و پستی کے بجائے مسلمانوں کی ذلّت و پستی کی صورت میں سب کے سامنے ہے اور بقول امام مالک ؓ : ”لَنْ یَّصْلُحَ آخِرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ إِلَّا بِمَا صَلُحَ بِہِ أَوَّلُھَا“ [ شرح سنن أبي داوٗد لعبد المحسن العباد : 2؍334 ] ”اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی نسخے کے ساتھ ہوگی جس کے ساتھ اس امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی۔“
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

کہا اے سردارو ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لے کر آئے گا، اس سے پہلے کہ وہ فرماں بردار ہو کر میرے پاس آئیں ؟

قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا۔۔ : آیات کے سیاق سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ جب قاصد ملکہ سبا کے پاس پہنچا اور اس نے سلیمان ؑ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور ان کا پیغام پہنچایا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی، چناچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آپ کے ہاں حاضر ہو کر آپ کے ساتھ گفت و شنید کرے۔ چناچہ وہ اپنے لشکر اور سرداروں کے ساتھ روانہ ہوئی، ابھی وہ راستے میں تھی اور پہنچا ہی چاہتی تھی کہ سلیمان ؑ نے اپنے سرداروں کو مخاطب کرکے فرمایا : ”تم میں سے کون ہے جو اس کا تخت میرے پاس اس سے پہلے لے آئے کہ وہ تابع فرمان ہو کر میرے پاس آئیں۔“ سلیمان ؑ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ جب وہ یہاں پہنچ کر اپنے تخت کو موجود پائے تو اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو کیسی غیر معمولی قوتیں عطا فرماتا ہے، تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ میں واقعی اللہ کا نبی ہوں اور اس کی عقل کا بھی امتحان ہوجائے کہ کچھ تبدیلی کے بعد وہ اپنا تخت پہچانتی ہے یا نہیں۔ بعض مفسرین نے سلیمان ؑ کے ملکہ کا تخت منگوانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اس کے پہنچنے سے پہلے اس کے تخت پر قبضہ کرلینا چاہتے تھے، کیونکہ جب وہ پہنچ کر اسلام قبول کرلے گی تو اس کے مال پر قبضہ جائز نہ ہوگا۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ سلیمان ؑ کے پاس تو ہر چیز ملکہ سے کہیں بہتر اور بڑھ کر موجود تھی اور کسی شخص کے مسلمان ہونے کی امید پر اس کی مدد کے بجائے پہلے ہی اس کے اموال پر قبضہ جمانے کی فکر کرنا ایک نبی تو دور خلفائے اسلام کی شان کے لائق بھی نہیں۔ ویسے بھی پہلی امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنوں میں سے ایک طاقتور شرارتی کہنے لگا میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آؤنگا کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور بلاشبہ میں اس پر یقینا پوری قوت رکھنے والا، امانت دار ہوں۔

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ :۔۔ :”عِفْرِيْتٌ“ کا مادہ ”اَلْعَفَرُ“ ہے، جس کا معنی مٹی ہے۔ تفسیر مراغی میں ہے : ”اَلْعِفْرِیْتُ مِنَ الْبَشَرِ : اَلْخَبِیْثُ الْمَاکِرُ الَّذِيْ یُعَفِّرُ أَقْرَانَہُ“ ”وہ خبیث مکار جو اپنے مقابل لوگوں کو مٹی پر گرا دے۔“ مراد جو طاقت ور ہو اور شریر ہو۔ ایک بہت طاقت ور شریر جن کہنے لگا، آپ اپنی جس مجلس میں بیٹھے ہیں آپ کے اس سے اٹھ کر جانے سے پہلے وہ تخت میں آپ کے پاس لے آؤں گا اور میں اسے لانے کی پوری قوت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں، یعنی کسی ہیرے، جوہر یا قیمتی چیز کی خیانت نہیں کروں گا۔ معلوم ہوتا ہے اس کی شہرت اچھی نہ تھی، اس لیے اسے اپنی صفائی پیش کرنا پڑی۔ (واللہ اعلم) سلیمان ؑ کے پاس ایسے شیاطین بڑی تعداد میں موجود تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ) [ الأنبیاء : 82 ] ”اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے۔“
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آتا ہوں کہ تیری آنکھ تیری طرف جھپکے۔ پس جب اس نے اسے اپنے پاس پڑا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں، یا ناشکری کرتا ہوں اور جس نے شکر کیا تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو یقینا میرا رب بہت بےپروا، بہت کرم والا ہے۔

قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ۔۔ : ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ سلیمان ؑ نے فرمایا : ”میں اس سے جلدی چاہتا ہوں۔“ اس پر وہ شخص جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، کہنے لگا : ”میں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے لاتا ہوں کہ آپ کی آنکھ جھپکے۔“ سلیمان ؑ نے دیکھا تو وہ تخت ان کے پاس پڑا ہوا تھا۔ اس پر تکبر اور غرور کے بجائے انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ 3 آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا یہ شخص کون تھا، اس کے پاس کس کتاب کا علم تھا اور وہ علم کیا تھا ؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے مکلف ہیں جتنی قرآن میں بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک شخص تھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ وہ سلیمان ؑ کا ایک وزیر آصف بن برخیا تھا، جو بنی اسرائیل سے تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کا علم تھا جس کے ذریعے سے اگر دعا کی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے اور وہ تخت لانا آصف بن برخیا کی کرامت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ ان مفسرین کی یہ بات اسرائیلیات سے ہے، کیونکہ یہ حضرات نہ اس وقت موجود تھے، نہ یہ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ بات کس نے بتائی اور نہ ان سے لے کر سلیمان ؑ تک کوئی سند ہے کہ اس پر یقین کیا جاسکے۔ بعض مفسرین نے اسے جبریل ؑ اور بعض نے خضر ؑ قرار دیا ہے، مگر یہ بالکل ہی بےاصل ہے۔ بعض مفسرین نے سلیمان ؑ کو وہ شخص قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب عفریت نے سلیمان ؑ کے مجلس سے اٹھنے سے پہلے تخت لانے کی بات کی تو سلیمان ؑ نے، جن کے پاس کتاب اللہ کا علم تھا، اسے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے تیرے پاس لاتا ہوں۔ چناچہ وہ اسے لے آئے اور یہ ان کا معجزہ تھا، جس پر انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ رازی اور کچھ اور مفسرین نے صرف اس بات کو صحیح کہا ہے، مگر اس میں جو تکلف ہے وہ مخفی نہیں۔ زمانہ حال کے ایک مفسر محمد اسحاق خاں نے ایک احتمال کا ذکر کیا ہے جو ان سے پہلے بھی ایک جدید مفسر ذکر کرچکے ہیں، وہ لکھتے ہیں : ”علم کتاب سے بظاہر یہاں مراد خداوند قدوس کی کتاب و شریعت یعنی تورات کا علم ہے کہ اپنے دور میں علم اور ہدایت و نور کا سرچشمہ وہی کتاب الٰہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم کتاب کو اسمائے الٰہی اور خواص کلمات کے اس علم کا بھی کوئی حصہ حاصل تھا جو سحر اور شعبدہ وغیرہ جیسے سفلی علوم کے مقابلے کے لیے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری کے دور میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کے ذریعے سے قدرت کی طرف سے عطا فرمایا گیا تھا۔ یہ علم تورات وغیرہ آسمانی صحیفوں میں سے کسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان سے الگ ایک خاص علم تھا جو ایک خاص دور میں اور خاص ضرورت و مصلحت کے لیے بنی اسرائیل کو سکھایا گیا تھا۔ جس طرح کہ اس کا ذکر سورة بقرہ میں ہاروت و ماروت کے قصے کے ضمن میں فرمایا گیا ہے۔ سو علم کتاب و شریعت رکھنے والے اس شخص نے اپنے اسی علم کی تاثیر و تسخیر کے ذریعے سے ملکہ بلقیس کے اس تخت کو اس قدر جلد سلیمان ؑ کے پاس حاضر کردیا۔“ لیکن یہ بھی تکلف سے خالی نہیں ہے۔ قرآن مجید اور تفاسیر کے مطالعہ کے بعد دو باتیں زیادہ قریب معلوم ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی مراد ہوسکتی ہے۔ (واللہ اعلم) پہلی یہ کہ سلیمان ؑ نے اپنے جن سرداروں سے تخت لانے کی فرمائش کی وہ تین قسم کے لشکروں کے سردار تھے۔ جن، انس اور طیر یعنی پرندے، ان میں جبریل ؑ بطور سردار شامل نہیں تھے اور خضر ؑ کا اس وقت تک زندہ ہونا اور سلیمان ؑ کے سرداروں میں شامل ہونا، پھر اتنی طاقت کا مالک ہونا بالکل ہی بےسروپا بات ہے۔ غالب احتمال یہ ہے کہ یہ تخت لانے والا کوئی صالح جن تھا جو ان جنوں میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کے تابع کر رکھے تھے۔ جنوں کی سرعت انتقال مسلم ہے، یعنی وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتے ہیں، جیسا کہ وہ آسمان دنیا کے نیچے فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، اتنی تیزی سے نہ انسان منتقل ہوسکتا ہے نہ پرندے۔ آج کل تیز رفتار سے تیز رفتار طیارے بھی اتنی تیزی سے کار روائی نہیں کرسکتے جتنی تیزی کا دعویٰ عفریت نے کیا تھا۔ الفاظ قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عفریت (خبیث سرکش) جن نے گھنٹے دو گھنٹے یا اس سے کم و بیش وقت میں وہ تخت محافظوں اور کمروں سے نکال کر لانے کا اور اتنی طاقت رکھنے کا دعویٰ کیا تو وہ شخص جو کتاب کا ایک علم رکھتا تھا، اسے چشم زدن میں لے آیا۔ ”الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ“ میں ”الَّذِيْ“ سے مراد انسان بھی ہوسکتا ہے اور جن بھی۔ یہ لفظ صرف انسان کے ساتھ خاص نہیں کہ کہا جائے کہ وہ انسان ہی تھا۔ اس لیے یا تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ عفریت کی سرعت مجلس سے اٹھنے تک کی تھی، مگر کتاب کا ایک علم رکھنے والے صالح جن کی سرعت آنکھ جھپکنے سے بھی تیز تھی۔ ایک دوسرا احتمال ہمارے استاذ حافظ محمد گوندلوی ؓ بیان فرماتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کی کیفیت بیان نہیں فرمائی، کیونکہ نزول قرآن کے وقت بیان کی جاتی تو وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی۔ مثلاً آج سے دو سو سال پہلے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا کہ ہزاروں میل کے فاصلے سے تصویر ایک جگہ سے دوسری جگہ آنکھ جھپکنے میں پہنچ سکتی ہے تو کوئی شخص اسے تسلیم نہ کرتا، مگر آج یہ بات حقیقت بن کر سب کے سامنے آچکی ہے۔ اس طرح سلیمان ؑ کے اس سردار کے پاس وہ علم بھی تھا جس سے کوئی مادی وجود بھی آنکھ جھپکنے میں ہزاروں میل کے فاصلے سے منتقل ہوسکتا ہے۔ آج کل سائنس دان اس کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت سلیمان ؑ کے ساتھ ہی خاص تھی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ) [ صٓ : 35 ] ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ رہی یہ بات کہ یہ علم رکھنے والا جنّ تھا یا انسان، تو یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ انسان تھا تو کچھ بعید نہیں کہ وہی ہو جس کا نام ہمارے مفسرین نے اہل کتاب سے آصف نقل کیا ہے۔ بہرحال نام معلوم ہونا نہ ضروری ہے نہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ نام ضرور بتادیتا۔ سلیمان ؑ کی سلطنت کی عظمت ہر حال میں مسلّم ہے، جو ان کے بعد نہ کسی کو عطا ہوئی ہے نہ ہوگی۔ اگر یہ قوت طبعی علم کے تحت ہو پھر بھی سلیمان ؑ کا معجزہ ہی ہے کہ ان کے زیر فرمان اس قسم کے اصحاب کمال تھے جو بعد میں کسی کو میسر نہیں ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ طبعی علم، ”عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ“ کیسے ہوگیا، تو جواب اس کا یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں طبعی علوم کی طرف بہت توجہ دلائی گئی ہے، چناچہ فرمایا : (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ) [ البقرۃ : 164 ] ”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں۔“ اور دیکھیے سورة آل عمران اور دوسری بہت سی آیات۔ 3 ہمارے زمانے کے کچھ اولیاء پرست حضرات کہتے ہیں کہ جب سلیمان ؑ کے ایک امتی ولی میں اتنی طاقت تھی تو امت محمد ﷺ کے اولیاء کی طاقت تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے آنکھ جھپکنے میں کسی کو کہیں سے کہیں پہنچا دینا اولیائے کرام کی قوت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ مگر ان حضرات کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ اگر ایسے اولیاء موجود ہیں تو وہ سلیمان ؑ کے امتی ولی کی طرح امریکہ، برطانیہ، اسرائیل یا بھارت کے کفار کو چیلنج کیوں نہیں دیتے اور ان کے ایٹم بم اٹھا کر کیوں نہیں لے آتے، کفار کی غلامی پر قناعت کیوں کیے بیٹھے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی ﷺ تمام انبیاء سے افضل اور ہماری امت تمام امتوں سے افضل ہے، مگر دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت، مثلاً جنوں اور پرندوں کی فوج یا دنیا کے علوم میں سے کوئی علم کسی اور پیغمبر یا اس کی امت کو عطا ہوجائے جو امت مسلمہ کے پاس نہ ہو تو اس سے امت مسلمہ کی افضلیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ دوسرے پیغمبروں اور ان کی امتوں کی فضیلت جزوی ہے، ہمارے نبی اور آپ کی امت کی فضیلت کلی ہے۔ ہمارے نبی اور آپ کے صحابہ نے بھی جہاد کے ذریعے سے دنیا فتح کی اور اسلام کا بول بالا کیا، حالانکہ ان کے پاس وہ وسائل نہ تھے جو سلیمان ؑ کے پاس تھے۔ اتنے کم وسائل رکھتے ہوئے حیرت انگیز شجاعت اور بےمثال قربانی کے ساتھ سلیمان ؑ سے زیادہ علاقوں کو اسلام کے زیر نگیں لانا سید الانبیاء اور آپ کی امت کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ : بقاعی نے فرمایا : ”بظاہر اتنے الفاظ ہی کافی تھے کہ ”فَلَمَّا رَآہُ عِنْدَہُ“ کیونکہ ”عِنْدَہُ“ کا لفظ ”مُسْتَقِرٌّ“ محذوف ہی کے متعلق ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ کو ظاہر کرنے اور صرف ”عِنْدَہٗ“ کے بجائے ”مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حقیقت میں اپنے پاس پڑا ہوا پایا، جو نہ جادو کا اثر تھا، نہ خواب اور نہ ہی کوئی مثالی صورت۔“ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ۔۔ : جب سلیمان ؑ نے وہ تخت فی الواقع آنکھوں کے سامنے پڑا ہوا دیکھا تو بجائے پھولنے یا فخر و غرور کے اپنے رب کے فضل کا اعتراف کیا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں کہ مجھے ایسے علم والے ساتھی میسر ہیں، بلکہ یہ صرف اور صرف میرے رب کا فضل ہے جس کا مقصد میری آزمائش ہے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا کفر کرتا ہوں۔ کفر کا لفظ شکر کے مقابلے میں بھی آتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں بھی۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی نعمت کی قدر کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس پر ایمان بھی لے آتا ہے اور جو اس کی نعمت کی بےقدری اور ناشکری کرتا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے بھی محروم رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعمت چھین کر بھی آزمائش ہوتی ہے اور نعمت دے کر بھی۔ مومن مصیبت پر صبر کرتا ہے اور آزمائش میں کامیاب ہوجاتا ہے، پھر نعمت پر شکر کرتا ہے تب بھی کامیاب ہوتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ صبر وہی کرتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ اس واقعہ میں سلیمان ؑ کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ اتنی عظیم سلطنت اور حیرت انگیز قوتوں والے لشکر رکھنے کے باوجود نہ ان کے دل میں فخر کا کوئی خیال آیا، نہ ہی زبان پر کوئی ایسا لفظ آیا، بلکہ انھوں نے ہر نعمت کو اللہ کا فضل ہی قرار دیا۔ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ۔۔ : یعنی جو شکر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نہیں کرتا، اس کا فائدہ خود اسی کو ہے، کیونکہ اس سے اسے مزید نعمتیں حاصل ہوں گی، جیسا کہ فرمایا : (لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ) [ إبراھیم : 7 ] ”کہ بیشک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا۔“ اور جو اللہ کی نعمتوں کی بےقدری اور ان کا انکار کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ اسے نہ بندوں کی کوئی ضرورت یا پروا ہے، نہ ان کی عبادت کی، کیونکہ وہ غنی ہے اور اتنے بیحد کرم والا ہے کہ بندوں کے کفر اور ناشکری کے باوجود نعمتیں دیتا ہی چلا جاتا ہے اور فوری گرفت کے بجائے اس نے مہلت دے رکھی ہے، تاکہ بندے اس کی طرف پلٹ آئیں۔ اس مفہوم کی اور بھی آیات ہیں، جیسے فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) [ حٰآ السجدۃ : 46 ] ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہوگی۔“ اور فرمایا : (وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) [إبراھیم : 8 ] ”اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بیشک اللہ یقیناً بڑا بےپروا، بیحد تعریف والا ہے۔“ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی کہ اس نے فرمایا : (یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ ، مَا زَادَ ذٰلِکَ فِيْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، قَامُوْا فِيْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُوْنِيْ ، فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ، یَا عِبَادِيْ ! إِنَّمَا ھِيَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیْھَا لَکُمْ ، ثُمَّ أُوَفِّیْکُمْ إِیَّاھَا، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَہُ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2577 ] ”اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور تمہارے آخر اور تمہارے انس اور تمہارے جن تم میں سے کسی سب سے زیادہ متقی شخص کے دل پر ہوجائیں (یعنی اس جیسے ہوجائیں) ، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور تمہارے آخر اور تمہارے انس اور تمہارے جن تمہارے کسی سب سے فاجر شخص کے دل پر ہوجائیں (یعنی اس جیسے ہوجائیں) ، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ کمی نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور تمہارے آخر اور تمہارے انس اور تمہارے جن ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں، پھر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو دے دوں جو اس نے مانگا، تو یہ میرے ملک میں سے اتنا ہی کم کرے گا جتنا ایک سوئی جب سمندر میں داخل کی جائے۔ اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جو میں تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہوں، تو جو خیر پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

کہا اس کا تخت اس کے لیے بےپہچان کردو، تاکہ ہم دیکھیں کیا وہ راہ پر آتی ہے، یا ان لوگوں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا : سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں ایسی تبدیلی کر دو کہ اس کی پہچان نہ ہو سکے۔ نَنْظُرْ اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ۔۔ : تاکہ اس کی عقل و دانش اور فہم و فراست کا امتحان کریں کہ وہ یہ بات جان لیتی ہے کہ یہ تخت اسی کا ہے، یا اسے سمجھ نہیں پاتی، اور اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر (ایمان باللہ کی) راہ پر آتی ہے، یا پھر بھی انھی لوگوں میں شامل رہتی ہے جو یہ راہ نہیں پاتے۔ ”اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ“ میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہم اس سے پہلے علم دیے گئے تھے اور ہم فرماں بردار تھے۔

فَلَمَّا جَاۗءَتْ قِيْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ۔۔ : جب ملکہ سبا آئی تو سلیمان ؑ نے اس سے پوچھا : ”کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟“ سلیمان ؑ کے سوال میں ان کی کمال ذہانت ظاہر ہو رہی ہے، انھوں نے یہ نہیں فرمایا کہ کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ کیونکہ اس میں جواب کا بھی اشارہ ہوجاتا اور وہ کہہ دیتی کہ ہاں ! یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس کے بجائے سلیمان ؑ نے موجودہ تخت کو الگ تخت ظاہر کیا اور پوچھا : ”کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟“ ملکہ کے جواب سے اس کی عقل مندی معلوم ہوتی ہے، اگر وہ کہتی کہ ہاں میرا تخت ایسا ہی ہے تو ثابت ہوجاتا کہ اس نے اپنا تخت نہیں پہچانا اور اگر کہتی کہ یہ وہی ہے تو شناخت بدلنے کی وجہ سے اسے ایسا کہنا مشکل تھا، اس لیے اس نے تھوڑے سے شک کے الفاظ کے ساتھ کہا : ”یہ تو گویا وہی ہے۔“ اس طرح وہ امتحان میں کامیاب ہوگئی۔ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ : یعنی ہمیں تو اس سے پہلے ہی آپ کی قوت و شوکت اور عظیم سلطنت کا علم ہوگیا تھا اور ہم تابع فرمان ہوچکے تھے، اسی لیے خدمت میں حاضر ہوگئے ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلا شبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔

وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ۔۔ : یعنی اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود اسے ایمان لانے سے روکا تو آفتاب نے جسے وہ اللہ کے سوا معبود بنا بیٹھی تھی اور اسے چھوڑنے پر تیار نہ تھی اور اس کے سورج پرستی پر جمے رہنے کی وجہ بھی اس کی ہٹ دھرمی نہ تھی، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ کافر قوم سے تھی اور اپنی قوم کے رسم و رواج کو ترک کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔ یہ ترجمہ ”مَا“ موصولہ کی صورت میں ہے۔ ”مَا“ مصدریہ کی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ”اور اسے (ایمان لانے سے) روکا تو اس عبادت نے جو وہ اللہ کے سوا معبودوں کی کرتی تھی۔“ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے : ”سلیمان ؑ نے اسے ان چیزوں سے روک دیا جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتی تھی۔“ حافظ ابن کثیر اور دوسرے ائمہ نے اس معنی کے بجائے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ ملکہ سبا نے شیشے کے ملائم فرش کو پانی سمجھنے کی غلطی پر متنبہ ہونے کے بعد ایمان قبول کیا، اس سے پہلے وہ اپنی قوم کے رسم و رواج پر قائم تھی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہوجا۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اس نے کہا یہ تو شیشے کا صاف ملائم بنایا ہوا فرش ہے۔ اس (ملکہ) نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہوگئی۔

قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ۔۔ :”قَوَارِیْرَ“ ”قَارُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، شیشے۔ ”لُجَّةً“ بہت زیادہ اور گہرا پانی۔ ”مُّمَرَّدٌ“ ”ملائم، چکنا بنایا ہوا۔“ ”صَرْحٌ“ کا معنی محل بھی ہے اور صحن بھی۔ یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز سلیمان ؑ کا خط اور اس کا عجیب و غریب طریقے سے پہنچنا تھا، جس میں اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری چیز سلیمان ؑ کا اس کے بیش قیمت ہدیوں کو واپس کردینا اور لشکر کشی کی دھمکی تھی۔ تیسری چیز تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے اس کے تخت کا اس کے آنے سے پہلے پہنچ جانا تھا۔ ابتدائی ملاقات اور گفتگو کے بعد اسے سلیمان ؑ کے محل میں چلنے کے لیے کہا گیا، جب اس نے صحن کو دیکھا تو سمجھی کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا، جیسے گہرے پانی سے گزرنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ کیونکہ وہ بلور کا فرش تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی کہ شیشے کے بجائے گہر ا پانی دکھائی دیتا تھا۔ سلیمان ؑ نے فرمایا کہ یہ پانی نہیں بلکہ نہایت صفائی کے ساتھ شیشوں کو جوڑ کر بنایا ہوا چکنا ملائم فرش ہے۔ 3 محل میں داخلے کے اس واقعہ سے سلیمان ؑ کی کمال حکمت معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے ملکہ سبا کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اختیار فرمائی۔ شیشے کے اس محل اور صحن کا اہتمام سلیمان ؑ نے اس لیے فرمایا کہ ملکہ کو پتا چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بہت بڑھ کر سامان موجود ہے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انھیں رب سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان (یعنی سلیمان ؑ کی عقل کا کمال معلوم ہوا، سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔“ (موضح) اس چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آ رہا ہے۔ اس میں سلیمان ؑ کی کمال حکمت کے ساتھ ملکہ کی کمال دانائی اور ذہانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سلیمان ؑ جو بات اسے اس طریقے سے سمجھانا چاہتے تھے، وہ سمجھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو ہی اس پر صحیح اثر انداز ہوتی ہے۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ۔۔ : فرش کی حقیقت سے آگاہی ملکہ کے لیے توحید سے آگاہی کا ذریعہ بن گئی۔ چناچہ اس نے کہا، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اب تک شرک میں مبتلا رہی اور تجھے بھلائے رکھا اور اب میں سلیمان ؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آئی اور اس کی مکمل فرماں بردار بن گئی۔ تنبیہ : سلیمان ؑ کے اس قصے میں بہت سی باتیں اسرائیلیات سے داخل کردی گئی ہیں، مثلاً یہ کہ ملکہ سبا کی ماں جنات سے تھی اور یہ کہ سلیمان ؑ نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کے پاؤں تو گدھے کے جسم جیسے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔ اس پر انھوں نے بلور کا یہ محل بنوایا، تاکہ اس کے کپڑا اٹھانے سے اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھ سکیں۔ جب اس نے کپڑا اٹھایا اور سلیمان ؑ نے دیکھا کہ وہ تو نہایت خوب صورت تھی، ہاں ! اس کی پنڈلیوں پر بال تھے، انھوں نے جنوں سے پوچھا کہ ان بالوں کا کیا کریں تو انھوں نے بال صفا پاؤڈر ایجاد کیا، چناچہ سلیمان ؑ نے اس سے نکاح کرلیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بےاصل ہیں، بلکہ سلیمان ؑ جیسے شخص کی ذات پر لگائی گئی کمینی تہمتیں ہیں، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے : (نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ) [ صٓ : 44 ] ”(سلیمان) اچھا بندہ تھا، یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“ اصل حقیقت یہی ہے کہ سلیمان ؑ نے جو کچھ بھی کیا اسلام کی دعوت پھیلانے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا اور ان کے یہ تمام واقعات ہمارے لیے سبق ہیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ۔۔ : اس کا عطف ”وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا“ پر ہے اور یہ موسیٰ اور داؤد و سلیمان کے قصوں کے بعد تیسرا قصہ ہے۔ اس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، شعراء (141 تا 159) ، قمر (23 تا 32) اور شمس (11 تا 15) ملکہ سبا اور اس کی قوم عزت و سلطنت کے باوجود سلیمان ؑ کی دعوت پر اسلام لے آئی۔ اب صالح ؑ کی قوم کا ذکر ہوتا ہے جو صالح ؑ کی بعثت پر دو گرہوں میں بٹ گئی۔ ایک مومن و مسلم جو عموماً ”مستضعفین“ (کمزور) تھے، دوسرا کافر و منکر جو ”مستکبرین“ (متکبر لوگ) تھے۔ دو گروہ بنتے ہی ان کے درمیان سخت جھگڑا شروع ہوگیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ) [ الأعراف : 75، 76 ] ”اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، ان لوگوں سے کہا جو کمزور گنے جاتے تھے، ان میں سے انھیں (کہا) جو ایمان لے آئے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ واقعی صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا بیشک ہم جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس پر ایمان لانے والے ہیں۔ وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بیشک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔“ یہی صورت حال رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ مکہ میں بھی پیدا ہوئی کہ قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور یہ جھگڑا اس وقت تک جاری رہا جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے جزیرۂ عرب پورے کا پورا اسلام کے زیر نگیں نہیں آگیا اور کفار یا تو ذلیل و خوار ہو کر مردار ہوئے یا اسلام کے سایۂ رحمت میں آگئے۔ یہ قصہ ان حالات کے عین مطابق تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

کہا اے میری قوم ! تم بھلائی سے پہلے برائی کیوں جلدی مانگتے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قَالَ يٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔۔ : ”اَلسَّیِّءَۃُ“ سے مراد عذاب ہے اور ”اَلْحَسَنَةَ“ سے مراد رحمت ہے۔ صالح ؑ نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو ڈرنے کے بجائے انھوں نے اسے مذاق بنا لیا اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ صالح ؑ نے نہایت نرمی اور محبت سے ”اے میری قوم !“ کہہ کر انھیں نصیحت کی کہ بجائے اس کے کہ تم اللہ سے خیر و رحمت کے طلب گار بنو، الٹا اس سے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ اہل مکہ کے لیے اس واقعہ میں سبق تھا، کیونکہ وہ بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ ۭ وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَهُمُ الْعَذَابُ ۭ وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ) [ العنکبوت : 53 ] ”اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا اور یقیناً وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔“ حتیٰ کہ وہ یہاں تک کہہ گزرے : (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ الأنفال : 32 ] ”اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔“ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ۔۔ : یعنی عذاب میں تاخیر سے حاصل ہونے والی مہلت سے فائدہ اٹھا کر تم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے، کیونکہ عذاب آجانے پر توبہ و استغفار کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بدشگونی پکڑی ہے۔ کہا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے، بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔

قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ۔۔ :”اطَّيَّرْنَا“ اصل میں ”تَطَیَّرْنَا“ ہے، (ہم نے بدشگونی لی) تاء کو ساکن کرکے طاء میں ادغام کیا اور پہلا حرف ساکن ہوجانے کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصلی کا اضافہ کردیا۔ ادغام کی وجہ سے بدشگونی کے معنی میں شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ صالح ؑ کو جھٹلانے والوں نے کہا کہ ہم نے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ساتھ بدشگونی پکڑی ہے اور تمہیں منحوس ہی پایا ہے کہ آئے دن ہم پر آفات و مصائب کا ہجوم رہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کا باعث تم اور تمہارے ساتھی ہیں۔ آل فرعون پر جب مختلف عذاب آئے تو انھوں نے بھی یہی بات کہی تھی : (فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ) [ الأعراف : 131 ] ”تو جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔“ سورة یٰس میں مذکور بستی کے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں سے یہی کہا تھا : (اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ) [ یٰسٓ : 18 ] ”بیشک ہم نے تمہیں منحوس پایا ہے، یقیناً اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔“ ہمارے نبی ﷺ کو بھی کفار ایسے ہی کہتے تھے : (وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا) [ النساء : 78 ] ”اور اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے، پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔“ قَالَ طٰۗىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (131) کی تفسیر۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ : یعنی تمہارے مصائب کا سبب ہمارا منحوس ہونا نہیں، بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ اب تمہارا امتحان شروع ہے کہ تم آفات و مصائب سے سبق حاصل کرکے ایمان قبول کرتے ہو یا کفر پر جمے رہتے ہو۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں نو شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔

وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ۔۔ : قوم ثمود کے شہر کا معروف نام ”حجر“ ہے۔ سورة حجر کا نام اسی شہر کے نام پر ہے۔ یہ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستے پر پڑتا ہے۔ اس شہر میں نو (9) بدمعاش تھے، جو ملک میں فساد کرتے تھے اور یہ نہیں کہ تھوڑی بہت خرابی کرتے ہوں اور کچھ اچھے کام بھی کرتے ہوں، بلکہ فرمایا کہ وہ کوئی اچھا کام کرتے ہی نہیں تھے۔ جن میں سب سے نمایاں وہ ملعون تھا جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں، دوسرے آٹھ اس کے ساتھی تھے۔ اس ملعون کا تذکرہ سورة شمس میں ہے۔ ان کے نام بعض روایات میں آتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ثابت نہیں۔ بعض لوگ اس قصے کی وجہ سے نو (9) کے عدد کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسی بدشگونی سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انھوں نے کہا آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ ہم ضرور سچے ہیں۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ۔۔ : ”لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ“ ”بَیَّتَ یُبَیِّتُ تَبْیِیْتًا“ شب خون مارنا، رات کو اچانک حملہ کرنا۔ جب ان لوگوں نے باہمی مشورے سے اونٹنی کو ہلاک کردیا اور صالح ؑ نے انھیں تین دن بعد عذاب آنے سے خبردار کردیا تو اس کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں، اس سے پہلے کیوں نہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ تمام کردیں۔ چناچہ ان نو بدمعاشوں نے صالح ؑ کے قتل کا ویسا ہی منصوبہ بنایا جیسا قریش مکہ نے ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا بنایا تھا۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے سوچا تھا کہ بدلے کی صورت میں قتل کرنے پر ہم سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ ہم سب مل کر اکٹھی کرکے دے دیں گے۔ لیکن یہ بدمعاش ان سے بھی چار ہاتھ آگے کی بات سوچ رہے تھے، انھوں نے طے کیا کہ جب صالح (ؑ) کے ولی (جیسے رسول اللہ ﷺ کے ولی بنو ہاشم تھے) ہم سے کوئی بات پوچھیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم تو موقع پر موجود ہی نہ تھے، ہمیں کیا خبر انھیں کون قتل کر گیا ہے ؟ دوسرا فرق یہ تھا کہ قریش مکہ نے صرف رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا، جب کہ ان بدمعاشوں نے صالح ؑ اور ان کے پورے خاندان کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا اور اپنے اس منصوبے کے معاہدے پر سب نے ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھائیں کہ ایک تو اس کو اور اس کے خاندان کو قتل کرکے دم لیں گے، دوسرے اپنے جرم کا کبھی اعتراف نہیں کریں گے۔ (کیلانی) 3 مفسر شنقیطی نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے صالح ؑ کو ان کے اولیاء کے ذریعے سے بہت نفع پہنچایا، کیونکہ ظاہر ہے کہ ان نو (9) بدمعاشوں نے شب خون مار کر صالح ؑ اور ان کے خاندان کو قتل کرنے اور اس کا اعتراف نہ کرنے کا منصوبہ اسی لیے بنایا کہ وہ ان کے اولیاء کے خوف سے علانیہ قتل کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے اور قتل کرنے کی صورت میں بھی انھیں ان کے اولیاء کا خوف تھا۔“ جیسا کہ قریش ابوطالب اور بنو ہاشم کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ پر علانیہ ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔
Ayahs 27:50–51

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انھوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال چلی اور وہ سوچتے تک نہ تھے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پس دیکھ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا کہ بیشک ہم نے انھیں اور ان کی قوم، سب کو ہلاک کر ڈالا۔

وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا۔۔ : ان کی چال تو وہ منصوبہ تھا جس پر انھوں نے آپس میں قسمیں کھائیں اور اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ اس نے دوسرے انبیاء کی طرح صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ ان کے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قوم ثمود کے پورے علاقے میں شدید زلزلے کا عذاب آیا، جیسا کہ فرمایا : (فَاَخذَتْھُمُ الرَّجفَةُ) [ الأعراف : 78 ] ”تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا۔“ جس کے ساتھ خوف ناک چیخ کی آواز بھی تھی، فرمایا : (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحة) [ ھود : 67۔ القمر : 31 ] ”اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا۔“ جس سے ان کی بستیاں برباد ہوگئیں اور وہ نو (9) بدمعاش اور ان کی قوم کے لوگ سب ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 27:52–53

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

تو یہ ہیں ان کے گھر گرے ہوئے، اس کے باعث جو انھوں نے ظلم کیا۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو جانتے ہیں۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور بچتے رہے تھے۔

فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ :”خَاوِيَةًۢ“ کا معنی گرنے والے بھی ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ (259) میں ہے : (وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا) اور خالی بھی ہے، جیسے : ”أَرْضٌ خَاوِیَۃٌ أَيْ خَالِیَۃٌ۔“ (قاموس) مکہ والے شام کو جاتے تو راستے میں وادی القریٰ میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے، عالی شان عمارتیں پیوند زمین تھیں، آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔۔ : یعنی جاہلوں کے لیے ان اجڑے ہوئے مکانوں اور کھنڈروں میں کوئی عبرت نہیں، ان کے خیال میں اس زلزلے کا صالح ؑ اور ان کی اونٹنی سے، یا اس قوم کے کفر و شرک یا سرکشی سے کوئی تعلق نہیں، دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ (دیکھیے اعراف : 94، 95) یہ علم والے ہی ہیں جو جانتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ایک کمال حکمت و قدرت والے پروردگار کے حکم کے تحت ہو رہا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے بےراہ روی اور ظلم و ستم کی سزا دنیا میں بھی دے دیتا ہے، اس لیے وہ جب ایسی بستیوں پر گزرتے ہیں جو عذاب الٰہی سے برباد ہوئیں تو ان سے عبرت حاصل کرتے اور اللہ کی گرفت سے ڈر کر توبہ و استغفار کرتے ہیں۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بےحیائی کو آتے ہو، جب کہ تم دیکھتے ہو۔

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ۔۔ : لوط ؑ کے قصے کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80 تا 84) ، ہود (77 تا 83) ، حجر (61 تا 77) ، انبیاء (71 تا 75) ، شعراء (160 تا 175) ، عنکبوت (28 تا 35) ، صافات (133 تا 138) اور قمر (33 تا 39)۔ صالح ؑ کے واقعہ کے بعد، جو قرابت رکھنے والوں کی طرف مبعوث تھے اور جن کی قوم مومن و کافر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی، اس پیغمبر کا ذکر کیا جو اپنی قوم میں اجنبی تھا اور جس پر اہل سدوم میں سے ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا، یہ پیغمبر لوط ؑ تھے۔ ”اَلْفَاحِشَةُ“ وہ کام جو برائی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ ”تبصرون“ یہ بصیرت سے بھی ہوسکتا ہے اور بصارت سے بھی۔ بصیرت سے ہو تو مطلب یہ کہ تم یہ انتہائی بےحیائی کا کام کرتے ہو جب کہ خود بھی سمجھتے ہو کہ یہ گندا اور خلاف فطرت فعل ہے، جو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا اور حقیر سے حقیر جانور بھی ایسا کام نہیں کرتے اور بصارت سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ تم اس قدر بےحیا ہوچکے ہو کہ ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے یہ کام کرتے ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ) [ العنکبوت : 29 ] ”اور تم اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو۔“