Ayah 26:1طٰسۗمّۗ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (1)۔
Ayah 26:2تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : یہ تمہیدی فقرہ اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو اس سورت میں آگے بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی ﷺ سے کوئی نشانی (معجزہ) مانگتے تھے، تاکہ اسے دیکھ کر انھیں اطمینان ہوجائے کہ آپ واقعی یہ پیغام اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا، اگر کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں، مزید کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ہر واقعہ کے آخر پر دہرایا ہے : (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً) [ الشعراء : 8 ] ”بیشک اس میں یقیناً عظیم نشانی ہے۔“ یعنی قرآن میں آنے والی ہر آیت اور ہر واقعہ ہی معجزہ ہے، جو قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہے اور جس کا جواب لانے سے پوری مخلوق عاجز ہے۔
Ayah 26:3لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ۔۔ : اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورة کہف کی آیت (6) اور سورة فاطر کی آیت (8) کی تفسیر۔
Ayah 26:4اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ۔۔ : آسمان سے نشانی اتارنے سے مراد وہ معجزے دکھانا ہے جن کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ (سعدی) یعنی اگر ہم چاہیں تو آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، جس کے آنے کے بعد ان کے لیے مانے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، کیونکہ دنیا امتحان کا گھر ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اپنے اختیار سے لائے، نہ کہ کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت۔ اس لیے ہم نے انبیاء و رسل بھیجے، صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ حقیقت قرآن میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (99) ، ہود (118، 119) اور غاشیہ (21، 22) اور ہم اس لیے بھی نشانی نہیں اتارتے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو بن دیکھے ہو، جب غیب ہی سے پردہ اٹھ گیا، پھر کوئی ایمان لائے بھی تو اسے کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ) [ المؤمن : 85 ] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔“ اور دیکھیے سورة حجر (6 تا 8) اور فرقان (21، 22)۔
Ayah 26:5وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ۔۔ : سورة انبیاء کی آیت (42) میں ہے : (عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ) اور یہاں فرمایا : (مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰن) اس کی مناسبت یہ ہے کہ آپ جن کے غم میں پڑے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ رحمٰن اپنی رحمت سے جب ان کی بھلائی کے لیے کوئی نصیحت بھیجتا ہے، تو وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ ”مُحْدَثٍ“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ معاملہ اس نصیحت کے ساتھ ہے جو بار بار نئی سے نئی آتی رہتی ہے، اگر ایک آدھ دفعہ ہی آتی تو ان کا کیا حال ہوتا، اس لیے ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک مت کریں۔
3 ”إِلَّا أَعْرَضُوْا عَنْہُ“ (مگر اس سے منہ موڑ لیتے ہیں) کے بجائے فرمایا : (اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ) ”مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں“ اس میں ان کے مسلسل اعراض کا بیان ہے۔
3 قرآن مجید کے محدث ہونے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (2) کی تفسیر۔
Ayah 26:6فَقَدْ كَذَّبُوْا۔۔ : یعنی یہ لوگ صرف اعراض تک ہی نہیں رہے بلکہ انھوں نے صاف جھٹلا دیا اور اس سے بڑھ کر ان چیزوں کا مذاق بھی اڑانے لگے جن کے آنے کی رسول ﷺ نے خبر دی تھی، جیسا کہ ”مكَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ“ سے معلوم ہو رہا ہے۔
فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : یعنی پیغمبر نے انھیں جن چیزوں کے واقع ہونے کی خبریں دیں، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے، وہ بہت جلد ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گی اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ حق تھیں۔ اس میں کفار کے لیے سخت وعید ہے۔ دیکھیے سورة انعام (4، 5)۔
اَنْۢبٰۗـؤُا ”نَبَأٌ“ کی جمع ہے، کسی بڑے واقعہ کی خبر کو ”نَبَأٌ“ کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ) [ الأنعام : 34 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تیرے پاس ان رسولوں کی کچھ خبریں آئی ہیں۔“ ”اَنْۢبٰۗـؤُا“ جمع کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی بہت سی باتوں کا مذاق اڑاتے رہے تھے، مثلاً قیامت، دنیا میں ان کو ملنے والی سزا، مسلمانوں کا غالب آنا، فتح مکہ، جہنم کا عذاب اور زقوم کا درخت وغیرہ۔
Ayah 26:7اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ۔۔ : اصل میں واؤ عطف پہلے ہے اور ہمزہ بعد میں ہے، چونکہ ہمزہ استفہام کلام کے شروع میں ہوتا ہے، اس لیے واؤ عطف کو بعد میں کردیا۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جملہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی ”أَلَمْ یَرَوْا إِلَی السَّمَاءِ وَ أَلَمْ یَرَوْا إِلَی الْأَرْضِ“ ”کیا انھوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا۔“ یہ اختصار کلام اللہ کا اعجاز ہے۔ (بقاعی) یعنی اگر وہ رسول پر اترنے والی آیات کو جھٹلائیں اور ان کا مذاق اڑائیں تو اس میں کون سا تعجب ہے، کیا انھوں نے اس سے پہلے آسمان، زمین اور اس میں پائی جانے والی ہر قسم کی بیشمار عمدہ ترین چیزیں نہیں دیکھیں ؟ اگر انھوں نے اپنے خالق ومالک پر اور اس کی توحید پر ایمان لانا ہوتا تو یہ سب کچھ بطور دلیل کیا کم تھا، جب انھیں اس سے عبرت نہیں ہوئی تو آپ پر نازل ہونے والی آیات سے انھیں کیا عبرت ہوگی۔
Ayah 26:8اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : یعنی آسمان و زمین اور اس میں پائی جانے والی بیشمار نفیس ترین چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان کے اکثر شروع ہی سے ایمان لانے والے نہ تھے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ) [ الذاریات : 20، 21 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟“ مزید دیکھیے سورة یوسف (105) ، حٰم السجدہ (9، 10) اور لقمان (10، 11)۔
Ayah 26:9وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : ”اِنَّ“ کے اسم ”رَبَّكَ“ اور خبر ”الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ“ دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے اور درمیان میں ”لَھُو“ ضمیر لانے سے قصر میں مزید زور پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی تیرا رب ہی ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے سوا کوئی غالب نہیں، وہ زبردست قوت والا ہے، جو چاہے کرسکتا ہے، ان کی نافرمانیوں پر انھیں آنکھ جھپکنے میں پکڑ سکتا ہے، مگر وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے، توبہ کرنے پر عمر بھر کی نافرمانیوں کو معاف کردیتا ہے۔ اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے موقع پر موقع دیے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔
Ayahs 26:10–11وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي : یہاں سے عبرت کے لیے پہلی قوموں کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں، جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کو جھٹلانے اور ان کا مذاق اڑانے کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے پچھلی آیت : (فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) کی تائید اور وضاحت مقصود ہے۔ (شوکانی) اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔ اس کے لیے ابتدا موسیٰ ؑ اور پھر ابراہیم ؑ کے واقعات سے فرمائی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی بہت سی چیزوں میں مشارکت ہے، مثلاً ہجرت، جہاد اور ارض مقدس کو حاصل کرنے کی آرزو وغیرہ۔ موسیٰ ؑ کو وہ کتاب ملی جو قرآن کے بعد انتہائی جامع کتاب ہے اور انھیں بہت سے معجزے ملے۔ قرآن میں ان کا اور ان کی قوم کا ذکر سب سے زیادہ کیا گیا ہے۔
3 یہ واقعہ اس سے پہلے سورة بقرہ، اعراف اور طٰہٰ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اور آگے سورة قصص میں بھی آ رہا ہے۔
اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : اس قوم کا نام قبط تھا، انھیں ظالم اس لیے فرمایا کہ وہ کفر و شرک کر کے اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، فرعون کو رب اعلیٰ مان رہے تھے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر، ان کے بیٹوں کو قتل کر کے اور عورتوں کو باقی رکھ کر ان پر بھی ظلم کر رہے تھے۔
اَلَا يَتَّقُوْنَ : فرمایا، یہ لوگ بےتحاشا ظلم و ستم کرتے ہی چلے جا رہے ہیں، کیا انھیں خوف نہیں کہ کوئی ان سے باز پرس کرنے والا بھی ہے ! !
Ayahs 26:12–13وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ : یعنی اتنے بڑے کام کے لیے جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔
وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ : یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔
فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ : تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھیے طٰہٰ : 31۔ قصص : 34) موسیٰ ؑ نے ہارون ؑ کا تعاون حاصل کرنے کے لیے درخواست کی نہ کہ رسالت سے سبکدوشی کے لیے۔ (شوکانی)
Ayah 26:14وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ۔۔ : یعنی مجھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہوگیا ہے، جو ان کے کہنے کے مطابق میرا جرم ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة قصص (15) میں آرہی ہے، مختصر یہ کہ موسیٰ ؑ نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر گھونسا مار دیا، جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی، پھر جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلا لینے کے لیے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر انبیاء ؑ کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 26:15قَالَ كَلَّا۔۔ : فرمایا، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، نہ وہ تمہیں قتل کرسکیں گے، نہ کوئی ایذا پہنچا سکیں گے۔ تمہاری ہارون کو معاون نبی بنانے کی درخواست بھی قبول ہے، اس لیے تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔
فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَآ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ : ہمت بندھانے کے لیے دو چیزیں عطا فرمائیں، پہلی عصا اور ید بیضا کے معجزے، دوسری اپنی معیت کا وعدہ۔ عام معیت تو کائنات کی ہر چیز کو حاصل ہے، یہاں معیت سے مراد معیت خاصہ ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کی فوج کے آ پہنچنے پر فرمایا تھا : (اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ) [ الشعراء : 62 ] ”ہرگز نہیں ! بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔“ اور جیسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھی کے لیے کہا تھا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) [ التوبۃ : 40 ] ”غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ”سَمِعَ“ ”اس نے سنا“ اور ”اِسْتَمَعَ“ اس نے کان لگا کر سنا۔“ ”لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا“ میں ضمیر ”کُمْ“ تثنیہ کے لیے استعمال ہوئی ہے، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا : (لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى) [ طٰہٰ : 46 ] ”ڈرو نہیں، بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔“
Ayah 26:16فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ : موسیٰ ؑ کو دو ہدف دے کر بھیجا گیا تھا، ایک فرعون کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا (دیکھیے نازعات : 17 تا 19) اور دوسرا بنی اسرائیل کو آزادی دلانا۔ (دیکھیے طٰہٰ : 47)۔
فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے فرعون کے سامنے جا کر گفتگو کی ابتدا اس بات سے کرنے کا حکم دیا کہ ہم ”رب العالمین کے رسول“ (پیغام پہنچانے والے) ہیں، یعنی ہم جو کچھ تمہیں کہہ رہے ہیں وہ ہماری بات نہیں، بلکہ رب العالمین کا پیغام اور اس کا فرمان ہے جو ہم تمہیں پہنچا رہے ہیں۔ ”رب العالمین“ کے لفظ کے ساتھ واشگاف الفاظ میں اسے بتایا کہ وہ (فرعون) رب نہیں ہے۔ رب وہ ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے، جن میں فرعون بھی شامل ہے۔ اس میں توحید کا اعلان بھی ہے، کیونکہ ”عالمین“ کا لفظ پوری کائنات کو شامل ہے، جن میں فرعون اور قبطیوں کے تمام معبود بھی شامل ہیں، مثلاً سورج، چاند، ستارے اور گائے وغیرہ۔ گویا اس چھوٹے سے جملے میں توحید و رسالت دونوں کا پیغام موجود ہے۔
Ayah 26:17اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : موسیٰ اور ہارون ؑ کو فرعون کی طرف توحید و رسالت کے ساتھ یہ پیغام بھی دے کر بھیجا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر دے اور انھیں ان کے ساتھ ان کے آبا و اجداد کی سرزمین میں جانے دے۔
Ayahs 26:18–19قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا۔۔ : یہاں لمبی بات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ کر حذف کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی ہیبت عطا فرمائی کہ وہ دونوں کسی فوج یا اسلحے کے بغیر فرعون کے دربار میں پہنچے، اس کی فوج اور پہرے داروں میں سے کسی کو انھیں روکنے کی جرأت نہ ہوسکی اور دربار میں پہنچ کر انھوں نے اس کے تمام سرداروں کی موجودگی میں اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ فرعون نے موسیٰ ؑ کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ اصل رسول وہی ہیں، ہارون صرف معاون ہیں، اس لیے اس نے موسیٰ ؑ ہی کو مخاطب کیا، ہارون ؑ سے بات نہیں کی۔ موسیٰ ؑ سے بات کرتے ہوئے اس نے ان کی دعوت پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے حکمرانوں کے عام ہتھکنڈے استعمال کیے، جن میں سے پہلا ہتھکنڈا ان کی پرورش کا احسان جتا کر شرمندہ کرنا تھا۔ چناچہ کہنے لگا کہ کیا ہم نے تجھے اپنے پاس رکھ کر تیری اس وقت پرورش نہیں کی جب تو بچہ تھا اور تو اپنی عمر کے کئی برس ہم میں رہا۔ دوسرا ہتھکنڈا انھیں مجرم ثابت کرکے سزا سے خوف زدہ کرنا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ پرورش کے احسان سے شرمندہ ہو کر یا جان کے خوف سے وہ زبان بند رکھیں گے۔ چناچہ کہنے لگا : ”اور تو نے اپنا وہ کام کیا جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے“ یعنی ہمارے اتنے احسانات کے باوجود تم نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا جو یقیناً تمہاری احسان فراموشی تھی۔ ”اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا“ (کیا ہم نے تیری اپنے ہاں پرورش نہیں کی) کے الفاظ سے ان مفسرین اور مؤرخین کی بات کی کسی قدر تائید ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ یہ فرعون وہ نہیں تھا جس کے گھر موسیٰ ؑ کی پرورش ہوئی تھی، بلکہ اس کا بیٹا تھا، کیونکہ اگر یہ وہی ہوتا تو کہتا، کیا میں نے تیری پرورش نہیں کی اور تو کئی سال میرے پاس رہا ؟ (واللہ اعلم)
Ayah 26:20قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ : ”اَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ“ ”میں اس وقت ضلالت والوں سے تھا۔“ لفظ ”ضلالت“ ہر جگہ گمراہی کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ عربی زبان میں اسے ناواقفیت، نادانی، خطا اور بھول وغیرہ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ قبطی کے قتل کے واقعہ کو دیکھیں تو یہاں اس کا معنی نادانی، خطا یا بھول ہی ہوسکتا ہے، کیونکہ نہ ان کا ارادہ اسے قتل کرنے کا تھا اور نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ ایک گھونسے سے اس کا کام تمام ہوجائے گا۔ موسیٰ ؑ نے پہلے اس کے اس طعن کا جواب دیا جس سے وہ انھیں مجرم ثابت کرنا چاہتا تھا، کیونکہ جرم ثابت ہونے سے وہ قصاص کے مستحق ٹھہرتے تھے۔ چناچہ انھوں نے دھمکی کا جواب کسی خوف کے بغیر نہایت دلیری سے دیا کہ ہاں، وہ کام میں نے کیا ہے، مگر میں نے اس وقت یہ کام جان بوجھ کر نہیں کیا، نہ میرا یہ ارادہ تھا کہ اسے قتل کروں، مجھے کیا خبر تھی کہ ایک گھونسے میں اس کا دم نکل جائے گا، کبھی ایک گھونسے سے بھی موت واقع ہوا کرتی ہے ؟ مجھ سے یہ کام دانستہ نہیں خطا اور بھول سے ہوا ہے اور کیا کسی قانون میں خطا سے ہونے والے کام کو جرم قرار دیا جاتا ہے ؟
Ayah 26:21فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ۔۔ : یعنی اس وقت کی بات چھوڑو جب میں خطا کاروں سے تھا، حاضر وقت کی بات کرو، جو یہ ہے کہ جب میں تمہارے خوف سے تمہارے ہاں سے بھاگ گیا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا، یعنی نبوت و علم بخشا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ اب میں وہ موسیٰ نہیں جو خطا کاروں سے تھا، اب میں اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوں اور تمہارے پاس اس کا پیغام لانے والا ہوں۔
Ayah 26:22وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ۔۔ : یہ اس کے پہلے طعن کا جواب ہے، یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی، حالانکہ اس کا سبب تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا، میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کرکے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔
Ayah 26:23قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : فرعون نے جب دیکھا کہ وہ موسیٰ ؑ کو خوف زدہ نہیں کرسکا اور وہ کسی صورت توحید کی دعوت سے اور بنی اسرائیل کی آزادی کے مطالبے سے باز آنے والے نہیں تو وہ مجادلے پر اتر آیا۔ عموماً مناظرے کا کامیاب اسلوب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدّ مقابل کو سوالات میں الجھا دیا جائے۔ تو اس کے مطابق اس نے کہا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) ”اور رب العالمین کیا ہے ؟“ واؤ عطف اس لیے ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک سوال کرچکا تھا : (اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا) یہ اس پر عطف ہے۔ یہاں مفسرین عام طور پر لکھتے ہیں کہ ”مَا“ کے ساتھ کسی چیز کی حقیقت کے متعلق سوال ہوتا ہے، چونکہ مخلوق خالق کی حقیقت کا ادراک کر ہی نہیں سکتی، اس لیے موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے آثار کو اس کے تعارف کے لیے پیش فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا، لفظ ”مَا“ کے ساتھ سوال ہو تو ”مَا“ کے بعد والی چیز کی وہ حقیقت معلوم کرنا مقصود ہوتی ہے جس سے وہ دوسری چیزوں سے الگ ہوجائے۔ اس لیے کسی کی قوم یا قبیلہ معلوم کرنا ہو تو ”مَا“ کے ساتھ سوال ہوتا ہے، جیسا کہ فارس کے ساتھ ایک جنگ میں کسریٰ کے جرنیل کی مغیرہ بن شعبہ ؓ سے گفتگو ہوئی تو اس نے پوچھا : (مَا أَنْتُمْ ؟) ”تم کیا ہو ؟“ تو انھوں نے فرمایا : (نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ) [ بخاري، الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ۔۔ : 3159 ] ”ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں۔“
3 قبطیوں کے ہاں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، مشرکین کا علم الاصنام سراسر باطل ہونے کی وجہ سے نہایت پُر پیچ اور ناقابل فہم ہوتا ہے۔ فرعون کی سلطنت میں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، فرعون بھی ان کی خدائی کو مانتا تھا۔ (دیکھیے اعراف : 127) اس کے باوجود وہ ان تمام معبودوں کا نمائندہ بن کر اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا اور کہلواتا تھا، جیسا کہ فرمایا : (فَحَشَرَ فَنَادٰى فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) [ النازعات : 23، 24 ] ”پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔ پس اس نے کہا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ کبھی یہ کہتا : (يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ) [ القصص : 38 ] ”اے سردارو ! میں نے اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”رب العالمین“ کو نہیں جانتا تھا، اس لیے اس نے پوچھا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ”رب العالمین“ کو اچھی طرح جانتا تھا، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے اسے فرمایا تھا : (لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ) [ بني إسرائیل : 102 ] ”بلاشبہ یقیناً تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کی قوم کے متعلق شہادت دی ہے، فرمایا : (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) [ النمل : 14] ”اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کردیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کرچکے تھے۔“ معلوم ہوا اس کا سوال ”وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ“ تجاہل عارفانہ تھا، وہ جاننے کے باوجود ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سورة طٰہٰ میں اس کا سوال یہ نقل ہوا ہے : (فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى) [ طٰہٰ : 49 ] ”تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ! ؟“
Ayah 26:24رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : موسیٰ ؑ نے جواب دیا، رب العالمین وہ ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اگر تم میں کسی چیز پر یقین کرنے کی صلاحیت ہے تو اس بات پر یقین کے سوا تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں، تم تو زمین کے ایک نہایت چھوٹے سے قطعہ مصر پر حکومت کی وجہ سے رب اعلیٰ بن رہے ہو، حالانکہ تم نے مصر کو نہ پیدا کیا نہ اہل مصر کو روزی دے رہے ہو۔ تو وہ جس نے زمین و آسمان اور وہ سب کچھ پیدا فرمایا جو ان دونوں کے درمیان ہے اور ان کی پرورش بھی کر رہا ہے۔ غور کرو تمہیں کس بات پر یقین آتا ہے، اپنے رب ہونے پر یا اس کے رب ہونے پر جو آسمانوں کا، زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا خالق ومالک اور رازق ہے ؟
Ayah 26:25قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ : ظاہر ہے فرعون رب اعلیٰ ہونے کا لاکھ دعویٰ کرے، آسمان و زمین کے ایک ذرّے کا خالق و پروردگار نہیں تھا اور اپنی اوقات کو خوب جانتا تھا، جب وہ موسیٰ ؑ کی بات کا جواب نہ دے سکا تو بات کو خلط ملط کرنے، اپنے درباریوں کو ابھارنے اور موسیٰ ؑ اور ان کی دلیل کو بےوزن بنانے کے لیے کہنے لگا، کیا تم غور سے سنتے نہیں، یہ شخص کیسی عجیب بات کر رہا ہے ؟ کیا ایسی بات کبھی تمہارے سننے میں آئی بھی ہے ؟
Ayah 26:26قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ : فرعون نے درباریوں کو بھڑکایا تو موسیٰ ؑ نے انھیں بھی خطاب میں شامل کرلیا اور فرمایا ”رب العالمین“ وہ ہے جو تمہارا اور تمہارے پہلے آبا و اجداد کا رب ہے، جو پہلے بھی موجود تھا، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ یہ بات اگرچہ ”رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ کے ضمن میں آچکی تھی کہ آسمان و زمین تو فرعون کی پیدائش سے پہلے پیدا ہوچکے تھے، یہ ان کا رب کیسے بن گیا، مگر موسیٰ ؑ بات کو مزید قریب کرکے ان کے اور ان کے باپ دادا تک لے آئے کہ سوچو، جب تمہارے باپ یا دادا موجود تھے تو رب ہونے کے یہ مدعی صاحب کیا اس وقت موجود تھے ؟ اور آئندہ جب تمہاری اولاد کی اولاد ہوگی تو اس وقت یہ رب صاحب کہاں ہوں گے ؟
Ayah 26:27قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ : موسیٰ ؑ کی دلیل اتنی واضح اور زبردست تھی کہ فرعون اس کا جواب دینا چھوڑ کر موسیٰ ؑ کی ذات پر حملہ آور ہوگیا اور کہنے لگا، یقیناً تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔ موسیٰ ؑ کے چہرے پر حکمت و دانائی اور نور فراست کے آثار ان کے دیوانہ یا پاگل ہونے کی نفی کر رہے تھے، اس لیے فرعون نے ”لَمَجْنُوْن“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ انھیں مجنون قرار دیا کہ یقیناً یہ ضرور پاگل ہے۔
Ayah 26:28قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔۔ : شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”موسیٰ ؑ ایک بات کہے جاتے تھے اللہ کی قدرتیں بتانے کو اور فرعون بیچ میں اپنے سرداروں کو ابھارتا تھا کہ ان کو یقین نہ آجائے۔“ پاگل ہونے کے الزام کے جواب میں موسیٰ ؑ نے اب وہ دلیل پیش کی جو ان کے جدّ امجد ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے پیش کی تھی کہ ”رب العالمین“ وہ ہے جو مشرق و مغرب اور ان کے مابین کا رب ہے، جو ہمیشہ سے سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے، تمہیں رب ہونے کا زعم ہے تو ذرا سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا دو۔
اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ : مجھے دیوانہ بتاتے ہو اور خود عقل مند ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، اگر تم میں واقعی عقل ہے تو بتاؤ کہ رب وہ ہے جس کے حکم سے سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہوتا ہے، یا تم جو ایک دفعہ بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ پہلی دفعہ موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق نرم لفظ استعمال فرمائے، یعنی ”ۭاِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ“ لیکن جب اس نے مجنون ہونے کا الزام لگایا تو موسیٰ ؑ نے سخت الفاظ استعمال فرمائے ”ۭاِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ“ کہ اگر تم سمجھتے ہو۔ (ابن جزیّ)
Ayah 26:29قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــهًا غَيْرِيْ۔۔ : ہر ظالم و جابر اور باطل کے علم بردار حکمران کا وتیرہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھاتا ہے تو آخری حربے کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتا ہے کہ یا تو ہمارے غلط کو بھی صحیح مانو، ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجاؤ۔ فرعون نے بھی آخر میں صاف کہہ دیا کہ مصر میں میرے سوا کوئی خدا نہیں اور نہ کسی کا حکم چلے گا، اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو تمہارے لیے قید خانہ تیار ہے۔
لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ : فرعون نے موسیٰ ؑ کو یہ کہنے کے بجائے کہ ”لَأَسْجُنَنَّکَ“ (میں تجھے قید کر دوں گا) یہ کہا کہ ”میں تجھے قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔“ اس میں وہ موسیٰ ؑ کو نہایت خوفناک نتیجے سے ڈرا رہا تھا کہ ان لوگوں کا حال دیکھ لو جنھیں میں نے قید کر رکھا ہے، تمہیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دوں گا۔ واضح رہے کہ آخرت کا منکر اور جواب دہی کے احساس سے عاری ہونے کی وجہ سے فرعون نہایت سنگدل تھا اور انسانیت اور رحم سے یکسر ناآشنا تھا، وہ اپنے مخالفوں سے قید خانے میں جو سلوک کرتا ہوگا بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کو پیش نظر رکھ کر اس کا تصور کچھ مشکل نہیں۔
Ayah 26:30قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ : جب فرعون لاجواب ہوگیا اور قید خانے کی دھمکی دینے لگا تو موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے معجزے پیش کرنے کی پیش کش کی اور اس کے لیے نہایت نرم الفاظ اور نرم لہجہ اختیار فرمایا کہ ہوسکتا ہے وہ ان کے صدق کی واضح دلیل دیکھ کر ہی ایمان لے آئے۔ ”اَوَلَوْ جِئْتُكَ“ میں واؤ سے پہلے ایک لفظ محذوف ہے : ”أَتَفْعَلُ بِيْ ذٰلِکَ وَلَوْ جِءْتُکَ۔۔“ یعنی کیا اگر میں تمہارے سامنے بالکل واضح چیز پیش کر دوں، پھر بھی تم نہیں مانو گے اور میرے ساتھ یہی سلوک کرو گے۔
Ayah 26:31قَالَ فَاْتِ بِهٖٓ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : فرعون کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اس نے کہا، اگر سچے ہو تو پیش کرو۔
Ayahs 26:32–33فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (107، 108)۔
Ayahs 26:34–35قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗٓ۔۔ : ابھی خدائی کے دعوے تھے اور ابھی اپنے وزیروں اور درباریوں سے پوچھنے پر اتر آیا کہ بتاؤ کیا کیا جائے، اس آئی بلا کو کیونکر ٹالا جائے ؟ اس نے اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر یہ رویہ اختیار کیا۔ یہاں یہ ذکر ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی، جب کہ سورة اعراف (109، 110) میں ہے کہ یہ بات فرعون کے سرداروں نے کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی تو اس کے سرداروں نے بھی وہی بات دہرا دی۔
Ayahs 26:36–37قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورة اعراف (111، 112) میں گزر چکی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں ”اَرْسِلْ“ ہے اور یہاں ”ابْعث“ ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں ”سَحَّارٍ عَلِيْمٍ“ ہے اور یہاں ”سٰحِرٍ عَلِيْمٍ“ ہے، یہاں مبالغہ کا صیغہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے : ”کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔“ جبکہ وہاں ترجمہ ہے ”کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔“